125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

“I m sorry haya”
حیا نے پھٹی آنکھوں سے حور کو دیکھا
جو اپنے ہاتھوں میں جلی ہوئی کوٹی لے کر کھڑی تھی جو اسے شرارہ کے اوپر پہننا تھا
” کوئی بات نہیں جانے دو، میں کچھ اور پہن لوں گی”
حیانے حورعین کی شرمندگی کم کرنی چاہی
“رکو میرے پاس تمہارے شرارے سے میچنگ بلاؤز ہے شاہ اتنے ارمان سے تمہارے لیے یہ کپڑے لائے تھے کچھ اور پہنو گی تو فیل کریں گے”
کہہ کر رکی نہیں جا کر بلاؤز لے آئی اور حیا بلاؤز دیکھ کر ہی سٹپٹا گئی بلاؤز کیا تھا ہاف بلاؤز تھا جس سے پیٹ اور کمر واضح ہوجاتی آستین تو نام کو بھی نہیں تھی کاندھے پر دو انچ چوڑی پٹی تھی اوپر سے اتنا گہرا گلا اور سونے پر سہاگا بیک لیس تھا پیچھے صرف ڈوری تھی
“حور تمہارا دماغ چل گیا ہے پارٹی میں پہنوں گی میں؟:
حیا منہ کھولے کہنے لگی
“ارے تم یہ چینج کر آؤ تمہارا دوپٹہ نیٹ کا نہیں ہے نا، میں تمہارا دوپٹہ ایسے سیٹ کروں گی کہ تم پوری چھپ جاؤ گی “
حیا شش و پنج میں مبتلا ہو گی
“پلیز حیا پہن لو میرے لیے”
اب حیا کے پاس کوئی چارہ نہ تھا حور کے لئے تو وہ کچھ بھی کر سکتی تھی جب وہ بلاؤز اور شرارہ چینج کرکے باہر آئی تو آئینے میں خود کو دیکھ کر ہی نظریں چرا لیں
” اف حور تمہارے لئے کیا کر رہی ہوں میں”
اس نے سوچا اور پھر حورعین نے حقیقتاً اور اس کا دوپٹا اس طرح سیٹ کیا کہ وہ پوری طرح چھپ گئی تھی
حیا کے سر پر بھی دوپٹہ پن لگا کر سیٹ کیا پھر میک اپ کیا اور طلائی زیور پہنائے
” حور میرا ولیمہ ہو چکا ہے آج صرف پارٹی ہے بس تم تو ایسے تیار کر رہی ہو جیسے میرا ولیمہ ہے “
جب حورعین نے مانگ ٹیکا لگایا تو وہ بول پڑی
” کیا ہوگیا ہے یار اتنی تو پیاری لگ رہی ہو چلو یہ چوڑیاں ڈالو ہاتھ میں”
حیا سچ میں پیاری لگ رہی تھی اسے تیار کرکے حورعین تیار ہونے لگی باہر مہمان آنا شروع ہو چکے تھے کافی تو آ بھی چکے تھے حورعین جلدی جلدی تیار ہوئی تبھی شانزل کی کال آگئی کہ خالہ خالو کو ایئرپورٹ سے لینے جانا ہے وہ جلدی سے باہر آئے
حورعین ایک مطمئن نظر آئینے پر ڈال کر باہر کی طرف چلی گئی
پھر حیا انتظار میں ہی رہی کہ کوئی آئے اور پائل اور سینڈل پہننے میں مدد کر دے کافی دیر تک وہ پائل سے الجھتی رہی بڑی مشکل سے پتہ نہیں کیسے ایک پائل پہن لی مگر دوسری تو بڑی مشقت کے بعد بھی پہن نہ پائی اور اب تو سینڈل بھی باقی ہے اپنی بے بسی پر حیا کی آنکھیں نم ہونے لگی یہ ایک خلا اس کی زندگی کا نہ جانے کب پورا ہوگا؟ ہوگا بھی کہ نہیں؟ کتنی دیر تک موبائل دیکھتی رہی کیسے ہانیہ کو فون لگا کر بلا لے مگر اسے یاد ہی نہ آیا کہ فون کیسے لگائے
بے بسی ہی بے بسی تھی
اسے باہر تو جانا ہی تھا جب باہر نکلی تو فردوس بریں بھاں بھاں کر رہا تھا پارٹی چونکہ لان میں تھی اسی لئے سب ہی یہاں تک کہ ملازم بھی ادھر ہی تھے
کتنی سبکی ہوگی سب کے سامنے
حیا صرف سوچ سکی
وہ جی کڑا کر کے لان کی طرف آئی تاکہ ہانیہ مل جائے اس نے لان میں نظر گھمائی
کافی مہمان لان موجود تھے لان پھولوں قمقموں سے سجا ہوا تھا
حیا نے سینڈ والا ہاتھ پیچھے کر لیا تب ہی ہجوم میں کھڑے شاہ زر کی نظر اس پر پڑی لمحے بھر کو مبہوت ہوا تھا
بھاری کام دار آئینوں سے مزین لہنگے اور طلائی بھاری زیورات میں وہ کسی ریاست کی ملکہ ہی لگ رہی تھی سر پر اوڑھا دوپٹہ اس کے وقار میں اضافہ کر رہا تھا
