Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
گاڑی بھی وہی تھی مسافر بھی وہی تھے بس جگہ تبدیل ہو گئی تھی۔ شانزل اگر حواسوں میں ہوتا تو حورعین کےڈرائیونگ کرنے پر ضرور چونکتا مگر اب تو اسکا ذہن اتنا منتشر تھا کہ اسے اپنی آتی جاتی سانسوں کا خیال نہیں تھا۔
نہ جانے کتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہوا تھا اسکا دل جب اسے حورعین نہیں صنم کی حقیقت کا پتہ چلا تھا۔
سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔
وہ گروم پارلر سے نکلا تھا شیروانی میں وہ کسی شاہی سلطنت کا سلطان لگ رہا تھا۔
اسکی بھوری آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں جو اسکی وجاہت میں چار چاند لگا رہی تھی۔ تبھی اسے آفس سے رفیق کا فون آیا کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہے اسے نا چاہتے ہوئے بھی ہامی بھرنی پڑی۔
جب وہ آفس پہنچا تو ایک خوبرو مرد جو عمر میں شانزل سے کچھ بڑا لگتا تھا اسی کے انتظار میں تھا
“السلام علیکم، I m uzair hayat sikandar”
شانزل کا مصافحہ ہے کہ لیے بڑھتا ہوا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا حیات سکندر کے نام پر شانزل کی شفاف پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔
“what the hall are you doing here?”
“مسٹر شانزل میں آپ سے تحمل سے بات کرنے آیا ہوں”
” میرے پاس ان فضولیات کے لیے وقت نہیں ہے”
” جانتا ہوں آج آپ کا ولیمہ ہے میری صنم کے ساتھ”
“ایک اور لفظ منہ سے نکالا تو دوبارہ منہ کھولنے کے لائق نہیں رہو گے”
“میں جانتا ہوں آپ کے لئے میری بات پر یقین کرنا مشکل ہوگا ، اسی لئے آپ ایک مرتبہ یہ سن لیں”
عذیر حیات نے موبائل نکالا
“یہ صنم۔۔۔۔۔مطلب ہے حورعین کا نمبر ہے”
“کیا بکواس ہے مجھے میری ہی بیوی کا نمبر بتا رہے ہو “
“تصحیح کر لیں بیوی نہیں منکوحہ “
شانزل تو چونک گیا کہ وہ شخص جسے اس نے آج سے پہلے دیکھا تک نہیں تھا وہ اس کے اور حورعین کے اتنے پرسنل معاملہ سے باخبر تھا۔
پھر عذیر حیات نے کال ملائی دوسری طرف بیل جا رہی تھی ہمیشہ کی طرح دوسری بیل پر کال اٹھا لی گئی اور بے تابی سے کہا گیا
“ہیلو۔۔۔۔ ہیلو؟”
آپ کو میری آواز آ رہی ہے؟ ہیلو؟۔۔۔۔۔۔ “
پھر سسکیاں ابھرنے لگی۔ یہ آواز اور سسکیاں شانزل لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا یہ اس کی حور کی آواز تھی ہر بناوٹ سے پاک آواز۔ عذیر حیات خاموش کھڑا تھا اور حورعین کی بے تابیاں عروج پر تھیں
“پلیز ایسا نہ کریں، دیکھیں۔۔۔۔۔دیکھیں آپ کی صنم آپ کے انتظار میں مر جائے گی، خدارا کچھ تو بولیں میری جان نکل جائے گی، اپنی صنم کے ساتھ یوں نہ کریں۔۔۔۔ پلیززززززز بات۔۔۔۔۔”
اس سے زیادہ شانزل ابراہیم برداشت نہیں کر سکا آگے بڑھ کر موبائل چھینا اور پوری قوت سے دیوار پر دے مارا۔
اسکی آنکھوں سے چمک غائب ہو گئی۔ وہ لمبے لمبے سانس لیتا خود کو یہ تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ کچھ دیر پہلے اس نے کچھ نہیں سنا۔
“دیکھیں مسٹر شانزل ابراہیم میری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ میرے والد کی ہے، میں اور صنم ایک دوسرے کو بچپن سے پسند کرتے ہیں میرے والد اس کے لیے راضی نہیں تھے، میں بھی انھیں کا بیٹا ہوں میری ضد کے آگے وہ ہار گئے، انھوں نے ہمارے آگے شرط رکھی، شرط آپ کی بربادی کی”
شانزل نے نظر گھما کر اسے دیکھا وہ اس کتنی آسانی سے اس کے دل پر ضرب لگا رہا تھا۔
+
“جی ہاں آپ کی بربادی کی شرط اسی کی وجہ سے انہوں نے وہ پارٹی والا ڈرامہ پلین کیا میں قطعی راضی نہیں تھا میں کیا میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو راضی نہیں ہوتا میں نے بہت واویلا مچایا مگر میں ہار گیا اپنی محبت کے آگے، صنم نے مجھ سے کہا یہ ضروری ہے”
