Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
Episode 24
ایک نظر دیکھنے کے بعد شانزل نے اپنی نظریں جھکا لیں حورین کو لگا اس کے پاؤں سن ہوگئے ہیں اس نے ہمت کی اور آگے بڑھ کر کیبین سے ملحق روم کا دروازہ کھولا
اور وارڈراب میں سے ایک بلیک ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر لا کر شانزل کو دی وہ ابھی تک کل والے کپڑوں میں ہی تھا
بنا کچھ کہے وہ کپڑے شانزل کی طرف بڑھائے شانزل نے خاموشی سے کپڑے لیے اور اٹھ کر چینج کرنے چلا گیا
حورین کے دل میں ٹھیس سی اٹھی یہ وہی شخص ہے جو دن میں تین مرتبہ نہا کر کپڑے بدلتا تھا اس نے جلدی سے اے سی آف کیا کمرہ اتنا سرد تھا کے حورعین کو لگا کچھ دیر اگر اور رکی تو کانپنے لگے گی
حورین نے بھی روم کا رخ کیا وہاں جاکر کھانا نکالا اور کیبن سے جاکر فرسٹ ایڈ باکس لے کر آئی۔ شانزل باتھ روم سے نکل کر بیڈ پر جا بیٹھا حورعین
نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کی زخمی ہتھیلی اپنے ہاتھ میں لی تو اسے ایسا لگا کہ اس نے انگارے کو چھو لیا ہو شانزل کو شدید بخار تھا حورعین نے ٹھٹھک کر شانزل کو دیکھا مگر اس کی نظریں نیچے کارپٹ پر تھیں
اس نے جلدی سے مرہم لگا کر پٹی کی پھر کھانے کی ٹرے اٹھائی اور اس میں سے روٹی کا نیوالا توڑ کر قیمے کے ساتھ شانزل کے منہ کی طرف لے گئی
شانزل نے خاموشی سے منہ کھولا اور کھانے لگا دو تین نوالوں کے بعد حورعین نے پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا پھر نوالے بنا کر اس کے منہ میں ڈالنے لگیں ان دونوں کے درمیان خاموشی تھی ہمیشہ کی طرح۔
حورین نے کھانے کے بعد میڈیسن نکال کر شانزل کے منہ میں ڈالیں پھر دودھ کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا دودھ کا گلاس رکھنے کے بعد حورعین نے شانزل کو دیکھا وہ ابھی بھی نظر جھکائے بیٹھا تھا حورعین کو ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اس کے دل پر ضربیں لگا رہا ہے وہ کل سے بھوکا تھا اور وہ خود کل سے سیر ہو کر کھا رہی تھی یہ خیال اسکا دل چیر دینے کو کافی تھا۔
حورین نے شانزل کا ہاتھ تھاما اور ہمیشہ کی طرح گھڑی نکالی اس وقت حورعین کے دل میں ہلچل مچی تھی مگر شانزل ابھی بھی ویسے ہی بیٹھا تھا ساکت۔ حورعین نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا تو وہ بنا کسی مزاحمت کے لیٹ گیا۔ پھر حورین نے اسے کمفرٹر اڑھایا شانزل نے کروٹ لی اوندھا ہوکر اپنا چہرہ تکیے میں چھپا لیا حورعین کو لگا کہ اس کا دل اب بند ہو جائے گا۔
وہ اسے بکھرتا ہوا دیکھنا چاہتی تھی؟ نہیں انہیں ایسے دیکھ کر تو میں مر جاؤں گی۔ اس کا مغرور شہزادہ ایسا تو نہیں تھا جب وہ چلتا تو ایسا لگتا کہ کسی سلطنت کا سلطان پوری شان سے گزرا ہو ایک دنیا کی نظریں اٹھتی تو حسرت سے ٹھہر جاتی۔۔ جب وہ چلتا تو صرف اسکے قدموں کی دھمک سے کتنے ہی دل دھڑک اٹھتے، اسکی اٹھی ہوئی مغرور ناک ، روشن پیشانی سب سے بڑھ کر تو وہ شیر سی چمکتی بھوری آنکھیں جن میں ایک دنیا کو فتح کر لینے کا حوصلہ۔۔۔۔۔۔آہ