وہ مسکراتا ہوا اس کی طرف قدم بڑھانے لگا
حیا نے دیکھا بلیک ڈنر سوٹ میں نیلی آنکھوں اور نفاست سے سیٹ کیے ہوئے بالوں میں وجاہت کا شاہکار اس کی طرف آ رہا تھا
” مجھے تو لگا آج تم انتظار کروانے کے موڈ میں ہو، ڈیڑھ گھنٹے سے انتظار میں ہوں ، چلو اب مہمان کب سے تمہارا پوچھ رہے ہیں”
کہہ کر اس نے حیا کی کلائی تھامی اور اسے لے کر مہمانوں کے پاس جا رہا تھا کچھ قدم کے بعد حیا رک گئی
“سنیں پلیز۔۔۔۔۔”
شاہ زر نے تعجب سے اسے دیکھا
“کیا ہوا؟”
“آپ ہانیہ کو میرے پاس بھیج دیں پلیز”
وہ آنکھیں جھکائے کہنے لگی باقی کا جملہ ادا ہی نہ ہو سکا
شرمندگی سی شرمندگی تھی ہیں حیا نے گردن جھکا لی
تبھی شاہ زر کی نظر اس کے ہاتھ میں موجود سینڈل اور پائل پر پڑی وہ ٹھٹک گیا
” تم۔۔۔ تم ننگے پیر گھوم رہی ہو لان میں؟ ملتے ہی
مجھے کیوں نہیں کہا “
پھر شاہ زر نے جواب کا انتظار کئے بغیر ویٹر سے کہا کرسی لے کر آئے ویٹر نے فوراً حکم کی تعمیل کی
“بیٹھو اس پر”
” پلیز شاہ زر سب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے جانے دیں اور ہانیہ یا کسی کو بھیج دیں”
” اف حیا کب وہ دن آئے گا جب تم میری بات بغیر بحث کے مان لو گی “
کہنے کے ساتھ شاہ زر نے اس کے ہاتھ سے سینڈ لی اور کاندھے سے تھام کر نرمی سے کرسی پر بٹھایا اتنے لوگ موجود تھے سب ہی متوجہ تھے
سب حیران رہ گئے جب ایک دنیا کا مشہور بزنس مین شاہ جہانزیب اپنی بیوی کے سامنے گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھا ایک گھٹنا زمین سے کچھ اوپر تھا سب مزید حیران رہ گئے جب اس نے نرمی سے حیا کا پیر اپنے گھٹنے پر رکھا وہ بالکل نارمل تھا نہ اسے مہمانوں سے فرق پڑتا تھا نہ حیا کی حیران نظروں سے
اس نے جیب سے رومال نکال کر حیا کے پیر کا تلوا صاف کیا لمحے بھر کو اس کے پیر کا معائنہ کیا
” سدھر جاؤ حیا ابھی کچھ چبھ جاتا تو؟ تم اندر ہی انتظار کر لیتی میں تو آتا نہ تمہارے پاس “
کہتے ہوئے اس نے حیا کے پیر میں پائل پہنائی اور سینڈل بھی
حیا کی ساری مایوسی ساری شرمندگی بھی سے اڑ گئی
“آپ میرے پاس ہیں تو مجھے راستوں کی فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کے ہوتے ہوئے کبھی کوئی کاٹا مجھے چبھ نہیں سکتا”
حیا کی بات پر شاہ زر دلفریب انداز میں مسکرایا اسے حیا کی اس بات نے بڑا مزہ دیا تھا
پھر اس نے دوسرا پیر اپنے گھٹنے پر رکھا اور اسی طرح تلوا صاف کیا اور سینڈل پہنائی
حیا بس اسے دیکھ کر رہ گئی
معاشرے میں ایک بیوی کو کتنی عزت ملے گی یہ شوہر پر منحصر ہوتا ہے
ایک ایسا مرد جو اس کی عزت کرے اور کروا سکے ایسا مرد ہر لڑکی کی خواہش ہوتا ہے اور خدا نے ایسا مرد حیا کے نصیب میں لکھ دیا تھا ان ساری محرومیوں کے بدلے جو اس کے مقدر میں تھیں۔
اس نے ایک مرتبہ عاطف سے کہا تھا کہ خدا نے اس کے نصیب میں خوشیاں نہیں لکھی کیونکہ ان خوشیوں کے بدلے خدا نے اس کے نصیب میں شاہ زر جہانزیب کو لکھا ہے
حیا کو یک لخت اپنا آپ معتبر محسوس ہونے لگا
اپنے رب کا جتنا شکر کرتی کم تھا شاہ زر گھٹنوں پر لگی گرد جھاڑ تا ہوا کھڑا ہوا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا
“کہاں گم ہو؟”
حیا نے چونک کر اسے دیکھا اور کہا
“تھینک یو”
“It is honoure for me ma’am”
( یہ تو میرے لیے اعزاز ہے میم)
اس نے ہلکا سا گردن کو خم دیتے ہوئے کہا
