125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

اس آدمی نے ٹریگر دبایا مگر گولی نہیں چلی اس کی گولیاں ختم ہو گئی تھی باقی سب نے بھی اپنی بندوق چلائی تو گولی ختم تھی یہ شاید معجزہ تھا
جو حیا کے لیے ہوا تھا پھر اس آدمی نے چاقو نکالا حیا نے آنکھیں مینچ لی اس آدمی نے وار کرنے کے لئے ہاتھ چلایا یہ منظر شاہ زر نے دور سے دیکھا گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے گن نکالی نشانہ لگایا اور گولی چلا دی گولی سیدھا چاقو چلانے والے کے ہاتھ پر لگی اور چاقو کے ساتھ وہ بھی نیچے گر پڑا گاڑی ایک جھٹکے سے حیا کے پاس رکی سبھی شاہ زر کو دیکھ رہے تھے وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آیا اور چلتا ہوا حیا اور ان آدمیوں کے درمیان کھڑا ہو گیا حیا تو پوری شاہ زر کے پیچھے چھپ گئی شاہ زر نے ان پر نشانہ لگایا لیکن سبھی ڈر گئے شاہ زر کو یہ بات سمجھ آ گئی کہ ان کی گولیاں ختم ہے شاہ زر ایک انداز سے مسکرایا
گن پینٹ میں پھنسائی اس کے بعد ایک کو اشارے سے بلایا اور کہا
“میں نے نہتّوں پر ہتھیار کے ساتھ وار نہیں کرتا، میں مرد ہوں”
حیا نےتعجب سے اسے ڈائیلاگ مارتے دیکھا تبھی ایک آدمی دوڑتا ہوا شاہ زر کی طرف آیا اور شاہ زر کے ایک گھونسے سے ہی زمین پر ڈھیر ہو گیادوسرا بھی آ رہا تھا تو حیا نے چیخ کر کہا
“رکو تم”
پھر شاہ زر سے مخاطب ہوئی
” آپ مرد ہیں یا بیوقوف؟ گن ہونے کے باوجود ہاتھوں سے لڑائی کیوں کر رہے ہیں؟”
شاہ زر نے اس کی بات ان سنی کر دی پھر لڑائی کرنے لگا
حیا کی آواز آئی
” آپ یہ کیا کر رہے ہیں ؟گن نکالیں اور گولی چلائیں ڈھشکیاؤں، ڈھشکیاؤں۔۔۔۔ اف کیا فلمی سین ہوگا”
وہ ہاتھوں کی انگلیوں کی مدد سے گن بنائے باقاعدہ لہک لہک کر اشاروں میں بتا رہی تھی شاہ زر کے ساتھ باقی آدمیوں نے بھی حیا کو تعجب سے دیکھا پھر اپنا کام شروع کر دیا۔
حیا کو تو تپ ہی چڑھ گئی وہ شاہ زر کے آگے آئی اور کہا
” مجھے نہیں پتا آپ گولی چلائیں، بس گولی چلائیں”
شاہ زر اب کوفت کا شکار ہونے لگا تھا اس نے حیا کو کمر سے پکڑا ، اٹھا کر گاڑی کی چھت پر بٹھایا اور یہ کارروائی اتنی جلدی ہوئی کہ حیا تو بھونچکی رہ گئی۔
“آواز بند ایک دم”
شاہ زر نے انگلی دکھا کر کہا اس وقت وہ گاڑی کی چھت پر تھی اور شاہ زر نیچے
شاہ زر نے اپنا کوٹ اتار کر اسے تھما یا پھر گھڑی نکال کر اسے دی، پھر گن نکال کر دی اور پھر کف کے بٹن کھول کر آستین فولڈ کرنے لگا
” کم از کم ایسی صورت حال میں انسان سنجیدہ ہو جاتا ہے”
“میں سنجیدہ نہیں ہوں، میں حیا ہوں، حیا زمان”
” خاموش اگر ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو ان لوگوں کو پتہ نہیں مگر میں آپ کو ضرور شوٹ کر دوں گا”
حیا نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ شاہ زر نے کہا
“put the finger on your lips “
اور حیا نے اچھے بچوں کی طرح منہ پر انگلی رکھ دی
شازل مسکرایا
“Good girl”
حیا نے منہ بنا کر کہآ
“باگڑ بلّا “
شاہ زر کی مسکراہٹ گہری ہوئی
(The million dollar smile😍)
پیچھے کھڑے آدمی یہ سین ہونقوں کی طرح دیکھ رہے تھے پھر شاہ زر ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوا پھر ایک ایک کرکے سب کو ڈھیر کر دیا۔
شاہ زر پسینے میں شرابور تھا وہ چلتا ہوا حیا کے پاس آیا اور بڑے اطمینان سے حیا کی چادر سے منہ پونچھا حیا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی
” یہ کیا حرکت ہے؟ منہ پوچھنے کے لئے میری ہی چادر میلی تھی؟”
“یہ میری صنم کی چادر ہے “
“نہیں، یہ میری حور کی چادر ہے”
حیا نے میری پر زور دیا
“اتریں نیچے”
کہتے ہوئے شاہ زر نے ہاتھ بڑھایا مگر حیا نے روک دیا
“خبردار جو ہاتھ لگایا منہ توڑ دوں گی، میں خود اتر جاؤں گی”
کہتے ہوئے حیا نے چھلانگ لگائی ہلکا سا لڑکھڑائی مگر اتر گئی
تبھی حورعین اور شانزل وہاں پہنچے حورعین دوڑتی ہوئی حیا کےپاس آئی
“تم ٹھیک ہو؟ کیسی ہو تم؟”
حورعین فکرمندی سے پوچھ رہی تھی
” مجھے کیا ہونا ہے اور رہی بات میں کیسی ہوں تو میں بہت خوبصورت ہوں”
وہ حیا تھی اس نے سیدھا جواب دینا سیکھا ہی نہیں تھا
حورعین نے پورا ہاتھ گھما کر ایک زوردار تھپڑ حیا کے اسی گال پر لگایا
شاہ زر چونک گیا لیکن شانزل کے لیے یہ نئی بات نہیں تھی
” تم سمجھتی کیا ہو خود کو؟ مطلب حد ہے، یہ کیا حرکت تھی مجھے وہاں باندھ کر خود ان لوگوں کی نظر میں آنا تم سدھر نہیں سکتی؟”
“کبھی بھی نہیں سدھروں گی “
حیا نے بہت اطمینان سے جواب دیا
” دوسرا تھپڑ کھاؤ گی تم مجھ سے “
“تمہیں کوئی روک پایا ہے، لو مارلو، کر لو اپنی خواہش پوری، ہوجاؤ خوش، مگر مجھے یہ بتاؤ سارے شاپنگ بیگ کہاں ہے؟”
“تم۔۔۔ تم ۔۔۔کبھی سدھرنا مت”
” بالکل،، میں تمہاری بات پر عمل کروں گی مگر پہلے یہ بتاؤ میرے شاپنگ بیگ کہاں ہے”
شانزل بہت مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کر رہا تھا
” پتا نہیں چھوٹ گئے شوروم میں “
پہلی مرتبہ حیا کے چہرے پر سے اطمینان رخصت ہوا
“کیوں چھوڑا تم نے میں نے کتنی محنت سے شاپنگ کی تھی ہٹا میں لینے جا رہی ہوں “
“تم دوبارہ وہاں نہیں جاؤں گی “
“حور میں جاؤں گی جو کپڑے میں نے خریدے تھے وہ میرے ہیں میں اپنی چیزوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی”
ماحول میں بحث کو طول پکڑتا دیکھ شانزل بیچ میں کودا
“حیا تم دوسرے خرید لینا “
“بھائی وہ کپڑے پریمیم ڈیزائنرز کے تھے وہ صرف ایک ہی بنتے ہیں مجھے وہی چاہیے ویسے بھی وہ میرے ہیں دوسرے بھی ملتے تب بھی مجھے وہی چاہیے
“تم انتہائی ڈھیٹ لڑکی ہو، نہیں ملیں گے وہ کپڑے”
حورعین تو ایسے ہی تپی بیٹھی تھی اسکی ضد مزید غصہ دلا رہی تھی۔
حیا تن فن کرتی ہوئی سڑک کے بیچوں بیچ پلاٹی مار کر بیٹھ گئی اس کی اس حرکت پر تینوں گھبرا گئے اور اس کی طرف بڑھے
شانزل نے اسے پیار سے سمجھایا
“حیا، ایسے نہیں کرتے چلو شاباش اٹھو، گاڑیاں آرہی ہے”
” آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں “
” اپنے نخرے بند کرو، اٹھو یہاں سے کتنی ضدی ہو تم، ورنہ ایک کس کر تھپڑ لگاؤں گی”
“تم اپنے گھر چلی جاؤ حور تم تھک گئی ہو گی”
حیا اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی
” میں کپڑے چل کر دلوا دیتا ہوں مگر یہاں سے اٹھیے”
شاہ زر نے حل نکالا
حیا فوراً اٹھ گئی ۔
“چلیے”
” بھائی آپ حور کو گھر چھوڑ دیجئے گا “
وہ کہتی ہوئی شاہ زر کی گاڑی میں جا بیٹھی
” میں ان کے ساتھ نہیں جاؤں گی شاہ آپ گاڑی بلوا دیں”
“دیکھو صنم کم از کم اس وقت میں تم سے عقلمندی کی امید رکھتا ہوں تو تم شانزل کے ساتھ چلی جاؤ”
حورعین خاموش ہو گئی اثبات میں سر ہلا کر گاڑی میں جا بیٹھی
حیا پھودک کر گاڑی سے نکلی
