125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

دوسرا دن بھی بہت خوشگوار تھا حورعین شانزل کے لائے ہوئے اورنج رنگ کے گرارے میں جچ رہی تھی ہلکی سی جویلری اور ہمیشہ کی طرح میکپ سے عاری چہرہ۔
آج مہندی تھی اور پورے دن شانزل کی نظریں حورعین کا طواف کر رہی تھی
حورین شانزل کے دیکھنے پر کنفیوز ہو رہی تھی ۔
مہمانوں سے گھر بھرا ہوا تھا جب رات حیا کھانے کے لیے بیٹھی تو کدو گوشت دیکھ کر اس کا منہ بن گیا
“کیا دادی آپ کو پتہ ہے میں کدو گوشت نہیں کھاتی”
” ہاں لیکن کھالو بچے”
” میں دلہن ہوں اور آپ ایسا کہہ رہی ہیں مجھے نہیں کھانا کدوگوشت”
حیا کی سوتیلی امی کا ضبط یہیں تک تھا
“جاؤ عاطف لے آؤ کچھ اس کے لیے بھی ورنہ اس کا منہ بند تھوڑی ہو گا اللہ اللہ کرکے کل کا دن بھی نکلے تو جان چھوٹے اس سے “
ان کے لہجے میں اتنی حقارت تھی کہ شانزل کو بہت غصہ آیا سارے مہمان موجود تھے اور حیا کے ابو تو ایسے بیٹھے تھے جیسے انھوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو
“ہاں بالکل، مگر میرے فیورٹ ریسٹورنٹ سے لانا اور مرچیں تھوڑی زیادہ ڈلوانا سمجھے “
وہ حیا تھی حیا زمان جس نے چپ رہنا سیکھا ہی نہیں تھا حیا کی بات پر اپنی ہنسی دبانے لگے۔
“اتنا تیکھا تو بولتی ہوں تمہیں مرچوں کی کیا ضرورت ہے”
عاطف نے بھی چڑھ کر جواب دیا
” ارے لیکن تمہاری امی کی برابری بھی تو کرنی ہے نا اس لئے مرچیں زیادہ ڈلوانا تاکہ تمہاری امی جتنا تیکھا بول سکوں اشعر تم کھاؤ گے میرے ساتھ؟”
“بالکل “اشعر نے کندھے اچکا کر جواب دیا
“تھوڑا زیادہ لے آنا “
کیا شانِ بے نیازی تھی حکم دے کر وہاں سے چلی گئی
اشعر نے اب ہانیہ کو گھیرا
تم ٹھوسنا بند کرو موٹی، ہمارے ساتھ کھانا”
موٹی سن کر تو ہانیہ پلیٹ لے کر اشعر کے پیچھے دوڑ پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ، اشعر، راریہ بھابھی، حدید ، حورعین شانزل سب ہی ٹیرس پر بیٹھے تھے اور حیا کو مہندی لگائی جارہی تھی۔
تب حیا نے کہا
” کچھ شعر و شاعری، بیت بازی ہو جائے”
نہیں حیا آپی میں ان سڑی شکل کے ساتھ نہیں کھیلنے والی ‘
ہانیہ نے اشعر کی طرف اشارہ کرکے کہا
اب اشعر تھوڑی چپ رہنے والا تھا
“تم نے دیکھا ہے کبھی چاند پر بہتا پانی
میں نے دیکھا ہے یہ منظر منہ دھوتے ہوئے”
” کاش تمہارے چہرے پر چکن پاکس کے داغ ہوتے چاند تو تم ہو ہی ستارے بھی ساتھ ہوتے”
ہانیہ کی بات پر رادیہ بھابھی نے کہا
“پھر تو اشعر چاند نہیں سورج مکھی لگتا ہے چلو اشعر جواب دو”
تو چندرمکھی میں سورج مکھی
تو مجھ سے دکھی میں تجھ سے دکھی
ایسا کر چھت سے کود جا
تو بھی سوکھی میں بھی سکھی
ہانیہ تو جل ہی گئی پھر شعر داغا
کہانی ہیں تو افسانہ بنے
