125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

“ایسا مت کہو حور “
“کیوں نہ کہوں؟ کیوں نہ کہوں؟ آپ نے ایک مرتبہ پھر بھی میرا اعتبار نہیں کیا ارے میں نے تو اس وقت بھی آپ اعتبار کیا تھا جب آپ نشے میں دھت گھر آئے تھے اور ایک نامحرم کے ساتھ کمرے میں رات گزاری تھی”
“پلیز حور تم بھی جانتی ہو ایسا کچھ نہیں تھا “
“ہاں میں جانتی ہوں آپ کو اس بارے میں صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ نے تو عذیر حیات کی باتوں پر یقین کرلیا، مجھے صفائی دینے کا ایک موقع نہیں دیا سیدھا سیدھا ملزم قرار دے دیا ایک موقع دیتے مجھے صفائی کا میں آپ کے پاؤں پکڑ کر بھی آپ کو یقین دلاتی کہ میں بے قصور ہوں “
“میں بہت غصے میں تھا حور، مجھ سے اتنی نفرت سے بات مت کرو”
آہ۔۔۔۔ اسکا لہجہ، آج تک اس نے اف تک نہ کیا تھا لیکن آج وہ جب بول رہی تھی شانزل کو محسوس ہو رہا تھا وہ زمین میں دھنستا جا رہا تھا
غصہ تو صرف آپ کو آتا ہے، عزت تو صرف آپ کی ہے۔ نہ مجھے غصہ آتا ہے نا میری کوئی عزت ہے اس لیے جیسا دل چاہے آپ سلوک کر سکتے ہے ،پوری دنیا مجھے آپ کی رکھیل سمجھتی رہی لیکن میں خاموش تھی کیونکہ مجھے اس دنیا سے فرق نہیں پڑتا تھا مجھے آپ سے فرق پڑتا تھا۔ مجھے ہر وقت خوف رہتا تھا کہ آپ مجھے غلط نہ سمجھ لیں حقیقت تو آپ بھی جانتے تھے کہ وہ تصاویر جھوٹی ہیں لیکن نہیں، آپ کو تو اپنی عزت پیاری تھی لیکن میری عزت کا کیا؟ اتنا سب ہونے کے بعد بھی آپ نے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے تھام لیا لیکن جب مجھے آپ کے اعتبار کی ضرورت تھی تب آپ نے میرا اعتبار نہیں کیا بھری محفل میں میری اوقات دو کوڑی کی کر کے رکھ دی۔ اور کیوں نہ کرو میں آپ سےنفرت سے بات؟ تکلیف ہو رہی ہے؟ آپ صرف ایک مرتبہ میرا اعتبار کرتے میں آپ کے سامنے زندگی بھر سر کیا آنکھ اٹھا کر بات نہیں کرتی، بے دام کی غلام بن کر آپ کے ساتھ رہتی لیکن ہوا کیا؟ آپ نے میرا اعتبار نہیں کیا “
اس کے لہجے میں ٹوٹے ہوئے مان کی کرچیاں تھیں۔
شانزل کے پاس اس کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا بڑی مشکل سے شانزل ہے اپنی ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں اٹھائیں حورعین کو دیکھا اور کہا
“میں نے تمہیں ٹوٹ کر چاہا ہے”
کیا نہیں تھا اسکے لہجے میں بے بسی، محبت، التجا، ندامت سب کچھ۔۔۔۔۔
حورعین استہتزائیہ ہنسی
“آپ نے مجھے ٹوٹ کر چاہا ہے لیکن اب میں آپ کو بکھرتا دیکھوں گی”
شانزل کے دل پر یہ جملہ تیر کے مانند لگا یعنی اتنی نفرت کرتی ہے کہ برباد ہوتا دیکھنا چاہتی ہے
“بھکاری سمجھ رہے تھے تم مجھے کاسہ پلٹتی تو تمہاری کائنات لے ڈوبتی”
اس جملے نے شانزل کی زبان گنگ کر دی۔
وہ کہہ کر رکی نہیں اٹھ کر جانے لگی تبھی حیا نے اپنے کانوں سے انگلی نکالی حور میں تمہیں لے چلتی ہوں کہہ کر اسے سہارا دینے لگی شانزل سر جھکائے بیٹھا تھا تبھی شاہ زر اندر آیا