“اس لیے نہیں بلکہ میری زندگی میں آنے کے لیے”
حیا نے صدقِ دل سے کہا تھا آنکھوں میں تارے جھلملا رہے تھے
شاہ زر جہانزیب ان آنکھوں میں تارے جھلملاتے دیکھ فدا ہی تو ہوا تھا
” That is also honour for me and u r blessing for me”
( یہ بھی میرے لیے اعزاز ہے اور تم میرے لئے نعمت ہو)
شاہ زر بھی ایک جذب سے کہا وہ دونوں شاید لوگوں کی موجودگی فراموش کر چکے تھے وہ تو مہمانوں کی تالیوں نے دونوں کو ہوش دلایا
حیا نے چونک کر مہمانوں کو دیکھا اور ویڈیو بناتے اشعر کو کچھ شرم غالب آ گئی
جس سے اس نے گردن جھکا لی
حورعین شانزل بھی خالہ خالو کے ساتھ تالیاں بجاتے ہوئے اس کے پاس آئے
حیا کو لگا اس کی بے اختیاری پر اب اشعر اسے خوب زچ کرے گا اسی لیے اس نے نظر انداز کیا
اور خالہ خالو سے ملی وہ اس سے مل کر بڑے خوش ہوئے خاص کر شانزل کے خالو عثمان سفیر
“مبارک ہو، بلکہ تم لوگ مجھے مبارکباد دو میرے سارے بچے اس طرح شاد و آباد ہے کہ میرا دل خوش ہوگیا ، خدا تم لوگوں پر رحمت بنائے رکھے اور ڈھیروں خوشیوں سے نوازے”
انہوں نے دعائیں دیں اور حیا کو ساتھ لگایا
عانیہ کو مل کر بڑے خوش ہوئے جو بار بار لپک لپک کر حیا کی طرف جانے کی کوشش کر رہی تھی
“آپ بس اسی طرح ہمیں دعاؤں میں یاد رکھئے “
شانزل نے لب کشائی کی
“مجھے تو کسی نے بتایا ہی نہیں کہ آپ لوگ آنے والے ہیں “
حیا کچھ حیران تھی
“ہم نے تو کسی کو بھی نہیں بتایا تھا اگر بتا دیتے تو اتنا کھلا کھلا چہرہ کیسے دیکھتے آپ لوگوں کا “
عثمان سفیر کو تو ویسے بھی شوخ چنچل سی حیا بہت پسند تھی
“ایک سرپرائز اور دوں؟”
انہوں نے سوالیہ نظروں سے حیا کو دیکھا
“رکیں مجھے guess کرنے دیں…. آپ میرے لیے کرکٹ کٹ لائے ہیں جو آپ پچھلی بار شرط کے طور پر ہارے تھے”
حیا کی بات پر عثمان سفیر نے ماتھے پر ہاتھ مارا جیسے بھول گئے ہو
” او یار کل تمہیں پکا لا دوں گا مگر سرپرائز تو یہ ہے کہ ہم ہمیشہ کے لئے آپ کے پاس رہنے آگئے ہیں”
” ہائے سچی۔۔۔۔؟”
خوش تو سبھی ہوئے تو مگر حیا تو وارے نیارے ہو گئی تھی
“ہاں”
“مطلب ہم روز کرکٹ کھیلیں گے ؟”
“بالکل ہم تو ہماری بیٹی کے ساتھ روز کھیلیں گے”
شانزل تقریبا منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہا تھا
“ہیں یہ آپ لوگ کب ملے؟ کب کرکٹ کھیلی؟ کب شرط ہاری؟”
” جب تم لوگ ہنی مون پر گئے تھے اس کے دوسرے دن یقین جانو ہماری بیٹی تم لوگوں جیسی اکھڑ مزاج نہیں ہے میری بیٹی مجھ جیسی ہے زندہ دل، تم لوگ اکڑو ہو، میری بیٹی دنیا کی سب سے اچھی بیٹی ہے”
اور حیا کو لگا کسی نے اس کی زبان گنگ کر دی ہو الفاظ جیسے کسی نے چھین لیے ہو، یہ وہ جملے تھے جو اپنے باپ کے منہ سے سننے کی خواہش رکھتی تھیں
شاہ زر مسلسل حیا کو اور اس کے چہرے پر اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہا تھا
عثمان سفیر حیا کی حالت سے بے نیاز اسے ساتھ لگائے بولتے ہی جا رہے تھے
” خالو یہ چیٹنگ ہے اب مجھے جیلس فیل ہو رہا ہے”
” کوئی نہیں میں تو آپ کو بھائی بولتی ہوں تو آپ کے خالو بھی میرے خالو ہوئے نہ “
حیا نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے بولی تھی
“چلو یہ بھی ہے “
“وہ تو تم اب بیوی آنے کے بعد خوش مزاج ہو گئے ہو ورنہ تمہاری شکل پر بارہ بجے ہی رہتے تھے”
شانزل تو خاموش ہو گیا تھا مگر عثمان سفیر جیسے آج الگ ہی موڈ میں تھے
“خالہ دیکھ لیں اب خالو کو “
