Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
صبح فجر کی آذان پر شاہ زر پھر نماز پڑھنے کھڑا ہوا حیا نے اسے پھر سہارا دیا نماز کچھ دیر بعد حورعین ہوش میں آ رہی تھی اس نے کراہ کے ساتھ آنکھیں کھولیں۔
شاہ زر بے قراری سے اٹھ کر اس کے پاس آیا مگر حیا کی گھوری دیکھ کر رک گیا
” پانی۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔ پانی”
حیا نے پانی کا گلاس فوراً اس کے منہ سے لگایا
حورعین کے تھوڑے حواس بحال ہوئے تو اسے جگہ کا احساس ہوا اس نے گردن گھما کر نیلی آنکھوں والے شخص کو دیکھا تو یک لخت اس کی آنکھیں آنسو سے بھر گئی۔
اس نے کرب سے پکارا
“شاہ۔۔۔۔”
شاہ زر تڑپ کر آگے بڑھا حورعین نے اٹھنے کی کوشش کی تو شاہ زر نے اسے اٹھا کر بٹھایا اور حورعین سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر شاہ کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
شاہ زر اس کی پشت سہلاتے ہوئے تسلی دے رہا تھا وہ بچوں کی طرح رو رو کر شکایت کر رہی تھی۔
“شاہ۔۔۔ شاہ سب بہت برے ہیں شاہ۔۔۔۔۔ بہت برے۔۔۔۔۔ آپ کی صنم کو بہت پریشان کیا۔۔۔ میں نے۔۔۔۔ میں نے آپ کا بہت انتظار کیا شاہ۔۔۔۔ گیارہ سال ۔۔۔۔۔گیارہ سال مجھ پر قیامت بن کر گزرے ہیں۔۔۔۔ شاہ آپکی۔۔۔۔
آپکی صنم۔۔۔”
وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی شاہ زر کے سینے میں منہ چھپائے اس کی شرٹ کو مٹھی میں دبوچے ہوئے تھی جیسے چھوڑ دے گی تو وہ کہیں کھو جائے گا۔
“بس میری بچی، تمہارا شاہ اب تمہیں کچھ نہیں ہونے دیگا، میری صنم اپنے شاہ کے پاس ہے”
“شاہ اب آپ نہیں جائیں گے نہ پلیز شاہ مجھے چھوڑ کر مت جائے گا نہیں تو آپ کی صنم اب کی بار برداشت نہیں کر پائے گی”
اس نے اس کی شرٹ اور زور سے پکڑ لیں وہ اسے کھو دینے سے خوف زدہ تھی۔
شاہ زر نے اس کا چہرہ تھام کر اوپر کیا
“ادھر دیکھو، میرا بچہ میری طرف دیکھو”
حورین نے سہمی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا
“میں نے گیارہ سال پہلے ایک قسم کھائی تھی کہ میں واپس آؤں گا اور آج پھر میں ایک قسم کھاتا ہوں تمہاری قسم میں تمہیں اب اکیلا نہیں چھوڑوں گا”
اس نے ایک لفظ پر زور دے کر کہا اور صنم کو شاہ کا یقین سونپ دیا
“اب آرام سے لیٹو میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں”
شاہ زر نے احتیاط سےحورعین کو لیٹایا پھر کال کرنے باہر چلا گیا ہے
حورعین آنکھیں بند کرکے لیٹی تھی اور آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے تبھی ایک مہربان ہاتھ نے اس کے آنسو پونچھیں حورعین نے آنکھیں کھول کر دیکھا حیا اس کے قریب بیٹھی تھی
“حیا “
حورعین کو اسے یہاں دیکھ کر بالکل تعجب نہیں ہوا تھا اسے پتہ تھا لاکھ منع کرنے کے باوجود حیا نے اسے ڈھونڈا ہوگا
“حور کی بچی تم نے میری جان نکال دی تم سے برا دنیا میں کوئی نہیں ہے”
حیا کی آواز رندھ گئی تھی مگر وہ غصہ نکالنا نہیں بھولی۔
حور نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا
تبھی شاہ اندر آیا اور کہا میں نے ڈاکٹر کو فون کر دیا ہے پھر بیٹھ پر حورعین کے پاس بیٹھ گیا
“صنم” شاہ نے پکارا
گیارہ سال اس پکار کا انتظار کیا تھا اس نے،،،، جو سکون انتظار کے ثمر میں ہوتا ہے وہی سکون اس پکار میں تھا۔
“جی؟”
“ذرا تم انہیں ہمارے رشتے کے متعلق تفصیل دے دو”
حورعین نے حیا کی طرف دیکھا اور کہا
” یہ میرے بڑے بھائی ہیں شاہ زر جہانزیب میں انہیں شاہ کہتی ہوں”
حیا کی کب کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی
“ویسے شاہ آپ نے ایسا کیوں کہا”
” کیوں کہ انہیں یقین ہی نہیں تھا کہ میں تمہارا بھائی ہوں اور جس طرح یہ تمہیں مجھ سے بچا رہی تھیں۔۔۔اللہ کی پناہ”
شاہ زر کی بات سن کر حورعین کھلکھلا کر ہنسی۔ بالکل شفاف ہنسی ایک لمحے کو تو حیا اسے دیکھتی رہ گئی وہ کب اس طرح ہنستی تھی۔بے ساختہ دل میں ماشااللہ کہا یا خدا میری حور اسی طرح ہنستی رہے۔
“شکر منائیں شاہ ابھی تک آپ کے بال سلامت ہیں ورنہ ابھی تک اس نے آپ کو گنجا کر دینا تھا حیا میرے معاملے میں بہت پوزیسیو ہے”
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی پھر ڈاکٹر اندر آئیں وہ ایک لمحے شاہ زر کو دیکھ کر چونک گئی۔
“شاہ زر کیا تم کل سے سوئے نہیں ہو؟”
” ڈاکٹر عافیہ تم ذرا جلدی سے صنم کو چیک کرو”
” شاہ زر میرے سوال کا جواب دو میں تمہاری بھی ڈاکٹر ہوں نہیں تو میں دانیال کو بلاتی ہوں”
