Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
کہہ کر رکی نہیں پلٹ کر چلی گئی
شانزل کتنی ہی دیر خالی الذہنی سے بیٹھا رہا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کتنے گھنٹے اور وقت گزر چکا تھا حورعین نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا اور قصوروار بھی اسے ہ ٹھہرایا۔
حد ہے مطلب اتنا سب کچھ کرنے کے بعد مجرم بھی شانزل ہی ہے۔ وہ غصے سے باہر نکلا اسکی گاڑی وہیں کھڑی تھی اور وہ کہیں نہیں تھی۔
وہ سر جھٹک کر گاڑی میں بیٹھ گیا اسکی منزل شانزل وِلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل نے جیسے ہی شانزل وِلا میں قدم رکھا حیا دوڑ کر اسکے پاس آئی۔
“بھ۔۔بھائی حور کہاں ہے؟”
شانزل نے وقت دیکھا رات کے تین بج رہے تھے
“کیا مطلب وہ تمہارے پاس نہیں آئی ؟”
” نہیں بھائی وہ۔۔۔۔۔”
حیا کچھ کہتی اس سے پہلے ہی اس کا فون بجا
” ہیلو حور، حور تم کہاں ہو ؟”
“مجھے بتاؤ تم کہاں ہو میں ابھی تمہارے پاس آ رہی ہوں”
وہ بات کرتے ہوئے باہر چلی گئی اور پھر پلٹ کر نہیں آئی
شانزل ابراہیم اس وقت خود کو دنیا کا سب سے ہارا ہوا شخص محسوس کر رہا تھا جیسے ہی اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھا گلابوں اور موتیے کی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی کتنے ارمانوں سے اپنا کمرہ سجوایا تھا مگر یہ خوشبو شانزل کے دل میں آگ لگا گئی اس نے پورا کمرہ تحس نحس کر دیا سارے پھول نوچ ڈالے ہر چیز بکھرا دی یہ کمرہ شانزل کی اندرونی حالت کا ترجمان تھا ایک دم ٹوٹا بکھرا ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن شانزل نے نہایت اذیت میں گزارے اس کی آنکھوں کی چمک غائب ہو گئی تھی اس کی جگہ مان ٹوٹنے کا قرب تھا مگر سکون کہیں نہیں تھا درد تھا کہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا
کیوں کی میں نے اس سے محبت؟ کیوں؟ وہ خود کو لعن طعن کرنے کا شغل فرما رہا تھا
دل میں ہوک سی اٹھتی وہ خدا کے سامنے سجدے میں گرے دعا کر رہا تھا کہ میرے دل سے اس کی محبت نکال دے میں تو کھرا مرد تھا میں نے کبھی کسی نا محرم سے تعلقات نہیں بنائے کھری زندگی جی، اتنی لڑکیاں میری طرف راغب ہوتی تھی پھر بھی میں اپنی حدود نہیں بھولا میں نے کبھی ان کی طرف قدم نہیں بڑھائے، میں نے محبت کی، میں اعتراف کرتا ہوں میں نے محبت کی، مگر جائز میرے محرم رشتے سے کی، مجھے اس اذیت سے نکال دے یا خدا تو میری مشکل آسان کر”
وہ نماز پڑھ کر اٹھا تو اس کا موبائل بج رہا تھا اس نے کال ریسیو کر لی سامنے حیا تھی اس کی آواز سن کر ایک بار پھر اذیت سے دوچار ہوا
بھائی آپ مجھے حور کے چچا کے گھر کا ایڈریس دیں یا پھر ان کا نام بتا دیں”
” تم یہ سب مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو اپنی دوست سے پوچھو “
“صرف اس کے چچا کا نام ہی بتا دیں میں ایڈریس پتا کروا لوں گی پلیز بھائی”
” تو سنو حیات سکندر۔۔۔۔سنا تم نے حیات سکندر “
کہہ کر اس نے فون بند کر دیا تھا تبھی فون پھر سے بجا اس نے دیکھا ان نون نمبر تھا اس نے رسیو کیا
“عذیر حیات بات کر رہا ہوں جلدی سے وہ تصاویر دیکھیں جو میں نے آپ کو بھیجی ہے آپ کے لئے ایک چھوٹا سا تحفہ”
کہہ کر سامنے سے فون کاٹ دیا گیا
کیوں یہ لوگ میری زندگی جہنم بنانے پر تلے ہے اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی تصویر کھول کر دیکھیں
شانزل کو لگا زمین و آسمان اس کی نظروں میں گھوم گئے ہو موبائل ہاتھ میں لے گھٹنے کے بل زمین پر گرا تھا وہ تصویر ہی ایسی تھی
زمین پر ایک وجود خون میں لت پت پڑا تھا چہرے پر بھی زخموں کے نشان تھے صاف واضح تھا کہ بری طریقے سے مارا پیٹا گیا ہے جانوروں سے بھی زیادہ بدتر سلوک کیا گیا تھا چہرے پر نیل پڑے ہوئے تھے
