125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

حورعین نے سہمی سہمی آنکھوں سے شانزل کو ایک نظر دیکھا
حورین کے دل منھ شدت سے دعا کی، شاید اتنی شدت سے دعا اس نے کبھی نہیں مانگی تھی
“بس ایک بار یا رب، یا قادر المخلوق میری حیا کی زندگی بخش دے، ،،، ہم تیرے آگے بے بس ہے تو ہر چیز پر قادر ہے میرے مولا،،،، میں تیرے آگے دامن پھیلائے کھڑی ہوں تیرے ابرِ کرم کا ایک چھینٹا میری جھولی میں ڈال دے میں تیری بے بس بندی ہوں مگر تو تو بااختیار ہے ہماری دعاؤں پر کن فرما دے۔۔۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر قریب آیا اور کہا
” خدا کا شکر ہے پیشنٹ وینٹی لیٹر کے بنا رسپانس کر رہی ہے strange case شروعات میں تو حالات بہت خراب رہی لیکن پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہے مگر ان کی حالت بالکل بھی اچھی نہیں ہے ابھی تو ٹرنکیولائیزر پر ہیں انشاءاللہ چوبیس گھنٹوں بعد ہوش آ جائے گا لیکن پیشنٹ کو پلیز کو سٹریس نہ دیں صحیح حالت کا اندازہ تو ہوش میں آنے کا ہوگا”
حورین وہی سجدے میں گر کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
“تو رحیم ہے یا رب،،،،، اے ربِ کریم،،،،،، یا رحمٰن الرحیم، ،،،،،،، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،،،، بس تو ہی دعاؤں کو سننے والا ہے،،،، تو رحیم ہے تجھ سا مہربان کوئی نہیں”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیات کو 26 گھنٹے بعد ہوش آیا تھا پہلے پہل تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا اس نے گردن گھما کر حورین کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
فوراً مسکرائی اور اس کی طرف بے قراری سے بڑھی حیات کو ایک جھماکے کے ساتھ سب یاد آیا تھا
اب میں حور کو کیا جواب دوں گی؟
کیا وہ میرا یقین کرے گی؟
نہیں وہ تو شاہ زر سے بہت محبت کرتی ہے
حیا نے فوراً آنکھیں بند کر لیں مگر آنسو متواتر بہہ رہے تھے اور بالوں میں جذب ہو رہے تھے
حورعین نے حیا کی حرکت دیکھی تو چونک گئی اسے اپنی آنکھوں پر شبہ ہوا
اسے لگا تھا حیا پھر کوئی اوٹ پٹانگ سا جملہ بولے گی مگر یہ کیا؟
” حیا”
حورعین نے محبت آگیں لہجے میں پکارا
حورعین کی آواز سن کر حیا کو لگا وہ حور کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر روئے
“حیا مجھے دیکھو نہ، دیکھو ناراض مت ہو اب میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی”۔
کہتے ہوئے حورعین بھی رونے لگی لیکن حیا نے آنکھیں نہیں کھولیں بلکہ سسکی روکنے کے لیے لب سختی سے بھینچ چلے لیے
تبھی شانزل روم میں آیا اندر کا منظر اس کے لئے بھی حیران کن تھا
حورعین کی نظریں شانزل کی جانب اٹھی
“شان دیکھیں نہ حیا مجھ سے بات نہیں کر رہی ہے فضول میں غصہ کر رہی ہے، یہ کب سے مجھ سے غصہ ہونے لگی میں کہہ دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔ میں کہہ دیتی ہوں یہ خود تھپڑ کھانے والے کام کر رہی ہے میں بالکل لحاظ نہیں کروں گی”
حور پھر سے حیا کی جانب متوجہ ہوئی
