Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
وہ بھاگتے ہوئے حیا کے کمرے کی طرف آئی اور دھڑام سے دروازہ کھولا۔
حیا نے چونک کر حور کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھا اور ہانیہ سے کہا
“تم آج رادیہ بھابھی کے پاس سو جاؤ۔”
ہانیہ لمحے کی بھی دیر کیے بغیر وہاں سے چلی گئی۔
حیا فورا اٹھ کر حورعین کے پاس گئی دروازہ بند کیا اسکے ٹھنڈے پڑتے وجود کو تھام کر بیڈ پر بٹھایا۔
حورعین نے آنسو بھری نگاہیں اٹھائیں اور کہا
“سب ختم ہو گیا حیا، سب ختم ہو گیا، انھوں نے عادل یزدانی کی باتیں سن لی “
پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
لرزتے ہونٹوں سے حیا کو سب بتایا۔
“یا خدا! میں نے سب اپنے منہ سے کہا بہت تکلیف دہ ہے سب ، مجھے کہیں چھپا دو حیا، کہیں چھپا دو، وہ۔۔وہ بہت غصہ کریں گے اور۔۔۔۔۔ پلیز مجھے کہیں چھپا دو”
حیا نے کرب سے حورعین کو دیکھا کیسے کیسے جملے کسے جاتے تھے تنگ آکر حورعین نے یونیورسٹی آنا ہی چھوڑ دیا ۔
بہت تکلیف دہ تھا سب، وہ تو حورعین کا ظرف تھا کہ وہ اتنا سب برداشت کررہی تھی۔
“تم چپ کر کے لیٹو ، کچھ نہیں ہوگا میں ہوں تمہارے ساتھ”
ابھی تو شانزل نے حورعین سے رویہ ٹھیک کیا تھا۔ اسے اپنی ذات ، اپنا نام بہت عزیز تھا، اور وہ اسکے نام پر صرف ایک داغ تھی۔ اب نجانے وہ کیا کر ڈالے حورعین اتنے دنوں بعد پھر روتے روتے سوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حورعین اٹھی تو حیا پہلے ہی جاگ رہی تھی۔
“تم فریش ہو کر نماز پڑھو، میں ناشتہ لے کر آتی ہوں”
“نہیں ،مجھے بھوک نہیں ہے”
حورعین نماز پڑھ کر اٹھی ہی تھی کہ ہانیہ کمرے میں داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں ویسے ہی شاپر تھے جو شاپنگ کرکے شانزل لے کر آیا تھا
” حور آپی یہ بھائی نے دیا ہے اور کہا ہے کہ چھ بجے تک شہر کے لئے نکلنا ہے آپ تیار ہوجائیں”
حورعین نے بھاری دل کے ساتھ شاپر لے لیا کپڑے بدل کر چادر لی اور حیا سے کہا
“فکر نہیں کرو میں ٹھیک ہوں خاموشی سے شادی کر لینا کوئی واویلا مچانے کی ضرورت نہیں ہے”
” ہاں میں سمجھ گئی چلو دیر ہو رہی ہے”
کہتے ہوئے حیا نے چادر اوڑھی۔
“کیا مطلب ہے چلو؟”
” دیکھو حور نہ ہی مجھ میں اور نہ ہی تم میں ہمت ہے کہ بحث کریں اس لیے چپ کر کے چلو”
حورعین کو پتا تھا اگر حیا نے سوچ لیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جائے گی تو حیا سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے خاموشی سے چلنا شروع کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل گاڑی کے پاس کھڑا انتظار کر رہا تھا حیا پہلے چلتے ہوئے اس کے پاس آئی
” بھائی مجھے تھوڑا کام ہے آپ مجھے بھی ساتھ لے جائیں گے”
” بیٹھو”
حیا پیچھے بیٹھ گئی اور حورعین آگے۔