“کوئی ضرورت نہیں ہے میں ٹھیک ھوں تم صنم کو چیک کرو”
صنم اور حیا دونوں کو الجھتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔
“وہ تو میں کر دوں گی پہلے یہ بتاؤ کل سے سو ئے ہو یا نہیں “
شاہ نے ایک گہری سانس خارج کی اور کہا
” نہیں”
” کچھ کھایا”
اب کی شاہ زر نے ضبط سے کہا
“نہیں”
“شاہ آپ کو کیا ہوا ہے ؟ڈاکٹر آپ بتائیں”
حورعین پریشان ہوگئی
” شاہ زر تم چھوٹے بچے ہو کیا 28 سال کے ہو، کل ہی ۳ مہینے بعد کومہ سے باہر آئے ہو اور نہ کل سے کچھ کھایا ہے نہ میڈیسن لی ہے نہ سوئے ہو تمہاری حالت دیکھو”
حورعین تو دہل گئی
“شاہ۔۔۔۔”
شاہ زر نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما
“میں ٹھیک ہوں صنم “
حیا کو اس کی حالت یاد آئی
اف۔۔۔۔ میں نے تو اسکی ناک میں دم کر کے رکھا تھا۔
“نہیں مجھے بتائیں، لیکن سب سچ سچ بتائیں “
“میں جس دن تمہیں لینے آرہا تھا اس دن میرا ایکسیڈنٹ کروایا گیا تھا قسمت سے میں بچ گیا مگر کوما میں چلا گیا تھا کل ہی ہوش میں آیا ہوں “
ڈاکٹر عافیہ نے کہا
” یہ بھی بتاؤ کہ ہوش میں آنے کے بعد ہسپتال کو سر پر اٹھا لیا پھر کسی کی بھی سنے بغیر چلے گئے”
“عافیہ تمہارا اور دانیال کا بہت شکریہ کہ تم لوگوں نے میرا علاج خوفیہ طریقے سے کیا لیکن جو تم مجھے ڈانٹ رہی ہو میں سب بھول جاؤں گا، وہ وقت ایسا تھا کہ اگر میں اس وقت وہاں سے نہیں آتا تو سب ختم ہو چکا ہوتا ہمارا گیارہ سال کا صبر ضائع ہوجاتا”
کہتے ہوئے شاہ زر نے حورعین کی پیشانی چوم لی۔
اور حیا نے غیر محسوس انداز میں اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا جیسے کچھ مٹانا چاہ رہی ہو شاہ زر حیا کی اس حرکت پر مسکرایا اور کہا
“عافیہ تم جلدی سے صنم کو چیک کرو میں کھانے کا انتظام کرواتا ہوں”
ڈاکٹر ریسنگ کرنے کے بعد ڈاکٹر چلی گئی اور شاہ زر نے اسی کمرے میں ناشتہ لگوایا۔
شاہ زر نے حورین کو اپنے ہاتھوں سے سوپ پلایا اس دوران حورعین پورے انہماک سے رو رہی تھی کتنے سال بعد اس کے ہاتھ سے کھا رہی تھی پھر حیا کی طرف متوجہ ہوئی
” چلو اب آپ دونوں بھی ناشتہ کرو کل سے کچھ نہیں کھایا ہوگا”
ناشتے کے بعد شاہ زر نے حورعین کو میڈیسن دی حورعین نے کہا
“شاہ اب آپ بھی جا کر سو جائیں میں بھی سؤوں گی”
شاہ زر نے مسکرا کر سر ہلایا اور چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر نے دھیرے سے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ حورعین اٹھ گئی تھی لیکن حیا اس کے اوپر ہاتھ رکھ کے سو رہی تھی۔
“تم اتنی جلدی اٹھ گئی “
شاہ زر نے سرگوشی میں پوچھا
حورعین نے فورا کہا
“شش۔۔”
مگر حیا چونک کر اٹھی اور حورعین کو تھام کر پوچھا
” حور، تم، تم ٹھیک ہو؟ کہیں درد تو نہیں ہو رہا، تمہیں کچھ چاہیے ؟”
“نہیں مجھے درد نہیں ہو رہا میں ٹھیک ہوں اور مجھے کچھ نہیں چاہئے تم سو جاؤ ابھی آدھا گھنٹہ پہلے کی سوئی ہو “
“نہیں پتا نہیں کیسے آنکھ لگ گئی”
“صنم تم جلدی سے کھچڑی ختم کرو پھر میڈیسن لینی ہے اور دیکھو تمہارے لیے کس نے پکایا ہے”
پیچھے سے بی اماں کھچڑی کے ساتھ وارد ہوئی حورعین تو کھل اٹھی
” بی اماں”
“میری بچی کیسی ہے “
“شاہ کو دیکھ کر تو ایک دم ٹھیک ہوگئی ہوں”
” میری بچی کا صبر رنگ لایا ہے”
“ہاں بی اماں”
حورعین کی آواز بھرا گئی پھر بی اماں نے حیا سے کہا
“اللہ تمہیں اجر دے تم نے ہماری صنم کا بہت خیال رکھا ہے”
حیا تصحیح کرنا نہیں بھولی
“میں، ‘میری حور’ کے لیے اتنا تو کر سکتی ہوں”
پھر بھی اماں کچھ دیر بیٹھ کر چلی گئی
حیا نے حورعین کے سر پر تیل کی مالش کی میڈیسن دی۔ تب حیا کا موبائل بجا اس نے ایک نظر حورعین کو دیکھ کر کال ریسیو کی
” اسلام علیکم”
” ٹھیک ہے “
“ہوش آگیا ہے”
” نہیں ابھی نہیں کی”
” جی خدا حافظ”
حورین کے پیشانی پر اچانک بل نمودار ہوئے
” کس کا فون تھا؟”
حورین نے دو ٹوک لہجہ اپنایا
“بھ۔۔۔ بھائی کا “
حیا نے دل میں کلمہ پڑھ لیا۔
“کیوں؟”
” تمہاری۔۔۔۔تمہاری طبیعت پوچھ رہے تھے “
“انہیں کس نے بتایا میری طبیعت کے بارے میں ؟”
حیا نے تھوک نگلا
“میں نے نہیں بتایا ان کا فون آیا تھا وہ پوچھ رہے تھے تو میں نے بتا دیا”
حورعین نے پاس پڑا گلاس اٹھا کر زمین پر دے مارا شاہ زر بھی ایک لمحے کو سٹپٹا گیا
“وہ کیوں پوچھ رہے تھے؟”
“شاید انہوں نے حویلی کے باہر میری گاڑی دیکھی تھی تو اسی لئے مجھ سے پوچھا “
