125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

اس نے بوتل میں موجود تیزاب حیا کے چہرے کی طرف اچھالا حیا نے سختی سے آنکھیں میچ لی اور اگلے ہی لمحے فردوسِ برّیں ہیبت ناک چینخوں سے دہل اٹھا
حیا کے دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو اسے مخصوص کلون کی خوشبو نے بتایا کہ وہ کسی مہربان کے حصار میں ہے یہ خوشبو تو وہ پہچانتی تھی یہ شاہ زر کی کلون کی خوشبو تھی
ذرا کچھ لمحے پیچھے چلتے ہیں
اس نے بوتل میں موجود تیزاب اس کے چہرے کی طرف اچھالا حیا نے سختی سے آنکھیں میچ لی یہ منظر حیا کو ڈھونڈتے شاہ زر نے دیکھا تو اسے لگا کہ کوئی اس کی جان نکال رہا ہے وہ بھاگتے ہوئے آیا
حیا کو دھکا دیا اور ساتھ ہی بیلنس نہ سنبھال پانے کے وجہ سے خود بھی حیا کے ساتھ زمین پر گرا اور وہ تیزاب گاڑی کے شیشے پر لگنے کے بعد دوبارہ اچھل کر عزیر حیات کے چہرے پر گرا
چہرے پر ہاتھ رکھے چیخنے لگا جو گڑھا اس نے حیا کے لیے کھودا تھا اس میں خود گر گیا تھا اس وقت حیا شاہ زر کے نیچے اپنی سانس بحال کر رہی تھی شاید اس نے عذیر کی آواز سنی ہی نہیں تھی اسے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے
وہ اب بھی شاہ زر کی خوشبو کے حصار میں تھی شاہ زر نے حیا کو ایسے دبوچا ہوا تھا کہ اب اسے جانے ہی نہیں دے گا جب چیخوں کہ آواز پر حورعین اور شانزل بھی باہر آئے تو یہ صورتحال سمجھ سے باہر تھی
حورعین کی سہمی ہوئی پکار پر
شاہ زر ہوش میں آیا اور حیا کو بھی اٹھایا
” تم۔۔۔ تم ٹھیک ہو؟”
و وہ اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے پوچھ رہا تھا
حیا نے نہ سمجھی سے اثبات میں سر ہلایا اسے خود خاک سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں حورین اور شانزل صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہے
اب شاہ زر کا رخ عزیر حیات کی طرف تھا جو زمین پر تڑپ رہا تھا شاہ زر شیر کی طرح گارڈ پر جھپٹا
” ابھی کے ابھی اسے لے کر یہاں سے دفع ہو جاؤ ورنہ تم سب کو زندہ دفن کر دوں گا “
اس کی دہاڑ پر گارڈ فورا حرکت میں آئے اور اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالنے لگے
ان لوگوں کے جانے کے بعد شاہ زر حیا کی طرف متوجہ ہوا
“صرف ایک سوال پوچھوں گا “
اس کا لہجہ آگ برسا رہا تھا
“کیا تم جان بوجھ کر اس کے پاس آئی تھی”
حیا نے بمشکل اثبات میں سر ہلایا
شاہ زر نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک کرارا تھپڑ حیا کے گال پر دے مارا
حیا منہ کے بل زمین پر گری
” شاہ”
حورعین نے بڑھ کر شاہ زر کو روکنا چاہا تو اسے اشارے سے روک دیا
تھپڑ اتنا زبردست تھا کہ حیا کو تارے نہیں پورا نظام شمسی آنکھوں کے سامنے ناچتے نظر آ رہے تھے وہ سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ شاہ زر نے جھٹکے سے کھڑا کیا اس کے دونوں بازو دبوچے اس سے پوچھنے لگا
“کیا سمجھتی ہو تم خود کو ہاں؟ کیا سمجھتی ہو؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسا کچھ کرنے کی؟ سو رہا تھا میں مر تو نہیں گیا تھا نا؟ کیوں آئی تم یہاں ؟”
وہ اسے جھنجھوڑ کر پوچھ رہا تھا ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ تھاما شاہ زر کی آنکھیں آگ برسا رہی تھی سانس یوں پھولی ہوئی تھی جیسے پتہ نہیں کتنی دور سے دوڑ کر آرہا ہو پیشانی اور گردن کی رگیں پھول گئیں تھیں چہرہ سرخ پڑ رہا تھا
” تمہیں پتا ہے وہ کیا کرنے والا تھا؟ تمہیں کچھ ہو جاتا تو؟
جذبات کا جیسے ایک طوفان آیا تھا
شاہ جہانزیب اس طوفان کی زد میں آیا تھا یہ طوفان اسکی ساری بے نیازی بہا لے گیا
شدت جذبات میں آ کر اس نے اپنے لبوں کے ذریعے حیا کے لب قید کیے تھے اور تمام جذبات کا اظہار کر دیا حیا ہونق بنی صورتحال سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی حورعین اور شانزل زیر لب مسکرائے
کچھ لمحوں کے بعد شاہ زر نے اسے جھٹکے سے الگ کیا
” لیکن تمہیں کیا فرق پڑتا ہے؟ تمہیں کون سی میری پرواہ ہے؟ خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتی ہو؟ جیسا دل کرے گا ویسے ہی کروں گی ہاں؟ خود کی حالت پہلے ہی کیسی کر رکھی ہے۔۔۔۔۔ اور اب۔۔۔۔۔ تمہیں پتا ہے وہ تیزاب تھا۔۔۔۔۔ تیزاب۔۔۔۔۔۔”