“حیا تمہیں میری قسم ہے آنکھیں کھولو”
حیا نے پٹ سے آنکھیں کھولی مگر حورعین کی طرف نہیں دیکھا حورعین مسکرائی
“تم ایویں نخرے کر رہی ہو ہمارے ساتھ”
شانزل نے محسوس کیا کچھ تو ہے جو غیر معمولی ہے محسوس تو حورعین نے بھی کیا ہوگا مگر قبول کرنا نہیں چاہ رہی تھی
“حور چلو حیا کو آرام کرنے دو ہم ڈاکٹر کو بلواتے ہیں”
” میں کہیں نہیں جاؤں گی مجھے حیا سے بات کرنی ہے “
حیا نے منہ پھیر کر اسے آنکھیں بند کر لیں صاف اشارہ تھا
“پلیز حور چلو میری بات مانو “
حورعین کو جھٹکا لگا حیا کو دیکھ کر، ،، وہ کیسے آنکھیں پھیر سکتی ہے وہ ساکت ہو گئی تھی یہ تو ناممکن بات ہے
ایسا رویہ وہ بھی میرے ساتھ؟ میرے ساتھ؟
شانزل اسے لئے باہر آگیا وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے شانزل کو دیکھ رہی تھی
“حوصلہ کرو تھوڑے وقت کی بات ہے وہ نارمل ہو جائے گی وہ حیا ہے”
حورعین مسکرا ئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل کا کہنا تھا وہ حیا ہے نارمل ہو جائے گی مگر وہ نارمل نہیں ہوئی آج تیسرا دن تھا اسے ہوش میں آئے ہوئے زیادہ تر تو آنکھیں بند رکھتی یا اگر بہت اصرار پر کھولتی بھی تو گھنٹوں ایک نقطے پر نگاہیں جما ئے نہ جانے کونسی سوچ میں گم ہوتی
حورین کیا ہر کسی کے لئے یہ روپ نیا تھا وہ تو بہت پریشان تھی اور اس وقت ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی تھی
“دیکھیں ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر پیشنٹ مینٹلی بہت ڈسٹرب ہے وہ کچھ کہنا ہی نہیں چاہتی یا کہنا چاہتی ہے مگر کہہ نہیں پا رہی اس کا اندازہ نہیں لگا پا رہے ہیں،،،، نہ وہ کسی سائکائٹرسٹ سے وہ بات کرنے کو تیار ہے کس حد تک ان کی حالت خراب ہے اس کا اندازہ اب تک ہم لگا نہیں پائے کیونکہ کوئی سرا ہاتھ ہی نہیں آرہا ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین تو سر پکڑ کر بیٹھ گئی یہ کیا سن رہی تھی وہ؟ اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا
“میں کیا کروں شان کہ وہ پہلے جیسی ہو جائے وہ ایسی تو نہ تھی کہ ایک حادثے کا اتنا اثر لے زندگی سے محبت کرنے والی لڑکی تھی بلکہ زندگی اس سے محبت کرتی تھی ، زندہ دلی کا نام تھا حیا “
شانزل نے اس کے گرد حصار باندھا
” میں نے ڈاکٹر سے ڈسچارج کی بات کی ہے شاید گھر جاکر وہ صحیح ہوجائے اور میں نے اشعر کو بھی بلا لیا ہے اس نے مجھ پر جو سوالوں کی بارش کی ہے اللہ معاف کرے، محترم حیا سے بہت غصہ تھے کیونکہ ہمارے جانے کے بعد حیا نے اشعر سے کوئی بات نہیں کی، چند گھنٹوں میں پہنچ جائے گا پھر دیکھنا اس سے کیسے لڑے گی، دونوں ایک دوسرے کے بال نوچیں گے “
شانزل کی بات پر حورعین مسکرائی مگر دل میں خدشہ تھا
کچھ تو تھا جو سمجھ نہیں آرہا تھا حیا اسے بدلی بدلی لگ رہی تھی بلکہ وہ حیا لگ ہی نہیں رہی تھی بہت سی چیزیں کھٹک رہی تھی جیسے شاہ زر کا رویہ