“ایک منٹ ایک منٹ تم حویلی کیسے پہنچی تمہیں تو نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا؟”
“دیکھو حور غصہ مت کرو تم مل نہیں رہی تھی تو میں نے بھائی سے فون کرکے حویلی کے بارے میں پوچھا تھا مجھے تمہاری فکر ہو رہی تھی،
حورعین نے پاس پڑا جگ بھی زمین پر دے مارا۔
“صنم “
شاہ ذرا آگے بڑھا
“ایک منٹ ذرا مجھے بات کرنے دیں، تمہیں میں نے خود کہا تھا نا کہ مجھے مت ڈھونڈناا اور اس شخص سے میرے بارے میں بات مت کرنا پھر کیوں کیا تم نے؟”
حور چیخنے لگی
” مجھے تمہاری فکر تھی حور”
” ہو کون تم میری فکر کرنے والی”
حورین کو بالکل اندازہ نہیں تھا وہ کیا بول رہی ہے
حیا ایک لمحے کو بے یقین سی ہو گئی۔
“حور ایسا تو مت بولو بھلے مجھے ڈانٹ لو میں تمہاری دوست ہوں”
ایک درد امڈ آیا تھا دل میں، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں
“کیسی دوست تمہیں میں ذرا میرا احساس نہیں ہے، دوست ہوتی تو یہ حرکت نہیں کرتی تم میری کچھ نہیں ہو”
“دیکھو حور مجھے اگر تمہاری بھلائی کے لئے تمہارے خلاف جانا پڑا تو میں جاؤں گی وہ کوئی غیر نہیں ہے شوہر ہے تمہارے”
تو کیوں آئی ہوں تو میرے پاس جاؤ انہیں کے پاس، جاؤ اپنے بھائی کے پاس، جب سے میری زندگی میں آئی ہو صرف مشکل بڑھائی ہے نکل جاؤ ابھی کے ابھی۔۔۔نکلو۔۔۔”
“حور”
حیا نے دہل کر پکارا
“نکلو ابھی یہاں سے ورنہ میں اپنے آپ کو کچھ کر لوں گی”
” ٹھیک ہے جا رہی ہوں اب تم بلاؤ گی تب بھی نہیں آؤں گی تم غلط نہیں ہو میں ہی غلط ہوں دراصل تم نے آج مجھے میری اوقات بتا دی”
“جب اوقات پتا چل ہی گئی ہے تو یہاں کیا کر رہی ہو نکلو یہاں سے”
حیا کا چہرہ خفت سے سرخ پڑ گیا کس دھڑلے سے وہ شاہ زر کے سامنے” میری حور” “میری حور ” کہہ رہی تھی اور حور نے اسی کے سامنے حیا کی اوقات بتا دی۔ اس نے ایک نظر شاہ زر کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا اس سے بے انتہا تذلیل کا احساس ہوا۔
وہ ضبط کرتی رہی مگر پھر بھی آنسو لڑیوں کی مانند رخسار کو بھگو گئے وہ فوراً وہاں سے نکلی
شاہ زر نے ایک تاسف زدہ نظر حورعین پر ڈالی پھر حیا کے پیچھے چلا گیا
حیا نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا
“آئیں اور اڑا لیں میری بےعزتی کا مذاق، کر لیں اپنا شوق پورا “
جس طرح وہ پھنکاری تھی شاہ زر خاموش ہو گیا اس وقت بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔
وہ اسی طرح روتے ہوئے گیٹ تک چلی گئی اور وہیں کھڑے روتے روتے میسج کیا تھا پھر انتظار کرنے لگی
وہ اس قدر رو رہی تھی کہ اس کا وجود لرز رہا تھا ہچکیوں کے ساتھ بے تحاشہ آنسو کے ساتھ۔
لوگوں اسے بڑے تعجب سے اور ترس کھاتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے مگر اسے کچھ فرق نہیں پڑ رہا تھا وہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔
کچھ دیر بعد ایک گاڑی آ کر رکی شاہ زر گیٹ کے پاس کھڑے ہی سب دیکھ رہا تھا حیا اسے نہیں دیکھ سکتی تھی۔
اس گاڑی میں سے ایک شخص باہر نکلا حیا نے آؤ دیکھا نا تاؤ آپنی ایک چپل اتاری اور اس شخص کو دے ماری۔
“حیا کی بچی صرف تین منٹ لیٹ ہوا ہوں”
” اشعر کے بچے تمہیں کیا کہا تھا 10 منٹ میں پہنچو”
پھر دوسری چپل پھینک کر ماری۔
“تم سب بہت برے ہو”
کہتے ہوئے حیا نے آس پاس نظر دوڑائیں جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو۔
“تمہارے تین پیر تھوڑی ہے، دو ہی ہے ا،سی لئے چپل تو ختم ہوگئی ہے”
اشعر نے جیسے اسے چڑایا۔
“تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے”
وہ رو رہی تھی مگر لڑنے سے باز نہیں آ رہی تھی حیا نے پاس پڑا ہوا پتھر اٹھایا
اور اشعر ارے ارے کرتا رہ گیا لیکن حیا نے پتھر دے مارا وہ تو اشعر نیچے ہو گیا اس لیے بچ گیا مگر اس کی کار ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی
عشر نے ایک سانس خارج کی اور اس کی طرف بڑھا
“یار کیا ہوگیا ہے ابھی ہانیہ بیوہ ہو جاتی “
وہ ہنس کر کہہ رہا تھا
پھر حیا نے اپنا کندھے پر لٹکا ہوا پرس اشعر پر بے دریغ برسانا شروع کیا
” کیا ہوگیا ہے یہ ہمارا گھر تھوڑی ہے، سڑک ہے کچھ تو میری عزت کا خیال کرو “
مگر حیا اس کی سن ہی کہاں رہی تھی جب مار مار کر تھک گئی تو پھر رونے لگی اشعر نے اسے کندھے سے لگایا۔