” بھائی ایسا موقع دوبارہ نہیں ملے گا اسے منا لیجئے گا میں بار بار اسے خود سے ناراض نہیں کرسکتی “
“تم سدھر جاؤ”
وہ مسکرا کر کہتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا۔
حیا بھی گاڑی میں بیٹھ گئی شاہ زر من میں حیا کی عقلمندی پر داد دینا نہیں بھولا شاہ زر نے گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی کچھ دیر میں حیا نے پیچھے مڑ کر دیکھا پھر کہا
“گاڑی روکیں”
شاہ زر نے گردن گھما کر حیا کو دیکھا پھر گاڑی روک دی
حیا نے جب دروازہ کھولا تو شاہ زر بول پڑا
” آپ کہاں جا رہی ہیں؟”
” آپ سے مطلب؟”
اس کے جواب پر شاہ زر کے ماتھے پر بل پڑے
” آپ ہی نے ابھی کپڑوں کے لیے واویلا مچایا تھا نا؟”
“ہاں اور میں انہیں لے لوں گی”
“تو میں کون سا آپ کو جہنم لے کر جا رہا ہوں میں بھی تو شوروم ہی لے کر جا رہا ہوں”
“بیشک میں کپڑے ایسے نہیں چھوڑنے والی لیکن میں نے آپ کے ساتھ آنے کا ڈرامہ اسی لیے کیا تھا تا کہ حور بھائی کے ساتھ جا سکے اور پلیز آپ یہ حور کو مت بتائے گا دوسری بات کچھ دیر رک کر گھر جائے گا
اور حور سے کہئے گا آپ نے مجھے میرے اپارٹمنٹ ہی چھوڑا ہے “
وہ کہہ کر گاڑی سے اتر گئی شاہ زر بھی اترا
“یعنی آپ کو مجھ سے زیادہ ایک رکشے والے پر بھروسہ ہے”
اوہ پلیز۔۔۔۔ میری رکشے سے نہیں جا رہی دس منٹ چلنے پر ہی میرا اپارٹمنٹ ہے آپ اپنا اور میرا ٹائم ویسٹ مت کریں خداحافظ”
شاہ زر کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ اتنی اکھڑی اکھڑی کیوں ہے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں موجود خاموشی کو شانزل کی آواز نے توڑا
“مجھے تم سے بات کرنی ہے”
” لیکن میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے”
” حور پلیز مجھے ایک موقع تو دو”
“آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں چلتی گاڑی سے کود جاؤں تو بے شک بولتے رہیں”
شانزل چپ ہو گیا گاڑی جب شاہ زر کے بنگلے کے آگے رکی تو حورعین باہر نکلی اور اندر جانے لگی لان میں شانزل نے حورعین کی کلائی تھام لی
حورعین نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا
“خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا” حورعین نے انگلی اٹھا کر وارن کیا
“حور مجھے احساس ہے میری غلطی کا، میں تم پر اعتبار کرتا ہوں مجھے ایک موقع تو دو”
” اعتبار؟ اعتبار کا مطلب بھی جانتے ہیں آپ؟ غلطی؟ آپ ایک خود غرض انسان ہیں جسے صرف اپنی فیلینگز سے مطلب ہے آپ ایک مطلبی انسان ہے۔ ارے آپ نے تو اپنی خالہ کی بھی پرواہ نہیں کی جنھوں نے آپ کو آپ کے ماں باپ کے بعد پالا آپ پلٹ کر ان کی خبر تک نہیں لیتے میرے رشتے داروں نے بھی مجھے پالا شکر کریں آپ کے رشتے دار ان جیسے نہیں ہے وہ عظیم بھی ہیں انھوں نے صرف آپ کی خاطر خود کو بے اولاد رکھا کہ کہیں آپ کے حق میں کوتاہی نہ ہو جائے مگر آپ کو احساس ہی نہیں ہے کیونکہ آپ بے حس ہیں “
یہ انکشاف شانزل کے لیے ساکت کر دینے والا تھا۔
“حور مجھے نہیں پتہ تھا “
” پتہ ہو یا نہ ہو اصل بات یہ ہے کہ آپ مخلص ہو ہی نہیں سکتے، نہ آپ محبت مخلص کر سکتے ہیں نہ نفرت، اور کہاں تھا یہ اعتبار جب آپ میری محبت کا دم بھرتے تھے”
شانزل اسکی ہر بات خاموشی سے سن رہا تھا صرف اس لیے کہ وہ اس کی محبت تھی ورنہ آج تک شانزل ابراہیم نے کسی کو اپنے سامنے آنکھ اٹھانے کی بھی اجازت نہیں دی تھی۔