وہ صرف اس وقت ہی حیا کے پاس ہوتا جب وہ سو رہی ہوتی کچھ تو غیر معمولی تھا لیکن کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشعر کی بھی وہی حالت تھی وہ بھی حیا کو دیکھ کر بھونچکا رہ گیا وہ کسی کی کوئی بات کا جواب ہی نہ دیتی
اشعر نے حورعین سے وجہ پوچھی تو اس نے اسے شرمندگی کے ساتھ مختصر لفظوں میں عزیر حیات والا واقعہ بتا دیا
“ایسے کیسے ہوسکتا ہے حور؟ یہ ناممکن بات ہے ٹھیک ہے، میں سمجھ سکتا ہوں یہ چھوٹی بات نہیں ہے مگر حیا پہلے بھی ان حالات سے گزر چکی ہے اس وقت تو حیا تیرہ سال کی تھی اور عاطف نے یہ حرکت کرنے کی کوشش کی تھی اور تم تو حیا کو جانتی ہو اس نے عاطف کا سر پھاڑ دیا تھا اور اس عمر میں حیا نے اس واقعے کا کوئی اثر نہیں لیا تھا حور، بلکہ نائلہ چچی کے کتنا کچھ سنانے کے باوجود ان کی ہر بات کا ٹکا کر جواب دیتی”
” تو پھر کیا ہو سکتا ہے اشعر ؟”
حورین حقیقتا پریشان تھی
” حیا کی چپ کیسے ٹوٹے گی وہ تو مجھ سے بھی بات نہیں کر رہی”
” ایک راستہ ہے حور”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا فرنٹ سیٹ پر اشعر تھا پیچھے حیا، حورعین اور شانزل بیٹھے تھے گاڑی اپنے راستے پر رواں دواں تھی حیا کی آنکھ لگ گئی
دو گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی جھٹکے سے رکی تو حیا کی آنکھ کھلی اس نے کھڑکی کے باہر منظر کو ناسمجھی سے دیکھا دھیرے دھیرے ذہن نے کام کرنا شروع کیا تو شعور میں ایک اشارہ دیا کی جگہ جانی پہچانی ہے جیسے ہی شعور میں یہ بات آئی وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی
ہاں یہی وہ جگہ تھی جہاں اس کی امی تھیں فوراً دروازہ کھول کر دیوانہ وار باہر نکلی اور گیٹ کی طرف بڑھنے لگی
اشعر ایک دم چوکنا بیٹھا تھا وہ حیا سے ایسے ہی کسی ردعمل کی توقع کر رہا تھا وہ فورا باہر نکلا اور حیا کو ایک ہی جست میں پکڑا
” امّی۔۔۔۔۔۔۔”
حیا کی چپ ٹوٹی تھی ایک دلخراش چیخ اس کے لبوں سے نکلی
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔۔ مجھے امی کے پاس جانا ہے”
وہ مچل مچل کر پورا زور لگا رہی تھی
” چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔”وحشیانہ انداز میں چیخ رہی تھی باقی سارے تو دم بخود تھے یہ کون تھی؟ حیا ایسی تو نہ تھی
” مجھے جانے دو اشعر مجھے امّی کے پاس جانا ہے ، وہ بہت تکلیف میں تھی جانے دو”
وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی جیسے بین کر رہی ہو
“ہوش کرو حیا یہ قبرستان ہے، تم اندر نہیں جا سکتی”
” کیوں نہیں جا سکتی؟؟؟ مجھے جانے دو۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔۔ وہ بہت تکلیف میں تھی “
حلق کے بل چیختے چیختے آخر میں اس کا لہجہ شکستہ ہوگیا
“ہوش کرو حیا کیا ہوا ہے تمہیں؟ کیا کر رہی ہو تم؟ ہوش کرو”
وہ اسے جھنجھوڑ کر پوچھ رہا تھا اشعر کی بات پر حیا طیش میں آگئی
” نہیں ہوں میں حیا ،،،، مر گئی حیا۔۔۔۔ مجھے جانے دو اشعر۔۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔۔ مجھے امی کے پاس جانے دو۔۔۔۔۔”
چیخ کر پھر آہستہ آہستہ وہی ایک ہی جملہ بولتے بولتے اشعر کی بانہوں میں جھول گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔
ڈاکٹر ابھی اسے چیک کر کے گئے تھے
انھوں نے یہ بات خوش آئند بتائی تھی کہ حیا بولنے لگی ہے
حورعین اس وقت بھی بیٹھی بہت یاسیت سے اس بے ہوش وجود کا چہرہ دیکھ رہی تھی اتنا گہرائی سے جاننے کے باوجود بھی وہ چہرہ اسے انجانا سا لگ رہا تھا
جانے سے پہلے وہ کتنی خوش تھی خدا کرے حیا جلدی سے ٹھیک ہوجائے آمین۔۔۔۔
حیا نے دھیرے دھیرے آنکھ کھلی کمرہ مانوس سا لگا یہ کمرہ وہ کیسے بھول سکتی تھی یہی تو وہ کمرہ تھا جس میں وہ پتا نہیں کتنے مہینوں سے رہ رہی تھی یہ شاہ زر کا کمرہ تھا
شاہ زر کے نام پر حیا کے دل میں ہوک سی اٹھی
” کیسا فیل کر رہی ہو؟ اچھا چھوڑو، یہ بتاؤ کیا کھاؤں گی؟ مجھے تو بہت بھوک لگ رہی ہے، چیز آملیٹ کھاؤ گی ؟”
حیا نے نا سمجھی سے حورعین کو دیکھا وہ نارمل تھی یعنی شاہ زر نے اسے کچھ نہیں بتایا تھا
اب اگر حور کو پتہ چلا تو؟
حیا بولو نا کیا کھانا ہے میں اپنے ہاتھ سے بناؤں گی؟”
لہجہ محبت میں ڈوبا ہوا تھا اس وقت کوئی حورعین سے پوچھتا وہ حیا کے منہ سے اپنا نام سننے کے لیے کس قدر بے تاب تھی تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور شانزل اندر آیا
“شکر ہے تم جاگی تو”
شانزل کا لہجہ بھی بہت نارمل تھا قیامت تو صرف اس کی زندگی میں آئی تھی
” آپ بیٹھیں حیا کے پاس میں دو منٹ میں چیز آملیٹ بنا کر لاتی ہوں”
وہ کہہ کر رکی نہیں
حیا بیڈ پر نیم دراز شش و پنج میں مبتلا اپنی ہتھیلیوں کو مسلسل مسل رہی تھی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو اور شانزل کے لیے یہ بات حیران کن تھی حیا، وہ بھی منہ کھولنے سے پہلے سوچے ناممکن بات تھی۔۔۔۔
” کچھ کہنا ہے”
شانزل کے کہنے پر حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا آنکھیں آنسووں سے لبریز تھیں یہ آنسو تو جیسے اس کے پل پل کے ساتھی تھے
“بھائی۔۔۔۔”
حیا اب بھی پریشان تھی
” بولو حیا میں سن رہا ہوں”
شانزل نے جیسے اس کی ہمت بندھائی
“آپ حور کو مت بتائے گا ،،، آپ کو حور کی قسم”
شانزل اتنے دنوں کی اذیت میں پہلی مرتبہ مسکرایا کیونکہ یہ پہلی بات تھی جو معلوم ہو رہا تھا جیسے حیا ہی کہہ رہی ہے
“نہیں بتاؤں گا بولو”
” بھائی آپ۔۔۔۔ آپ حور کو لے جائیں یہاں سے پلیز” شانزل کو لگا اس کے سارے گمان غلط ثابت ہوئے ہو
“مطلب؟”
” آپ اسے لے جائیں کہیں بھی ملک سے باہر صرف کچھ مہینوں کی بات ہے بمشکل ایک مہینہ اسے لے جائیں”
” لیکن کیوں؟ حیا حور تمہیں اس حالت میں چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی تم بھی تو یہ بات جانتی ہو”
“آپ لے جائیں اسے پلیز۔۔۔۔ لے جائیں۔۔۔ میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں، لے جائین اسے پلیز ۔۔۔”
روتے روتے اس نے حقیقتاً ہاتھ جوڑ دیے
“کیا کر رہی ہو حیا؟ کیا بات ہے؟ مجھے بتاؤ کوئی مسئلہ ہے تو میں ٹھیک کر دوں گا، مجھے بتاؤ”
” بس آپ سے لے جائیں “
“یہ ناممکن ہے حیا “
حیا نے اپنے آنسو پونچھے وہ ہمیشہ سے ہی اتنی ارزاں اور غیر معمولی تھی اس کی اوقات ہی کیا تھی جو کوئی اس کی بات مانتا