“تمہاری خالہ ہمیں سالوں سے دیکھتی رہی ہیں اور اب تمہاری ویلیو ختم، اب ہمارے پوتا پوتی کی ویلیو ہے” عثمان سفیر کافی سنجیدہ مزاج کے تھے مگر آج بہت خوش تھے
“ابھی پوتا پوتی آئیں گے، آئے نہیں ہیں”
“تو کیا ہوا اتنے سالوں تک تم ہمارا پیار بٹورتے رہے ہو اب تو ہمیں بیٹی ملی ہے اس کا بھی حق ہے اور پوتا پوتی جب آئیں گے تب دیکھی جائے گی”
” چلیں جانے دیں یہ بھی میری بہن ہی ہے “
“شانزل بھائی بحث بعد میں کریئے گا اسٹیج پر سارے انتظامات ہوگئے ہیں چلیں، آپ اسٹیج کی طرف آئیں”
“چلو “
شانزل نے شاہ زر سے اسٹیج پر چلنے کو کہا
شاہ زر نے نفی میں سر ہلایا شانزل نے اسے گھورا
“بہت ہی کوئی بدذوق انسان ہو “
شاہ زر ڈھیٹائی سے مسکرایا شانزل سٹیج پر چڑھا اور مائیک لے کر کہنا شروع کیا
“السلام علیکم، سب سے پہلے تو بہت بہت شکریہ کہ آپ اتنے شارٹ نوٹس پر پارٹی میں آئے مگر کیا کریں یہ سب کافی ہنگامی صورتحال میں ہوا، پارٹی کی کئی وجہ ہے سب سے پہلے آج میرے سالے صاحب مسٹر شاہ زر جہانزیب کی پہلی اینیورسری ہے اور کل میری، تو ہم نے سوچا آپ لوگوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کیا جائے، اب اینیورسری ہے تو گفٹ تو بنتا ہے۔…….so the gift is آپ لوگوں کو یہی سمجھ آرہی ہوگی کوئی جویلری ہوگی
زیادہ شوہر یہی دیتے ہیں مگر آپ غلط سوچ رہے ہیں کیونکہ ہماری بیویاں بہت ہی قابل سیول انجینئر ہے۔ فردوس بریں اسی قابلیت کا ایک نمونہ ہے تو ان کی قابلیت اور دوستی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ تحفہ دینا چاہتے ہیں۔۔۔۔”
تبھی ایک پردے پر پروجیکٹر کی روشنی پڑی اور اس پردے پر ایک شیشے سے چمکتی بلڈنگ کا عکس تھا
“The HOORYA Company “
حور اور حیا کی ساجھے داری کی نشانی جس کو فائنانس ہم کر رہے ہیں hoor , HOORYA, اور haya سے مل کر بنا ہے, ان لوگوں کو دیکھ کر میرے دل میں شدید خواہش ہوتی ہے کاش میری دوستی بھی اس طرح کی ہوتی”
حورین ایک لمحے کو چونکی مگر حیا تو منہ کھولے دیکھ رہی تھی
حیا نے گردن گھوما کر شاہ زر کو دیکھا جو آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“ویسے ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے خالو مجھے کہہ رہے تھے کہ شادی سے پہلے میں کافی اکھڑ مزاج تھا میرے چہرے پر بارہ بجے رہتے تھے”
لوگ ہنسنے لگے ہیں وہ صحیح تو کہہ رہا تھا
” لوگ مجھ سے بات کرنے سے پہلے دس بار سوچتے تھے مگر۔۔۔۔ مگر میں داد دینا چاہوں گا حیا زمان کے حوصلے کی جس نے اس اکھڑ مزاج، بد دماغ اور مغرور انسان کو بھائی بنا لیا۔ یقین جانیں ایسا ہی تھا، حالانکہ ہماری بیگم صاحبہ بھی ہم سے خائف رہتی تھیں مگر حیا ویسی ہی تھی بے خوف ، اور اس کی اسی خوبی نے مجھے بہت متاثر کیا۔
دوسرا اس کی دوستی نے، میں نے اسے پہروں حور کے انتظار میں دھوپ میں جھلستے دیکھا ہے، حور کی محبت میں لوگوں کے سر پھوڑتے دیکھا ہے، حیا کو ایسا ہی ہونا چاہیے بلکہ شانزل ابراہیم کی بہن کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ رشتوں کو نبھانا اور بے لوث محبت کرنا میں نے اسی سے سیکھا ہے، بغیر کسی صلے کے کسی کو اپنا مان لینا میں نے حیا سے سیکھا ہے ،
فردوسِ بریں میرا خواب تھا، ،،،،اس پتھروں سے بنے گھر میں رونق میری بیوی اور بہن کی وجہ سے ہی ہے آج میرا گھر مکمل ہے اور ہاں میں یہ بھی بتا دو کہ فردوس بریں ایکسٹینڈ extend کرنا چاہتا ہوں یعنی اور بڑا کرنا چاہتا ہوں جس کا کانٹریکٹ دی حوریہ کمپنی کو دیتا ہوں