حیا نے اسے کچھ نہیں کہا بس اس کے کندھے سے لگ کر اسی طرح بلک بلک کر روتی رہی۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا حیا، چلو میں تمہیں تمہارے اپارٹمنٹ چھوڑ دوں”
اشعر نے اس سے کچھ نہیں پوچھا کیونکہ اسے معلوم تھا وہ کچھ نہیں بتانے والی۔
حیا اس سے الگ ہوئی
” نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے میں چلے جاؤ گی”
” تو کیا تم نے مجھے پیٹنے کے لئے یہاں بلایا تھا “
“ہاں”
جواب بڑے ہی اطمینان سے آیا تھا
“اب خاموشی سے اپارٹمنٹ جانا، اوکے؟”
“میرے ابا بننے کی کوشش مت کرو”
اور پھر اشعر چلا گیا حیا نے بھی رکشا روکی اور روانہ ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب شاہ زر کمرے میں آیا تو وہ چھت کو گھور رہی تھی وہ اس کی غلطی پر ٹوکنا چاہتا تھا مگر ایک تو اس کی حالت ایسی تھی اور تو اور گیارہ سال اس کی جدائی کاٹی تھی اس لیے اپنے لب سی لیے مگر حیا۔۔۔۔ کل سے وہ کیسے اپنے آپ کو بھلائے حورعین کی خدمت کر رہی تھی اس کی جگہ کوئی عام لڑکی ہوتی تو پہلی بات اسے situation میں گھبرا جاتی اور تو اور کسی غیر کے ساتھ تو کبھی نہ آتی حیا نے صرف حورعین کی حفاظت کے لیے اپنی جان و عزت سب داؤ پر لگا دی تھی۔ وہ الگ بات ہے کہ وہ خود شعلہ جوالہ تھی مگر جو بھی تھا وحورعین کے ساتھ مخلص تھی یہ بات شاہ زر کو پہلی نظر میں ہی سمجھ میں آ گئی تھی۔
“ابھی دیکھیے گا دس منٹ میں واپس آئے گی بہت ڈھیٹ ہے”
حورعین نے شاہ زر کے چہرے کو دیکھ کر کہا تبھی دھڑام کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا سامنے حیا کھڑی تھی۔
“ایم سوری حور، مجھے خیال کرنا چاہیے تھا تمہاری طبیعت کا، تمہیں تو پتہ ہے میں کتنی بے وقوف ہوں ڈانٹ لو مگر معاف کردو”
شاہ زر صرف حیا کو دیکھ کر رہ گیا وہ سر جھکائے ننگے پیر بڑے لاڑ سے اپنی اس غلطی کا اعتراف کر رہی تھی جو اس نے کی ہی نہیں تھی۔
“اتنا ڈھیٹ پن تم لاتی کہاں سے ہو”
حورعین نے جل کر کہا۔
“بڑے بازار کی دکان سے”
حیا نے کھلکھلا کر جواب دیا اور حورعین کے پاس دھپ سے بیٹھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کچھ دن تک وہیں رہی شاید حیا کی محنت ہی تھی جو حورعین recover کرنے لگی تھی اب وہ اکثر اس سے ملنے آجایا کرتی تھی اب حیا اسے ضد کر کے حورعین کو مزار پر لے آئی۔ نہ جانے اسکا دل بھرنے لگا۔
“کتنا ہی کوشش کر لو مگر تم بھائی کے بغیر نہیں رہ سکتی”
حورعین نے اسے نظر انداز کردیا۔
وہ دونوں جالی والی دیوار کے پاس سے گزر رہی تھی۔
حورعین اس دیوار پر بندھے دھاگوں کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کتنے لوگ ہیں جو بے مراد ہے وہ ان دھاگوں کو چھوتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی تبھی اسکا ہاتھ دیوار کے دوسری طرف موجود کسی سے مس ہو گیا حورعین کو جھٹکا لگا چار سو چالیس والٹ کا نہیں چالیس ہزار والٹ کا۔
حورعین نے نظر اٹھا کر دیکھا جالی میں سے بھوری آنکھیں نظر آئیں۔
جالی دار دیوار کے اس پار سے بھوری آنکھوں والے شخص نے بھی سبز آنکھوں کو دیکھا تھا۔
شانزل نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا
“سچ ہے تو میری شہ رگ سے بھی قریب ہے”
ایک لمحہ زندگی میں ضرور ہوتا ہے جب انسان نا امیدی کی انتہاؤں پر ہوتا ہے مگر ہمارا رب ہمارا دامن میں اپنی رحمت کا صرف ایک قطرہ ڈال کر ساری ناامیدی دھو دیتا ہے
شانزل بھی اسی کیفیت سے گزر رہا تھا اسے لگا تھا وہ کبھی حورعین سے سامنا کرنے کی ہمت نہیں کر پائے گا لیکن۔۔۔۔ جہاں ہمارا گمان ختم ہوتا ہو وہاں سے اس ربِ زالجلال کی حکمت و رحمت شروع ہوتی ہیں۔
پتہ نہیں کیوں اس کے قدم خود بخود اس مزار کی طرف بڑھ گئے تھے حالانکہ اسے ایک میٹنگ کے لیے جانا تھا۔
جب شانزل نے دوبارہ دیوار کے پار دیکھا تو وہ وہاں نہیں تھی وہ فورا اسے ڈھونڈنے کے لئے دوسری طرف آیا۔
اب حیا حورعین کے سر ہوگئی یہ منظر تو حیا نے بھی دیکھا تھا
” میں ہماری دوستی کی قسم کھا سکتی ہوں میں نے کچھ نہیں کیا یہ اتفاق ہے”
اتنی بڑی بات کہنے پر حورعین خاموش ہوگئی اس نے تو جیسے شانزل کے بارے میں بات کرنا ہی چھوڑ دی تھی۔
“چلو اب ہم یہاں نہیں رکیں گے “
“ابھی تو گیٹ بند ہو گیا ہے قوالی شروع ہونے والی ہے قوالی ختم ہونے کے بعد ہی گیٹ کھلے گا”
حورعین چاروناچار وہاں بیٹھ گئی سامنے قوالی شروع ہونے والی تھی سب ہی نے اپنی جگہ سنبھالی اس کے سامنے والی لائن میں وہ بیٹھا تھا
شانزل ابراہیم