لیکن حورعین کو اس پر رحم نہیں آرہا تھا وہ لفظوں کے ذریعے قطرہ قطرہ زہر اسکے کانوں میں انڈیل رہی تھی۔
شانزل بھی خاموش ہو گیا آج وہ حورعین جہانزیب کی نفرت کی انتہا دیکھنا چاہتا تھا۔ حالانکہ یہ کام اسکی برداشت سے باہر تھا مگر وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ حورعین کس حد تک اسے اذیت دے سکتی ہے۔
” آپ کو تو کسی بھی جذبے کی قدر نہیں، اور آپ کیوں آتے ہیں میرے پاس کیوں میرا پیچھا نہیں چھوڑ دیتے”
اب حورعین بے قابو ہو کر چیخنے لگی تھی
“اب یہ مت کہیے گا کہ محبت کرتے ہیں، آپ کے دل میں میرے لئے کبھی محبت تھی ہی نہیں آپ اپنے نفس کے آگے مجبور ہو کر میرے پاس آتے ہیں”
شانزل کو لگا اب اسکا دل بند ہو جائے گا
“آپ کو تو میں نے تین اور شادیاں کرنے کی اجازت دے دی ہے تو آپ چاہے کسی سے بھی شادی کریں اور اپنی نفسانی جذبات کو تسکین دیں یا پھر بغیر شادی کے ہی اپنی ضروریات پوری کریں میری بلا سے مجھے فرق نہیں پڑتا، لیکن آپ اپنی ہوس کہیں اور جا کر پوری کریں “
شانزل کے تمام تر جذبات اپنی حدود کو چھو رہے تھے یہ وہ بات تھی جس کی توقع اس نے حورعین سے نہیں رکھی تھی وہ اسکی محبت کو گالی دے رہی تھی شانزل نے اپنے لب بھینچ لیے اس نے سوچا تھا وہ حورعین جہانزیب کی نفرت کی انتہا دیکھے گا مگر اسے لگا وہ اسکا دل نوچ لینے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ شانزل نے بھوری آنکھیں اٹھا کر ایک شکوہ کناں نظر ڈالی آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہیں تھی اور اسکی دل دنیا میں بھی حشر اٹھا تھا وہ ایک نظر حورعین جہانزیب کو پتھر کر گئی ایک نظر ڈالنے کے بعد شانزل پلٹ کر گاڑی میں بیٹھا اور جارحانہ انداز میں گاڑی گیٹ سے نکال کر لے گیا۔
ناشتے کے وقت بھی اور بعد میں بھی حورعین ہمیشہ کی طرح خاموشی تھی وہ صرف انہیں باتوں کا جواب دیتی جو پوچھ لیا جائے شاہ زر اوپر کاریڈور میں کھڑا حورعین کو دیکھ رہا تھا جو ایک جگہ پر خاموشی سے بیٹھی تھی آج اس کا رزلٹ آیا تھا مگر رزلٹ دیکھ کر وہ خاموش ہی رہی تھی اس نے پوری یونیورسٹی میں فرسٹ پوزیشن لی تھی اس کے متعلق ہر اخبار میں خبر تھی مگر وہ ہمیشہ کی طرح دنیا جہاں سے بیگانی بیٹھی تھی
تبھی گیٹ کھلا اور حیا اندر داخل ہوئی وہ چہچہاتے اور کھلکھلاتے ہوئے پھودک پھودک کر حورعین کی طرف بڑھ رہی تھی ساتھ ساتھ میں گا بھی رہی تھی
آج نہ چھوڑوں گی تجھے دَن دَنا دَن
آج نہ چھوڑوں گی تجھے دَن دَنا دَن
حورعین نے اسے دیکھا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور انگلی اٹھا کر اس سے کہا کہ
” خبردار جو پاس آئی”
وہ حتی المقدور اپنے لہجے کو سنجیدہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی مگر حیا کی حرکتوں پر ہنسی ضبط نہ کرسکی
اب حال یہ تھا کہ دونوں صوفے کے گرد چکر لگا رہی تھی حیا مسلسل حورین کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ گا بھی رہی تھی اب تک جہاں اس گھر میں خاموشی کا راج تھا وہاں اس وقت حورعین کی ہنسی گونج رہی تھی یہ منظر دیکھ کر شاہ زر مسکرایا
آخرکار حیا نے حورین کو پکڑ لیا اور دو چار مرتبہ کس کر حورعین کے رخساروں کو چوم لیا حورعین نے جھٹکے سے خود کو چھڑوایا اور اپنے گالوں کو رگڑتے ہوئے کہا
“تم کتنی بے شرم ہو”
حیا کھلکھلائی اور کہا
