Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 41
No Download Link
Rate this Novel
Episode 41
اشعر کو حیا پر بہت ترس آیا آنسو حیا کی آنکھ سے موتیوں کی مانند ٹوٹ کر گر رہے تھے
اس سے پہلے کوئی کچھ کرتا ہے شاہ زر کمرے سے نکلتا ہوا نظر آیا چہرے پر پتھریلے تاثرات تھے اور ہاتھ میں گن
وہ بڑھتا ہوا حیا کی طرف آیا اسے ایک جھٹکے سے کھڑا کیا پھر اپنی گن لوڈ کی
اور اس سے پہلے کوئی کچھ سمجھ پاتا وہ مڑا اور ایک فائر کیا
گن سے گولی ٹھاہ کی آواز کے ساتھ نکلی اور عاطف زمان کی ہتھیلی چیرتی ہوئی آرپار ہوگئی عاطف زمان چیخا
تبھی شاہ زر نے دوبارہ گن لوڈ کی اس کے خطرناک ارادے دے کر سب اس کی طرف بڑھے
“شاہ زر دماغ سے کام۔۔۔۔۔”
شانزل کا آدھا جملہ منہ میں ہی رہ گیا کیوں کہ شاہ زر نے دوسرا فائر کیا تھا
یہ گولی عاطف کے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی چیرتی ہوئی چلی گئی
” شاہ زر “
حیا ہوش میں آئی
“تم تو خاموش ہی رہو”
وہ غراہٹ حیا کو سہما گئی
اس سے پہلے حیا کچھ کر پاتی وہ جارحانہ انداز میں عاطف زمان کی طرف بڑھا
شاہ زر سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ اسے جان سے ہی مار ڈالتا
سب نے شاہ زر کو روکنا چاہا مگر
اس نے زمین پر گھٹنے کے بل تڑپتے عاطف کا چہرہ بالوں سے پکڑ کر اوپر کیا
” اسی ہاتھ سے تم نے میری بیوی کو رسوا کرنا چاہا تھا نا “
“چھوڑو اسے شاہ زر “
شانزل اسے پیچھے کرنے لگا
” شاہ زر بھائی ہوش میں آئیں۔۔۔۔”
اشعر بھی پوری کوشش کر رہا تھا مگر شاہ زر کسی کی نہیں سن رہا تھا
“شاہ ۔۔۔ آپ کیا کر رہے ہیں “
سب کے سب اسے مل کر پیچھے کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ جنونی بنا کسی کی بھی سننے کو تیار نہ تھا وہ تو اپنی صنم کی بھی سن نہیں رہا تھا
“نہیں آج میں یہ قصہ ہی ختم کر دوں گا جہاں زندگی میں سکون آتا ہے اسے دیکھا ہی نہیں جاتا بس بہت ہوگیا”
اس نے گن کی نالی عاطف کے منہ میں ڈال دی
سبھی کی جان اچھل کر حلق میں آ گئی
ہر کوئی اسے پیچھے کھینچنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہل رہا تھا
یقیناً آج وہ اسے زندہ نہ چھوڑتا
عاطف کی آنکھیں باہر کو ابلنے لگی
“اسی زبان سے تم میری بیوی کے بارے میں بد فعالی کرتے ہو نا آج تو میں یہ بھی ختم۔۔۔۔۔۔۔”
” شاہ زر آپ کو میری قسم چھوڑیں اسے ابھی اور اسی وقت”
حیا کی دہاڑ پر شاہ زر نے عاطف کو پٹخنے کے انداز میں چھوڑا
حیا اتنی زور سے چیخ پڑی تھی اس کی سانسیں پھول گئیں
“اسے ابھی کے ابھی باہر پھینکو ورنہ میں اس کی جان نکال دوں گا “
شاہ زر بمشکل خود پر قابو پا رہا تھا
ضبط سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا شانزل نے فوراً گارڈز کو بلوا کر عاطف زمان کو باہر پھینکوایا
اب تو یقیناً اس کے فرشتے بھی فردوسِ برّیں کا رخ نہیں کریں گے