ایک بار پھر وہ بازو سے پکڑ کر پوچھنے لگا
“تمہیں کبھی مجھ پر رحم نہیں آتا ؟ کس سے پوچھ کر تم من مانیاں کرتی ہو ہاں؟ تمہیں مجھ سے لڑنے کا حق ہے، غصہ ہونے کا حق ہے، سزا دینے کا حق ہے، مگر مجھ سے دور جانے کا حق نہیں ہے۔۔۔۔ سمجھی “
وہ اتنی زور سے دہاڑا کہ حیا لرز گئی
“ایک بات دماغ میں بٹھا لو میری اجازت کے بغیر میں تمہیں مرنے بھی نہیں دوں گا۔۔۔۔مجھے نہیں پتا ، تم اچھی ہو یا بری، مجھے نہیں پتا تم خوبصورت ہو یا بدصورت، مجھے نہیں پتا کہ تم میرے لائق ہو یا نہیں، مجھے نہیں پتا تم عقل مند ہو یا پاگل، بس اتنا پتا ہے تم میری ہو، صرف میری، حیا صرف شاہ زر کی ہے، ،،،،،،”
اس جملے سے فردوس بریں گونج اٹھا
” دوبارہ ایسی کوئی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا “
حیا تو آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی وہ بات پوری کرنے کے بعد ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کر پلٹا اور گاڑی میں بیٹھ کر سامنے آتی ہر چیز کو روندتے ہوئے گزر گیا
حیا ویسے ہی ساکت کھڑی تھی
حیا نے اپنے کندھے پر ہاتھ محسوس کیا حورعین اس کے پیچھے کھڑی تھی
” اندر چلو بات کرتے ہیں “
“وہ ناراض ہو کر گئے ہیں مجھ سے “
حیا کی آنکھیں برسنے کے لئے تیار تھی شانزل نے بمشکل مسکراہٹ روکی
“نہیں یار غصہ ٹھنڈا ہو گا تو واپس آئے گا چلو اندر”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین نے اسے پانی پلایا
“عذیر حیات نے شاہ زر کے سر پر نشانہ باندھا ہوا تھا میں نہیں جاتی کیا؟”
کہنے کے ساتھ ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
“کتنا کچھ سنا رہے تھے ،کیا ضرورت ہے جانے کی وہ بھی اتنی رات کو”
” اگر شاہ تھپڑ نہ مرتے تو میں مارتی، تم ہمیشہ اپنی جان خطرے میں ڈال دیتی ہو “
صبر رکھو حیا، آ جائے گا وہ واپس، تم لوگ تو ٹھنڈے ہو جاؤ “
“آپ تو بات نہ کریں، تمہیں پتا ہے حور؟ ان لوگوں نے کیا کیا ہے؟ ان لوگوں نے۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے عزیر حیات کو گلے میں کتے کا پٹا باندھ کر پوری شہر کی گلیوں میں گھومایا ہے اسے پیٹ کر چوراہے پر لٹکا دیا تھا”
حورعین نے ایک لمحے کو بے یقین نظروں سے حیا کو دیکھا پھر شانزل کی طرف مڑی جو بہت اطمینان سے کھڑا تھا
“کیا یہ آپ نے کیا ہے؟ جب کہ میں نے منع کیا تھا ؟”
“تم نے اپنے معاملے میں منع کیا تھا اور میں نے بھی تم سے کہا تھا میں صبر نہیں کروں گا یہاں بات میری بہن کی تھی میں نے اس کے لئے کیا کِیا ہے اور کیا نہیں کیا ہے، اس کے لیے میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں”
” آپ مجھے ہر حالت میں جواب دہ ہیں، بیوی ہوں میں آپ کی”
” اور جس کی اس نے عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی وہ میری بہن تھی، اتنا بےغیرت نظر آتا ہوں کہ ایسی حرکت کرنے والے کو میں ایسے ہی چھوڑ دوں گا، خبردار جو تم نے اس معاملے میں ایک لفظ مجھ سے اور کہا جو سوال و جواب کرنا ہے اپنے بھائی سے کرنا وہ بھی اس میں برابر کا شریک تھا “
” مجھ سے چھپایا کیوں گیا؟ مجھے پتہ کیسے نہیں چلا؟”
” تمہیں کیا لگتا ہے گھر سے اخبار کا front page غائب کرنا اور ٹی وی سے نیوز چینل کچھ دنوں کے لیے غائب کرنا وہ بھی اس وقت جب تمہیں حیا کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا مشکل کام ہے؟ بالکل نہیں اور میں اس کے لئے بالکل شرمندہ نہیں ہو تو تم مجھے گھورکر شرمندہ کرنے کی کوشش نہ کرو یہ کوشش بیکار ہے، بدلہ لینے کا حق مجھے تھا جو میں نے لیا ہے، شاہ زر کو بھی تھا اس نے بھی لیا ہے،
” اس بدلے نے میری زندگی اجیرن کردی ہے آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں ؟”
” اس معاملے میں تمہاری بالکل نہیں سنوں گا سمجھ میں آیا؟ ہم نے جو کیا ایک دم صحیح تھا کبھی بھی تم اسے غلط نہیں ٹھہرا سکتی ہو نا میں ایسی کوئی غلطی کی معافی مانگوں گا جو میں نے نہیں کی، میں حیا نہیں ہوں، میں شانزل ابراہیم ہوں
I own my words and action, stick to them till the end of life and I m ready for their retribution.”