دل کے کسی کونے میں محبت کٗرلائی تھی اور حورعین کے لبوں سے پہلی سسکی آزاد ہوئی اس کے بعد کیا تھا ایک طوفان اٹھا تھا اور ضبط سارے بندھن توڑ گیا تھا حورین کا ضبط ٹوٹا وہ بلک کر شانزل کے بازو پر پیشانی ٹکا کر ہچکیو کے ساتھ رونے لگی
” شان۔۔۔ پلیز ایسا نہیں۔۔۔۔۔نہیں کریں۔۔۔ م۔۔م۔۔ میں۔۔۔۔ میں آپ کو ایسے ن۔۔۔نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔ پلیز پہلے جیسے ہو جائیں آپ مجھے معاف کر دیں۔۔۔س۔۔۔سوری”
شانزل پہلے تو چونک گیا پھر حورعین کے آنسو پر تڑپ کر پلٹا اب حورعین شانزل کے سینے پر سر ٹکائے ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔
“حور کیا ہوگیا ہے”
دراصل اس کے منہ سے شان سن کر شانزل پھر سے جی اٹھا تھا
“آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا ایم سوری مجھے معاف کردیں مگر ہیں ایسا نہیں کریں”
” غلطی تو ساری میری ہے حور میں جان گیا ہوں میری غلطی معافی لائق نہیں ہے “
حورعین نے جھٹ سے اپنا سر اٹھایا
” آپ نے مجھ سے معافی کب مانگی ؟”
وہ شکوہ کر رہی تھی شانزل نے دونوں آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا
“تو کیا نہیں مانگی؟”
یہ بات حورین کو پتنگے لگا گئی
” آپ کو اپنی غلطی کا احساس تھا، آپ شرمندہ تھے، آپ مانتے تھے کہ آپ کی غلطی ہے، آپ ایک موقع چاہتے تھے مگر جہاں تک میری ناقص معلومات ہے آپ نے مجھ سے معافی نہیں مانگی”
وہ باقاعدہ انگلیوں پر گنا رہی تھی
شانزل فورا اٹھ کر بیٹھ گیا دونوں آمنے سامنے تھے
“میرے معافی مانگنے پر مجھے معاف کر دو گی”
شان صرف اپنے مطلب کی بات پر آیا
اور ہمیشہ کی طرح حورعین نے بات پلٹ دی
“پہلے آپ مجھے یہ بتائیں آپ پروجیکٹ کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ آپ کو پتہ ہے کیا ہوگا؟
“ہاں پتہ ہے”
لہجہ دھیما تھا
” کیوں کر رہے ہیں ایسا؟”
” تمہیں نہیں پتا؟”
الٹا سوال کیا
“نہیں پتہ “
شانزل خاموش ہی رہا
“بتائیں نا کیوں کر رہے ہیں آپ ؟
شانزل نے گہری سانس لیں پھر کہا
“کیونکہ تمہیں لگتا ہے یہ دولت مجھے تم سے زیادہ عزیز ہے اس لیے، لیکن خدا گواہ ہے کہ میری زندگی کی پہلی ترجیح تم ہو، اور تم ہی نے کہا تھا کہ مجھے بکھرتا دیکھنا چاہتی ہو بکھر تو میں اسی دن ہی گیا تھا، اور تو اور بھری محفل میں میں نے تمہاری عزت دو کوڑی کی کر کے رکھ دی تھی کل تم پوری دنیا کے سامنے میری عزت نیلام ہوتے دیکھنا، میں تمہیں طنز نہیں کر رہا ہوں میں بس یہ چاہتا ہوں کہ کم از کم کچھ خواہشیں تو تمہاری پوری کر سکوں”
وہ حقیقتاً طنز نہیں کر رہا تھا لہجہ درد سے چوٗر ایسا تھا کہ حورعین کی جان حلق میں آ گئی۔
” آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں یہ چاہتی ہوں”
” دراصل حور تمہیں خود ہی نہیں پتا کہ تم کیا چاہتی ہو “
“میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے آپ تو وہی کریں گے جو آپ کو ٹھیک لگے گا”
” نہیں اب وہی ہو گا جو تم چاہو گی”
” آج سے پہلے تو ہمیشہ اپنے من کی ہی کی ہے “
“پر اب نہیں کروں گا “
“مطلب آپ مجھے منائیں گے نہیں “
شانزل نے چونک کر سر اٹھایا
” مت منائیں مجھے جارہی ہوں میں”