خون بہہ کر چہرے پر جم گیا تھا لیکن وہ چہرہ ہزاروں کیا لاکھوں کیا دنیا بھر میں بھی پہچان سکتا تھا وہ حورعین کا چہرہ تھا شانزل کو لگا اب اس کا دل بند ہو جائے گا
تبھی فون بجا وہی نمبر تھا
” حویلی پہنچو”
ایک حکم صادر کیا گیا وہ بھی شانزل ابراہیم کو۔جو صرف اور صرف حکم صادر کیا کرتا تھا مگر اب شانزل ابراہیم بے دام کے غلام کی طرح فورا اپنی کار کی جانب دوڑا
اسے کچھ یاد نہیں تھا کون سا دھوکا، کون سی بےوفائی، کون سا جھوٹ، کون صنم کچھ یاد نہیں تھا
اس کی آنکھوں کے سامنے صرف اور صرف وہ زخمی وجود گھوم رہا تھا سچ ہے انسان ہار جاتا ہے اپنی محبت کے آگے۔
شانزل ابراہیم ان لوگوں میں سے تھا جو ایک بار طے کر لینے پر کچھ بھی کر گزرتے ہیں مگر شانزل ابراہیم لاکھ چاہنے کے باوجود حورعین سے نفرت نہیں کر پایا تھا اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی حورعین کو اس حالت میں دیکھ کر اسکا دل کٗرلایا تھا
وہ جتنی تیز ڈرائیونگ کر سکتا تھا اس سے کئی گنا تیز ڈرائیونگ کر رہا تھا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس کی گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی
وہ بہت ہی غصے میں حویلی کے اندر داخل ہوا اسکی گاڑی آہنی گیٹ توڑتے ہوئے داخل ہوئی گارڈز نے اس کے انداز دیکھ کر اسے روکنے کی کوشش کی مگر شانزل ابراہیم تم مرنے مارنے پر تلا ہوا تھا جو بھی سامنے آ رہا تھا شانزل اسے روندتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا
وہ دروازے سے اندر داخل ہوا تو سامنے ہی عذیر حیات پر نظر پڑی چہرے پر خباثت لئے مسکرا رہا تھا شانزل سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر زخمی شیر کی طرح جھپٹ پڑا اور مکّوں اور گھونسوں کی برسات کردی اس کے آنکھوں کے سامنے حورعین کا لہو لہان ہوتا وجود تھا وہ بے دریغ مار رہا تھا 10 گارڈز اسے قابو کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر اس پر تو جیسے جنون سوار تھا وہ کسی کے قابو میں نہیں آ رہا تھا
تبھی پیچھے سے حیات سکندر کی آواز گونجی
“یہ مت بھولو کہ تمہاری بیوی اب بھی ہماری تحویل میں ہے اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا”
شانزل ساکت ہوگیا عذیر حیات منہ سے خون پونچھتے ہوئے مسکرایا دونوں ہی کی سانس پھول رہی تھی عذیر حیات تو شانزل کی مار کھا کر ادھ موا ہوگیا تھا
“میری بیوی ابھی کے ابھی میرے حوالے کرو”
اس نے حیات سکندر کا گریبان جکڑ لیا
: کر دیں گے اس سے پہلے تحمل سے میری بات سنو جتنا تم تردد کرو گے اتنی ہی اسے تکلیف ہوگی”
“کیا چاہیے تمہیں؟”
شانزل کا غصہ ضبط کی حدوں کو چھو رہا تھا
“شانزل انڈسٹریز”
” میں پیپر تیار کرواتا ہوں لیکن اسے ایک خرونچ بھی اور نہیں آنی چاہیے نہیں تو تمہیں عبرت کا نشان بنا دوں گا”
کہہ کر وہ پلٹ گیا
“واہ ڈیڈ آپ کو میں مان گیا ویسے مجھے لگتا نہیں تھا کہ آئے گا میں نے آپ سے کہا تھا کہ یہ بے وفائی کا ڈرامہ کیے بغیر ہی اسے کڈنیپ کر لیتے ہیں مگر آپ کا پلین ،واہ آپ کو تو داد دینی چاہیے”
شانزل کو لگا کسی نے اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو اس کی آنکھوں کے سامنے سجی سنوری دلہن بنی ہوئی حور کا چہرہ گھوم گیا
“خدا کرے آپ کو کبھی پتا نا چلے کہ آپ کے اس عمل کا کیا نتیجہ ہو گا “
مگر یہ وقت سوچنے کا نہیں تھا حورعین کو بچانے کا تھا شانزل فورا باہر کی جانب بڑھا اور رفیق کو فون کرکے ہدایت دینے لگا شانزل کے جاتے ہی ہال میں خاموشی چھا گئی۔
” اب وہ کبھی پولیس کو انوالو نہیں کرے گا یہ سب تو ٹھیک ہے ڈیڈ مگر اب بھی ہمارا مقصد پورا نہیں ہوا ہے”
