Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
شانزل کے تیور تن گئے اب حویلی کے ہال میں تین نفوس تھےاور خاموشی کا راج۔اس خاموشی کو عثمان صاحب کی آواز نے توڑا ۔
“یہ لڑکی کون تھی؟”
وہ حیات سکندر سے مخاطب تھے۔
“میری بھتیجی”
“ٹھیک ہے، میں مولوی کو بلا رہا ہوں ابھی نکاح پڑھوانا ہے” عثمان صاحب نے جیسے شانزل کے سر پر تیسرا بم پھوڑا۔
حیات سکندر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عثمان صاحب ایسا کریں گے حیات سکندر کے چہرے پر پہلے حیرانی کے تاثرات ابھرے پھر اسکی جگہ مسکراہٹ نے لے لی ۔
“آپ تکلف نہ کریں، میں مولوی صاحب کو بلاتا ہوں”
اتنا کہ کر حیات سکندر اٹھ کر چلے گئے۔
“خالو آپ یہ کیا۔۔۔۔۔۔”
عثمان صاحب نے شانزل کی بات کاٹ کر کہا
“میں تم سے کوئی صفائی نہیں مانگ رہا ہوں میں نے تمہاری پرورش کی ہے میں تمہیں جانتا ہوں، مگر میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میں تمہاری زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ نہیں “
عثمان صاحب نے جیسے شانزل کے الفاظ ہی چھین لیے۔
شانزل نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی صاحب نے حیات سکندر سے پوچھا
“حق مہر کتنا لکھوں “
حیات سکندر مسکرائے اور شانزل سے پوچھا
“پچھلے ہفتے جو پروجیکٹ ہمارے بجائے تمہاری کمپنی کو ملا، وہ کتنے روپیوں کا تھا؟”
شانزل نے حیرت سے حیات سکندر کی طرف دیکھا یعنی یہ شخص صرف ایک پروجیکٹ نہ ملنے کی وجہ سے یہ سب کر رہا ہے۔
شانزل کی طرف سے جواب نہ پاکر حیات سکندر نے حق مہر دس کروڑ لکھوا دیے۔ شانزل کا جی چاہا ابھی انکار کر دے مگر اس نے اپنے خالو کی طرف دیکھا اور پھر انتہائی اکھڑ، ہٹ دھرم، مغرور، ضدی شانزل ابراہیم بے بس ہو گیا اور اس نے حورعین جہانزیب کو اپنی زوجیت میں لے لیا۔
نکاح کے بعد عثمان صاحب نے شانزل سے کہا
“میری فلائٹ ہے ، میں جا رہا ہوں تمہاری خالہ سے موقع دیکھ کر خود بات کروں گا “
کہ کر وہ چلے گئے۔
شانزل ابھی بھی سوچوں میں گم رہتا لیکن اسکی توجہ روڈ پر سامنے سے آنے والے ٹرک نے دلائی اگر وہ صحیح وقت پر ٹرن نہ لیتا تو ایکسیڈینٹ ہو جاتا۔
اس نے آس پاس نظر دوڑائی تو دیکھا کہ وہ گھر کے قریب تھا گھڑی دیکھی بارہ بجنے والے تھے اس نے ڈھائی گھنٹے کا سفر ایک گھنٹے میں طے کیا تھا۔
شانزل کا غصہ کسی قیمت پر کم نہیں ہو رہا تھا۔
اور پھر مرسڈیز آہنی گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔
حورعین نے گاڑی رکنے پر نگاہ اٹھا کر دو ہزار گز پر مشتمل عالیشان سے شانزل وِلا کو دیکھا۔ شانزل اترا اور اب وہ اسی کی طرف آرہا تھا دروازہ کھول کر شانزل ابراہیم نے حورعین کی کلائی تھامی اور ایک بار پھر گھسیٹتا ہوا لے جانے لگا وہ وِلا میں داخل ہوا ہال کے بعد زینے عبور کرنے لگا۔
شانزل نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر آکر جھٹکے سے حورعین کی کلائی چھوڑی۔
حورعین اگر خود کو نہ سنبھالتی تو یقیناََ زمین بوس ہو جاتی۔