وہ نظر جھکائے ضبط کر کے بیٹھی تھی
تبھی قوالی شروع ہوئی
“دل غلطی کر بیٹھا ہے غلطی کر بیٹھا ہے دل
دل غلطی کر بیٹھا ہے غلطی کر بیٹھا ہے دل
تو بول کفارہ کیا ہوگا”
حورعین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا شانزل کی آنکھوں میں ندامت تھی شانزل کے جذبات کو قوال نے لفظوں کا پیرہن دیا تھا۔
اب حورعین کی باری تھی
“میرے دل کی دل سے توبہ دل سے توبہ میرے دل کی
میرے دل کی دل سے توبہ دل سے توبہ میرے دل کی
اب پیار دوبارہ نہ ہوگا”
اور شانزل کے دل پر گھونسا سا پڑا
“ہم نے جگنو جگنو کر کے تیرے ملن کے دیپ جلائے ہیں
ہم نے جگنو جگنو کر کے تیرے ملن کے دیپ جلائے ہیں”
حورین کو پندرہ دن یاد آئے جب اس نے کتنی محنت سے فردوسِ بریں تعمیر کروایا تھا۔
“اکھیوں میں موتی بھر بھر کے تیرے ہجر میں ہاتھ اٹھائے ہیں”
حورعین کے آنکھوں کے سامنے وہ سارے منظر گھوم گئے جب اس نے شانزل کی بے رخی پر خدا سے گڑگڑا کر دعا میں ہاتھ اٹھائے تھے۔
“تیرے نام کے حرف کی تسبیح کو سانسوں کے گلے کا ہار کیا
دنیا بھولی اور صرف تجھے ہاں صرف تجھے ہی پیار کیا”
شانزل نے بھی تو اسے ٹوٹ کر چاہا تھا اس نے بھی تو دنیا بھول کر حورعین کو چاہا تھا لیکن اگلے ہی بول پر اسے اپنی زیادتی کا شدت سے احساس ہوا۔
“تم جیت گئے ہم ہارے، ہم ہارے اور تم جیتے
تم جیتے ہو لیکن ہم سا کوئی ہارا نہ ہوگا”
شانزل نے حورین کو ایسے دیکھا جیسے میں بھی کہاں جیتا ہوں میں بھی ہار گیا
“ہمیں تھی غرض ہو تم سے اور تمہیں کو بے غرض ہونا تھا
تمہیں ہی لا دوا ہو کر ہمارا مرض ہونا تھا
چلو ہم فرض کرتے ہیں تم سے پیار کرتے ہیں
مگر اس پیار کو بھی ہم ہی پر فرض ہونا تھا”
یہ مصرع دونوں کو ہلا گیا
“ہم نے دھڑکن دھڑکن کرکے دل تیرے دل سے جوڑ لیا آنکھوں نے آنکھیں پڑھ پڑھ کے تجھے ورد بنا کر یاد کیا
تجھے پیار کیا تو تو ہی بتا ہم نے کیا کوئی جرم کیا اور جرم کیا ہے تو بھی بتا اس جرم کی کیا ہے سزا”
حورین نے استہزائیہ ہنس کر شانزل کی توجہ قوالی کے آنے والی بولوں پر کروائی جیسے یہ کہنا چاہ رہی ہو جواب سنو
“تمہیں ہم سے بڑھ کر دنیا، دنیا تمہیں ہم سے بڑھ کر
تمہیں ہم سے بڑھ کر دنیا، دنیا تمہیں ہم سے بڑھ کر
ہم کو تم سے بڑھ کر کوئی جان سے پیارا نہ ہوگا “
اور شانزل کو لگا وہ پورے قد سے زمین بوس ہوا ہو کس طرح اس نے دنیاوی پیسے کی خاطر حورین کے اوپر الزام لگایا تھا۔
قوال نے شروع کے دو مصرعے پڑھ کر قوالی ختم کی اور حورین حیا کے ساتھ وہاں سے نکل گئی شانزل کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین اپنے کمرے میں لیٹی لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی اتنے دنوں بعد اسے سامنے دیکھ کر سب کچھ شد و مد سے یاد آیا تھا اسی دوران شاہ زر بھی آفس سے آگیا
ک
حیا ہال میں پریشان بیٹھی تھی
“خیریت؟”
شاہ نے پوچھا
“حورین اور میں آج مزار پر گئے تھے بھائی بھی وہاں تھے “
شاہ زر نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا
” حور کا تو سمجھ آتا ہے مگر بھائی کے ذکر پر یہ باگڑ بلّے کی زبان کام کرنا کیوں بند کر دیتی ہے۔۔۔ ہونہہ”
حورین جب کمرے سے باہر نکلی تو ایسے ظاہر کرنے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اس کی حالت سمجھتے ہوئے شاہ زر اور حیا نے بھی کچھ نہیں کہا
تھوڑی دیر میں بی اماں نے کھانا لگنے کی اطلاع دی سبھی کھانے چل دیے کھانے کے دوران شاہ زر کو اطلاع ملی کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہے تو وہ جارحانہ انداز میں وہاں سے اٹھ گیا
حورعین نے اسی نوکر سے پوچھا کون ہے تو اس نے جواب دیا” آذر حیات” حورعین سکتے میں آگئی اور حیا سے کہا
” مجھے وہاں لے چلو”
حورین چل سکتی تھی مگر اب بھی اسے سہارے کی ضرورت پڑتی تھی جیسے ہی دونوں ہال میں پہنچی تو دیکھا شاہ زر اپنا سارا غصہ آذر حیات پر نکالنے میں مصروف ہے
” شاہ پلیز، رک جائیں”
حورعین کی بات پر شاہ زر کے ہاتھ رکے۔
اور شاہ زر تھکے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا آذر حیات نے اپنی بندوق نکالی اور شاہ زر کے سامنے رکھ دی۔
“شاہ بھلے ہی مجھے قتل کر دیں مگر مجھ سے نفرت مت کریں “
یہ کہتے ہی آذر حیات کے آنکھ سے ایک آنسو گرا شاہ زر نے بغیر دیر کے اسے گلے سے لگا لیا
“میں اپنی صنم کو تمہارے بھروسے چھوڑ کر گیا تھا اس کا خیال کیوں نہیں رکھا”