کہتے ہوئے اٹھنے لگی تبھی شانزل نے اپنے پر حدت ہاتھ سے اس کی کلائی تھام کر اسے بٹھایا۔
“حور آج سے پہلے کبھی بھی تم نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ تمہارے ذہن میں کیا چل رہا ہے”
اس کی بات سن کر حورعین نے نظر جھکا لی
” بالکل اسی طرح مجھ سے نظریں چرا لیتی ہو کہیں تمہاری آنکھیں نہ پڑھ لوں، نہ ہی مجھے کچھ بتاتی ہو اور جب میں کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو بات بدل دیتی ہو، میں اپنی غلطیوں کا خندہ پیشانی کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں مگر کیا میں اس قابل نہیں تھا کہ تم مجھ سے اپنی تکلیف بانٹتی؟ میں نے تمہیں as a life partner قبول کیا تھا life partner صرف وہ نہیں ہوتا جس سے ہم اپنی پراپرٹی، گھر، نام، دل، جذبے، جسم شیئر کرتے ہیں life partner وہ ہوتا ہے جس سے ہم بِلا جھجھک اپنے dark secrets شیئر کر سکیں، وہ dark secrets جو ہم خود سے بھی کہنے سے ڈرتے ہیں، میں نے تمہیں دیر سے قبول کیا مگر اپنے دل کی تمام تر ایما سے قبول کیا مگر تم آج بھی وہی کر رہی ہو میں تمہارا محرم ہوں محرم کا مطلب ہی ہمراز ہوتا ہے، کیا تم نے مجھے قبول نہیں کیا؟”
حورین شانزل کی آخری بات پر تو تڑپ اٹھی
” قبول؟ آپ جانتے ہیں شان میں نے جب تین مرتبہ کہا تھا کہ قبول ہے تب ہی میں نے آپ کو قبول کرلیا تھا حالانکہ میں آپ کو جانتی نہیں تھی میں نے بہت مشکل زندگی گزاری تھی، جب نکاح کے بعد آپ مجھے لینے آئے آپ کی آنکھوں میں مجھے غصہ نظر آیا نفرت نہیں یہ میرے لئے شکر کا باعث تھا میں نے اتنے سال ہر ایک آنکھوں میں نفرت دیکھی تھی آپ جب میرا ہاتھ پکڑ کر حویلی سے لائے تھے میرا دل شدت سے چاہا کہ آپ میرا ہاتھ کبھی نہ چھوڑیں، جب آپ نے مجھے حق مہر دیا تب میری جیسی خود دار لڑکی وہ پیسے آپ کے منہ پر نہ مار سکی کیونکہ میں آپ کو حق پر سمجھتی تھی آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، اس رات میں شاہ کے واپس نہ آنے سے زیادہ آپ کی بدگمانی پر روئی تھی شان”
ایک بار پھر قطرہ قطرہ آنسو اس کے چہرے کو بھیگو گئے
“لیکن میں خود سمجھ نہیں پائی کہ ایسا کیوں ہوا دوسرے دن جب وہ ایگریمنٹ پر سائن کر رہی تھی ایسا لگ رہا تھا کوئی میرے جسم سے روح کھینچ رہا ہے،مجھے نہیں پتا میں نے ایسا کیوں محسوس کیا، میں نے کبھی آپ کو لبھانے کی کوشش نہیں کی جب عذیر حیات نے مجھے لاکڈ کیا اس نے مجھ سے کہا وہ مجھے آپ کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گا وہ مجھے لاکڈ کر کے چلا گیا لیکن جب آپ مجھے لینے آئے میں ڈر گئی کہ کہیں آپ مجھے غلط نہ سمجھ لیں جب میں نے پہلی مرتبہ آپ کے ساتھ ناشتہ کیا تو میرا دل بھر آیا شاید اتنے دنوں بعد آپ کی رحم دلی پر۔۔۔”
“وہ رحم دلی نہیں تھی حور”
