Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
وہ تمام رعنایاں سمیٹے ہال میں داخل ہو رہی تھی گرے رنگ کے گاؤن میں سلور یعنی چاندی کے تاروں کے کام سے مزین تھا سالیٹیر ڈائمنڈ اور پلاٹینیم کے سیٹ، بنیدیا، چوڑیوں اور مہندی بھرے ہاتھ سمیت سہج سہج کر قدم اٹھاتی اسٹیج پر آ رہی تھی ریڈ لپسٹک اور بیوٹیشن کی مہارت سے حورعین اور نکھر گئی تھی
جیسے جیسے وہ قدم بڑھاتی شانزل کی دھڑکن بھی بے ربط ہوتی جا رہی تھی شانزل بے اختیار اپنے بے قابو ہوتے دل پر ہاتھ رکھا
شانزل نے ایک ہاتھ حورعین کے سامنے کیا
حورعین نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر ایک مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ تھام لیا اور شانزل کو لگا کسی نے اس کی ہتھیلی پر ہفتے اقلیم کی دولت رکھ دی ہو اسکی خوشی سے چمکتی آنکھیں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں۔
“السلام علیکم”
شانزل نے اسٹیج پر بیٹھنے کے بعد سلام کیا
حورعین نے ایک نظر اسے دیکھا وہ آج بھی ویسا ہی تھا بے انتہا وجیہہ۔ گرے کوٹ پینٹ اور وائٹ ٹکسیڈو شرٹ، اسکی شخصیت جیسی انمول گھوڑی اور نفاست سے سیٹ کیے ہوئے بال اس کی وجاہت میں چار چاند لگا رہے تھے۔
اس کی بھوری آنکھیں آج بھی نمایاں تھی ویسی ہی شیر سی چمکتی آنکھیں جس نے نہ صرف حورین کی دل کی دنیا جیتی تھی بلکہ اس پر بڑے وثوق کے ساتھ حکمرانی بھی کر رہا تھا حورین نے صرف سر کے اشارے سے جواب دیا اور گردن جھکالی
شانزل قدرے اس کی طرف جھکا اور سرگوشی کی
“تعریف فی الحال نہیں کروں گا کیوں کہ یہ سب معاملات میں نے بعد کے لئے رکھے ہیں جس پر میں تفصیلی گفتگو کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں مگر حجلہ عروسی میں “
حورین نے سوچا یہ شخص بالکل نہیں بدلنے والا اتنی بڑی بڑی بات کرنے کے بعد ایسے ریئکٹ کرتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو حالانکہ حورعین کے رخسار فوراً سرخ ہوئے تھے۔
وہیں شاہ زر جہانزیب بھی کسی سے کم تھوڑی تھا وہ نیوی بلو کلر کے کوٹ پینٹ، ٹکسیڈو وائٹ شرٹ اور ہم رنگ آنکھوں سمیت چھایا ہوا تھا ہر نظر پلٹ کر اسے ضرور دیکھتی حیا بھی رائل بلو ساڑھی میں بھری بھری چوڑیوں اور مہندی میں دمک رہی تھی اگر کچھ خاص تھا تو اس کے چہرے کی چمک۔
آج کا فنکشن بہت پر سکون تھا پتا نہیں کون سے رشتہ دار جو حورعین کو یاد بھی نہیں تھے وہ آ کر اسے دعائیں دے رہے تھے اشعر ہانیہ حدید اور حیا کی وجہ سے ماحول بہت خوشگوار تھا۔
شانزل کے خالہ خالو کی خوشی دیکھنے والی تھی حیا نے اس منظر کو قید کرنا چاہا سب اتنے خوش تھے جیسے کوئی ابر رحمت بن کر برس رہا ہو
