Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
آج حیا اور شانزل ساتھ میں شاہ زر کے گھر آئے تھے وہ کہیں جانے کی تیاری میں تھا بہت امپورٹنٹ میٹینگ تھی نک سک سے تیار اس نے بی اماں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا صنم سو رہی ہے وہ دروازے کی طرف جا رہا تھا مگر صنم کی آواز پر رک گیا
“شاہ “
شاہ زر مسکرا کر مڑا
“مجھے ہمارا والا ناشتہ کرنا ہے”
وہ نیند بھری آنکھوں کو مسلتے ہوئے اپنی خواہش کا اظہار کر رہی تھی
شاہ زر مسکرایا پھر کال کرکے میٹنگ کینسل کی پھر کچن میں گیا کف فولڈ کئیے
“صنم منہ دھو لو”
کہتے ہوئے کیبینیٹ کھول کر سامان دیکھنے لگا۔
” بی اماں برش اور ٹوتھ پیسٹ لا کر دیں “
حورعین نے کچن میں ہی برش کیا اور چڑھ کر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئی۔
وہ لوگ اس وقت گیارہ سال پیچھے چلے گئے تھے اس لیے انہیں حیا اور شانزل دکھائی ہی نہیں دیے شاہ زر نے بڑی مہارت سے pan cake بنایا۔
شانزل بہت غور سے کالے سِلک کے نائٹ سوٹ میں ملبوس حورین کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا حیا کی حالت کچھ مختلف نہ تھی۔
اب شاہ زر نیوالے توڑ توڑ کر حورعین کے منہ میں ڈال رہا تھا تب حورعین نے بی اماں کو آواز دیی پلیز بی اماں تیل لائیں
بی اماں تیل لے کر آئیں تو شاہ زر نے پلیٹ حورعین ان کو پکڑائی اور ہاتھ دھو کر حورعین کے ساتھ لیونگ روم میں آگیا حورین پلیٹ تھامے زمین پر بیٹھ گئی اور شاہ زر صوفے پر۔
پھر شاہ زر نے مزے سے حورعین کے سر تیل لگانا شروع کیا حورعین وقفے وقفے سے نیوالے شاہ زر کے منہ میں ڈال رہی تھی ۔ جب pan cake ختم ہوا تو حورعین نے پلیٹ بی اماں کو دی اور پیچھے مڑ کر کہا
” شاہ اب میری باری”
دونوں نے اپنی جگہیں بدل لیں۔
انتہائی بے نیازی سے حورعین نے اپنے ہاتھ دھونے کے بجائے شاہ زر کے قیمتی اور برانڈڈ شرٹ میں پونچھے۔
جب بی اماں نے ٹوکا تو بڑے لاڈ سے شاہ زر کو پکارا
“شاہ “
شاہ نے مسکرا کر اسے دیکھا پھر کہا
“بی اماں آپ میری چھوٹی سی چڑیا کو نا ڈانٹا کریں”
اسکے بعد حورعین نے بی اماں کو اس طرح دیکھا جیسے کہہ رہی ہو “دیکھا؟ اب ڈانٹ کر دکھائیں”
“پوری طرح اس چڑیا کو بگاڑو مجھے کیا “
بی اماں نے کہا ۔
تب تک حورعین شاہ زر کے سر میں تیل لگانا شروع کر چکی تھی۔
“کرنے دیں جو کرتی ہے ابھی میں موجود ہوں اس کے بیگاڑے ہوئے کاموں کو سنوارنے کے لیے”
وہ آنکھیں بند کیے بڑی شان سے حورعین کو من مانیاں کرنے کا free hand دے رہا تھا۔
جو بھی تھا بی اماں دونوں کی محبت دیکھ کر نہال ہوجاتیں تھی اور آج بھی ہو گئی تھیں۔
“آج بھی آپ کے بال بہت ملائم ہیں، شاہ”
حورعین کی بات پر حیا کے دل نے پر زور خواہش کی کے وہ شاہ زر کے بال چھو کر دیکھے۔
شاہ زر ریلیکس انداز میں آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا وہ دونوں بہن بھائی بھائی دنیا سے بیگانے اپنی دنیا میں مگن تھے۔ اتنے مگن کے دونوں کو احساس ہی نہیں ہوا کہ حیا اور شانزل دروازے پر کھڑے ہیں۔
بی اماں ہی کی نظر ان پر پڑی۔
