125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

شانزل نے انٹرکام حور کو ملایا حورعین نے پہلے اپنے سر پر چادر ٹھیک کی پھر انٹرکام اٹھایا جیسے شانزل اس کے سامنے ہو
شانزل اس کی حرکت پر مسکرایا
“جی سر”
” آپ کا کام کہاں تک پہنچا؟”
“70%ہوگیا ہے”
“میرا بھی تقریبا ہو گیا ہے۔ اگر آپ میری حواسوں پر چھائی نہیں ہوتی تو اب تک مکمل ہو گیا ہوتا”
صرف شروع کر جملہ حورعین سے کہا پھر باقی دل میں ادا کیا۔
“ٹھیک ہے آپ سب wrap up کر دیں ،باقی گھر پر دیکھتا ہوں اور دوپہر سے لگے ہوئے ہیں کام میں”
” اوکے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب حورعین کیبین سے باہر نکلی تو پورا آفس بھاں بھاں کر رہا تھا ۲۵ منزلوں میں صرف وہی دونوں تھے۔
راستے بھر وہ لوگ پروجیکٹ ہی ڈسکس کرتے ہوئے آئے تھے۔
شاور لینے کے بعد جب وہ لوگ کھانا کھانے لگے تو پہلے نوالے سے ہی شانزل کو اندازہ ہوا کہ کھانا حورعین نے نہیں پکایا ہے۔
“آپ نے نوکروں کے ساتھ سعیدہ بوا کی بھی عادتیں خراب کر رکھی ہیں”
حالانکہ شانزل جانتا تھا عادتیں سعیدہ بوا کی نہیں خراب ہوئی ہیں بلکہ اسے حورعین کی عادت ہو گئی ہے اور یہ عادت اسے مشکل میں ڈال رہی تھی اسے صرف حورعین سے غرض تھا اسے ہر وقت ہر لمحہ حورعین سامنے چاہیئے تھی شانزل ابراہیم کی زندگی حورعین جہانزیب کے گرد گھومنے لگی تھی۔ اسکی ذات حورعین جہانزیب کے حصار میں قید تھی مگر یہ قید بڑی حسین تھی اس قید سے نکلنے کے لیے وہ کسی قسم کی کوشش نہیں کر رہا تھا کیونکہ وہ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا، کیوں نہیں کرنا چاہتا تھا؟ ظاہر ہے اسے اس قید سے آزادی چاہیے ہی نہیں تھی۔
( گر تو کھینچ دے میرے گرد چاہت کا حصار
اس حصار میں بکھرنے کو جی چاہتا ہے🤭🤭)
“اب ایسی بھی بات نہیں ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے کے بعد شانزل ہال میں ہی بیٹھ گیا حورعین سے کہا کے وہ بھی یہاں ہی آ جائے اس طرح دونوں ایک دوسرے کی ہیلپ بھی کردیں گے اصل میں شانزل حورعین کے ساتھ وقت گزارنے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا۔
حورعین پورے انہماک سے کام کر رہی تھی شانزل اسے دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا یہ محترمہ کتنے آرام سے میرا سکون حرام کر کے کام کر رہی ہیں۔
رات تقریبا ایک بجے فائل ورک کمپلیٹ ہوا تو شانزل پریزنٹیشن بنانے لگا اور حورعین ابھی بھی اپنے کام میں مصروف تھی۔
کچھ دیر بعد حورعین نے یوں ہی سر اٹھا کر دیکھا تو موصوف سو رہے تھے۔
وہ سفید ٹی شرٹ اور گرے ٹراوزر میں مغرور شہزادہ لگ رہا تھا لیکن اس پر غرور جچتا تھا اس نے دیکھا وہ لیپ ٹاپ گود میں لیے ہی سو گیا ہے
حورعین نے لیپ ٹاپ اٹھا کر ٹیبل پر رکھا شانزل کر کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے
آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ کا رویہ، آپ کا نرم لہجہ ان سب کو میں کیا سمجھوں؟ ابھی تو آپ کو حقیقت کا علم نہیں ہے، ایک انتظار پہلے ہی، اندر ہی اندر مجھے ختم کر رہا ہے خدا کے لیے میرے ہاتھ میں کسی سنہری شام کی آس نہ تھمائیں، میں کسی بھی قسم کی خوش فہمی پالنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی، آپ کا یہ رویہ میرے وجود کو سکون بخشتا ہے لیکن یہی رویہ میرے لیئے عذاب بن جائے گا جب آپ سب کچھ ختم کردیں گے اس عذاب کے عتاب میں زخم ہم دونوں کو ملیں گے آپ کے زخم تو بھر جائیں گے مگر میرا لہو لہو ہوتا وجود کیسے برداشت کرپائے گا اس سے ملنے والا زخم ناسور بن جائے گا جو میری جان لے کر ہی چھوڑے گا، اوہ……خدا میری زندگی آسان کر دے، یہ شخص میری زندگی کا مرکز بنتا جا رہا ہے ، کیا ہوگا جب مجھ سے میری زندگی کا مرکز چھین لیا جائے گا”
حورعین نے بھاری قدموں سے کمرے کا رخ کیا اور کمفرٹر لا کر شانزل کو اوڑھایا ساری سوچوں کو ایک طرف رکھ کر خود پریزنٹیشن بنانے لگی۔ حالانکہ ڈر تو بہت لگ رہا تھا کہیں وہ لیپ ٹاپ استعمال کرنے پر ناراض نہ ہو جائے مگر جس طرح پروجیکٹ کے لئے despirate تھا اس کی آنکھوں کی چمک کے لیے وہ یکسوئی سے پریزینٹیشن بنانے لگی۔ پیپر ورک تو سارا ہو ہی چکا تھا ساری detail فائل میں تھی اب صرف اسے پریزنٹیشن کا روپ دینا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر کی اذان سے شانزل کی آنکھ کھلی تو وہ ہڑبڑا گیا
میں سو گیا تھا ۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔ اب پریزینٹیشن کا کیا ہو گا؟ یا اللہ !
پہلا خیال یہی آیا۔
اس کی نظر مسکراتی ہوئی ہاتھ میں فائل لئے کھڑی حورعین پر پڑی۔
“آپ فریش ہولیں، ناشتہ ابھی کریں گے یا بعد میں؟”
“ابھی نہیں “
وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھ گیا تھا
حد ہے! اگر مجھے جگا دیتی تو کیا ہو جاتا ؟چھوڑو گئی پریزنٹیشن بھاڑ میں
یہ سوچتا ہوا وہ نماز پڑھنے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ ناشتے میں کیا لیں گے؟”
جب نماز پڑھ آیا تو حورعین نے پوچھا
“نہیں مجھے بھوک نہیں ہے آپ کر لیں “
” ارے یہ سب میں اکیلے کھاؤگی کیا؟ ویسے بھی مجھے اکیلے کھانے کی عادت نہیں ہے، بے شک تھوڑا سا کھائیں مگر کھالیں، ناشتہ اِسکپ نہیں کرتے وہ شرارتی مسکان کے ساتھ شانزل کو اسی کے الفاظ لوٹا رہی تھی۔اصل میں وہ ایک دم روٹھے ہوئے بچّے جتنا معصوم لگ رہا تھا۔ لٹکا ہوا منہ، تعجب کی بات یہ تھی کہ اس نے غصہ نہیں کیا تھا کیونکہ غلطی موصوف کی تھی۔
حورعین کی بات سن کر شانزل بے اختیار مسکرایا اور حورعین کو یہ دنیا کا سب سے حسین منظر لگا
” اچھا کیا پکایا ہے آپ نے؟”
“چیز آملیٹ، لیکن آپ کو کچھ اور چاہیے تو بتا دیں”