تب ہی رخصتی کا شور اٹھا اور حورعین شاہ زر کے گلے لگ کر جو روئی کے ہر آنکھ اشکبار ہو گئی وہ دس سال کی تھی جب وہ بھیانک رات آئی اس کے بعد اس کا سب کچھ شاہ زر ہی تھا اس نے اس کے انتظار میں قیامت سے گیارہ سال گزارے تھے شاہ زر نے بھی اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے اس کے پاس آیا تھا وہ حقیقتاً حور کو اپنی بیٹی مانتا تھا
وہی ایک واحد حقیقی رشتہ تھا اس کے پاس دونوں ایک دوسرے کو بے انتہا محبت کرتے تھے تو یہ گریاوزاری تو ہونی ہی تھی حورعین کو سینے سے لگائے بہت ہی کڑے ضبط کے مراحل سے گزر رہا تھا انہیں دیکھ کر حیا کی بھی آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے ایک تو حورین کل سے ہنی مون پر جانے والی تھی نہ جانے کب تک وہ اس کی شکل نہ دیکھ پائے اور کب تک اس کے آواز نہ سن پائے
شانزل کے خالہ خالو مسلسل حورعین کو تسلی دے رہے تھے
شانزل کو زور دار دھچکا لگ گیا جب حورعین نے کہا “شاہ مجھے نہیں جانا کہیں بھی، آپ کے پاس ہی رہنا ہے مجھے چھپالیں کہیں”
“نہ بابا بالکل بھی نہیں، تمہیں میرے ساتھ چلنا ہی ہوگا ورنہ میں تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا میں کہہ دیتا ہوں “
شانزل کے لہجے میں حورین کو کھو دینے کا خوف تھا حورین نے جھٹکے سے اسے دیکھا تو سبھی نے قہقہہ لگایا لیکن حورین کا رونا بند نہیں ہو رہا تھا بی اماں سے مل کر بھی بہت روئی آذر نے بھی دعائیں دیں
پھر حیا کے پاس آئی سب سے پہلے ہی حیا نے اس کے آنسو پونچھ کر حورین کے کان میں سرگوشی کی
جس پر حورین نے چونک کر الجھے انداز میں حیا کو دیکھا پھر جب بات سمجھ آئی تو وقت اور موقع کو بھلا کر رخساروں کے ساتھ حیا کی پیٹھ پر ایک دھموکا جڑا
“ہائے ظالم!!!”
حیا کی دہائی پر حورعین مسکرائی پھر قریب جا کر حیا کے کان میں سرگوشی کی جس پر حیا کھلکھلا کر ہنس پڑی
شانزل نے کہا
“دیکھا ایسے ہی ہوتا ہے جب یہ دونوں ملتی ہیں تو آس پاس کی دنیا بھلا دیتی ہیں”
” تم جیلس ہو رہے ہو”
شاہ زر نے تعجب سے کہا
” نہیں شاہ زر بھائی جیلس تو حیا ہوتی ہے یہاں تک کہ حور کے معاملے میں وہ حدید سے بھی خار کھاتی ہے”
جواب اشعر کی طرف سے تھا
اشعر شانزل کی طرف متوجہ ہوا تھا
“ویسے نہ جانے کیوں آپ کے معاملے میں صبر کر لیتی ہے”
پھر بآواز بلند کہا
“حیا تم کیوں رو رہی ہو اپنی رخصتی پر تو ایک آنسو نہیں گرا اب سمندر بہا رہی ہو”
اشعر نے حیا کو چھیڑا
“اب اگر تم نے منہ بند نہیں کیا تو اسی سمندر میں ڈبو کے تمہیں مار دوں گی”
وہ حیا تھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتی تھی
اسی طرح حورین قرآن کے سائے میں رخصت ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین بہت تھک گئی تھی مگر اس وقت ہو حجلہ عروسی میں بیٹھے دل دھڑک دھڑک کر باہر آنے کو مچل رہا تھا