” ٹھیک ہے”
” حیا تم ایسا کیوں کہہ رہی تھی؟”
” کچھ نہیں بس مجھے نیند آرہی ہے مجھے سونا ہے شانزل نے اسے اس وقت چھیڑنا مناسب نہ سمجھا اور باہر چلا گیا
کچھ دیر بعد حورعین ناشتہ لے کر آئی تو کمرے کا دروازہ بند تھا دستک پر جواب آیا
“مجھے نیند آرہی ہے پلیز ڈسٹرب نہ کرنا”
” تھوڑا سا کھا لو حیا “
لیکن اس کی بات کا کوئی جواب نہ آیا
حورعین نے ہونٹ بھینچ لیے حیا نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اسے کہاں عادت تھی حیا کے اس رویے کی
نیچے آکر سب سے پہلے اس نے اشعر کو ناشتہ دیا وہ الجھی الجھی تھی کہ حیا تو وہ حیا تھی نہیں
تبھی شاہ زر بھی گھر میں داخل ہوا
شاہ زر کو دیکھ کر مسکرائی
” شاہ چلین ناشتہ کر لیں”
حورعین کی بات پر شاہ زر نے آس پاس نظر دوڑائی اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر حورعین نے جواب دیا
“حیا کمرے میں ہے، ہوش آگیا ہے اسے مگر ابھی محترمہ کو ناشتہ نہیں کرنا اسے نیند آرہی ہے”
شاہ زر نے کوئی جواب نہیں دیا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا حورعین نے دیکھا شاہ زر کے گھر کی ملازمہ فریدہ بہت بے چین لگ رہی تھی مگر سر جھٹک کر وہ ناشتہ کرنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر حیا کمرے میں پریشان تھی
یا اللہ اب کیا ہوگا؟ شاہ زر۔۔۔۔؟
شاہ زر کے نام پر پھر دل میں نئے سرے سے ہوک اٹھی
شاہ زر اب واپس آئے ہیں وہ اپنا فیصلہ سنائیں گے۔۔۔۔ وہ کیوں مجھے برداشت کریں گے؟ یا اللہ میں حور کو کیا جواب دوں گی جب اسے حقیقت کا پتا چلے گا تو؟ وہ بھی شاہ زر کی طرح مجھ سے نفرت کرے گی۔۔۔۔۔ نہیں یا خدا اب نہیں،،،، یا اللہ میں مزید کسی کی آنکھوں میں نفرت نہیں دیکھ سکتی، میرے مرنے کے بعد شاہ زر کے ساتھ حور بھی مجھ سے نفرت کریں گی؟ نہیں، نہیں ، یا خدا میں کیا کروں۔۔؟”
حیا کے سر میں ایک مرتبہ پھر درد شروع ہو گیا وہ خط اور وہ واقعہ اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے اس کے درد میں شدت آتی گئی اور ہمیشہ کی طرح دورے پڑنے لگے وہ سر پکڑ کر زمین پر گر گئی اور تڑپنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ کو کوئی تکلیف ہے یا آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں” آخر کار ناشتے کے دوران حورعین نے فریدہ سے اس کی بے چینی کی وجہ پوچھی
” وہ۔۔۔۔۔ وہ جی۔۔۔۔ میڈم وہ۔۔۔۔ حیا باجی۔۔۔۔ آپ ان کو اکیلا مت چھوڑیں”
حورین کوئی جواب دیتی اس سے پہلے شاہ وِلا میں ایک خوفناک چیخ گونجی۔ جی ہاں، وہ حیا کی چیخ تھی دل دہلا دینے والی چیخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا
ہال میں موجود سبھی نفوس کو جھٹکا لگا
“حیا “
حورین دہل گئیی اس کے ساتھ ساتھ سبھی حیا کے کمرے کی طرف دوڑے کمرہ لاک تھا
” یااللہ “
“صنم ہٹو پیچھے”
شاہ زر نے اسے کہا اور اپنے بازو سے دروازہ توڑنے لگا تیسرے دھکے میں دروازہ ٹوٹا
