Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
حیا نے حورعین سے کوئی سوال نہیں کیا وہ معمول کی طرح ہی اس کا سر کھا رہی تھی اب حورعین کے پاس جوب نہیں تھی اس نے ریزائن کردیا تھا تو وہ پورا دن جوب ڈھونڈنے کی تگ و دو میں تھی وہ معمول کے مطابق گھر پہنچی کھانا پکایا اور کمرے میں چلی گئی۔
آٹھ بجے دروازے پر دستک ہوئی سامنے سعیدہ بوا تھیں
” وہ بیٹا آپ کو کھانے کے لیے بلا رہے ہیں”
مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق وہ ڈرتے ڈرتے کھانے کے لئے چلے گی شانزل شاید اسی کے لئے رکا تھا۔
وہ ٹراؤزر ٹی شرٹ میں ملبوس ایک ہاتھ میں گھڑی پہنے موبائل میں مصروف تھا۔ یہ وہی گھڑی تھی جسے آج تک ہر رات اس کے ہاتھوں سے نکالتی آئی تھی۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گئی شانزل نے کھانا شروع کیا تو بوا نے اسکے آگے بھی ڈش بڑھائی وہ تھوڑے سے چاول نکال کر کھانے لگی۔
اب دونوں کے معمول میں صرف یہ تبدیلی آئی تھی کہ ناشتے اور رات کے کھانے کے وقت دونوں کا سامنا ہوتا۔
حیا اور شانزل کی ملاقات ہوتی تو ہلکی پھلکی بات چیت ہو جاتی حورعین اب یونی نہیں جا رہی تھی وہ جوب ڈھونڈنے پر فوکس کر رہی تھی۔
تیسرے دن رات کے کھانے پر حورعین نے شانزل کو پہلی مرتبہ مخاطب کیا۔
“ح….حیا کی منگنی ہےت..ت….. تو مجھے اس میں شرکت کرنے کے لیے اجازت چاہیے” وہ تقریباََ ممنائی تھی نظر اٹھانے کی جرأت نہیں کی۔ شانزل بمشکل سن پایا۔
“ہمم، کہاں پر ہے؟”
“دوسرے شہر ،دن کا فنکشن ہے” نظریں اٹھا کر بات کرنا تو جیسے گناہ تھا۔
فورا وقت بتا دیا مبادہ کہیں انکار ہی نہ کر دے
” ٹھیک ہے “
وہ برتن اٹھا کر کچن میں اس طرح گئی جیسے قید سے رہائی ملی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین نے کمرے میں آکر اور فورا حیا کو فون لگایا پہلی ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا۔
” السلام علیکم” ہمیشہ کی طرح حیا کی چہکتی ہوئی آواز آئی۔
” وعلیکم السلام فون پر بیٹھی تھی کیا؟”
اف، حور کی بچی اس کال کے انتظار میں میرا بس چلتا تو موبائل ٹاور پر بیٹھ جاتی، اب طعنے مارنا بند کرو اور مجھے بتاؤ تم اؤگی نا؟ ورنہ میں منگنی کینسل کر دوں”
اس کی بات پر حور نے مسکرا کر کہا
” تم بھی کیا یاد رکھو گی آجاؤں گی”
ہلکی پھلکی گفتگو کے بعد حور نے فون رکھ دیا۔
حیا اپنے گھر چلی گئی تھی منگنی کی تیاریوں کے لیے۔ حیا زمان دوسرے شہر میں رہتی تھی لیکن اپنی سوتیلی ماں کے چپقلش کی وجہ سے بہت کم گھر جاتی تھی۔ اس کے ابا اور سوتیلا بھائی بھی تھا لیکن مجال ہے جو حیا زمان کی کسی سے بنتی ہوں سوائے اپنی دادی کے۔ اس کا رشتہ طے ہو چکا تھا اور منگنی کی تیاری عروج پر تھی مہینے بھر بعد شادی کی تاریخ تھی۔ چونکہ منگنی گھر پر تھی اسی لیے شانزل سے اجازت لینا ضروری تھا صرف حور کی وجہ سے حیا نے اعلان کر دیا تھا کہ فنکشن دن میں ہوگا کیوں کہ اندھیرا ہونے سے پہلے اسے گھر پہنچنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن وہ صبح سویرے ہی حیا کے گھر کے لیے نکل گئی حیا کا چہکنا عروج پر تھا اسے دیکھ کر حور نے اس کی دائمی خوشیوں کی دعا مانگی۔
حیا گلابی رنگ کے فراک میں ہلکے سے میک اپ کے ساتھ خوبصورت لگ رہی تھی سبھی تیار ہو کر حال کے لیے روانہ ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل بھی ہال میں پہنچا تو اس کا استقبال گرم جوشی سے ہوا خالو دوست کے بیٹے کی منگنی تھی شک تو اسے ‘اس’ کے پوچھنے کے وقت ہی ہوا تھا لیکن یہ سوچا کہ ہو سکتا ہے اندازہ غلط ہو لیکن اس کا شک یقین میں تب بدلا جب اس نے حیا کو اندر آتے دیکھا لاشعوری طور پر اس نے حیا کے ارد گرد نظر دوڑائی لیکن صرف کچھ لڑکیاں تھیں۔ شاید اس کی کزنز تھیں ۔