“نہیں رہنے دیں، وہی لے آئیں ویسے بھی بقول حیا آپ کے ہاتھ کے چیز آملیٹ کے لئے کوئی بھی ہفتِ اقلیم کی دولت ٹھکرا سکتا ہے”
حورعین ٹرے لے آئی
” حیا بھی نا اسے فضول بکنے کے علاوہ کچھ کام نہیں ہیں”
ان دونوں میں اجنبیت بھی اب دم توڑنے لگی تھی کیوں کہ دل کے اندر کسی پودے کی کونپل نے سر اٹھایا تھا۔
شانزل کا فون رنگ کرنے لگا تو اس نے رسیو کرلیا
“ہاں رفیق “
“نہیں رہنے دو “
“پریزنٹیشن نہیں بنیں”
” ہاں جانتا ہوں مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا”
حورعین کا منہ کو جاتا نوالا رک گیا، اب میں کیسے بتاؤں کے پریذنٹیشن بن گئی ہے اب کہیں غصہ ہی نہ کریں آخر ہمت کر کے کہہ دیا
“وہ۔۔۔۔وہ پریزنٹیشن تیار ہے”
شانزل نے الجھ کر اسے دیکھا پھر جب مطلب سمجھ میں آیا تو سوال کیا
“آپ نے بنائی ہے”
حورعین نے اثبات میں سر ہلایا اور سر جھکا کر ناشتہ کرنے لگی جیسے اس کے آنے والے تاثرات سے بچنا چاہ رہی ہو۔ شانزل کے دل کی دنیا ایک لمحے کو تھمی اور اس کے دل نے ایک سوال کیا تم نے آج تک اس لڑکی کو کیا دیا ہے؟ جواب واضح تھا کچھ بھی نہیں مگر یہ ہر طرح سے مکمل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل جب نہا دھو کر آفس کے لئے تیار ہو کر نیچے آیا تو حورعین کچھ نروس لگ رہی تھی
” کیا بات ہے ؟”
“کچھ نہیں آپ ایک بار پریزنٹیشن دیکھ لیں”
“آپ نے بنائی ہے تو ٹھیک ہی ہو گی ابھی تو میں ذرا رفیق کو انفارم کر دوں”
شانزل نے ٹال دیا
حورعین سمجھ گئی کہ پریزینٹیشن دیکھنے کا اس کا کوئی موڈ نہیں ہے اس لیے اس نے کہا
“پھر میں اس کے پرنٹ آؤٹس نکال کر فائلنگ کر دیتی ہوں”
وہ فائل لے کر اسٹڈی روم میں چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ آرام کریں آج آفس نہ جائیں”
آٹھ بجے کے قریب وہ آفس جانے کے لیے نکل رہا تھا تب اس نے حورعین سے کہا
اس کے جاتے ہی حورعین جلدی سے گھر کے کام نمٹانے لگی حالانکہ گھر میں نوکروں کی فوج تھی لیکن اسے یہ گھر اپنا اپنا لگتا تھا وہ اسے اپنا گھر سمجھتی نہیں تھی بس اسے یہ گھر اپنا لگتا تھا۔
تقریباً سوا نو بجے فارغ ہوئی تو تھکن سے چور ہو رہی تھی فوراً اپنے کمرے کا رخ کیا
۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس بجے کے قریب شانزل پھر گھر میں داخل ہوا اس نے حورعین کو بلا بھیجایا دو منٹ بعد حورعین باہر آئی۔
نم چہرہ، سبز رنگ آنکھوں کے ڈورے لال ہو رہے تھے وہ نیوی بلیو چادر اور خاکی رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھی
شانزل کو شرمندگی نے آ گھیرا۔ یقیناً رات بھر جاگ کر پریزنٹیشن بنا رہی تھی اور رات بھر جاگنے کے بعد ناشتہ وغیرہ سب تیار کیا پھر اس کے جانے کے بعد ہی سوئی ہوگی۔
“اوہ مجھے دھیان ہی نہیں رہا آپ سو رہی ہوگی آپ سو جائیں میں چلتا ہوں”