تبھی باہر سے ایک ملازم آیا اور اس نے اطلاع دی کے باہر کوئی شانزل ابراہیم صاحب آئے ہیں
حورعین کوئی جواب دیتی اسے پہلے شاہ نے کہا کہ انہیں اندر بلایئں
حیا نے تو آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا
حورعین دھڑکتے دل کے ساتھ وہیں کھڑی تھی۔
تبھی شانزل اندر داخل ہوا حورعین پلٹ کر جانے لگی تھی کہ شاہ زر نے اس کی کلائی تھام لی اور اسے لیے صوفے پر بیٹھ گیا شانزل کو بھی بیٹھنے کو کہا۔
تبھی وہاں بیٹھے آذر حیات نے کہا
” صنم یہ تمہارے شوہر ہے نا”
حورعین نے پٹ سے جواب دیا
“نہیں، میں انہیں نہیں جانتی”
لہجہ ایکدم سپاٹ
شانزل کو اندازہ تھا کہ وہ ناراض ہو گی مگر وہ تو اس کے وجود کو ماننے سے ہی انکاری تھی وہ کہاں عادی تھا حورعین کے اس لہجے کا
” میں نکاح نامہ ساتھ لے کر آیا ہوں”
شانزل کی بات پر جہاں حورعین نے اسے گھور کر دیکھا وہیں ضبط کے باوجود حیا اپنی ہنسی نہیں روک پائی اس کو دیکھتے ہوئے آذر حیات کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی
“تو کیا کروں اچار ڈالوں نکاح نامہ کا ؟”
حور اس وقت بپھری ہوئی شیرنی بنی ہوئی تھی
اب کی بار حیا کھلکھلا کر ہنس دی اور بی اماں بھی اپنی ہنسی نہیں روک سکیں
شاہ زر نے کہا
” میرے خیال میں پہلے کھانا کھا لینا چاہیے چلو شانزل آذر ڈائننگ روم اس طرف ہے”
حورعین نے تعجب سے شاہ زر کو دیکھا مگر شاہ زر اس کا ہاتھ تھامے اٹھ کھڑا ہوا
” کھانا کیا کھانا تھا حورین کے حلق سے نوالہ ہی نہیں اتر رہا تھا شانزل بھی اتنے دنوں بعد اس کے ساتھ کھا رہا تھا مگر حورعین نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ہی نہیں تھا۔
تبھی آذر نے حیا کو مخاطب کیا
“آپ غالباً صنم کی دوست ہیں نا؟”
” جی “
حیا نے کہا
شاہ زر نے سب کو آذر کے بارے میں بتایا۔
کہ “یہ آذر حیات ہے” شانزل الجھ کر دیکھا مگر خاموش رہا
“شاہ میں پہلے ہی کے آنے کی کوشش کر رہا تھا مگر۔۔۔۔۔مگر عمیمہ کی طبیعت خراب تھی اسی لیے نہیں آ سکا”
شاہ زر اور حورعین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“عمیمہ کون ہے” شاہ نے سوال کیا
“عمیمہ میری بیوی ہی اس کی طبیعت خراب تھی
actually she is 5 month pregnant “
“مبارک ہو، مگر تمہاری شادی کب ہوئی”
شاہ نے پوچھا
” ایک منٹ آذر جہاں تک مجھے یاد ہے جب میں حویلی میں تھی تب تمہاری کوئی شادی نہیں ہوئی تھی”
“صحیح کہا تم نے صنم، میرا نکاح دو مہینے پہلے ہی ہوا ہے”
آذر نے ایک گہری سانس لی پھر کہنا شروع کیا
دراصل عمیمہ حویلی میں ہی کام کرتی تھی اور آپ مسٹر عذیر حیات کی خصلتوں سے واقف ہی ہیں، ان کی درندگی کے عتاب میں عمیمہ آگئی تھی مجھے اس تصور سے بھی گھن آتی ہے کہ وہ میرے بڑے بھائی ہیں، عذیر حیات نے عمیمہ کو رسوا کرنے کے بعد مرنے کے لیے چھوڑ دیا ان کے دل کو ان کی اولاد کی آمد کی خبر بھی موم نہیں کر پائی، وہ عمیمہ کو کسی طور پر بھی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں تھے اسی لیے مجھے عمیمہ سے نکاح کرنا پڑا”
شاہ زر کچھ کہتا اس سے پہلے ہی حورعین جھٹکے سے ٹیبل پر سے اٹھی
” صنم “
نہیں شاہ آپ کچھ مت کہیں ، سنا تم نے شانزل ابراہیم عزیر حیات کی خصلت کیسی ہے اور میں دو دن اس کی تحویل میں رہ کر آئی ہوں، اب میں تمہیں خود پر کوئی الزام لگانے کا حق نہیں دوں گی اس لئے برائے مہربانی مجھے اپنی شکل دوبارہ مت دکھانا”
وہ کہہ کر وہاں سے جانے لگی تو لڑکھڑا گئی مگر حیا نے اسے سہارا دیا اور کمرے میں لے گئی
“مجھے تمہارے منہ سے حقیقت سننی ہے شانزل ابراہیم”
شاہ زر نے کہا
تو شانزل نے الف سے ی تک ساری باتیں بتائیں اس کا نکاح وغیرہ کیسے ہوا سارے واقعات حرف بہ حرف سچ بتائیں۔
“میرے خیال میں اتنی غلط فہمیاں اسی لئے ہوئی کیوں کہ تم حقیقت اور صنم کے ماضی سے نہ واقف تھے”
“بی اماں آپ صنم کو بھجوا دیں”
کچھ دیر بعد حورعین اور حیا نیچے آئی
اور پھر شاہ زر نے بولنا شروع کیا