جو اس کے بورڈ ممبر پورا کریں گے۔ حور اور حیا کے ساتھ ساتھ میں اس کمپنی کے تیسرے بورڈ ممبر کا نام بھی بتا دوں اشعر احمد، جی ہاں ویسے موصوف ہزار نخرے دکھانے کے بعد راضی ہوئے ہیں مگر ہوگئے۔۔۔۔۔ میں نے فردوس بریں کے دروازے پر ایک آیت لکھوائی ہے اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے میرا گھر مکمل ہے بیوی، بہن ماں باپ، اشعر جیسا ساتھی، شاہ زر جیسا دوست، بہت ساری نعمتیں ہیں جس کے لیے میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں”
شانزل نے اپنی تقریر ختم کی تو حورعین اسٹیج پر چڑھنے لگی شانزل نے ہتھیلی پھیلائی تھام کر اوپر چڑھ کر مائک ہاتھ میں لے لیا
” السلام علیکم۔۔۔۔ میری زندگی ایک تکون میں قید ہے، شاہ زر جہانزیب، شانزل ابراہیم اور حیا شاہ زر۔ مجھے بالکل تعجب نہیں ہو رہا اس گفٹ پر کیوں کہ پوری دنیا میں مجھے کوئی اتنا خوبصورت تحفہ دے سکتا ہے تو صرف یہی دونوں ہے بلکہ انہوں نے مجھے اس سے بھی خوبصورت تحفے دیے ہیں
اور رہی بات حیا کی تو حیا شاہ زر میری زندگی میں تب آئی جب میں بالکل اکیلی تھی، ایک دم تنہا ویسے ہی جیسے کوئی بچہ کھو جانے کے بعد پریشان ہوتا ہے ، میں بالکل ویسی ہی تھی۔ کچھ لوگ آپ کی زندگی میں ستاروں کے مانند ہوتے ہیں جو بغیر اپنی موجودگی کا احساس دلائے ٹھنڈک پہنچاتے ہیں
حورین کی زندگی میں حیا شاہ زر کا مقام بھی اس سے تارے کا سا ہے۔ اسے مجھ سے پہلی نظر میں محبت ہوئی تھی ۔۔۔”
کہہ کر مسکرائی
“اس نے میرے لیے، صرف میرے لیے میڈیکل چھوڑ کر سول انجینئرنگ پڑھا، جی بالکل میں نے بھی سوچا تھا یہ لڑکی بالکل پاگل ہے۔۔۔۔۔ مگر صرف میرے لیے۔۔۔ جب جب میں گری ہوں مجھے سنبھالنے والے ہاتھ حیا شاہ زر کے تھے۔۔۔۔
جب جب میں روئی میرے آنسو پوچھنے والے دو مہربان ہاتھ حیا شاہ زر کے تھے۔۔۔۔۔
کوئی اگر بغیر سوچے میرے لئے حد سے گزر سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔
میں اپنا غصہ بلا وجہ کسی پر اتار سکتی ہو تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
کوئی ہے جو مجھ سے بغیر غلطی کے معافی مانگ سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کوئی اگر اپنی چادر اتار کر مجھے ڈھانپ سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔”
حورین کی آواز نم ہونے لگی اور حیا تو باقاعدہ آنسو بہا رہی تھی
“کوئی اگر بلا چوں چرا کے مجھ سے خاموشی سے تھپڑ کھا سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
تھپڑ کھانے کے بعد بھی میری غلطی پر کوئی معافی مانگ سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
میرے لیے گھنٹوں کوئی انتظار کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔
میرے لیے کوئی اپنی آخری سانس تک انتظار کر سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
میرے لیے اپنی شادی کے دن ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں کوئی کسی کا سر پھوڑ سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔۔
مجھے جنگ جیتانے کے لیے کوئی خود کو گولی مار سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔۔
میری زندگی بچانے کے لئے اگر کوئی دشمن سے میری زندگی کا پروانہ لا سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔”