” وہیں رکو صنم”
حورین کے قدم رکے پہلی مرتبہ شاہ زر کے چہرے پر سخت تاثرات تھے۔
” بیٹھو مجھے تم سے بات کرنی ہے”
حورعین فوراً بیٹھ گئی
“کوئی ایسی بات ہے جو مجھے پتا ہونی چاہیے اور تم نے مجھے نہیں بتائی ہے کیونکہ ابھی حیات سکندر کا فون آیا تھا ۔ وہ مجھے دھمکی دے رہا تھا کہ تم نے بھلے جائیداد اس کے نام نہ کی ہو مگر تم نے اپنی زندگی بیچ دی ہے اور کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ایسی کون سی چیز ہے جس کے بدلے تم نے اپنی زندگی بیچ دی “
“حیات سکندر ایک مرتبہ شانزل وِلا آیا تھا اور تب ہی اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اس نے آپ کو اس طرح ہمارا کے مٹی تک نصیب نہ ہونے دی مجھے آپ کا انتظار مار رہا تھا لیکن پھر اس نے دھمکی دی کہ اگر میں نے اس کی بات نہیں مانی تو وہ انہیں”
حورعین نے شانزل کی طرف اشارہ کیا۔
“تو وہ انہیں مار دے گا میں نے آذر سے بھی فون کر کے پوچھا کہ کیا وہ سچ کہہ رہا ہے تو اس نے بھی یہی کہا کہ آپ کا کسی کو کچھ نہیں پتا میں نے پہلی مرتبہ خوف محسوس کیا کہ ہماری رنجش کسی کی جان نہ لے لے پھر میں نے۔۔۔۔۔”
شانزل کے دل نے شدت سے دعا کی کہ جو وہ سوچ رہا ہے ویسا کچھ نہ ہو
“پھر میں نے اپنی زندگی بیچ کر شانزل ابراہیم کی زندگی خریدی”
شانزل کی دل کی دھڑکن ایک پل کے لئے رکی، کیسے کیسے انکشافات ہورہے تھے
“اس نے مجھے ایک پیپر پر لکھ کر دیا اگر شانزل ابراہیم کو کچھ ہوا تو ساری ذمہ داری اسی کی ہوگی اور پھر مجھ سے۔۔۔۔مجھ سے لکھوایا کہ اگر میری موت ہو جاتی ہے تو اس کا تعلق حیات سکندر سے نہیں ہوگا”
” تم یہ کیسے کر سکتی ہو صنم ہم نے یہ ہجر اسی لیے کاٹا تھا تاکہ تم صحیح سلامت رہو، میری بچی اب وہ کہہ رہا ہے کہ اگر جائیداد نہ ملی تو۔۔۔۔۔۔ تم ایک بار سوچ لیتی یہ سب کرنے سے پہلے”
ہال میں سکوت چھایا تھا سب سے پہلے ہوش حیا کو آیا
” حور کی بچی تم ایسا کیسے کر سکتی ہو تم میں عقل نام کی چیز نہیں ہے؟ کون اپنا موت کا پروانہ لکھ کر قاتل کے ہاتھ میں دیتا ہے یہ تم نے کیا کر دیا”
وہ سر تھام کر بیٹھ گئی
” جو بھی ہو میں بھلے اپنی جائیداد غریبوں میں بانٹ دوں گی مگر حیات سکندر میرے ماں باپ کے قاتل کو نہیں دوں گی”
حور نے اٹل لہجے میں کہا
“ٹھیک ہے حیات سکندر کا جو انجام ہوگا وہ دنیا دیکھے گی”
تبھی شانزل کی گھمبیر آواز ہال میں گونجی۔
“ہم اس مسئلے کا حل نکال لیں گے فلحال میں سیکیورٹی بڑھا دیتا ہوں”
شاہ زر اٹھ ہوا
“نہیں شاہ میں حیات سکندر کو اتنی آسان سزا نہیں دینا چاہتی اس سے انتقام تو قدرت لے گی میں نے اپنا معاملہ خدا کے سپرد کیا ہے آپ لوگ کچھ نہیں کریں گے”
حور نے سپاٹ لہجے میں کہا