وہ تو میں ہوں ہی جانِ من مگر کیا کروں تم فرسٹ آئی ہو اور میں اپنے آپ کو روک ہی نہیں پائی”
حورعین بھی مسکراتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئی
“ہائے حور تم اندازہ نہیں لگا سکتی میرا بس چلے تو میں پوری دنیا تمہارے سر سے وار دوں”
“بس بھی کرو مبالغہ آرائی”
” ہاں ٹھیک ہے نہیں کرتی لیکن اب مجھے جانا ہے”
” کہاں جانا ہے؟اتنی جلدی میری جان چھوڑ دو گی؟”
” وہ یونیورسٹی میں کچھ کام ہے میں شام کو آؤں گی ملنے”
اچانک شاہ زر کو یاد آیا کہ آج اسے حیا سے ملنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر اور حیا اس وقت ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے
حیا پلیٹ میں موجود کچی سبزیوں کو دیکھ کر منہ بنا رہی تھی
“کوئی مسئلہ ہے کیا کھانے کے ساتھ “
شاہ زر نے آخرکار پوچھ لیا
” یہ اتنے بڑے ہوٹل والے ذرا جو تمیز ہو کھانا پکانے کی دیکھیں ذرا سبزیاں تھوڑی کچی نہیں لگ رہی ہے آپ کو؟”
“تو مت کھائیں میں کچھ اور آرڈر کر دیتا ہوں “
“رہنے دیں ویسے بھی مجھے آپ سے امپورٹنٹ بات کرنی تھی”
” جی فرمائیے”
“میں آپ سے حور کے بارے میں۔۔۔۔۔”
حیا کی بات مکمل ہوتی اس سے پہلے ہی عاطف نے آکر حیا کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
حیا نے بغیر لمحے کی بھی دیر کیے ایک تھپڑ عاطف زمان کے گال پر رسید کیا
“اگلی مرتبہ ہاتھ لگایا تو ہاتھ توڑ دوں گی تمہارا، اپنی حدیں مت بھولو عاطف زمان”
“میرے ہاتھ لگانے پر تکلیف ہو رہی ہے اور یہاں غیر مرد کے ساتھ پتا نہیں کیا کیا کر رہی ہو “
اس کی بات سن کر شاہ زر کا دماغ بھک سے اڑا
وہ اٹھا ہی تھا کہ حیا نے اسے روک دیا اور پھر عاطف زمان کی طرف متوجہ ہوئی
“تم ہو کون؟ میں کیوں تمہیں جواب دوں”
” میں تمہارا بھائی ہوں سمجھی “
اس کی بات سن کر حیا استہزائیہ ہنسی اور کمال اطمینان سے کرسی سنبھالی ایک نوالہ منہ میں ڈالا پھر اس کی طرف دیکھا مسکراہٹ ہنوز برقرار تھی اور کہا
“ہاں اب مجھے یاد آیا تم وہی سوتیلے بھائی ہو نا جس نے اپنی سوتیلی بہن کی عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی”
وہ معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے پوچھ رہی تھی
“میں یہاں تم سے فضول بحث کرنے نہیں آیا ہوں “
“تو کیا پھر سے سر پھوڑوانے آئے ہو”
” دادی تمہارے لئے پریشان ہیں بیچاری تمہارے لیے رشتہ ڈھونڈ رہی ہے لیکن کوئی بھی تم جیسی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں تم فون نہیں اٹھا رہی تھی تو انھوں نے مجھے بھیجا مگر تم تو یہاں عیاشی کر رہی ہو میں نے سوچا مر کھپ گئی ہو گی لیکن تم سچ میں ڈھیٹ ہو میں تو یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ کم از کم تمہارے کفن دفن کا انتظام کر دوں گا”
شاہ زر کا دل کیا عاطف ز
مان کی زبان گدی سے کھینچ لے یہ کیسا بھائی تھا؟ کوئی بھائی ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ وہ تو اپنی بہن پر ایک خروںچ بھی نہ آنے دے
“کوئی ضرورت نہیں میرے کفن دفن کا انتظام میں کرکے جاؤں گی”
حیا کمال اطمینان سے چھوٹے چھوٹے نیوالے لیتے ہوئے کھانا ختم کر رہی تھی
“خدا کرے جلد ہی وہ دن آئے “
“آمین مگر میری قبر پر آنے کی ضرورت نہیں ہے”
اب شاہ زر کی برداشت سے باہر ہوگیا
“اگر تم اپنی سلامتی چاہتے ہو تو یہاں سے خاموشی سے چلے جاؤ”
شاہ زر نے سخت لہجے میں کہا
“ارے یہ بے غیرت ایسے نہیں جائے گا”