وہ تھکے ہوئے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا
“صنم نے ہی مجھ سے کہا کہ یہ ضروری ہے میں نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا پھر پلین کو انجام تک پہنچایا گیا، نکاح ہمارے پلان کا حصہ نہیں تھا سب غیر متوقع تھا۔لیکن ابو بھی اپنی ضد پر اڑے ہوئے تھے انہیں کسی بھی طرح آپ کو نقصان پہنچانا تھا انہوں نے نکاح پڑھا دیا میں غصے میں گھر چھوڑ کر چلا گیا، مگر آپ نے دوسرے روز ہی میری ساری پریشانی ختم کر دیں آپ خود اس نکاح کو ڈرامہ سمجھتے تھے پھر تین مہینے کا کانٹریکٹ، پھر ابو نے صنم پر زور ڈالنا شروع کیا کہ وہ کسی بھی طرح آپ کے آفس کو نقصان پہنچائے اور آپ کی جائیداد اپنے نام پر منتقل کر لے “
وہ بول رہا تھا اور شانزل کو لگ رہا تھا کوئی اس کے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا تھا
” پھر آخری قدم ابو کی آمد نے پورا کیا آپ پوری طرح سے صنم پر بھروسہ کرنے لگے تھے”
میں نے صنم سے کسی بھی طریقے کا رابطہ نہیں رکھا تھا وہ اس کے لیے بہت پریشان تھی میں تین مہینے تک کوئی رابطہ نہیں کرنے والا تھا لیکن وہ پریس کانفرنس، وہ اینول فنکشن پھر یہ ولیمہ میں یہ سب سن کر ہتھے سے اکھڑ گیا اسی لئے صنم میرے پاس آئی تھی مجھے سمجھانے میں لڑ جھگڑ کر وہاں سے چلا آیا میں بہت ناراض تھا اس سے بات نہیں کر رہا تھا۔ اسی لیے وہ ابھی فون پر پریشان تھی سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا صنم اپنے پلان میں کامیاب بھی ہونے والی تھی لیکن یہ ولیمہ میری برداشت سے باہر ہے میں اسی لیے یہاں آیا ہوں میں ایک غیرت مند مرد ہوں اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری محبت کسی اور کی سیج سجائے”
شانزل شیر کی طرح اس پر جھپٹا
“کس قدر بے غیرت ہو تم لوگ، میں نے کیا بگاڑا ہے تم لوگوں کا؟ اب تو تم لوگ بھول جاؤ کہ میری ایک پھوٹی کوڑی بھی تمہیں نصیب ہو گی “
وہ جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑ کر صنم سے حساب بے باک کرنے نکل پڑا۔
کتنی آسانی سے اسے بے وقوف بنایا گیا تھا اس کا دل کر رہا تھا وہ دھاڑیں مار مار کر روئے پوری دنیا کو اپنی بدقسمتی کی داستان سنائے اس نے تو محبت کی تھی، سچی محبت۔ تبھی تو فیصلے کا اختیار اس دشمنِ جان کے ہاتھوں میں دیا تھا کوئی اتنا بے وفا کیسے ہو سکتا ہے
گاڑی جھٹکے سے رکی شانزل بھی سوچوں سے باہر نکلا حورین گھوم کر اس کی طرف آئی اور ایک بار پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتی ہوئی لے کر آگے بڑھی شانزل کو تو آس پاس کی خبر ہی نہیں تھی اس کا دل تو اپنی محبت کے بے وفا ہونے پر ماتم کناں تھا شانزل کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ اس لڑکی سمیت ساری دنیا کو آگ لگا دے۔ لیکن کیا فائدہ آگ وہ اسے لگائے مگر جھلسے گا شانزل ابراہیم۔ یہ ایک گھر تھا مگر شانزل وِلا نہیں تھا وہ اسے لئے ایک کمرے میں آئی۔ اور جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا پھر اسی روم میں موجود دوسرا دروازہ کھول کر اندر چلی گئی شانزل ایک بار پھر سوچوں کے گرداب میں پھنسا۔
“کیا میں اس کے بغیر رہ پاؤں گا؟” یہ خیال آتے ہی شانزل کی سانسیں اٹکنے لگی اس سے جدائی کا تصور ہی سوہانِ روح تھا تب وہی دروازہ کھلا اور باہر آئی اس نے کپڑے بدل لیے تھے۔ ولیمے کا جوڑا جو اس نے کتنی امنگوں سے پسند کیا تھا وہ اس کی محبت کا کفن ثابت ہوا تھا وہ جوڑا ہاتھ میں لیے اس کی طرف بڑھ رہی تھی شانزل نے غصے میں پاس پڑا واس حورین کے پیچھے والی دیوار پر دے مارا چھناکے کی آواز نے خاموشی کو توڑا شانزل جارحانہ انداز میں حورعین کی طرف بڑھا اس کے دونوں بازوؤں کو اپنی سخت گرفت میں لیا یہاں تک کہ حورعین دیوار سے جا لگی جھنجھوڑتے ہوئے اس سے شکوہ کر رہا تھا