“ارے بچوں وہاں کیوں کھڑے ہو اندر آؤ نا”
دونوں داخل ہوئے حورعین اپنی جگہ سٹپٹا گئی۔ اسے شدت سے اپنے حلیے کا احساس ہوا وہ بغیر دوپٹے کے حتیٰ کہ شب خوابی کے لباس میں کھلے بالوں میں بیٹھی تھی۔ حورعین پر گھڑوں پانی پڑ گیا
وہ تو ہمیشہ ڈھکی چھپی ہی شانزل کے سامنے جاتی تھی وہ سر پٹ کمرے میں دوڑی۔
“میں فی الحال مصافحہ کرنے کی حالت میں نہیں ہوں”
شاہ زر نے خود اپنی حالت کا تذکرہ کیا۔
پھر دونوں ہی ہنس پڑے اسکی پیشانی پر بکھرے بالوں کو سنوارنے کی خواہش حیا کے دل میں شدت سے جاگی۔ بے اختیاری میں اسکا ہاتھ اس کا ہاتھ شاہ زر کی پیشانی کی طرف بڑھنے بھی لگا۔
“تم چینج کر آؤ کچھ باتیں کرنی ہے”
شانزل کی بات پر وہ کمرے میں جانے کے لیے مڑ گیا
حیا کو اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا اس نے گھبرا کر اپنی چادر صحیح کی یہ تو اچھا تھا کہ شانزل اور شاہ زر اسکی طرف متوجہ نہیں تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر نوک کرنے کے بعد حورعین کے کمرے میں داخل ہوا۔
“کیا کر رہی ہو؟”
“کچھ نہیں بس یہ کپڑے رکھ رہی تھی”
“ادھر بیٹھو میرے پاس”
“شانزل کیوں آیا تھا پتا ہے؟”
حورعین نے نفی میں سر ہلایا۔
(ہماری معصوم حورعین، اسے کہاں پتہ تھا 🤭🤭🤭)
“رخصتی کی تاریخ لینے”
“تو؟”
“میں نے میرے ولیمہ والے دن کی تاریخ کو تمہاری رخصتی رکھی ہے”
“کیا شاہ کچھ دن تو حیا پر نند والا رعب دکھانے کا موقع دینا تھا” کہہ کر وہ شاہ کے کندھے سر رکھ کر ہنس پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی تیاریاں زور و شور سے چل رہی تھیں۔ شانزل کے خالہ خالو، آذر، عمیمہ، ہانیہ، اشعر، بی اماں سبھی شاپنگ سے لے کر ہر ہنگامے میں شریک تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ شاہ زر کی محبت حیا کے دل میں جڑ پکڑتی جا رہی تھی۔ حورعین کی تو چھب ہی نرالی تھی اسکا بس چلتا تو اپنے بھائی کے لیے وہ سارا شہر خرید لاتی، حیا اور شاہ زر کے لیے اس نے ایک سے ایک دیدہ زیب چیزیں خریدی تھی۔ ان ہنگاموں میں ایک مہینہ کیسے گزرا پتہ ہی نہ چلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج حیا کی رخصتی تھی کل شاہ زر کا ولیمہ اور حورعین کی رخصتی تھی۔
حورعین اسٹول پر چڑھی بڑے جوش کے ساتھ شاہ زر کا کمرہ سجا رہی تھی۔ تبھی شانزل بنا دستک کے داخل ہوا۔
آپ میں دن بہ دن مینرز ختم ہوتے جا رہے ہیں”
حورعین نے شانزل کو گھوری سے نوازا۔
“میں کس حد تک بد اخلاق ہوں، اس کا ثبوت میں تمہیں ضرور دونگا”
شانزل نے شوخی سے کہا
“آپ حیا کی طرح باتیں کرنے لگے ہیں”
” ویسے تم کب ہمارے لئے کمرہ سجاؤ گی؟ کبھی اشعر اور ہانیہ کے لیے، کبھی حیا اور شاہ زر کے لئے، دیکھا جائے تو ہماری شادی ان سے پہلے ہوئی ہے مگر گولڈن نائٹ کے امکان ابھی بھی کل رات تک نظر نہیں آ رہے”
اتنی بے باک گفتگو پرحورعین لمحے میں سرخ ہوئی کچھ دنوں سے شانزل ایسے ہی بے باک جملوں کے تیر پھینکا کرتا جس سے حورعین گھبرا جاتی۔