فردوسِ بریں اس کا ہی تعمیر کیا ہوا تھا مگر ہر چیز پر شانزل ابراہیم کا راج تھا بالکل اس کے دل کی طرح۔
تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ داخل ہوا حورعین کا جھکا ہوا سر مزید جھک گیا وہ اس کے سامنے بیٹھا تھا پھر ایک ہاتھ بڑھا کر حورعین کا ہاتھ تھاما حورعین کو لگا اس کا دل ہتھیلی میں دھڑکنے لگا ہے
“میرا بس چلتا تو منہ دکھائی میں پوری دنیا تمہارے قدموں میں رکھ دیتا لیکن وہ بھی کم تھی مگر میں خود کو تمہارے حوالے کرتا ہوں آج سے شانزل ابراہیم اور اس سے جڑی ہر چیز تمہاری”
اتنے مان سے کہے جملے پر حورین کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے
” اچھا بابا رو مت میں تحفہ لایا ہوں”
حورعین مسکرائیں
” پہلے چہرہ تو دکھاؤ یہ سر نیچے کیے بیٹھی ہو” شانزل کی بات پر حورعین نے سر مزید نیچے جھکا لیا
“اف۔۔۔۔ تمہاری ادا مار ڈالے گی”
کہتے ہوئے شانزل نے ایک مخملی ڈبی نکالی اس میں چمکتا ہوا لاکٹ تھا ہارٹ شیپ کا جس پر ایچ اور ایس ڈائیمنڈ سے لکھا ہوا تھا
” May I”
وہ اجازت مانگ رہا تھا حورعین نے جھکے سر کے ساتھ اجازت دی صرف اثبات میں سر ہلایا
شانزل نے آگے بڑھ کر لاکٹ پہنایا
“تم کیا زبان گھر چھوڑ کر آئی ہو”
شانزل مسلسل اسے چھیڑ رہا تھا
“اب تو منہ دکھائی بھی دے دی اب تو منہ دکھاؤ”
حورعین نے ایک نظر شانزل کو دیکھا پھر سر نیچے جھکا لیا
شانزل نے کچھ لمحے اسے غور سے دیکھا
“تھک گئی ہو؟”
شانزل کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا تھا حور تھک تو گئی تھی مگر شانزل سے اپنی تھکاوٹ کا تذکرہ کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا حورین سوچ ہی رہی تھی کہ کیا جواب دے تبھی شانزل نے حورعین کا ہاتھ چھوڑ دیا اور ایک گہری سانس خارج کی اور پھر کہا
“جاکر چینج کر لو”
جھک کر اپنے جوتے اتارنے لگا
حورین نے اس کا چہرہ دیکھا ایکدم سپاٹ تھا تھوڑی دیر پہلے والی چمک غائب تھی حورعین نے اس ہاتھ کو دیکھا جو شانزل نے چھوڑ دیا تھا غصہ تو بہت آیا اسی لیے وہ خاموشی سے اٹھ گئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکی دوپٹہ اتار کر کندھے پر پھیلایا پھر بال کھولنے لگی اس نے ایک نظر شانزل پر ڈالی وہ بیڈ پر بیٹھے کسی گہری سوچ میں گم تھا
حورعین کو یکلخت سب کچھ برا لگنے لگا
” حورعین میں جانتا ہوں کہ میری غلطی معافی لائق نہیں ہے “
حورین کے چلتے ہاتھ رکے
” یہ تو تمہارا ظرف ہے کہ تم اس کے باوجود یہاں ہو تم اندازہ نہیں لگا سکتی کہ جب مجھے اپنی غلطی یاد آتی ہے تو میں ندامت کی ایسی آندھی کھائی میں جا گرتا ہوں جہاں میری سانس بند ہونے لگتی ہے تمہارے ساتھ کی ہوئی ہر زیادتی مجھ پر کوڑے کی مانند برستی ہے”
حورعین الجھ گئی کہ شانزل ایسا کیوں کہہ رہا ہے لیکن اس کے الفاظ حورین کو دہلا دے رہے تھے