حیا سہج سہج کر قدم اٹھاتی اسٹیج تک گئی شور بلند ہوا کی منگنی کی رسم شروع کی جائے لیکن حیا نے منع کردیا کہ کوئی آنے والا ہے اس کے بعد رسم شروع ہوگی۔
شانزل کو پتا تھا وہ ‘کوئی’ کون ہے۔ تقریبا 20 منٹ بعد حیا بنا وقت کا خیال کیے اسٹیج سے اتر کر گیٹ کی طرف بڑھی حور اندر داخل ہو رہی تھی حیا کو ایسے آتے دیکھ کر سٹپٹا آگئی۔
“اس لڑکی کو کب عقل آئے گی؟” سبھی آنکھیں پھاڑے حیا کو دیکھ رہے تھے۔
لیکن وہ حیا تھی اسے کہاں فرق پڑتا تھا شانزل نے بھی دیکھا مگر حورعین کی طرف دیکھنے پر ٹھٹھک گیا۔
حورعین نفیس سی سادہ کالی ساڑھی میں ملبوس تھی کانوں میں کالے چھوٹے بوندے، دودھیا رنگت پر رخساروں کو چھوٹی شرارتی لٹ اور اس پر تضاد سبز آنکھوں میں گہرا کاجل۔ وہ اسے آج الگ ہی لگ رہی تھی۔
حیا اس کے پاس پہنچنے کے بعد شروع ہو چکی تھی۔
“اتنی جلدی کیوں آگئی میرے چہلم پر آنا تھا نا، نیاز کھانے”
حیا نے اس کے لیٹ آنے پر طنز کیا حورعین اسے گھوری سے نوازا اور اسے لیے اسٹیج پر جانے لگی۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی لیکن دل کر رہا تھا کہ ابھی دو تھپڑ لگا دے۔
“تمہاری وجہ سے لیٹ ہوئی ہوں کس نے کہا تھا کہ یہ تھا یہ تھان گفٹ کرو”
اس کا اشارہ ساڑھی کی طرف تھا
“اور قسم دو کہ یہی پہننا ہے”
” اف حور تم اس وقت اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ غصہ بھی نہیں آ رہا ہے دل کر رہا ہے کہ دو چار کِس کر ڈالوں”
حیا کی بات سن کر حورعین نے اسے کرسی پر بٹھانے کے بعد دو قدم دور ہوئی حیا سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ ایسا کر بھی ڈالے حورعین کی حرکت دیکھ کر حیا کو ہنسی آئی۔
حورین نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا
” آج تو اپنا ریڈیو بند کر لو، منگنی ہے تمہاری ،سب سسرال والے یہیں موجود ہیں۔”
کچھ ہی منٹوں میں منگنی کی رسم ادا کی گئی اور حیا طلال مرزا سے منسوب ہو گئی۔ حورعین انہیں دیکھ کر بہت خوش تھی۔ اسے مسکراتے ہوئے تو شانزل پہلی بار دیکھ رہا تھا۔کچھ دیر بعد حورعین وقت دیکھتے ہوئے گھر کے لئے روانہ ہوگئی۔
حورعین کے جانے کے بعد بشانزل اسٹیج پر مبارکباد دینے آیا تو حیا چونک گئی۔
” بھائی آپ؟”
“جی بھائی کی بہن میں”
شانزل نے جواب دیا
“منگنی مبارک ہو “
“خیر مبارک بھائی”
” تم نے تو بلایا نہیں اسی لئے میں لڑکے والوں کی طرف سے آ گیا “شانزل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“بھائی سب کچھ اتنا اچانک ہوا اسلئے، لیکن میں شادی میں آپ کو ابھی سے انوائٹ کر دیتی ہوں” حیا کی بات پر شانزل نے قہقہہ لگایا۔ اس طرح یہ تقریب خوشی خوشی اختتام پر پہنچی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا جوب لیس ہوئے۔ وہ پوری کوشش کر رہی تھی کہ جوب مل جائے لیکن کوئی نتیجہ نہیں۔ وہ پورا پورا دن خوار ہوتی رہتی۔ کچھ ہی دنوں میں فیس بھی بھرنی تھی لیکن وہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔ کئی مرتبہ حیا نے کہا کہ وہ اسے قرض دے دے گی لیکن ہائے رے! حورعین کی غیرت مندی، اس نے منع کردیا۔
حیا سے جب برداشت نہ ہوا تو وہ حورعین کے سر ہو گئی
“حد ہے حور، تم نے قسم لے رکھی ہے نہ سمجھنے کی،”
” دیکھو حیا، میں تمہیں کئی مرتبہ منع کر چکی ہوں”
” حور میں صرف تمہیں قرض دو نگی تم وقت پر مجھے لوٹا دینا”
