125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

” بول کر ہی نہیں گئے کہ کہاں جانا ہے؟ اب کیا پہنوں اور کیا میں تیار نہیں تھی؟”
حیا کے لیے حورعین نے ایک سے بڑھ کر ایک سوٹ خریدے تھے پھر کچھ سوچ کر حیا نے ایک پیچ کلر کی ساڑھی نکالی
تبھی ملازمہ نے آ کر بتایا کہ نیچے عاطف زمان ملنے آئے ہیں
حیا تن فن کرتی نیچے اتری
“تم اپنی منحوس شکل لے کر کیوں آئے ہو ؟”
“دیکھنے آیا تھا کہ تمہارا سو کالڈ شوہر تمہیں کتنے دن برداشت کرے گا؟”
” تمہیں اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے “
“وہ تو ہے مگر میں یہ کہنے آیا ہوں کہ اگر وہ تمہیں دھتکار دے تو دوبارہ ہمارے گھر کا رخ مت کرنا”
بے فکر رہو، وہ کبھی مجھے دھتکاریں گے نہیں”
“تمہیں پتا ہے نا خدا نے تمہارے نصیب میں کبھی خوشیاں نہیں لکھیں”
” ہاں خدا نے میرے نصیب میں خوشیاں نہیں لکھی کیونکہ اس نے میرے نصیب میں شاہ زر جہانزیب کو لکھا ہے، اب اپنی شکل لے کر دفا ہو جاؤ ورنہ دھکے مروا کر تمہیں یہاں سے نکلواؤں گی اور یقین جانو ایسا کرتے ہوئے مجھے کس قدر سکون حاصل ہو گا، انہیں باہر کا راستہ دکھائیں اور اگر نظر نہ آئے تو اٹھا کر باہر پھینک آئیں”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا دل لگا کر تیار ہوئی پیچ کلر کی ساڑھی میں جس پر موتیوں اور ٹکلیوں کا نفیس کام تھا بہت خوبصورت لگ رہی تھی
گہری کالی آنکھوں میں کاجل اور محبت کے دیپ جلائے شاہ زر کی منتظر تھی۔
میک اپ ، جویلری، حنائی ہاتھوں میں بھرکر چوڑیاں، چھنکتی پائل، گہری سرخ لپسٹک۔
اتنا اہتمام صرف شاہ زر کے لئے تھا وہ چلتی ہوئی شاہ زر کی تصویر کے پاس آئی
وہ بلا کا خوبصورت تھا یہ بات دنیا جانتی تھی اور وہی دنیا مرتی تھی اس پر۔
لیکن پوری دنیا میں وہ صرف اس کا تھا کس قدر خوش کن احساس تھا
حیا نے شاہ زر کی تصویر پر ہاتھ پھیرا
“حیا شاہ زر جہانزیب یہ نام میری زندگی کا حاصل ہے اور شاہ زر جہانزیب میری سلطنتِ دل کا سلطان ۔
میرا بس نہیں چلتا کہ آپ کے صدقے میں خود کو وار دوں، آپ میری روح میں اتر چکے ہیں ، آپ کی نیلی آنکھیں مجھے دیوانہ کر دیتی ہیں، میں دیوانی ہو گئی ہوں، آپکی دیوانی، آپ میری سانسوں کے درمیان ایسے ہیں جیسے تسبیح کے دانوں کے درمیان کوئی دھاگا، میری آتی جاتی سانسوں کی ڈور آپ سے ہی جڑی ہے، میں آپ سے ٹوٹ کر محبت کرتی ہوں شاہ زر”
حیا نے تصویر پر لب رکھے تبھی باہر گاڑی کا ہارن سنائی دیا اس نے ایک نظر خود کو آئینہ میں دیکھا
“آج تو آپ مجھے دیکھ کر دیوانے ہو جائیں گے”
اور پھر اپنی ہی بلائیں لی
جب وہ نیچے اتری تو شاہ زر کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی وہ ایک دم سنجیدہ تھا ۔
ہمیشہ کی طرح حیا آج بھی اس کے تاثرات سے اندازہ نہیں لگا پائی تھی
شاہ زر سیدھا کمرے میں گیا مگر کچھ تو تھا جو حیا کو ٹھٹھکا کر رہا تھا
“کوئی بات ہوئی ہے شاہ زر “
شہر نے کوئی جواب نہیں دیا ایک لمحہ اسے دیکھا نظریں بڑی گہری تھی جیسے وہ کوئی راز کھوج رہا ہو لیکن جلد ہی اس نے یہ کام ترک کر کے موبائل حیا کے ہاتھ میں دے دیا جس پر ایک ویڈیو چل رہی تھی اور حیا کو لگا اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی گئی ہو
وہ ویڈیو اس کے نکاح کے ایک دن پہلے کی تھی جب حیا اور اس کی دادی بات کر رہے تھے
” میں کیسے مان لوں کہ تم نے شادی کرنی ہے کل تک تو تم شادی کو تیار نہیں تھیں”
” مگر آج تیار ہوں دادی”
” ٹھیک ہے میں طلال سے بات کرتی ہوں”
” دادی رشتہ حور لے کر آئے گی”
” دیکھو حیا طلال کو اپنی غلطی کا احساس ہے اب وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ مجھ سے پچھلے ایک مہینے سے کہہ رہا ہے اگر تم راضی ہو تو تمہاری شادی کر دیتی ہوں مگر صرف طلال سے”