میرے ابو جہانزیب سکندر اور حیات سکندر دونوں ہی سگے بھائی تھے ہم چونکہ جدی پشتی رئیس تھے اسی لئے ابو اور چچا کو دادا بعد کافی جائداد ملی لیکن میرے دادا دادی جلد ہی انتقال کر گئے تھے اس لئے ساری ذمہ داری چھوٹی عمر میں ہی ابو نے اٹھا لی تھی پھر ابو کی شادی ہوئی اور ابو نے چچا کی بھی شادی کروا دی، حویلی میں میری آمد ہوئی پھر اس کے ایک سال بعد عذیر حیات کی اس کے تین سال بعد آذر کی لیکن آذر کی پیدائش کے وقت چچی انتقال کر گئیں اس لیے آذر کو امی ابو نے ہی پالا، میں بھی آذر کو چھوٹا بھائی ہی سمجھتا تھا۔ سمجھتا تو میں عزیر کو بھی چھوٹا بھائی ہی تھا مگر اس کی طبیعت میں حاکمیت شامل تھی۔ ایک بار پھر حویلی میں چہچہاہٹ پھیلی اور وجہ حورعین جہانزیب تھی میں تب سات سال کا تھا۔ اور میں ہی اسے حویلی میں لے کر داخل ہوا تھا ابو نے بہت پیار سے اس کا نام حورعین رکھا تھا مگر میں حورعین کو اپنی بہن نہیں بیٹی مانتا تھا اسی لیے میں نے اسکا نام صنم رکھا۔ میں اسے صرف صنم ہی بلاتا تھا۔
زندگی بہت خوشگوار گزر رہی تھی تبھی چچا نے حصے کا مطالبہ کردیا اور ابو نے بھی خوشی خوشی انہیں حصہ دے دیا مگر جب چچا نے اپنا بزنس شروع کیا تو سارا پیسہ ڈوب گیا۔وہ ایک بار پھر واپس آئے اور ابو نے انہیں خوش آمدید کہا زندگی میں ہم خوشی کے رنگ دیکھ رہے تھے میں اور آذر دونوں ہی صنم کو کسی گڑیا کی طرح ٹریٹ کرتے تھے وہ تھی بھی سبز آنکھوں والی گڑیا۔ حورعین دس سال کی ہوگئی تھی پھر وہ رات آئی جس نے ہم سے ہماری دنیا ہی چھین لی”
حورین نے مانو خوف کے مارے شاہ زر کے سینے میں منہ چھپا لیا
“ابو امی اور صنم اس رات کراچی جارہے تھے مگر راستے میں ایکسیڈنٹ ہو گیا وہ ایکسیڈنٹ نہیں تھا شانزل مرڈر تھا، جو حیات سکندر نے کروایا تھا اس نے۔۔۔۔ اس نے امی ابو کی گاڑی کو رکواکر انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کیا تھا۔ یہ منظر صنم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا پھر۔۔۔۔”
شاہ زر نے گہری سانس لی وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔
صنم کے سامنے ہی اپنی درندگی کا ثبوت دیا اور امی ابو کے چہرے پتھر سے بگاڑ دیے، میں حویلی میں ہی تھا مجھے تو خبر ہی نہیں تھی کہ کیا قیامت آئی ہوئی ہے، صنم اس وقت صرف 10 سال کی تھی ہم میں سے کوئی بھی اس درد کو نہیں سمجھ سکتا، جب ایک دس سال کی نازوں سے پلی بچی کے سامنے اس کے ماں باپ کو قتل کرکے ان کی لاش کے ساتھ حیوانیت بھرا سلوک کیا جائے، صنم نے جب واپس آ کر مجھے بلکہ بلک کر ساری سچائی بتائی میرے پیروں کے نیچے سے مانو زمین کھینچ لی گئی ہو، لیکن حیات سکندر کو اب بھی چین نہیں تھا۔۔حورعین اور مضبوطی سے شاہ زر کی شرٹ کو اپنی مٹھی میں بھینچ لیا اس کا لرزتا وجود اس بات کا گواہ تھا کہ وہ سسک رہی ہے۔
میں اس وقت صرف 17 سال کا تھا۔ حیات سکندر نے مجھ سے کہا اگر میں حورعین کی سلامتی چاہتا ہوں تو خاموشی سے اس حویلی کو چھوڑ کر چلا جاؤں اور تب تک پلٹ کر نہ دیکھوں جب تک حورعین 21 سال کی نہیں ہو جاتی اگر اس دوران میں نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو وہ صنم کو۔۔۔۔۔۔ صنم کا بھی حال امی ابو جیسا کر دے گا اور اس وقت میں نے اصل معنوں میں دنیا دیکھی تھی۔ حیات سکندر ایک حیوان تھا اس سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ ایسا کر بھی ڈالتا میں حورین کو بی اماں اور آزر کے بھروسے پر چھوڑ کر وہاں سے نکل آیا مجھے اس وقت صنم کی جان سے عزیز کچھ نہیں تھا۔ حیات سکندر نے ایک پیپر پر مجھے لکھ کر دیا کہ اگر 21 سال کی عمر سے پہلے حورین کو کچھ ہوگیا تو اس کا ذمہ دار حیات سکندر ہوگا میں وہاں سے نکل تو آیا مگر حورعین کی فکر نہیں چھوڑ سکا ادھر حیات سکندر نے آذر حیات کو لندن بھیج دیا۔ تم اندازہ نہیں لگا سکتے حورعین آٹھ سال تک حویلی میں قید رہی اس کی اذیت ہم میں سے کوئی بھی محسوس نہیں کر سکتا۔ اس کی پڑھائی صرف آذر کی وجہ سے جاری تھی پھر اٹھارہ سال کی ہوتے ہی وہ لاہور آگئی میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ بھی میرا انتظار میں اتنا ہی تڑپی ہوگی چھوٹی سی صنم جو شاہ، شاہ کر کے پوری حویلی میں میرے پیچھے گھومتی تھی وہ اسی رات کہیں کھو گئی تھی میں سمجھ چکا تھا کہ دنیا کتنی مطلبی ہے اس لئے مجھے طاقتور بننا تھا اور طاقتور بننے کے لیے پیسہ درکار تھا میں نے اپنے دن رات ایک کیے اور کا ایک مشہور انٹرپرینور بنا۔ حورعین 21 سال کی ہونے والی تھی مگر جب میں اسے لینے آ رہا تھا تب حیات سکندر نے میرا ایکسیڈنٹ کروا دیا میں مرا تو نہیں مگر کومہ میں چلا گیا۔ اور اسی رات تمہارا اور صنم کا نکاح ہو گیا صنم میرا انتظار کر رہی تھی مگر اس کاتبِ تقدیر نے کچھ اور ہی لکھا تھا۔ حیات سکندر ایک انتہائی مکار انسان ہے مجھے نہیں پتا تھا کہ اس نے یہ 21 سال تک والا ڈرامہ کیوں کیا اس نے یہ سارا ڈرامہ اسی لیے کیا تھا کیونکہ ابو نے وصیت کر کے ساری جائیداد حورین کے نام کر دی تھی اور حورین کے 21 سال کے ہونے تک جائیداد کسی کے نام منتقل نہیں ہوسکتی تھی اگر اس دوران حورعین میں کوئی بھی مر جاتا تو ساری جائیداد ڈِس اون ہوجاتی تھا۔ حیات سکندر کو لگا تھا کہ تم سے نکاح کرنے سے بہتر حورعین ساری جائیداد اس کے نام کر دے گی اسی لیے اس نے مجھے مروانے کا پلان بنایا۔ مگر حورعین تم سے نکاح کر لیا۔ “