“میرا دل کہہ رہا تھا کہ رحم دلی نہیں ہے مگر میرا دماغ ماننے سے انکاری تھا۔ آپ کا رویہ ٹھیک ہو رہا تھا مگر۔۔۔۔ میں بزدل ہو گئی تھی میں ڈر گئی تھی کیسے آپ کے ساتھ dark secrets شیئرنگ کرتی خوف آتا تھا مجھے آپ کو کھو دینے سے، میں ڈرتی تھی کہ آپ کا رویہ پھر ویسے ہی ہو گیا تو؟ اس تو آگے میری سوچ مفلوج ہو جاتی تھی۔اس رات حیات سکندر آیا تو مجھے لگا آپ مجھ سے بد گمان ہوجائیں گے مگر آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ جب آپ نے میری طرف سے حیات سکندر کا مقابلہ کیا تو میرے اندر سکون سرائیت کر گیا۔ شاہ کی موت کی خبر نے میرے حواس چھین لیے مجھے دھچکا لگا جب حیات سکندر نے فون پر مجھ سے کہا کہ وہ آپ کو ۔۔۔۔۔۔ مجھے لگا میرا دل بند ہو جائے گا آپ کے رویے نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا، اتنا سب ہونے کے بعد میں نے آپ کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا اور آپ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو قبول نہیں کیا “
“تو تمہیں مجھ سے پہلی نظر میں محبت ہو گئی تھی”
شانزل نے ساری باتوں کا مطلب یہی اخذ کیا تھا۔
“میں نے ایسا کب کہا؟”
“اتنی دیر سے یہی تو کہہ رہی تھی تم”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا”
حورعین نے اپنا ہاتھ شانزل کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔
“لیکن میں نے تو صرف یہی سنا”
شانزل نے حورعین کا ہاتھ پھر تھام لیا۔
“تو آپ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے”
“ڈاکٹر کی نہیں معافی کی ضرورت ہے “
“معاف تو کب کا کر چکی ہوں بس آپ سے روٹھی ہوئی ہوں مگر آپ نے مجھے منایا ہی نہیں بلکہ اپنی ایسی حالت کر کے مجھے مزید غصہ دلا رہے ہیں”
حور کی بات سن کر شانزل کی آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔
” تم مجھ سے نفرت نہیں کرتی نا حور”
” کیا آپ کبھی کر پائے تھے نفرت مجھ سے”
” نہیں”
” تو پھر میں کیسے کر سکتی ہوں”
اچانک شانزل کے مسکراتے لب سے سکڑے
” کیا ہوا شان ؟”
“تم نے میری محبت کو گالی دی کیا تمہیں سچ میں لگتا ہے کہ میں تمہارے پاس۔۔۔۔۔”
” آپ ایک بات بتائیں کون اپنی بیوی کو ایسے مناتا ہے مجھے ایک موقع دو، مجھے موقع دو، حد ہے میں غصے میں آگئی اور ہمیشہ کی طرح اول فول بک دیا”
” تم بہت ظالم ہو کم ازکم میرے معاملے میں تو ایسا ہی ہے”
” اب بول تو رہی ہوں سوری مگر آپ نے مجھ سے معافی نہیں مانگی نہ ٹھیک طرح سے منایا”
” تم نے مجھے موقع ہی کب دیا تمہیں تو یہی ڈر تھا کہ اگر میری طرف دیکھ بھی لوگی تو تمہارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا اسی لئے تو مجھے باتیں سناتی رہی جیسے اب تم میرے پاس ہو تو تمہارا غصہ غائب ہوگیا ہے”
” سو جائیں غلط فہمی ہے آپ کی، میں نے آپ کو معاف کیا ہے بنا معافی مانگے لیکن بنا منائے میں ماننے والی نہیں”
” میں تمہیں کیسے مناؤں؟”
سو جائیں شان آپ کی طبیعت خراب ہے میں جارہی ہوں پروجیکٹ کمپلیٹ کرنا ہے “
“حور آج میرے پاس رک جاؤ “
حورعین نے گھور کر دیکھا
“صرف کچھ دیر”
کہہ کر لیٹ گئی
شانزل نے حورین کی طرف کروٹ لی اور اس کا ایک ہاتھ تھام لیا
“آپ زیادہ پھیلیں مت، میں روٹھی ہوئی ہوں آپ سے”