تمہارا گریز اور اعتراض حق بہ جانب ہے لیکن ہو سکے تو مجھے معاف کر۔۔۔۔۔”
حورعین کو جھٹکا لگا وہ اس کی فطری حیا اور جھجھک کو گریز اور اعتراض کہہ رہا تھا جو کہ وہ اس کی غلطی کی وجہ سے سزا کے طور پر کر رہی ہے اور وہ اس سے معافی مانگنے جا رہا ہے یا اللہ
حورعین کے دماغ نے لمحے میں جمع تفریق کی
“اوہ شان خدا کا واسطہ ہے بس کریں “
وہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی
” کیا ہوگیا ہے آپ کو کیسی باتیں کر رہے ہیں”
” تم سے معافی مانگ رہا ہوں”
وہ بیڈ پر اسکے پاس بیٹھ گئی
“اور میں پوچھ سکتی ہوں اس فضول سی معافی کا مطلب؟”
” میں اپنی غلطی۔۔۔۔۔”
“اف شان بس کریں کیا فضول باتیں کر رہے ہیں مجھے نہیں یاد کے آپ سے کوئی غلطی ہوئی ہے اور نہ ہی آپ کو یاد ہونا چاہیے “
“تو پھر تم کیوں منہ پھلا کر بیٹھی تھی “
“میں کہاں منہ پھلا کر بیٹھی تھی”
” تم نے حقیقت مجھے ڈرا دیا تھا حور”
” ڈرا تو آپ دیتے ہیں مجھے”
” اچھا اور کیا کیا کرتا ہوں”
پھر کہتے ہوئے شانزل حورعین کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اور ایک بار پھر دھڑکن منتشر ہوئی
” بتاؤ نہ حور!”
لہجے میں شرارتی اصرار تھا
” اچھا میں بتاؤں؟”
اس کے کھلے بالوں کی لٹ سے کھیلتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“حور تمہیں پتا ہے مجھے تم سے محبت کب ہوئی؟”
حور نے نفی میں سر ہلایا
“مجھے خود نہیں پتہ مگر جب نکاح والی رات تم مجھے کمفرٹر اوڑھا رہی تھی میں جاگ رہا تھا اور تب تم نے پہلا قدم میرے دل کی سر زمین پر رکھا” کہتے ہوئے شانزل نے حورعین کا ایک ہاتھ تھام لیا
“اور دن بدن تم مجھ میں اترنے لگی تمہیں پتا ہے نکاح کے ایک مہینے بعد میں نے تمہاری آنکھوں کو دیکھا تھا وہی لمحہ تھا شاید جب محبت تمہاری آنکھوں کے ذریعے نازل ہوئی تھی “
شانزل جملے کے آخر میں تھاما ہوا ہاتھ چوم لیا اور حورعین کے دل و دماغ میں بجلی سی دوڑ گئی اور دھڑکن مزید بڑھ گئی
“حور تم مجھ سے اتنا گھبراتی کیوں ہو ؟”
“میں۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔کہاں آپ۔۔۔۔۔آپ سے گھبراتی ہوں”
شانزل نے قہقہہ لگایا
“اچھا ہٹیں، مجھے جویلری اتارنی ہے “
“اچھا ٹھیک ہے مگر ڈریس چینج مت کرنا “
حورعین جویلری اتارنے لگی اور شانزل بیڈ پر نیم دراز ہو کر محویت سے اسے دیکھنے لگا
“بس بھی کریں شان آپ کس طرح مجھے دیکھ رہے ہیں”
حورعین نے آخر کہہ دیا
” تم پہلے ادھر آؤ”
یہ سب اتارنے دیں بہت ہیوی ہے۔۔۔۔”
حورعین کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ شانزل حورعین تک پہنچ گیا اور اسے بانہوں میں اٹھایا حورعین تو سٹپٹا گئی۔
“کیا کر رہے ہیں اتاریں مجھے”
شب زقاف کے لمحوں میں تمہیں گود میں اٹھا کر جھولا تو جھلانے سے رہا افکورس رومینس کرنے کا ارادہ ہے “