پریزنٹیشن کا خبط سر سے اترے تو تم کچھ سوچو نہ شانزل ابراہیم اس نے خود کو زبردست سا لتاڑا۔
“نہیں پلیز ،آپ بتائیں کیا کام تھا “
اس نے مسکرا کر شانزل کی شرمندگی کو کم کرنا چاہا
“نتھنگ امپورٹنٹ ، آپ سو جائیں”
“اگر important نہ ہوتا تو آپ واپس نہ آتے”
آج اسکی نئی صفت پتہ چلی تھی وہ حاضر جواب بھی تھی۔ شانزل مسکرایا۔
“وہ دراصل ساری پریزینٹیشن آپ نے بنائی ہے تو میں سوچ رہا تھا اگر آپ present بھی کر دیں تو۔۔۔۔۔۔؟”
وہ اتنے مان سے پوچھ رہا تھا حورعین کے منہ سے بے ساختہ نکلا
“جی بالکل، میں ابھی چینج کر کے آتی ہوں”
وہ کہہ کر کمرے میں آ تو گئی مگر اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔ ظاہر ہے پاکستان کی 5 سب سے بڑی کمپنیاں ہوں گی، سب بڑی بڑی ہستیاں اور experts ہوں گے وہ کوئی بزنس وومن تو تھی نہیں صرف ایک انجینئر تھی اگر اسکی وجہ سے شانزل کی سبکی ہوئی تو؟ یا اللہ! یہ کیا کر دیا میں نے،،،،، بالکل حیا جیسی حرکتیں کر رہی ہوں،،،،،، اب اوکھلی میں سر دے ہی دیا ہے تو ڈرنا کیا؟
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ لوگ منزل پر پہنچے تو گیارہ بج چکے تھے
“آپ کچھ کھائیں گی؟”
“نہیں “
یہاں سانس لینا مشکل تھا اور وہ کھانے کی بات کر رہا تھا
“چلیں اندر ، پریزینٹیشن تو ایک بجے ہوگی”
“نہیں میں کار میں ہی بیٹھتی ہوں تب تک mind make up کر لوں گی”
“ٹھیک ہے میں بھی یہیں بیٹھتا ہوں”
کہہ کر وہ موبائل پر مصروف ہو گیا۔
کچھ دیر بعد جب حورعین نے فائل سے سر اٹھا کر دیکھا تو موصوف سو گئے تھے
یہ کہیں بھی سو جاتے ہیں یقیناً وہ دن بھر کا تھکا تھا اور پھر رات میں صوفے پر بے آرام سا سویا تھا وہ بھی کچھ گھنٹے ۔ مگر وہ سوتے ہوئے اس قدر معصوم لگ رہا تھا حورعین کا دل اسکی طرف ہمکنے لگا۔ حورعین نے اپنے دل کو منطق کی زنجیر میں جکڑا اور اپنا دھیان فائل کی طرف کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ لوگ ایک بجے داخل ہوئے تو پتا چلا کہ صرف دو اور کمپنیاں آئیں ہے ظاہر ہے ایک دن میں پریزینٹیشن تیار کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی ۔
سب ہی کو ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ پروجیکٹ کرنا تھا سب ہی انھیں امپریس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہاں اور بھی لڑکیاں اور عورتیں تھیں ہائی سوسائیٹی کی عورتوں کا لباس لاحول ولاقوۃ اس نے ایک نظر چادر میں اپنے وجود کو چھپائے حورعین کو دیکھا وہ جانتا تھا حورعین کس قدر با صلاحیت ہے مگر وہ نمائش نہیں کرتی تھی۔
شانزل انڈسٹریز کا نمبر دوسرا تھا حورعین نے جب پہلی پریزینٹیشن دیکھی تو نروس ہو گئی مگر بظاہر پراعتماد تھی۔
جب حورعین کی باری آئی اس نے سوچا یہ پریزینٹیشن وہ صرف اپنے باس کے لیے دے رہی ہے وہ الگ بات ہے ایک مرتبہ بھی اپنے باس کی طرف نہیں دیکھا۔
اندھیرے میں پروجیکٹر کی روشنی حورعین کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور آنکھیں آہ۔۔۔۔۔آنکھیں تو شانزل ابراہیم پر قیامت ڈھا رہی تھی۔
شانزل کا رویہ کس قدر برا تھا مگر حورعین پیشانی پر ایک بھی بل لائے بغیر، سر جھکائے ساری زیادتی برداشت کرتی تھی۔ اب جب اسکا رویہ اچھا ہو گیا تھا اس نے کسی بھی بات کے حوالے سے طنز نہیں کیا تھا۔
وہ اس قدر مضبوط، پر اعتماد اور ساحرہ شخصیت کی مالک تھی اور اس کے سحر نے شانزل ابراہیم کو بھی اپنے تابع میں کر لیا تھا۔ وہ اس سحر سے آزاد نہیں ہونا چاہتا تھا۔ آج اسے یہ بات ماننے سے کوئی عار نہیں تھا کہ حورعین جہانزیب نے اسے تسخیر کر لیا ہے
“محبت مبارک ہو شانزل ابراہیم “
یہ جملہ اپنی تمام تر ایما سے کہا
پھر شانزل ابراہیم نے اپنے دل کی دیواروں پر تا ابد، تا قیامت حورعین کا نام نقش کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریزنٹیشن ساڑھے چھ بجے ختم ہوئی تو وہ دونوں سبھی کے ساتھ میٹنگ روم میں آئے
آخر میں اونر نے اناؤنسمنٹ کی کہ یہ پروجیکٹ شانزل انڈسٹریز کو دیا جاتا حورعین اور شانزل نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ دونوں باہر نکلے تو سورج غروب ہو رہا تھا
حورعین نے شانزل کو دیکھا اس کی بھوری آنکھیں چمک رہی تھیں دھوپ کے باعث یا خوشی کے باعث وہ اندازہ نہیں لگا سکی مگر اس کی آنکھوں کی چمک حورعین کے دل کو سکون بخش رہی تھی۔
گاڑی اپنی راہ پر گامزن تھی شانزل نے گردن موڑ کر حورعین سے سوال کیا
“ہاں تو آپ مجھے بتائیں حورعین صاحبہ، کیا آپ مجھے اپنے ساتھ ڈنر کرنے کا شرف بخشیں گی؟”
وہ اپنی فطرت سے ہٹ کر بات کر رہا تھا
“روز ہی تو ساتھ کرتے ہیں “
“ہاں مگر یہ ڈنر پروجیکٹ ملنے کی خوشی میں ہے”
حورعین نے مسکرانے پر اکتفا کیا وہ کہاں اس کی بات ٹال سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا کھائیں گی آپ ؟”
وہ مینیو کارڈ ہاتھ میں لئے اس سے پوچھ رہا تھا
“جو آپ کو بہتر لگے وہ آرڈر کر دیں”
شانزل نے آرڈر دیا پھر حورعین سے مخاطب ہوا
“تھینک یو حور، آپ نے اتنی محنت کی ورنہ پتا نہیں کیا ہوتا، دراصل صبح مجھے بالکل دھیان نہیں رہا کہ
آپ سو رہی ہوں گی ،وہ دراصل مجھے نمبر جو بلوپرنٹ کے figures میں تھے وہ یاد ہی نہیں ہوتے پھر اگر پریزنٹیشن میں بناتا تو ضرور دیتا مگر وہ بھی آپ نے بنائی تو مجھے تو کچھ اندازہ ہی نہیں تھا”
حورعین مسکرائی اس کی دلیل سن کر نہیں بلکہ اس سے “حور” لفظ سن کر۔
“اب ایسی بھی بات نہیں ہے انجینئر ہونے کی وجہ سے مجھے بلو پرنٹ کی figures یاد رہتے ہیں لیکن finance میں, میں ایک دم نالائق ہوں”
ہوٹل کی لابی میں شانزل کا جاندار قہقہہ گونجا آس پاس کے کئی لوگ متوجہ ہوئے کچھ لڑکیوں نے حورعین کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھا۔
“ہو ہی نہیں سکتا، ابھی تو آپ نے اتنی زبردست پریزنٹیشن دی ہے “
اتنے میں ویٹر نے آکر کھانا شروع کیا
“ایسا ہی ہے فائنینس کی رپورٹ تو آپ نے تیار کی تھی میں نے تو رٹّا لگایا تھا”
حورعین مزید بتایا اور شانزل کی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی
“مجھے تو حیرت ہورہی ہے لاہور انسٹیٹیوٹ کی ٹاپر، finance میں رٹّا لگاتی ہے؟”
“بالکل، میں finance میں ڈبہ ہوں”
خاموشی سے کھانا کھاتےہو ئے حورعین نے کہا
“وہ آپ سے ایک بات کہوں؟”
“بولیں حور”
اور اس کے منہ سے حور لفظ سن کر اس کی ہمت بندھی تو اس نے کہا
” وہ۔۔۔۔۔۔ آپ اپنی ٹینڈر کی کوٹیشن کسی سے ڈسکس مت کیجئے گا “
“ٹھیک ہے لیکن کیوں؟”
حورعین اسکے سوال کا جواب دیتی اس سے پہلے شانزل کا موبائل بجا
” یہ حیا مجھے کیوں فون کر رہی ہے”
کہتے ہوئے اس نے فون ریسیو کر لیا۔
“اسلام علیکم کیا بات ہے آج بھائی کی یاد کیسے آ گئی؟
اور حورعین نے اپنا سر جھکا لیا جیسے اس وقت کھانے سے زیادہ کوئی ضروری چیز نہیں۔
“وعلیکم السلام کیا بھائی آپ لوگ ابھی تک آئے نہیں اور وہ بیوفا لڑکی میرا فون تک رسیو نہیں کرتی حد ہوتی ہے میں بتا رہی ہوں وہ نہیں آئی نہ تو میں شادی نہیں کروں گی”
بات کرتے کرتے آخر میں حیا کی آواز رندھ گئی
ارے حیا !کیا بچوں جیسی حرکت ہے اچھا دل چھوٹا نہیں کرو، ہم ابھی تھوڑی دیر میں یہاں سے نکلتے ہیں”
فون رکھنے کے بعد شانزل نے حور سے پوچھا
” آپ حیا کا فون رسیو نہیں کر رہی ہیں ؟”
وہ اسی سوال سے بچنا چاہ رہی تھی اب وہ کیا بتاتی کل سے اس کی آفس کی چھٹی سٹارٹ ہو گئی تھی مگر پریزینٹیشن کی وجہ سے جا نہیں پائی اور حیا کے عتاب سے بچنے کیلئے فون ریسیو نہیں کر رہی ہے۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا
“ہاں ابھی ہم تو وہاں سے نکلے ہیں میں نے دھیان نہیں دیا کیا کہہ رہی تھی ؟
“کہہ رہی تھی کب آرہے ہیں تھوڑی روہانسی ہوگئی تو میں نے کہہ دیا ابھی نکلیں گے “
“انتہائی قسم کی نوٹنکی لڑکی ہے”
اس طرح کافی اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کار میں بیٹھتے ہی شانزل نے کہا
” آپ ریلیکس ہو کر سو جائیں سفر کافی لمبا ہے”
” کیا مطلب ؟ ہم ابھی نکل رہے ہیں حیا کی طرف کے لئے”
” جی ہاں “
شانزل کار اسٹارٹ کر چکا تھا
حورعین نے وقت دیکھا نو بج چکے تھے
” آپ کی پیکنگ؟ اور آپ تھک گئے ہیں”
شانزل نے اس کی طرف دیکھا کیا لڑکی ہے یہ؟ کل سے سوئی نہیں ہے، خود تھکن سے چور ہو رہی ہے لیکن اسے شانزل کا خیال تھا۔ اس کے کپڑوں کا خیال تھا۔ اپنا وجود تو جیسے حورعین کے لیے بے معنی تھا
“نہیں میں ٹھیک ہوں ، کپڑوں کی آپ فکر نہ کریں اور سو جائیں”
+
“میں ٹھیک ہوں ایسے ہی “
شانزل کو لگا وہ سو جائے گی مگر آدھا گھنٹہ گزرنے کے باوجود بھی وہ نہیں سوئی تو شانزل نے کہا
“حور آپ سو جائیں ورنہ طبیعت خراب ہو جائے گی”
میں atleast ڈرائیونگ کے اصولوں سے واقف ہوں، آپ ڈرائیو کر رہے ہیں اور میں ایسے میں سو نہیں سکتی”
اس کی بات پر شانزل مسکرایا۔
“ویسے مجھے آپ سے ہمارے بارے میں ضروری باتیں کرنی تھی مگر اب ذرا ان سب چیزوں سے فارغ ہوکر سکون سے کرونگا”
شانزل نارمل انداز میں بات کر رہا تھا لیکن اس کی بات سن کر حورعین کا دل اس کے کانوں میں دھڑکنے لگا۔ شانزل کا رویہ لہجہ اور نظریں بہت کچھ کہہ رہی تھی لیکن اس نے خود کو کسی بھی خوش فہمی سے دور رکھا۔ اس کی بات سن کر حورعین یہاں وہاں دیکھنے لگی شانزل اس کی حرکتوں سے محظوظ ہو رہا تھا
“ویسے ریپورٹ کب submit کرنی ہے؟”۔
حورعین نے بے تکی بات کر کے موضوع تبدیل کر دیا
“ایک تو پتا نہیں ان ملٹی نیشنل کمپنی والوں کو کیا آفت آئی ہے انہیں رپورٹ جلدازجلد چاہیے یعنی کل سے پہلے”
“کوئی مسئلہ نہیں ہے میں ویسے بھی فضول بیٹھی ہوں لائیں میں اسٹارٹ کر دیتی ہوں پھر آپ اپنی مناسبت سے changes کر لیجئے گا “
“کوئی ضرورت نہیں آپ آرام کریں”
” دیکھیں وہ شادی والا گھر ہے آپ کیسے کر پائیں گے اور ابھی آپ اتنا ڈرائیو کریں گے آل ریڈی تھکے ہوئے ہیں میں اسٹارٹ کرتی ہوں تھک جاؤ گی تو رکھ دونگی
حورعین نے کہتے ہوئے فائل نکال رہی تھی یعنی وہ ماننے والی نہیں تھی
“لیپ ٹاپ پیچھے رکھا ہوا ہے “
شانزل نے کہا اچھا ہی ہے اسی بہانے وہ اس سے بات تو کر سکے گا
وہ رپورٹ بنانے لگی
“ایک بات بتائیں گی حور؟”
” جی؟”
” آپ پریزنٹیشن دیتے وقت مجھے کیوں نہیں دیکھتی”
شانزل کی بات پر حورعین کے ہاتھ رکے
“ایسا تو نہیں ہے”
حورعین نے نظریں چرا کر جواب دیا
“اچھا؟ مجھے تو ایسا ہی لگا ویسے مجھے یہ بھی لگا کے میں آپ کو ڈسٹریکٹ کرتا ہوں”
شانزل کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ دوڑ گئی۔
اور حورعین کی دل کی دھڑکن حد سے زیادہ شور مچانے لگیں
“ایسا۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہے “
شانزل حورعین لہجے میں گھبراہٹ محسوس کر سکتا تھا۔
“یعنی میں اتنا برا دیکھتا ہوں کہ آپ یا کوئی لڑکی مجھے دیکھ کر میسمرائز نہیں ہو سکتی ؟
شانزل کی بات پر حورعین گڑبڑا گئی۔
“ن۔۔۔ن۔۔نہیں ایسا نہیں ہے”
یعنی کہ میں آپ کو ہینڈسم لگتا ہوں وہ بھی اتنا کہ آپ مجھے دیکھ کر میسمرائز ہو جاتی ہیں “
شانزل ابراہیم کو آج ادراک ہوا تھا کہ اس کے اندر اپنی بیوی سے فلرٹ کرنے کی اچھی خاصی صلاحیت موجود ہے۔ دوسری طرف حورعین اتنا صحیح اندازہ لگانے پر گھبرا گئی اور بولی بھی تو کیا
“میں۔۔۔۔۔ میں حیا کو فون کرکے بتا دیتی ہوں کہ ہم نکل گئے ہیں”
باقی کا راستہ خاموشی مگر معنی خیز خاموشی سے طے ہوا۔
( اے میرے محبوب جن راستوں پر تو ہم قدم،
ان راستوں کےصدقے منزلیں ٹھکرانے کوجی چاہتا ہے)