“سو جاؤ حور، کئی دنوں سے سویا نہیں ہوں میں” اس کی حالت اس بات کی گواہی دے رہی تھی حورعین نے اپنا ہاتھ نہیں چھڑایا شانزل نے آنکھیں بند کر لیں اور اسے دیکھتے دیکھتے حورعین کی بھی آنکھ لگ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حورعین کی آنکھ کھلی تو نظر سامنے لیٹے شانزل پر پڑی دونوں ابھی بھی رات والی ہی پوزیشن میں تھے حورعین نے دوسرے ہاتھ سے بخار چیک کیا تو نہیں تھا حورعین نے ہاتھ چھڑانا چاہا تو شانزل کی آنکھ کھل گئی
” ہائے اللہ سوا گیارہ بج گئے”
حورعین نے ہڑبڑا کر کہا
چونکا تو شانزل بھی تھا
“اتنی دیر کیسے سوگئی میں، مجھے تو جانا تھا شاہ کے پاس یا اللہ”
حورعین سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
شانزل تو صبح صبح اتنے دنوں بعد حورعین کے چہرے کے دلکش نقوش میں ہی کھویا تھا۔
” سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے”
حورعین نے انگلی دکھا کر کہا شانزل مسکرایا اس کی مسکراہٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا
“مسکرائیں آپ، ابھی تھوڑی دیر میں پتہ ہے کیا ہوگا”
“پتا ہے”
اطمینان دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا
” پھر کیا کریں گے آپ؟”
حورعین حقیقت میں پریشان تھی
” کیا کروں گا؟ پھر سے محنت کرکے نئی انڈسٹری بناؤں گا”
” بھاڑ میں جائیں آپ “
کہتے ہوئے حورعین نے فون اٹھا کر شاہ زر کو کال ملائی
” السلام علیکم”
” جی شاہ”
” نہیں اب ٹھیک ہے “
“ٹھیک ہے ہم آرہے ہیں “
کہہ کر فون رکھا
“برائے مہربانی تیارہوجائیں فیکٹری جانا ہے”
کہہ کر واش روم چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل جب فریش ہو کر باہر نکلا تو حورعین روم میں نہیں تھی شانزل کیبن میں داخل ہوا
حورعین غصہ سے لال چہرہ لیے کھڑی تھی۔
” یہ کیا ہے؟”
حورعین کا اشارہ شیشے کی دیوار کی طرف تھا
شانزل نے مسکراہٹ دبائی اور کہا
” یہ شیشے کی دیوار ہے”
” آپ کو شرم نہیں آئی مجھے ایسے دیکھتے ہوئے “
“خدا کا خوف کرو میں تمہیں کام کرتے دیکھتا تھا کونسا نہاتے ہوئے۔۔۔”
شانزل کو اپنی بات کا اندازہ ہوا تو چپ ہو گیا۔
حورین کا چہرہ شرم سے لال ہوا پھر وہ پیر پٹختی جانے لگی پلٹ کر کہا
“میں اپنی گاڑی میں جا رہی ہوں دس منٹ میں فیکٹری آئیں”
شانزل مسکرایا پھر باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین فیکٹری پہنچی تو شاہ زر فیکٹری کے باہر کھڑا کسی سے بات کر رہا تھا اسے دیکھ کر مسکرایا پھر سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا
“بارہ بجنے میں دس منٹ باقی ہے سب کمپلیٹ ہے بس کچھ جگہ تمہارے شوہر نامدار کی سائن کی ضرورت ہے”
شوہر نامدار کہنے پر حورین جھینپی وہ کچھ جواب دیتی اس سے پہلے فیکٹری میں شانزل کی مرسڈیز داخل ہوئی شانزل باہر نکلا اور شاہ زر سے مصافحہ کیا
“کیسی طبیعت ہے اب؟”
“50% ٹھیک ہوگئی ہے”
” انشاءاللہ %100 بھی ٹھیک ہو جائے گی”
حورعین ان کی بے معنی گفتگو سن رہی تھی
” شاہ آپ کو سائن کروانی تھی “
“ہاں شانزل ان فائلز پر سائن کر دو”
شانزل سائن ہی کر رہا تھا کہ حیا بھی فیکٹری سے باہر آتی دکھائی دی۔
” السلام علیکم بھائی “
ہمیشہ کی طرح حیا چہکی
“وعلیکم سلام کیسی ہو”
” آپ کو تو پتہ ہے میں خوبصورت ہوں “