” ویسے تو زبان بہت چلتی ہے مگر جہاں میں تھوڑا سا رومانٹک ہوا تو منہ میں دہی جما لیتی ہو یہ نہیں کہ پیار بھرے دو جملے بول کر شوہر کو خوش کر دوں”
شانزل حورعین کی گھبراہٹ سے محظوظ ہو رہا تھا
“مجھے ۔۔۔۔مجھے حیا کے پاس جانا ہے”
ہمیشہ کی طرح حورعین نے موضوع بدلا۔
شانزل نے قہقہہ لگایا
“کوئی نہیں میں سجا لوں گا کمرہ “
“آپ کیوں بار بار یہاں آ جاتے ہیں اپنے گھر میں ٹک کر بیٹھیئے”
” بیگم صاحبہ ہم تو آپ کی محبت میں آجاتے ہیں “
اسکے جملے کو اک ادا سے کہنے پر نہ چاہتے ہوئے بھی حورعین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ سر جھٹک کر باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا نے خود کو شیشے میں دیکھا کاپر گولڈن اور سرخ رنگ کے شرارے میں دلہن بن کر اس پر ٹوٹ کر روپ آیا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے شازر کا چہرہ گھوم گیا تو پلکوں کی جھالر خود بخود جھک گئی کندن کے جڑاؤ سیٹ، آویزے، چوڑیوں، ماتھا پٹی نیز ہر طرح کے سنگھار میں سرخ لپسٹک کے ساتھ وہ خود کو نیا محسوس کر رہی تھی۔
حورین اسے لئے ہال میں پہنچی تو شاہ زر پہلے ہی مہمانوں کے استقبال کے لیے موجود تھا مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی تھی حیا نے ایک نظر اٹھا کر شاہ زر کو دیکھا وہ بلیک اور کاپر گولڈن شیروانی میں حیا کو نئے سرے سے تسخیر کر گیا وہ ایک نظر میں کسی کو بھی اسیر کر لینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ حیا نے اپنی نظروں سے اس کا صدقہ اتارا اور چپکے سے آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کی۔
یہ کارروائی اس نے سب سے چھپ کر کی تھی۔
خواہ مخواہ میرے اتنے ہینڈسم شوہر کو نظر لگا دیں گے یا خدا میرے شوہر کو نظرِ بد سے بچانا۔۔۔ آمییییییین”
حورین نے حیا کو شاہ زر کے ساتھ بٹھایا پھر نظر گھما کر آس پاس دیکھا تب ہی حیا کی آواز اس کے کانوں میں لگی
“بھائی سے فون کر کے پوچھ لو نا ابھی تک کیوں نہیں آئے “
“ہاں میں بھی یہی سوچ۔۔۔۔۔”
حورین کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا مگر درمیان میں ہی اسے احساس ہوا تو اس نے ہوں حیا کو گھورا
” باز آجاؤ حیا اب تو، کم از کم میں تمہاری نند ہوں”
حورین نے مصنوعی غصے سے کہا
حورین پستا رنگ کے انگرکھا میں ہلکی پھلکی جیولری کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی
” میں صدقے ایسی نند پر، وہ دیکھو بھائی آ گئے ہیں”
حیا نے حورعین کی توجہ شانزل کی طرف کروائی جو وائن کلر کے تھری پیس سوٹ وائٹ شرٹ میں اپنی تمام تر وجاہت سمیٹے شاہانہ چال چلتا ہوا اسٹیج پر آیا۔
” السلام وعلیکم “
اس نے مشترکہ سلام کیا
” وعلیکم السلام “
سبھی نے جواب دیا
“بہت بہت مبارک ہو”
کہتے ہوئے شانزل شاہ زر کے گلے لگا
” تم نے آتے ہوئے دیر کردی؟”
شاہ زر نے وجہ دریافت کی
“شاپنگ کر رہا تھا”
شاہ زر کے ساتھ سبھی کو حیرت ہوئی
” ہیں؟ ہبھائی کیا کیا خریدا آپ نے”
حیا کی زبان میں کھجلی ہوئی
” ابھی پتا چل جائے گا”
کہتے ہوئے شانزل نے پوری گفتگو میں لا تعلق بنی حورین کا ہاتھ تھاما اور وہاں سے اترنے لگا۔
