125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

“ہاں کچھ آفس ورک ہے انشاءاللہ پرسوں تک واپس آجائیں گے “
حیا کو اطمینان ہؤا مگر حورین تو اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی
” تو آپ حیا کو لے جائیں ساتھ”
” میں کہیں نہیں جاؤں گی، تمھارا دھیان کون رکھے گا “
“میرا خیال رکھنے کے لیے اشعر اور ہانیہ تو ہے نا، وہ رکھ لیں گے میرا خیال “
“میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی “
بحث کو لمبا ہوتا دیکھ شاہ زر نے مداخلت کی
“دیکھو صنم میں اور شانزل بھی یہاں نہیں ہوں گے تمہارا خیال رکھنے کے لیے حیا کا یہاں ہونا ضروری ہے ویسے بھی حیا سے زیادہ تمہارا خیال کون رکھ سکتا ہے، پیکنگ کرو شانزل پہنچتا ہو گا “
وہ چلی گئی تو شاہ زر حیا کی طرف مڑا
” ہاں تو کہاں تھے ہم؟”
” پیکنگ پر “
حیا نے اطمینان سے جواب دے کر اچھے خاصے موڈ کا بیڑا غرق کردیا تھا
“تمہاری خبر تو میں واپس آ کر لوں گا”
حیا نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی
“آپ کچھ کھائیں گے؟”
شاہ زر نے منہ بنایا
“پرسوں تک میں نہیں ہوں تب تک تم سیکھ لینا”
” کیا”
” شوہر کے دلجوئی کے طریقے، شوہر کو روکنے کے طریقے، شوہر کا استقبال کرنے کے طریقے”
حیا وارڈروب میں منہ دیئے کپڑے نکال رہی تھی سر باہر نکال کر کہا
“اللہ اللہ کس قدر ہولا دینے والا سلیبس بتا رہے ہیں آپ “
کہتے ہوئے سارے کپڑوں کو بیگ میں رکھنے لگی حیا کے آنکھ پھاڑ کر کہنے پر شاہ زر نے قہقہہ لگایا اور آکر بیڈ پر بیگ کے پاس ہی کروٹ کے بل لیٹا لیٹ گیا
مٹھی بنا کر سر کے نیچے رکھی
“جلدی سے سلیبس پورا کرو تمہیں اچھی بیوی ہونے کی ڈگری ملے گی”
” صدقے جاؤں ایسی ڈگری کے۔۔۔۔ یہ اچھی بیوی ہونے کی ڈگری ہے یا چھچھورے پن میں ماسٹر کی ڈگری”
” تم یہ چوڑیاں اتار کر کام کرو”
شاہ زر کی بات پر بیگ کپڑے رکھتی حیا چونکی
“کیوں “
شاہ زر نے بہت نرمی سے اس سے کی چوڑیوں سے بھرے ہاتھ تھامے
“کیونکہ یہ مجھے ڈسٹرب کر رہی ہیں، میرا جانا ازحد ضروری ہے اور تمہاری چوڑیاں میرا ایمان خراب کر رہی ہیں”
” میں۔۔۔میں حور کی ہیلپ کر کرا دوں پیکنگ میں؟”
” مت جاؤ یار”
شاہ زر اسے اس وقت جانے نہیں دینا چاہتا تھا
“حور کے کمرے میں بیگ الماری کے اوپر رکھا ہے اسے تو عادت ہے سپر وومن بننے کی، مجھے جانے دیں پلیز”
شاہ زر نے مسکرا کر اس کا ہاتھ چھوڑا
“جاؤ”
یہی ادا دل چرا لیتی تھی اس کی
” سنو “
شاہ زر نے پکارا تو حیا نے مڑ کر دیکھا
“تھینک یو صنم کا اتنا خیال رکھنے کے لیے”
” اپنا تھینک یو اپنے پاس رکھیں میری حور کا خیال میں رکھ سکتی ہوں”
” ٹھیک ہے تو پھر یہ بتائیے یہ اہتمام تم نے میرے لیے کیا ہے؟”
شاہ زر کا اشارہ اس کی تیاری کی طرف تھا
“صرف بات کو طول دینے کے لئے آپ کس قدر بے تکے کی سوال کر رہے ہیں ۔۔۔۔ کس کے لئے تیار ہو نگی میں؟ آپ کے لئے ہی ہوں”