شاہ زر نے گھور کر حیا کو دیکھا وہ دنیا کی واحد لڑکی تھی جس کے لئے وہ بے اختیار ہو جاتا تھا اور آج بھی ہو گیا تھا
گھبراہٹ دور ہوئی تو حیا کے اندر آتش فشاں بننے لگا شاہ زر نے ایک سرد نگاہ ڈالی
حیا آگے بڑھی اور اس کا گریبان جکڑ لیا
“جب مجھ پر بھروسہ تھا تو کیوں؟ ہاں کیوں؟ کیوں آپ چاہتے تھے میں صفائی پیش کروں؟ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ منتظر نگاہ میرے وجود کے ہزار ٹکڑے کر گئی”
شاہ زر کا گریبان جکڑ کر جھنجوڑ کر پوچھ رہی تھی چیخ رہی تھی رو رہی تھی
شای زرر نے ایک جھٹکے سے اپنا کالر حیا کی گرفت سے آزاد کروایا
“کس قدر احمق ہو تم؟ تمہیں لگا میں تمہاری صفائی کا منتظر ہوں؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا میں اپنا سر کس دیوار میں دے ماروں، میں نے تمہاری طرف اس لیے دیکھا تھا کیونکہ میں منتظر تھا کہ تم خود جاکر عاطف زمان کا حشر نشر کر دو، یہ حق تمہارا تھا، مگر تم تو مجھے ہی صفائی دینے لگیں، میں بتا نہیں سکتا اس وقت کتنا غصہ آیا تم پر ، صرف اور صرف تمہارے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ چکا ہوں جو کہ شاہ زر جہانزیب کسی کے سامنے نہیں کرتا صرف تم پر اپنے سارے جذبات عیاں کر چکا ہوں پھر بھی تمہیں لگا میں تم پر شک کر رہا ہوں ایک کام کرو یہ گن لو اور ایک ہی دفعہ مجھے مار دو “
دوسری طرف شاہ زر بھی کم تپا ہوا نہیں تھا، جملے کے آخر میں حیا کو گن تھما دی
حیا نے وہ گن ڈر کر پھینک دیں
” مجھے لگا۔۔۔۔”
ہمیشہ کی طرح وہ حیا کی بولتی بند کر گیا
“Just shut up haya zaman “
جب وہ غصہ میں ہوتا تو حیا شاہ زر نہیں اسے حیا زمان کہتا
پھر وہ اس کی سنے بغیر دروازہ کی طرف جانے لگا
آنکھوں ہی آنکھوں میں شانزل کو کوئی اشارہ کیا تھا اس سے پہلے حیا اسے روکتی اس نے دروازے پر بغیر مڑے کہا
“میں ناراض ہو کر نہیں جا رہا بس آدھے گھنٹے میں واپس آتا ہوں”
شانزل بھی اسکے پیچھے باہر نکلا
جب دونوں دروازے سے باہر نکلے تو فردوس کے گیٹ کے باہر گارڈ نے عاطف زمان کا نڈھال وجود پکڑا ہوا تھا
شاہ زر نے کوٹ اتار کر ہوا میں اچھالا
قدم آگے بڑھا تے ہوئے آستین کے بٹن کھول کر کف فولڈ کرنے لگا
وہ عاطف زمان کو جن نظروں سے دیکھ رہا تھا عاطف زمان کی سانس اوپر نیچے ہو رہی تھی
گردن موڑ کر شانزل کو دیکھا
” اس معاملے سے تم دور رہو گے “
“تمہاری غلط فہمی ہے”
شانزل ابراہیم نے بھی کوٹ اتار کر ہوا میں اچھالا
” یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے دور رہنا ہے”
شاہ زر نے گلے سے ٹائی نکال کر اچھالی شرٹ کے اوپر والے بٹن کھولے
” یہ معاملہ میری بہن کا بھی ہے “
شانزل نے بھی گلے سے ٹائی نکال کر اچھالی شرٹ کے اوپر والے بٹن کھولے
“ٹھیک ہے تمہیں موقع دوں گا مگر پہلے میری باری”