تب تک دل دہلا دینے والی چینخیں شاہ وِلا میں گونج رہی تھی جیسے ہی تیسرے دھکے پر دروازے کا لاک ٹوٹا شاہ زر جھٹ سے اندر کی طرف گیا
حیا ایسے ہی زمین پر سر پکڑے تڑپ رہی تھی چیخیں رہی تھی
حورعین نے اسے فورا سیدھا کیا مگر حیا کی نا رکنے والی تھی چینخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا
“میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں”
شانزل الٹے پیروں واپس دوڑا اشعر بھی شانزل کے ساتھ گیا
شاہ زر تو مانو پتھر کا ہو گیا تھا حیا کا چہرہ اور آنکھیں سرخ پڑ رہی تھی جیسے ابھی خون ٹپکنے لگے گا وہ پوری طریقے سے پسینے میں شرابور تھی اس کے آنسو اس بات کے گواہ تھے کہ وہ تکلیف میں ہے اس پر متضاد اس کی ہول ناک چینخیں۔۔۔۔
اس بھیانک صورتحال سے حورین کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے
“بس کچھ دیر حیا ابھی ڈاکٹر آرہے ہیں سب ٹھیک ہو جائے گا “
نہ جانے وہ حیا کو تسلی دے رہی تھی یا خود کو
“ش۔۔۔ شاہ۔۔۔شاہ آپ اسے بیڈ پر لٹائیں نا “
حورعین کی آواز پر شاہ زر نے قدم آگے بڑھائے مگر اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کے پیروں میں جان ہی نہیں ہیں جیسے ہی شاہ زر نے اسے اٹھایا اسے محسوس ہوا کہ حیا کا بدن ایکدم ٹھنڈا پڑ گیا تھا برف کی مانند
وہ بلک بلک کر رو رہی تھی چیخ رہی تھی اس قدر تڑپ رہی تھی چار قدم کا بیڈ تک کا سفر شاہ زر کی زندگی کا سب سے مشکل سفر تھا
“ص۔۔صنم بلینکیٹ اوڑھاؤ”
حورعین نے فورا عمل کیا
پتہ نہیں کہاں سے شانزل دس منٹ میں ڈاکٹر لے کر آیا
اومائی گاڈ”
ڈاکٹر کا پہلا ری ایکشن یہی تھا وہ بھی پریشان سا حیا کی طرف بڑھا اور بہت مشکل سے اسے ایک انجکشن لگائی جس سے وہ غنودی میں چلی گئی حیا کی چینخیں تھمی تو گھر میں موت کا سا سناٹا تھا
سبھی جیسے شاک میں تھے
“جتنا ہم نے سوچا تھا پیشینٹ کی حالت اس سے بہت زیادہ خراب ہے ہمیں فوری کچھ ٹیسٹ کروانے ہوں گے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حیا کو جو دورہ پڑا تھا اسے دیکھ کرحورعین کا دل غم سے پھٹ رہا تھا
وہ ٹیسٹ کی رپورٹ ہاتھ میں لیے ساکت بیٹھی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے رپورٹ کو دیکھتے ہوئے آنسو بہا رہی تھی
رپورٹ میں لکھا تھا کہ حیا کی ذہنی حالت بہت خراب ہے اب سے نہیں کئی مہینوں پہلے سے اسے صحیح ٹریٹمنٹ کی اشد ضرورت ہے، ایسا ہی رہا تو اس کی دماغ کی نس کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے یہ جملہ پڑتے ہی حورعین لرز گئی
تبھی اسے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا دباؤ محسوس ہوا اس نے نظر اٹھا کر شانزل کو دیکھا
“دیکھو حور، اس وقت سب سے زیادہ تمہیں مضبوط ہونا ہوگا حیا بس تھوڑی سی پریشان ہے اسے بس توجہ کی ضرورت ہے اور وہ اسے صرف تم دے سکتی ہو، اور میں جانتا ہوں وہ تم اسے دو گی”
” میں یہ کیسے کروں گی شان؟ یہ تو حیا ہے ہی نہیں”
وہ تھکی تھکی سی لگی
” جب بھی تمہیں ضرورت تھی حیا تمہارے لیے موجود تھی اب تمہاری باری ہے حور،،، اسے تمہاری ضرورت ہے تمہیں کچھ نہیں کرنا ہے بس نارمل بی ہیو کرو، سب بھول جاؤ بس یہ یاد رکھو کہ وہ حیا ہے اور تم اس کی حور “