شانزل آگے بڑھ کر میز کے پاس گیا بیگ اٹھا کر کھولا اور حورعین لے سامنے پھینکا۔کچھ نوٹ زمین پر بکھر گئے۔
“لو، ہو گیا مقصد پورا؟” لہجے میں حقارت آمیز پھنکار تھی۔
حورعین کو لگا شانزل اسکے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل رہا ہو۔
اب شانزل حورعین کے سامنے کھڑا تھا۔
“خیر تم نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہ معاملہ اس حد تک پہنچ جائے گا کہ نکاح کرنا پڑیگا، ایک بات تمہیں باور کرا دیتا ہوں کہ تین مہینے بعد میں اس ڈرامے کو ختم کر دوں گا تب تک تم یہاں رہ سکتی ہو، نیچے جو کمرے ہیں اس میں سے کسی ایک میں رہ لینا یہ سب میری برداشت سے باہر ہے مگر بہت نا قابل برداشت کام کر رہا ہوں یہ ایک اور سہی، جہاں چاہے آؤ جاؤ لیکن کوشش کرنا مجھے تمہاری شکل نہ دیکھنی پڑے”
شانزل بول رہا تھا اور حورعین کو لگ رہا تھا زمین پھٹے اور اس میں سما جائے۔ وہ منہ نیچے کیے آنسو بہانے کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔
شانزل کی نظریں روشندان پر تھیں اگر وہ اسے دیکھ لیتا تو اپنا سارا غصہ اس پر اتار دیتا اسی لیے شانزل نے حورعین کی طرف دیکھنےسے گریز کیا ۔
شانزل اس وقت خود کو بے بسی کی حد پر محسوس کر رہا تھا اس نے دونوں ہاتھوں سے بال تھامے اور بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔
سارے دن کی تھکن اور ذہنی اذیت کے سبب وہ پانچ منٹ میں ہی نیند کی وادی میں اتر گیا۔ حورعین ساکت کھڑی تھی جیسے پتھر کی ہو اسکا سکتہ تب ٹوٹا جب شانزل کی گہری سانسوں کی آواز کمرے میں گونجنے لگی ۔
حورعین نے آنسو بھری نگاہوں سے پہلے بیگ کو دیکھا پھر شانزل کو وہ بس اتنا ہی سوچ سکی
“یا اللہ، ،،، ایک اور آزمائش “
بھاری دل اور متواتر بہتے آنسوؤں کے ساتھ آگے بڑھ کر پہلے شانزل کے پیر جوتوں سے آزاد کیے پھر موزے۔ اور پھر گھڑی ہاتھ سے نکالی کمفرٹر اوڑھا کر لیمپ بند کیا مڑ کر بکھرے نوٹ بیگ میں ڈالے اور اسے لے کر باہر نکل گئی۔ نیچے سب سے آخری کمرے کا دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔ وہ رات حورعین پر بہت بھاری گزری مگر گزر ہی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح شانزل کی آنکھ کھلی تو سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا ۔
شانزل تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ تیارہوکر نیچے آیا سعیدہ بوا(ملازمہ) سے کہہ کر ناشتہ کیا شکر کیا کہ حورعین کی شکل نظر نہ آئی چابی اور موبائل لے کر آفس روانہ ہوگیا ۔
آفس پہنچتے ہی رفیق کو بلوایا ایک پیپر اسے تھمایا جس پر لکھا تھا
“حورعین جہانزیب، حیات سکندر کی بھتیجی “
اور کہا
“تمہارے پاس ایک گھنٹہ ہے انفارمیشن نکالنے کے لیے”
ایک گھنٹے بعد رفیق شانزل کی کیبین میں داخل ہوا
“ہمم، شروع کرو”
اپنے باس کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بولنا شروع کیا