” چلو تم بھی کیا یاد رکھو گے دیا موقع”
شانزل کی فیاضی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی
شاہ زر نے کہنی تک کے آستین چڑھائی اور گارڈ کو اشارہ کیا شاہ زر کے قدموں کی دھمک ہی عاطف زمان کو دہلائے دے رہی تھی اپنے زخمی ہاتھوں کو سنبھالنا اس کے بس سے باہر ہو رہا تھا
شاہ زر آہستہ آہستہ اس کے قریب آ رہا تھا اور تیزی سے اسکے چہرے پر سختی میں اضافہ ہو رہا تھا
عاطف زمان کی جان نکلی جا رہی تھی
شاہ زر کے اشارے پر گارڈ اسے چھوڑ کر دور کھڑے ہو گئے
شاہ زر قریب آیا اور ایک زور دار مکّآ عاطف کے منہ پر مارا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی ناک ٹوٹ گئی اور بھل بھل خون نکلنے لگا
اور اس کے بعد کیا تھا اس نے عاطف پر مکّوں اور گھونسوں کی برسات کردی
وہ جنونی انداز میں اسے مار رہا تھا جانے اس کی کون سی ہڈی ٹوٹی اور کون سے زخم لگے تھے
جب وہ نڈھال ہوکر گر جاتا تو وہ پھر اٹھا کر اس پر پل پڑتا
شور کی آواز پر فردوسِ بریں کے سبھی مکین باہر نکل آئے اور وہاں کی صورت حال دیکھ کر بھونچکے رہ گئے
شاہ زر نے عاطف زمان کا سر جب گاڑی کے بونٹ پر مارا تو وہ اپنے حواس کھو نے لگا
“خبردار خبردار جو تم نے اپنے ہوش کھوئے آنکھیں کھولو ابھی اور مار کھانی ہے”
عاطف زمان اپنے زخمی ہاتھوں کو اس کے آگے جوڑ رہا تھا
حیا دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی
اور بازو تھام کر پیچھے گھسیٹا
شاہ زر نے چھوڑ دیا پھر جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا
شاہ زر پیچھے ہوا اور اپنی پیشانی سے پسینہ پوچھا حیا کا بازو تھاما اور پھر ایک بار عاطف زمان پر جھک گیا حیا بھی نیچے بیٹھتی چلی گئی
“اٹھو خبیث انسان اٹھو آنکھیں کھولو ادھر دیکھو یہ میری بیوی ہے اور اگر کسی نے اس کے بارے میں برا سوچا بھی تو میں تباہی لا دوں گا “
آہ۔۔۔۔۔کون کہتا تھا وہ علی الاعلان اپنی محبت کا اظہار نہیں کر سکتا تھا
یہ اظہار نہیں تو کیا تھا
ایک بار پھر حیا نے اسے ایک بازو تھام کر اٹھانے کی کوشش کی
” stay away haya
حیا ایک لمحے کو اسکے غصے سے سہم گئی وہ ہمیشہ آہستہ آواز میں بات کرتا بہت کم حیا نے اسکا یہ روپ دیکھا تھا
” پین پیپر لے کر آؤ”
شاہ زر نے گارڈ کو حکم دیا
حور اس پر خاموش کھڑی تھی کہیں نہ کہیں دل میں وہ عاطف زمان کی ایسی ہی تواضع چاہتی تھی اشعر اور ہانیہ کا خیال بھی مختلف نہیں تھا
حیا ایک لمحے کے لیے ان کے اس طرح آنکھیں پھیر لینے پر حیران ضرور ہوئی تھی
گارڈ نے اسے پین اور پیپر تھمایا تو اس نے پیپر گاڑی کے بونٹ پر رکھا اور کچھ تحریریں گھسیٹنے لگا
پھر ایک گھٹنے کے بل نیچے عاطف کے پاس بیٹھا اور ایک پاؤ زمین سے کچھ اوپر تھا
اس نے عاطف زمان کے ادھ موئے وجود کو کالر سے پکڑ کر اٹھا کر بٹھایا
