Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226

Last updated: 10 September 2025

125.5K
41

Nazool Muahbbat

By Shahi

وہ کائنات کی واحد لڑکی تھی جس کے آگے شاہ زر جہانزیب کی ثابت قدمی گھٹنے ٹیک دیتی تھی وہ واحد لڑکی تھی جس کے آگے شاہ زر جہانزیب بے اختیار ہو جاتا تھا آج بھی ہونے لگا تھا یا شاید وہی لڑکی تھی جو شاہ زر جہانزیب کو بے اختیار کر سکتی تھی کچھ ساعتیں تو ایک دوسرے کو محسوس کرتے گزری اس کا یہ انداز برسوں سے جلتے شاہ زر جہانزیب کے دل میں موجود طوفانوں کو متاثر کر رہا تھا پھر بھی وہ بھرپور کوشش کر رہا تھا کہ کسی طرح حیا کو ٹال دے "ایک عرصے سے آپ مہر بہ لب ہیں اب بس کردیں کب تک خود کو نظر انداز کریں گے۔۔۔۔۔ آپ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتے مگر اپنی ذات پر ظلم کر جاتے ہیں۔۔۔۔۔ شاہ زر کب تک اپنی تکلیف کو خود سے چھپاتے رہیں گے" شاہ زر جہانزیب ان لوگوں میں سے تھا جو دوسروں کے زخموں پر مرہم تو رکھتے ہیں مگر اپنے زخموں کو کچھ سے بھی چھپا لیتے ہیں "حیا پلیز میرے زخم نہ ادھیڑو" شاہ زر کے لہجے میں ایک زمانے کا کرب تھا حیا زمان نے آج ارادہ کر لیا تھا شاہ زر جہانزیب کے زخموں اور اس کے درمیان موجود بے نیازی کی دیوار کو گرا کر ہی رہے گی "نہیں شاہ زر میں تو آپ کے زخموں کی مسیحائی کرنا چاہتی ہوں، آج حیا زمان، شاہ زر جہانزیب سے پہلی اور آخری بار کچھ مانگتی ہے، آج حیا زمان، شاہ زر جہانزیب سے مسیحائی کا حق مانگتی ہے، شاہ زر میں آپ کی دیوانی ہوں اس دیوانگی کے صدقے اپنے غموں کے چند سکے میرے کشکول میں ڈال دیں" شاہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا نیلی آنکھیں اپنے اندر کا حال چھپانے کی پوری کوشش کر رہی تھی " اس دیوانگی کے صدقے شاہ زر جہانزیب قربان میری جان۔۔۔۔" اس کے لفظوں پر تڑپ ہی تو اٹھا تھا وہ اپنے رخسار پر رکھے ہاتھ کو چوما " اس دیوانگی کے صدقے شاہ جہانزیب کی خوشیاں قربان، اس دیوانگی کے صدقے شاہ زر جہانزیب کی زندگی قربان۔۔۔۔۔۔۔۔ تم خود کے لیے ایسے لفظوں کا استعمال نہ کیا کرو" "تو بس مجھے شاہ زر جہانزیب ہی چاہیے، مجھے کسی چیز کی چاہ نہیں رہی، مجھے شاہ زر جہانزیب چاہیے، اس کی ذات کا حصہ بننا ہے کیونکہ شاہ زر جہانزیب ہی میری دنیا ہے " شاہ زر کی نظر اپنے ہاتھ میں موجود حیا کے ہاتھ پر جا ٹکی یا شاید وہ حیا کی آنکھوں میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا " ایک عرصے سے میں نے خود کو محسوس نہیں کیا پتا نہیں شاہ زر جہانزیب کا وجود کس حال میں ہے" " آج محسوس کر لین شاہ زر" حیا نے ایک مرتبہ پھر اس کا دل سہلا کر تسلی دی "خوف آتا ہے" " کس سے؟" " بکھرنے سے" شاہ زر کے خول کے ساتھ حیا کہ دل میں کہیں بہت اندر کچھ ٹوٹا تھا اس طرح شاہ زر جہانزیب کو دیکھنا بہت مشکل کام تھا " میں سمیٹ لوں گی " اور آخر کار شاہ جہانزیب کی بے نیازی نے گھٹنے ٹیک دیئے اس نے تھکن زدہ انداز میں اپنی پیشانی حیا کے کندھے پر رکھ دی اور اپنے ہاتھوں کو اس کے گرد باندھ لیا "حیا" اس کا کرب آلود پکار پر ہی حیا کی آنکھیں نم ہو گئیں شاہ زر کی سانسین کچھ تیز ہو گئی تھی شاید وہ ضبط کر رہا تھا "میں آپ کے پاس ہوں اور آپ کے ساتھی بھی" حیا نے اپنے ہاتھ اس کے چوڑے شانوں کے گرد باندھے کر اپنے ہونے کا یقین دلایا اپنی انگلیاں اس کے گھنے ملائم بالوں میں پھیری کئی عرصے پہلے کی خواہش پوری ہوئی تھی " بس یہی تو شاہ زر جہانزیب کے جینے کی وجہ ہے ورنہ زندگی کے راستے تو شاہ زر جہانزیب گیارہ سال پہلے خود پر بند کر چکا ہے۔۔۔۔۔ میں ایک جدی پشتی رعیس جہانزیب سکندر کی پہلی اولاد تھا مجھے ویسے ہی آسائیشیں ملی جیسی ملنی چاہئے تھی مگر ایک جھٹکے سے زندگی نے مجھے عرش سے فرش پر لا پٹخا۔۔۔۔۔ میں یتیم ہوگیا۔۔۔۔۔اس دنیا میں یتیمی سب سے بڑی محرومی ہے۔۔۔۔۔