گاڑی راستے پر رواں دواں تھی اور گاڑی میں گہری خاموشی۔ حیا رات بھر جاگنے کے باعث سو گئی تھی اور حورعین کھڑکی کی طرف منہ کیے اپنے آنسوؤں پر بند باندھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
آتے وقت کتنا حسین سفر تھا اور یہ سفر۔۔۔۔اف۔۔۔
” بھائی کتنا وقت لگے گا ؟”
“بس پندرہ منٹ تک پہنچ رہے ہیں ویسے تمہیں کیا کام ہے؟”
” وہ آج یونیورسٹی میں اینول فنکشن ہیں”
کچھ نہیں سوجھا تو یہی بتا دیا حالانکہ یہ سچ تھا
“ہاں مجھے پتا ہے”
” ابھی آپ مجھے ہوسٹل چھوڑ دیجیے گا “
“ٹھیک ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کو ہاسپٹل چھوڑنے کے بعد شانزل نے گاڑی آگے بڑھا دیں تبھی حورعین کو میسج موصول ہوا
‘ کچھ بھی ہو تو فورا کال کرنا
تمہارا چلتا پھرتا ریڈیو
حورعین نے گہری سانس بھر کر موبائل اندر رکھا
یا اللہ اب کیا ہوگا وہ شانزل کی طرف سے کوئی اندازہ نہیں لگا پا رہی تھی۔
شانزل نے گاڑی شانزل انڈسٹریز کے سامنے روکی شانزل باقاعدہ آگے چل رہا تھا اور حورعین اس سے دو قدم پیچھے سر جھکائے حورعین نے نظر اٹھا کر اس کی پشت کو دیکھا
وہ آج بھی اسے چاند جتنا دور لگا اسے خود پر غصہ آ رہا تھا وہ کیوں بھول گئی کہ شانزل تو کیا کوئی بھی لڑکا اسے قبول نہیں کرے گا وہ تصاویر اس کے کردار پر سوالیہ نشان تھیں۔
شانزل پوری شان سے چلتا ہوا کیبن میں گیا حورعین کی ہمت ہی نہیں ہوئی بیٹھنے کی۔
شانزل نے انٹر کام اٹھا کر رفیق کو فورا کیبن میں پہنچنے کا حکم صادر کیا رفیق بوتل کی جن کی طرح حاضر ہوا
” ایگریمنٹ نکالو”
رفیق نے فورا عمل کیا اور باہر چلا گیا
شانزل نے وہی ایگریمنٹ نکالا جو حورعین نے سائن کیا تھا
” کتنے دن باقی ہے آپ کو یاد ہے؟”
وقفے کے بھی دیر کیے بغیر حورعین نے جواب دیا
“19 دن”
پھر شانزل نے ڈراور میں سے لائٹر نکالا اور ایگریمنٹ کو لائٹر سے نکلنے والے شعلے کی نذر کیا یعنی یہ 19 دن بھی انتظار نہیں کریں گے یا اللہ۔
اس کے بعد حورعین کی سوچیں اور دماغ ماؤف ہو گیا شانزل باہر نکلا اور گاڑی پھر سے اپنے راستے پر رواں دواں تھی شانزل نے گاڑی یونیورسٹی کے باہر روکی
“اندر جائیں”
یہ وہی جگہ تھی جہاں اسکی عزت، ذات اور کردار کے پرخچے اڑائے جاتے تھے۔
حورین کے آنکھ سے آنسو گرے اس نے آنسو صاف کیے چادر ٹھیک کر کے باہر نکل گئی
سب اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح چہ میگوئیاں کرنے لگے وہ خاموشی سے چل رہی تھی۔جب کسی نے اس کا ہاتھ تھاما حورعین نے خالی خالی نظر اٹھا کر دیکھا سامنے حیاتھی۔
” کیا ہوا؟”
حورین نے نفی میں سر ہلایا یعنی کچھ نہیں
” اچھا چلو یہاں سے “
حورعین نے پھر سے نفی میں سر ہلایا
“کیوں بھائی نے کہا ہے کیا اندر رہنے؟
اس مرتبہ حورعین نے اثبات میں سر ہلایا حیا نے اسے دیکھ کر گہری سانس خارج کی اور اسے لئے آڈیٹوریم میں آ گئی دونوں نے کرسیاں سنبھالی۔
حورین کو پتہ ہی نہیں چلا کب پروگرام سٹارٹ ہوا کب کون کون آیا مگر جب چیف گیسٹ کا نام اناؤنس ہوا حورعین چونک تو گئی مگر نظر اٹھا کر نہیں دیکھا