” یہ نہیں ہو سکتا ” حورعین کا لہجہ اٹل تھا۔
“کیوں نہیں ہوسکتا؟ تم اپنا سال خراب کر لوں گی؟ حد ہے”
حیا ایک دم تپ گئی۔
“میری غیرت مندی مجھے اس کی اجازت نہیں دیتی”
حور نے سپاٹ لہجے میں کہا
” ٹھیک ہے میں تمہاری کچھ نہیں لگتی اس لیے تم میری مدد نہیں لے سکتی ،لیکن بھائی تو تمہارے شوہر ہے ان سے لے لو”
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے”
حیا کی بات سن کر تو حور بھڑک اٹھی
” کیا غلط کہہ رہی ہوں؟ تمہارے نان نفقے سے لے کر ہر چیز کی ذمہ داری ان کی ہے “
حیا بھی دو بدو بولی ۔
“بالکل بھی نہیں میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی ،آئی سمجھ؟”
لہجہ اٹل تھا
اس کی بات سن کر حیا کا دل کیا کے ابھی اس کے دماغ سے خناس نکال دے
” تمہیں پتا ہے تمہاری یہ غیرت مندی سے مجھے سخت چڑ ہے ، تم اس غیرت مندی کے آگے سامنے والے کی محبت نہیں دیکھتی تمہارے لئے تو سب کچھ tit-for-tat ہے کیا مجھے سمجھ نہیں آتا تم ہر چیز کا بدلہ اتارتی ہو حد ہوتی ہے کسی چیز کی۔ میں سب سمجھتی ہوں بھائی تمہیں اس گھر میں رہنے دے رہے ہیں اس کے بدلے تم گھر کے کام کرتی ہو تاکہ تمہاری سو کالڈ غیرت قائم رہے۔ تمہیں میرا دیا ہوا قرض نظر آ رہا ہے لیکن اس کے پیچھے میری محبت، تمہارے لئے فکر کچھ نظر نہیں آ رہا تو میں تمہارا شکریہ ادا کرتی ہوں کے تم نے مجھے اتنے سال جھیلا”
حیا بول نہیں رہی تھی چیخ رہی تھی حورعین سانس روکے اسے سن رہی تھی یہ کیا کہہ رہی تھی وہ۔
حیا جانے لگی لیکن اچانک کچھ یاد آنے پر پلٹی
“اوہ میں تو بھول گئی tit-for-tat ,شکریہ سے کام نہیں چلے گا اس لیے”
حیا نے کچھ نوٹ نکال کر حورعین کے قدموں میں پھینکے۔ حورعین کا دل شدت سے چاہا کہ وہ یہاں سے غائب ہو جائے۔
تم نے اتنے سال دوستی نبھائی اس لیے یہ tit-for-tat ہے “کہ کر چلی گئی۔
وہ لوگ لان میں کھڑے تھے اور اپنے روم کے بالکنی سے یہ منظر شانزل نے میں پورا دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور نے بھاری قدموں سے چلتے ہوئے خود کو کمرے میں بند کرلیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
وہ جتاتی نہیں تھی لیکن حیا اس کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی۔
کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم بیان نہیں کرسکتے۔
“کاش! آپ ہوتے تو آج یہ نہ ہوتا ،۔لیکن آپ ہوتے تب نا،،، آہ اب اور انتظار نہیں ہوتا، اور صبر نہیں ہوتا ، نہیں ہوتا، آپ کا انتظار کسی دن میری جان لے لے گا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کو باہر نکلنے کے بعد شدت سے احساس ہوا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ تو حور کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی وہ پھر سے حورعین کی طرف لوٹ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل سوچ ہی رہا تھا کہ وہ ‘اس’ کے پاس جائے یا نہ جائے۔
نیچے سے شور سنائی دیا یقیناََ حیا کی آواز تھی۔
“حور ، دروازہ کھولو تمہیں پتا ہے میں ایسے نہیں جانے والی”
آخر حورعین نے دروازہ کھولا اور باہر ہال میں آئی۔
” تم ابھی اور اسی وقت یہاں سے چلی جاؤ”
حورعین نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“حور مجھے معاف کردو مجھ سے غلطی ہوگئی میں نے غصے میں کہہ دیا”
” لیکن تم کہہ چکی ہوں حیا “
حیا بہتی ہوئی آنکھوں سمیت کہ کہا
” حور میرے ساتھ ایسا مت کرو، تم واحد سچا رشتہ ہو میرا، تم سے تعلق توڑ کر میں کہاں جاؤں، پلیز حور”
“مر گئی حور!”