حورعین کو چپکی لگ گئی ایک عرصے بعد اسے ہٹ دھرم شانزل ابراہیم کی جھلک نظر آئی تھی۔
حیا جلے پر کی بلی بنی یہاں سے وہاں ٹہل کر شاہ زر کا انتظار کر رہی تھی رات بھر ایک پل کے لئے بھی وہ سکون سے نہ بیٹھی صبح ہوگئی یہاں تک کہ گیارہ بجے مگر شاہ زر نہیں آیا
” پریشان مت ہوں حیا شان گئے ہیں نا دیکھنے ویسے بھی شاہ بچے نہیں ہیں”
” کیسے پریشان نہ ہوں فون بھی آف آ رہا ہے “
تقریبا ایک بجے شانزل کا فون آیا حیا نے لپک کر فون اٹھایا
“حیا تم ایک کرسی پر بیٹھ جاؤ اور حور کو فون دو”
” نہیں بتائیں کہاں ہیں شاہ زر”
” وہ آفس میں ہی تھا مگر صبح حیات سکندر ملنے آیا تھا وہ اسی کے ساتھ گیا ہے آفس سے بس مجھے اتنا ہی پتہ لگا ہے”
“ن۔۔۔ن۔۔۔نہ۔۔نہیں۔۔و۔۔ وہ۔۔۔۔انہیں نقصان پہنچائے گا۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔م۔۔میں۔۔۔۔ ایسا نہیں ہونے دوں گی”
حیا کہتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بھاگی
“حیا رکو کہاں جا رہی ہو؟ ہم۔۔۔ہم پولیس کو فون کرتے ہیں”
” دور ہٹو مجھے جانا ہے”
وہ حیا ہی کیا جو کسی کی بات مان لیں
بنا رکے گاڑی لے کر چلی گئی
“حیا میری بات۔۔۔”
حورعین بس چیختی رہ گئی
“پاگل ہو گئی ہے بالکل، ہال سے کمرے تک کا راستہ یاد نہیں رہتا پتہ نہیں کہاں چلی گئی وہ بھی گاڑی لے کیسے ڈرائیو کرے گی”
حیا کو نہیں پتا تھا وہ گاڑی کیسے چلا رہی ہے؟ اسے راستہ کیسے یاد ہے؟ بس اس کے ذہن پر شاہ زر سوار تھا
وہ تیزی سے ڈرائیو کرتے ہوئے حویلی پہنچی
اسے نہیں یاد کے کتنی مرتبہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا حویلی پوری بھاں بھاں کر رہی تھی
حویلی میں کوئی نہیں تھا مایوس ہو کر ایک بار پھر شاہ زر کا نمبر ڈائل کیا مگر بند تھا
کہاں جا سکتے ہیں وہ ؟
آنسو آنکھوں سے اسی طرح بہہ رہے تھے جیسے باہر بارش برس رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین نے بدحواسی میں شانزل یہاں تک کہ اشعر ہانیہ کو بھی فون گھوما ڈالا
شاہ زر بہت سمجھ دار اور باشعور تھا اسے شاہ زر سے زیادہ حیا کی فکر تھی وہ اتنی بیمار تھی اوپر سے وہ سب باتیں بھول جاتی تھی
اشعر ہانیہ دوڑے دوڑے پہنچے
“کہاں جا سکتی ہے وہ اشعر؟”
“ہم ڈھونڈ لیں گے اسے حور “
شانزل اور اشعر الگ الگ سمت میں اسے ڈھونڈنے نکلے شام کے پانچ بجے تک وہ نہ ملیں تو وہ لوگ مایوسی سے لوٹ آئے
شانزل نے سارے شہر کی پولیس کو دوڑائے حیران کر ڈالا
“تم فون لگاتی رہو”
” کب سے تو لگا رہی ہو اٹھا ہی نہیں رہی، آنے دو ایک بار بس۔۔۔۔”
حورعین ہر منٹ بعد اسے فون لگا رہی تھی
“ہیلو۔۔۔۔” شکر تھا اس نے فون اٹھایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسٹیرنگ پر سر رکھے آنسو بہا رہی تھی
تبھی ایک خیال جھماکے ساتھ ذہن میں آیا
” یا اللہ یہ میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا ۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے وہ اپنی بیوی کے پاس گئے ہو”
اس کے ساتھ ہی اس کے آنسو میں اور روانی آگئی
” یا اللہ میں کسی اور کو ان کے پہلو میں نہیں دے سکتی “
اس نے فیصلہ کر لیا وہ حور کو سب سچ سچ بتا دے گی اگر وہ اب بھی نہیں مانی تو کارکہیں ٹکرا کر قصہ ہی ختم کر دے گی
اس نے موبائل اٹھایا جو کب سے بج رہا تھا
“حور ۔۔”
“حیا۔۔۔حیا تم کہاں ہو ؟ تم ٹھیک ہو؟
” شاہ زر آئے گھر پر؟”
سوال پوچھا
“ہاں آگئے ہیں تم فورا گھر آؤ “
حورعین نے جیسے ہی فون رکھا نظر شانزل پر گئی جو اسے خطرناک تیوریوں سے گھور رہا تھا
” کیا ہوا ؟”
حورعین جان کر انجان بنی
” تم نے جھوٹ کیوں کہا جب واپس آئے گی تو کیا ہوگا تم جانتی ہو ؟ اس قدر شدید ریکشن دے گی، خدا خدا کر کے تو وہ نارمل ہو رہی ہے اب اس کا ذہن ایک اور جھٹکا برداشت نہ کر پایا تو ؟”
“جو بھی ہوگا میں سنبھال لوں گی ویسے بھی یہ آئیڈیا اشعر کا تھا”