حور تمہیں رکھ کر ایک تھپڑ لگانا ہے میں نے منہ بند کرو، بھائی آپ کچھ بھی کریں مگر حور کو کچھ نہیں ہونا چاہیے تم ایک بے وقوفی کر چکی ہو لیکن اور نہیں کرنے دوں گی میں تمہارے سر پر موت کی تلوار لٹکتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی بھلے ہی سیکورٹی ہو مگر میں یہ رسک نہیں لے سکتی مجھے کچھ نہیں معلوم یہ معاملہ جلد سے جلد حل ہو جائے اتنا اچھا ہے”
حیا کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ حور کی نہیں اس کی جان خطرے میں ہو ۔
“یہ میرا آخری فیصلہ ہے اب بدل نہیں سکتا”
حور کہہ کر بی اماں کے سہارے اٹھ گئی
“مطلب حدہے کوئی اپنی جان کا دشمن کیسے ہوسکتا ہے “
حیا نے چیخ کر کہا اور وہاں سے غصے میں باہر نکل گئی۔
شانزل تو سکتے میں تھا وہ لڑکی اس نے اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کی اس کے لیے۔۔۔ اف اللہ۔۔۔۔۔
“وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی “
شانزل نے بے یقینی سے خود کلامی کی
“تم اس کی جگہ ہوتے تو کردیتے معاف؟”
شاہ زر نے پوچھا
“وہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں کرتی جیسا میں نے کیا”
شاہ لاجواب ہوا
“خیر تم نے ہی کہا تھا کہ وہ تمہاری ہے، صرف تمہاری، تو اب بھگتو جیسی بھی ہے تمہیں برداشت کرنا ہے”
شانزل نے شاید سنا ہی نہیں
” میں محبت کے معاملے میں ہمیشہ بد نصیب رہا ہوں”
شانزل اس وقت اندر سے بہت ٹوٹا ہوا تھا
“خیر بدنصیب تو نہیں ہو”
” وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے”
شاہ زر نے گہری سانس لی
” اگر نفرت کر رہی ہوتی تو تمہارے معاملے میں بھی صبر کر لیتی اور معاملہ خدا پر چھوڑ دیتی مگر وہ تم سے نفرت نہیں کرتی غصہ ہے تم سے، تبھی صبر نہیں کر رہی شکوہ کر رہی ہے شکایت کر رہی ہے اور بے فکر رہو سزا بھی دے گی نفرت کبھی ختم نہیں ہوتی لیکن غصہ ختم ہو جاتا ہے۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں نفرت کبھی نہیں ہوتی غصہ ہوتا ہے پھر صلح ہوتی ہے”
“تم مجھے تسلی دے رہے ہو یا ڈرا رہے ہو”
شانزل نے شاہ زر کی طرف دیکھ کر کہا
“نہ میں ڈرا رہا ہوں اور نہ ہی تسلی دے رہا ہوں صرف حقیقت بتا رہا ہوں”
“لیکن میں خود کو کبھی معاف نہیں کرپاؤں گا “
فی الحال تو تم ان معافیوں کو چھوڑو اور گھر جاؤ ورنہ صنم نے تمہیں یہاں دیکھ لیا تو اس کی طبیعت مزید خراب ہو جائے گی وہ پوری طریقے سے ٹھیک نہیں ہوئی ہے یہ حیات سکندر والا معاملہ نمٹانا ضروری ہے میں دیکھ لوں گا میں ہوں یہاں”
“تم صحیح کہہ رہے ہوں لیکن میں گیٹ پر ہی ہوں گاڑی میں بیٹھا ہوں”
دیکھو شانزل صنم کی حفاظت کے لئے خود بھی تندرست ہونا ضروری ہے اس کے لیے بہتر ہے کہ تم گھر جاؤ اور پھر حیا بھی یہاں سے غصہ ہو کر چلی گئی ہے صنم کی طبیعت خراب ہوگئی تو مشکل ہوگی”
شانزل نے سمجھ پر سر ہلایا اور چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین چت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی آج اس نے ساری بھڑاس نکال دی تھی دل ہلکا ہونا چاہئے تھا مگر ایک بوجھ سا دل پر بڑھ گیا تھا تب بھی دروازہ کھلا شاہ زر اندر آیا