” تم لوگ ہمیں کچھ وقت دو ہم ابھی آتے ہیں”
کہتے ہوئے شانزل حورین کے ساتھ برائیڈل روم کی طرف قدم بڑھانے لگا اس نئی افتاد پر حورعین ہڑ بڑا گئی بی اماں خالہ خالو سب مسکرا کر دیکھ رہے تھے یہاں تک کہ مہمانوں کی نظریں بھی معنی خیزی کا تاثر دے رہی تھبی شانزل جب برائیڈل روم کا ڈور لاک کرکے پلٹا تو حورعین ان کو ہوش آیا۔
” آپ۔۔۔ آپ۔۔۔۔ یہ کیا حرکت ہے”
حورین جھنجھلا کر پوچھا
“تم کیا ہر وقت کاٹ کھانے کو دوڑتی ہو کبھی پیار سے بھی بات کر لیا کرو وہ”
چلتا ہوا دو قدم کے فاصلے پر رکا
” آپ حرکت ہی ایسی کرتے ہیں سب کیا سوچ رہے ہوں گے؟’
” کیا سوچ رہے ہوں گے اور کیا نہیں سوچ رہے ہوں گے اس سے مجھے کیا فرق پڑتا ہے “
“آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں ؟مجھے غصہ مت دلائیں “
“غصہ تو تم مجھے دلاتی ہوں یہ روکھے پھیکے رنگ پہن کر”
شانزل نے اس کے ڈریس کی طرف اشارہ کیا
“یہ پھیکا رنگ نہیں ہے، ویسے بھی مجھے ایسے ہی رنگ پسند ہے”
حورعین نے منہ بنا کر کہا
” اچھا چلو جانے دو، اب ڈریس چینج کرلو دیکھو میں کتنا خوبصورت ڈریس لایا ہوں”
” نہیں میں چینج نہیں کروں گی “
حورعین نے ایک مرتبہ پھر منہ بنایا اور شانزل مسکرایا
” چینج کر لو نا یار اتنے پیار سے لایا ہوں”
شانزل ایک قدم آگے بڑھا حورعین ایک قدم پیچھے ہٹی
” میں نہیں کروں گی”
” چینج کر لو حور “
شانزل ایک مرتبہ پھر ایک قدم آگے بڑھا
” نہیں کروں گی”
حورین پھر ایک قدم پیچھے ہٹی اور یہ سلسلہ چل نکلا
“کرلو”
” نہیں”
” کرلو”
” نہیں”
پیچھے ہوتے ہوتے حورعین دیوار سے جا لگی
” میں آخری بار پوچھ رہا ہوں چینج کرو گی؟”
” نہیں “
حور نے پٹ سے جواب دیا
“اوکے”
حورعین نے تعجب سے شانزل کو دیکھا شانزل ابراہیم کی ضد سے ایک دنیا واقف تھی وہ اتنی آسانی سے کیسے مان گیا
” ایسے مت دیکھو یار میں پہلے ہی ان نظروں سے گھائل ہوں”
کہتے ہوئے شانزل نے حورعین کی کمر کے گرد حصار باندھا اور خود سے قریب کیا۔ حورعین تو سٹپٹا گئی شادی کو اتنے مہینے ہو گئے تھے لیکن شانزل کی طرف سے یہ پہلی جسارت تھی ورنہ اب تک تو وہ صرف ذومعنی جموں پر ہی اکتفا کرتا تھا
“آپ۔۔۔۔ آپ کیا کر رہے ہیں”
حورعین کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا
“رومینس توکل کے لئے رکھا ہوا ہے، فکر نہیں کرو”
شانزل آنکھوں میں شرارت لیے مخاطب ہوا
“تو۔۔۔؟”
حورین کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیونکہ شانزل نے اس کی ڈوری کھول دی تھی اور حورعین کا دل رک کر دھڑکا
شا۔۔۔ شان۔۔۔ آ۔۔پ۔۔پ۔۔ آپ کیا ۔۔ک۔۔کر رہے ہیں ؟”
حورعین کے منہ سے جملہ ٹوٹ کر ادا ہوا
” چینج کر رہا ہوں، اب تم نے تو منع کیا ہے اسی لئے میں کہہ رہا ہوں “
حورعین کی آنکھیں پھیلیں
” اچھا اچھا میں کرتی ہوں پلیز چھوڑین نہ “
حورعین اسکی بانہوں کی حدت سے کسمسائی شانزل جان دار انداز میں مسکرایا
” تم سے پوچھا تھا میں نے لیکن تم نے تو منع کر دیا” اب شانزل اس کی حالت سے حظ اٹھا رہا تھا
” سوری نہ پکا چینج کرونگی”
“sure?”