” اوفوہ دادی آپ سمجھ نہیں رہی ہیں”
” میں بالکل بھی سمجھنے والی نہیں ہوں “
“ٹھیک ہے میں طلال سے شادی کے لئے راضی ہوں مگر آپ کو بھی میری بات ماننی ہوگی”
” کون سی بات”
“حور جو رشتہ لے کر آئے گی آپ ہاں کردیں گی پھر میں اسی سے شادی کرو گی اس کے کچھ دن بعد علحیدگی لے کر طلال سے شادی کروں گی”
” یہ کیا بات ہوئی”
” ہاں تو اور کیا جب طلال مرزا میرے ساتھ اس طرح کا کر سکتا ہے تو میں بھی کر سکتی ہوں وہ ایک شادی پہلے ہی کر چکا ہے تو اب میرے بھی ایک شادی کرکے اس کے پاس جانے میں کیا حرج ہے،
ویسے بھی میں رشتے میں برابری کی قائل ہوں”
شاہ زر نے موبائل حیا کے ہاتھ سے لے لیا تو حیا ہوش میں آئی
” صرف ایک سوال پوچھوں گا “
سنجیدہ لہجہ حیا کی سانس روک گیا
” کیا یہ سب تم نے کہا تھا “
وہ اب بھی یقین دہانی چاہتا تھا ، لہجہ بے قراری سے چور نہیں بلکہ سوال کا طریقہ ایسا تھا جیسے جواب کی بنا پر وہ کوئی فیصلہ کرنے والا ہو
حیا کا دل کیا وہ یہاں سے غائب ہوجائے اس کے ذہن میں یہ بات تھی ہی نہیں اس نے تو صرف دادی کو راضی کرنے کے لیے کہا تھا مگر اب؟
اس نے منہ کھولا ہی تھا کہ شاہ زر نے کہا
“صرف ہاں یا نا “
بہت سے آنسو حیا کا چہرہ بھیگھو گئے حیا کا دل اپنی بے بسی پر خون کے آنسو رو رہا تھا شاہ زر نے ایک مرتبہ پھر اپنا سوال دہرایا
” ہاں یا نا ؟”
حیا نے بے بسی سے سر ہاں میں ملایا اور صفائی دینے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ شاہ زر نے روک دیا
“بس۔۔۔۔ ایک لفظ اور مت کہنا “
کہتے ہوئے شاہ زر نے اپنا فون کان سے لگایا
” ہیلی کاپٹر ریڈی کرو میں ابھی آ رہا ہوں”
کہہ کر فون بند کیا اور الماری کی طرف بڑھا کپڑے اٹھا کر بیگ میں پھینکنے لگا
“میری بات تو سن لیں “
وہ ہنوز اپنے کام میں مصروف رہا
“بالکل بھی نہیں”
” بس ایک بار۔۔۔۔۔ “
” میں نے کہا نہ منہ بند رکھو”
شاہ زر کی دہاڑ پورے گھر میں گونجی تھی شاید حیا نے پہلی بار اسے اونچی آواز میں چینختے سنا تھا اسی لیے ایک لمحے کو سہم گئی
کہہ کر اس نے بیگ کی زپ بند کی اور دروازے کی طرف بڑھا
“آپ کہاں جا رہے ہیں ،مت جائیں پلیز”
حیا سمجھو اس کے آگے گڑگڑا رہی تھی
“دور رہو مجھ سے”
چٹانوں کی سختی جیسا لہجہ۔ شاہ زر کمرے سے باہر نکالا کا رخ چھت کی طرف تھا
“شاہ زر پلیز میرے ساتھ ایسا نہیں کریں، بس ایک بار میری بات سن لیں پلیز”
وہ بھاگتے ہوئے اس کے قدم سے قدم ملانے کی کوشش کر رہی تھی
” تم نے جو کیا ہے اس کے بعد جتنا سن چکا ہوں وہی کافی ہے”
وہ بھی اپنے ارادے میں اٹل آگے قدم بڑھائے جا رہا تھا حیا اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے تقریبا اس کی منتیں کر رہی تھی
“مت جائیں شاہ زر رک جائیں “
“فکر مت کرو واپس آ کر تمہاری خواہش پوری کر دوں گا”
حیا کانپ گئی
“ک۔۔۔کیا کریں گے آپ ؟”
وہ آنسو سے بھیجے چہرے، پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان پوچھ رہی تھی قدم اچانک بھاری ہو گئے تھے وہ بمشکل اسکے ساتھ قدم ملا پا رہی تھی
“میں تمہیں طلا۔۔۔۔۔ مجھے مت روکو ورنہ ابھی تمہیں خود پر حرام کر لوں گا، فکر نہیں کرو جس دن واپس آیا اس دن تمہاری خواہش پوری کر دوں گا “
حیا اب بوکھلا کر رہ گئی تھی
وہ تیز تیز سیڑھیاں چڑھ رہا تھا
“ایسا نہیں میں۔۔۔۔میں۔۔۔”
بے بسی سی بے بسی
” کوئی فائدہ نہیں ہے میرا ارادہ بدلنے والا نہیں “
نا اس نے رکنا تھا نہ وہ رکا وہ اوپر چھت کی سیڑھیوں پر قدم بڑھا رہا تھا
“اگر میں اپنی غلطی کی معافی مانگو آپ کے پیروں میں گر کر ؟”
حیا اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے دہائیاں دے رہی تھی
تبھی ہیلی کاپٹر کی آواز آنی شروع ہو گئی
حیا کا دل لرزا تھا کہیں وہ سچ میں چلا گیا تو؟
” تو میں تمہیں اپنے پیروں سے ٹھوکر مار دوں گا”
حیا نے تڑپ کر شاہ زر کا بازو تھام لیا
“ایسا مت کہیں میں مر جاؤں گی “
“ٹھیک ہے تمہاری تدفین میں اپنے ہاتھوں سے کروں گا”
اس نے حیا کو دیکھے بغیر یہ جملہ ادا کیا اور اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر سیڑھیاں چڑھتا اوپر کی طرف چلا گیا
مگر۔۔۔۔۔۔
پیچھے حیا زمان کی دنیا اجڑ گئی تھی کیونکہ شاہ زر کے ہاتھ جھٹکنے سے حیا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور سر کے بل گری تھی
سر کا پچھلا حصہ سیڑھی کے کونے سے ٹکرایا اور وہ لڑھکتے ہوئے نیچے گری اس کی دلخراش چیخیں نکلیں مگر ہیلی کاپٹر کی آواز کے نیچے دب گئی
حیا نے اپنی بے جان ہوتی آنکھوں سے آخری منظر دیکھا کہ خون فرش پر پھیل رہا ہے اور پھر شاہ زر اسی رفتار سے چھت کا دروازہ پار کر گیا
حیا کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی
“ش۔۔۔ش۔۔شاہ۔۔۔۔زر”
کتنے ہی آنسو اس کی آنکھوں سے گرے اس نے اپنی تمام تر ہمت جمع کیں کہ جیسے تیسے اٹھ کر وہ شاہ زر کو روک لے
وہ اپنی تمام تر ہمت جمع کرنے کے باوجود اٹھ نہ سکی جیسے ہی شاہ زر نظروں سے اوجھل ہوا
اس کی آنکھوں کے سامنے منظر دھندھلانے لگے
بہت مشکل ہوتا ہے اپنی آنکھوں سے اپنی دنیا اجڑتے دیکھنا یہ اذیت ناک منظر دل کو چیر دیتا ہے
بینائی تو جیسے ختم ہوگئی تھی لیکن کانوں نے ہیلی کاپٹر کے دور جانے کی آواز سنی ۔۔۔۔۔۔
اسکے لاشعور میں کچھ جملے گونج رہے تھے
” میرے شاہ کو خوش رکھنا”
” خدا نے میرے نصیب میں خوشیاں نہیں لکھی کیونکہ اس نے میرے نصیب میں شاہ زر جہانزیب کو لکھا ہے “
“میں یقین کر چکا ہوں”
ساری بات صرف ہاں یا نا کی ہوتی ہے”
اس کی ذہن کی تختی پر شاہ زر کا چہرا ابھرا
“میں تمہیں اپنے پیروں سے ٹھوکر ماروں گا”
” تمہاری تدفین میں اپنے ہاتھوں سے کروں گا”
پھر۔۔۔۔۔
سارے منظر، ساری آوازیں گڑ مڑ ہونے لگی
حیا نے شاہ زر کے نام کی آخری سسکی لی اور تصور کے عکس کی جگہ اندھیر نے لے لی
حیا زمین پر بے سدھ پڑی تھی اسی سنگھار میں جو اس نے شاہ زر کے نام سے کیا تھا
فرق صرف اتنا تھا کہ وہ خوبصورت سی ساڑھی جو اس نے اتنی امنگوں سے پہنی تھی سر سے بہنے والے خون کی وجہ سے کئی جگہ سے سرخ ہو گئی تھی
جس شہابی چہرے پر محبت رقص کر رہی تھی وہاں اب جامد خاموشی تھی
جن آنکھوں میں چمک اور محبت کے دیپ جل رہے تھے وہ آنکھیں بند تھیں
کاجل آنسو کی وجہ سے پھیل گیا تھا
چوڑیاں جو چھن چھن کر کے اس کی قِلقِل کرتی ہنسی میں شریک ہوتی تھیں ٹوٹ کر زمین پر بکھری پڑی تھیں
حیا زمان کا روم روم ماتم کناں تھا
اگر وہ کہتی تھی کہ وہ لاوارث ہے تو صحیح کہتی تھی کیونکہ اس کا کوئی اپنا اسے بچانے کے لئے موجود نہیں تھا
اور وہ؟۔۔۔۔۔
وہ چلا گیا تھا نہ جانے کہاں اسے بے آسرا
بے یارومددگار چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ جانے وہ ایسے ہی کب تک پڑی رہتی لیکن شاید خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا تبھی گھر کی ایک ملازمہ (فریدہ) نے اسے دیکھ لیا اور بے اختیار چیخ اس کے منہ سے نکلی۔ اس نے اپنے خاوند کی مدد سے حیا کو اسپتال پہنچایا رات کا وقت تھا اسی لیے کسی نوکر اور گارڈ کو اس کی خبر نہیں ہوئی
اسپتال لے جانے کے بعد ڈاکٹرز فوراً الرٹ ہوئے کیونکہ حیا کے کپڑوں اور جویلری سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ اچھے گھرانے کی ہے لیکن فریدہ اور اس کے خاوند کی مشکلیں بڑھ گئیں اتنے بڑے اسپتال میں علاج کے لیے ڈھیر سارا پیسہ درکار تھا انہوں نے اپنی ساری پونجی لگائی مگر صبح تک یہ خبر آئی کہ ان کی مالکن کو ہوش نہیں آ رہا جو باتیں ڈاکٹرز انہیں بتا رہے تھے وہ ساری کی ساری انکے سر کے اوپر سے جا رہی تھیں بس انھیں یہ پتا تھا کہ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے مالکن کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے اور اسکے سر میں چوٹ بہت نازک حصے پر لگی ہے وہ دونوں سر تھام کر بیٹھ گئے۔