“صنم گڑیا یہ گن میں یہاں رکھ رہا ہوں یہ لوڈڈ ہے کچھ بھی محسوس ہو بے دھڑک چلا دینا شاہ زر کھڑا اسے دیکھتا رہا وہ خاموشی رہی پھر پوچھا
” تم تنہائی چاہتی ہو”
” فلحال تو یہی چاہتی ہوں”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات تین بج رہے تھے نیند تو شاہ زر کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اس نے جب سے وہ خبر سنی تھی تو بے چینی ہورہی تھی وہ آہٹ پر چونک رہا تھا وہ بے چینی سے یہاں کمرے میں چکر لگا رہا تھا صنم کی جان خطرے میں یہی بات اس کے دماغ سے چمٹ گئی تھی بے سکونی بڑھی تو شاور لینے چلا گیا شاور لے کر نکلا تو صرف ٹراوزر میں ہی کمرے میں چکر لگانے لگا کسی نے بڑی زور سے دھڑا دھڑ دروازہ بجایا
شاہ زر فوراٌ اپنی گن کی طرف بڑا گن اٹھائی کوئی مسلسل دروازہ پیٹ رہا تھا وہ دروازے کی طرف لپکا دروازہ کھولنے ہی والا تھا کہ باہر سے آواز آئی
“میں کہتی ہوں دروازہ کھولیں ورنہ مجھے نہیں پتا میں کیا کر گزروں گی “
شاہ زر یہ آواز پہچان گیا یہ حیا تھی پھر شاہ زر کو اپنے حلیے کا خیال آیا تو وارڈروب سے ٹی شرٹ نکال کر پہنی دروازہ کھولا تو سامنے حیا کھڑی تھی کالی چادر میں لپٹی غصے سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا
“نیچے آئیں”
وہ سخت لہجے میں کہتی ہوئی چلی گئی
اور شاہ زر ابھی تک کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ اس نے ریکویسٹ کی یا حکم دیا یا دھمکی دی
جب نیچے آیا تو حیا بھری بیٹھی تھی
“آپ کو ذرا خیال نہیں ہے بہن کی جان خطرے میں ہے اور آپ سو رہے ہیں آدھے گھنٹے سے دروازہ پیٹ رہی ہوں اور آپ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں اپنے آپ کو حور کا محافظ کہتے ہیں کیسے کریں گے حفاظت اگر میری جگہ کوئی اور آتا تو؟ ایک تو پتہ نہیں کیسے گارڈز ہیں گدھے گھوڑے نہیں پورا اصطبل بیچ کر سو رہے ہیں میں اندر آئی اور کسی کو پتہ نہیں چلا”
حیا ایک بار شروع ہوئی تو بند ہونا بھول گئی۔
“آپ پانی پی لیں پہلے”
شاہ زر اس کی پھولی ہوئی سانس کی وجہ سے کہا کیوں کہ اتنا بغیر رکے بولنے سے اس کی سانس پھول گئی تھی شاہ زر نے اس کی طرف گلاس بڑھایا جسے حیا نے تھام لیا ساتھ میں مسلسل گھورنے کا فریضہ بھی انجان دیا۔
“پہلی بات میں نے آدھا گھنٹہ نہیں لگایا دوسری بات میں سو نہیں رہا تیسری بات میں دروازہ کھولنے ہی والا تھا میں نے شرٹ نہیں پہنی تھی اسی لیے دروازہ کھولنے میں دیر لگی چوتھی بات ان گارڈز کو میں ابھی فارغ کرتا ہوں پانچویں، آخری اور سب سے اہم بات صنم کی حفاظت کے لیے میں ہی کافی ہوں”
حیا کو چپ ہی لگ گئی یہ شخص ہمیشہ اس کی بولتی بند کر دیتا تھا
“باگڑ بلا”
” آپ کافی پریشان لگ رہی ہیں”
شاہ زر نے حیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا
شاہ زر کی بات پر حیا کے چہرے پر بھولی بسری مسکراہٹ لوٹ آئی ویسی ہی شرارتی سی چلبلی مسکراہٹ جو ہمہ وقت اسکے چہرے پر موجود رہتی تھی۔