“حورعین جہانزیب، جہانزیب سکندر کی اولاد ہے جو ایک زمانے کے جاگیردار تھے۔ سر، جب حورعین دس سال کی تھیں تبحورعین کے والدین ایک سڑک حادثے میں فوت ہو گئے لیکن اس حادثے میں حورعین کی جان بچ گئی “
شانزل کچھ چونک سا گیا۔
“پھر حورعین کی پوری ذمہ داری انکے چچا نے لے لی ۔ اٹھارہ سال کے ہونے کے بعد وہ شہر آگئیں ہوسٹل میں رہنے لگی، پڑھائی جاری رکھی ، لاہور انسٹیٹیوٹ میں ایڈمیشن لے رکھا ہے، وہ اپنی پڑھائی وغیرہ کے اخراجات کے لیےایک فرم میں جاب کرتیں تھی”
“تھیں مطلب؟”شانزل نے رفیق سے پوچھا
“سر دس دن پہلے ان کے چچا آئے اور انھیں لے گئے، جس کی وجہ سے اب وہ جاب لیس ہیں”
” اوکے، یو مے گو ناؤ”
رفیق کے جانے کے بعد شانزل نے سامنے میز پر رکھے پیپر ویٹ کو تین چکر گھمانے کے بعد شانزل نے وکیل کو فون لگایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فاروق صاحب(شانزل کے وکیل ) آپ نے سارے پوائنٹس شامل کیے ہیں نہ”
” جی شانزل سر آپ ایک بار چیک کر لیں “
شانزل نے ایگریمنٹ پڑھنا شروع کیا
پھر شانزل نے سر اٹھا کر اثبات میں ہلایا جس کا مطلب تھا All ok
“فاروق صاحب میں چاہتا ہوں یہ ایگریمنٹ آپ کے سامنے ہی سائن ہو ” وہ ازلی سنجیدگی سے کہہ کر شانزل نے گھر فون ملایا۔ تیسری بیل پر سعیدہ بوا نے فون اٹھایا
“گھر پر جو بی بی ہیں انھیں بلائیں “
“لیکن بیٹا وہ تو گھر پر نہیں ہے “
“کیا مطلب نہیں ہے؟ کب نکلیں؟”
شانزل نے حیرت سے پوچھا ۔
“بیٹا وہ تو تمھارے نکلنے سے پہلے ہی چلی گئیں تھی”
” کچھ بتایا آپکو کہاں جا رہی ہیں “
شانزل نے ایک اور سوال داغا۔
” میں نے پوچھا کہ تم پوچھو گے تو کیا جواب دوں؟ تو کہنے لگی انٹرویو دینے جانا ہے”
“اچھا ٹھیک ہے ” کہہ کر فون رکھا
اور رفیق کو بلوایا اور اس سے کہا
“نمبر دیں”
رفیق نے سمجھ کر حورعین کا نمبر شانزل کو دیا ۔ نمبر ملانے کے بعد دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا
“اسلام علیکم “
یہ پہلا لفظ تھا جو شانزل نے حورعین سے سنا تھا۔ سلام کا جواب دینے کا تکلف نہیں کیا گیا
“شانزل ابراہیم بات کر رہا ہوں “
حورعین کے بڑھتے قدم رکے اسے لگا جیسے کسی نے اس کے الفاظ ہی چھین لیے ہو۔
“کہاں ہو؟” شانزل نے دوٹوک لہجے میں پوچھا ۔
وہ پہلے ہی حواس میں نہیں تھی اس نے نظر اٹھا کر دیکھا جیسے میں کہاں ہوں؟
پانچ سیکنڈ بعد ڈھونڈ ڈھانڈ کر آواز نکالی
“جی-ٹی-روڈ”
“ٹھیک ہے، 25 منٹ کی ڈرائیو پر ہے آفس سے، میں ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں”
کہہ کر شانزل نے فون رکھ دیا ۔
اور ادھر حورعین نے بے بسی سے موبائل دیکھا۔
شانزل فاروق صاحب سے مخاطب ہوا”آپ کی ضرورت 25 منٹ بعد پڑے گی، میری بھی ایک میٹنگ ہے تب تک آپ لنچ کر لیں”
کہہ کر وہ کانفرنس روم کی طرف چلا گیا ۔
میٹنگ ختم کر کے نیچے آکر کلائنٹس کو سی آف کرنے کے بعد جب گھڑی پر نظر ڈالی تو سوا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ اسکا غصہ عود آتا اس سے پہلے اسے حورعین نظر آئی۔