وہ صنم جو میرے جگر کا ٹکڑا تھی خون آلود کپڑوں میں دوڑتی ہوئی آکر میرے گلے لگ کر رو پڑی ۔۔۔۔۔اس بری طرح کانپ رہی تھی کہ میں سن رہ گیا۔۔۔۔۔میں 17 سال کا تھا، نہ مجھے دنیا کی سمجھ تھی نہ دنیا داری کی، میں نے دنیا کا بہت بھیانک روپ دیکھا اس وقت نہ میرے پاس سر رکھ کر رونے کے لئے کندھا تھا نہ چھپ جانے کے لیے آغوش، حیات سکندر کی شرط قبول کرنے کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا میں سب چھوڑ بھی دیتا مگر ماں باپ کے بعد صنم کو اس درندے کے حوالے کرنا۔۔۔۔۔۔۔ بے بسی کیا ہوتی ہے کوئی مجھ سے پوچھتا۔۔۔۔۔۔ حیا مجھ سے بڑا بدنصیب کون ہوگا۔۔۔۔۔ مجھے تو میرے باپ کی قبر کے نشان تک کا نہیں پتا۔۔۔۔۔۔ حیات سکندر نے انہیں مٹی تک نصیب نہیں ہونے دی، میں بھی تو انسان ہوں جب میرا دل ماں باپ کی جدائی سے کرلائے تو میں کہاں جا کر فاتحہ پڑھوں؟ حیات سکندر نے میرے پیروں کے نیچے سے زمین ہی نہیں سر سے آسمان بھی کھینچ لیا۔۔۔۔۔۔" اس نے بولنا شروع کیا تو بولتا ہی چلا گیا آواز اتنی بھاری تھی اس میں برسوں کے غموں کا بوجھ تھا "حیات سکندر مجھ سے چمٹی ہوئی صنم کے لئے شرائط سامنے رکھ رہا تھا جن کے مطلب تو اسے سمجھ ہی نہیں آتے تھے۔۔۔۔۔ اس وقت جو میں نے فیصلہ کیا اس سے کرنے کے لیے بہت بڑا جگر چاہیے جو شاید ہی دنیا میں کسی کے پاس ہے، آناٌ فاناً حیات سکندر نے پیپر سائن کروائے ، دبے لفظوں میں مجھے اشارہ دیا کہ اپنی جان بچ جانے پر شکر کروں اور لوٹ کر نہ آؤ، دوسری طرف صنم۔۔۔۔۔۔۔ وہ بچی تھی۔۔۔۔۔ دس سال کی بچی، جو اس حادثے کو قبول نہیں کر پا رہی تھی وہ خون آلود کپڑوں، ماں باپ کے خون سے سنے ہاتھ اور چہرہ لئے اس قہر سے بکھر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ میں اس سے کہہ رہا تھا میں واپس آؤں گا وہ مان ہی نہیں رہی تھی،،،،، مجھے کھو دینے کے خوف سے وہ مر جانے کو ہوئی حیا۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔ اس نے کہا بھی اگر میں اسے چھوڑ کر گیا تو وہ مر جائے گی۔۔۔۔۔ لیکن میں بے بس تھا، میں اسے ہمت دے رہا تھا صبر کرنے کی تلقین کر رہا تھا، وہ دس سال کی بچی تھی بہت سی باتیں تھیں جو میں اس سے سمجھا نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔" اس کی آواز نم ہو رہی تھی یہ نمی برسوں کے غموں کے سمندر کی تھی یہ نمی اپنے آپ میں طغیانیاں لیے ہوئے تھی اس نے کہا تھا کہ تم ان طغیانیوں کی زد میں آ جاؤں گی اور حیا زمان ان طغیانیوں کی زد میں آ گئی تھی "میں ایک انتظار کی آس تھما اسے چھوڑ آیا۔۔۔۔ انتظار بھی گیارہ سال کا۔۔۔۔۔۔ یہ گیارہ سال میں نے کیسے کاٹے ہیں یہ صرف میرا رب جانتا ہے حیا۔۔۔۔۔۔۔ جب میں وہاں سے نکلا تو بالکل خالی ہاتھ تھا دنیا کی ٹھوکروں نے مجھے اتنا کمزور کردیا کہ موت میں اور مجھ میں صرف ایک قدم کا فاصلہ تھا۔۔۔۔ سترہ سال کا لڑکا کتنی ہمت کا مظاہرہ کر سکتا ہے مگر سرکاری ہسپتال کے بیڈ پر پڑے میرے بے یارومددگار وجود کو اچانک احساس ہوا کہ اگر میں اپنے زخموں اور غموں پر ہی روتا رہوں گا تو جلد ہی مر جاؤں گا۔۔۔۔۔ اگر میں مر گیا تو میرے جگر کا ٹکڑا جو میرے انتظار میں ہے، اس کے ساتھ وہ لوگ نہ جانے کیا کریں گے، اسی دن شاہ زر جہانزیب نے اپنے غم، تکلیف، درد، زخم سب خود ہی سے چھپا لیے۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے آپ کو خود میں دفن کر لیا۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی زندہ رہنے کے لیے خود کو اپنے ہی وجود میں دفن کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔ یہ بڑا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ " شاہ زر جہانزیب کی ایک آہ ہی حیا زمان کے دل کے ہزار ٹکڑے کر گئی اس نے کہا تھا کہ بہت سے طوفان ابل رہے ہیں ان میں زخمی ہو جاؤ گی

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!