حیا نے پانی کا گھونٹ لیا اور کہا
” اب تو پریشانی ختم ہو گئی ہے”
” کیا مطلب؟”
” دیکھیں جو میں آپ کو بتانے والی ہوں آپ کو حور کو نہیں بتائیں گے مطلب بتائیں گے مگر میرا نام نہیں آنا چاہیے “
شاہ زر نے الجھ کر اسے دیکھا
” ایسا کیا ہے؟”
تبھی حیا کی آنکھوں میں چمک آئی اس نے اپنا پرس کھولا شاہ زر نے تعجب سے اسے دیکھا کہ ایسا کیا ہے جو حیا رات کے ساڑھے تین بجے یہاں تک آئی ہے
تب حیا نے کہا
“آپ بیٹھیں”
شاہ زر بیٹھ گیا تو حیا نے اس کے سامنے ایک پیپر رکھا۔ شاہ زر نے اسے اٹھا کر پڑھا تو اسے جھٹکا لگا نیلی آنکھیں حیرت سے پھیلی
” یہ۔۔۔ تو وہ پیپر ہے جس پر صنم نے حیات سکندر کو لکھ کر دیا ہے کہ اس کی موت کا تعلق حیات سکندر سے نہیں ہو گا”
“اوریجنل ہے”
حیا نے چہک کر کہا
“ہاں لیکن آپ کے پاس کیسے ؟”
“اپنی اپنی صلاحیتیں ہیں”
حیا نے اپنے ازلی شرارتی انداز میں کہا
“کیا مطلب؟ حیات سکندر نے آپ کو کیسے دے دیا”
اس کی بات سن کر حیا کی شفاف پیشانی پر بل پڑے
” حیات سکندر نے کہا یہ پیپر لے جایئے محترمہ، مسٹر شاہ زر جہانزیب بہت پریشان ہیں لے جا کر ان کی پریشانی کم کریں مطلب حد ہے وہ کیوں دیں گے چرا کر لائی ہوں”
حیا تپ کر بولی مگر شاہ زر کے سامنے پوری دنیا گھوم گئی
“چرا کر۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ خود گئیں تھی حویلی؟
” ہاں اب پیپر کے پیر تو ہے نہیں وہ خود تو چل کر آ نہیں سکتا ، تو میں ہی گئی”
“آپ کو اندازہ ہے وہاں کیا خطرہ تھا اور آپ کیا کر کے آرہی ہیں”
“اندازہ ہے مجھے مگر پلیز آپ حور کو مت بتایئے گا ورنہ پکا اس نے مجھے چوک پر کھڑا کرکے پچاس کوڑے مارنے ہیں یہی کہیے گا کہ آپ نے اپنے سورس سے پیپر حاصل کیے ہیں”
“آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آپ کیا کر کے آرہی ہیں وہاں آپ کی جان کو خطرہ تھا اگر آپ پکڑی جاتی تو کیا ہوتا آپ کے ساتھ”
شاہ زر نے اسے احساس دلانا چاہا مگر حیا تو سلگ گئی
“ہاں تو میری جان خطرے میں تھی نہ اگر پکڑی جاتی تو کیا ہوتا میں ان لوگوں کو اتنا حیران کرتی کہ خود مجھے واپس یہاں چھوڑ جاتے کوئی ایسی ویسی چیز تھوڑی ہوں حیا ہوں، حیا زمان سمجھے آپ، اگر آپ کو یہ پیپر نہیں چاہیے تو واپس دے دیں مطلب حد ہے پہلی بار زندگی میں چوری کی میں نے وہ بھی اتنی صفائی سے مگر آپ کو احساس ہی نہیں ہے”
“احساس آپ کو کرنے کی ضرورت ہے جان بہت قیمتی ہوتی ہے چاہے وہ صنم کی ہو یا آپ کی”
” دیکھیں مسٹر حور کی جان قیمتی نہیں انمول ہے اگر خدا نہ کرے میرے منہ میں خاک اسے کچھ ہوگیا تو اس کے پیچھے بھائی کو بہت تکلیف ہو گی آپ کو ہو گی بی اماں ہے آذر ہے میں ہوں سبھی کو تکلیف ہوگی لیکن میری جان چلی گئی تو میرے پیچھے رونے والا کوئی نہیں ویسے بھی بہت ڈھیٹ ہوں میں مجھے کچھ نہیں ہوگا میں بہت تھک گئی ہوں اس لیے میں جارہی ہوں گھر پر جا کر صلوۃ توبہ بھی پڑھنی ہے اور خبردار جو آپ نے حور کو کچھ بتایا” حیا نے انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دی