چیف گیسٹ اور کوئی نہیں بلکہ شانزل ابراہیم تھا۔
اسے پتہ ہی نہ چلا کتنی دیر گزر گئی ہے وہ ایک ہی زاویہ میں کب سے بیٹھی ہے۔
فنکشن کے بعد ایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع ہوا
” اب آخری ایوارڈ ہے جوکہ انجینئر آف د ایئر کا ہے”
اینکر اپنی جون میں کہہ رہا تھا
“جس کو پیش کرنے کے لئے میں شانزل ابراہیم صاحب کو آواز دیتا ہوں “
شانزل ٹرافی لیے اسٹیج پر چڑھا اینکر نے پھر کہا
“اور یہ ایوارڈ کا اعزاز جاتا ہے وہ جہانزیب کو”
حورین ابھی سر جھکائے بیٹھی تھی
پھرحورعین کے کانوں میں شانزل کی آواز ٹکرائی
“حورعین جہانزیب نہیں حورعین شانزل ابراہیم”
حورعین نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا سبز آنکھیں، بھوری آنکھوں سے ٹکرائی
گر یہ آنکھیں تیرے دل تک رسائی دے
ان آنکھوں میں کھونے کو جی چاہتا ہے
حورین کی آنکھیں ایک بار پھر اشکبار ہوئی مگر یہ آنسو تشکر کے تھے۔ شانزل اسے دیکھ کر مسکرایا اور میں سبھی ساکت ہوگئے۔
“آیئے بیگم صاحبہ”
شانزل نے شرارت سے کہا
اتنے بڑے انسٹیٹیوٹ کا فنکشن تھا جس میں بڑی بڑی ہستیاں تھیں اور اسی وجہ سے پریس بھی موجود تھی۔
حورعین کیا اٹھتی اس کی تو سانس بھی رکھی ہوئی تھی حیا نے اسے ہلا کر شانزل کی طرف متوجہ کیا اس نے آنکھیں جھپک کر نمی کو اندر دھکیلا اور شانزل کی طرف بڑھنے لگی یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس نے حورعین کو اپنی بیوی ہونے کا مان دیا تھا وہ بھی پوری دنیا کے سامنے حورعین کو لگا وہ آسمانوں میں ہے۔
شانزل نے آگے بڑھ کر اپنا ہاتھ حورعین کے آگے کیا حورعین نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر شانزل کو وہ قاتلانہ مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
ہائے وہ ایک نظر تیرا مسکرا کر مجھے دیکھنا
اس مسکراہٹ پر خود کو وارنے کو جی چاہتا ہے
حورین نے وہ ہاتھ تھام لیا شانزل نے اسے ٹرافی دی مگر حورعین کے لئے یہ ٹرافی کچھ معنی نہیں رکھتی تھی جس کے لیے اس نے اتنے سال محنت کی تھی بلکہ
حورعین کے لیے ٹرافی تو وہ نام تھا
“حورعین شانزل ابراہیم”
شانزل اور حورعین باہر نکلے تو میڈیا نے انہیں گھیر لیا اور طرح طرح کے سوال کرنے لگے
سر یہ۔۔۔ سر وہ۔۔۔۔۔
“سر آپ کی شادی کب ہوئی اور آپ نے ابھی تک چھپا کر کیوں رکھی؟”
“میری شادی کو ہوئے دو مہینے اوپر ہوئے ہیں اور یہ کوئی گناہ نہیں ہے جو میں اسے چھپا کر رکھوں، ویسے بھی یہ میری پرسنل لائف ہے اور مجھے قطعی پسند نہیں کہ کوئی بھی میری پرسنل لائف میں interfere کرے، مگر میرے پاس اپنی پروفیشنل لائف کے بارے میں ایک نیوز ہے”
وہ لفظوں کے کھیل میں ماہر تھا۔اس نے اپنی طرف سے بات کلیئر کر دی تھی اور پھر اس بارے میں اور کوئی سوال نہ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی اور بہت ہی صفائی سے موضوع تبدیل بھی کر دیا۔
