Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
ادھر رخصتی کے بعد حیا نے شاہ زر سے کہا کہ وہ پہلے گھر جائے گی تاکہ مہمانوں کو تکلیف نہ ہو
“ٹھیک ہے آپ جائیں میں یہاں سب کلیئر کر کے آؤنگا”
حیا ساڑھی میں ہی سب مہمانوں کی مدارات کر رہی تھی شاہ زر گھر آیا تو حیا سب کے کمروں میں چائے پہنچا رہی تھی
“آپ چائے پیئں گے”
” نہیں “
شاہ نے مسکرا کر جواب دیا
اف۔۔۔۔ ان کی یہ مسکراہٹ کسی دن میری جان نکال لے گی
تقریبا آدھے گھنٹے بعد حیا کمرے میں داخل ہوئی شاہ زر اسی حلیے میں فون پر گفتگو کر رہا تھا
شاہ زر حیا کو دیکھ کر چونک گیا کیوں کے اس کا چہرہ فق ہوا تھا
“وہ۔۔۔جلدی چلیے پتا نہیں بی اماں کو کیا ہوا ہے “
“کیا ہوا ہے “
“آپ جلدی سے چلیے شاید ہوسپٹل لے کر جانا ہوگا “
وہ فوراً کمرے سے نکلا
“آپ گاڑی کی چابی لے کر آئیے”
حیا نے فورا چابی اٹھائی چادر اوڑھی اور باہر کی طرف دوڑی اس نے دیکھا کہ شاہ زر بی اماں کو لیے ہوئے نیچے اتر رہا تھا سبھی تھکے ہوئے تھے اسی لئے سو گئے تھے
حیا بھی شاہ زر کے پیچھے لپکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر کو دیکھ کر ہاسپٹل کی ٹیم فورا الرٹ ہوئی بی اماں کو آئی سی یو میں رکھا گیا شاہ زر گھن چکر بنا کبھی ڈاکٹر کبھی آئی سی یو کبھی فارمیسی کے چکر لگا رہا تھا
حیا بھی حیران پریشان ورد کرنے میں مشغول تھی اور اس کا بھی یہی حال تھا
رات کے آخری پہر شاہ زر حیا کے پاس آیا
“وہ مجھے تہجد پڑھنی ہے آپ یہاں اکیلے نہیں بیٹھیں میرے ساتھ چلے پریئرروم میں”
دونوں وہاں پہنچے تو جانماز ندارد شاہ زر نے اپنا کوٹ اتار کر حیا کو پکڑیا اور وضو کرنے چلا گیا
حیا سوچ میں پڑ گئی نماز کیسے پڑھیں گے تب شاہ زر باہر آیا
“آپ اپنی چادر دے دیں میں اسی پر نماز پڑھوں گا ” یہ الفاظ نہیں تھے یہ شاہ زر کا دیا ہوا مان تھا جس نے حیا کو فرش سے عرش پر پہنچا دیا تھا اور اسے معتبر کر دیا تھا
حیا نے اپنی چادر اتار کر دی شاہ زر نماز پڑھنے میں مشغول ہوگیا حیا کو عجیب سا لگ رہا تھا بغیر چادر کے بیٹھنے وہ اسی ساڑھی میں ملبوس تھی وہ حالانکہ ہسپتال میں کوئی نہیں تھا مگر کوئی آ گیا تو بار بار اپنی ساڑھی صحیح کر رہی تھی کچھ بے چینی سی تھی
شاہ زر نے سلام پھیر کر اسے دیکھا وہ الجھی ہوئی تھی شاہ زر کھڑا ہوا اور چلتا ہوا اس کے پاس آیا پاس رکھا ہوا اپنا بلیو کوٹ حیا پر ڈالا پھر واپس جاکر نیت باندھ لی۔
حیا کی تمام بے چینی اڑن چھو ہو گئی وہ بھر پور سرشار انداز میں مسکرائی
کوٹ سے شاہ زر کی خوشبو آ رہی تھی جس نے حیا کو گھیر لیا تھا عجیب سا تحفظ کا حصار تھا
چار بجے کہیں جاکر بی امّاں کی حالت ٹھیک ہوئی تو حیا نے شاہ زر سے کہا
“میں گھر چلی جاتی ہوں مہمان اٹھنے والے ہوں گے فجر تک پہنچ جاؤں گی”
حیا جانے کے لیے پلٹی پھر مڑ کر شاہ زر کے پاس آئی جیسے کچھ یاد آیا ہو
“حور آٹھ بجے تک آپ سے ملنے آئے گی تو آپ گھر آجائیے گا ہم آذر کو کچھ دیر کے لئے یہاں بھیج دیں گے اور ہم حور کو بی اماں کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتائیں گے نہیں تو وہ ہنی مون پر نہیں جائے گی”
” ہاں یہ بھی ٹھیک ہے ،آپ ایک بار مجھے ریمائنڈ کرا دینا ساڑھے سات بجے”
” اوکے “
“فی امان اللہ”
” اللہ حافظ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا گھر پہنچی تو فجر کی آذان نہیں ہوئی تھی اس نے فوراً ٹفن( ناشتے کا ) تیار کیا اور ایک جانماز ڈرائیور کے ہاتھوں بھجوائیں
اپنے کمرے میں آئی تبھی فضا میں فجر کی آذان کی آواز گونجنے لگی
حیا نے جلدی جلدی جویلری اتارنی شروع کی جب آئینے میں خود کو دیکھا تو چونک گئی وہ شاہ زر کا کوٹ پہنے پہنے ہی گھر آ گئی تھی
حیا نے فورا شاور لیا نماز پڑھی اور نیچے ناشتے کی تیاری کرنے لگی ہانیہ اشعر وغیرہ تو فجر سے اٹھنے کے عادی تھے اس لیے رادیہ بھابھی ہانیہ بھی اس کی ہیلپ کرانے لگیں
گھر میں اتنے سارے نوکر تھے مگر مجال ہے جو حیا کو کسی کے ہاتھ کا کام ٹھیک لگے
سبھی مہمان بھی اٹھ گئے اور ناشتہ کرنے آرہے تھے تبھی حیا نے مناسب لفظوں میں آذر کو بی اماں کے بارے میں بتایا
” آپ لوگوں کو مجھے رات ہی بتا دینا چاہیے تھا اکیلے ہی خوار ہوئے اتنا”
” عمیمہ کی طبیعت بھی کہاں ٹھیک رہتی ہے، اسے تمہاری زیادہ ضرورت ہے اور ویسے بھی اب تم چلے جاؤ تو وہ آئیں گے، جلدی سے اسپتال پہنچو، میرے شوہر کو بھیجو کتنے گھنٹے ہوگئے میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں”