شباب سے ہی میخانے بنے
کچھ تو بات ہے آپ نے بھی
یوں ہی نہیں پاگل خانے بنے
“واہ کیا بات ہے ،کیا بات ہے”
، حیا نے داد دی پھر کہا
“لو اسی بات پر یہ کھاؤ “
“نہیں حیا آپی بہت چیز ہے اس میں”
اور اشعر کو موضوع مل گیا
ڈائٹنگ کھیل نہیں چند دنوں کا لوگو
ایک عمر چاہیے کمرے کو کمر ہونے تک
ہانیہ کو تپ ہی چڑھ گئی
لفظوں میں اتنا زہر کہاں سے لاتے ہو
لگتا ہے ناشتے میں بچھو فرائی کر کے کھاتے ہو
کم بختو، یخ تھو، تو یہ کیا لگا رکھا ہے میں کھا رہی ہو نہ”
حیات کا منہ بن گیا سب ہنسنے لگے
“اگر ایسا ہی حال رہا تو ہوچکی شعر و شاعری”
رادیہ بھابھی نے بھی اپنا حصہ ڈالا
اتنے میں اعظم یعنی حدید کے ابو بھی آگئے
“ارے اعظم بھی آگئے “
“کیا ہو رہا ہے “
اعظم نے پوچھا
“وہی یہ لڑکیاں کبھی خوش نہیں ہوتی، ابھی تو بیت بازی ہو رہی تھی “
جواب اشعر نے دیا تھا۔
“چلیں نہ اعظم بھائی آپ ہی کچھ سنا دیں “
ہانیہ نے فرمائش کی
” اشعر کی بات پر ایک شعر عرض ہے
اگر تم تاج بھی رکھ دو سر پر حکمرانی کا
نہیں ہوگا مگر راضی دل کبھی زنانی کا
اگر تم تارے توڑ کر لاؤ گے وہ کہے گی
یہ وہ تارے نہیں جو شوہر لایا تھا فلانے کا
“اعظم آپ مجھے سنا رہے ہیں “
رادیہ نے کہا
” تو غلط نہیں ہے”
اعظم نے شرارت سے کہا۔
” ابھی بھی سوچ لو حیا شوہر ایسے ہی بعد میں طعنے دیتے ہیں”
رادی نے احتجاج کیا۔
“میں نے تو ابو سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کوئی ایسا ڈھونڈے جو مجھ سے کم خوبصورت ہو اور دن بھر میری باتیں سن سکیں”
” واہ تمہاری تو منطق ہی نرالی ہے”
اشعر نے مذاق اڑایا
” اس معاملے میں تمہاری کیا منطق ہے ہانیہ اور ذرا ترنگ میں بتانا”
یہ جملہ اعظم کی طرف سے تھا
جیسے وہ صورت کا باکمال ہو
ویسے سیرت کا بھی بے مثال ہو
وہ ایک لاجواب سوال ہو
میری مشکلوں کو زوال ہو
وہ ایک انجانا سا دلکش خیال ہو
جسے دیکھتی رہ جائے ساری دنیا
وہ ایسا کچھ کمال
ہانیہ ٹرانس میں بول رہی تھی آگے سے اشعر نے لقمہ لگایا
“اور دھوتی پھاڑ کر رومال ہو”
“اوہ ،،،،،،مرو تم پورا مزہ خراب کر دیا”
حیا چڑ گئی۔
” اچھا اب شانزل بھائی کی باری ہے”
حیا نے شانزل کو بھی گھسیٹا
” ٹھیک ہے لیکن میں شروع ہوا تو کوئی اٹھ کر نہیں جائے گا “
اوکے سنا بھی دیں “
اس کی سادگی اس کی عاجزی اس کی ہر ادا کمال ہے مجھے فخر ہے مجھے ناز ہے میرا یار بے مثال ہے”
حورعین کا دل دھڑک اٹھا
” اب میری باری “
حیا کہاں چپ رہنے والی تھی
تیرے کس کس خیال کو دل سے جدا کروں
میرے ہر خیال میں تیرا خیال رہتا ہے
حیا نے یہ شعر حورعین کی طرف دیکھ کر کہا تھا
“واہ سبحان اللہ،”
اعظم میں داد دی
” چلو حور جواب دو”
خیال انہی کے آتے ہیں جن سے رشتہ قلب ہوتا
ہر شخص اپنا ہو جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
“اچھا اب اعظم بھائی کی باری، مگر ذرا کچھ اچھا ہو جائے”
ہانیا نے کہا اعظم نے رادیہ کے پھولے پھولے منہ کو دیکھا۔
اول تو زمانے میں نہیں تم سا کوئی اور
اگر ہو بھی تو ہم کون سا تسلیم کرلیں گے
اور رادیہ بھابھی تو گڑبڑا گئیں۔ تبھی اشعر ،ہانیہ اور حیا نے ہوٹنگ شروع کر دی
” اچھا نہ آپا اب جواب تو بنتا ہے”
ہانیہ نے اسرار کیا
آتے جاتے ہیں کئی رنگ میرے چہرے پر
لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے
“اچھا اب میری باری” اشعر نے کہا
“کوئی ضرورت نہیں تم دونوں پھر بچھو، سانپ، چوہا بلی کتا کرنے لگا گے اب شانزل بھائی کی باری”
میرے عشق کے پانچوں نقطوں پہ بھاری ہے
تیرے حسن کے نون میں جو ایک نقطہ ہے
“ہائے ہائے”
حیا ہی کیا جو چپ بیٹھے
حورعین حیا کے پاس ہی بیٹھی تھی ایک بار پھر اس کی دھڑکن تیز ہوئی اس نے چور نظروں سے شانزل کو دیکھا وہیں دیکھ رہا تھا حورعین نے فورا ہٹا لیں
” بھائی ایک اور”
سب سے نظر بچا کر وہ مجھ کو ایسے دیکھتا ہے
ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال
حورین تو گڑبڑا گئی
پھر حیا نے حورعین کو دیکھتے ہوئے شعر پڑھا
دل تو دل ہے اعتبار کیا کیجئے
آگیا ہے جو کسی پے پیار کیا کیجئے
پھر حورین کے کان میں سرگوشی کی
تمہارے لئے مفت مشورہ ہے عمل کرو”
حورعین نے جھکی ہوئی گردن اور بھی جھکالی
“اچھا بھائی اب آپ کی باری ہے”
ایک حقیقت سی جنت میں حوروں کا وجود
حسن انسان سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
حورعین پوری سرخ ہو رہی تھی
“بھائی ایک اور”
یہ ہانیہ تھی
کاش کہ تیرے دنیا مجھ سے مجھ تک ہو
میں تمہیں تمہارا بھی نہ ہونے دوں
“اتنی شدت؟”
یہ اشعر تھا
” تھوڑا اور واضح کریں نا بھائی “
حیا نے معنی خیزی سے کہا
“دیکھو یاد ہے نا میں نے کہا تھا کوئی اٹھے گا نہیں”
” ہاں بھائی دس بار تو ایک ساتھ ہی بول دیں”
حورعین کا دل کیا حیا کا گلا دبا دے۔اور پھر شانزل شروع ہو چکا تھا۔
یہ آب و تاب حسن، یہ عالم شباب کا
تم ہو کہ ایک پھول کھلا ہے گلاب کا
“واہ! سبحان اللہ “
شانزل کی نظریں حورعین پر ہی ٹکی تھی۔ وہ پوری سرخ ہو رہی تھی اور سچ میں گلاب لگ رہی تھی۔ شانزل پورے موڈ میں حورعین کو بغیر پلکیں جھپکائے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔
یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیں
تم ہی بتاؤ کیونکر نہ تمہیں چاہیں
ہر شعر کے ساتھ حورعین کی دھڑکنیں اس قدر تیز ہوتی جا رہی تھی جیسے دل ابھی باہر آ جائے گا۔ ایک تو ایسی شاعری اوپر سے ایسی نظریں۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔
یہ شخص تو میری جان ہی لے لے گا۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کسی طرح اپنی دھڑکن کو شانزل سے چھپائے
۔
تب ہی شانزل نے ایک شعر داغا۔
تم لاکھ چھپاؤ سینے میں احساس ہماری چاہت کا
دل جب بھی تمہارا دھڑکا ہے آواز یہاں تک آئی ہے
حورعین تو ایک پل کے لیے سانس ہی نہ لے سکی اسے ڈر تھا کہ کہیں اسکی دھڑکنیں یہ راز عیاں نہ کردیں
مگر شانزل چپ نہیں ہوا۔
تم کو ہزار شرم سہی ہم کو ہزار ضبط
الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا
اب تو حد ہی ہو گئی حورعین اب شعر و شاعری کی ذو معنی گفتگو برداشت نہیں کر پا رہی تھی اسے لگا شانزل وہ راز بھی سب کے سامنے عیاں کر دے گا جو اس نے خود سے بھی چھپا رکھا ہے وہ ساحر تھا جو کم از کم حورعین کے دل پر اپنا سحر پھونک چکا ہے۔ اس لیے فرار چاہی اور حیا سے کہا
“تم لوگ بیٹھ میں پانی پی کر آتی ہوں”
“میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ کوئی جائے گا نہیں ایک کام کرو تم لوگ بیٹھو میں چلا”
وہ کہہ کر جانے لگا۔ حورعین کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایسا کرے گا۔
حیا نے حورعین کو چپت لگائی
“کم بخت، روکو انھیں “
حورعین ہوش میں آئی مگر مخاطب کیسے کرے یہ آفس تو تھا نہیں کہ سر کہتی اور نام تو وہ کبھی لے ہی نہیں سکتی تھی۔
“سنیں”
شانزل رکا نہیں۔
حورعین نے ہمت کرکے پکارا
“سنیں،،،، ش۔۔شان رک جائیں، پلیز”
حورعین کی پکار پر شانزل کے قدموں کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی رکی۔
وہ پلٹا، اس کے طرزِ تخاطب پر مسکرایا۔
“چلیں بھائی ، اسی بات پر ایک شعر ہو جائے”
حیا کا اشارہ اس کے شان کہنے کی طرف تھا۔
شانزل نے حورعین کی آنکھوں میں دیکھا، حورعین نے لاکھ کوشش کی کہ کسی طرح نظریں جھکا لے مگر نجانے شانزل کی آنکھوں میں کیسا سحر تھا کہ وہ ایسا نہ کر سکی حورعین کو لگا شانزل نے آنکھوں کو، روح کو باندھ لیا ہے
ان کے لب پر آیا ذکر بے حجابانہ میرا
منزلِ تکمیل تک پہنچا افسانہ میرا
شانزل نے دلکشی سے شعر پڑھا۔
حورعین تو تھوڑی دیر میں بیہوش ہو جاتی وہ رادیہ بھابھی کو اس پر رحم آگیا
“چلو حور، میری ذرا کچن میں ہیلپ کر دو پھر تم بھی مہندی لگوا لینا”
حورعین نے تو موقعِ غنیمت جانا اور فوراً اٹھ گئی
“بھابھی یہ تو فاؤل ہے”
شانزل نے احتجاج کیا۔
“بس بھی کرو، باقی کا اظہار اپنے روم میں کر لینا”
رادیہ بھابھی کی بات سن کر حورعین تو ان سے بھی پہلے نیچے چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین کی ہمت ہی نہیں ہوئی شانزل کا سامنا کرنے کی اسی لیے وہ آج حیا کے روم ہی سو گئی۔
دوسرے دن نکاح تھا تو ہر طرف شور و غل تھا ہر کوئی بھاگم بھاگ تیاری کر رہا تھا۔
لیکن سب سے پہلے تیار ہونے والی دلہن تھی۔ جی ہاں
اور سب کو ڈانٹ ڈانٹ کر تیار کروا رہی تھی۔
ابھی وہ ہانیہ پر برس رہی تھی تب ہی اشعر اندر آیا
“اے موٹی تم یہ دوپٹہ مت پہنو، کوئی لال رنگ کا دوپٹہ پہنو”
“میں موٹی نہیں ہوں سمجھے، تم چھچھندر سے اچھی ہوں، اور میں کیوں پہنوں لال دوپٹہ؟”
“دیکھو تم نے سبز رنگ کی چوڑی دار پہنی ہے اس پر پیلے رنگ کا فراک اور اگر سبز کی بجائے لال رنگ کا دوپٹہ پہنو گی تو ایک دم سگنل لگو گی”
کچھ لمحے تو ہانیہ اسکی شکل ہی دیکھتی رہی جب بات سمجھ آئی تو اپنے پنجے تیز کر کے اس کے پیچھے دوڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین کمرے میں داخل ہوئی اور ادھر ادھر دیکھے بغیر ڈریسنگ ٹیبل سے انگوٹھی پہنی۔ جونہی حورعین کی نظر آئینے پڑی تو ساکت ہو گئی شانزل ٹکٹکی باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
آج حیا نے اسے اپنی نگرانی میں تیار کروایا تھا۔
آج حورعین شانزل کے لائے ہوئے کپڑوں میں ملبوس تھی۔
وہ بنارسی سِلک کا گہرے سبز رنگ کا شرارہ لے کر آیا تھا وہ تقریباٌ 12 میٹر کے گھیر کا تھا۔ گہرے سبز رنگ کی کوٹی اور گہرے سبز رنگ کا ہی سِلک کا دوپٹہ جس کے بارڈر پر گولڈن زردوزی اور آئینے کا حسین امتزاج تھا ویسا ہی کام آستین پر بھی تھا۔
آج تک وہ اسے سادے حلیے میں ہی دیکھتا آیا تھا مگر آج وہ من لگا کر تیار ہوئی تھی۔
سبز اور گولڈن بڑے بڑے آویزے پہن کر انھیں زینت بخشی گئی تھی۔
سب سے قاتل تو سبز آنکھیں تھی وہ مسکارا اور لایئنر کی وجہ سے واضح ہو رہی تھی۔
شانزل کا دل ڈوب کر ابھرا
“جان لینے کا ارادہ ہے کیا مسز؟”
“اللہ نہ کرے، کیسی باتیں کر رہے ہیں شان”
“اف۔۔۔۔۔جانِ شان، پھر اس طرح کیل کانٹوں سے لیس ہو کر آؤ گی پھر میری تو خیر نہیں”
حورعین نے نظریں جھکا لی۔
“بس ایک چیز کی کمی ہے”
حورعین نے سوالیہ نظروں سے شانزل کو دیکھا۔
شانزل نے بڑھ کر لیپ ٹاپ بیگ سے کچھ نکالا اور حورعین کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
اسکے ہاتھوں میں جڑاؤ کنگن تھے وہی جو حورعین کو خالہ نے پہنائے تھے۔
“May I ?”
وہ اجازت طلب کر رہا تھا۔
حورعین نے نظریں جھکا کر سر اثبات میں ہلایا شانزل اسکا مہندی سے سجا نرم، نازک اور خوبصورت ہاتھ تھام کر کنگن پہنانے لگا۔ اسکا لمس حورعین کی دل کی دنیا میں ایک طوفان مچا رہا تھا۔
“ویسے آپکو ایسے دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے مجھے آپ سے ہمارے بارے میں پہلے ہی بات کر لینی چاہیے تھی خواہ مخواہ ہمارا معاملہ لٹکا ہوا ہے”
اسکی بات پر حورعین کا ہاتھ لرزا جسے شانزل نے بخوبی محسوس کیا ۔