125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

تبھی اچانک کا دروازہ کھول کر حدید اندر داخل ہوا “حور میں کب سے آپ کو ڈھونڈ رہا ہوں”
حورعین فورا حدید کے پاس گئی
” کیوں کیا ہوگیا میرے کیوٹ حدید کو؟”
“او۔۔۔۔۔۔۔ حور آپ کتنی اچھی لگ رہی ہیں”
” تھینک یو حدید”
“اور میں کیسا لگ رہا ہوں؟”
حورعین نے اسے دیکھا بلیک جینز پر سفید شرٹ پہنے
وہ سچ میں بہت کیوٹ لگ رہا تھا
‘بہت زیادہ والے کیوٹ لگ رہے ہو “
وہ حور کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے ابھی اور کچھ کہنے والی ہوں شاید وہ کچھ اور سننا چاہتا تھا۔
“کیا ہوا ؟”
حورعین نے پوچھا
“حور جب آپ پچھلی بار آئی تھی تو تب میری برتھ ڈے تھی، تب بھی آپ نے کہا تھا میں کیوں لگ رہا ہوں “
“ہاں تو؟”
” تو میری تعریف کرنے کے بعد آپ نے مجھے یہاں کس کیا تھا اور کہا تھا جب آپ کو کوئی اچھا لگتا ہے تو آپ ایسے تعریف کرتی ہیں”
حدید نے اپنے گال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معصومیت سے اپنی خواہش کا اظہار کیا حورعین نے اسکی کی بات پر ہنس کر کہا
اچھا ہاں مجھے یاد آیا ،یہاں آؤ کیوٹ بوائے”
پھر جھک کر حدید کے گال چوم لیے۔
“حور آپ مجھے بہت اچھی لگ رہی ہیں تو میں بھی ایسے ہی تعریف کروں؟”
حدید نے پوچھا حورین کھکھلا کر ہنسی پھر کہا
“اچھا ٹھیک ہے”
حد ہے مطلب ،اس قدر فلرٹ تو میں بھی نہیں کرتا
شانزل صرف سوچ ہی سکا۔
حدید نے حور کے گال چومے اور شرما کر ہاتھوں میں منہ چھپا لیا
“اب میں حیا پھپھو کو چڑاؤں گا کہ حور نے مجھے کس کیا، آپ کو ممی بلا رہی ہیں “
کہہ کر وہ باہر بھاگ گیا۔
شانزل نے گلا کھنکار کر حورعین کو متوجہ کیا
“ویسے آپ میری بھی تعریف کر سکتی ہیں”
حورعین کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا جواب دے شانزل نے اسے شش و پنج میں مبتلا دیکھا تو کہا
” ٹھیک ہے میں ہی آپ کی تعریف کر دیتا ہوں”
کہہ کر وہ آگے بڑھا تو حورعین سٹپٹا گئی اور کہا مجھے رادیہ بھابھی بلا رہی ہیں
اور فورا باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل تیار ہونے کے بعد لان میں آیا تو نیچے فوٹو سیشن چل رہا تھا دولہن صاحبہ سب سے مختلف مختلف پوز بنوا کر تصویریں کھینچوا رہی تھی۔
حورعین دوسری طرف سے تیز قدموں کے ساتھ پھولوں کی تھال اٹھائے گھیردار شرارے میں تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی تب اس کے کانوں کے آویزے، ماتھے کی بندیا بھی ہل رہی تھی۔
اس نے مانگ نکال کر کچھ بال آگے لیے ہوئے تھے آگے نیچے کی طرف سے بالوں کو کرل کیا گیا تھا اس کے تیزی سے اترنے پر بال بھی باؤنس کر رہے تھے۔ اتنی دور ہونے کے باوجود شانزل اس کے وجود میں ہوتی ایک ایک جنبش کو محسوس کر رہا تھا وہ اس وقت سچ میں حور لگ رہی تھی جو جنت سے اتر رہی ہو وہ بھی صرف اسی کے لئے۔ جیسے جیسے وہ اس کی طرف قدم بڑھا رہی تھی شانزل کو لگ رہا تھا وہ قدم اس کے دل پر پڑ رہے ہو۔
