Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
جب شانزل اور حورعین حیا کے گھر میں داخل ہوئے تو بارہ بج چکے تھے۔ حیا لپک کر حورعین کے گلے لگی۔
کم بخت بے وفا کہاں تھی تم ؟اگر تم بھول گئی ہو تو یاد دلا دوں کہ تمہاری دوست کی شادی ہے”
“یاد ہے مجھے، ویسے بھی تم بھولنے کہاں دیتی ہو، تمہارا بس چلے تو گلے میں بورڈ لٹکا کر گھومو ‘میری شادی ہونے والی ہے “
“ارے! اسلام علیکم بھائی “
“آئیں اندر”
جب تینوں اندر داخل ہوئے تو سوفے پر ایک لڑکا اور لڑکی بیٹھے ہوئے تھے
“بھائی یہ میرے کزن ہے یہ ہانیہ ہیں اور یہ اشعر ہے دوسرے لفظوں میں سانپ اور نیولا”
“لاحول ولا قوۃ حیا کی بچی یہ تو پھر بھی سانپ ہے میں کہاں سے نیولا نظر آیا تمہیں”
اشعر کو تو صدمہ ہی ہو گیا اور اشعر کی بات سن کر ہانیہ کا منہ کھل گیا۔
“اشعر کے بچے میں تمہیں سانپ نظر آتی ہوں؟”
“ہاں یہ بھی ہے تم سانپ نہیں ہو”
اشعر کی بات سن کر ہانیہ کے تاثرات ٹھیک ہوئے مگر اگلے ہی لمحے اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا کیونکہ اشعر نے کہا
“سانپ تو میل ہوتا ہے، تم ناگن ہو”
اور پھر کیا تھا ہانیہ صاحبہ اشعر کا حشر نشر کرنے اٹھا تھی کہ حیا نے روک دیا۔
چپ کرو تم دونوں، چلو اشعر کمرے میں حور آگئی ہے اب”
“شرم کر لو حیا میں تم سے پورے دو دن بڑا ہوں”
“نکلو یہاں سے، صبح اٹھنے میں تم بہت پریشان کروگے”
اشعر منہ بناتا چلا گیا۔
جب تک حورعین اور شانزل سوفے پر بیٹھ چکے تھے۔
“گھر کے پیچھے سب ینگ پارٹی ہلّہ کر رہی ہے ان دونوں کو میرا خیال ہے اسی لیے رکے ہوئے تھے، تم کچھ جلدی نہیں آگئی”
“آ تو گئی ہوں نہ ,تم کیسی ہو ہانیہ؟
“ٹھیک ہو حور آپی، آپ کیسی ہیں ویسے شانزل بھائی بڑے ہینڈسم ہیں”
اب وہ اس کی بات کا کیا جواب دیتی پہلے تو وہ خفیف سا مسکرائی پھر کہا
“الحمدللہ ” وہ الگ بات ہے چپکے سے دل میں ماشااللہ کہا
“چلو حور میں تمہیں کمرہ لکھا دیتی ہوں تھک گئے ہوں گے تم لوگ”
حیا دونوں کو لے کر اوپر کی طرف چلی گئی
” یہ کمرہ میں نے آپ لوگوں کے لئے رکھا ہے”
حورعین کچھ کہتی اسے پہلے ہی شانزل بول پڑا “شکریہ “
“کچھ چاہیے آپ دونوں کو؟”
” کافی بھجوا دو یار”
حور نے کہا
” اچھا چلو فریش ہو جاؤ میں بھیجواتی ہوں”
یہ کہہ کر حیا نے ایک آنکھ دبائی اور حورعین نے اسے ایک اچھی خاصی گھوری سے نوازا۔
کمرہ نہ زیادہ بڑا تھا نہ چھوٹا معمولی سا تھا مگر خوبصورت تھا
شانزل نے اپنا لیپ ٹاپ بیگ رکھا اور واش روم میں فریش ہونے چلا گیا۔ اور حورعین کمرے کے درمیان میں کھڑی سوچ رہی تھی “ایک ہی کمرہ” دل کیا حیا کا گلا دبا دے اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔
دروازہ کھولنے پر ہانیہ کافی لیے کھڑی تھی حورعین کافی لے کر مڑی تو شانزل باہر آیا کوٹ تو اتار چکا تھا حور نے اس کی طرف کافی بڑھائی اس نے مسکراہٹ کے ساتھ کافی تھام لی
حور نے اپنی کافی ٹیبل پر رکھ دی پھر منہ ہاتھ دھونے چلی گئی۔
شانزل نے نظر گھما کر کمرے کو دیکھا درمیانے سائز کا کمرہ تھا ایک طرف ڈریسنگ ٹیبل تھا دوسری طرف اسٹڈی ٹیبل اور ایک بیڈ نفاست سے رکھا ہوا تھا وہ چلتے ہوئے کھڑکی کے پاس آیا گھر کے پیچھے سبھی ینگ پارٹی مزے کر رہی تھی
حورعین دروازہ کھول کر باہر نکلی۔
“یہ حیا کی شادی ہے اور اس کے علاوہ سبھی مزے کر رہے ہیں ؟”
“دراصل حیا کی کسی سے بنتی نہیں ہے اس کی سوتیلی امی کی وجہ سے، صرف کچھ لوگ ہیں جن سے وہ بات کرتی ہے حیا کی دادی، اشعر اور ہانیہ سے تو آپ مل ہی چکے ہیں ایک رادیہ بھابھی اور اعظم بھائی بھی ہیں پتا نہیں وہ آئے ہیں کہ نہیں”
“ویسے حیا اتنی سوفٹ سپوکن ہے اس نے مجھ کو بھی بھائی بنا لیا تعجب کی بات ہے اس کی کسی سے بنتی نہیں ہے “
کہہ کر شانزل نے کافی کا گھونٹ بھرا
حورعین چلتے ہوئے اسٹڈی ٹیبل کے پاس آئی اورلیپ ٹاپ کھولا
“آپ پھر رپورٹ لے کر بیٹھ رہی ہیں”
“دیکھیں رپورٹ ہم دونوں کو ہی بنانی ہوگی اس لئے میں اپنے حصے کی بنا لیتی ہوں اور آپ سو جائیں، باقی آپ اٹھ کر بنا لیجئے گا ایک ساتھ جا کر دونوں ہی تھک جائیں گے”
حورعین رخ موڑ کر لیپ ٹاپ پر بزی ہو گئی ایک ہاتھ میں کافی کا کپ تھا وہ اسی کچے پیلے رنگ کے سوٹ اور مرون چادر میں ملبوس تھیں شانزل اس کا گریز سمجھ رہا تھا۔
شانزل کی کافی ختم ہوئی تو وہ کپ ٹیبل پر رکھنے کے بعد اسٹڈی ٹیبل کے پاس آیا جہاں حورعین لیپ ٹاپ میں کچھ الجھی ہوئی تھی
” کیا ہوا فائل اوپن نہیں ہو رہی ہے کیا؟”
شانزل نے حورعین سے پوچھا جو لیپ ٹاپ میں فائل کھول رہی تھی
“جی”
” دکھائیے ذرا “
اس سے پہلے حورعین کرسی سے اٹھتی وہ لیپ ٹاپ پر جھک گیا اس طرح ایک ہاتھ ٹیبل پر تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ لیپ ٹاپ پر نمبرد آزماں تھا جس سے حورعین شانزل کے حصار میں تھی شانزل حورعین کو ٹچ نہیں کر رہا تھا مگر پھر بھی شانزل کے اس قدر قریب ہونے پر حورعین نظریں جھکا گئی اور اپنے دل کی تیز ہوتی دھڑکنوں کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“دراصل اس فائل پر کوڈ لگایا تھا میں نے”