فریدہ کے شوہر نے شاہ زر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس کا موبائل بند تھا سبھی جانتے تھے شاہ زر کا بزنس بیرون ملک ہے لیکن اس سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا
ڈاکٹر نے فریدہ سے پوچھا تو اس نے کہہ دیا کہ باجی کے شوہر ملک سے باہر کام کرتے ہیں اس لئے ان سے رابطہ نہیں ہو پارہا ہے
اسپتال والے فریدہ اور اس کے شوہر کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگے بہرحال انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارے اسپتال میں اس قدر سریس کیس ہینڈل کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے اس لیے وہ لوگ حیا کو دوسرے شہر کے اسپتال لے جائیں
ان غریبوں کے دماغ میں تو پہلے ایک ہی چیز آئی “خرچہ؟”
فریدہ نے اپنے شوہر عبداللہ سے کہا
“میں تم کو باجی کے زیورات لا کر دیتی ہوں تم کسی طرح انہیں بیچ کر پیسے لے آؤ “
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ہم پر چوری کا الزام لگ سکتا ہے “
“ہماری نیت غلط نہیں ہے ہم غریب باجی کا علاج کیسے کریں گے؟ خدا نہ کرے انہیں کچھ ہوگیا تو انکی موت ہمارے سر ہو گی، سچ موت کے گناہ سے بہتر تو جھوٹا چوری کا الزام ہے”
” یہ سب باتیں کتاب میں اچھی لگتی ہے فریدہ حقیقت میں نہیں “
“باجی حقیقت میں بہت معصوم ہیں کسی کی زندگی سے بڑھ کر تو کچھ نہیں، خدا نے ہمارے آگے آزمائش رکھی ہے تو اس کا راستہ بھی ہوگا ،خدا کا واسطہ ہے تمہیں مان جاؤ”
عبداللہ تو کچھ لمحے سوچ میں پڑ گیا یہ سب اتنا آسان نہیں تھا جتنا فریدہ سوچ رہی تھی پھر بنا کچھ بولے چلا گیا
اسپتال والے بار بار آکر پوچھ رہے تھے وہ لوگ حیا کو کب لے جائیں گے فریدہ بہت پریشان تھی آخر کار تھک ہار کر سر پکڑ کر رونا شروع کر دیا
” بس تم رو رو کر ساری باتیں منوالیا کرو اچھا ہتھیار ہے تمہارے پاس ” فریدہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو عبداللہ پیسوں کے ساتھ کھڑا تھا
” تمہارے پاس پیسے کہاں سے آئے زیور تو یہیں ہے”
” میں جھوٹا چوری کا الزام بھی برداشت نہیں کروں گا ،دوست کے مالک سے لئے ہیں شاید ہی کبھی اتنا قرض اتار پاؤں لیکن ایک بات یاد رکھ لو جو فیصلہ کر رہی ہو وہ بہت مشکل ہے ہماری زندگی پہلی ہی بڑی مشکل ہے اب اور مشکل ہو جائے گی اور خبردار جو تم نے بعد میں کوئی شکوہ کیا کیوں کہ یہ نیکی ہمارے گلے کا طوق ثابت ہوگی دیکھ لینا، چلو اٹھو”
اس طرح وہ دونوں اسے لیے دوسرے شہر آگئے لیکن جیسا عبداللہ نے کہا تھا ویسا ہی ہوا ان کی مشکل ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی
آئے دن نئی دوائیاں، اسپتال کا خرچہ، کبھی یہ ٹیسٹ کبھی وہ ٹیسٹ زندگی بہت مشکل ہو گئی تھی فریدہ اور عبداللہ نے خود کی گاؤں کی زمین اور کوٹھی بیچ دی۔
اتنی ساری اور اذیت ناک مشکلوں کے بعد جا کر کہیں حیا کو ڈیڑھ مہینے بعد ہوش آیا تب دونوں نے سکون کا سانس لیا
پہلے تو حیا کچھ سمجھ نہیں پائی تب فریدہ نے اسے بتایا کہ وہ کہاں ہے اور کیوں ہے
حیا کو سب کچھ شد و مد سے یاد آیا تھا اور بے اختیار آنسو گرنے لگے
“مجھے شاہ زر سے بات کرنی ہے”
” باجی سر تو نہیں ہے”
” نہیں ہے مطلب؟ وہ آئے ہی نہیں؟”
” نہیں باجی وہ جس دن سے گئے ہیں واپس نہیں آئے، ہم نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر نہیں ہو پایا “
حیا نے عبداللہ کے موبائل سے شاہ زر کو فون لگایا لیکن فون بند تھا