“کیا سر؟”
” شانزل انڈسٹریز کو ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا پروجیکٹ ملا ہے جس کا کریڈٹ اس کی ہیڈ یعنی مسز حورعین شانزل ابراہیم کو جاتا ہے”
“تو آپ کی مسز آپ کو بزنس میں جوائن کریں گی؟” حورعین آنکھیں پھاڑے شانزل کو دیکھ رہی تھی
” کریں گی نہیں، یہ آلریڈی مجھے جوائن کر چکی ہیں I am lucky to have Mrs Hoorain in my life اور ایک بات مجھے کچھ ناگوار باتیں سننے کو ملی ہیں اور اگر دوبارہ ایسی کوئی بات میرے کانوں تک آئی تو میں وہی کروں گا جو شانزل ابراہیم کو کرنا چاہیے ، میں حورعین شانزل ابراہیم کی طرف اٹھنے والی آنکھ پھوڑنے اور حورعین شانزل ابراہیم کے لیے بد فعالی کرنے والی زبان گدی سے کھینچنے میں ایک لمحہ بھی نہیں سوچوں گا، خیر۔۔۔۔۔۔ میں کہہ رہا تھا میں جلد ہی اس پروجیکٹ کو celebrate کروں گا”
یہ اعلان ( آپ لوگ دھمکی بھی کہہ سکتے ہیں ) تھا کہ حورعین شانزل ابراہیم تک پہنچنے سے پہلے شانزل ابراہیم کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسکے لہجے میں اتنی تپش تھی کے وہاں موجود رپورٹرز کی پیشانی سے پسینا پھوٹ پڑا۔
اپنی بات ختم کرنے کے بعد اس نے حورین کا ہاتھ تھاما اور رپورٹرز کے جھرمٹ کو چیرتا ہوا آگے نکلنے لگا۔ حورین اس کے مضبوط ہاتھ میں قید اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔ وہ ایک خوبصورت ہاتھوں والا مرد تھا۔
ہر لڑکی اپنے لیے لڑکے نہیں خوبصورت ہاتھ والے مرد کی خواہش کرتی ہے۔ لڑکے تو کئی ہوتے ہیں مرد کوئی کوئی بن پاتا ہے۔ایک مرد کے خوبصورت ہاتھ کیسے ہوتے ہیں؟ خوبصورت ہاتھ وہ ہوتے ہیں جو اپنی بیوی کے گرد تحفظ کا حصار باندھ سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے حورعین نے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا اور اسے دیکھ کر شانزل گھبرا گیا
“یار آپ کتنا روتی ہو “
شانزل نے اس کی طرف اپنا رومال بڑھایا
” آپ نے مجھے کتنا ڈرا دیا تھا “
“میں نے کب ڈرایا میں تو صاف اشارہ دیا تھا ایگریمنٹ جلا کر”
“مجھے اشارے سمجھ ہی نہیں آتے”
حورعین نے معصومیت سے کہتے ہوئے آنسو صاف کیے۔
” اچھا یعنی اب مجھے صاف صاف بات کرنی ہوگی”
” بالکل یہ اشارے سمجھ ہی نہیں آتے ہیں”
” ٹھیک ہے پھر حیا کی شادی سے فارغ ہو جائیں پھر اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کریں گے”
ہمیشہ کی طرح حورعین نے موضوع تبدیل کر دیا
” یہ حیا کہاں رہ گئی ؟”
“وہ دیکھو آ رہی ہے “
حیا کھڑکی کے پاس آئی۔
“بھائی آپ لوگ جائیں میں اشعر کو بلا لیتی ہوں “
“حیا چپ کر کے بیٹھو شام سے پہلے پہنچنا ہے”
جواب حورعین کی طرف سے تھا
حیا منہ بناتے ہوئے بیٹھ گئی
“مجھے کیا میں نے سوچا تم لوگوں کو تھوڑی پرائیوسی دے دوں”
“تم نے گھر بتایا تھا “