سبھی مسکرائے حیا حور کو پکڑ کر تقریبا گھسیٹتے ہوئے کونے میں لے گئی۔
” کہاں تھی تم؟ میرا فون بھی نہیں اٹھا رہی تھی”
” ہاں فون سائلینٹ پر تھا اور میں آفس میں تھی”
” کون سے پروجیکٹ پر کام ہو رہا تھا ؟”
حیا سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی مگر آنکھوں میں شرارت تھی
” تم نے صبح صبح تھپڑ کھانا ہے “
“صبح نہیں ہے دوپہر ہے اور مجھے تھپڑ نہیں تمہارے ہاتھ کا چیز آملیٹ کھانا ہے”
“صنم”
تبھی شاہ نے آواز دی دونوں ان کی طرف چلے گئے
“دیکھ لو ہو گیا ہے سب، ابھی بھی پانچ منٹ باقی ہے “
“چلیں شاہ”
حورعین نے مسکرا کر پوچھا شانزل کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی۔
” ہاں میں ایک کال کر رہا ہوں پھر تم بھی آ جانا اپنی گاڑی ڈرائیور کے ساتھ بھیج دو میری گاڑی میں چلنا”
شاہ زر کہہ چلا گیا شانزل حورعین کی طرف متوجہ ہوا
” تم واپس کیوں جا رہی ہو؟”
” کیا مطلب ہے ؟ تو کیا فیکٹری میں ہی بس جاؤں”
شانزل کچھ کہنے کے لیے منہ کھول رہا تھا کہ حورعین بول اٹھی
” چپ کریں آپ میرا غصہ ختم نہیں ہوا ہے اور آپ کی سزا ابھی باقی ہے”
کہہ کر حورعین کا ہاتھ پکڑ کر جانے لگی تب ہی حیا کی رگِ ظرافت پھڑکی
“پوچھ کیا رہے ہیں بھائی آپ کا مال ہے، اٹھا کر لے جائیں”
حیا کی بات سن کر حورعین نے ایک زور دار دھموکہ حیا کی پیٹھ پر جڑا
شانزل اپنا قہقہہ روک نہیں پایا
“ویسے اس بارے میں سوچا جا سکتا ہے “
“سوچنا بھی مت”
حورعین نے انگلی اٹھا کر شانزل کو وارن کیا۔
پھر حیا کی طرف متوجہ ہوئی اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے لے جانے لگی
“تمہارا تو میں جلد از جلد انتظام کرتی ہوں بلکہ کل ہی تمہارے گھر آتی ہوں”
” یہ تم مجھے دادی کی طرح مت ڈانٹو “
دونوں گاڑی تک پہنچی تو حیا نے کہا
“تم جاؤ حور میں دادی کے پاس جا رہی ہوں”
” کیوں؟”
“عاطف نے آگ لگائی ہے اس لئے دادی کی عدالت میں پیش ہونا ہے”
” تم تو رہنے دو مجال ہے جو تم کسی کے قابو میں آؤ ویسے پہنچ کر فون کرنا میں کل آتی ہوں تمھاری دادی سے ملنے”
“ہاں ٹھیک ہے، خدا حافظ “
“خدا حافظ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر شاہ زر سو گیا اور اتنے دنوں بعد حورین خود کو پرسکون محسوس کر رہی تھی رات کا کھانا حورعین نے خود بنایا پھر بی اماں سے کہا
” آپ کو حیا کیسی لگتی ہے ؟”
“خوبصورت لگتی ہے “
بی اماں نے حیا والا جواب دیا اتنے میں شاہ زر آگیا سب کھانے سے فارغ ہو گئے تو حورعین نے کہا
“چلیں نا شاہ، لان میں ٹہلتے ہیں”
“شاہ آپ بہت اچھے بھائی ہیں”
“اور میری صنم سب سے اچھی بہن”
“شاہ میں آپ کی ساری باتیں مانتی ہوں نا؟”
وہ بالکل ویسے ہی کہہ رہی تھی جیسے دس سال کی صنم کہتی تھی شاہ سمجھ گیا صنم کو جب بھی کوئی بات منوانی ہوتی وہ اسی طرح منواتی۔
یہ شاہ کی صنم کا بات منوانے کا طریقہ تھا۔
“میری صنم بہت فرمانبردار ہے”
“تو آپ کو بھی میری بات ماننی چاہیے “
شاہ زر مسکرایا ساتھ اسکی نیلی آنکھیں بھی مسکرائیں (The million dollar smile 😍)
“بالکل، بتاؤ میں تمہاری کونسی بات مانوں؟”
“شادی کر لیں شاہ۔۔۔۔حیا سے