اف۔۔۔ خدا یہ تو پوری طرح قابض ہو گئی ہے۔
وہ ہمیشہ کی طرح کسی کو بھی دیکھے بغیر حیا کے پاس گئی
“لو بھائی تمہارے پھول “
“اسے رکھو چلو تم میرے ساتھ تصویر بنواؤ”
” بالکل نہیں بہت ہو گئی تصویر، روم میں چل کر بیٹھو، مہمان آنے شروع ہوگئے ہیں اور اگر دادی نے تمہیں آوارہ گردی کرتے ہوئے دیکھ لیا تو تمہاری خیر نہیں”
” وہ دیکھو بھائی آ رہے ہیں کم از کم ان کے ساتھ ہی تصویریں بنوا لو “
اس کی بات پر حورعین نے پلٹ کر دیکھا تو شانزل فل بلیک تھری پیس سوٹ میں گولڈن ٹائی کے ساتھ سلطنت کا سلطان لگ رہا تھا حورعین نے خود سے سوال کیا کون سی سلطنت؟ کیا میرے دل کی سلطنت؟
“چلیں بھائی آپ جلدی سے آئیں اور تصویریں بنوائیں”
شانزل آگے بڑھ کر حورعین کے پہلو میں کھڑا ہو گیا
حورعین کو آج تک سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ وہ کس رنگ یا کس تاثر میں اچھا دکھتا ہے وہ جب بھی اسے دیکھتی وہ اسے پہلے سے زیادہ وجیہہ نظر آتا ہر مرتبہ ایسا لگتا کہ اسکی وجاہت کچھ اور بڑھ گئی ہے ۔
حورعین گردن گھومائے اسے ہی دیکھ رہی تھی اور شانزل کیمرے کی طرف، تبھی مووی میکر نے تصویر کھینچ لی
” مسز آپ اپنا دیکھنے کا شوق روم میں پورا کیجئے گا، فلحال کیمرے کی طرف دھیان دیں”
شانزل نے سامنے دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تو حورعین کو احساس ہوا اس نے فورا نظر کیمرے کی طرف کر لی اور اپنی بے اختیاری پر خود ہی مسکرائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین اور شانزل حیا کو لے کر، یہ کہنا بہتر ہوگا کہ زبردستی گھسیٹ کر کمرے میں آ گئے تھے ورنہ محترمہ کو تصویریں بنوانے سے فرصت نہیں تھی
اور بنوا تی بھی کیوں نہ آخر اپنے بچوں کو بتانا بھی تھا کہ انکی امی دلہن بن کریں خوبصورت لگ رہی تھی
تھوڑی دیر بعد حیا کا فون بجا اس نے فون ریسیو کیا
“وعلیکم اسلام، کون بات کر رہے ہیں ؟”
سامنے سے پتا نہیں کیا کہا جا رہا تھا حیا کے چہرے کے رنگ یک لخت بدلنے لگے اس نے نظر اٹھا کر حورین کو دیکھا حورعین نے اس کی پریشانی بھانپ لی اور اس کے ہاتھ تھامے اور سر اثبات میں ہلا کر اشارہ کیا جیسے کچھ بھی ہو میں تمہارے ساتھ ہوں۔
تب حیا نے ایک گہری سانس خارج کی اور پھر ایک ہی جملہ کہا
” ٹھیک ہے آپ نہ آئیں”
اور پھر فون رکھ دیا
“کیا ہوا حیا؟”
“طلال کا فون تھا “پھر حیا استہتزائیہ ہنسی
” انھوں نے کہا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتے ہیں ابھی وہ مجھ سے نکاح کرنے کے لیے راضی ہے مگر زندگی بھر وہ مجھ سے محبت نہیں کر پائیں گے وہ اپنے گھر والوں کے آگے بے بس تھے اسے لئے ہاں کی مگر وہ میرے ساتھ ناانصافی نہیں کرنا چاہتے تھے اسی لیے وہ پہلے ہی مجھے بتا رہے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح اپنی محبت حاصل کریں گے انہیں لگا تھا وہ اپنی محبت کے بغیر رہ لیں گے مگر اب نہیں رہ سکتے، لیکن وہ میری ہائے سے ڈرتے ہیں اسی لیے آخری فیصلہ انہوں نے میرے اوپر چھوڑا ہے تو میں نے کہہ دیا کہ آپ مت آئیں “