حیا جیسے آئی تھی ویسے ہی آندھی طوفان کی طرح چلی گئی شاہ زر نے پیپر دیکھے حیا نے سچ میں جنگ جیتنے والا کام کیا تھا جو بھی ہو اب وہ سکون سے سو سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر اور آذر صبح لان میں چہل قدمی کر رہے تھے سورج طلوع ہو رہا تھا اس خاموشی کو آذر کی اواز نے توڑا
“شاہ صنم بہت تکلیف میں ہے
” جانتا ہوں”
” آپ پلیز اس کی تکلیف کو ختم کر دیں ورنہ میری سانسیں ختم ہو جائیں گی اس کی آنکھیں بہت اداس ہے اتنا تکلیف میں تو میں نے اسے آپ کے جانے کے بعد بھی نہیں دیکھا تھا وہ اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہے”
” تم جانتے ہو سب کچھ آذر میں نے تم میں اور صنم میں کبھی فرق نہیں کیا مجھے تم بھی بہت عزیز ہوں لیکن میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا میں جانتا ہوں تم صنم سے محبت نہیں عشق کرتے ہو لیکن صنم کے معاملے میں میں ہمیشہ بے بس رہا ہوں”
“شاہ مجھے کبھی صنم کو پانے کی تمنا نہیں رہی میں بس اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں آپ میری تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ مجھے کیسا محسوس ہوتا ہے جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ صنم پر ہونے والے ظلم کے ذمہ دار میرے باپ اور بھائی ہیں
مگر میں چاہتا ہوں کم از کم محبت کے معاملے میں وہ خوش رہے شانزل ایک اچھا انسان ہے”
شاہ زر خاموش رہا جیسے اب اور بات نہیں کرنا چاہتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر اپنے عالیشان آفس میں بیٹھا مصروف تھا جب اس کا موبائل بجا
” شاہ زر جہانزیب آن د لائن”
“حیا زمان آن د لائن”
جواب بھی اسی لہجے میں موصول ہوا
شاہ زر ایک پل کے لئے حیران ہوا
“میں نے آپ کو اس لیے فون کیا ہے کہ مجھے آپ سے ملنا ہے مگر آپ حور کو نہیں بتائیں گے”
حیا کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں تھی جو کسی لڑکے سے ملنے کے لیے سامنے سے اصرار کرتی
“اس ملاقات کا موضوع یقیناً صنم ہی ہوگی”
” جی”
” ٹھیک ہے ،کب ملنا ہے؟”
“کل”
” آج کیوں نہیں؟”
” یقینا آپ اتنے بڑے بزنس مین ہیں اور آپ مصروف ہوں گے لیکن میری بھی مصروفیت ہے میں اور حور آج شاپنگ پر جا رہے ہیں”
شاہ زر کو یقین ہو گیا کہ حیا کبھی سیدھا جواب نہیں دے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین بہت چپ اور اداس رہتی تھی اس کی اداسی وقتی طور پر ہی سہی مگر حیا کی وجہ سے ختم ہو جاتی تھی حیا بھی حورعین کا دھیان بھٹکانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی تھی اسی لیے آج وہ اسے شاپنگ پر لے آئی تھی
دونوں ہی پچھلے چار گھنٹے سے خوار ہو رہے تھے کبھی یہ شوروم تو کبھی وہ شوروم حیا ہر چیز چھان پھٹک کر لینے کی عادی تھی یہی وجہ تھی حور بہت تنگ آ جاتی تھی ابھی بھی ہمیشہ کی طرح یہی حال تھا