اسے فل وقت یہاں ہونا چاہیے باہر تھا نہ جانے کیا ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش تھم چکی تھی مگر حیا پوری طرح بھیگ چکی تھی یہاں تک کہ اب کپڑے سوکھنے والے تھے اس وقت رات کے نو بج رہے تھے وہ فردوس بریں پہنچنے والی تھی اس کا دل ایک آگ میں جل رہا تھا ایسی آگ جو صرف شاہ زر کے دیدار سے ہی بجھ سکتی تھی
حیا کا روم روم شاہ زر کی سلامتی کی دعا مانگ رہا تھا عزیر حیات کی جو حالت تھی اس کے بعد حیات سکندر نہ جانے کیا کر ڈالے
اس نے گاڑی روکی اور گاڑی کا انجن اور دروازہ کھلا چھوڑ کر فردوس بریں کے دروازے کی طرف دوڑی
اندر سب تھے مگر شاہ زر نہیں تھا
“ش۔۔۔شاہ زر کہاں ہے؟
اس کی لٹی پٹی حالت دیکھ کر حورعین کی تیار کردہ تمام دلیلیں، ساری تسلیاں، سارے جواز کہیں جا سوئے تھے
” وہ یہاں نہیں آئے مگر ایسا کہنے کے لئے مجھے اشعر نے کہا تھا”
حیا کو محسوس ہوا اس کے دماغ کی کوئی نس پھٹ جائے گی حیا کا دل چاہا وہ اشعر کو جھنجھوڑ کر رکھ دے
وہ زخمی شیرنی کی طرح اس کی طرف لپکی اس کا گریبان دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر اسے جھنجھوڑ ڈالا
“کیوں؟۔۔۔کیوں، ؟۔۔۔ کیوں کیا تم نے ایسا؟ کیوں؟” اپنے ہاتھوں کے مکے بنا کر اس کے سینے پر برسانے لگی اشعر بیچارا مار کھا رہا تھا حیا جب مار مار کر تھک گئی تو رونے لگی وہ ہذیانی انداز میں خود سے باتیں کر رہی تھی یا اشعر سے یا حورعین سے یا شانزل سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا
” تم کیوں کر۔۔۔۔۔ کیوں کرتے ہو ایسا؟ میں ڈھونڈ رہی تھی نہ انہیں”
“کیسے ڈھونڈ رہی تھی “
اشعر نے بھی اسے آڑے ہاتھوں لیا
“انہیں ڈھونڈنے کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔۔۔۔حیا ابھی اتنی کمزور نہیں ہوئی کہ شاہ زر کو ڈھونڈنے کے لئے اسے کسی سہارے کی ضرورت پڑے”
حیا کی آواز غصے سے کانپ رہی تھی
” اگر شاہ زر کو کچھ ہوا تو میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں گی”
وہ حقیقتاً جلالی ہو رہی تھی
” کسی نے بھی شاہ زرر اور میرے درمیان آنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا، شاہ زر جہانزیب کو ایک خرونچ بھی آئی تو حیات سکندر کا انجام دنیا دیکھے گی”
وہ حلق کے بل چینخ رہی تھی کہ حورعین کی نظر دروازے کی طرف اٹھی
” شاہ “
حیا نے فورا پلٹ کر دیکھا
یکا یک جلتے دل میں سکون اترا وہ کل کے ہی لباس میں اپنی تمام تر وجاہت سمیٹے سن سا کھڑا تھا حیا دوڑ کر اس کے پاس گئی
بے قراری سی بے قراری تھی
“آ۔۔۔آ۔۔آپ ٹھیک ہے نا؟ میں۔۔۔؟ سوری ۔۔۔۔مجھے معاف کر دیجیے ۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں آپ سے پوچھے بغیر کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔ م۔۔میں سچ بول ر۔۔رہی ہوں بس آپ ایسے چھوڑ کر مت جائیے گا میں آپ کی ساری بات مانوں گی پکا”
شاہ زر نے دیکھا وہ کل کے لباس میں ننگے پیر کھڑی تھی آنسو پورے شد و مد سے برس رہے تھے
دوپٹہ ایک کندھے پر جھول رہا تھا پتا نہیں وہ خوف سے کانپ رہی تھی کہ سردی کی شدت سے۔۔۔۔۔ مگر ہمیشہ کی طرح وہ شاہ زر جہانزیب کی دنیا ہلا گئی
“میں ساری بات مانوں گی آپ کی سچ میں “
اس کے ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے شاہ زر کو تشویش ہوئی وہ بھول گیا تھا کہ وہ گھر کس ارادے سے آیا تھا
” حیا میں ٹھیک ہوں، دیکھو مجھے، میں ٹھیک ہوں، لیکن تمہیں کیا ہوا ہے ؟”
اس کی سلامتی پر حیا کی رگ رگ میں سکون اترا مگر جسم میں جیسے جان ختم ہوگئی
وہ وہیں ڈھے گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
” میں ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔ میں ڈر گئی تھی”
شاہ زر بھی وہیں پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا
“حیا ادھر دیکھو “
شاہ زر نے اس کا چہرہ اوپر کرنا چاہا تو حیا نے اس کے ہاتھ جھٹک دیے
“بات مت کریں مجھ سے”
وہ ہذیانی انداز میں چینخی
“اب تو بالکل آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی”