“جی”
” اچھا ٹھیک ہے”
شانزل پیچھے ہٹا تو حورعین کپڑے لے کر فورا واش روم میں بند ہوگئی
حورین چینج کر کے باہر نکلی تو نظر اٹھا کر دیکھنے کی غلطی نہیں کی مگر شانزل ابراہیم آج پھر حورین کو دیکھ کر مبہوت ہوا تھا۔
“جویلری؟”
حورعین نے نظر جھکائے ہوئے ہی سوال پوچھا
شانزل چونکا
“ہاں۔۔۔ وہ یہاں ہے”
حورعین جلدی جلدی تیار ہونے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں برائیڈل روم سے باہر نکلے تو کئی لوگوں کی نظر بے ساختہ ان کی طرف اٹھی اور ماشااللہ کہا
حورین ڈاک پرپل کلر کے گاؤن میں ڈارک پرپل کرسٹل کی سیٹ کے ساتھ، لپسٹک سے آراستہ ہونٹ اور سبز آنکھوں میں لائنر لگائے بالوں کے ڈھیلے جوڑے اور چہرے پر جھولتی کرلی لٹ کے ساتھ شانزل کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی۔
اسٹیج پر پہنچنے کے بعد حیا نے ہمیشہ کی طرح حورین کے گال چوم لیے
” ہائے حور سچ میں تم کتنی پیاری لگ رہی ہو، لیکن تمہارا منہ کیوں پھولا ہوا ہے ‘
“کچھ نہیں”
اب وہ کیا بتاتی اسکا منہ کیوں پھولا ہوا ہے
اشعر اور ہانیہ کی آمد ہوئی انھوں نے حیا کی خوب کھینچائی کی ماحول بہت خوشگوار تھا
حورین شانزل کی کسی بات پر منہ بنا کر جواب دے رہی تھی اور اسٹیج پر بیٹھی حیا نے شاہ زر سے کہا “ہماری حور کتنی خوش ہے نہ “
شاہ زر اس کی بات کا جواب دیتا اس سے پہلے عزیر حیات کی آمد ہوئی
وہ چلتا ہوا شانزل ابراہیم سے کچھ قدم دور رکا اور وہیں سے چیخ کر شای زر سے کہا
” مبارک ہو شاہ زر جہانزیب “
پھر وہ شانزل کی طرف متوجہ ہوا
“ویسے داد دیتا ہوں میں تمھارے حوصلے کی کہ تم اس جیسی لڑکی کو اپنا رہے ہو”
اس کا اشارہ حورعین کی طرف تھا
حیا کا دماغ بھک سے اڑا وہ فورا اس شخص کا سر پھاڑ دینا چاہتی تھی اس کا ارادہ بھانپ کر شاہ زر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
” چھوڑیں مجھے، اس شخص کی تو میں جان لے لوں گی”
وہ غرائی تھی
” رک جاؤ حیا، ایک بار میری بات مان لو”
شاہ زر کی بات پر حیا نے چہرہ گھما کر آنکھیں مینچ لیں جیسے اس منظر سے غائب ہونا چاہتی ہو
” مجھے لگا تھا تم غیرت مند مرد ہو مگر تم کیسے ایک ایسی لڑکی کو اپنا سکتے ہو جو دو دن کسی اور کی تحویل میں رہ کر آئی ہو”
حورین کی تو سانس ہی اٹک گئی آنسو لڑیوں کے مانند چہرے پر بہہ گئے
اسے لگا اب کیا؟ آج بھی محفل سجی ہے، آج بھی وہ شانزل کے لیے سنوری ہے، آج بھی وہ بہت خوش ہے، اور اگر آج بھی۔۔۔۔۔۔ شانزل نے اسکا بھروسہ نہیں کیا تو ؟۔۔۔۔۔
اس تو کے آگے اسے اپنا دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہوا اس نے ہمت کرکے شانزل کی طرف دیکھا شانزل کے چہرے پر ناقابل فہم تاثرات تھے ایک بات تو طے تھی اب وہ اسے صفائی نہیں دے گی۔
حورین کا جی چاہا ایک بار پھر بے عزت ہونے سے پہلے اسے موت آجائے شانزل کے ہاتھ میں حورین کی زندگی اور موت تھی
شانزل نے اپنے اور عذیر حیات کے درمیان کا فاصلہ کم کیا پھر پورا ہاتھ گھما کر ایک زور دار مکّا عذیر حیات کو مارا
جس سے وہ زمین پر منہ کے بل گرا
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے بارے میں ایسی باتیں کرنے کی وہ شانزل براہیم کی بیوی ہے، اور شانزل ابراہیم کو اس کی پاکدامنی کی گواہی کی ضرورت نہیں ہے