شانزل کا ازلی غصہ عود آیا۔
“یہ کون سا وقت ہے یہ سب کہنے کا “
“شان یہ وقت ان سب باتوں کا نہیں ہے مسئلہ پر ریئکٹ نہیں کریں اس کا حل سوچیں، اب سب کو بتانا ہوگا نیچے سارے مہمان جمع ہے “
حورعین نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا
“صحیح کہا حور تم جا کر رادیہ بھابھی سے کہو آگے وہ سب سنبھال لیں گی”
“تم ٹھیک ہو حیا؟”
حورین فکر مندی سے پوچھا
حیا نے اسے ایسے دیکھا جیسے پتا نہیں حورعین کونسی بات کر رہی ہو
“مجھے کیا ہونا ہے مجھے کون سی طلال سے محبت تھی جو میں ان کی یاد میں دیوانی بن جاؤں گی اور گانا گاتے پھروں گی تیری دیوانی، تیری دیوانی۔۔۔۔۔۔”
حیا نے ناک سے مکھی اڑائی
“حیا تم زندگی میں سیریز نہیں ہو سکتی”
ڈارلنگ میں حیا زمان ہوں تم مجھے کبھی بھی سریس نہیں دیکھو گی، بس اب تم دیکھنا میرے ابو کی بیوی کیا ڈرامہ لگاتی ہے اس وقت مجھے ضرور بلانا”
حورعین مسکرائی پھر کہا
” تم نے ایک دم صحیح فیصلہ کیا ہے حیا، ورنہ شوہر کی بے رخی جان نکال لیتی ہے”
ہمیشہ کی طرح شانزل کو ساکت چھوڑ کر چلی گئی شانزل کے کانوں میں ایک ہی جملہ گونج رہا تھا
” شوہر کی بے رخی جان نکال لیتی ہے”
“کوئی بات نہیں بھائی میری حور کا دل بہت بڑا ہے”
حیا کی آواز پر شانزل چونک گیا
” میں نے جان بوجھ کر کبھی کچھ نہیں کیا وہ میری زندگی میں آئی ہی عجیب حالات میں تھی پھر اسے سمجھنے میں اس سے واقف ہونے میں وقت لگا پھر مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اگر شانزل ابراہیم کے دل میں کوئی دھڑک سکتا ہے تو وہ صرف حورعین جہانزیب ہے اور یہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت سچ ہے، مگر انجانے میں ہی سہی میں اس کی اذیت کا سبب ہوں”
“آپ کو پتہ ہے بھائی، میں حورعین کو اتنا ہی جانتی ہوں جتنا باقی سب، اس نے اپنی ذات کے گرد دیوار کھڑی کر رکھی ہیں وہ کس درد سے گزر رہی ہے کسی کو نہیں بتاتی مگر آپ کے معاملے میں وہ بے بس ہے جب بھی وہ دکھی ہوئی اس نے مجھ سے شیئر کیا کیونکہ وہ صابر شہزادی اپنے شہزادے کے معاملے میں بہت حساس ہے”
حیا نے آخری جملہ شرارت سے ادا کیا اس کی بات پر شانزل مسکرایا
تبھی اشعر اور رادیہ بھابھی اندر آئیں وہ رو رہی تھی آتے ساتھ ہی حیا کے گلے لگ گئی
“ارے بھابھی خدا کا خوف کریں ہٹیں جلدی میرا میک اپ خراب ہو جائے گا”
رادیہ بھابھی منہ کھولے اسے دیکھنے لگی
“بھابھی رونا بند کریں اتنی محنت سے میکپ کروایا ہے خراب کردیں گی خود کا بھی میک اپ”
اور یہ لگایا تھا اشعر نے قہقہہ پھر کہا
“بھابھی یہ حیا ہے، حیا زمان اس سے ہر الٹے کام کی توقع رکھی جا سکتی ہے”