شانزل بہت رسان سے اسے حوصلہ دے رہا تھا اس نے شکستہ نظر بیڈ پر لیٹے وجود پر ڈالی
پورا چہرہ کملایا ہوا تھا آزردہ، سوگوار سی زردی چھلک رہی تھی، آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے تھے پپڑی زدہ ہونٹ
حورعین نے نظر پھیر لی
۔
کوئی حورعین سے پوچھتا یہ منظر کس قدر درد ناک تھا
” حیا ایسی کیوں ہوگئی شان؟ اسے دیکھ کر تو زندگی کا احساس ہوتا تھا مجھے یقین ہی نہیں آرہا یہ حیا ہے ، پانچ مہینے پہلے،،، صرف پانچ مہینے پہلے میں اسے ہنستا مسکراتا کھلکھلاتا زندگی سے بھرپور چھوڑ کر گئی تھی،”
” اس کیوں کا جواب تم قطعی حیا سے مت مانگنا، اسے کسی بھی ٹینشن سے دور رکھنا ہے اسے اتنا اعتماد میں لو کہ وہ خود اپنا دل تمہارے سامنے کھول کر رکھ دے، تم کب سے اتنی کمزور ہو گئی کہ تم مشکلوں کو سوچنا شروع کر دو،،،،،، مشکلوں کو سوچنا نہیں چاہیے ان کے حل ڈھونڈنے چاہیے۔ مشکلیں اتنی ہی بڑی ہوتی ہیں جتنا ہم انہیں بناتے ہیں۔ یہ مشکل نہیں ہے،،،، بالکل نہیں ہے، بس تم سچے دل سے اسے پکارو کبھی تو وہ تمہاری طرف دوڑ کر آئے گی،،، میری جان تم نے تو بچپن سے اتنی مشکلین سہی ہے، تم سے بہادر تو اشعر ہے وہ فضول کی سوچ میں نہیں پڑا اس نے مشکل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی وہ حیا کا دھیان بٹ جائے اسی لیے ہانیہ کو لینے گیا ہے حالانکہ ہانیہ کے لئے سفر کرنا صحیح نہیں ہے مگر وہ حیا کے لئے کر رہا ہے تم بھی مضبوط ہو جاؤ تم کمزور پڑ گئی تو کیا ہوگا؟ مضبوط ہو جاؤ۔۔ اپنی حیا کے لیے، تمہیں تمہاری حیا کوئی نہیں لا کر دیگا تمہیں اپنی حیا خود واپس لانی ہے،، یہ کوئی نہیں کر سکتا صرف تم کر سکتی ہو، وہ تمہاری ہے اور تمہیں ہی اسے واپس لانا ہے”
۔ شانزل کی بات حورعین مسکرائی وہ نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے سیدھا شانزل کے دل میں اتر رہی تھی مگر شانزل نے منہ بسورا
” کیا سوچ کر مسکرایا جا رہا ہے ؟ میں اتنا سیریس لیکچر دے رہا تھا”
” یہی سوچ کر مسکرا رہی تھی کہ خدا نے آزمائشوں کے صلے میں مجھے آپ کی صورت میں بہت خوبصورت انعام سے نوازا ہے”
شانزل نے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ایک ادا سے کہا
” بندہ ہینڈسم تو پیدائشی ہے تبھی تو تم مرتی ہو مجھ پر “
“بالکل اور اگر خدا نے میری زندگی میں ایک اور آزمائش رکھی ہے تو میں اس میں سرخرو ہونگی تاکہ انعام میں مجھے حیا مل سکے،،،،، ملے گی نہ شان؟”
وہ ایک آس لیے پوچھ رہی تھی
شانزل نے ہمیشہ کی طرح اس کی آنکھیں چومیں
” خدا خیر کرے گا جانِ شان”
کہہ کر اپنے لب اس کی پیشانی پر رکھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت حورعین شاہ زر اور شانزل کے سامنے فریدہ موجود تھی
“حیا کی یہ حالت کب سے ہے؟ مطلب کب سے دورے پڑ رہے ہیں ؟
حورعین نے فریدہ سے پوچھا کیونکہ شاہ زر کا رویہ ایک دم عجیب تھا
فریدہ نے ایک ڈری سہمی نگاہ حورعین پر ڈالی