“کیسے ؟کیسے کر سکتے ہو تم لوگ ایسا ؟بتاؤ کس چیز کی کمی تھی؟ کیا کمی تھی میری محبت میں؟ دل کر رہا ہے آگ لگا دوں تم سب کو، اگر وہ فون کال نہ سنتا تو میں یقین ہی نہیں کرتا، بے خبر رہتا تمہارے دھوکے سے، کیا چاہیے تمہیں؟ بولو کتنے پیسے چاہیے؟ بس ایک بار کہہ دو اب تم میرے ساتھ مخلص رہو گی میں معاف کر دوں گا تمہیں “
غصے سے کہتے کہتے اس کی آواز شکستہ ہوگئی یہ کیسا موڑ آیا تھا کہ اپنے دشمن سے ہی اس کا ساتھ مانگ رہا تھا۔
حورعین نے جھٹکے سے خود کو چھڑوایا واس ٹوٹ کر دیوار فریم پر لگا تھا اور اس کی کانچ حورعین کے بازو میں بھی گھسی تھی جو شانزل کی گرفت کی وجہ سے آرپار ہوگئی تھی خون فوارے کی مانند نکل رہا تھا جس نے حورعین اشانزل کے ہاتھ کو رنگ دیا تھا۔
+
حورعین نے شانزل کو دھکا دینے کے بعد پورا ہاتھ گھما کر ایک تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے جوڑے اور زیورات کو شانزل کے منہ پر مارا۔
“کیا لگتا ہے تمہیں شانزل ابراہیم، یہ لاکھوں کے کپڑے اور کچھ کروڑ کے زیورات کی وجہ سے میں ایسا کر رہی ہوں؟”
شانزل کو تکلیف ہوئی تھی تھپڑ سے نہیں پہلی مرتبہ حورعین نے اس کا نام لیا وہ بھی کتنی نفرت سے
یہ تو اس کی حور ہے نہیں جو نرم اور میٹھے لہجے میں باتیں کرتی تھی وہ کیسے بھول گیا یہ لہجہ تو اس کی حور کا ہوتا تھا مگر یہ تو حور تھی نہیں یہ صنم تھی۔ آہ۔۔۔ یہ احساس کتنا اذیت ناک ہے
“کان کھول کر سن لو، میں اس پاک ذات کو حاضر ناظر جان کر یہ کہتی ہو میں ہی صنم ہو وہ فون کال مجھے ہی آئی تھیں وہ سب باتیں میں نے ہی کہی تھی، کیوں اور کس سے کہی میں اس کی صفائی نہیں دوں گی، تمہیں کیا لگتا ہے؟ میں یہاں تمہیں صفائی دینے کے لئے لائی ہوں تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے، دو مرتبہ مجھے حق مہر ادا کیا تھا نا کتنے ہوئے بیس کروڑ ہے نا؟”
حورین مڑی اور دراز سے کچھ پیپر نکالے
“میں یہاں تمہیں اس لئے لے کر آئی ہوں”
یہ کہتے ہوئے اس نے وہ پیپر شانزل کے منہ پر مارا
“یہ اس گھر کے پیپر ہیں بیچ دینا تم دوگنی 3 گنی قیمت حاصل کر لو گے، اور یہ وہ پیپر ہے جس پر میں نے تم سے دستخط لیے تھے”
” یہ میرے سوال کا جواب نہیں تھا”
شانزل دہاڑا
“میں یہاں کسی بھی سوال کا جواب دینے نہیں آئے ہوں سمجھے”
حورعین بھی اسی لہجے میں پھنکاری یہ کہہ کر وہ پلٹ کر جانے لگی پھر کچھ یاد آیا تو پلٹی پھر پین سے پیپر پر کچھ تحریر کرنے لگی۔شانزل ساکت کھڑا اس کے اس روپ کو دیکھ رہا تھا
“یہ لو اس میں لکھا ہوا ہے کہ میں تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں تین اور شادیاں کرنے کی اجازت دیتی ہوں، خوش رہو شانزل ابراہیم، خوش رہو اور خدا کرے تم مجھے بھول جاؤ”
بات کرتے کرتے چینخنے لگی
“ورنہ تم میری یاد میں خاک چھانو گے اور میں تمہیں خاک میں بھی نہیں ملوں گی، لاعلمی نعمت ہے اور خدا کرے تم ہمیشہ لاعلم رہو کہ تمہارے اس عمل کا کیا نتیجہ ہوگا، خدا کرے تم ہمیشہ خوش رہو”
وہ الٹے قدم چلتی پیچھے ہٹنے لگی
“سخت بے وفا ہوں میں مجھ سے اجتناب نہیں نفرت کرنا اور کم از کم نفرت سچی اور مخلص کرنا۔ اب تم سونے کے بھی بن کر آؤ گے تب بھی میں تمہیں قبول نہیں کروں گی تمہیں تمہاری زندگی کی خوشیاں مبارک ہو شانزل ابراہیم “
کہہ کر رکی نہیں پلٹ کر چلی گئی۔