اس نے حورعین کو دیکھتے ہوئے کہا اتنا خوبصورت منظر وہ پہلی بار اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا اورحورعین جو اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کو ہموار کرنے کی کوشش کر رہی تھی شانزل کی گھمبیر آواز نے تو اس کی دھڑکنوں کو اور منتشر کر دیا حورعین سانس روکے بیٹھی تھی شانزل نے اسے اور تنگ کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا اس نے پیچھے ہوکر حورعین کی کافی کا مگ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا۔
“یہ میری جھوٹی کافی ہے، میں آپ کے لیے دوسری بنا لاتی ہوں”
حورعین نے دیکھا وہ کافی کا گھونٹ بھر رہا تھا شانزل اس کی بات سن کر زیرِ لب مسکرایا۔
“اچھا؟ یہ آپ کی کافی ہے؟ اور کافی والی کس کی ہے؟”
شانزل کی بات سن کر حورعین بلش کر گئی شانزل نے یہ رنگ حورعین کے چہرے پر پہلی بار دیکھا تھا حالانکہ شانزل کی بات کا مطلب حورعین بہت اچھے سے سمجھ گئی تھی لیکن جواب دیا
“مجھے کیسے پتا ہوگا”
اور اس کی کی بات سن کر شانزل نے قہقہہ لگایا ۔
“آپ۔۔۔۔۔۔ آپ سو جائیں میں رپورٹ بنا لیتی ہوں۔” شانزل نے کوئی جواب نہیں دیا اور بیڈ پر جا کر سونے لیٹ گیا۔
“پوری رپورٹ خود مت منائیے گا مجھے اٹھا دینا، اوکے؟”
” اوکے”
شانزل نے کمفرٹر اوڑھ کر آنکھیں موند لی حورعین نے سکون کا سانس خارج کیا اف توبہ انہیں آج کیا ہو گیا ہے اور رپورٹ بنانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح شانزل کی آنکھ کا فجر کی اذان سے کھلی اس نے دیکھا بیڈ کی دوسری سائیڈ خالی ہے یعنی محترمہ سوئی ہی نہیں ہے اور مجھے جگایا بھی نہیں۔
تبھی حورعین واش روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی نماز اسٹائل میں دوپٹے لپیٹا ہوا تھا وضو کے قطرے چہرے سے ٹپک رہے تھے اٹھ کر چلتا ہوا اس کے پاس آیا
” آپ نے مجھے اٹھایا ہی نہیں”
“ہاں وہ آپ نماز یہیں پڑھیں گے یا مسجد میں؟”
حور نے سوال کرکے موضوع بدلا
” مسجد میں ہی پڑھوں گا”
“آپ اشعر کے ساتھ چلے جائیے گا”
“ہمم”
شانزل چلتا ہوا لیکن آپ کے پاس آیاپھر کہا
” آپ نے پوری رپورٹ بنا لی؟میں نے کہا تھا پوری مت بنائیے گا”
” پوری کہاں بنائی ہے، میں نے اپنے حصے کا کام کیا ہے”
حورعین مجھے لگتا ہے نیند نہ ملنے کی باعث آپ کو باتیں سمجھ نہیں آرہی ہیں، دیکھیں، آپ نے پوری رپورٹ بنائی ہے جب کہ میں نے منع کیا تھا “
شانزل نے رسان سے سمجھایا
“ہاں، میں نے پوری نہیں بنائی ہے نیچے The end لکھنا باقی ہے اور سینڈ کرنا بھی باقی ہے”
حورعین شرارتی مسکان کے ساتھ اپنی عجیب سی لوجک پیش کر رہی تھی۔ شانزل سمجھ گیا مستقبل قریب میں وہ ہمیشہ اپنی منوانے والی تھی۔ مگر شانزل کو وہ اس کے ساتھ بھی قبول تھی یہ وہی شانزل ابراہیم ہے جو ایک تنکے کا بھی اپنی مرضی بغیر ہلنا پسند نہیں کرتا تھا۔
“مجھے ایسا لگ رہا ہے آپ کے آنے کے بعد میں ایک دم نکماں ہو گیا ہوں” اس کے لہجے میں کہیں بھی افسوس نہیں تھا جیسے وہ اپنی ہی حالت سے حظ اٹھا رہا تھا اسے اپنی یہ کیفیت جھنجھلاہٹ میں مبتلا نہیں کر رہی تھی۔
“آپ نماز پڑھ کر سو جائے گا اور میرے ناشتہ کی فکر نہیں کرنا میں لیٹ آؤں گا اور بھرپور نیند لیجئے گا اگر آپ نے رپورٹ والی چالاکی کی تو میرے پاس بات منوانے کے بہت سے طریقے ہیں”
شانزل نے بہت کوشش کی کہ اس کے لہجے میں وہی رعب آ جائے جو سامنے والے کو مرعوب کر دیتا تھا لیکن کوشش ناکام رہی اس لڑکی کے لیے چاہ کر بھی وہ اپنا لہجہ سخت نہیں کر پا رہا تھا لیکن اسے یہ بے اختیاری عزیز تھی ہر چیز اپنے اختیار میں رکھنے والا بے اختیار ہو کر بھی پرسکون تھا۔
“جی”
حورعین سمجھ گئی کہ وہ غصہ کرنا چاہتا ہے مگر کر نہیں پا رہا ہے اس کی حالت حورعین کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل چلا گیا تو وہ بھی سونے کے لئے لیٹ گئی کمفرٹر میں سے شانزل کی خوشبو آ رہی تھی جو حورعین کی سانسوں کو مہکا رہی تھی۔
(بہار بن کر تیری چمنِ ذات کو گلزار کردوں
یوں تیری سانسوں میں مہکنے کو جی چاہتا ہے )
آٹھ بجے اس کی آنکھ کھلی تو پہلا خیال شانزل کے ناشتے کا آیا حیا کو فون لگا کر پوچھا کہ تمہارے بھائی واپس آگئے تو اس نے کہا ابھی تک نہیں آئے۔ اس نے پھر سے آنکھیں بند کرلیں
جب دوبارہ اس کی آنکھ کھلی تو گھڑی نو بجے کا اعلان کر رہی تھی وہ اٹھ کر منہ ہاتھ دھونے کے بعد باہر نکلی پھر چادر درست کر ہی رہی تھی کہ حیا نے کمرے پر دھاوا بول دیا۔ وہ اسے گھسیٹ کر نیچے لے گئی جہاں اس کی دادی ہانیہ، اشعر، موجود تھے اس نے دادی کو سلام کیا پھر بیٹھ گئی۔ اتنے میں شانزل بھی آگیا حورعین نے دیکھا وہ کپڑے تبدیل کر چکا تھا
“السلام علیکم بھائی “
حیا نے سلام کیا
“وعلیکم السلام”
“بھائی یہ میری دادی ہیں”
“حورعین اللہ تمہارے نصیب اور اچھے کرے”
دادی شانزل کو دیکھتے ہوئے حورعین کو دعا دی حورعین نے کن انکھیوں سے شانزل کو دیکھا وہ مسکرا رہا تھا۔
“بھائی یہ آپ اتنی ساری شاپنگ کر کے آ رہے ہیں “
“دراصل جب تمہارا فون آیا تو ہم باہر ڈنر کر رہے تھے وہاں سے نکلے تو پیکنگ کا موقع ہی نہیں ملا”
“حورعین بچے تم گھر میں چادر اوڑھ کر بیٹھی ہو”
دادی نے حورعین کو ٹوکا لیکن کیا جواب دیتی ہلکا سا مسکرائی
“چلو حور جلدی سے چینج کرو پھر مل کر ناشتہ کریں گے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر شانزل نے حورعین کو شاپنگ بیگز پکڑائے اور کہا
اس میں میرے کپڑے ہیں، یہ جوتے ہیں ،اور میری کچھ ضرورت کا سامان، اور یہ والے بیگز میں آپ کے کپڑے ہیں، اس میں سینڈل ہے اور میک اپ کا سامان اس میں ہیں، اور یہ آپ کی جویلری۔”
حورعین شانزل کو منہ کھولے سن رہی تھی
“یہ اتنا سب آپ میرے لیے لائے ہیں ان سب کی ضرورت نہیں تھی”
“یہ تھینکیو بولنے کا طریقہ ہے”
شانزل مسکرایا۔
“مگر میں اس طرز کا ویلکم نہیں بول پاؤں گی”
حورعین نے جواب دیا
“کوئی نہیں، میں دوسرے طرز سے ویلکم وصول کروں گا فی الحال آپ یہ والا ڈریس پہنیں، چلیں شاباش”
حورعین شاپر لے کر واش روم میں چلی گئی۔
کچھ دیر حورعین باہر آئی اس کا خیال تھا کہ شانزل چلا گیا ہوگا لیکن شانزل وہیں تھا جب شانزل نے حورعین کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ یہ منظر نظر کو باندھ لینے والا تھا جس نے شانزل ابراہیم کی نظر کو باندھ لیا تھا۔
حورعین اس کے لائے ہوئے گہرے گلابی رنگ کے انگرکھا میں ملبوس تھی جس پر سفید رنگ کی کڑھائی کی ہوئی تھی اور دوپٹے پر سفید رنگ کے بوٹے لگے ہوئے تھے۔ حورعین ہمیشہ پھیکے رنگ ہی پہنتی تھی اور اس کے لیے جان بوجھ کر گہرے اور کھلتے رنگ لے کر آیا تھا۔ وہ ہمیشہ اسے چادر میں ہی دیکھتا آیا تھا مگر ابھی نہانے کے بعد وہ دوپٹے میں باہر نکلی تھی۔ گیلے کمر تک آتے بال پشت پر آبشار کی طرح پھیلے ہوئے تھے۔ شانزل کے اس طرح ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے حورین کے گال اس کے کپڑوں کی طرح گلابی ہو گئے۔
(قوسِ قزح بن کے اتروں تیری صفحہ ہستی پر
تیری زندگی یوں رنگنے کو جی چاہتا ہے )
آہ۔۔۔۔۔ یہ منظر شانزل ابراہیم کے دل میں اتر گیا۔وہ اپنے اسی جاندار انداز میں مسکرایا۔ حورعین چلتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل تک آئی پھر بال سلجھائے اور انہیں چوٹی کی شکل دی
شانزل نے اس کے آگے ایک شاپر کیا
” اسے پہن لیں”
حورعین نے خاموشی سے شاپر لے لیا اور شانزل بیڈ پر بیٹھ کر دیکھنے لگا وہ اس کی حرکات و سکنات کو اسی طرح دیکھ رہا تھا جیسے وہ ہمیشہ دیکھتا تھا۔ حورعین نے شاپر میں سے ڈبہ نکالا اس میں گہرے گلابی رنگ کا سیٹ تھا۔ جس میں چوکور شیپ کے کرسٹل کے بوندے تھے اور چوکور ہی انگوٹھی اور پینڈینٹ بھی ۔
حورعین نے اسے پہننے کے بعد اندر سے کڑے نکالے اور اپنے ہاتھوں میں ڈالے۔ ایک مخملی ڈبی بھی تھی جسے کھولنے پر اندر سے نوز پن نکلی حورعین نے نوز پن پہنی اور شانزل ابراہیم کی روح اندر تک شاد ہوگئی۔ اسکا خالی خالی دل سکون سے بھر گیا۔ حورعین نے نظر اٹھا کر آئینے میں سے ہی شانزل کو دیکھا اور فورا نظریں جھکا گئی۔حورعین نے آگے بڑھ کر چادر اٹھانی چاہیے تو شانزل روک دیا
“رہنے دیں حور، مطلب ابھی دادی نے کہا تھا نہ”
🤭🤭🤭