“اللہ اتاریں مجھے “
اس مرتبہ حورعین کے لہجے میں تھوڑی سختی تھی وہ اسے گھور رہی تھی
“ایک شرط پر”
“شبِ زقاف میں کونسا شوہر اپنی بیوی سے شرطیں منواتا ہے؟”
“شانزل ابراہیم، کیونکہ حورعین شانزل ابراہیم میری کوئی بات سیدھے طریقے سے نہیں مانتی”
آپ مجھے اتار رہے ہیں یا نہیں
پہلے میری شرط مانو
کیسی شرط
can I have dance with you
“آپ بہت بے شرم ہیں ، ٹھیک ہے “
شانزل نے اسے اتارا پھر پلیئر پر گانا لگایا
دیکھا ہزاروں دفع آپ کو۔۔۔۔۔۔
بہت دل سے اس نے حورعین کے سامنے ہتھیلی پھیلائی اور حورعین نے اپنا اسکے ہاتھ پر رکھ دیا اور مسکرا دی
شانزل بڑی مہارت سے اسکے ساتھ ڈانس اسٹیپس کرنے لگا۔
وہ حورعین کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ایک بار پھر حورعین پر طلسم پھونک رہا تھا
پھر بے قراری کیسی ہے
سنبھالے سنبھلتا نہیں یہ دل
کچھ آپ میں بات ایسی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے حورعین کے چہرے پر آئی لٹ ہٹائی
لے کر اجازت اب آپ سے
سانسیں یہ آتی جاتی ہے
ڈھونڈے سے ملتے نہیں ہے ہم
بس آپ ہی آپ باقی ہے۔۔۔۔۔۔
فرطِ جذبات سے اسکی پیشانی چوم لی یہ عقیدت بھرا لمس حورعین کو سرشار کر گیا۔
شانزل نے بہت نرمی سے اسے خود سے مزید قریب کر لیا اور اسکے گرد حصار باندھ دیا اسے گلے سے لگائے مانو اسے محسوس کر رہا تھا
“آغوش میں ہے جو آپ کے
ایسا سکون اور پائے کہاں
آنکھیں ہمیں یہ راس آ گئیں
اب ہم یہاں سے جائیں کہاں۔۔۔۔۔۔
شانزل کی آغوش سے ملنے والا سکون اسے مکمل رہا تھا۔
حورعین کی موجودگی میں سرشار آنکھیں بند کیے اسکی محبت میں جھوم رہا تھا
گانا ڈانس سب بھول کر بس حورعین کی موجودگی محسوس کر رہا تھا
دیکھا ہزاروں دفع آپ کو
پھر بے قراری کیسی ہے
سنبھالے سنبھالتا نہیں یہ دل
کچھ آپ میں بات ایسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
گانا کب کا ختم ہو چکا تھا
حورعین کچھ کسمسا کر ہوش میں آئی
“شرط صرف ڈانس کی تھی “
کہتے ہوئے شانزل سے الگ ہوئی
شانزل کچھ کہتا اس سے پہلے ہی کہا
چپ کر کے لیٹ جائیں جویلری اتارنے دیں، بہت بھاری ہے”
کہتے ہوئے وہ ڈریسنگ مگر کے سامنے آ کھڑی ہوئی
جویلری اتار کر جب وہ میری پلٹی تو محترم شانزل صاحب بغیر شرٹ کے بیڈ پر دراز تھے اسے وہیں ساکت کھڑے دیکھ کر شانزل نے کہا
“چلو اب اپنا روٹین کا کام انجام دو”
حورعین چلتی ہوئی شانزل کی طرف آئی
” آپ آنکھیں بند کریں”
شانزل نے اچھے بچوں کی طرح آنکھیں بند کر لیں حورین نے لائٹ آف کر کے لیمپ جلایا پھر شانزل کو کمفرٹر اوڑھانے لگی
شانزل نے آنکھ کھولی اور حورین کو کلائی سے پکڑ کر خود پر گرا لیا
“اچھا چھوڑیں تو کہیں نہیں جا رہی”
شانزل نے حورعین کو اپنے بازو پر لٹایا پھر اس کی طرف کروٹ لے کر کہا