شاہ زر نے تاسف سے سر ہلایا وہ حیا تھی کبھی سیدھا جواب نہیں دینے والی تھی
” اچھی لگ رہی ہو”
حیا مسکراتی ہوئی باہر چلی گئی
شاہ زر اور شانزل کے جانے کے بعد تو مانو حیا کا دل ہی نہیں لگ رہا تھا مگر یہ تسلی تھی کہ وہ پرسوں تک آ جائے گا رات وہ حور کے ساتھ سوئی
دوسرے دن وہ لوگ شاپنگ کرنے گئے حیا کا بس چلتا تو وہ بے بی کے لیے ساری دنیا خرید لیتی شاید ایسا کر بھی لیتی مگر واپسی تک اس کی طبیعت خراب ہوگئی اور اچھی خاصی خراب ہوگئی حورین کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے اچھا تھا کہ اشعر اور ہانیہ ساتھ تھے ورنہ شاہ زر اور شانزل کی غیر موجودگی میں تو اس کے دماغ نے کام کرنا ہی بند کر دیا تھا
ہاسپٹل میں بروقت اسے ڈرپ چڑھائی گئی پھر خیر و عافیت سے گھر آگئی
رات وہ اپنے کمرے میں لیٹی تو شاہ زر کا فون آگیا
“السلام علیکم “
“وعلیکم السلام ہیپی اینیورسری زوجہ محترمہ”
” ہیں ؟ کیا ہماری شادی کو ایک سال ہوگیا ؟”
“جی بالکل ہو گیا ہے”
” تو پھر آپ کو بھی مبارک ہو”
” شکریہ شکریہ کاش میں وہاں ہوتا تو کسی دوسری طریقے سے مبارکباد وصول کرتا مگر خیر ہے کل تو آ رہا ہوں”
” کل کب تک آئیں گے؟”
” ابھی آجاؤں”
“چپ کر بیٹھیں، بتائیں کب تک آئیں گے؟”
” انشاءاللہ دوپہر تک ویسے تم کس قدر ظالم ہو انسان اپنے شوہر کی خیر و عافیت کے لیے ہی فون کر دیتا ہے مگر تم نے مجھے یاد نہیں کیا ، اشعر نے فون کر کے تمہارے ڈاکٹر کا نمبر کیوں لیا تھا؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟”
اچانک شاہ زر کو یاد آیا تو بات کرتے کرتے درمیان میں سوال پوچھ لیا
“لو اس اشعر کے بچے نے آپ کو فون کر دیا؟ بس ہلکی سی ویکنیس تھی اور کچھ نہیں “
“تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں اور صنم نے بھی نہیں بتایا؟”
لہجے میں فکرمندی تھی
” ارے کچھ نہیں ہوا بس میں نے ایک دم سے دوائیاں لینے بند کر دی تھی نہ، اسی کا سائیڈ افیکٹ ہے میں تو ایک دم فٹ ہوں”
” حد ہوتی ہے غیر ذمہ داری کی بھی میں وہاں نہیں ہوں تو کسی کو خیال نہیں کہ مجھے فون کرکے انفارم کرے، اچھا فون رکھو میں کچھ گھنٹوں میں پہنچ رہا ہوں “
شاہ زر اڑ کر آنے کو تیار تھا
“ارے ارے۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوا اور خبردار جو آپ آئے میں ایک دم ٹھیک ہوں سچ میں چپ چاپ بیٹھیں رہے وہاں پر اور ویسے مجھے بتائیں میرے لیے کوئی گفٹ لیا ہے یا صرف خالی خولی مبارکباد سے کام چلانا پڑے گا”
شاہ زر دوسری طرف مسکرایا
“بتا دوں؟”
مسکراتا لہجہ، اتنی دور سے بھی حیا نے اس کی مسکراہٹ پوری جان سے محسوس کی تھی
” جلدی بتائیں “
“چھوڑو تم کل خود دیکھ لینا ویسے مجھے کیا دو گی؟”
” میں مل گئی ہوں آپ کو یہی بہت ہے”