“حیا اگر تم نے یہ تماشا بند نہیں کیا تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی”
“یہ تماشہ نہیں ہے شاپنگ۔۔۔۔۔”
حیا کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیونکہ باہر فائرنگ شروع ہو گئی تھی دونوں نے کانچ میں سے دیکھا حورعین کے ساتھ آئے گارڈز جو کہ شاہ زر نے اس کی سکیورٹی کے لیے بھیجے تھے وہ زمین پر گرے تھے یقیناً یہ حملہ حیات سکندر نے کرایا تھا
حیا نے سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر حورعین کا ہاتھ پکڑا اور اسے لئے چینجنگ روم میں گھس گئی۔
حورین نے اپنے پرس سے گن نکالی اس کے پاس صرف چھ گولیاں تھیں یقیناً اس کا نشانہ بھی اچھا تھا مگر وہ چھ گولیوں کے ساتھ پندرہ لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی حورین نے فون نکالا اور شاہ زر کو صورتحال سے آگاہ کیا باہر حیات سکندر کے لوگ کتوں کی طرح حورعین کو ڈھونڈ رہے تھے شاہ زر سے بات کرنے کے بعد حورعین نے کو دیکھا تو وہ کسی سوچ میں گم تھی۔
“حیا کچھ نہیں ہوگا”
حورعین نے تسلی دینی چاہی
حیا نے چونک کر دیکھا اور کہا
“I am sorry hoor”
حورعین نے الجھ کر حیا کو دیکھا
حیا نے اپنے دوپٹے کی مدد سے حورعین کے ہاتھ ہینگ رَوڈ سے باندھ دیے
“حیا تم کیا کر رہی ہو؟”
حورعین نے غصے سے کہا
پھر حیا نے رومال نکال کر حورعین کے منہ میں ڈالا
اپنی چادر اتار کر حورعین کو اڑھائی اور اس کی چادر خود اوڑھی
حورعین کو جب سمجھ آیا کہ حیا کیا کرنے جا رہی ہے تو اس نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔
“حور میری بات کو غور سے سنو ہمارے پاس وقت نہیں ہیں ان لوگوں کا مقابلہ ہم دونوں نہیں کر سکتے اور تمہارے بھائی کو پتہ نہیں یہاں پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا، یہ لوگ تمہارے بغیر یہاں سے نہیں ٹلنے والے میں یہاں سے باہر جا رہی ہوں یہ لوگ مجھے حورعین ہی سمجھیں گے تمہاری جان کی قیمتی نہیں انمول ہے “
یہ کہتے ہوئے حیا نے چادر سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا
“تم بالکل بھی شور مت کرنا، بھائی کو معاف کر دینا حور”
کہہ کر ایک لمبی سانس لی حورین زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی وہ چینخنا چاہتی تھی اسے روکنا چاہتی تھی مگر بندھے ہوئے ہاتھ اور منہ میں ڈالا گیا رومال اس کی اجازت نہیں دے رہے تھے اپنی بے بسی پر حورعین کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے حیا نے حور کی آنکھوں کے آنسو پونچھے اور باہر نکل گئی
حور اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کرنے لگی
تبھی اس نے فائر کی آواز سنی پھر کسی نے زور سے کہا دیکھو اس طرح بھاگی ہے گاڑی نکالو اس کی گاڑی کا پیچھا کرو حورعین نے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔
بہت کوشش کے بعد بھی وہ صرف رومال نکالنے میں کامیاب ہوئی تبھی باہر سے آواز آئی
“صنم” یہ پکار شاہ زر کی تھی
حورعین نے پورا زور لگا کر آواز دی
“شااااااہ”
شاہ زر بھاگتا ہوا آیا جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے حور نظر آئی
اس نے فورا آگے بڑھ کر حورین کے ہاتھ کھولنے شروع کیے
“شاہ۔۔۔شاہ۔۔۔وہ لوگ حیا کے پیچھے گئے ہیں اسے بچا لیں “
شاہ زر چونک گیا
“شاہ وہ میری چادر اوڑھ کر باہر نکلی ہے شاید گاڑی لے کر گئی ہے وہ لوگ اس کا پیچھا کر رہے ہیں اسے بچا لیں شاہ”
شاہ زر نے حورعین کا آنسوؤں سے بھیگا ہوا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھاما
” میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا ابھی تھوڑی دیر میں شانزل پہنچ رہا ہے جب تک تم یہاں سے نہیں ہلو گی”
شاہ زر بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا جی پی ایس آن کیا اور گاڑی فل اسپیڈ میں چھوڑ دی اسے حیا کی لوکیشن پتہ چل رہی تھی گاڑی موو کر رہی تھی یعنی ابھی تک حیا پکڑی نہیں گئی ہے اس نے گاڑی کی سپیڈ اور تیز کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر شانزل جیسے ہی شوروم پہنچا حورعین لپک کر اس کی طرف آئی اور پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا “گاڑی کی چابی دیجئے”
شانزل نے خاموشی سے چابی دے دی حورعین نے دوڑ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالیں شانزل بھی گاڑی میں بیٹھ گیا حور نے گاڑی فل سپیڈ میں چھوڑ دی
“کیا ہوا ہے حور “
“حیا کی جان خطرے میں ہے”
حورعین نے یہ جملہ ضبط سے ادا کیا مگر اس کی آواز بھرا گئی
حورین نے موبائل شانزل کو تھمایا
” آپ جلدی سے جی پی ایس سے حیا کی لوکیشن ٹریس کریں”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر حیا ہر ممکن کوشش کر رہی تھی مگر وہ لوگ مسلسل فائر کر رہے تھے گاڑی کی پچھلی کانچ ٹوٹ چکی تھی مگر ہار ماننا حیا زمان نے سیکھا ہی کہاں تھا ایک تو اس نے کچھ مہینے پہلے ہی ڈرائیونگ سیکھی تھی مگر وہ پھر بھی کوشش کر رہی تھی تبھی ان لوگوں نے ایک فائر کیا گولی سیدھا گاڑی کے ٹائر پر لگی گاڑی کا بیلنس خراب ہوگیا اور گاڑی پیڑ سے جا ٹکرائی ہیں حیا کا سر اسٹیئرنگ سے زوردار طریقے سے ٹکرایا حیا کے سر میں درد کی شدید لہر اٹھی
پیچھے حیا نے ٹائر چرانے کی آواز سنی یعنی ان لوگوں کی گاڑیاں بھی رکی حیا کچھ سمجھتی اس سے پہلے ایک آدمی حیا کی گاڑی تک پہنچا اور دروازہ کھول کر اسے باہر نکالا
حیا کے دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو اس نے اپنے گھٹنے کا استعمال کرتے ہوئے زوردار لات اس آدمی کے پیٹ پر ماری وہ بلبلاتے ہوئے زمین پر گرا
تبھی دوسرا آدمی آگے بڑھا اس نے ایک زور دار تھپڑ حیا کے منہ پر لگایا اور گردن سے پکڑ کر اسے گاڑی سے لگایا اور گن اس کے سر پر رکھی حیا کی آنکھیں خوف سے پھیلیں
پھر اس آدمی نے ٹریگر دبا دیا