حیا چونک گئی حورعین کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے
“تمہیں کیا لگا میں نہیں جانتی کہ حویلی سے وہ پیپر کون لایا تھا؟”
حیا نے گھور کر شاہ زر کو دیکھا
“انہیں مت گھورو انہوں نے نہیں بتایا ہے، کیا مجھے نہیں پتا کہ تم میرے لیے کس حد تک جا سکتی ہو؟”
حیا مسکرائی
” مجھے زخم لگنے پر کوئی درد محسوس کر سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
کوئی میری جان بچانے کے لئے خود کو موت کے منہ میں جھونک سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے ۔۔۔۔۔۔
دنوں تک خوار ہوتے ہوئے مجھے کوئی مجھے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بیماری میں اپنا آپ بھول کر کوئی میری تیمارداری کر سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔۔”
آنسو موتیوں کے مانند اس کا چہرہ بھیگو رہے تھے اور شدت جذبات سے حورعین کی آواز کپکپا رہی تھی
” پوری دنیا میں میری ایک آواز پر حاضر ہونے والا کوئی ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔۔
میری تنہائیوں کا ساتھی کوئی ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔
چاہے ساری دنیا مجھے ٹھکرا دے مجھے چھوڑ دے مگر ان حالات میں میری ڈھال بن کر کوئی میرے ساتھ کھڑے ہونے والا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔۔
ساری دنیا مجھ سے محبت کرنا چھوڑ دے مگر کوئی ہے جو ہر حال میں ہر صورت میں میری ہر خوبی ہر خامی کے ساتھ مجھ سے محبت کرے گا تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
جسے اپنی ہر چیز چھان پھٹک کر خریدنے کی عادت ہے بغیر کسی سوال کے اپنے جملہ حقوق کسی شخص کے نام کرنے کے لئے تیار ہو جائے صرف میری خواہش کی وجہ سے ایسا میرے لیے کوئی کر سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
میری ساری کمزوری اپنی ذات میں کوئی چھپا سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
میں روتے بلکتے اس کے پاس جاؤں تو وہ گلے لگا کر سب ٹھیک کر دینے کا یقین دلائے کوئی ایسا کرنے والا اس دنیا میں موجود ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔۔
اپنے مایوں والے دن سب سے چھپ کر صرف اسی لئے میرے ساتھ چل پڑنا کہ میں ڈری ہوئی ہوں ایسا کوئی کر سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے۔۔۔۔۔۔
صرف اور صرف حیا شاہ زر ہے ۔۔۔۔۔۔”
حورعین کی سسکی بندھ گئی جیسے جیسے وہ بول رہی تھی ایک تواتر سے سارے منظر یاد آرہے تھے
شانزل نے اسے ساتھ لگا کر تسلی دی حیا کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا وہ بھی سسکیوں کے ساتھ رو رہی تھی
لان میں زیادہ تر لوگوں کی آنکھیں ان کی دوستی پر نم تھیں
لمحے بعد حورعین نے پھر کہنا شروع
کیا کیا گنواؤں؟ رات کم پڑ جائے گی مگر تمہاری محبت بیان نہیں کر سکتی”
حورعین نے پھر سسکی لی
” رب کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت تم بھی ہو حیا، ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا حیا چاہے ساری دنیا تمہارے خلاف ہو میں تمہارے ساتھ کھڑی رہوں گی۔۔۔۔۔ یہ سات مہینے میں نے کیسے گزارے ہیں میں بتا نہیں سکتی کیونکہ میری حیا میرے پاس ہوتے تھے بھی میرے پاس نہیں تھی۔۔۔۔ تمہارے ہنسنے سے ہی تو میری زندگی میں رونق ہے۔۔۔۔ حیا حورعین کی زندگی کا سکون ہے۔۔۔۔ حیا حورعین کی زندگی کا ستون ہے، تمہارے بغیر میں خود کو بے آسرا محسوس کرتی ہوں ۔۔۔ تم کھلکھلاتی ہوئی، ضد کرتی ہوئی، نان اسٹاپ اور بلا تکان باتیں کرتی ہوئی، قلانچیں بھرتی، لڑتی جھگڑتی ہی اچھی لگتی ہو کیونکہ تم میرا چلتا پھرتا ریڈیو ہو۔۔۔”