حیا نے ہنس کر بات ختم کردی نہیں تو آذر کو اعتراض تھا کہ اسے نہیں بتایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین بہت پرسکون نیند سو رہی تھی اتنی پرسکون نیند جیسی وہ کبھی نہیں سوئی تھی تبھی اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے کان میں میٹھی سی سرگوشی کر رہا ہے مگر حورین کا دل ہی نہیں چاہا کہ آنکھیں کھولے اس نے تکیہ اپنے منہ پر رکھ لیا
حورعین کو محسوس ہوا کسی نے بہت ہی نرمی سے وہ تکیہ ہٹایا پھر اسے اپنے ہونٹوں پر نم لمس کا احساس ہوا اس مرتبہ اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا پھر جب ذہن بیدار ہوا تو اس نے شانزل کو خود پر جھکا ہوا پایا ساری نیند بھک سے اڑی
اسے آنکھیں کھولتے دیکھ شانزل نے اس کے لبوں کو آزاد کیا کان میں سرگوشی کی
” نئی زندگی کی پہلی صبح مبارک ہو جانِ شان، مسز شانزل ابراہیم “
پہلی مرتبہ اپنے ہونٹوں پر اس کا لمس محسوس کرکے وہ شرم سے دوہری ہو رہی تھی
“میں شاور لے کر نکلتا ہوں تم بھی جلدی سے فریش ہو جاؤ ساتھ نماز پڑھیں گے”
حور اپنا بھاری بھرکم جوڑا سنبھالتی ہوئی اٹھی اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنے بھاری جوڑے میں بھی اتنی سکون کی نیند سو رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر جب گھر میں آیا تو حیا کھلتے پیلے رنگ اور جامنی رنگ کے انگرکھا میں جلے پیر کی بلی بنی ہال میں چکر کاٹ رہی تھی
شاہ زر کو دیکھ کر اس نے ایک سکون کی سانس خارج کی
“ہاش۔۔۔۔آپ آگئے حور کا فون آیا تھا وہ لوگ نکل گئے ہیں آپ جلدی سے چینج کرکے نیچے آئیں”
حیا نے ہمیشہ کی طرح بنا فل سٹاپ اور کومہ کے کہا اور یہ جا وہ جا شاہ زر صرف اسے دیکھ کر رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شازہ نیچے آیا تو ہال حورین کے کھلکھلاتی ہنسی سے گونج رہا تھا
” اسلام علیکم شاہ “
حورعین شاہ زر کے گلے لگ گئی
“میری صنم کیسی ہے “
“آپ کو کیسے لگ رہی ہوں”
” جواب دینا آگیا ہے تمہیں “۔
حورین کھلکھلا کر ہنس دی
حدید اس کے پیچھے پاگل ہوا جارہا تھا ہر کوئی حورین سے مل رہا تھا وہ بات بے بات مسکرا رہی تھی سبھی حورعین کو گھیرے بیٹھے تھے یہ بات حیا کو کہاں برداشت ہونی تھی وہ بنا کسی کی پرواہ کیے اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے گئی
” کیسی ہو تم؟”
” جیسی دکھ رہی ہوں”
“حور تم نے بھائی کو سچے دل سے معاف کر دیا نا”
” کس غلطی کے لیے معاف کروں وہ کوئی غلطی کریں گے تو معاف کرو گی نا”
حیا حورعین کے گلے لگ گئی
۔
” اوہ حور تم کتنی اچھی ہو”
وہ تو میں ہوں ہی “
“اب بتاؤ بھائی نے منہ دکھائی میں کیا دیا ہے”
حیا کا ازلی چمکتی ہوا لہجہ
” یہ دیکھو “
“ماشاءاللہ بالکل تمہاری طرح خوبصورت ہے، اور بتاؤ کیسی گزری رات “
حیا تو حیا ہے
” بدتمیز بے شرم”
کہہ کر حورعین نے ایک دھموکا حیا کی پیٹھ پر جڑا حیا کل دن بھر مصروف رہی پھر ولیمے کی تھکاوٹ پھر اسپتال پھر گھر کی مصروفیات، کل سے سکون سے لیٹنے تو کیا بیٹھنے کا بھی وقت نہیں ملا تھا جس کی وجہ سے کمر درد کر رہی تھی حالانکہ حورعین نے ہلکے سے مستی میں ہاتھ جڑا تھا مگر حیا کی درد بھری کراہ نکل گئی
“یا اللہ “
حیا کو ایسے دیکھ کر حورعین گھبرا گئی
” سوری حیا میں نے جان بوجھ کر زور سے نہیں کیا”
حیا نے فورا اپنے تاثرات نارمل کیے
“ایک شرط پر مانوں گی”
” میں کوئی بکواس سننے کے موڈ میں نہیں ہوں اپنی شرط اپنے پاس رکھو”
” دفع ہو جاؤ تم ذرا جو مجھے کبھی منایا ہو”
“بتاؤ تم نے شاہ سے شعر کہلوائے کہ نہیں”
تب حیا نے چہرہ ہاتھوں میں چھپاتے ہوئے شرمانے کی انتہائی گھٹیا ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
۔
“مجھے شرم آرہی ہے”
اس کی ایکٹنگ دیکھ کر حورعین ہنسنے لگی اور ایک ہی لفظ کہا
” نوٹنکی “
“بتاؤ نا حور سب ٹھیک تھا نا؟ میرے پوچھنے کا مطلب ہے بھائی کی آنکھوں میں تو نظر آرہا ہے مگر پھر بھی میں تم سے تسلی کرنا چاہتی ہوں کہ تم خوش ہو نا ؟”
“خوش ہونا تو بہت چھوٹا لفظ ہے میں بیان نہیں کر سکتی کہ شان مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں، اپنے احساسات بیان کرنے کے لیے میرے پاس لفظ نہیں ہے وہ مجھے کس حد تک چاہتے ہیں انہوں نے مجھے بتایا انہوں نے۔۔۔۔ انہوں نے کل اعتراف کیا کہ میں ان کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہوں، خدا نے میری تمام تر آزمائشوں کا صلہ شانزل ابراہیم کی صورت میں دیا ہے یقین کرو مجھے ایسا لگ رہا ہے میرے لئے شانزل انعام کی صورت میں اتارے گئے ہیں، اور خدا نے ان کے دل میں میرے لئے محبت ڈال کر نعمت سے نوازا ہے”