کہہ کر حیا عاطف کی طرف متوجہ ہوئی
“Get out”
عاطف نے اسے گھورا اور کہا
” تم بھی اپنی ماں کی طرح خود کو بیچ دینا “
شاہ زر نے لب بھینچ لیے مگر عاطف کہہ کر جاچکا تھا
تو حیا کا فون بجا
“اسلام علیکم دادی”
” جی ٹھیک ہوں”
” آپ کیوں مجھے ذلیل کروا رہی ہیں”
” نہیں کرنی شادی مجھے”
” پہلی بات کسی کو پرواہ نہیں ہے لیکن اگر پھر بھی کوئی پوچھے کہ میں شادی کیوں نہیں کر رہی تو کہہ دیجئے گا میں مر گئی”
حیا نے تپ کر جواب دیا
” ارے ہاں آپ جھوٹ کیسے بولیں گی بس تھوڑا سا صبر کر لیں حورعین کا معاملہ سنبھل جائے تو خود قبر کھود کر لیٹ جاؤں گی”
غصے سے فون بند کر دیا پھر شاہ زر کی جانب متوجہ ہوئی
” ہاں تو میں آپ سے حور کے بارے میں بات کر رہی تھی “
شاہ زر کو حیرت ہوئی وہ اتنی نارمل ہے جیسے کوئی بات ہی نہیں ہوئی
“جی”
شاہ زر صرف اتنا ہی کہہ سکا
” دیکھیں آپ حور کے بھائی ہیں آپ اس کا برا نہیں چاہیں گے لیکن میں چاہونگی آپ حور کی خوشی ملحوظ رکھیں جو بھی ہوا صحیح غلط مجھے نہیں پتا مجھے صرف اتنا پتا ہے کہ یہ بات آسمانوں پر لکھی ہے کہ وہ بھائی کے بغیر نہیں رہ سکتی وہ آپ کی کوئی بات نہیں ٹالے گی وہ آپ کی سنے گی پلیز اگر آپ چاہتے ہیں کہ خوش رہیں تو اس سے کہیں کہ وہ بھائی کو معاف کر دیں کیوں کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں صحیح غلط نہیں دیکھا جاتا وہاں محبوب کی خوشی دیکھی جاتی ہے اور حور کی خوشی بھائی کے ساتھ ہے “
وہ کہہ کر اٹھی اور بنا پلٹے باہر چلی گئی
شاہ زر کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ غصہ میں گئی یا بات ختم ہوگئی اسی لیے چلے گئی یا اپنے آنسو چھپا رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں حیا اور حورعین لان میں بیٹھے تھے
“حور پلیز میری بات مان لو “
“حیا پلیز پھر سے وہی مت شروع کرو”
” میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی حور تم خوش نہیں ہو”
“تم اور تمہارے بھائی کو صرف اپنی پڑی رہتی ہے”
” تم ایک بار سوچ کر تو دیکھو کہیں نہ کہیں بھائی کے لیے گنجائش ہوگی تمہارا دل تو بہت بڑا ہے”
“میں کچھ نہیں سوچنے والی”
” ہاں مجھے پتا ہے تم نہیں سوچو گی کیوں کہ تمہارا دل ہمیشہ فیصلہ بھائی کے حق میں ہی دے گا “
“مجھے اس بات کا جواب نہیں دینا اور مجھے کیا ملے گا اس بارے میں سوچ کر اور میں کیوں مانوں تمہاری بات؟ تم نے کبھی میری بات مانی ہے ؟”
وہ دونوں اس وقت لان میں چیئر پر بیٹھی تھی
اندر جاتے ہوئے شاہ زر کے قدم حورین کی اواز پر رکے
“تم چاند بھی مانگو تو میں لاکر دینے کو تیار ہوں اب میں تمہاری ہر بات مانوں گی بس بھائی کے لیے سوچ کر دیکھو “
حیا کا انداز التجائیہ تھا
“مجھے ایسا لگ رہا ہے اس وقت میرے پاس میری دوست نہیں کسی کی بہن بن کر آئی ہو”
” حور تم یہ بات مت ٹالو سیدھی طریقے سے بتاؤ کیا چاہیے”
” میں جو مانگوں گی مجھے دو گی؟”
حیا نے فورا جواب دیا
” شادی کرلو حیا “
حورعین نے ایک ہاتھ حیا کہ ہاتھ پر رکھا
” ٹھیک ہے مگر تم سوچو گی بھائی کے معاملے میں”
حیا نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر جواب دیا تھا ایک مرتبہ بھی نہیں سوچا فٹ سے جواب دیا تھا
شاہ زر نے غور سے دیکھا وہ اس بات کی یقین دہانی چاہ رہی تھی کہ وہ شانزل کی طرف سوچیں نا کہ شادی کی بات پر۔