کہنے کے بعد وہ کھلکھلا کر ہنسی
” لیکن جب یہ ریڈیو بند ہوتا ہے تو میری زندگی خاموش ہو جاتی ہے “
وہ پھر سے رونے لگی
“I never told you but today I want to say that hoor is also loves you…. I love you, I love you haya”
حیا روتے روتے ہنس پڑیی ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ حور نے اتنے کھلے انداز میں اپنے محبت کا اظہار کیا تھا
حیا نے اسٹیج پر چڑھ کر حور کے آنسو پونچھے اور گلے لگ گئی
” I love you to hoor, I love you”
آنسو تھے کہ بند ہی نہیں ہو رہے تھے حیا خود ہی الگ ہوئی
” بس بھی کرو خواہ مخواہ رلا دیا ، خود تو تم میک اپ کے بغیر اچھی لگو گی مگر تم نے رلا کر میرے میک اپ کا ستیا ناس مار دیا ہے”
حیا کی بات پر سب ہی ہنس پڑے
” ہاں بالکل پتہ چلا شاہ زر بھائی ڈر کر بھاگ گئے”
حیا نے زوردار دھمواکا اشعر کو لگایا
اشعر نے حورعین کے ہاتھ سے مائیک لیا
” لیڈیز این جینٹل مین۔۔۔۔ حور نے خواہ مخواہ اسے سر چڑھا لیا میں اب حقیقت واضح کر دوں
کسی اور کا غصہ مجھ پر کوئی اتار سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے
بیچ راستے میں میری چپلوں سے تواضع کوئی کر سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے
میری بیٹی کو گھنٹے بھر میں کوئی اپنا اسیر کر سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے
اور ہاں مجھے پنچنگ بیگ کی طرح کوئی دھو سکتا ہے تو وہ حیا شاہ زر ہے
اور یہ جو محترمائیں اتنا شدید قسم کا اظہار محبت کر رہی تھیں میں شرط لگا سکتا ہوں کہ ایسا اظہار محبت انہوں نے اپنے شوہر سے بھی نہیں کیا ہوگا کیونکہ ہمت ہی نہیں ہے “
اشعر نے تاک کر تیر مارا
“ہمت کی بات تو تم نہ ہی کرو اشعر احمد، تو خواتین و حضرات اتنی دیر سے جس کے بارے میں بات ہورہی ہے وہ میں ہی ہوں، حیا شاہ زر، حیا کے آگے جو یہ نام ہے نا شاہ زر بس یہی میرا اثاثہ ہے اور یہی میری خوش بختی، یہی مجھے عام سے خاص بناتا ہے، اسی نام نے مجھے فرش سے عرش پر لا بٹھایا ہے، شاہ زر جہانزیب جو ایک دنیا کی خواہش ہے وہ صرف میرا ہے یہی میرا سکون ہے۔۔۔۔۔ میں ایسی بیماری کے مریضہ ہوں جس کا نام تک مجھے یاد نہیں، میری بیماری یہی ہے کہ میں چیزیں بھول جاتی ہوں۔۔۔۔۔ آپ جو روزمرہ کے کام کرتے ہیں شولیس باندھنا، ڈبے کھولنا، دروازہ لاک کرنا، دروازہ کھولنا، گنتیاں یہ ساری چیزیں میں بھول چکی ہوں مگر مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے بلکہ اس بیماری کو علی الاعلان accept کرنے کا اعتماد مجھے میرے شوہر شاہ زر جہانزیب نے دیا ہے۔۔۔۔۔ میں کیوں کر اس پر شرمندہ ہوں بلکہ مجھے تو خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے جہاں عام شوہر ان حالات میں اپنی بیویوں کے سہارے بنتے ہیں مگر میرے شوہر شاہ زر جہانزیب نے کہا ہے۔۔۔ یہ میرا سہارا نہیں پنکھ بنیں گے۔۔۔ ہم ساتھ اڑیں گے۔۔۔۔۔ کیا یہ میری خوش بختی نہیں ہے ؟ بلکہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے۔۔۔۔ اسی بیماری کی وجہ سے میں نماز پڑھنا بھی بھول گئی مگر میری سب سے بڑی نعمت یہ ہے ایک دنیا کا مصروف ترین انسان شاہ زر جہانزیب اپنا ہر کام چھوڑ کر پانچ وقت گھر آتا ہے اور میں پانچ وقت کی نماز شاہ زر کی امامت میں پڑھتی ہوں کیا یہ میرے لئے کافی نہیں ہے؟ نماز کے بعد وہ پورے استحقاق اور ملائمت سے میری انگلیوں کی پوروں پر مجھے تسبیح پڑھاتا ہے اس وقت وہ میرا شاہ زرجہانزیب ہے اور میں اس کی حیا شاہ زر ۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں موم بن کر ان کے آگے پگھل جاؤں گی۔۔۔۔ اگر کبھی بھی پگھل بھی گئی تو مجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں میں جانتی ہوں شاہ زر جہانزیب اس موم کو پھر سے ایک سانچے میں ڈھال لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنی بیماری پر بالکل بھی شرمندگی نہیں ہے کیونکہ شاہ زر جہانزیب کا کہنا ہے کہ مجھ سے محبت کرنے کے لئے ایک ہی جواز کافی ہے کہ میں حیا ہوں بس۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی محبت کسی وجہ سے نہیں ہوتی اور جو کسی وجہ سے ہو وہ محبت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ شاہ زر جہانزیب محسوس کیے جانے لائق ہے اور میں نے شاہ زر شاہ زر جہانزیب کو پوری جان سے محسوس کیا ہے۔۔۔۔۔
I felt safe in his arm,
I felt purity in hi soul,,,,
love in his actions,
peace in his voice,
serenity in his smile,
world in his blue eyes,
And me?
I’M IN HIS HEART”
شاہ زر جہانزیب نئے سرے سے اس کی دیوانگی پر ایمان لے آیا۔
کئی مہمان اسے رشک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے اس طرح یہ تقریب اختتام کو پہنچی
.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمانوں کے جانے کے بعد سبھی گھر والوں نے کھانا کھایا
“مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے”
کھانے کے دوران حیا نے تقریبا سرگوشی میں شاہ زر سے کہا تھا
خالہ خالو تو سونے چلے گئے سب خوش گپوں میں مصروف تھے تب حیا کچن میں گئی تو شاہ زر خاموشی سے اٹھ کر اس کے پیچھے چلا گیا
حیا چولھے پر چائے چڑھا رہی تھی
“گھر میں اتنی ملازم ہے مگر تم ان کپڑوں میں بھی کچن میں کام کر رہی ہو “
“ملازم تو بہت ہے مگر کچن میرے ہی ذمے رہنے دیں اور ویسے بھی صرف چائے ہی تو پکانی ہے۔۔۔۔ آپ ذرا یہ برنر آن کر دیں میں بھول گئی اسے کیسے آن کرتے ہیں “
شاہ زر نے مسکرا کر برنر آن کیا پھر ایک کرسی گھسیٹ کر وہیں بیٹھ گیا
“کیا دیکھ رہے ہیں؟”
حیا چائے چڑھا پلٹی تو یوں خود کو تکتا پا کر پوچھ لیا
“اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں”
جواب بڑا ہی دلفریب تھا حیا مسکرائی پھر کچھ سنجیدہ ہو کر اس سے کہا
“مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے”
” بولو نا میں نے کب منع کیا ہے”
حیا چلتی ہوئی شاہ زر کے پاس آئی اور زمین پر دوزانوں ہو کر نیچے بیٹھ گئی
شاہ زر نے لمحے کو تعجب سے اسے دیکھا پھر اسے اٹھانا چاہا تب ہی حیا نے روک دیا
“مجھے کہہ لینے دین پہلے “
شاہ زر نے بغور اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا حیا نے گہری سانس لی اور گردن جھکا لی
“مجھے نہیں پتا یہ صحیح ہے یا غلط مگر یہ بات آپ کو پتہ ہونی چاہیئے ۔۔۔۔ عاطف نے۔۔۔۔ عاطف نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