اللہ کا شکر ہے حیا نے اتنا سیریس نہیں لیا ورنہ میں تو ڈر گئی تھی “
رادیہ بھابھی نے سکون کا سانس لیا
“اشعر کے بچے نیچے سے انار کا جوس لے کر آؤ مجھے بھوک لگی ہے ویسے نیچے کا کیا حال ہے؟”
“ہونا کیا ہے، دادی تو کچھ بولے ہی نہیں ہے تمہارے ابو کی بیوی اور عاطف نے واویلا مچایا ہے اور ہمیشہ کی طرح زمان چچا خاموش ہیں”
اشعر مانو اخبار پڑھ کر سنا رہا تھا
“ایسا کچھ چٹپٹا بتاؤ جو مجھے نہ معلوم ہو”
” چٹپٹی کی کچھ لگتی اندر سیریس میٹنگ چل رہی ہے جس میں اعظم بھائی، بھابی کے امی، دادی اور زمان چچا ہیں”
“ہائے اشعر کیا فلمی سین ہے”
اب حیا تو حیا ہے اس سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیچے کی میٹنگ کا نتیجہ باہر آ چکا تھا اب حیا اور حور، ہانیہ کو چپ کروانے کی تگ و دو کر رہی تھیں۔ اور ہانیہ صاحبہ گلا پھاڑ کے رونے میں مصروف تھی۔
“اب چپ کر جاؤ ہانیہ کی بچی، پورے میک اپ کا ناس مار لیا ہے تم نے “
“ہاں آپ بھی مجھے ڈانٹ لیں سب مجھ پر حکم چلا رہے ہیں ، میں بتا رہی ہوں میں نہیں کرنے والی اس چھچھندر سے شادی”
ہانیہ روتے روتے بول رہی تھی کیونکہ نیچے سے فیصلہ آیا تھا کہ گھر کی عزت بچانے کے لیے نکاح ہونا لازمی ہے، پہلے تو کہا گیا کہ اشعر کا نکاح حیا سے کروا دیا جائے مگر حیا تو حیا ہے فٹ سے منع کر دیا
“میرا موڈ نہیں ہے نکاح کرنے کا”
کہہ کر سائیڈ ہو گئی اب کس میں اتنی مجال ہے جو حیا کو اپنے فیصلے سے ہلا سکے۔
اب محترمہ ہانیہ پھنس گئی۔
اسی وجہ سے وہ اتنا واویلا مچا رہی تھی۔
“چپ کر جاؤ، اشعر کو تم بچپن سے تو جانتی ہو” حورعین نے سمجھانا چاہا
“آپی وہ مجھے بہت پریشان کرتا۔۔۔۔۔۔۔”
ہانیہ کی بات پوری ہونے سے پہلے رادیہ بھابھی اندر آئیں
“دیکھو ہانیہ ابو کے جانے کے بعد دادی نے ہمارا کتنا خیال رکھا ہے اب وہ جب ہم سے کچھ کہہ رہے ہیں تو ہم کیسے ٹال سکتے ہیں مجھے پتا ہے ہماری ہانیہ احسان فراموش نہیں ہے دوسری بات تم اپنے بچپنے سے باہر آکر دیکھو اشعر میں کوئی برائی نہیں ہے جسے وجہ بنا کر تم منع کرو نہ شرابی ہے نہ زانی ہے سب سے بڑی بات اعظم ہے میں ہوں اشعر میرا دیور ہے لیکن تم جتنا ہی عزیز ہے اس میں ہر وہ خوبی ہے جو میں تمہارے شوہر میں دیکھنا چاہوں گی ، ایک اور بات بھی لیکن میں چاہوں گی کہ وہ اشعر خود تمہیں بتائے، مجھے یہ بات تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اشعر ایک اچھا لڑکا ہے”
ہانیہ کو چپ سی لگ گئی
“ابھی تھوڑی دیر میں نکاح خواں آئیں گے فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے”
کہہ کر رادیہ بھابھی چلے گئی ہانیہ 5 منٹ تک چپ رہیں مگر پھر رونے لگی
“اب کیا ہوا؟”
حورعین نے پوچھا
” آپی دیکھئے نا رادیہ آپی نے مجھے نکاح کا جو دوپٹہ اوڑھایا ہے وہ لال رنگ کا ہے”
کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں
“تو کیا ہوگیا؟” اب کی بار حیا نے پریشانی سے پوچھا
“وہ چھچھندر کر کہہ کر گیا تھا میں لال دوپٹہ اوڑھونگی تو سگنل لگونگی “
حیا اور حورعین دونوں کھلا کر ہنسنے لگے
پھر ہانیہ ابرار کے تمام تر جملہ حقوق اشعر احمد کے نام لکھ دیے گئے۔
حیا اسی طرح دلہن بنیں پھر رہی تھی یہ کہنا بہتر ہوگا انجوائے کر رہی تھی حورین ڈھال بنے اس کی ساتھ تھی۔ ہانیہ کی حالت اور رویہ دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ رخصتی کر دی جائے مگر کل۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ اپنے نکاح کے جوڑے میں دوپٹے کے ساتھ حیا اور اپنے مشترکہ کمرے میں اوندھی لیٹی ہوئی تھی تبھی دروازہ کھلا ہانیا کا خیال تھا کہ حیا ہوگی اسی لیے اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔
“السلام علیکم”
اشعر کی آواز پر چونکی ضرور مگر پلٹی نہیں
اشعر نے پھر بولنا شروع کیا
“میں تمہیں کسی کے بارے میں بتانے آیا ہوں میری ایک کزن جو بچپن میں مجھ سے بہت اٹیچڈ تھی،
وہ صرف میرے ساتھ کھیلتی تھی پھر ہماری فیملی یہاں سے شفٹ ہوگئی تو ہمارے درمیان دوریاں گئے پھر جب ہم واپس آئے تو وہ تو مجھ سے بات ہی نہیں کرتی تھی وہ مجھ سے کیا کسی بھی میل کزن سے بات نہیں کرتی تھی میں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے بات کرے اس کا اٹینشن پانے کے لیے میں اسے تنگ کرنے لگا وہ مجھ سے لڑتی جھگڑتی مگر توجہ دیتی مجھے یہ چیز اچھی لگنے لگیں لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ بات اسے مجھ سے دور کر دے گی تم مجھے اچھی لگتی ہو پتہ نہیں کب سے ، میں یہ ساری باتیں تمہیں نکاح کے بات بتانا چاہتا تھا تمہاری عزت مجھے ہر چیز سے عزیز ہے اسی لئے اپنے جذبات کو خود تک محدود رکھا۔ پھر خدا نے بھی تمہیں میرے نصیب میں لکھ دیا”
ہانیہ نے پلٹ کر اسے دیکھا
“لیکن تم اب بھی مجھے موٹی لگتی ہو آج تو سگنل اور اتنا رو رو کر تو ٹماٹر بھی لگ رہی ہو، آج ایسے منہ بنایا ہوا ہے، اس سڑی شکل کے لیے میں دکھائی نہیں دوں گا، چھپکلی کہیں کی”
یہ کہہ کر اشعر رکا نہیں روم سے بھاگ گیا اور ہانیہ کے چہرے پر اور دل میں سکون اتر آیا۔ چاہے جانے کا احساس کس قدر دلفریب ہوتا ہے اسکا ادراک ہانیہ کو آج ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل اور حورعین واپسی کی تیاری کر رہے تھے شانزل کے کپڑوں پر جوس گر گیا تھا تو وہ شاور لے رہا تھا اور حورعین سارے سامان سمیٹ رہی تھی تبھی شانزل باہر نکلا۔ حورعین اپنی جگہ ساکت ہو گئی وجہ اس کے چہرے پر غصہ تھا۔ اس نے ایک نظر دیکھنے کے بعد نظر جھکا لی وہ باہر نکلا تو شرٹ کے سارے بٹن کھلے ہوئے تھے بلیک سینڈو میں اس کا کشادہ سینہ واضح نظر آتا تھا وہ جھنجھلایا ہوا تھا اس نے موبائل اٹھا کر کال ملائیں