اسکے بعد اس نے حورعین کو فون لگایا اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ اس سے کیا بات کرے گی ہو سکتا ہے وہ شاہ زر سے بات کروا دے مگر حورعین کا فون بھی بند تھا
اسے یاد آیا وہ ہنی مون پر ہے اور کسی سے رابطہ نہیں رکھے گی
“مجھے۔۔۔۔ مجھے گھر جانا ہے میں شاہ زر کو اپنے موبائل سے فون لگاؤں گی تو لگ جائے گا”
عجیب منطق تھی مگر اس کے ٹوٹے ہوئے دل میں پھانس چبھی تھی وہ نہیں آیا اس نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا خبر نہیں لی کہ وہ زندہ ہے یا مر گئی
حیا کے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی
ڈاکٹر کسی حال میں اسے جانے نہیں دے رہے تھے مگر حیا نے جیسے تیسے وہاں سے ڈسچارج لیا
راستے بھر وہ یہی سوچ رہی تھی کہ وہ سچ میں لاوارث ہے
فریدہ نہ ہوتی تو وہ ایسے ہی مر جاتی اس کی لاش پڑی سڑتی رہتی
شاید نائلہ زمان صحیح کہتی تھی وہ تڑپ تڑپ کر مر جائے گی اور اس کی لاش سڑ جائے گی مگر اسے کندھا دینے والا کوئی نہ ہوگا
بد دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں۔
کتنے ہی آنسو اس کا چہرہ بھیگو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی اس نے چوکیدار سے پوچھا کہ
کوئی آیا تھا؟ حالانکہ اسے پتہ تھا وہ واپس نہیں آیا لیکن پھر پوچھ لیا
“وہ جی کوئی اشعر صاحب آئے تھے تین چار دفعہ، آپ کا پوچھ رہے تھے، مجھے معلوم نہیں تھا آپ کہاں ہے اور یہ تین دن پہلے آپ کے نام یہ دو خط آئے ہیں”
حیا کو لگا اس کے جلتے ہوئے بدن پر کوئی پھوار پڑی ہو خط کے اوپر بھیجنے والے کا نام
“شاہ زر جہانزیب ” لکھا ہوا تھا
پہلا خط چار دن پہلے کا تھا اس نے بے قراری سے خط کھول کر پڑھنا شروع کیا
” میں بالکل نہیں پوچھوں گا کہ تم کیسی ہو کیونکہ یہ خط میں نے حال احوال دریافت کرنے کے لیے نہیں لکھا ہے “
یہ جملہ پڑھتے ہی حیا کے سر میں درد ہونے لگا
“میں نے یہ خط لکھا ہے کیونکہ میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں تم آج شام مجھے پی سی ہوٹل میں ملو ورنہ آج ہی میں دوسری شادی کر لوں گا میں تمہیں اسی لیے بلا رہا ہوں کہ کوئی فیصلہ کر سکوں آگے تمہاری مرضی چاہے تو آؤ یا نہ آؤ، دل کیا تو کچھ تمہاری سو کالڈ مجبوریاں بھی سن لوں گا اور اگر نہ آنا چاہو تو بھی کوئی بات نہیں میں اپنے نکاح کی مٹھائی تمہیں بھجوا دوں گا “
حیا کو لگا اس کے ہاتھوں میں حتیٰ کے جسم میں جان ختم ہوگئی ہے اس کے سر کے درد میں اضافہ ہوا
کانپتے ہاتھوں سے دوسرا خط کھولا جو تین دن پہلے آیا تھا
” میں نے صرف اطلاع دینے کے لئے خط لکھا ہے کہ میں دوسرا نکاح کر چکا ہوں ویسے مجھے امید تھی کہ تم نہیں آؤگی”
اور حیا کو لگا اس کی زندگی اس دو سطر کے خط نے ختم کر ڈالی ہو اس نے پھر سے ایک مرتبہ وہ خط پڑھا ہو سکتا ہے اس سے پڑھنے میں غلطی ہوئی ہو ایک بار، دو بار، سہ بار، مگر خط کی تحریر نہیں بدلی وہ خط چینخ چینخ کر بد صورت حقیقت کا اعلان کر رہا تھا اس کے سر میں ناقابل برداشت درد اٹھا اور وہ پورے قد سے زمین بوس ہوئی اس کی حالت پہلے ہی دگر گوں تھی اوپر سے یہ خط اس کے اعصاب یہ سب برداشت نہ کر سکے۔
فریدہ کے صحیح معنوں میں ہاتھ پاؤں پھول گئے ڈاکٹر کو بلوا کر چیک اپ کروایا گیا تو ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ اسے اسپتال کی ضرورت ہے ڈاکٹرز کے ہزار مرتبہ کہنے کے بعد بھی وہ اسپتال نہیں گئی
ڈاکٹر بھی تھک ہار کر ہدایت دینے کے بعد چلا گیا حیا نے اس کے بعد صرف اتنا کہا
“مجھ سے کوئی ملنے آئے تو کہہ دینا میں نہیں ہوں’ اور دوبارہ کچھ بھی ہو جائے، کچھ بھی، ڈاکٹر مت بلانا ، اگر میں مر جاؤں تو اشعر سے رابطہ کرنا یہ اس کا نمبر ہے، شاہ زر جیسے ہی آئیں مجھے بتانا”