شاہ زر نے جاندار قہقہہ لگایا
“اف حیا تم بالکل سوچ کر نہیں بولتی ویسے یہ سب سے بہترین تحفہ ہوگا تم خود کو میرے حوالے کر دینا”
اور یہ ہوئی تھی حیا کی بولتی بند
شاہ زر نے بات جاری رکھی
” اور خبردار جو تم کل بے ہوش ہوئی “
“آپ فلرٹ کر رہے ہیں میرے ساتھ؟”
” پرمیٹ ہے میرے پاس “
جواب پورا آیا تھا
“اللہ شاہ زر پہلے کتنا کم بولتے تھے “
“بولنے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو تم نے دیکھا نہیں ہے”
میں فون رکھ رہی ہوں”
” رکھ سکتی ہو ؟”
شاہ زر نے جیسے چیلنج کیا تھا حیا خاموش ہوگئی
“باگڑبلّا، ہر بات کا جواب ہوتا ہے”
” حیا”
شاہ زر نے پکارا اچانک اسکا لہجہ بدل گیا تھا
“جی “
“مجھے تمھارے بال بہت پسند ہیں “
حیا نے بے اختیار اپنے بال چھوئے
” جب میں نے پہلی بار تمہارے بال دیکھے تو بے اختیار دل چاہا انہیں چھو کر دیکھوں”
شاہ زر کھوئے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا
“تمہیں یاد ہے ہماری شادی والے دن تم نے کہا تھا ہماری حور کتنی خوش لگ رہی ہے حالانکہ وہ صرف تمہاری تھی مگر اسے ہماری کہہ کر تم نے میرا سیروں خون بڑھا دیا تھا، اف۔۔۔۔۔ کاش میں اس وقت وہاں ہوتا”
حیا اسکی بے تابی پر ہنس پڑی
” ہنس لو تم، بس ایک بار آ جاؤں”
” آپ مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں؟”
“تم دھمکیوں سے ڈرنے والی ہو کیا؟”
“بالکل نہیں “
“حیا I miss you”
حیا شاہ زر سے اس طرح کے جملے کی توقع نہیں رکھتی تھی
“تمہارے بغیر میرے دل کو چین نہیں آتا، پتہ ہے مجھے کیسا لگ رہا ہے “
“کیسا؟”
حیا نے بے اختیار پوچھا
“تمہارا قرب اور بانہیں تمہاری
یہ سب حسرت سے سوچا جا رہا ہے
جلن، وحشت، خماری، اضطرابی
یہ سب ایک ساتھ ہوتا جا رہا ہے”
حیا کی دھڑکن شور مچانے لگی
“اف حیا تمہاری دھڑکن مجھے یہاں تک سنائی دے رہی ہے “
حیا نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا
” تمہارا ابھی سے یہ حال ہے تو کل کیا ہو گا “
“اب آپ ڈرائیں تو مت، کس قدر نروس کر رہے ہیں مجھے”
” تم نروس کب سے ہونے لگی ،ویسے پتا ہے میں نے کل کے بارے میں کیا سوچا ہے”
حیا خاموش ہی رہی شاہ زر نے خود ہی کہنا شروع کیا
“لفظوں کی شرارت سے بدن کے چور ہونے تک
میں تجھ کو اس طرح چاہوں کہ دل میری سانس رک جائے
خطاؤں پر خطائیں ہو نہ ہو کچھ بات کہنے کو
میں تجھ میں یوں سما جاؤ کہ میری سانس رک جائے
نہ ہمت تجھ میں باقی ہو نہ ہمت مجھ میں باقی ہو
مگر اتنا قریب آؤ کہ میری سانس رک جائے
میں اپنے لب یوں رکھ دوں تیرے لبوں پر
یا تیری پیاس بجھ جائے یا میری سانس رک جائے”
گمبھیر لہجے میں کہتا حقیقتاً حیا کی سانس روک گیا
حیا خاموشی رہی اس کی سانسیں منتشر ہو رہی تھی کچھ لمحے تو معنی خیز خاموشی سے گزرے پھر شاہ زر نے پوچھا
“حیا تم میرا انتظار کرو گی نا؟”