“رفیق، ابھی کے ابھی اس شوروم کے مالک سے رابطہ کرو اتنی ہزاروں کی شرٹ لی ہے اوپر سے کالر کے پاس stiched نہیں ہے میری دو انگلیاں آرپار ہو رہی ہے اب میں کیا پہنوں؟ اسے کہو مداوا کرے ورنہ میں اس کا شوروم بند کروا دوں گا”
ہمیشہ کی طرح اپنی ہی کہہ کر ٹھک سے فون بند کر دیا حورعین نے سوچا کتنا غصہ آتا ہے معمولی سی تو بات ہے پھر شانزل نے حورعین کی طرف دیکھا وہ اب بھی سجی سمجھے اس کا امتحان لے رہی تھی۔
“آپ کوئی حل نکال سکتی ہیں اس کا؟”
” میں۔۔۔۔۔ میں سوئی دھاگا لے کر آتی ہوں”
وہ چھپاک سے سوئی دھاگہ لے کر آئیں
“میں سِل دیتی ہوں”
دراصل دوسرا مطلب یہ تھا کہ شرٹ دے دیں مگر شانزل مطمئن سا کھڑا رہا مطلب ہاں سِل دو۔
حورعین چاروناچار سِلنے کے لیے آگے آئیں مگر شانزل ابراہیم کا چھ فٹ سے نکلتا قد اور کسرتی جسم اس کے سامنے حورین نازک کمسن سی موم کی گڑیا جتنی لگ رہی تھی اس کی گردن تک دیکھنے کے لیے اسے اچکنا پڑ رہا تھا۔
“آپ۔۔۔ آپ بیٹھ جائیں”
حورعین نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا وہ بیٹھا تو حورعین جھک کر کالر دیکھنے لگی وہ جھکی تو احتجاجاً بال اگے کو آگئے کانوں کے جھمکے اور ہاتھوں کی چوڑیاں شور کرنے لگی
اف۔۔۔ یہ تو میرا ایمان خراب کر رہی ہے”
” آپ بھی بیٹھیں حور”
وہ بیٹھ کر ٹانکے لگانے لگی اس کے ہاتھوں کی لرزش شانزل محسوس کر سکتا تھا شانزل کے چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ آئی۔ حورین نے نظر اٹھا کر اسے دیکھنے کی غلطی کر دی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ایک بار پھر اس کی دل کی دنیا میں طوفان مچا۔ شاور لینے کی وجہ سے گیلے بال ماتھے پر بکھرے تھے اور ان سے پانی ٹپک رہا تھا وہ بہت احتیاط سے ٹانکے لگا رہی تھی کہ کہیں اس کی انگلیاں گردن پر مس نہ ہوجائیں اور شانزل پوری طرح حورعین کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ حورین اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی
” شان آپ پلیز کہیں اور دیکھیں”
مگر شانزل پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا شانزل با آسانی حورعین کے دل کی دھڑکنیں سن سکتا تھا۔
“ہوگیا ہے لیکن دھاگا کانٹنا ہے اور رادیہ بھابی کے پاس قینچی نہیں ہے تو کیا کروں؟”
حورعین نے مسئلہ بتایا
” میں کونسا درزی ہوں جو مجھے پتا ہو گا آپ ہی کوئی حل نکالیں”
(ہائے ہمارا معصوم شانزل ابراہیم 🤭🤭🤭)
حورین تو شش و پنج میں پڑ گئی
“جلدی کریں حور”
حور جھجکتے ہوئے آگے بڑھی اپنے دانتوں کے استعمال کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا حورین تھوڑا آگے کھسک کر بیٹھ گئی۔
دھڑکا تو اس مرتبہ شانزل ابراہیم کا دل بھی تھا حورعین نے آگے بڑھ کر دانتوں سے دھاگہ کاٹا تو اس کے رخسار اور لب شانزل کی گردن کو چھو گئے وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی اور چھپاک سے باہر چلی گئی۔
“اف یہ لڑکی حد ہے!