“مرنا تھا کیا دادی کے ہاتھوں سے ہانیہ کو کہا تھا کہ سمبھال لینا ویسے تو مجھے سوچ سوچ کر مزہ آ رہا ہے کہ ہانیہ نے دادی سے کتنی ڈانٹ سنی ہوگی “
حیا تو حیا ہے مگر جیسے جیسے گھر کے قریب آرہا تھا حیا کو دادی سے خوف آ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لان میں ہانیہ جلے پیر کی بِلی بنی چکر کاٹ رہی تھی اور اشعر لان کی دوسری طرف اسٹیج سجا رہا تھا۔
ہانیہ نے حیا کو دیکھا سکون بھری سانس خارج کی پھر غصے سے پاؤں پٹختی اندر چلی گئی اشعر حیا کے پاس آگیا
“حیا کی بچی جان نکال دی تم نے، بتا کر نہیں جا سکتی تھی فون بھی آف آ رہا تھا”
” ارے تھم جاؤ تم چڑھے ہی جا رہے ہو بھائی اور حور کے ساتھ گئی تھی”
“مگر بھائی نے تو صرف ان دونوں کے جانے کا بتایا تھا اور تم بتا نہیں سکتی تھی تمہارے ابو کی بیوی نے اندر تمہارے بارے میں کیا کیا خبر نشر کی ہے تمہیں پتہ بھی ہے”
“دفع کرو انہیں، مجھے جانے دو میں اپنے روٹھے ہوئے محبوب کو مناوں “
حیا کا اشارہ ہانیہ کی طرف تھا۔
“تمہارے جانے کے بعد جو ڈانٹ سنی ہے اس نے دادی سے اللہ معاف کرے، میں بھی تھوڑا زیادہ ہی بول گیا سارے کام کر رہی ہے مگر منہ پر تالہ لگایا ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے حیا کو کافی ڈانٹ لگائی مگر اس نے ایک کان سے سن کر دوسرے کان کو بھی زحمت نہیں دی اسی کان سے نکال دی۔
پھر ہانیہ بھی تھوڑے نخرے دکھانے کے بعد مان گئی اب حیا تیار ہو رہی تھی اور حورعین اپنے کمرے میں گئی شانزل فون پر کسی سے بات کر رہا تھا
حورعین کو دیکھ کر فون رکھا اور اسکی طرف آیا
حورعین شاپر نکال کر دیکھ رہی تھی کہ آج کیا پہنے
تبھی شانزل بول پڑا۔
ہر ڈریس پر فنکشن کی چِٹ لگی ہوئی ہے”
حورین نے مایوں کا جوڑا نکالا تو شانزل نے آگے بڑھ کر اس کے لیے شاپر بیڈ سے اٹھایا۔
“یہ اس کے اوپر کی جویلری ہے جلدی سے پہن کر تیار ہو جائیں میں ذرا آتا ہوں کہ کر چلا گیا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل واپس آیا تو حورعین اسے کہیں نہیں دکھائی دی وہ تیارہونے چل دیا جب وہ نیچے آیا تو اسے وہ نظر آئی وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا
وہ ہانیہ کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی وہ اس کے لائے ہوئے پیلے گھیردار فراک جس پر آئینے کا نفیس کام کیا ہوا تھا اور پھولوں کی جویلری میں کھلتا ہوا پھول لگ رہی تھی۔
حورعین کی نظر شانزل پر پڑی تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے نظریں چرا لیں۔
حورین نے چپکے سے شانزل کو دیکھا آج اس نے پہلی بار اسے پٹھانی کرتے میں دیکھا تھا وہ سفید رنگ میں بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔
اسی طرح چپکے سے ماشاءاللہ کہا پھر وہ ہانیہ اور اشعر کی طرف متوجہ ہوگئی جو پھر کسی بات پر لڑ رہے تھے۔
“یہ جو تم روز آرٹس کونسل جاتی ہوں وہاں سے کچھ سیکھ بھی جاتی دو چار رنگ منہ پر بھی لگا لیتی تو ڈھنگ کی نظر آتی”