شاہ زر کے ذکر پر اسکی آنکھیں نم ہوئیں حالانکہ اسے پتہ تھا اب وہ کبھی نہیں آئے گا لیکن اگر جس دن وہ آ گیا تو وہ دن قیامت کا ہوگا کیونکہ اس نے کہا تھا جس دن آئے گا فیصلہ سنائے گا
ان چند جملوں کے بعد حیا کے ہونٹوں پر جو قفل لگا تو ٹوٹا ہی نہیں
فریدہ بیچاری حیران پریشان ہوگئی
اس کے بعد حیا کی زندگی اور شاہ وِلا میں ایک جمود چھا گیا ایسا جمود جو ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا حیا کتنی ہی دیر ایک ہی جگہ بیٹھی رہتی اس کے ذہن میں پورا ماضی شدومد سے گھومتا
وہ کیسے شاہ زر کے بلانے پر جاسکتی تھی اس وقت تو اس سے خود کا ہوش نہیں تھا کاش اسے چار دن پہلے ہوش آتا یا پھر آتا ہی نہیں ایسے جینے کا کیا فائدہ ؟
شاہ زر کے منہ سے نکلے آخری الفاظ اور آخری خط اس کے دماغ میں ہتھوڑوں کے مانند لگتے
جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے سر میں نہ قابل برداشت درد شروع ہوجاتا اور شدت اختیار کرتا جاتا شدت بھی ایسی کہ حیا تڑپ اٹھتی اور پھر بے اختیار چینختی
اس درد کا دورانیہ تقریبا گھنٹے بھر کا ہوتا مگر اس ایک گھنٹے میں حیا بلکہ بلک کر روتی
وہ دو تین دن میں ایک بار بڑی مشکل سے فریدہ کے وجہ سے کچھ نوالے حلق سے اتار لیتی نہیں تو وہ دن بھر بھوکی پیاسی رہتی نا اسے اپنا ہوش تھا نہ ہی کسی اور چیز کا
دن بدن اور اس کی حالت مزید خراب ہوتی جارہی تھی کبھی کبھی تو فریدہ اسے دیکھ کر ہول اٹھتی
حیا تو کئی کئی گھنٹوں تک ایک ہی حالت میں بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے پر نظر جمائے نہ جانے کون سے جہاں میں نکلی ہوتی ۔
منہ پر ایسے قفل لگے تھے کہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے وہ چپ کی چادر جو اس نے کئی مہینوں پہلے اوڑھی تھی وہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی پتھرائی آنکھوں سے آنسو بہتے جسے پونچھنے کا اسے ہوش تک نہ ہوتا
نہ وہ اس کمرے سے نکلتی
اذیت کی انتہا کیا ہوتی ہے حیا زمان اس کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
گزرتے دن اس کے لئے اور مشکل پیدا کرتے جا رہے تھے اب وہ نماز کے دوران رکعت بھول جاتی، تو کبھی سورہ بھول جاتی، کبھی وضو کا طریقہ، ایک مرتبہ وہ وضو کی غرض سے واش روم میں گئی تو کتنی ہی دیر وہ نل کو دیکھ کر سوچتی رہی کہ اسے کھولنا کیسے ہے؟
آخر حیا کو ادراک ہوا وہ چیزیں بھولنے لگی ہے اور یہ ادراک اس قدر خوفناک تھا کہ وہ بے اختیار جانماز پر بیٹھ کر سجدے میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
حیا زمان کی زندگی میں رونے اور آنسو بہانے کے سوا کچھ بھی نہیں بچا تھا
رات فریدہ اس کے لیے کھانا لے کر آئی تو وہ کتنی ہی دیر اپنی ہتھیلیوں میں نجانے کیا تلاش کرتی رہی کونسی لکیر تھی جو اسکے ہاتھ میں نہیں تھی کافی دیر اس شغل میں مصروف رہنے کے بعد مایوسی سے مٹھیاں بھینچ لی اور ان مٹھیوں پر چہرہ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اسی چہرے کو تھام کر اس نے کہا تھا
جلدی آنے کی کوشش کروں گا
اب دوبارہ میرا چہرہ آپکی ہتھیلیوں کی حرارت محسوس کیے بغیر ہی ہڈیوں کے ڈھانچے میں بدل جائے گا اور اس محرومیت کا درد تا ابد، تا قیامت تک مجھ پر قہر بن کر برسے گا
محبت جتنی شدید ہوتی ہے، قہر بن بھی کر اتنی ہی شدت سے برستی ہے۔
جب سے اسے پتہ چلا تھا کہ وہ چیزیں بھولنے لگی ہے اس کے لیے زندگی بہت مشکل ہو گئی تھی کیونکہ اب اس سے درد کے جو دورے پڑتے تھے اس میں شدت آ گئی تھی اسے دورے روزانہ پڑتے تھے کبھی کبھی تو دن میں دو مرتبہ
وہ جو قفل روز اول سے لگا تھا وہ ابھی تک نہیں ٹوٹا تھا
کئی مہینوں سے شاہ وِلا خاموش تھا پورا دن گھر میں خاموشی ہوتی وحشت ناک خاموشی ۔ یہ خاموشی صرف تب ختم ہوتی جب حیا کو درد کے دورے پڑتے کیونکہ تب گھر حیا کی اذیت ناک چیخوں سے گونج اٹھتا حیا کی چیخیں اس قدر دردناک اور کرب سے لبریز ہوتی کہ فریدہ بھی ڈر جاتی
حیا اپنا سر پکڑ کر کمرے کے ایک کونے میں تڑپتی چیختی رہتی شروع شروع میں تو فریدہ کے لئے یہ سب بہت ڈراؤنا تھا مگر اب وہ عادی ہو گئی تھی
دورے کے درمیان حیا کسی کے سنبھلنے میں نہیں آتی فریدہ تو کبھی کبھی پریشان ہو کر رونے بھی لگتی۔
اور حیا؟
اس کے لیے زندگی کسی عذاب سے کم نہیں تھی وہ درد کے دورے کے بعد اتنی نڈھال ہو جاتی کہ گھنٹوں صرف آنکھیں کھولنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی، جسم کا روم روم درد میں جکڑا ہوتا، پلکوں کی جنبش بھی اسے ایک اذیت سے دوچار کر جاتی یہاں تک کہ وہ سانسیں لیتی تب بھی درد کی لہر ایک اس کے جسم میں اٹھتی، ہر سانس کے ساتھ درد کی ایک لہر جسم میں اٹھتی، سانس لینا کسی طرح محال ہوتا ہے یہ کوئی حیا زمان سے پوچھتا
وہ دورے اس قدر اذیت ناک ہوتے کہ اسے لگتا تھا کہ بس اب اسی لمحے اس کی موت ہو جائے گی
جسم اس طرح درد سے ٹوٹتا جیسے اسکی شریانوں میں کوئی سوئیاں چبھو رہا ہو ، جسم میں گردش کرتے لہو کی جگہ خولتا ہوا سیسہ گردش کر رہا ہو، اسے لگتا یہ سیسہ اسکی روح کو جھلسا رہا ہو
کئی گھنٹے لگتے اس درد کو ختم ہونے میں جیسے ہی اسکے درد میں کمی آتی وہ ایک مرتبہ پھر ماضی کی بھول بھلئیوں میں کھو جاتی جس کا نتیجہ ایک اور دورے کی صورت میں نکلتا۔
اسے نہیں یاد تھا کہ اس نے کتنے دن، ہفتوں یا مہینوں سے باتیں نہیں کی، وہ کب سے اس کمرے میں قید ہے ، اسے صرف وہ واقعہ یاد تھا جو اسے توڑ چکا تھا ہر بار جب وہ شاہ زر کے بارے میں سوچتی نئے سرے سے عذاب سے گزرتی دل میں پھر سے چبھن ہوتی اتنا رو لینے کے باوجود آنسو پھر رواں ہو جاتے
حیا کو ہر دورے میں اتنا شدید درد اٹھتا اسے لگتا کہ اس درد کی وجہ سے اب وہ مر جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا شاید اسی زندہ رہنا تھا مزید درد برداشت کرنے کے لیے۔
وہ مجھ سے بے سبب الجھا نہیں تھا
وہ پہلے تو کبھی ایسا نہیں تھا
بہت اعلیٰ تھا اس کا ظرف لیکن
وہ میری ذات کو سمجھا نہیں تھا
وہ جتنی بے رخی سے چل دیا تھا
میں اتنا بھی گیا گزرا نہیں تھا
اسے میں کیوں برا ٹھہراؤں دوستوں
وہ اچھا تھا فقط میرا نہیں تھا
وہ بیٹھ کر فجر کی اذان سن رہی تھی لیکن اپنی بے بسی پر اسے پھر رونا آیا کیونکہ اب وہ نماز نہیں پڑھ پاتی تھی اسے یاد ہی نہیں تھا کہ اس نے کتنے ہفتوں دنوں یا مہینوں سے سورج نہیں دیکھا، کھلی ہوا میں سانس نہیں لی، اب تو اپنی زندگی سے عاجز آ گئی تھی
حالت تو پہلے ہی اس کی خراب تھی مگر آج صبح سے ہی اسے عجیب سی گھبراہٹ ہو رہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے ہاتھ پاؤں سے جان ختم ہو رہی ہو حلق میں کانٹے چبھ رہے ہیں جیسے جسم کو کسی نے برف کے درمیان رکھ دیا ہو
نجانے اسے بیٹھے بیٹھے کتنی دیر گزر گئی تھی
تبھی دھاڑ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور فریدہ اندر آئی وہ حواس باختہ ، گھبرائی، پریشان لہجے میں بولی
” باجی، باجی، آپ یہاں سے چلی جائیں”
حیا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا لیکن کچھ ہی دیر میں سب سمجھ میں آ گیا کیونکہ اس نے پیچھے سے داخل ہونے والے شخص کو دیکھا
وہ مسکرا رہا تھا، ایک مکروہ سی مسکراہٹ چہرے پر سامنے لیے عذیر حیات کھڑا تھا
“کیسی ہو؟”
وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے ان کے بیج خوشگوار تعلقات ہو
حیا کو یک لخت خوف نے گھیرا کیونکہ وہ پہلے والی حیا نہیں تھی اگر پہلے والی حیا ہوتی تو عزیر کو نانی دادی خالہ پھپھو سب یاد دلا دیتی اور دھکے مار کر گھر سے باہر نکالتی
لیکن۔۔۔۔
اب وہ حیا تھی ہی نہیں اسے عذیر حیات کے آخری الفاظ یاد تھے
جب اس نے عذیر حیات کا سر پھوڑا تھا تب اس نے کہا تھا
“اس کا خامیازہ تم بھگتو گی”
عذیر کو حیا کے تاثرات مزہ دے رہے تھے
” بالکل صحیح سوچ رہی ہو، بدلہ لینے آیا ہوں”
وہ کہتے ہوئے آگے بڑا حیا فواً جگہ سے کھڑی ہوئی اور باہر بھاگنے لگی
تبھی عزیر نے اسے پکڑ کر بیڈ پر پٹخا
حیا اسے منع کرنا چاہتی تھی پہلی مرتبہ اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا مگر اس سے بولا ہی نہیں گیا عزیر حیات حیا پر جھکا اور اس کے دونوں ہاتھ کلائی سے پکڑ لئے
حیا ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگی وہ صرف چیخ سکتی تھی حیا کو اپنی بے بسی پر رونا آنے لگا
“تڑپو، چیخوں، رو، تم جتنی تکلیف سے گزرو گی مجھے اتنی ہی خوشی ہو گی، سکون ملے گا”
کہتے ہوئے عذیر حیات نے حیا کے گلے سے دوپٹہ کھینچ کر پھینک دیا
” آج سارے حساب برابر کر دوں گا تم سے بھی اور تمہارے اس شوہر سے بھی “
“اسے میری ذات سے کوئی غرض نہیں ہے چاہے میں زندہ رہوں مر جاؤں یا بے آبرو ہو جاؤں، میں صرف اس کی غلطی ہوں یا وہ سودا جو اس نے اپنی بہن کا گھر بسانے کے لیے کیا تھا “
یہ سب وہ صرف سوچ ہی سکی بول کہاں سکتی تھی حیا پورا زور لگا رہی تھی چینخ رہی تھی ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی مگر وہ بیمار کمزور اس کا مقابلہ کہاں تک کرسکتی تھی
حیا کو لگا آج اس کی روح بھی فنا ہو جائے گی تبھی فریدہ نے کمرے میں رکھے گلدان کو عذیر حیات کے سر پر مارا وہ تڑپ کر پیچھے ہٹا اور اپنا سر تھام گیا بس یہی ایک موقع تھا حیا کے لیے وہ بے جان ہوتے وجود کو لے کر کمرے سے باہر بھاگی
عزیر حیات کچھ لمحوں میں سنبھلا تو ایک زور دار تھپڑ فریدہ کے منہ پر دے مارا
“تجھے تو میں بعد میں دیکھوں گا “
کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا تھا حیا اسے سیڑھیوں سے نیچے اترتی یعنی بھاگتی ہوئی نظر آئی
وہ چیل کی مانند اپنے شکار کے پیچھے لپکا
حیا کسی بھی طرح صرف ایک مرتبہ بچنا چاہتی تھی ہال میں آکر وہ میز سے ٹکرا کر گری
جانے کہاں کہاں چوٹ لگی مگر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
عزیر حیات اس کے پیچھے آ رہا تھا
یا اللہ!!!!!! بس ایک مرتبہ مجھے بچا لے
وہ اٹھ کر دوبارہ لڑکھڑاتے قدموں سے بھاگی نہ جانے کتنی مرتبہ کتنی چیزوں سے ٹکرائی آخر کار گھر کا دروازہ پار کر گئی لیکن عزیر حیات لان میں اپنے شکار پر جھپٹ پڑا اور ایک زوردار تھپڑ حیا کو مارا وہ منہ کے بل زمین پر گری
عذیر حیات نے اس کے بے جان ہوتے وجود کو بالوں سے پکڑ کر سیدھا کیا اور ایک اور تھپڑ سے مارا
حیا تڑپ کر رہ گئی اور وہ پھر اس پر قابض ہونے کی کوشش کرنے لگا اور حیا اس کے چنگل سے نکلنے کی۔
وہ چیل کی طرح اسکی بوٹی بوٹی نوچ کھانے کو بے تاب تھا مگر شکار کے ساتھ کھیلنا اسکی بے بسی کا مزہ لینا اسکی عادت میں شامل تھا۔
اس وقت شاہ وِلا کا لان حیا کی درد ناک چیخوں سے گونج رہا تھا اور عزیر حیات کا قہقہہ ماحول کو وحشت ناک بنا رہا تھا
عذیر حیات کے گارڈز کھڑے یہ منظر بڑے شوق سے دیکھ رہے تھے حیا سہمی چڑیا کی مانند اس کے جال سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی کسی حال میں عزیر حیات کے قابو نہیں آرہی تھی اور عزیر حیات کو اسکی تڑپتی حالت مزہ دے رہی تھی
اس کے لئے یہ ایک کھیل تھا جو بڑے شوق سے کھیل رہا تھا اسی تگ و دو کے دوران اس نے حیا کی قمیض کی آستین پھاڑ دی حیا کٗرلائی
اب اس کا ہاتھ حیا کے گریبان تک پہنچ چکا تھا اور حیا کو لگا اس کا دل اب بند ہو جائے گا