وہ اتنی زور سے چیخ رہی تھی کہ اس کی رگیں پھول گئیں شاہ زر حق و دق اسے دیکھ رہا تھا وہ پل پل میں رنگ بدل رہی تھی
بغیر انتظار کیے تن فن کرتی اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی
شانزل اپنی پوری کوشش کے باوجود اپنی مسکراہٹ نہ چھپا سکا منہ بند کرو شاہ زر، حیا چلی گئی ہے”
شانزل کے کہنے پر شاہ زر نے اپنا کھلا ہوا منہ بند کیا
“میں پانی لے کر آتی ہوں آپ کے لیے “
حورین فورا اٹھی
نہیں صنم میں ٹھیک ہوں، تم حیا کے پاس جاؤ “
شاہ زر کہتے ہوئے شکستہ انداز میں صوفے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا
“شاہ۔۔۔۔وہ حیات سکندر آپ کے پاس کیوں آیا تھا “
جو بھی تھا مگر حورین کافی فکرمند تھی اس کے لئے
“میں ٹھیک ہوں میں کافی تھک گیا ہوں صنم، ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے”
شاہ زر کے چہرے پر برسوں کی تھکن نمایاں تھی حورین کو حقیقتاً شاہ زر پر ترس آیا
نہ جانے شاہ کی زندگی کب normal ہوگی
وہ سوچ ہی سکیں
شاہ زر کی حالت دیکھ کر حورین کی آنکھیں بھی اداس ہو گئی یہ منظر شانزل کو کافی نہ گوار گزرا شاہ زر نے دو تین گہری گہری سانس لی اور اٹھ کھڑا ہوا
“تم خوامخواہ پریشان ہوئی میں بچہ تھوڑی ہوں”
اس نے مسکرا کر حورعین کے سر پر ہاتھ پھیرا
حورعین کو زندگی میں پہلی بار محسوس ہوا کہ شاہ زر کو اپنی کیفیت چھپانے مشکل پیش آ رہی ہے مگر جتنا ہو سکتا تھا اپنا لہجہ متوازن رکھنے کی کوشش جی جان سے کر رہا تھا
” چلو اب بے فکر ہو کر آرام کرو “
شاہ زر کی مسکراہٹ ایک جلتا ہوا تیر پیوست کر گئی تھی حورعین کے دل میں وہ پلٹ کر جانے لگا پھر واپس آیا کچھ خیال سے چونکا ہو جیسے
” تم نے کھانا کھایا؟”
حورعین کے حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹکنے لگا وہ اس کی کتنی فکر کرتا تھا حورعین نے بمشکل نا میں سر ہلایا اور وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا
“میں بالکل ٹھیک ہوں میرا بچہ، چلو جلدی سے کھانا کھاؤ پیٹ بھر کر، اور حیا کو بھی کھلا دینا “
وہ ایک باپ کی طرح اس کے بالوں کو سہلا کر اسے بہلانے کی کوشش کر رہا تھا وہ ہمیشہ اسکا دھیان خود سے ہٹا دیا کرتا تھا ایسا ہی تو تھا وہ، خاموش سمندر جیسا ،جس میں کتنی طغیانی ہے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا اس طغیانی کو محسوس کرنے کے لیے اس سمندر میں اترنا پڑتا
جس میں اترنے کی اجازت شاہ زر جہانزیب نے کسی کو نہیں دی، اس سمندر کی گہرائی کے خوف سے صنم کو بھی نہیں، نو عمری میں ہی زندگی کے بے رحم کھیل اور پے در پے حادثوں نے اسے خود میں سمٹنے میں مجبور کردیا۔ اپنی سلطنت میں پوری شان سے حکومت کرتے شہزادے سے اچانک سب کچھ چھین لیا گیا وہ سرِ آسمان خالی ہاتھ رہ گیا۔ ایسے خالی ہاتھ جس میں سے تقدیر نے بڑی بے دردی سے خوشیوں کی لکیریں مٹا ڈالی تھی۔
2
حورعین نے زبردستی مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا
“تم کہاں جارہے ہو؟
شانزل حورعین کے چہرے کے اتار چڑھاؤ بخوبی دیکھ رہا تھا اور پوری جان سے محسوس بھی کر رہا تھا اسی لیے شاہ زر سے پوچھ لیا
“کہیں نہیں یار ٹیرس پر ہوں “
وہ کہہ کر رکا نہیں جیسے یہاں سے فرار چاہ رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین کھانا لے کر حیا کے پاس آئی تو وہ اسی حلیے میں بیٹھی تھی نہ جانے کونسی سوچ میں ڈوبی تھی
“کھانا کھا لو حیا”
” من نہیں کر رہا “
” رہنے دیں آپی یہ کسی کی نہیں سننے والیں”
تبھی ہانیہ عانیہ کو لے کر آن وارد ہوئی
“تو پھر کیوں مجھ پر وقت برباد کر رہے ہو؟ اتنی ہی بوجھ ہوں تو اٹھا کر پھینک دو مجھے”
ہانیہ تو کھڑے کھڑے شرمندہ ہوگئے اس نے تو مذاق کیا تھا مگر حیا نے تو سیریس ہو گئی
حورعین خاموشی سے ٹرے لے کر باہر آگئی اس کے قدم بہت بھاری ہو رہے تھے اس نے ملازمہ کے ہاتھ سے ٹرے کچن میں بھجوائی
اتنے مہینوں کی برداشت جیسے اب جواب دینے لگی تھی اس کا دل کہیں ڈوبا جا رہا تھا جیسے ہی اس نے کمرے کا دروازہ کھولا شانزل فون پر محو گفتگو تھا اسے دیکھتے ہی حورین کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے وہ دوڑ کر شانزل کے سینے سے جا لگی