حورعین دہاڑی تھی۔
” ایسا مت کہو ،،، میری غلطی ہے مجھے سزا دے دو میں تم سے معافی مانگتی ہوں “
حیا روئے جارہی تھی
حورعین نے حیا کے آگے ہاتھ جوڑ دیے
“حیا میرے پاس اب صرف اس چھت کا آسرا ہے اگر انہوں نے مجھے یہاں سے نکال دیا تو میں دربدر ہو جاؤں گی، شکر ہے وہ گھر پر نہیں ہے اگر وہ تمہاری بات سن لیتے تو مجھے گھر سے باہر نکال دیتے اس لیے پلیز چلی جاؤ”
آنسو ایک تواتر سے بہہ رہے تھے اور اوپر شانزل ابراہیم کو ان الفاظ نے برف کا مجسمہ بنا دیا تھا۔
وہ حیا ہی کیا جو بات مان جائے
” دیکھو حور میں ایسے نہیں جاؤں گی”
“بخدا حیا ایسے بات بڑھے گی میری زندگی کو اور مشکل مت بناؤ پلیز چلی جاؤ، پلیز”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل تو مانو پتھر کا ہو گیا تھا وہ سے کیا سمجھ رہی تھی ویسے غلط بھی نہیں تھی جس طریقے سے اسے ٹریٹ کرتا تھا تو کوئی بھی یہی سمجھتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل نے لاکھ کوشش کی اس سے فیس کے بارے میں بات کرنے کی مگر بات نہیں کر پایا حیا بھی پوری کوشش کر رہی تھی حورعین کو منانے کی مگر حورعین کا غصہ اللہ معاف کرے کسی طور پر کم نہیں ہو رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دن مزید گزر گئے شام پانچ بجے شانزل گھر میں داخل ہوا اور بوا سے کہا
:بی بی کو بلائے”
کچھ دیر میں حورین کچن سے باہر آئی
” وہ آج مجھے پارٹی میں جانا ہے تو آپ کھانا کھا لیجئے گا میں ڈنر باہر ہی کروں گا “
عام سے لہجے میں کہا حورعین نے نظریں نیچے کیے اثبات میں سر ہلایا ۔
شانزل کے دل نے شدت سے خواہش کی کہ وہ نظریں اٹھائے تاکہ سبز آنکھیں نظر آئیں لیکن خود کی سوچ پر سرزنش کرتا کمرے میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات تقریبا دو بجےشانزل کی آنکھ کھلی سر بھاری ہو رہا تھا۔
اچانک بازو میں کسی کا احساس ہوا تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا۔
بازو میں ایک دوشیزہ لیٹی ہوئی تھی کہ شانزل کرنٹ کھا کر کھڑا ہوا۔
اسے یاد آنے لگا وہ پارٹی میں گیا تھا اس کے آگے پیچھے یہی لڑکی گھوم رہی تھی پھر اس نے جوس پیا تھا آگے اسے کچھ یاد نہیں آیا۔
” اف یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟وہ بھی میرے بیڈروم میں”
شانزل نے بازو سے پکڑ کر لڑکی کو جارحانہ انداز میں کھڑا کیا وہ ہڑبڑا کر اٹھ گئی، پھر شانزل کو دیکھ کر خباثت سے مسکرائی۔
“What the hell are you doing here?”