کندھے پر پرس ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل جو تقریباََ آدھی خالی تھی اور دوسرے ہاتھ میں موبائل پکڑے وہ چلی آ رہی تھی ۔
اس نے نظر اٹھا کر 25 منزلوں کی شیشے سے بنی Shanzil industries کو دیکھا ۔ دھوپ کی شدت سے آنکھیں نہیں کھل رہی تھیں۔ گال سرخ ہو رہے تھے گوری رنگت پر سرخ رخسار الگ ہی منظر پیش کر رہے تھے ۔
وہ چلتی ہوئی گیٹ تک آئی اور ٹھٹھک کر وہیں رک گئی کیونکہ سامنے شانزل ابراہیم کھڑا تھا۔
بنا کچھ کہے وہ چلنے لگا اور تین قدم کا فاصلہ رکھے حورعین چل رہی تھی۔
کیبن میں داخل ہونےکے بعد شانزل نے اپنی کرسی سنبھالی اور حورعین کھڑی ہی رہی۔
“فاروق صاحب شروع کریں “شانزل نے فون دار لہجے میں کہا۔
اور پھر کیا تھا فاروق صاحب شروع ہو گئے ۔
“دیکھیں، میں فاروق صدیقی ہوں، شانزل ابراہیم صاحب نے مجھ سے ایگریمنٹ بنوایا ہے جو آپکے نکاح ست تعلق رکھتا ہے”
حورعین نظریں نیچی کیے ایسے کھڑی تھی جیسے اسے سزا سنائی جا رہی ہو۔
“وکیل ہونے کے ناطے میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس ایگریمنٹ کی شقوں سے باور کرواؤں، اس میں لکھا ہے کہ شانزابراہیم نے آپکو حق مہر ادا کر دیا ہے، یہ نکاح وہ تین مہینے ہی قائم رکھیں گے لیکن اس دوران آپ شانزل ابراہیم کے کیے کسی بھی فیصلے پر آپ اعتراض نہیں کریں گی، ان کی زندگی میں دخل نہیں دیں گی، تین مہینےتک آپ انکے گھر میں رہ سکتیں ہیں۔شانزل ابراہیم، ان کے گھر، پراپرٹی، آفس، پیسے غرض ان سے جڑی کسی بھی چیز پر نہ آپکو حق ہے نہ ہوگا، جب سر آپکو آزاد کردیں گے تو آپ کسی بھی قسم کا دعویٰ نہیں کریں گی، کیا آپکو منظور ہے؟ اگر ہے، تو اس پر دستخط کردیں اگر آپکو کوئی اعتراض ہے یا کچھ پوچھنا ہے یا اس میں کوئی پوائنٹ شامل کرانا ہے تو آپ مجھے کہہ سکتی ہیں “
اتنی بڑی تقریر کے بعد فاروق صاحب خاموش ہو کر دونوں کو دیکھا
حورعین کی نظر اب بھی زمین پر تھیں
اور شانزل کی نظریں میز پر رکھے ہیں ہولڈر پر جیسے نجانے اس میں سے کیا دریافت ہونے والا ہو ۔
حورعین نے بیگ سے پین نکالا اور دستخط کرنے آگے بڑھی تو فاروق صاحب نے اسے ٹوک دیا ۔
“میرے خیال میں آپکو دستخط کرنے سے پہلے ایگریمنٹ پڑھ لینا چاہیے “
حورعین نے انکی بات سن کر انکی طرف دیکھا اور پھر پیپر پڑھنے کی بجائے دستخط کردیے۔
دستخط کرتے وقت ایک آنسو ٹوٹ کر ایگریمنٹ پر گرا۔
فاروق صاحب نے وہ ایگریمنٹ شانزل کے آگے کیا اس نے پڑھا ہوا ایگریمنٹ پھر پڑھا اور دستخط کر دیے ۔ شانزل کی آنکھوں سے ایگریمنٹ پر گرا ہوا آنسو چھپ نہ سکا۔
فاروق صاحب اٹھ کھڑے ہوئے
“ٹھیک ہے شانزل سر اب مجھے اجازت دیجیئے “
کہہ کر فاروق صاحب چلے گئے ۔
انکےجاتےہی حورعین بھی بنا کچھ کہے شکستہ قدموں سے چلی گئی۔
شانزل کی نظر اب بھی گرے ہوئے آنسو پر تھی۔ صرف خالو کی وجہ سے اسے یہ ڈرامہ تین مہینے تک چلانا پڑے گا ورنہ حیات سکندر کی بھتیجی کو وہ ابھی فارغ کر دیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