شانزل دم بخود رہ گیا رخصتی کو تقریبا ایک سال ہو رہا تھا مگر حورعین کی طرف سے یہ پہلی پیش رفت تھی شانزل کو شرارت سوجھی تھی
اس نے فون کان سے ہٹایا
“مجھے پتا ہے میں ہینڈسم ہوں اس لیے تم مجھ سے دور۔۔۔۔۔۔۔”
شانزل کے تمام الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیونکہ اس نے اپنے سینے پر نمی محسوس کی تھی
اس نے اس کا چہرہ اوپر کیا آنسو ایک تواتر سے اس کے چہرے کو بھیگو رہے تھے
شانزل کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا ہو وہ تو اس کی رگوں میں سکون بن کر دوڑتی تھی اس کے آنسو اسے تکلیف تو دیتے ہی
” بیٹھو یہاں”
شانزل نے اسے بیڈ پر بٹھایا شانزل کا سہارا پاتے ہی حورین پوری طرح بکھر گئی وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی اور اس کی ہر ہچکی شانزل کے دل پر ضرب لگائے جا رہی تھی
” لو پانی پیو “
شانزل نے پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا
پھر شانزل نے اسے اپنی باہوں میں سمیٹا
” جب میں تمہارے ساتھ ہوں تو تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بتاؤ میری جان کیا بات ہے؟ میں سب ٹھیک کر دوں گا “
اس کی بات سنتے ہی حورعین مزید رونے لگی
” میری جان نکل جائے گی حور پلیز بتاؤ کیا پرابلم ہے میں سب ٹھیک کر دوں گا تمہارے آنسو مجھے بہت تکلیف دے رہے ہیں “
حورعین نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا بھوری آنکھیں جن میں عزم تھا جیسے وہ اس کی ساری پر یشانی ختم کر دے گا
“میں بہت بری ہوں نا شان ؟”
گلوگیر لہجہ شانزل کے دل کے سو ٹکڑے کر گیا
“نہیں جانِ شان تم مجھ سے پوچھو تو میرے لیے تم متاع حیات ہو، میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہو،”
اس نے حورین کو خود میں بھینچ لیا
” نہیں شان میں بہت بری ہوں، بہت بری، سب میری وجہ سے ہوا ، شاہ اور حیا میری وجہ سے اس حالت میں ہیں”
شانزل نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اسے اپنے بازو پر لٹایا
“میں تو دونوں ہی سے محبت کرتی ہوں میں نے ان کا اچھا ہی چاہا تھا، آپ جانتے ہیں نا؟”
وہ اس کی شرٹ دبوچے یقین چاہتی تھی شانزل نے اس کی نم آنکھیں بہت ملائمت سے چومیں
” میں جانتا ہوں میری جان”
وہ چاہتا تھا حورعین اپنے دل کا سارا بوجھ ہلکا کر دے
” نہ میں ان لوگوں سے شادی کرنے کا کہتی نہ ایسا کچھ ہوتا ، حیا کی حالات مجھے بہت تکلیف دیتی ہے میں نے اس کی زندگی کے سارے رنگ چھین لیے،،، شاہ تو سارے درد ساری تکلیف خود تک رکھنے کے عادی ہیں وہ کبھی نہیں بتائیں گے کہ وہ کتنی تکلیف میں ہیں “
“مجھے دیکھو حور “
شانزل نے آنکھیں بند کیے بلکتی ہوئی حورعین سے کہا حورعین نے اسے دیکھا سبز آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھی
” ان دونوں کے درمیان جو بھی ہوا اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی وہ میاں بیوی ہے جہاں تک مجھے نظر آتا ہے حالات کی وجہ سے ڈگمگائے ہے مگر ان کے راستے ملیں گے ضرور”
“شان مجھے ایسا نہیں لگتا، مجھے لگتا ہے مجھے میری حیا کبھی نہیں ملے گی اور شاہ مجھے یہی تسلی کرانے میں زندگی گزار دیں گے کہ وہ ٹھیک ہے سب میری وجہ سے ہوا سب۔۔۔ میں تو۔۔۔۔ میں تو آپ کی اولاد کا خیال بھی نہ رکھ سکیں”
” چپ کرو میری جان “
شانزل نے اسے خود میں بھینچ لیا یہ دکھ تو اس کے لیے بہت بڑا تھا مگر ابھی حورعین کو سنبھالنا بہت ضروری تھا
” یہ سب خدا کی مرضی تھی وہ اس کی چیز تھی جو اس نے لے لی میری جان ، مایوس مت ہو حوصلہ کرو میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری حیا تمہیں ضرور واپس ملے گی اور شاہ زر کا دماغ بھی ٹھکانے لگاؤنگا “
شانزل کی بات پر حورعین نے گھور کر دیکھا
عداوت بھری آنکھوں سے وار مخلصانہ
شانزل واری صدقے ہر وار قاتلانہ