حیا نے بمشکل “جی ” کہا اور فون رکھ دیا اور اپنا چہرہ تکیہ میں چھپا لیا
” اللہ خیر پتہ نہیں اچانک کیا ہو گیا ہے انہیں”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن شاہ زر اور شانزل سے واپس آئے تو دیکھا حیا حور کے سر پر کھڑے ہو کر برہم ہو رہی ہے اشعر اور ہانیہ عانیہ مزے لے لے کر یہ منظر دیکھ رہے تھے
حیا جب بھی کوئی جملہ جھنجھلاہٹ میں کہتی عانیہ پوری طرح اپنی زبان میں ساتھ دیتی
اسکے ہاتھوں کی حرکتیں یہاں تک کہ سر ہلانے کا انداز بھی اپنے انداز میں نقل کرتی
“اسلام علیکم”
شانزل نے با آواز سلام کیا تو سب ہی متوجہ ہوئے
حیا فورا ان دونوں کے پاس آئی اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا ہی تھا کہ شاہ زر آگے بڑھا اور نرمی سے پیشانی چومی
“طبیعت کیسی ہے اب؟”
حیا کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ سب کی موجودگی فراموش کر گیا ہے یہ جان کر نظر انداز کر رہا ہے
وہ جواب کیا دیتی بلکہ سب کی موجودگی میں جھجک سی گئی
“ٹھیک ہوں “
گرجتی برستی حیا ایک دم شانت ہوگئی
شاہ زر نے ایک ہاتھ حیا کے شانے پر رکھ کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے سوفے تک لایا اسے بٹھا کر خود بھی ساتھ بیٹھ گیا
تبھی اچانک اشعر کو مصنوعی کھانسی کا دورہ پڑا وہ زور زور سے کھانسنے لگا
حیا نے کشن اٹھا کر پوری قوت سے اسے مارا جس سے کھانسی کا دورہ ہنسی کے دورے میں بدل گیا
سبھی مسکرانے لگی
” تمہیں تو بعد میں دیکھتی ہوں ، بھائی آپ ہی سمجھائیں حور کو محترمہ میری ایک نہیں سنتی کتنی بار منع کیا ہے اسے کیچن میں نہ جائے مگر یہ میری سنتی نہیں ہے اوپر سے وہ منہوس کافی کا ڈبّا ہی پھینک دوں گی اب میں نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری حد ہوتی ہے دوسرا کپ ہے یہ کافی کا جبکہ ڈاکٹر نے منع کیا ہے اسے آپ خود منع کریں میری تو سنتی نہیں”
ویسے ہی بولی جس طرح اسے عادت تھی بغیر قومہ اور فل سٹاپ کے
اس کی سانس پھول گئی
“صنم بچے خیال کرو اپنا”
شاہ زر نے مانو حیا کو تسلی دی
حیا نے اسے گھور کر دیکھا
“حور کا خیال رکھنے کے لیے میں ہوں بس اسے کہیں مجھے خیال رکھنے دے”
” رکھتی ہوں اپنا خیال، اب میرا دل ہو رہا تھا کافی پینے کا انسان کافی بھی نہیں پی سکتا”
حور نے کچھ لاڈ سے کہا
“پی سکتی ہو بالکل پی سکتی ہو لیکن کچھ مہینوں بعد، بلکہ تم کہو تو کافی کی ایک فیکٹری بھی کھول لوں گا “
شانزل بہت آرام سے بات سنبھالی
“یہ مجھے کچن میں بھی نہیں جانے دیتی اب انسان کام بھی نہ کرے؟ بیٹھے بیٹھے بور ہو جاتی ہوں مجھ سے بیٹھا ہی نہیں جاتا “
لگے ہاتھوں حورعین نے حیا کی شکایت لگائی جس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا
“یہ تو غلط بات ہے حیا، ٹھیک ہے صنم تم جا سکتی ہو کچن میں، مگر صرف شام کی چائے پکانے”