ہانیہ نے اشعر کو ایک زبردست نھوری سے نوازا منہ سے کچھ کہا نہیں لیکن دل میں یہ خیال آیا تھا کہ کہیں میں سچ میں تو بری نہیں لگ رہی۔
اشعر چپ نہیں ہوا اس نے ہانیہ کو اور اکسایا تاکہ وہ کھری کھوٹی ہی سنائی مگر کچھ کہے تو
“میں بات کروں گا بھابھی کی امی یعنی تمہاری امی سے کہ یہ آرٹس کونسل چھڑوا کر گھر بیٹھائے، چڑیل جیسی لگنے لگی ہو”
ہانیہ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ چینخ اٹھی “میں تمہاری جان لے لوں گی”
” ہاں میں تو جیسے تمہیں دینے کے لیے بیٹھا ہوں” اشعر نے سکھ کا سانس لیا کم از کم اس کی چپ تو ٹوٹی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدید اب بھی حور کے پیچھے تھا حیا بظاہر دولہن تھی مگر اس کا منہ ہی بند نہیں ہو رہا تھا سب نے مل کر رسم کی اس طرح یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔
شانزل کمرے میں آیا تو پھولوں کی خوشبو نے اس کا استقبال کیا شانزل نے دیکھا حورعین نماز پڑھ رہی تھی وہ چینج کرنے چلا گیا۔
جب وہ باہر نکلا تو اس کی نماز ختم ہو چکی تھی اب وہ اپنے لئے کپڑے نکال رہی تھی تب دروازے پر دستک ہوئی۔سامنے رادیہ بھابھی حدید کے ساتھ تھیں
” حور یہ بہت ضد کر رہا ہے تمہارے پاس سونے کے لئے میں نے بہت سمجھا یا مگر مان ہی نہیں رہا”
“کوئی بات نہیں بھابھی اسے یہیں چھوڑ دیں”
جواب شانزل کی طرف سے آیا تھا حدید تو کھل کر مسکرایا اور حور کا ہاتھ تھام لیا رادیہ بھابھی سر ہلاتی ہوئی چلی گئیں۔
“چلو حدید ہم حیا پھوپھو کے کمرے میں سوئیں گے” اسکی بات سن کر شانزل مسکرایا وہ تو بہانے ڈھونڈ رہی تھی یہاں سے جانے کے
“نہیں حدید یہیں سو جائے گا”
“آپ کو تکلیف ہوگی”
” مجھے تکلیف نہیں ہوگی آپ بے فکر ہو جائیں”
حورعین نے حدید کو کہا
“میں چینج کرکے آتی ہوں”
“حور آپ ایسے ہی رہیں نا یہ فلاور آپ بہت اچھے لگ رہے ہیں حدید نے تو شانزل کے دل کی بات کی تھی۔
حورعین مسکرائی اور اسے لئے بیڈ کی طرف بڑھ گئی شانزل بھی بیڈ پر نیم دراز تھا
“آپ کو پتہ ہے، حور مجھے آپ سے زیادہ پسند کرتی ہے “
حدید نے شانزل کو دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا اس کی بات پر شانزل نے کہتا قہقہہ لگایا اور اس پر حورعین کی دھڑکن بے قابو ہوئی
حدید نے لیٹ کر حورعین سے کہا تھا
“لیٹ جائیں حور “
“نہیں میں ٹھیک ہوں چلو آنکھیں بند کرو اور سو جاؤ”
“لیٹ جائیں، اب آپ کا کیا رات بھر جاگنے کا ارادہ ہے اگر ایسا ہے تو میں حدید کو رادیہ بھابھی کے پاس چھوڑ آتا ہوں پھر مل کر جاگیں گے”
“مجھ ۔۔۔ مجھے نیند آرہی ہے”
حور فورا لیٹ گئی اور دل کی دھڑکن کم کرنے لگیں اف یہ شخص تو۔۔۔۔۔۔ سوچ ہی سکی پھر حدید کو لے کر بیڈ ایک دم کنارے پر لیٹ گئی شانزل نے دیکھا وہ سو گئی۔
شانزل نے دیکھا وہ سو گئی ہے جب حورعین سب بتا کر گئی کیا کیا ہوا تھا تو شانزل کو بہت شاک لگا اس کے کانوں میں خالو کی آوازگونج رہی تھی۔