شانزل نے ترنگ میں شعر پڑا جس سے حورعین مسکرائیں شانزل نے اپنے ہونٹوں سے اس کے آنسو چن لئے
حورعین اس کے لبوں کا لمس محسوس کر رہی تھی جو سکون بن کر اس کے دل میں اتر رہا تھا جلتے دل پر ابرِ کرم بن کر برس رہا تھا
” اپنی آنکھوں پر ظلم مت کیا کرو میری جان، شانزل ابراہیم تم سے عشق کرنے لگا ہے تمہارا ہر آنسو میرا دل چیر دیتا ہے، تمہیں جو چاہیے تم مجھ سے حق سے مانگو، شانزل ابراہیم دنیا کی ساری خوشیاں تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دے گا تم یہی چاہتی ہو نا کہ شاہ زر اور حیا خوش رہے تو شانزل ابراہیم تم سے وعدہ کرتا ہے کہ ایسا ہی ہوگا بس تم خود کو اذیت مت دیا کرو میری جان “
شانزل ابراہیم اپنی بیوی کو اعتماد بخش رہا تھا معتبر کر رہا تھا اور حورعین ایک دم ہلکی پھلکی ہوگئی
حورین کے چہرے پر اترتے سکون کو دیکھ کر شانزل کی جان میں جان آئی اور اس نےحورعین کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کی
“بالکل ٹینشن فری ہوکر لیٹو میں ابھی آیا “
“کہاں جا رہے ہیں آپ”
” لوہا گرم ہیں ہتھوڑا مارنے جارہا ہوں “
حورعین نے ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
” بھروسہ کرو جانِ شان”
حورعین مسکرائی
شانزل کمرے کا دروازہ کھولتا باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر سنگ مرمر سے بنے جھولے پر بیٹھا نہ جانے کن سوچوں میں گم تھا آہٹ پر پلٹ کر دیکھا تو شانزل ملازم کے ساتھ کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی ملازم ٹرے رکھ کر چلا گیا
“چند نوالے کھا لو تاکہ میری بیوی سکون سے سو سکے “
شانزل کی بات سن کر شاہ زر نے بمشکل تین نوالے زہر مار کیے پھر پلیٹ کھسکا دی
” اب تم جاؤ مجھے اکیلے بیٹھا ہے “
“تم اپنی الجھن کسی سے شیئر کیوں نہیں کر لیتے”
ہ
شاہ زر نے جواب نہ دیا
“تم نے کہا تھا جہاں محبت ہوتی ہیں وہاں جھگڑا ہوتا ہے ناراضگی ہوتی ہے اور پھر صلح ہوتی ہے لیکن تمہارے معاملے میں تو مجھے صلح کہیں نظر ہی نہیں آ رہی آخر تم بات کو سلجھا کیوں نہیں لیتے یا پھر محبت ہے ہی نہیں اسی لئے صلح نہیں ہو رہی”
” ہاں اور کچھ تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے سلجھانا نہیں چاہ رہا ، میں جانتا ہوں صنم بہت پریشان ہے اور فی الوقت کوئی بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں اور کس سے شیئر کرو الجھن”
یقینا اس کا اشارہ حیا کی طرف تھا
“شاہ زر تم ایک سمجھدار انسان ہو تم نے مجھ سے زیادہ دنیا دیکھی ہے یار، مرد بنو، جب تم سترہ سال کے تھے تب تم نے اتنا بڑا قدم اٹھایا تھا ، ایک سر پھری لڑکی کی عقل ٹھکانے لگانا تمہارے لئے چٹکی بجانے جتنا آسان ہے، میں نہیں جانتا بلکہ کوئی نہیں جانتا کہ تم نے حیا سے شادی کیلئے ہاں کیوں کہی، کل رات کے بعد کچھ اندازہ ہو رہا ہے مجھے “
اس بات پر مسکرایا
“لیکن یہ بات حیا کو سمجھانا ہوگی مگر اس سے پہلے اسے سمجھو یار، وہ تھوڑی جذباتی اور پاگل ہے اور لڑکیاں بیوی بننے کے بعد اچھی خاصی ضدی بھی ہو جاتی ہیں ، ماشاء اللہ تمہاری والی تو ہٹلر کی نانی ہے اسے صرف تم ہینڈل کر سکتے ہو”
” کیسے ہینڈل کروں اس کی حالت دیکھی ہے؟”
” مجھے وہ سب نہیں پتا تم پتا لگاؤ کہ ایسا کیوں ہے آج کی رات ہے تمہارے پاس، مجھے میری بہن اور حور اس کی حیا واپس لا دو میں اپنی بیوی سے وعدہ کر چکا ہوں”
” میں بہت ڈسٹرب ہوں یار اتنا بڑا کام مجھے مت سونپو”
شانزل نے دیکھا وہ کافی ڈسٹرب تھا
“تم خود سے کیوں بھاگ رہے ہو؟ تم شاہ زر جہانزیب ہو جو کبھی مشکل کو پیٹ دکھا کر نہیں بھاگتا “
“یہی تو بات ہے مشکل نہیں ہے جس کا مقابلہ کر لوں شاید آج میرے لیے آزمائش اتری ہے اور مجھے لگتا ہے اس آزمائش میں سرخرو نہیں پاؤں گا،،،، یار کتنی مرتبہ کہہ چکا ہوں اکیلا بیٹھنا ہے جا کر صنم کو سنبھالو وہ بہت پریشان ہے”
شانزل کو تشویش ہوئی یقینا آج وہ حیات سکندر سے مل کر آیا تھا کوئی نہ کوئی بات تو ضرور تھی اوپر سے کل رات عزیر حیات کی جو حالت تھی حیات سکندر خاموش نہیں بیٹھنے والا تھا
” شاہ زر کوئی بات ہے تو مجھے بتا دو ہم مل کر سلجھا لیں گے “
“کوئی پریشانی والی بات نہیں بے فکر ہو سب ٹھیک ہے اب خدا کا واسطہ مجھے اکیلا چھوڑ دو”
“تم۔۔۔تم۔۔تم نا اکیلے گھٹ گھٹ کر مر جاؤ گے اگر اسی طرح سب کچھ اندر رکھتے رہے تو، بھاڑ میں جاؤ میری طرف سے، حد ہے منتیں کیے جا رہا ہوں جو میں کسی کی نہیں کرتا مگر تمہارے نخرے ختم نہیں ہو رہے ،،،، ڈھیٹ ہڈی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ،،،، جو کام کہا ہے وہ ہو جانا چاہیے باقی مجھے کچھ نہیں پتا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناک کرنے کے بعد شانزل اندر داخل ہوا تو حیا عانیہ کو سلانے میں مصروف تھی جو نہ جانے کب کی سو گئی تھی
” کیا ہوا بھائی آپ اس وقت ؟حور ٹھیک تو ہے نا؟”
“سب ٹھیک ہے بس یہی دیکھنے آیا تھا کہ شوہر جب بے سکون ہو تو بیوی کیسے سکون سے رہ لیتی ہے”
تھا تو وہی شانزل ابراہیم جو سامنے والے کی زبان کو گنگ دینے میں ماہر تھا شانزل کی بات حیا کے دل پر لگی وہ کم ازکم شانزل سے طنز کی توقع نہیں کر رہی تھی آنسو بہنے کو تیار ہوئے
“خبردار جو ایک آنسو بھی بہایا، میری بہن کبھی اتنی کمزور نہیں تھی کہ مشکل کا حل اس میں تلاش کرے مجھے نہیں پتہ کہ تم دونوں کے درمیان کیا مسئلہ ہے اور مجھے جاننے کا شوق بھی نہیں ہے مگر۔۔۔”
” مجھے برا لگ رہا ہے مجھے شاہ زر سے بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی “
“تم تو اس غلطی کی بھی معافی مانگ لیا کرتی تھی جو تم نے نہ کی ہو لیکن اگر غلطی ہو گئی ہے تو معافی مانگنے میں کیا حرج ہے”
” انہوں نے اس غلطی کے لئے مجھے معاف نہیں کیا جو میں نہیں کرنے والی تھی ۔۔۔۔ اب تو میں نے بدتمیزی کی ہے ان کے ساتھ وہ کیسے معاف کریں گے” شانزل نے ایک گہری سانس خارج کی
“یہ سارے معاملے بعد کے لیے رکھو مجھے لگتا ہے اس وقت تمہیں شاہ زر کے پاس ہونا چاہیے ، جاتے ہوئے ملازمہ سے کافی لے کر جانا، وہ ٹریس پر بیٹھا ہے “
وہ ازلی شانزل ابراہیم بنا حکم دیتا چلا گیا
حیا مرتے کیا نہ کرتے مصداق کافی لے کر ٹیرس کی طرف بڑھی
“کافی”
آواز سن کر شاہ زر نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں وہ مر کر بھی توقع نہیں کر سکتا تھا کہ حیا خود اس کے پاس آئے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر شاہ زر نے اس کا ہاتھ تھام لیا
” کچھ دیر یہیں بیٹھ جاؤ”
شاہ زر کے لہجے میں نہ جانے کیا تھا کہ حیا منع نا کر سکی وہیں جھولے پر اس کے پاس بیٹھ گئی ہاتھ ابھی بھی شاہ زر کے ہاتھ میں تھا شاہ زر نے تھکے ہوئے انداز میں جھولے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں اور انگلیاں اس کی انگلیوں میں پھنسا دی حیا کی ساری جان سمٹ کر اس کے مضبوط ہاتھ میں قید ہوگئی وہ موم بن کر پگھلنے لگی دل پھر اس کی طرف ہمکنے لگا تھا
حیا نے دیکھا شاہ زر کا چہرہ مانو ضبط کی وجہ سے سرخ ہو رہا ہے حیا کو لگا اب اگر وہ مزید یہاں رکی تو شاہ زر کے قدموں میں بیٹھ کر اپنی جھولی پھیلا کر کہے گی خدا کا واسطہ اپنے سارے غم مجھے دے دو میں آپ کو ایسے نہیں دیکھ سکتی
شاہ زر کی پلکیں جو اس کی نیلی آنکھوں کو ڈھانپے ہوئی تھی وہ نم ہونے لگی حیا کو لگا اب اس کی سانس رک جائے گی اس شخص کا یہ ٹوٹا روپ اس کے دل کو چھلنی کر رہا تھا
حیا مزید وہاں بیٹھتی تو اس کی دھڑکن رک جاتی اسی لئے اٹھ کر جانے لگی لیکن شاہ زر نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا بلکہ وہ بھی اس کے سامنے اٹھ کھڑا ہوا
حیا نے دیکھا اس کی نیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیر رہے تھے شاہ زر نے تھاما ہوا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا
حیا بخوبی اس کی دھڑکن محسوس کر سکتی تھی
“میں تم سے صرف ایک سوال پوچھوں گا جواب سچ دینا اگر تم نے جھوٹ بولا تو خدا کرے میری دھڑکن یہیں بند ہو جائے”