“حیا یار جلدی سے مجھے سنبھالو کہیں بے ہوش نہ ہو جاؤں”
شانزل کے آواز پر دونوں چونک کر پلٹیں
“میں تو حور کو بلانے آیا تھا کہ ہیلی کاپٹر ٹیرس پر آنے والا ہے۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔حیا ذرا مجھے چٹکی تو کاٹو کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا “
“چلو حور تم معاملہ نمٹاؤ میں تو چلی نیچے “
حیا باہر گئی تو حورعین بھی اس کے پیچھے جانے لگی تبھی شانزل نے حورین کو کلائی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا دروازہ بند کر کے اس کے گرد حصار باندھا
” کتنی ظالم ہو تم، کل رات میں ہی بولتا رہا ،ذرا جو تمہارے منہ سے کچھ نکلا ہو، چلو جلدی سے کہو مجھ سے محبت کرتی ہو “
حورعین نے نظریں جھکالی
” آپ کو پتہ تو ہے”
” نہیں مجھے نہیں پتا “
کہتے ہوئے شانزل نے انگلی سے حورعین کے چہرے پر جھولتی لٹ کو کانوں کے پیچھے کیا
“بولو نہ حور”
مخمور لہجے میں بے انتہا اسرار و محبت پنہاں تھی حورعین نے نظر اٹھا کر شانزل کے مسکراتے چہرے کو دیکھا پھر اپنی تمام تر ہمت جمع کیں اپنے دونوں ہاتھ شانزل کے کندھے پر رکھے اور پنجوں کے بل اچک کر شانزل کی پیشانی چوم لی اس کی آنکھوں میں دیکھا
“آپ میرے لئے نعمت ہے “۔
اتنے پیارے اظہار پر جہاں شانزل کا دل جھوم اٹھا تو وہیں حورعین نے شانزل کے سینے میں چہرہ چھپا لیا اس سے چھپنے کے لئے اسی میں پناہ ڈھونڈ رہی تھی شانزل کو حورین کی اس ادا پر ٹوٹ کر پیار آیا شانزل نے حورین کے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا حورعین کے رخسار گردن یہاں تک کے کان کی لو تک سرخ پڑھ رہی تھی
سبز آنکھیں جھکی ہوئی تھیں جن پر خم دار پلکیں لرز رہی تھیں اسکے ایک ایک نقوش کو شانزل دل میں آتا رہا تھا
“اتنے دلکش اظہار پر انعام تو بنتا ہے”
وہ اسکے اتنا قریب تھا کہ حورعین کو اسکی پر حدت سانسوں کی تپش چہرے پر محسوس ہو رہی تھی
شانزل کی نظر حورین کی آنکھوں سے ہوتی ہوئی اس کی نوز پن پر ٹھہر گئی ایک مرتبہ مانو پھر شانزل کا دل اس کی نوز پن میں اٹک گیا۔
بے اختیار شانزل نے اس کے نوز پن کو چوم لیا ایک مدت بعد اسکی خواہش پوری ہوئی تھی اور پھر اپنے لب حورین کے لبوں پر رکھ دیئے محبت پا لینے کی خوشی کیا ہوتی ہے شانزل ابراہیم اسکی جیتی جاگتی مثال تھا۔
نا چاہتے ہوئے بھی کچھ لمحوں بعد اس کے لب آزاد کیے اور پیشانی سے پیشانی ٹکا کر سانس ہموار کرنے لگا اب بھی شانزل کا ایک ہاتھ حورعین کی کمر کے گرد تھا اور ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام رکھا تھا دونوں ہی کی آنکھیں بند تھی دونوں ہی ایک دوسرے کو محسوس کرتے ہوئے محبت کی جہاں کی سیر کر رہے تھے
ہیلی کاپٹر کے لینڈ کرنے کی آواز سے دونوں ہوش میں آئے حورین فورا باہر جانے کے لیے پلٹی تو ایک بار پھر شانزل نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کے کان میں مخمور لہجے میں سرگوشی کی
” خود کو تیار کرلو حور، کل میں نے اپنی محبت کا لفظی مظاہرہ کیا تھا لیکن آج۔۔۔۔”
وہ سانس لینے کے لئے رکا اور حور کو لگا اس کی دھڑکن بھی رکی ہو شانزل نے اپنی بات جاری رکھی “آج میں اظہار محبت عملی صورت میں کرونگا “
حورین اس کے جذبوں کی تاب نہ لاسکی اور فورا باہر نکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاروں ٹیرس پر کھڑے تھے نکلنے سے پہلے شانزل نے ایک پیپر شاہ زر کی طرف بڑھایا
” یہ شانزل انڈسٹریز کی پاور آف اٹارنی ہے جس سے میں نے اپنی غیر حاضری میں تمہارے نام کیا ہے اس کے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی بھی میجر decision لیتے وقت مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا “
حورین ان دونوں کے درمیان بھروسہ دیکھ کر ایک لمحے کو حیران رہ گئی مگر پھر بہت خوش ہوئی