“سب ہو جائے گا آخر کو وہ کب تک ٹکے گی تم ہی نے تو کہا تھا کہ محبت کے آگے انسان ہار جاتا ہے وہ بھی ہار جائے گی میں اپنے گیارہ سال برباد نہیں ہونے دوں گا ویسے بھی شانزل کو حقیقت کا کہاں پتا ہے میں سب سنبھال لوں گا وہ ضرور سائن کرے گی جب میں شانزل ابراہیم کے سر پر بندوق رکھونگا
“ڈیڈ آپ کو اب بھی ہی یہ سب کر دینا چاہیے تھا”
” تمھارا دماغ ٹھیک ہے وہ شانزل ابراہیم ہے تم نے اس کے تیور نہیں دیکھے اب وہ پچھتاوے کی آگ میں جل رہا ہے پچھتاوے کی آگ انسان کو بہت کمزور کر دیتی ہے، اب کی بار وہ آیا تھا تو سب کو روندتے ہوئے گزر رہا تھا لیکن اب جب وہ آئے گا تو اس کا سر جھکا ہوگا، یہ بے وفائی والا ڈرامہ میں نے اسی لیے کروایا تھا تاکہ شانزل ابراہیم کو کمزور کیا جاسکے ورنہ اس سے لڑنا میرے یا تمھارے کسی کے بس کی بات نہیں ہے”
اتنے میں باہر سے فائرنگ کی آواز گونجنے لگی تو دونوں ہی چونک گئے باہر جیسے گولیوں کی بارش ہورہی تھی دونوں نے ہی اپنی بندوق اٹھالیں اور الرٹ ہوگئے جب تک حورعین ان کے پاس ہے شانزل ابراہیم ایسی غلطی تو خواب میں بھی نہیں کر سکتا تھا، یہ کون کر رہا ہے جاننے کے لیے جیسے حیات سکندر نے باہر جھانکا تو انہیں لگا حویلی ان کے اوپر آن گری ہو وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اور اڑے ہوئے حواسوں کے ساتھ عذیر کی طرف مڑے۔
“نہیں، نہیں ،یہ ناممکن ہے میں نے خود اسے مروایا تھا، نہیں ۔۔۔۔”
وہ غصے سے چیخ رہے تھے
“عذیر اسے لے کر آؤ ابھی ہمیں نکلنا ہوگا “
عذیر فورا سیڑھیاں عبور کر کے اس کمرے کی طرف جانے لگا جہاں حورین کو رکھا گیا تھا
عذیر حورعین کو بالوں سے گھسیٹ کر نکال رہا تھا تبھی حیات سکندر کو پیچھے بھاری بوٹوں کی آواز آئی مڑتے ہی انہوں نے دیکھا
سامنے شاید ان کی بربادی تھی ان کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا سامنے ایک خوبرو شخص اپنی نیلی آنکھوں کو حیات سکندر کی آنکھوں میں گاڑے غیظ و غضب بنا ہوا تھا اس شخص نے نظر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھا عزیر حیات حورعین کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے سیڑھیاں اتر رہا تھا سامنے موجود شخص نے ہاتھ میں پکڑی بندوق سے فائر کیا گولی عذیر حیات کے اس ہاتھ پر لگی جس سے اس نے حورعین کے بالوں کو جکڑا ہوا تھا۔
عذیر حیات تو تڑپ کر رہ گیا اور وہ شخص فورا ہی حورین کی طرف بڑھا
“صنم، آنکھیں کھولو” اس شخص نے خون میں لت پت حورعین کے گالوں کو تھپتھپا یا حورعین کا سر شخص کی گود میں تھا
حورین کی حالت نقاہت زدہ تھی اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں سامنے موجود نیلی آنکھوں والے شخص کو دیکھ کر اس کے رخسار کو ہاتھ لگایا
جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو وہ حقیقتاً اس کے سامنے ہے پھر حورین کے لبوں سے نکلا
“شاہ”
ایک آنسو حورعین کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا مگر وہ مسکرا رہی تھی یہ مسکراہٹ تو اس کے انتظار کا ثمر تھا۔
صنم کی ایسی حالت دیکھ کر شاہ تڑپ کر رہ گیا اس نے فورا بندوق کا رخ حیات سکندر کی طرف کیا۔
حورعین نے بہت مشکل سے اپنا خون آلود ہاتھ شاہ کے ہاتھ پر رکھ دیا شاہ نے اپنی نیلی آنکھوں سے حورعین کو دیکھا حورعین نے نفی میں سر ہلایا آنکھوں سے آنسو اب بھی جاری تھے اور پھر بے ہوش ہوگئی۔
شاہ نے پل بھر کی بھی دیر کیے بغیر حورعین کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور ایک نظر حیات سکندر کو دیکھ کر کہا
“جو حالت تم نے میری صنم کی کی ہے نا تمہیں تو میں دنیا ہی میں جہنم واصل کروں گا”
وہ کہہ کر حورین کو لیے باہر نکل گیا