شانزل ابراہیم شرم کر جاؤ اپنی بیوی کے سامنے ٹین ایجرز والی حرکتیں کرتے ہو”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی واپسی کے راستے پر گامزن تھی حورعین اس واقعے کے بعد شانزل سے نظریں ہی نہیں ملا پا رہی تھی۔ رات گہری تھی ہر طرف سناٹا تھا اور گاڑی میں ‘مجھ کو برسات بنا لو’ گونج رہا تھا
یہ وہ راستہ نہیں تھا جس سے وہ لوگ آئے تھے شانزل نے گاڑی ایک اونچے سے مقام پر روکی باہر نکلنے پر حورعین کو لگا جیسے وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں نیچے پورا شہر نظر آرہا تھا شہر میں اس وقت ننھی ننھی لائٹیں جل رہی تھی جیسے کسی نے تارے زمین پر بکھیر دیے ہو۔
“یہ چادر ہٹا دیں یہاں کوئی نہیں آئے گا”
حورعین نے چادر کار میں ہی رکھ دی۔ وہ اسے لیے کچھ دور کنارے پر آ کھڑا ہوا
ہوا کے دوش سے حورعین کے بال اڑ رہے تھے شانزل کو وہ دل میں اترتی محسوس ہوئی۔
حورعین تو نیچے نظر آتے منظر میں کھوئی تھی اچانک اس نے شانزل کو دیکھا مگر اسے اس قدر اپنی طرف متوجہ پا کر نظریں جھکا لی۔
“حور میری طرف دیکھیں”
حورعین نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
“حورعین ہم دونوں بہت ہی عجیب صورت حال میں ملے ، میں وہ سب یاد نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بات سچ ہے کہ میں آپ کو حویلی والوں جیسا ہی سمجھتا تھا، مگر میں غلط تھا آپ ان جیسی نہیں ہے بلکہ سب سے ہی مختلف ہے یا صرف مجھے ہی لگتی ہیں، پتہ نہیں، میں بہت جذباتی اور غصے والا ہوں شاید اسی لیے میرا رویہ ایسا تھا، مگر وقت کے ساتھ آپ کو جانا تو مجھے احساس ہوا کہ اگر شانزل ابراہیم کسی کو اپنی زوجیت میں لیتا تو وہ صرف حورعین جہانزیب ہو سکتی تھی میں آج آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔” وہ کچھ لمحوں کے لیے رکا پھر مسکرایا اور حورعین کا دل آنے والے لمحوں کے لیے بے تاب ہوا
حورعین کا دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔
“بلکہ میرا بس چلے تو یہ بات میں آسمانوں پر لکھ دوں، ویسے لکھ دینے میں کیا حرج ہے؟” کہہ کر شانزل نے چٹکی بجائی اور پورے شہر کی بجلی غائب ہو گئی ہر طرف اندھیرا چھا گیا زمین پر بکھرے ٹمٹماتے تارے اچانک بجھ گئے شانزل ابراہیم نے اسی ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا حورعین نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا تبھی آتش بازی ہونے لگی کالا آسمان اچانک رنگ میں رنگنے لگا جب بھی کوئی رنگ آسمان میں بکھرتا وہی رنگ حورعین کی آنکھوں میں تیرنے لگتے آسمان میں پورے زور و شور سے آتش بازی ہو رہی تھی کچھ دیر بعد جب پٹاخوں سے رنگ نکلے تو وہ بکھرے نہیں بلکہ لفظوں کی شکل اختیار کرنے لگے