” آنکھیں کھولو خبیث انسان، یہ پیپر اپنے باپ کے منہ پر دے مارنا اس میں لکھا ہے کہ شاہ زر جہانزیب علی الاعلان یہ بات کہتا ہے کہ عاطف زمان کی اس حالت کا ذمہ دار شاہ زر جہانزیب ہے جو ہو سکتا کر لے، اور اگر دوبارہ تم نے میری بیوی کی طرف دیکھا بھی تو پھر سے یہی حال کروں گا بلکہ اس سے بھی بدتر حالت میں تمہیں تمہارے گھر کے باہر پھینک کر آؤں گا بلکہ جو بھی میری بیوی کی طرف غلط نگاہ سے دیکھے گا اس کی حالت میں موت سے بھی بدتر کر دوں گا تم نے یا زمان ہاؤس کے کسی بھی فرد نے دوبارہ یہاں کا رخ کیا تو ایسی موت ماروں گا کہ تمہاری سات پشتیں یاد رکھیں گی، اور اپنی ماں سے ضرور کہنا کے ماں کا کیا اولاد کے آگے ضرور آتا ہے تمہاری حالت میں وہ اپنے اعمال کا عکس دیکھ لے”
پھر شاہ زر نے وہ کاغذ عاطف کی خون سے رنگی شرٹ کی جیب میں ڈالا
گارڈ کو حکم دیا کہ اسے زمان ہاؤس کے باہر پھینک آؤ
گارڈ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالنے لگے تو شانزل نے روک دیا
اس کے قریب آیا اور ایک مکا بڑے جان دار انداز میں اس کے پیٹ کے کچھ اوپر مارا یقینا اس کی کوئی نہ کوئی پسلی کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہوگی اور شدید تکلیف ہوئی ہوگی جس کا اندازہ اس کے چیخنے سے ہوگیا
حیا نے شانزل کو بہت بری طریقے سے گھورا تھا یہاں کوئی نہیں تھا جو اس کی بات سن رہا تھا
“میں نے تمہارے شوہر سے پہلے کہا تھا مجھے مارنے دے مگر اس نے کہا تمہیں بعد میں موقع ملے گا اب مجھے موقع نہیں ملا تو میں کیا کرتا”
(ہمارا معصوم شانزل ابراہیم 🤭)
شانزل نے آرام سے کندھے اچکاتے ہوئے بات کہی
جیسے بڑی عام سی بات ہو
گارڈ اسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تو شاہ زر بھی غصے سے باہر جانے لگا
“کہاں جا رہے ہیں آپ؟”
حیا اس کے راستے میں آئی اور کمر پر ہاتھ رکھے بھنویں سکیڑے پورے رعب سے پوچھنے لگی
” جہنم میں”
شاہ زر ویسے ہی تپا بیٹھا تھا اور جواب بھی تپے ہوئے انداز میں دیا تھا
حیا نے اسے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر روکا
آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور کہا
“جو لوگ بیوی کو ڈانٹتے ہیں انہیں تو جہنم میں بھی انٹری نہیں دی جاتی”
لہجہ شرارتی تھا لبوں میں دبی دبی مسکان لے کر وہ بڑے ہی دلفریب انداز میں بولی
اور۔۔۔۔۔۔
شاہ زر کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا وہ خود بھی مسکرا دیا
(The million dollar smile 😍)
ہاش شاہ زر بھائی آپ بالکل حیا کی طرح ریئکٹ کر رہے تھے”
اشعر نے سکون کی سانس لی
“چلو بھائی اچھا خاصہ ڈرامہ ہو گیا محترمہ آپ لوگ اندر جائیں اور تیاریاں شروع کریں”
شانزل کی بات پر حیا نے حیران نظروں سے دیکھا
“چلو بہنا تمہاری اینیورسری کی پارٹی ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