کچھ گھنٹوں پہلے ہی شادی کے بارے میں اس کے نادر خیالات جان چکا تھا
” لڑکا تمہارے لئے میں پسند کروں گی”
“ہاں ٹھیک ہے لیکن تم بھائی کے بارے میں سوچو گی”
شاہ زر کو حورعین کی قسمت پر رشک آیا ایسے دوست نعمت ہوتے ہیں
” اور میں دو دن بعد رشتہ لے کر تمہاری دادی سے ملوں گی”
“ڈن لیکن تم بھائی کے بارے میں سوچو گی”
اسے صرف اس بات سے مطلب تھا کہ حورعین خوش رہے حورعین نے گھور کر اسے دیکھا اور کہا
“تسبیح پڑھنا بند کرو اور صحیح طرح سے جواب دو”
“ارے بابا میں اس پول میں کود کر خود کشی کرنے کو بھی تیار ہوں بس تم بھائی کے بارے میں سوچو”
” فضول بکواس مت کرو سیدھی طرح جواب دو “
“میں تو لکھ کر دینے کو بھی تیار ہوں تم چاہے تو میری شادی اس کھمبے سے بھی کر دو مگر بھائی کے بارے میں سوچو”
اس کی بات سن کر شاہ زر مسکرایا
(The million dollar smile🤗🤗🤗)
پاگل ہے پوری مجال ہے جو منہ کھولنے سے پہلے ایک بار بھی سوچ لے
“حیا تم نکلو یہاں سے اب دو دن بعد تمہارے گھر پر ملاقات ہوگی”
” تم بھائی کے بارے میں سوچو گی نا؟”
اس کی بات سن کر حورعین نے ایک زور دار دھموکا حیا کی پیٹھ پر جڑا
“حد ہے ،میں تمہیں یوں ہی چلتا پھرتا ریڈیو نہیں کہتی اس وقت ایسا لگ رہا ہے تمہاری سی ڈی ایک جگہ پر اٹک گئی ہے”
حورعین جھنجھلا گئی
“بتاؤ نا حور۔۔۔۔”
اس سے پہلے حیا وہی تسبیح دہراتی حورعین نے کہا
“سوچوں گی، مگر تمہاری شادی کے بعد ویسے بھی اصولاً تم تین سال مجھ سے بڑی ہوں اسے لئے پہلے تمہیں ٹھکانے لگانا ضروری ہے “
“اوہ حور تم کتنی پیاری ہو یار”
کہتے ہی حیا نے حورعین کے گالوں کو چٹا چٹ چوم لیا
حورعین نے دھکا دیا
” دفع ہو جاؤ حیا مجھے زہر لگتی ہے تمہاری یہ عادت”
“جا رہی ہوں یار ذرا جو تم اپنی خوبصورت شکل سے مجھے مسکرا کر دیکھو” شاہ زر کو لگا وہ پاگل ہے حور کے لیے پاگل، اللہ دونوں کی دوستی کو ایسے ہی رکھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے حورعین لان میں چہل قدمی کر رہی تھی
“صنم”
شاہ زر کی پکار پر حورعین مڑی اور مسکرائی۔
“تم یہ مارچ کیوں کر رہی ہو”
” بس ایسے ہی شاہ آپ آئیں ہم ساتھ ساتھ چلیں گے”
ایسا کہتے ہوئے وہ بالکل سات سال کی بچی لگ رہی تھی وہ مسکراتا ہوا اس کے ساتھ چلنے لگا چلتےچلتے اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو گرنا شروع ہو گئے
شاہ زر نے اسے بینچ کر بٹھایا اور اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور کہا
“تمہارا ظرف تو بہت وسیع ہے صنم”
یقیناً وہ شانزل کے بارے میں کہہ رہا تھا یہ جملہ کا مفہوم سمجھتے ہوئے حورعین نے کہا
” یہ بات میرے ظرف سے باہر تھی شاہ”
“میں تمہیں کسی بھی چیز پر مجبور نہیں کروں گا لیکن میں چاہوں گا کہ یا تو اس پلِ صراط پر سے پلٹ جاؤ یا گزر جاؤ میں تمہیں یہیں کھڑے رہنے نہیں دوں گا،،، جب تک میں نہیں تھا تب تک بات الگ تھی مگر اب تمہیں فیصلہ کرنا ہوگا چاہے جو فیصلہ کرو تم اس میں مجھے اپنے ساتھ پاؤگی، تم نے صرف ایک وعدے پر میرا گیارہ سال انتظار کیا ہے میں تمہیں اب اکیلا نہیں چھوڑوں گا میں منتظر ہوں تمہارے فیصلے کا میں سونے جا رہا ہوں “
کچھ دیر بعد حورعین کا فون بجا تو اس نے دیکھا رفیق کی کال تھی شانزل ابراہیم کے پی اے کی۔
حورعین نے نا چاہتے ہوئے بھی کال رسیو کر لی
“السلام علیکم “