آگ چھلکاتا لہجہ۔
اس لڑکی نے ایک ادا سے مسکرا کر جواب دیا
“وہی جو کیا جاتا ہے”
شانزل اسے بازو سے پکڑ کر کمرے سے گھسیٹتے ہوئے باہر نکال رہا تھا۔
” Just shut up ایسا کچھ نہیں ہے”
کوئی اور ہوتی تو سہم جاتی لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا اس نے قہقہہ لگایا اور کہا
” یہ تو صرف تمہیں اور مجھے پتا ہے”
شانزل کا ضبط جواب دے دیا گیا اس نے اس لڑکی کو گھر سے باہر نکال دیا۔
“Get the hell out of here, otherwise I’ll kill you”
وہ تن فن کرتی چلی گئی۔
شانزل غصہ ضبط کرتے ہوئے ہال کے صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
قدموں کی آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے اجمل پھوپھا کھڑے تھے اس نے چونک کر انہیں پوچھا
“پھوپھا آپ سوئے نہیں؟”
” صاحب جی اب ہم یہاں کام نہیں کر سکتے اس لیے آپ حساب کر دے میں اور سعیدہ ابھی چلے جائیں گے”
“پھوپھا آپ بیٹھے پہلے دیکھیں جو آپ نے دیکھا وہ سچ نہیں ہے”
“صاحب جی ہم اس معاملے کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہے ہیں “
“پھر؟”شانزل نے پوچھا تو پھوپھا اسے سب بتانے لگے۔
شانزل پارٹی کے بعد کسی لڑکی کے ساتھ نشے میں دھت گھر آیا تھا۔ تب حورعین، اجمل پھوپھا، بوا ہال میں موجود تھے۔ شانزل کو دیکھ کر سب چونک گئے اور اسے سنبھالنے کے لئے آگے بڑھے۔
بمشکل شانزل جیسے قدکاٹھ والے آدمی کو صوفے پر بٹھایا، اس لڑکی نے پوچھا شانزل کا روم کہاں ہے تو بوا نے بتا دیا۔ وہ محترمہ لہراتی بلکھاتی ہوئی شانزل کے کمرے چلی گئی۔
حورعین نے دیکھا شانزل حواسوں میں نہیں ہے تو جلدی سے بوا سے کہا
” بوا ،جلدی پانی لے کر آئیں “
بوا دوڑ کر پانی لینے گئی
حورعین نے بوا سے پانی لے کر شانزل کو پلانا چاہا تو شانزل نے حورعین کا ہاتھ جھٹک دیا جس سے پانی کا گلاس چھناکے کے ساتھ ٹوٹا اور فرش پر بکھر گیا۔
“دور رہو مجھ سے بے ہودہ عورت، دوبارہ ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو حلق سے جان نکال لوں گا”
پھر ایک زوردار دھکا حورعین کو دیا۔ حورین جیسی نازک لڑکی لچکیلی ڈال کی طرح زمین پر گری خود کو گرنے سے بچانے کے لئے ہاتھ کا سہارا لینا چاہا مگر ہاتھ کانچ کے ٹکڑوں پر پڑا اور سر سینٹر ٹیبل سے جا ٹکرایا۔شانزل حواسوں میں نہیں تھا لیکن اس کے لہجے میں اتنی تپش تھی کہ حورین کانپ اٹھی۔
(حقیقت شانزل کے ارد گرد وہ لڑکی گھوم رہی تھی اور چپکنے کی کوشش کر رہی تھی شانزل کو لگا پھر سے وہ اس کے قریب آنے کی کوشش کر رہی ہے تو یہ اس کا ردعمل تھا۔ لیکن وہاں سب کو لگا شانزل نے یہ الفاظ حورعین کو کہے ہیں)
اس کے بعد شانزل پوری طریقے سے بے ہوش ہو گیا۔
حورعین نیچے بیٹھے کراہ رہی تھی بوا اسے اٹھانے کے لئے آگے بڑھتیں اس سے پہلے ہی وہ لڑکی اوپر کھڑی حکم صادر کرنے لگی۔
” ڈرامہ ختم ہو گیا ہو تو دو منٹ میں شانزل کو کمرے میں پہنچاؤ”
“پھوپھا آپ انہیں کمرے میں لے جائیں مجھے یہ ٹھیک نہیں لگ رہے”
حورعین پیشانی پر ہاتھ رکھے کراہتے ہوئے بمشکل بول پائی۔
پھوپھا گارڈز کی مدد سے شانزل کو کمرے میں لے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یا اللہ یہ مجھ سے کیا ہو گیا”
شانزل کا شرم سے زمین میں گڑ جانے کا دل ہوا کچھ خیال آنے پر اس نے پوچھا۔
“ابھی آپ کی بی بی کہاں ہیں؟ بلائیں انہیں”
“بی بی گھر پر نہیں ہے “
” یہ نہیں ہو سکتا وہ مجھ سے اجازت لیے بغیر کہیں نہیں جا سکتی “
شانزل کے لہجے میں یقین بول رہا تھا۔
“لیکن بی بی سچ میں گھر پر نہیں ہے۔”