“مہربانی کرکے یہ دوپٹہ ہٹاؤں میں ہمارے درمیان کسی چیز کو برداشت نہیں کروں گا”
اس نے خود ہی دوپٹہ ہٹایا کہتے ہوئے
شانزل اس سے باتیں کرتا رہا تھا اپنا حال دل بیان کر رہا تھا وہ جب تک جاگتا رہا تب تک باتیں کر رہا تھا اسے اپنی محبت کا یقین دلارہا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے درمیان میں وہ کبھی کبھی اپنی دی ہوئی لاکٹ کی چین پر انگلیاں پھیرتا حور اس کے لمس سے خود میں سمٹتی، سرخ رخساروں کے ساتھ وہ جب بھی نظریں چراتی شانزل محظوظ ہوتا
کبھی بات کرتے کرتے وہ شدت جذبات سے اس کے سرخ رخساروں کو چوم لیتا، کبھی اس کی کان کی لو، کبھی گردن، جس سے وہ مزید شرم سے سرخ ہو جاتی۔
جب بھی حورعین نظریں جھکا لیتی وہ بات کرتے کرتے اچانک اس کی آنکھوں کو چوم لیتا حورعین بھی اس کی بانہوں میں خود کو معتبر محسوس کر رہی تھی اور شانزل اسکے دامن میں وعدوں اور قسموں کے تارے ٹانک رہا تھا اور ایسے ہی نہ جانے کب باتوں کے درمیان شانزل کی آنکھ لگ گئی
ہورین اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی اور دل ہی دل میں خدا کی شکر گزار تھی کہ اس نے شانزل ابراہیم کو اس کی تقدیر میں لکھا تھا۔ ایک وقت تھا جب شانزل کے ہاتھ میں سب کچھ تھا وہ اسکے سامنے بے بس تھی وہ چاہتا تو حورعین کو استعمال کر کے پھینک سکتا تھا مگر شانزل نے اسکی طرف کبھی بری نظر سے دیکھا بھی نہیں تھا
اس نے غصے میں شانزل کی محبت کے لیے بہت غلط الفاظ استعمال کیے اسے احساس تو تھا مگر آج وہ بہت شرمندہ ہو رہی تھی آج بھی شانزل نے اسے جس انداز سے محسوس کیا، پھر جس طرح اپنی محبت کا یقین سونپا تھا حورعین کی روح بھی تسخیر کر گیا تھا۔
جب جب بھی وہ بات کرتے کرتے اسے خود میں بھینچتا حورعین ہر مرتبہ اسکی محبت پر نئے سرے سے ایمان لے آتی ۔
وہ چاند تھا مگر آج دور نہیں تھا وہ اس کی پناہوں میں تھی حورین نے اس کی پیشانی پر بکھرے بال اپنے حنائی ہاتھوں سے ہٹائے اور اپنے لب اس کی پیشانی پر رکھ دیے اگر وہ جاگ رہا ہوتا تو دیوانہ ہی ہو جاتا۔
اسکے آخری الفاظ حورعین کی زندگی کا حاصل تھے
تم میرے بخت کا سب سے روشن ستارا ہو،
اس نے حورعین کی پیشانی سے پیشانی ٹکائی
میری زندگی تمہارے گرد گھومتی ہے نجانے خدا نے تمہیں میری کونسی نیکی کے صلے میں عطا کیا ہے،
میں تمہیں کبھی خود جدا نہیں ہونے دوں گا کیونکہ اتنا حوصلہ شانزل ابراہیم میں نہیں ہے ساری زندگی اس جہان میں اور موت کے بعد اس جہان میں بھی اتنی محبت دوں گا کہ تم میری ہمرائی پر فخر کروگی۔
اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھی اور آواز خمار آلود
اس نے ایک بار پھر اس کے رخسار کو چوما
مجھے اب تم سے عشق ہونے لگا ہے۔
اس نے جملہ مخمور لہجے میں کہا جو حورعین کو نئے سرے سے تسخیر کرنے کو کافی تھا