وہ لفظ تھے
جسے دیکھ کر حورعین کی سانسیں ایک لمحے کو رکی۔ان لفظوں نے حورعین جہانزیب کی زبان گنگ کردی تھی۔”
حور” کہہ کر شانزل نے حورعین کے ہاتھ تھامے حورعین نے شانزل کو دیکھا اپنی وجاہت کی روشنی سے چمکتا چہرا۔
” میں خدا کو حاضر ناظر جان کر آپ سے محبت کا اعتراف کرتا ہوں ہاں شانزل ابراہیم کو حورعین شانزل ابراہیم سے محبت ہو گئی ہے، آپ پورے طمطراق سے شانزل ابراہیم کے دل کی سب سے اونچی صند پر براجمان ہے، آپ شانزل ابراہیم کے دل کی سلطنت پر حکمرانی کرتی ہیں، میں آج آپ سے سب کچھ کہہ دینا چاہتا ہوں۔ آپ میری زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو ہیں ،میرے دل میں دھڑکن نہیں آپ دھڑکنے لگیں ہیں”
وہ مانو قطرہ قطرہ آبِ حیات اسکے کانوں میں انڈیل رہا تھا۔
“پاک اور نیک سیرت عورتیں اللہ بہت ہی خوش نصیب مرد کی تقدیر میں لکھتا ہے اور اس کاتبِ تقدیر نے آپ کو میرے نصیب میں لکھ کر مجھے معتبر کر دیا ہے، میں بہت خوش نصیب ہوں کہ اس ربِ کریم نے وقت گزرنے سے پہلے ہی لمحہ آگہی کی تفہیم دی۔ آپ میری متاعِ حیات اور میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ اور میں شانزل ابراہیم آج آپ کو آپ سے ہی مانگتا ہوں”
شانل نے ایک بیگ اس کے آگے کیا
“حور یہ آپ کی حق مہر کی رقم ہے اور آج میں آپ کو پورے خلوص سے دے رہا ہوں”
حور دم سادھے اسے سن رہی تھی۔
“حورعین میں باقی سطحی مردوں جیسا نہیں ہوں کہ جب چاہے دھتکار کر دیا جب چاہا اپنا لیا۔ آپ وقت لیں، یہ رشتہ ہم دونوں کے درمیان ہے تو فیصلہ بھی دونوں کا ہی ہوگا۔ زندگی کے فیصلے لمحوں میں نہیں لیے جاتے۔ آج سے ٹھیک 16 دن بعد یعنی جس دن ایگریمنٹ کی ڈیٹ ختم ہونے والے تھی اس دن آپ اپنا فیصلہ سنائیے گا۔ میں خود کو آپ پر مسلط نہیں کرنا چاہتا اور میں منتظر رہوں گا آپ کے فیصلے کا”
شانزل نے مسکرا کر اپنی بات ختم کی
آج حقیقی معنوں میں اسے تسلیم کیا تھا اور مان دیا تھا
“چلیں؟” شانزل نے اجازت چاہی تو حورعین نے نم آنکھوں سے مسکرا کر اثبات میں ہلایا ۔
وہ دونوں گاڑی کی طرف بڑھ گئے آسمان سے ہلکی ہلکی بوندیں برسنے لگی ایک دم ٹھنڈی پھوار جیسی۔ شاید حور کے ساتھ آج آسمان بھی شانزل ابراہیم کی طرف سے دیے جانے والے مان پر خوش تھا۔