دوستی کا رشتہ وہ انمول رشتہ ہوتا ہے جس کے بھروسے ہم کئی بڑے فیصلے لیتے ہیں ان فیصلوں کو صحیح ثابت کرنے میں ایک دوست کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ دوستی کا رشتہ سماج نہیں بناتا، یہ رشتہ خون کا نہیں ہوتا نہ ہی اس رشتے کو بنانے سے پہلے خدا کو حاضر ناظر جان کر گواہوں کی موجودگی میں دونوں جہاں کی ہمرائی قبول کرتے ہیں پھر بھی دوستی کا رشتہ ان رشتوں سے کئی زیادہ مضبوط ہوتا ہے، دوستی کے رشتے کو نا ہی کسی دوستی نامے کی ضرورت ہوتی ہے نا ہی کسی DNA میچ ہونے کی، نہ اس میں بے وفائی کا خوف ہوتا ہے نا ہی اپنانے سے انکار کر دینے کا خدشہ،،،،،، ان سب کے بغیر ہی یہ رشتہ اپنے آپ میں مکمل ہے،،،، مخلص دوست کسی نعمت سے کم نہیں، اگر آپ کی زندگی میں مخلص دوست ہے تو یقین جانیں آپ اس دنیا کے خوش قسمت ترین انسانوں میں سے ایک ہیں۔
بھلے ہی شاہ زر اور شانزل، حیا کی طرح علی الاعلان اپنی دوستی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے تھے مگر ایک گہرا مضبوط تعلق قائم ہو چکا تھا جسے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی جی ہاں، دوستی کا رشتہ۔
ہیلی کاپٹر شاہ زر کی تھی کہ بات حیا کے لیے حیران کن تھی جاتے وقت شاہ زر اور حیا نے حورعین کو ڈھیروں دعائیں دی پھر حورعین نے بھی حیا کو ڈھیروں نصیحتیں کیں
حورین خیروعافیت سے روانہ ہوگئی ۔
“میں جا تو رہی ہوں مگر جب واپس آؤں تب بھی شاہ مجھے اتنے ہی خوش دکھائی دینے چاہیے، مہربانی کرکے اپنی بچکانہ حرکتیں چھوڑ دو اور سنجیدہ ہو جاؤ میرے شاہ کو خوش رکھنا”
یہ الفاظ جاتے ہوئے حورعین نے کہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں کے جانے کے بعد شاہ زر سو گیا پھر ظہر میں اٹھا اور کہا
“میں مسجد سے سیدھا اسپتال جاؤں گا” یقیناً عجلت میں تھا اسی لئے رکا نہیں
حیا نے جلدی جلدی ٹفن بنا کر کے ڈرائیور کے ہاتھوں اسپتال بھیجا آہستہ آہستہ سارے مہمان اپنے گھر روانہ ہونے لگے
حیا ،سب کو باہر تک چھوڑنے جا رہی تھی شاہ زر کی ایک دور پرے کی پھوپھی تھیں وہ جاتے وقت حیا سے کہہ رہی تھیں
” شاہ زر تو سونا ہے بچپن سے اور اتنا خوبصورت بھی، میں نے سوچا تھا کوئی اچھی لڑکی پسند کرتا تو اچھا ہوتا مگر لکھے کو کون ٹال سکتا ہے لیکن تم اب بھی دل میں جگہ بنا سکتی ہو کوشش کرو تو سب ممکن ہے، میرے بچے جیسا ہے میں اس کا برا نہیں چاہتی مگر جو ہو گیا سو ہو گیا اب کیا کر سکتے ہیں”
ان کی بات سنی دل تو کیا کھری کھری سنا دے مگر وہ روانہ ہوگئیں
صرف اشعر اور ہانیہ رکے تھے
شام میں جب حیا اسپتال پہنچی تب تک بی اماں کی حالت کافی بہتر تھی
وہکچھ شرمندہ سی تھی کہ ان کی وجہ سے سبھی پریشان ہوگئے شاہ زر انہیں تسلی دے رہا تھا کہ
ایسی کوئی بات نہیں ہے، جو انہوں نے شاہ زر اور حورین کے لئے کیا ہے اس کے آگے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے
بی اماں بہت جذباتی ہو رہی تھی انہوں نے کہا کہ میں بس اب اپنی اولاد کے پاس جانا چاہتی ہوں نمک کا حق ادا کرنے میں، مَیں نے اپنی اولاد کو نظر انداز کر دیا
شاہ زر نے انہیں یقین دلایا کہ کل تک ان کا بیٹا آجائے گا اور وہ اپنے گھر چلی جائیں جہاں ان کے کندھوں پر وفا داری کا بوجھ ہوگا نہ ضمیر پر نمک کا حق ادا کرنے کی ذمہ داری
حیا جب وہاں سے جانے کے لیے اٹھی تب شاہ زر نے کہا
،”آج رات کو بی اماں کا بیٹا اور اس کی فیملی آرہے ہیں کافی دیر رات آئیں گے شاید، آپ ذرا دیکھ لینا وہ لوگ کل صبح ہی اسپتال آئیں گے اور انشاءاللہ بی اماں کو ساتھ لے جائیں گے”
” ٹھیک ہے آپ بے فکر رہیں، آج رات گھر آئیں گے آپ؟”
” نہیں، آذر اور عمیمہ بھی آج ہی جارہے ہیں تو رات میں ہی رکوں گا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا جب گھر آئی تو اشعر اور ہانیہ وہیں موجود تھے پورا گھر پھیلا ہوا تھا اتنے سارے مہمانوں نے گھر کا کباڑا کیا ہوا تھا ایک تو اتنا بڑا گھر ہانیہ اور حیا نے نوکروں کے ساتھ مل کر سب کچھ ٹھیک کیا
رات کے کھانے کے بعد اشعر اور ہانیہ چلے گئے
حیا نے ہسپتال کھانا بھیجا جب سونے کے لئے کمرے میں آئی تو گھڑی 11:30 جا رہی تھی
جب سونے کیلئے لیٹی تو دھیان بھٹک کر اپنی زندگی پر چلا گیا حورین کتنی خوش تھی اس نے دیکھا تھا شانزل کیسے اسے چور نظروں سے دیکھ رہا تھا
ایک مکمل جوڑا
ہاں بالکل ایک مکمل جوڑا
شانزل کی آنکھوں کی وارفتگی حورین کا شرمانہ
” یا خدا میری حور کو ہمیشہ خوش رکھنا”
اس کی سوچوں کا رخ اشعر اور ہانیہ کی طرف چلے گیا
وہ بھلے ہی ہانیہ کو کچھ بھی کہتا مگر محبت اس کی آنکھوں سے جھلکتی تھی اور جب سے ہانیہ نے خوشخبری سنائی تھی وہ اس کا کتنا خیال رکھ رہا تھا اس کے ہر کام بھاگ بھاگ کر کرتا اس کے تمام نخرے اٹھاتا اس کا بس چلتا تو اسے زمین پر پاؤں رکھنے بھی نہ دیتا شادی کے وقت ہانیہ نے کتنا واویلا مچایا تھا مگر اب اگر اشعر بغیر بتائے اس کے سامنے سے ایک منٹ کے لئے بھی غائب ہوتا تو وہ بے چین ہوجاتی
اس کا کا رخ بھٹک کر پھر شاہ زر کی طرف گیا کس قدر خوبرو ہے وہ اگر دیکھا جائے تو ان دونوں کے درمیان کوئی بھی نئے شادی شدہ جوڑوں جیسی کوئی بات ہی نہیں تھی
حیا کو تیار ہوکر رہنے کا بہت شوق تھا اور وہ ویسے ہی رہ رہی تھی مگر شاہ زر صاحب نے ابھی تک اس کی تعریف میں ایک لفظ نہیں کہا تھا نہ حیا کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آتی نہ ہی وارفتگی ہوتی
وہ بہت ناپے تولے انداز میں بات کرتا یہ کہنا بہتر ہوگا صرف جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنا ہی بولتا اور حیا میڈم خیالوں کی دنیا میں رہنے والی لڑکی تھی اسے یک لخت اپنی تیاری بیکار لگنے لگی
“میں حیا ہوں میں کیسے ہار مان سکتی ہوں”
اس نے سوچ لیا تھا کل وہ بہت اچھے سے تیار ہوگی انہیں نے سوچوں میں اس کی آنکھ لگ گئی اس کی آنکھ انٹرکام کی آواز سے کھلی
رات کے تین بج رہے تھے اسے اطلاع ملی کہ بی امّاں کے بیٹے اور ان کی فیملی آئی ہے آنکھیں اتنی بھاری ہو رہی تھی کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی وہ بمشکل اپنی آنکھیں کھولتی نیچے آئی بی اماں کا بیٹا بہو اور پوتا آیا تھا وہ دو سال کا معصوم سا بچہ حیا کو بہت پیارا لگا
ان کی خاطر مدارات میں پتہ چلا اس بچہ کو اچانک ہی بخار ہوگیا جس کی وجہ سے وہ بیچارا گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہا تھا
اس دو سال کے معصوم سے بچے نے حیا کو تگنی کا ناچ نچادیا حیا نے چوکیدار کو بھیج کر دوائی منگوائی حیا بیچاری حیران پریشان آنکھیں نیند سے بھاری ہو رہی تھی۔ کل پوری رات جاگنا اور ابھی کچی نیند سے اٹھنا حیا جیسی گدھے گھوڑے بیچ کر سونے والوں کے لیے بہت مشکل تھا کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا صبح 6 بجے جا کر کہیں حمزہ کی حالت سہی ہوئی تو موصوف سوئے
اور وہ لوگ فوراً ہسپتال روانہ ہوئے
اب سونا بے کار تھا کیونکہ شاہ زر کسی بھی وقت آ سکتا تھا
اسی لیے وہ نیند میں جھومتی ہوئی شاور لینے گئی شاور لینے کے بعد آنکھیں کچھ کھلی تو جلدی جلدی نماز پڑھ کے ناشتے کا اہتمام کرنے لگی یہ پہلا ناشتہ ہوگا جو وہ دونوں ساتھ کریں گے دو گھنٹوں کی شدید محنت کے بعد ایک زبردست قسم کا ناشتہ تیار کیا اور پھر اسے اپنی حالت کا خیال آیا تو جلدی سے کمرے میں گئی
“آج کیا پہنے؟”
یہ حصہ ہمیشہ حیا کے لئے بہت مشکل ہوتا تھا تو سوچا
“میں کچھ بھی پہن لوں خوبصورت ہی لگوں گی” کچھ سوچ کر اس نے اپنا نکاح والا جوڑا نکالا اور زیب تن کیا پورے اہتمام سے ہمیشہ کی طرح بھر بھر کے چوڑیاں زیور نئی دلہن والا سنگھار حلانکہ شادی کو دو ہی دن ہوئے تھے اتنا تو بنتا تھا
اب وہ شاہ زر کا انتظار کرنے لگی کافی وقت گزر گیا 11 بجے، وہ ابھی تک نہیں آیا تھا گھڑی نے بارہ کا ہندسہ عبور کیا یہاں تک کہ ظہر ہو گئی مگر وہ نہیں آیا
حیا کو یاد نہیں اس نے اتنا انتظار کسی کا کیا ہوگا اب تو اس کی بھوک ہی مر گئی تھی وہ بے دلی سے کچن میں آئی اور سب اٹھا کر فریج میں تقریبا ٹھونسا
وہ باہر نکلی تو ملازمہ نے بتایا کہ
“سر تو آگئے ہیں “
حیا چونک گئی
” کب ؟”
“ابھی جب آپ کے اندر کچن میں تھیں”
” ناشتے وغیرہ کا کچھ کہا سر نے”
” کہا کہ وہ کھا کر آئے ہیں اور ابھی سوئیں گے تو انہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے”
حیا کے اندر شرارے پھوٹنے لگے اس کا دل کیا سب کچھ آگ لگا دے
ہال میں ہی جا نماز منگا کر نماز پڑھیں وہ نماز پڑھ کر اٹھی ہی تھی کہ شانزل کے خالہ خالو آگئے
حالانکہ اس کا ارادہ سونے کا تھا مگر انہیں دیکھ کر اپنا ارادہ ترک کر دیا
آج وہ لوگ واپس جا رہے تھے اسی لیے ملنے آئے تھے حیا کو انہیں دیکھ کر حقیقتاً خوشی ہوئی تھی اور وہ ان سے خوش اسلوبی سے بھی ملی
ان سے مل کر وہ سب کچھ بھول گئی ویسے بھی وہ حیا تھی زیادہ دیر تک ایک ہی بات سر پر سوار نہیں کر سکتی تھی
خالہ خالو کو بھی وہ چہچہاتی چنچل سی حیا بہت پسند آئی وہ لوگ ایسے باتیں کر رہے تھی کہ جیسے برسوں کی شناسائی ہو بہت خوشگوار ماحول میں لنچ کیا گیا حیا نے مناسب لفظوں میں شاہ زر کی غیر موجودگی کی وجہ بتائی اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ اسے اٹھانے والی نہیں کیونکہ وہ بہت تھکا ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر سو کر جب نیچے آیا تو پورا گھر خالی تھا باہر سے آواز آرہی تھی وہ لان میں آیا تو دیکھا
حیا نکاح کا جوڑا پہنے بولنگ کر رہی ہے اور شانزل کے خالو ہاتھ میں بیٹ پکڑے تیار کھڑے تھے
حیا نے بالنگ کی اور خالو نے زوردار شاٹ مارا بول اڑتی ہوئی جانے لگی تبھی شاہ زر نے کیچ کر لی اور حیا زور سے چینخی
” یسسسسسسس”
” یا ہو آپ آؤٹ ہو گئے”
اور ساتھ ہی زبان نکال کر چڑائی
” نہیں بھائی یہ تو فاؤل ہے شاہ زر گیم کا حصہ نہیں تھا “
۔خالو نے احتجاج کیا
“اب آپ آؤٹ ہوگئے ہیں بہانے نہیں بنائیں،
چلیں امپائر سے پوچھتے ہیں “
حیا نے خالہ کی طرف اشارہ کیا
” بتائیں امپائر آؤٹ اور ناٹ آؤٹ”
” آؤٹ ،اور اگر آپ لڑنا بند کر کے شاہ زر سے مل لیں تو بہتر ہوگا”
خالا نے ٹوکا تو خالو کو بھی خیال آیا وہ فورا بیٹ چھوڑ کر شاہ زر کی طرف آئے
” میں چائے کا انتظام کرتی ہوں “
کہہ کر حیا بنا شاہ زر کو دیکھے اندر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چائے کی پیالی کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے خالو نے پوچھا
” اب تمہاری بی اماں کی طبیعت کیسی ہے؟”
” الحمداللہ اب بہتر ہے، ماشاء اللہ اب تو وہ اپنے گھر بھی چلی گئیں ہے”
تبھی حیا خالہ کی کسی بات پر ہنسی
“کیا بات ہے بھائی اتنی ہنسی کیوں آ رہی ہے “
خالو کو حیا کی باتوں میں کافی دلچسپی تھی
“کچھ نہیں خالہ بتا رہی تھیں کہ آپ جب کہ شرط ہار گئے ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح آپ اپنی شرط پوری نہیں کریں گے یعنی جس طرح آپ نے کہا تھا اگر آپ ہارے تو مجھے کرکٹ کِٹ لا کر دیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہونے والا “
“ہماری بیگم کو صدا ہم سے شکایت ہوتی ہے تم بے فکر رہو عثمان احمد اپنا وعدہ پورا کرے گا”
پھر حیا اور خالہ دونوں مل کر ڈنر کی تیاری کرنے لگی ایک پر تکلف ڈنر بنانے کے بعد تو حیا کو محسوس ہوا اس کا بدن درد سے ٹوٹ رہا ہے اسے تو اپنے پیروں میں سوجن بھی محسوس ہوئی مگر وہ چین سے بیٹھ کہا سکتی تھی اگر حورین کہتی تھی کہ اس میں اسپرنگ فٹ ہے صد فیصد صحیح کہتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالہ خالو کے جانے کے بعد حیا نے کچن سمیٹا برتنوں کو دیکھ کر اسے ہول اٹھ رہے تھ ملازمہ کو برتن دھونے کا کہہ کر وہ کمرے میں سونے کے لئے آ گئی ایک ہلکا سا ڈریس نکالا گرم پانی کا شاور لیا تو تھوڑا پرسکون محسوس کرنے لگی وہ واش روم سے باہر نکلی تو نظر شاہ زر پر گئی
شاہ زر بیڈ پر نیم دراز تھا اسے یک لخت اپنے اور شاہ زر کے رشتے کے تقاضوں کا احساس ہوا
پہلی بار اس نے اپنے رشتے کو محسوس کیا اور اچانک ہی اس کا دل سو کی سپیڈ سے دھڑکنے لگا شاہ زر نے اسے وہیں استادہ دیکھ کر ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھایا
یہ پاس بلانے کا ایک اشارہ تھا
حیا چلتی ہوئی بیڈ پر آئی اور تھوڑی جھجھک کے باوجود ہاتھ تھام لیا
اف حیا تم گھبرا کیوں رہی ہو تم 1970 کی ہیروئین نہیں ہو حیا ہو۔
شاہ زر کے پاس ہی بیٹھ گئی
” آپ کب سے سوئی نہیں ہے؟”
حیا نے چونک کر اسے دیکھا
“یا شاید مجھے پوچھنا چاہئے میری غیر موجودگی میں آپ کتنی دیر سوئی ہیں “
شاہ زر نے حیا کی سرخ ہوتی آنکھوں میں دیکھ کر کہا حیا کو یہ سوال عجیب سا لگا
“تین گھنٹے “
اس نے کچھ الجھے انداز میں جواب دیا لیکن اب چونکنے کی باری شاہ زر کی تھی
” کیوں؟”
” وقت ہی نہیں ملا، پھر کل رات حمزہ کی طبیعت خراب تھی، پھر۔۔۔۔۔۔۔”
کہتے کہتے خاموش ہوگئی میں کیوں بولوں انتظار کر رہی تھی ؟
حیا کا ہاتھ اب تک شاہ زر کے ہاتھ میں تھا
“ٹھیک ہے، اب سو جائیں”
شاہ زر نے اٹھ کر لائٹ آف کی اور لیمپ جلایا
تب تک حیا لیٹ چکی تھی لیٹتے وقت اسے پھر جسم میں درد محسوس ہوا
شاہ زر بیڈ پر آیا لحاف لیا
“اتنا جاگیں گی تو بدن درد ہوگا ہی”
شاید اس نے حیا کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ لیے تھے
حیا کچھ اور جملوں کی توقع کر رہی تھی اسے اپنی بے وقعتی پر بہت غصہ آیا آج بھی اس نے حیا کی تعریف نہیں کی تھی حیا اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ شاہ زر نے اسے کھینچ کر اپنے بازو پر لٹایا تھا اس کے لیے حیا تیار نہیں تھی تو ہڑ بڑا گئی مگر شاہ زر نے اس کی ہڑ بڑا ہٹ کی پرواہ کیے بغیر اس کے گرد حصار باندھا اور بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا اور ہمیشہ کی طرح صرف ایک مختصر سا جملہ کہا
“پر سکون ہو کر سو جائیے”
حیا کو اتنا آرام کبھی محسوس نہیں ہوا تھا وہ سچ مچ اتنا تھکی ہوئی تھی کہ اس نے اپنی تمام سوچوں کو گول مول کر کے ایک سائیڈ پر رکھا اور شاہ زر کے سینے میں سما کر آنکھیں موند لی دو منٹ میں ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھ فجر میں شاہ زر کے اٹھانے پر کھلی وہ ابھی تک کل رات والی پوزیشن میں ہی تھی
شاہ زر مسجد کے لیے نکلا تو حیا نے بھی نیت باندھی
جب شاہ زر واپس آیا تو حیا تلاوت کر رہی تھی اس نے قرآن بند کیا پھر مسکرا کر شاہ زر کو سلام کیا
“وعلیکم السلام”
“آپ ناشتہ کریں گے؟”
” آپ کو بھوک لگی ہے؟”
شاہ زر نے الٹا اسی سے سوال کیا
“نہیں مجھے بھوک نہیں لگی”
” مجھے بھی نہیں کرنا “
کہہ کر شاہ زر نے کمرے کی لائٹ بند کرنی شروع کی
“آپ پھر سوئیں گے “
“میں نہیں ہم “
کہہ کر شاہ زر بیڈ پر آیا
حیا کی ساری تھکن اڑن چھو ہو چکی تھی مگر نیند؟ اس نے سوچا سونے میں کیا حرج ہے
حیا لیٹی تو شاہ زر نے پھر اسے اپنے حصار میں لیا اس مرتبہ حیا چونکی نہیں، دل کے کسی کونے میں یہ خواہش تو تھی ہی کہ وہ پھر سے رات کی طرح اسے سلائے۔
اور رات کی طرح شاہ زر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ایک بار پھر وہی سکون حیا نے محسوس کیا
اب کی بار حیا کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی شاہ زر کی خوشبو اس کے نتھنوں کے ذریعے روح میں اتر رہی تھی جس سے سانس اور دھڑکن منتشر ہو رہی تھی یقیناً شاہ زر نے بھی محسوس کیا ہوگا اسی لئے پوچھ لیا
“حیا؟”
ہائے!!!!!!☺☺☺☺ کیا میرا نام اتنا پیارا پہلے بھی تھا
(اب حیا تو حیا ہے 🤭🤭🤭)
” جی”
اس نے جواب دیا مگر سینے میں سمایا ہوا سر نہیں اٹھایا۔
” کوئی پرابلم ہے کیا؟”
“نہیں تو”
اس کے سامنے کوئی قارون کا خزانہ بھی رکھ دیتا تب بھی وہ اس سے الگ نہ ہوتی۔ اور اس وقت بھی نہیں ہوئی۔
“ہممم”
شاہ زر نے صرف اسی ہمم پر اکتفا کیا آہستہ آہستہ نیند حیا پر مہربان ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح آنکھ کھلی تو اچھا خاصا دن چڑھ چکا تھا
اس نے کسمسا کر شاہ زر کے حصار سے نکلنا چاہا تو شاہ زر نے گرفت مضبوط کردی
وہ اس سے اتنا غافل نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہی تھی
“ش۔۔۔ شاہ ۔۔۔۔۔شاہ زر “
“سوجاؤ حیا “
شاہ زر کا لہجہ خمار آلود تھا اور پھر مزید گرفت سخت کی جس سے حصار تنگ ہو گیا نتیجہ میں حیا اس سے قریب ہوگئی اور وہ پوری طرح جڑ گئی
حیا کی ایک پل کے لئے سانس رکی
” گیارہ بج رہے ہیں”
اس بار شاہ زر کو آنکھ کھولنی پڑی
” قسم سے یار، تھکن ابھی تک نہیں اتری”
خمار آلود لہجہ مخمور، نیلی آنکھیں، اف۔۔۔۔۔۔ حیا کی جان پر بن آئی
کہہ کر وہ پھر سے سوتا بنا
“اچھا مجھے تو جانے دیں”
ہلکی سی کوشش تھی فرار کی
” کوئی ضرورت نہیں، سو جاؤ “
اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی
” آپ کو حور کا فون آیا تھا؟”
وہ جان بوجھ کر اس سے سوال پوچھ رہی تھی
” نہیں”
” ایک بار بھی نہیں؟”
” نہیں۔۔۔۔ سونے دو حیا”
اب کی بار اس کی پیشانی پر بل پڑے مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولی نہ ہی حیا کو آزاد کیا
“شاہ زر”
حیا نے پکارا
“ہمم”
” مجھے بھی حور کا فون نہیں آیا وہ لوگ خیریت سے ہوں گے نہ؟”
اب کی بار شاہ زر نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ گھور کر دیکھا
“آپ مجھے سونے نہیں دیں گی؟”
” نہیں”
بہت اطمینان سے جواب دیا گیا تھا
شاہ زر کہنی کے بل کچھ اونچا ہوا
“کیوں؟”
” کتنا سوئیں گے اور ؟”
کہتے ہوئے حیا اٹھ گئی کیونکہ شاہ زر کی گرفت ڈھیلی ہو گئی تھی جس کا اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور واش روم میں چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا جب نہا کر نکلی تب بھی شاہ زر سویا ہوا تھا
اف۔۔۔۔۔جتنا میں نے حورین کو صبح اٹھنے میں حیران کیا ہے اس کا بدلہ شاہ زر مجھ سے لیں گے
یا اللہ یہی مکافات عمل ہے،
حیا نے سوچا
خود ہی اٹھ جائیں گے وہ دل لگا کر تیار ہونے لگی ہمیشہ کی طرح سج سنور رہی تھی
پھر اس نے سوچا کہیں طبیعت تو خراب نہیں جو اتنا سو رہے ہیں
وہ شاہ زر کے قریب آئی اور پکارا
“شاہ زر “
“ہمم”
اس کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا
حیا نے ایک ہاتھ پیشانی پر رکھ کر چیک کرنے لگی کہ کہیں طبیعت تو خراب نہیں
شاہ زر نے وہی ہاتھ کلائی سے پکڑ کر اسے گھسیٹ لیا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ خود پر گرایا
” کیوں میری نیند کی دشمن بنی ہو ؟”
“میں تو آپ کی طبیعت۔۔۔۔۔۔”
” کچھ نہیں ہوا “
کہہ کر ایک مرتبہ پھر شاہ زر نے حیا کو حصار میں لیا اس کے بالوں سے آتی کنڈیشنر کی خوشبو اور شاور جیل کی ملی جلی مہک فضا کو مہکا رہی تھی شاہ زر نے اسے خود سے قریب کیا، اتنا قریب کے دونوں کے درمیان رہا سہا فاصلہ بھی ختم ہوگیا۔
حیا کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کے لئے بے تاب ہوا کیونکہ شاہ زر اس کے بالوں میں چہرہ چھپانے لگا
حیا کو اس کی سانسیں گردن پر محسوس ہو رہی تھی ایک مرتبہ پھر وہ حیا کی زبان گنگ کر گیا تھا
پھر حیا نے اس کے لبوں کا لمس گردن پر محسوس کیا وہ لرزی تھی مگر مزاحمت نہیں کی، کرتی بھی کیوں؟ وہ تو اسے اپنا سب کچھ مان چکی تھی اس نے شاہ زر کی ٹی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑا، آنکھیں موند لی۔
اس سے پہلے شاہ زر مزید بہکتا موبائل رنگ کرنے لگا جس سے طلسماتی لمحات کا تسلسل ٹوٹا شاہ زر نے پلٹ کر ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور حیا نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا فورا سے پہلے اٹھ کر نیچے بھاگ گئی شاہزر موبائل پر مصروف ہوگیا تھا
حیا سیڑھیاں اتر رہی تھی
وہ قدم کہیں اور رکھ رہی تھی اور قدم پڑ کر کہیں اور رہے تھے
” یا اللہ۔۔۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے مجھے؟”
وہ دل تھام کر بیٹھ گئی جو دھڑک دھڑک کر باہر آنے کو بے تاب ہوا جا رہا تھا وہ اب بھی جیسے ان لمحوں کی قید میں تھی
“اللہ کی توبہ اگر اب جو میں نے انہیں جگایا تو “
کہہ کر اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا لیکن اس کے لبوں پر ایک سر شار سی مسکراہٹ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ نیچے اترتا نظر آگیا حیا کی تو ہمت ہی نہیں ہوئی تھی اوپر آنے کی اسی لیے وہ نیچے ہی ناشتہ تیار کر رہی تھی
وہ فون پر محو گفتگو تھا بلیک شرٹ ، براؤن کوٹ پینٹ پہنے، نک سک سے تیار اتر رہا تھا حیا نے دل سے ماشاءاللہ کہا
شاہ زر نے فون کان سے ایک لمحے کے لئے ہٹا کر کہا
“ناشتہ نہیں کروں گا لیٹ ہو رہا ہوں”
کہہ کر فون کان سے لگایا اور پلٹ کر دروازے کی طرف قدم بڑھا دئیے
حیا کو جتنا غصہ آتا کم تھا
“باگڑ بلّا “
اس نے من میں اسے لقب سے نوازا تبھی شاہ زر پلٹا اور حیا وہ تو گھبرا گئی
“ہائے اللہ سن تو نہیں لیا”
وہ اس کے پاس آیا مسکرا کر اسکے پھولے پھولے منہ کو دیکھا فون جیب میں رکھا پھر اسی ہاتھ سے حیا کے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا
” جلدی آنے کی کوشش کروں گا،تیار رہنا”
ایک مسکراہٹ حیا کی طرف اچھالی
(The million dollar smile)
“فی امان اللہ “
اسکا گال تھپتھپا کر پلٹ گیا
” فی امان اللہ”
حیا نے غائبانہ طور پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی جب تک وہ دروازہ پار کر گیا۔
تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ نیچے اترتا نظر آگیا حیا کی تو ہمت ہی نہیں ہوئی تھی اوپر آنے کی اسی لیے وہ نیچے ہی ناشتہ تیار کر رہی تھی
وہ فون پر محو گفتگو تھا بلیک شرٹ ، براؤن کوٹ پینٹ پہنے، نک سک سے تیار اتر رہا تھا حیا نے دل سے ماشاءاللہ کہا
شاہ زر نے فون کان سے ایک لمحے کے لئے ہٹا کر کہا
“ناشتہ نہیں کروں گا لیٹ ہو رہا ہوں”
کہہ کر فون کان سے لگایا اور پلٹ کر دروازے کی طرف قدم بڑھا دئیے
حیا کو جتنا غصہ آتا کم تھا
“باگڑ بلّا “
اس نے من میں اسے لقب سے نوازا تبھی شاہ زر پلٹا اور حیا وہ تو گھبرا گئی
“ہائے اللہ سن تو نہیں لیا”
وہ اس کے پاس آیا مسکرا کر اسکے پھولے پھولے منہ کو دیکھا فون جیب میں رکھا پھر اسی ہاتھ سے حیا کے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا
” جلدی آنے کی کوشش کروں گا،تیار رہنا”
ایک مسکراہٹ حیا کی طرف اچھالی
(The million dollar smile)
“فی امان اللہ “
اسکا گال تھپتھپا کر پلٹ گیا
” فی امان اللہ”
حیا نے غائبانہ طور پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی جب تک وہ دروازہ پار کر گیا۔
کیا بات ہے ریڈرز آپ لوگوں کا رسپانس دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے
لگتا ہے ناول کا مزہ نہیں آرہا آپکو اب۔۔۔۔