حورعین نے سر اٹھا کر شاہ زر کو دیکھا
“آگے میں بتاؤں گی شاہ”
پھر شانزل کی طرف متوجہ ہوئی سبز آنکھوں میں لال ڈورے آنسوؤں کے نشان اسے مزید دو آتشہ بنا رہے تھے
“وہ تصاویر جھوٹی تھی یہ آپ بھی جانتے تھے، ان تصاویر کے ذریعے حیات سکندر آپ سے نہیں مجھ سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اس نے کہا تھا یا تو میں آپ سے نکاح کر لوں یا پھر جائیداد اس کے نام کردوں، میں ساری جائیداد اس کے منہ پر مار سکتی تھی مگر شاہ کا سوچ کر چپ رہ گئی “
حورعین نے دو تین لمبے لمبے سانس لیے
“میں نے آپ سے نکاح کرنے کا فیصلہ کیا میں آپ کو سب کچھ بتا دینا چاہتی تھی مگر آپ نے خود ہی ساری جمع تفریق کرلی کہ میں نے یہ نکاح کیوں کیا اتنے سمجھ دار جو تھے آپ”
آخری جملہ حور نے طنزیہ کہا
” اور بھی سننا ہے تو سنیے، جس رات آپ مجھے آفس سے لے کر آئے تھے اس رات میں لاکڈ نہیں ہوئی تھی،
عزیر حیات نے مجھے وہاں زبردستی بند کیا تھا اگر حیا نہ ہوتی تو شاید۔۔۔۔۔۔”
” تم نے مجھے پہلے نہیں بتایا تھا”
“کیسے بتاتی مجھے کوئی حق نہیں تھا آپ سے مدد مانگنے کا”
سبھی ایک ایک کرکے اٹھ کر جانے لگے کیونکہ یہ دونوں کا ذاتی معاملہ تھا مگر حیا نہیں اٹھی شاہ زر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
جیسے” آپ نہیں چلیں گی”
حیا نے آہستہ سے کہا
“میں کانوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھ جاتی ہوں کچھ نہیں سنوں گی پکا، مگر میں ایسے حور کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی”
پھر وہ حقیقتاً کانوں میں انگلی ڈال کر بیٹھ گئی شاہ زر وہاں سے خاموشی سے چلا گیا۔
“آپ کو کیا لگتا تھا میں آپ کی دولت دیکھ کر آپ کی دیوانی ہو گئی تھی تو مائنڈ اٹ مسٹر شانزل ابراہیم میں نے کبھی آپ کی طرف پہل نہیں کی تھی”
وہ بول نہیں رہی تھی برس رہی تھی۔
“آپ نے مجھ پر الزام لگانے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچا آپ کو لگا میں آپ کے آفس میں آپ کو ٹھگنے کے لیے کام کر رہی ہوں، آپ کو یاد ہو تو میں نے ہی آپ سے کہا تھا کہ اپنی کوٹیشن کسی کو بتائیے گا”
وہ آج سارے حساب بے باک کرنے کے موڈ میں تھی۔
” میں کیا کرتا حور، میں کبھی نہیں مانتا مگر اسے ہمارے درمیان ایگریمنٹ تک کے بارے میں پتا تھا اور میری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یقین کر لیتا”
“حیات سکندر کو تو یہ بھی پتہ ہے کہ آپ دن میں کتنی مرتبہ سانس لیتے ہیں اور رہی بات’ کوئی اور’ ہوتا تو آپ “کوئی اور” نہیں تھے بھاڑ میں گیا کوئی اور آپ شان تھے آپ نے یقین کیسے کر لیا آپ کا یقین تو صرف میرا ہونا چاہیے تھا “
“میں نے تمہاری آواز سنی تھی کال پر پھر مجھے غصہ آگیا”
” آپ نے میری آواز سنی تھی لیکن کیا آپ نے کبھی میری دھڑکنیں نہیں سنی تھی جو چینخ چینخ کر آپ کا نام لیتی تھی آپ کے نام پر ہی دھڑکتی تھی “
شانزل کو پہلی بار اندازہ ہو رہا تھا اسے اسکی ٹکر کی بیوی ملی تھی باتوں کو منہ پر مارنے میں، مقابل کا منہ بند کرنے میں اور غصہ کرنے میں ، اور سانس روک لینے کی حد تک سفاکیت میں بھی۔
“میں مانتا ہوں میری غلطی ہے”
“اب غلطی ماننے سے کیا ہوگا اگر اس دن شاہ نہ آتے۔۔۔۔۔ ایک منٹ آپ کو کیا ضرورت تحویلی آنے کی میں تو دھوکے باز اور بدکردار تھی، آپ نے اپنی سب سے عزیز چیز اپنی دولت اپنا پیسہ رتبہ سب میرے لیے داؤ پر کیوں لگا دیا، چھوڑ دیتے مرنے کے لیے، کیوں آئے تھے وہاں؟ اچھا ہاں،،،،، سکون ملا ہوگا نا میری تصاویر دیکھ کر لیکن تصاویر دیکھ کر جی کہاں بھرا ہوگا اسی لیے آئیں ہونگے تاکہ مجھے سسک سسک کر مرتا ہوا دیکھ سکیں شانزل ابراہیم کو دھوکا دینے والے کا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے ہے نا؟”
“ایسا مت کہو حور”
وہ اپنے لفظوں کی مار سے شانزل کا دل چھلنی کر رہی تھی