“ایسے واقعے کے بعد لوگ لڑکی کا جینا حرام کر دیتے ہیں “
وہ اس کی تکلیف کا اندازہ اس کی آنکھوں سے لگا سکتا تھا نہ جانے اس نے اتنا سب کچھ اکیلے کیسے سہا ہوگا۔
کیا تھی وہ؟ صبر کا پیکر یا کوئی ایسی نعمت جو خدا نے اسے نہ جانے کن نیکیوں کے بدلے ادا کی تھی۔
وہ تو اس کی دھڑکن بن کر دل میں دھڑکتی تھی تو وہ کیسے اس کو اکیلے چھوڑ دیتا اب سب سے ضروری تھا کہ شانزل اسے اپنا نام دے۔
اس لیے اس نے آج پوری دنیا کے سامنے اسے اپنا نام دیا۔ کتنی الگ ہے یہ لڑکی، چاہے تو پہلے ہی بتا سکتی تھی کہ شانزل ابراہیم اس کا شوہر ہے مگر وہ سب کچھ برداشت کر رہی تھی صرف اس لیے کیونکہ شانزل نے اسے قبول نہیں کیا تھا یکلخت شانزل ابراہیم کا دل چاہا وہ اسکے چاندنی لٹاتے چہرے پر محبت کی مہر ثبت کرے اور اسکے وجود کی نرماہٹ کو بانہوں میں بھر کر محسوس کرے اس نے اپنے دل کو بڑی مشکل سے سمجھایا نہیں تو حورعین نے یقیناً بے ہوش ہو جانا تھا اتنا سمجھانے کے باوجود شانزل ابراہیم کا دل بے ایمان ہوا جا رہا تھا
وفاؤں کے بادل سے محبت جھوم کر برسے
یوں تجھ پر ٹوٹ کر برسنے کو جی چاہتا ہے
اس کی آنکھوں کی تپش ہی تھی کہ حور نے کسمسا کر آنکھیں کھول دی۔
اور اٹھ کر چینج کرنے چلی گئی۔
جب باہر نکلی تو شانزل کو خود کو تکتے پایا
“کیا ہوا؟”
“میں دیکھ رہا ہوں آپ یہاں آکر مجھ سے غافل ہو گئیں ہے”
ایسا تو نہیں ہے”
کہہ کر حورعین سونے لیٹ گئی
“، ہم یہاں دو رات رکے مگر نہ آپ نے میری گھڑی نکالی نہ مجھے کمفرٹر اوڑھایا”
کوئی بم تھا جو حورعین کے سر پر پھٹا تھا یعنی وہ جانتا تھا۔
اس نے گھبرا کر چہرا کمفرٹر سے باہر نکالا شانزل نچلا ہونٹ دانتوں دبائے اپنی مسکراہٹ روکنے کی کوشش کر رہا تھا حورعین نے فوراً سٹپٹا کر کمفرٹر سے چہرا چھپا لیا۔
“میں سو گئی ہوں”
حورعین کی اس قدر معصومیت پر شانزل نے زوردار قہقہہ لگایا۔
“ارے حدید اٹھ جائے گا”
حورعین نے یاد دلایا
“اچھا نہیں جگاتا مگر آپ اپنا روز والا کام انجام دیں”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا”
حورعین اس قدر خفت سے سرخ ہو رہی تھی جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔
“آپ کا پالا شانزل ابراہیم سے پڑا ہے، چلیں جلدی کریں”
حورعین اٹھ کر بیٹھ گئی شانزل نے گھڑی والا ہاتھ آگے کیا
“آپ آنکھیں تو بند کریں “
شانزل نے آنکھیں بند کر لی۔
حورعین نے کپکپاتے ہاتھوں سے گھڑی نکالی اور کمفرٹر اوڑھانے لگی تبھی شانزل نے آنکھیں کھول دی ان بھوری آنکھوں میں مقابل کو تسخیر کر لینے کا ہنر تھا حورعین کا دل بھی بے اختیار ہونے لگا۔ اسے لگا اس نے اگر ایک لمحہ اور ان آنکھوں میں دیکھا تو یہ آنکھیں اسے تسخیر کر لیں گی۔
وہ اپنے بے اختیار ہوتے دل سنبھالتے ہوئے کمفرٹر میں دٗبک گئی۔
بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری
