125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

باہر ابھی بھی فائرنگ ہو رہی تھی شاہ کے لوگوں اور حیات سکندر کے گارڈز کے درمیان۔
تبھی ایک شخص نے شاہ پر حملہ کیا تو شاہ نے حورعین کو نیچے لٹایا اور اس آدمی سے لڑائی کرنے لگا وہ بہت مہارت سے اپنے کراٹے ٹرک استعمال کر رہا تھا
تبھی شاہ نے ایک نسوانی چیخ سنی
” حور ۔۔۔۔۔”
شاہ نے تعج۶ سے اس لڑکی کو دیکھا وہ فائرنگ کے درمیان ہی اندر کی طرف بھاگی آرہی تھی۔ اس کی جگہ کوئی دوسری لڑکی ہوتی تو گیٹ پر ہی بے ہوش ہوجاتی ہے وہ بھاگتے ہوئے حورعین کے پاس آئی اور اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئی
فورا اپنی چادر اتار کر حورعین کے اوپر ڈالی حورین بغیر دوپٹے اور چادر کی تھی
” حور تمہیں کیا ہوا ہے؟ حور آنکھیں کھولو نہ ، حور حور دیکھو ایسے نہیں کرو ،، میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گی ابھی ہم ہاسپٹل جائیں گے پھر تم ٹھیک ہو جاؤ گی”
وہ کہتے ہوئے اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی
شاہ فورا سے پہلے ہوئے حورعین کی طرف بڑھا تو حیا نے شاہ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دھکا دے دیا “دور رہو میری حور سے خبردار جو اسے ہاتھ لگایا ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گی تمہارے”
شاہ نے اسے نظر انداز کیا اوحورعین کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا حیا راستے میں حائل ہو گئی
“دیکھو ایسا نہیں کرو تم خود اپنی بربادی دی کو آواز دے رہے ہو تم مجھے جانتے نہیں ہو میں تمہارے ساتھ کیا کر ڈالوں گی”
“دیکھیں آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں صنم کی حالت دیکھیں اسے اس وقت ٹریٹمنٹ دینا بہت ضروری ہے آپ ہٹیں راستے سے”
اس کی بات سن کر حیا نے پاس پڑی بندوق اٹھائی اور اس کا رخ شاہ کی طرف کر دیا یہ الگ بات ہے کہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
“تم نے اگر میری حور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو تم میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی یہ تمہاری صنم نہیں ہے میری حور ہے سمجھے”
“اپنا دماغ درست کرلیں اور راستے سے ہٹیں، آپ ان کھلونوں سے شاہ زر جہانزیب کو نہیں ڈرا سکتی ہے میںصنم کا بھائی ہوں اور اس کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ میں خود چھوڑ دوں گا سمجھیں”
شاہ زر نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا
“نہیں ہے یہ صنم مجھے تمہاری کسی بھی بات کا یقین نہیں ہے”
“میرے پاس اور صنم کے پاس اس فضول بحث کا وقت نہیں ہے”
“میں تمہیں کسی بھی صورت میں حور کو لے جانے نہیں دوں گی”
اس کی بات سن کر شاہ زر کا دماغ گھوم گیا اس نے سرعت سے حیا کے ہاتھ سے بندوق لے لی۔
“ہٹیں راستے سے”
نہیں ہٹوں گی میری حور کو میرے حوالے کر دیں میرے جیتے جی تو آپ کو حور کو لے جانے نہیں دوں گی”
(ویسے آپس کی بات ہے حورعین صحیح کہتی تھی ڈھیٹ ابن الڈھیٹ کا محاورہ حیا پر فٹ بیٹھتا ہے)
شاہ زر نے صلح جو انداز اپنایا
” دیکھیں اس وقت آپ کی حور کو ٹریٹمنٹ کی بہت ضرورت ہے اس وقت اس کی جان کو بہت خطرہ ہے اگر آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں ہے تو آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔۔۔۔۔”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی حیا نے کہا
” جلدی چلیے لیکن ایک بات یاد رکھنا اگر آپ نے کوئی چالاکی کی تو میں آپ کا حشر نشر کر دوں گی” شاہ زر بہت ضبط کے ساتھ اس کی دھمکی ہضم کی۔
راستے بھر حیا نے حور کو خود سے لگائے رکھا جب گاڑی ایک عالیشان بنگلے کے آگے رکی تو حیا گھور کر شاہ زر کی جانب دیکھا
“یہ اسپتال آپ کے سٗسر نے تعمیر کروایا ہے؟”
یہ سوال ہرگز نہیں تھا
شاہ زر نے گھور کر حیا کو دیکھا
” صنم کو اسپتال میں خطرہ ہو سکتا تھ۔۔۔۔۔”
” صنم نہیں ہے یہ حور ہے”
” آپ ہیں کون جو میں آپ کو جواب دوں “
کہتے ہوئے شاہ زر نے حورعین کو پھر اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔
“میں حیا ہوں، حیا زمان، اگر تمہارے ارادے یا نیت مین ذرا سی بھی کھوٹ ہوئی تو میں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
تو میں تمہیں۔۔۔۔۔۔”
حیا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا ساری دھمکیاں تو اس نے ڈالی تھی اب سامنے والے کو ڈرانے کے لئے کوئی مناسب دھمکی سوچ رہی تھی اور ساتھ ساتھ تیز قدموں سے شاہ زر کے ساتھ چل رہی تھی۔
” بعد میں سوچ لیجیئے گا”
شاہ زر نے اسے بیڈ پر لٹایا اس کمرے میں ڈاکٹر پہلے سے ہی موجود تھیں
” آپ باہر نکلیں ڈاکٹر چیک کریں گی حور کو”
شاہ زر نے کچھ نہیں کہا اور روم سے باہر چلا گیا
جب شاہ زر دوبارہ روم میں آیا تو ڈاکٹر نے کہا
“شاہ زر تم میرے دوست ہو صرف تمہارے لیے یہ کام کیا ہے ورنہ یہ پولیس کیس ہے، میں کسی اور کے لئے ایسے پیشنٹ کو ٹریٹ نہیں کرتی، خیر۔۔۔۔۔۔ تم نے ان کا بہت دھیان رکھنا ہے بہت سے زخم ہیں تو بہت احتیاط برتنی ہے دوسری بات میں نے انجیکشن دی ہے تو کل صبح تک ہوش آجائے گا انہیں کسی بھی پریشانی سے دور رکھیں میں کل آؤں گی بینڈ کرنے”
” شکریہ یار تم نے میری مشکل آسان کردی”
ڈاکٹر تو چلی گئی لیکن شاہ زر نے دیکھا حیا بہت غور سے حورعین کو دیکھ رہی ہے اس کی خاموشی
شاہ زر کو ٹھٹھکی جب سے وہ ساتھ تھی مجال ہے جو اسکی زبان ایک سیکنڈ کے لیے بھی رکی ہو۔
“کوئی بات ہوئی ہے کیا؟”
شاہ زر کی بات پر حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اس کی گہری کالی آنکھوں کے نین کٹورے آنسووں سے لبریز تھے اور باہر چھلکنے کے لیے بے تاب تھے
حیا کا چہرے یک لیٹ تن گیا
” کوئی بات؟ ہاہ کوئی بات نہیں ہے ؟ یہ کیا حالت کر دی ہے آپ لوگوں نے حور کی”
وہ چینخ رہی تھی جس کی وجہ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا اور شاہ زر کو محسوس ہوا وہ ایسے تو بالکل اچھی نہیں لگ رہی۔
“دیکھیں، میں قطعی صنم کی اس حالت کا ذمہ دار نہیں ہوں کوئی بھائی اپنی بہن کو کیسے نقصان پہنچا سکتا ہے میرا یقین کریں”
” نہیں ہے مجھے آپ کی بات پر یقین، آپ نے نہیں دیکھے حور کے زخم، میں نے دیکھے ہیں، کتنی تکلیف ہو رہی ہو گی اسے “
شاہ زر کو لگا جیسے زخم حورعین کو لگے ہیں اور درد کی شدت سے حیا ٹڑپ رہی ہے وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا اس سے بحث کرنا بیکار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر دوبارہ شانزل حویلی پہنچا تو وہاں کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گیا حیات سکندر عذیر کو لے کر اسپتال گئے تھے تب اسے پتہ چلا یہاں سے حورعین کو کئی لے گیا ہے اس کا تو سر ہی چکرا گیا۔ اس نے دیکھا گیٹ کے پاس حیا کی کار کھڑی ہے جو اسے اس کے ابو نے دی تھی اس نے فورا حیا کو فون لگایا۔
“حیا تم، تمہیں پتا ہے حور کہاں ہے؟”
“میں حور کے ساتھ ہی ہوں، لوکیشن بھیجتی ہوں”
کہہ کر کھٹاک سے فون بند کر دیا
شانزل مانو وہاں اڑ کر پہنچا۔ اور ایک بار پھر گارڈز کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی پھر اس نے کمرے کا دروازہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ کھولا اور شیر کی طرح اس پر جھپٹا اور شاہ زر کا گریبان جکڑ لیا
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو لے کر آنے کی”
جواباً شاہ زر نے بھی اسکا گریبان جکڑ لیا۔
“بیوی ہے تو تمہاری ذمہ داری تھی وہ کیسے اس حال میں پہنچی تمہارا حساب بھی ہوگا شانزل ابراہیم “
شانزل نے شیر سی بھوری آنکھیں شاہ زر جہانزیب کی سفید شیر سی نیلی آنکھوں میں گاڑھی۔
تم یہ مت سمجھنا کہ شاہ زر جہانزیب تمہیں بخش دے گا تم نے جو میری بہن کے ساتھ کیا ہے اس کا حساب تو تمہیں دینا ہی ہوگا”
حیا نے درمیان سے دونوں کو الگ کیا اور ایک ایک دھکے سے دونوں کو نوازا۔مگر مجال ہے جو دونوں ایک انچ بھی ہلے ہو
” کیا کر رہے ہیں آپ دونوں وہاں میری حور کی حالت دیکھیں، یہ تماشا کہیں اور جا کر لگائیں آئی سمجھ”
اس نے چادر حور کو اوڑھانے کے بعد نماز اسٹائل میں دوپٹا باندھ رکھا تھا۔ جامنی رنگ کے ہالے میں مقید چہرے پر آنسوؤں کے نشان تھے
“حیا حور نے تو تمہیں فون کیا تھا نا؟ تم اس کے پاس گئیں تھی پھر حور کی یہ حالت کیسے ہوئی؟”
شانزل کے لہجے میں کرب تھا
حیا تھکے ہوئے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گئی
” حور نے مجھے فون کیا تھا مگر اس نے میری کوئی بات نہیں سنی میں اس سے پوچھ رہی تھی کہ تم کہاں ہو تو اس نے صرف اتنا کہا کہ میں آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کروں اور نہ ہی آپ سے اس کے متعلق مدد مانگوں، نہ ہی کوئی باز پرس کروں اس کے بعد اس نے کہا کہ میں اپنی زندگی کے معاملوں میں سنجیدہ ہو کر زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنا چھوڑ دوں، اس کے بعد اس نے لائن کاٹ دی میری ایک بات نہیں سنی میں پاگلوں کی طرح اسے فون کرتی رہی تب سے اب تک پورے دو دن پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈتی رہی مگر میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی جب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو میں نے آپ کو فون کیا اور جیسے تیسے حویلی پہنچی تو میں نے حور کو دیکھا لہولہان، یہ اپنے آپ کو حور کا بھائی کہتے ہیں اور آپ پورے استحقاق سے حور کو میری بیوی کہتے ہیں، میں کہتی ہوں ایک شوہر اور بھائی کے ہوتے ہوئے ایک لڑکی کی حالت ایسی ہے تو تف ہے ایسے رشتوں پر اس سے تو میں لاوارث اچھی ہوں”
“حیا پلیز “
شانزل احساس ندامت سے گویا ہوا
” نہیں بھائی پلیز میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں بھائی ہے آپ میرے، میری ایک بات مانیں حور کی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اسے کسی بھی ٹینشن سے دور رکھنا ہے آپ ابھی چلے جائیں پہلے حور کو ہوش میں آنے دیں میں اس سے بات کروں گی پھر آپ حور کے سامنے آنا حور کی فکر آپ نہیں کریں میں اس کے ساتھ ہوں”
آخری جملہ اس نے شاہ زر کی طرف دیکھتے ہوئے چبا چبا کر کہا جیسے دانتوں کے درمیان شاہ زر ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل نخاموشی سے پلٹ کر باہر آگیا شانزل گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا حور کی فکر سے آزاد ہوا تو احساس ندامت نے آ گھیرا اس نے گاڑی اسی راستے پر ڈال دیں جس پر ولیمے والی رات کا سفر کیا تھا اس نے گاڑی وہی گھر کے آگے رو کی جب اس نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو سنگِ مرمر کا چمکتا ہوا گھر آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا
شانزل نے نظر گھما کر نیم پلیٹ پر ڈالیں اس پر جلی حروف میں کندہ تھا
” فردوس برّیں”
نام دیکھ کر شانزل کے دل پر گھونسا سا پڑا شانزل کو وہ واقعہ یاد آیا جب اس نے ایک رات حور کے پوچھنے پر بتایا تھا کہ فردوسِ برّیں کیسا ہونا چاہیے واضح کیا تھا۔
شانزل کے کانوں میں اس وقت کی گفتگو گونجنے لگی
” فردوسِ برّیں کا نام ہم سنگ مرمر پر ہی کندہ کروائیں گے”
شانزل آگے بڑھ کر دروازے کی طرف آیا اس نے نظر اٹھا کر سنگ مرمر کے بڑے دروازے کو دیکھا اس پر ایک آیت کندہ تھا
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ *
( تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے)
جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہا تھا ہر چیز اس کے کہے کے مطابق تھی
“ہم فردوسِ برّیں کے دروازے پر میری سب سے فیوریٹ آیت کندہ کروائیں گے وہ گھر بھی ہمارے لئے نعمت ہی تو ہو گا نا”
“ہم فردوسِ برّیں میں سنگ مر مر کے ہی گول سیڑھیاں بنوائیں گے “
“آپ کو یہ آسان لگتا ہے سنگِ مر مر کی گول سیڑھیاں؟ مانا کے میں جلد ہی سے سِوِل انجینئر بن جاؤں گی مگر یہ کام تو بہت مشکل ہے”
حورعین کی اور اس کی آواز کی باز گشت ہر چیز سے سنائی دے رہی تھی۔
شانزل نے بھاری قدموں سے سیڑھیاں عبور کی اور اس کمرے کا دروازہ کھولا سب کچھ ویسا ہی تھا۔
سنگ مرمر کے بنے ہوئے پلنگ پر موٹا سا گدا تھا جس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھیں جس پر سرخ گلاب بنے ہوئے تھے
“مجھے ہر چیز سنگ مرمر کی بنی ہوئی چاہیے ٹیبل، کرسی یہاں تک پلنگ اور اسٹڈی ٹیبل بھی”
حورعین نے ایک لمحے کے لئے شانزل کی بات پر حیران ہو کر اسے دیکھا پھر مسکرا کر پوچھا تھا
” اس کے علاوہ ؟”
شانزل نے کہا تھا
” ہمارے بیڈ کے اوپر چھت پر شیشہ لگا ہونا چاہیے”
“وہ کیوں؟”
اس نے بہت معصومیت سے سوال پوچھا تھا
” تاکہ تمہیں لیٹ کر بھی باآسانی دیکھ سکوں جیسے ہی میری آنکھ کھلے میری نظر کے سامنے چھت نہ ہوں بلکہ میری زندگی ہو تم ہو”
جواب بھی اسی سادگی سے دیا گیا تھا
شانزل نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا چھت پر شیشہ لگا ہوا تھا مگر اس شیشے میں وہ اکیلا تھا شانزل کو لگا اس کی سانسیں اٹکنے لگی ہے۔
“اس کے علاوہ کیا ہونا چاہیے شان “
“اس کے علاوہ دائیں دیوار پر ہم دونوں کی بڑی سی تصویر ہونی چاہیے”
شانزل نے دائیں طرف گردن موڑ کر دیکھا دیوار پر ان دونوں کی تصویر تھی ہانیہ اور اشعر کے نکاح والے دن کی۔ وہ گرین شرارے میں تھی اور شانزل بلیک تھری پیس سوٹ میں۔ یہ وہی والی تصویر تھی جس میں شانزل سامنے دیکھ رہا تھا اور وہ اس کو دیکھنے میں مگن تھی۔
شانزل کی نظر تصویر میں حورعین کے چہرے کی طرف کی اس کے چہرے پر آنسو تھے وہ خون کا قطرہ تھا جو ڈھلک کر آنسوؤں کی شکل اختیار کر گیا تھا شانزل کو یاد آیا
کیسے اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا اس نے ہاتھ جھٹکا تھا تب یہ قطرہ اڑ کر تصویر پر گیا ہوگا
اس رات وہ ایسے ہی تو روئی تھی خون کے آنسو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا خاموشی سے حورعین سے لگ کر بیٹھی تھی اور ورد کرنے کے بعد وقفے وقفے سے اس پر پھونک رہی تھی اور لگاتار سوفے پر بیٹھے شاہ زر کو گھورنے کا فریضہ بھی انجام دے رہی تھی۔
اب حیا کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ اس طرح بیٹھ گئی کہ شاہ زر حور کو نہ دیکھ سکے۔
شاہ زر کو اپنے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن صنم کو اس حالت میں چھوڑ کر جا نہیں سکتا تھا رات گہری ہو رہی تھی حیا نے غصے میں آ کر اس سے پوچھا
” آپ کا کیا رات یہیں گزارنے کا ارادہ ہے؟”
” جی “
یک لفظی جواب آیا تھا جو حیا کو سلگا گیا
“کیوں؟”
” کیونکہ میں صنم کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا”
حیا کا دماغ گھوم گیا
“دیکھیں مسٹر، آپ کو آخری بار سمجھا رہی ہوں یہ صنم نہیں ہے میری حور ہے اور فوراً یہاں سے چلے جائیں کیونکہ میں آپ پر باکل بھی یقین نہیں کرتی”
شاہ زر کے سر میں پہلے ہی درد ہو رہا تھا پھر حیا کی بحث نے اس کے درد میں اضافہ کردیا تھا تو اس نے بھی تڑخ کر جواب دیا
دیکھیں آپ مس، یہ میری بہن ہے، سگی بہن، تو میں اس کا محافظ ہو اگر کوئی نامحرم ہے تو وہ آپ ہیں، آپ بتائیں اب تک میں نے آپ کے ساتھ کون سی غلط حرکت کی ہے؟ اور میں چاہوں تو اب بھی کر سکتا ہوں مگر میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے یہ بات آپ اچھی طرح جانتی ہے، دراصل یہ جو آپ بار بار کہہ رہی ہیں کہ ‘میں آپ پر یقین نہیں کرتی’ ‘میں آپ پر یقین نہیں کرتی’ یہ آپ مجھے نہیں بلکہ خود کو کہہ رہی ہیں آپ کا دل چاہ رہا ہے مجھ پر یقین کر لے مگر آپ خود کو روک رہی ہیں برائے مہربانی اتنا تردد نہ کریں میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے تو خاموش رہیں مجھ میں آپ سے بحث کرنے کی سکت نہیں ہے اور اس کمرے میں رکنے کی وجہ آپ کی حور کی سکیورٹی بھی ہے”
حیا منہ کھولے اسے سن رہی تھی اس نے ہر بات صحیح کی تھی پہلی مرتبہ کوئی حیا کی بولتی ہی بند کر چکا تھا کچھ دیر بعد حیا کو اسکا احساس ہوا ‘مجھے کوئی کیسے چپ کرا سکتا ہے؟’
“ہونہہ۔۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے سمجھے آپ باگڑ بلّے”
حیا نے اس کی نیلی آنکھوں پر چوٹ کی
“کچھ جلدی خیال آگیا کہ میں غلط کہہ رہا ہوں”
شاہ زر اٹھا اور اپنی گن نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی
“میں یہیں نماز پڑھنے جا رہا ہوں اگر کچھ غلط ہونے کا احساس ہو یا کوئی بلا اجازت کمرے میں آیا تو بلاجھجھک فائر کر دینا “
“اس وقت صرف آپ ہی غلطی نظر آرہے ہیں”
وہ حیا تھی کیا کیا جاسکتا ہے
وہ بھی شاہ زر تھا
” تو آپ گولی چلا دیں”
وہ آرام سے کہہ کر واش روم میں چلا گیا
اس نے باہر آکر جانماز بچھائی اور نیت باندھی حیا کے پاس کچھ کام نہیں تھا تو اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ پوری دلجمعی کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس کے لب ہل رہے تھے اور نیلی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں
“ہونہہ۔۔۔ باگڑ بلّا۔۔۔۔۔ ویسے خوبصورتی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو حور کا کوئی بھائی ہوتا تو ایسے ہی دکھتا”
حیا نے محسوس کیا کہ اسے سجدے میں جانے سے تکلیف ہو رہی ہے سجدے کے بعد جب وہ کھڑا ہونے لگا تو لڑکھڑانے لگا۔ حیا بھاگ کر اس کی طرف گئی اور کھڑے ہونے میں مدد کی دوسری رکعت میں بھی یہی ہوا تو وہیں کھڑی ہوگئی جب تک جتنی رکعتیں پڑھی تب تک ہر مرتبہ اسے سہارا دے کر کھڑا کرتی رہی۔ اسے نہیں یاد کے اس نے کتنی مرتبہ سلام پھیرا کتنی سنتیں اور نفل نمازیں ادا کیں مگر وہ جس طرح مگن اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا اسے دیکھ کر حیا کے دل نے سوال کیا کہ “کیا یہ جھوٹ بول سکتا ہے؟” شاہ زر نے دعا مانگنے کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرا پھر اٹھنے کی کوشش کرنے لگا تب بھی حیا نے اسے سہارا دیا۔ شاہ زر نے آگے بڑھ کرحورعین کے چہرے پر پھونکا پھر مڑ کر حیا کے چہرے پر بھی اور حیا وہ تو پتھر کی ہوگئی۔
شاہ زر نے مسکرا کر کہا ( وہی million dollar smile😁)
“شکریہ”
حیا نے منہ بنایا اور کہا
“باگڑ بلّا”
کہہ کر دوبارہ اپنی جگہ یعنی حورعین کے بازو میں براجمان ہو گئی۔
“ویسے کوئی تھینکیو کہے تو ویلکم کہتے ہیں آپ تو مجھے عجیب سے لقب سے نواز رہی ہیں”
حیا بیڈ پر بیٹھی جانماز اس کو دیکھ رہی تھی جو شاہ زر نے تہہ کر کے ٹیبل پر رکھی تھی۔
تب شاہ زر کی آواز آئی
” آپ کو نماز پڑھنی ہے؟”
حیا تو شش و پنج میں مبتلا ہوگئی تھی پھر اثبات میں سر ہلا دیا
“تو پڑھ لیں؟
حیا نے حورعین کی طرف دیکھا شاہ زر سمجھ گیا کہ وہ حورعین کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی۔
“میں کوئی گنڈا نہیں ہو جو آپ اس طرح کی صنم کو مجھ سے بچا رہی ہیں آپ میرا یقین کریں کم از کم میں کسی کی عبادت میں ہونے کا فائدہ تو نہیں اٹھاؤں گا”
“دیکھیں آپ اس طرف مت آئیے گا “
“نہیں آؤں گا “
“آپ حور کو گھور گھور کر بھی نہیں دیکھیں گے”
” نہیں دیکھوں گا”
“ارے واہ! اس وقت تو میں آپ سے کچھ بھی مانگ سکتی ہوں”
حیا نے چہک کر کہا
“اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ جو بھی مانگیں گی میں آپ کو دے دوں گا “
شاہ زر کی بات پر حیا کو اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا تو اس کا چہکتا ہوا چہرہ پل میں بجھا اس نے بمشکل چہرے کے تاثرات کو نارمل کیا اور اثبات میں سر ہلایا پھر کہا میں وضو کرکے آتی ہوں۔
شاہ زر نے حیا کا چہرہ شدت سے بجھتا ہوا محسوس کیا کچھ بھی ہو وہ صنم کا اتنا دھیان رکھ رہی تھی کم از کم اس کے عوض میں وہ ڈھنگ سے بات تو کر ہی سکتا تھا۔ اسے خود پر غصہ آیا حیا نے خاموشی سے نماز پڑھ کر پھر اپنی جگہ سنبھالی۔
پھر کچھ دیر بعد جیسے کسی خیال سے چونکی اور شاہ زر سے انتہائی غصے میں پوچھا
“یہ۔۔۔۔یہ جو ڈاکٹر تھی اس نے حور کو کیسی انجیکشن دی ہے”
” مجھے کیسے پتہ ہوگا میں بزنس مین ہوں ڈاکٹر نہیں ہوں”
شاہ زر سمجھ گیا کہ ایک بار پھر وہ پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ گئی ہے
“دیکھیے حور ابھی تک ہوش میں نہیں آئی ہے میں آپ کو بتا رہی ہوں انجینئرنگ سے پہلے میں نے دو سال میڈیکل پڑھا ہے ایسی کسی بھی قسم کی چالاکی آپ میرے ساتھ نہیں کر سکتے ورنہ اسکا جو انجام ہوگا وہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے”
(آہ۔۔۔۔ ایک اور دھمکی)
“صنم کل صبح ہی ہوش میں آئے گی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ انھوں نے اسے نیند کا انجکشن دیا ہے زخم کافی زیادہ ہے وہ ہوش میں آ گئی تو اسے درد ہوگا رہی بات چالاکی کی تو کل صبح صنم خود آپ کو کہے گی کہ میں کون ہوں”
اس کی بات پر حیا خاموش تو ہوگئی مگر مطمئن نہیں۔
شاہ زر سے یہ بات چھپ نہیں سکی کہ حیا حور کے معاملے میں بہت حساس ہے۔
کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی تو ایک درمیانی عمر کی خاتون اندر آئیں وہ یونیفارم میں تھی
“سر آپ کھانے میں کیا لیں گے “
اس نے پوچھا
” کچھ نہیں آپ ان میم سے پوچھ لیں”
پھر حیا سے کہا
“مجھے صنم کی وجہ سے یاد ہی نہیں رہا آپ کے کھانے وغیرہ کا”
حیا نے کہا
“کچھ بھی نہیں کھانا “
حور کی حالت دیکھ کر بھوک تو اس کی پتہ نہیں کہاں غائب ہو گئی تھی۔
“ایک گلاس دودھ لے آئیں”
شاہ زر نے اسی خاتون سے کہا تو وہ خاموشی سے دودھ لے کر آگئی
“یہ آپ ان میم کو دے دیں “
“میں نے تو نہیں کہا تھا”
” آپ خاموشی سے لیں ورنہ میں آپ کو گھر سے باہر پھینکنے میں دیر نہیں لگاؤں گا”
حیا کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ حور کو اکیلا چھوڑنا نہیں چاہتی تھی اسی لئے خاموشی سے ایک ہی گھونٹ میں سارا دودھ ختم کردیا۔
“یہ مت سمجھئے گا کہ میں ڈر گئی”
” میں بالکل بھی ایسا نہیں سمجھنے والا “
شاہ زر نے بمشکل اپنی ہنسی روکی
“ہونہہ۔۔۔۔۔ باگڑ بلّا”
پھر ساری رات خاموشی سے کٹی۔
شانزل اپنی بیوقوفی پر خود کو کوس رہا تھا اس نے زمین پر پڑا ہوا کاغذ اٹھایا ایک تو اس گھر کے کاغذات تھے
دوسرا وہ کاغذ تھا جس پر حورعین نے تین شادیاں کرنے کی اجازت دی تھی شانزل کے کانوں میں حورعین کا جملہ گونجنے لگا
“خدا کرے تم مجھے بھول جاؤ ورنہ تم میری یاد میں خاک چھانو گے اور میں تمہیں خاک می۵ بھی نہیں ملوں گی”
یا اللہ یہ کیا ہو گیا مجھ سے ہر مرتبہ میں کیوں اس کی اذیت کا سبب بن جاتا ہوں کیا ہو جاتا اگر میں اسی دن اس گھر کو دیکھ لیتا وہ پورے پندرہ دن میرے خواب کو تعبیر دینے میں مگن تھی اور میں نے اس کے کردار پر سوال اٹھایا۔
“اب تم سونے کے بھی بن کر آؤ گے تب بھی میں تمہیں قبول نہیں کروں گی”
یا خدا یہ کیا ہو گیا مجھ سے
شانزل نے تیسرا پیپر دیکھا یہ وہی پیپر تھا جس پر اس نے دستخط کیے تھے لیکن اس پر کچھ تحریر بھی تھا
” میں شانزل ابراہیم اپنی بیوی حورعین شانزل ابراہیم کو کو اپنی زندگی بھر کا ساتھ سونپتا ہوں میں اس کی عزت اور اعتماد کروں گا تا عمر”
اسکے نیچے لکھا ہوا تھا
“میں حورعین شانزل ابراہیم اپنے شوہر شانزل ابراہیم کو تمام اختیارات دیتی ہوں اور تا عمر انکی تحویل میں رہ کر وفا شعار زندگی گزاروں گی”
نیچے حورعین کے دستخط تھے۔
نجانے کن سنہرے لمحوں کی آس میں اس نے لکھا ہوگا۔
وہیں ایک طرف ولیمہ کا جوڑا اور زیورات اپنی بے قدری پر ماتم کناں تھے۔
شانزل کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام تھا۔
یہ رات تو سبھی کے لیے بڑی مشکل تھی۔