“وعلیکم السلام میم وہ۔۔۔۔ میم مجھے نہیں پتا یہ صحیح ہے یا غلط مگر میرا فرض ہے کہ میں آپ کو انفارم کر دوں”
“کیا بات ہے رفیق؟”
حورعین کی پریشانی اور بڑھ گئی
“میم کل شانزل انڈسٹریز نیلام ہو جائے گی”
” کیا بکواس ہے یہ”
میم وہ ملٹی نیشنل کمپنی والا پروجیکٹ سر جان بوجھ کر پورا نہیں کر رہے ہیں اگر پروجیکٹ کمپلیٹ نہ ہوا تو شانزل انڈسیریز نیلام ہو جائے گی “
“اور یہ تمہارے سر پروجیکٹ کیوں پورا نہیں کر رہے ہیں”
نہیں پتا میم کل رات سے سر اندر ہی ہے کیبن میں سے توڑ پھوڑ کی آوازیں آ رہی تھی سر کل سے باہر نہیں نکلے نہ کچھ کھایا نہ پیا اور نہ ہی کسی کو اندر آنے کی اجازت ہے”
حورین کو یک لخت کل رات کی تلخ کلامی یاد آئی
“میم مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو کچھ کیجیے”
” میں آ رہی ہوں”
فون رکھنے کے بعد حورعین نے حیا کو فون ملایا
“تم ابھی یہاں پہنچو “
کہہ کر پٹ سے فون بند کر دیا پھر دوڑ کر کچن میں گئی جلدی جلدی ہلکا پھلکا کھانا اور دودھ وغیرہ پیک کر کے ٹفن بنایا۔ پھر دوڑ کے شاہ زر کے روم میں گئی
“شاہ اٹھیں”
اس نے کمبل کھینچ کر اٹھایا شاہ زر بھی ہڑبڑا کر اٹھا
” کیا ہوا صنم “
“میں جا رہی ہوں آپ شانزل انڈسٹریز کو ملنے والا پروجیکٹ کل 12 بجے تک پورا کروائیں میں نے حیا کو کال کی ہے وہ آرہی ہوگی آپ کی ہیلپ کے لیے اور رفیق کو بھی بھیج دوں گی کچھ دیر بعد میں بھی آ جاؤں گی۔۔۔”
“بریک لگاؤ، تم بالکل اپنی دوست کی طرح بی ہیو کر رہی ہو”
” اٹھیں نا”
تبھی حیا دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی
” کیا ہوا حور تم ٹھیک ہو؟”
شاہ زر نے دیکھا وہ ڈھیلے ڈھیلے سوٹ میں جو یقینا سونے کے لئے پہنا تھا سوئی سوئی آنکھیں کالی چادر میں حواس باختہ سے حورعین سے مخاطب تھی
“میں ٹھیک ہوں مگر تمہارے بھائی کی عقل ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے اور ان کے پاس جا رہی ہوں”
اس کی بات سن کر حیا تپ گئی
“دل کر رہا ہے ایک تھپڑ لگاؤں ایسے کوئی فون پر کہتا ہے فوراً پہنچو اور کھٹاک سے فون بند کر دیا میرا دل ہولا دیا تم نے،میں سمجھی پتا نہیں کیا ہو گیا میں منہ دھوئے بغیر بھاگی آئی ہوں”
“چپ کر جاؤ یار میں جا رہی ہوں کل 12 بجے تک اف۔۔۔۔ باقی سب سے شاہ سے پوچھنا”
“اکیلے کیوں جا رہی ہو”
“حیا خاموش ہو جاؤ، جانا ضروری ہے”
” اچھا سنو حور”
حیا نے ڈرتے ڈرتے کہا
حورعین پلٹی
“تم نے سوچا بھائی کے بارے میں”
” چپ کر جاؤ ورنہ چپل اتار کر تواضع کرنے میں دیر نہیں لگاؤں گی “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین نے جیسے ہی آفس میں قدم رکھا بہت سے واقعات اس کے ذہن میں آئے
“رفیق تم شاہ کے پاس جاؤ میں ابھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں”
کہہ کر وہ شانزل کی کیبین کی طرف آئی جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا سرد ہوا کا جھونکا اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑا گیا۔ کمرہ برف کی وادی کی طرح سرد تھا اس نے دیکھا پورا کمرہ جو اپنے مالک کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا ٹوٹا بکھرا پڑا تھا
جگہ جگہ فائل، کاغذ، واس، ٹوٹے فریم کی کرچیاں، ٹرافی یہاں تک کہ لیمپ پین ہولڈر سب بکھرا پڑا تھا
وہ سامنے کرسی پر بیٹھا تھاشانزل نے اپنی سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں اٹھا کر حورعین کو دیکھا