شاہ زر نے فورا مسئلے کا حل بتایا
“چلو شکر ہے ورنہ دونوں صبح سے دونوں نرسری اسکول کی بچیوں کی طرح بحث کر رہی ہیں ایک کہتا ہے “تمہیں ڈاکٹر نے منع کیا ہے” دوسری کہتی ہے “کل تمہاری طبیعت خراب تھی خبردار جو تم نے کسی کام کو ہاتھ لگایا” کون کہے گا یہ معاشرے کے قابل سیول انجینئر ہے، ویسے یہ عجوبہ جوڑی نہیں ہے یہ دنیا کی پہلی نند بھابھی ہے جو صبح سے اس لیے بحث میں مشغول تھے تاکہ دوسرا کوئی کام نہ کرے”
اشعر کی دہائی پر سب ہنسنے لگے
بیل ہوئی ملازم نے دروازہ کھولا تو عاطف زمان کو دیکھ کر سبھی کی ہنسی رکی
“اپنا غلیظ وجود لے کر دفع ہو جاؤ”
اشعر کا لہجہ بہت سخت تھا
“میں تم سے ملنے نہیں آیا ہوں بلکہ میں تو صرف شاہ زر جہانزیب ملنے آیا ہوں”
اس نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ حیا کو دیکھا
“شان آپ ابھی اسے باہر نکلوائیں، کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی بات سننے کی “
حورعین کی تو جان ہی جل گئی
” ارے تم اس قدر مشتعل کیوں ہو رہی ہو میں صرف ایک سوال پوچھنے آیا ہوں”
اس لہجہ اطمینان سے بھرا ہوا تھا جو حیا کو ہولائے دے رہا تھا
“منہ کھولنے سے پہلے ہزار بار سوچنا عاطف زمان، تم اس وقت یہاں صرف اسی لیے کھڑے ہو کیوں کہ تم میری بہن کے سوتیلے ہی سہی مگر بھائی ہو”
شانزل نے دبے لفظوں میں جیسے دھمکی دی
وہاں اگر کوئی شخص تھا جو نارمل تھا، تو وہ تھا شاہ زر جہانزیب
سپاٹ چہرے کے ساتھ
“میں تو شاہ زر جہانزیب سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ کیا انہیں پتہ ہے کہ انکی سو کالڈ بیوی اپنے سابقہ منگیتر طلال مرزا سے ملتی ہے اور اسے کافی پیسے بھی دیتی ہے “
مانو کوئی بم پھٹا تھا فردوس بریں میں
” میں اس کا منہ نوچ لوں گی”
حورعین جارحانہ انداز میں آگے بڑھی جسے شانزل نے روکا اشعر کا غصے کے مارے برا حال تھا
اور حیا وہ تو پتھر کی ہوگئی
اسے کیسے پتہ چلا ؟ وقت یہ سب سوچنے کا نہیں تھا
اسے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کیا کر رہا ہے کہہ رہا ہے اس نے اس شخص کی طرف دیکھا جس سے اسے فرق پڑتا تھا
حیا نے شاہ زر کی طرف دیکھا
اسی وقت شاہ زر نے گردن گھما کر منتظر نگاہوں سے حیا کو دیکھا
تو کیا اسے اب بھی صفائی درکار تھی ؟
کیا وہ اب بھی شک کر رہا تھا؟
حیا نے پوری قوت جمع کی اسے صفائی تو دینی تھی اس کے لیے پل صراط سے گزرنا ہی تھا
محبت جو کرتی تھی
“شاہ زر۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔”
حیا نے کہنا شروع ہی کیا کہ شاہ زر نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا اور اٹھ کھڑا ہوا
وہاں سب سکتے میں آ گئے
وہ اٹھا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گیا
حیا بے دم سی زمین پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی