Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
رات تقریبا نو بجے شانزل گھر آیا۔ فریش ہو کر سعیدہ بوا کو کھانا لگانے کا کہا۔ کھانے کے بعد اجمل پھوپھا(سعیدہ بوا کے شوہر) جو کہ چوکیداری کرتے تھے شانزل سے پوچھا
” بیٹا بی بی تمہارے ساتھ نہیں آئیں؟”
یہ سننے کے بعد تو شانزل کے چودہ طبق روشن ہو گئے مطلب وہ ابھی تک گھر نہیں آئی۔
پھر کچھ سوچ کر شانزل نے پوچھا
“کیا وہ کوئی بیگ لے کر گئی ہے؟”
“ہاں صبح بی بی کالا بیگ لے کر گئیں تھی”
شانزل مسکرایا یعنی وہ دس کروڑ لے گئ ہے ۔
“میں نے ہی تو رکشہ کر کے دیا تھا”
بے وقوف، رکشے میں دس کروڑ لے کر گئی ہے لیکن جب آفس آئی تھی تو اس کے پاس پیسوں والا بیگ تھا کہ نہیں اف میں نے تو دیکھا ہی نہیں
اس نے سرجھٹکا مجھے کیا کچھ بھی ہوا ہو
ایک بار گھڑی دیکھی جو ساڑھے نو بجا رہی تھی پھر کچھ سوچ کر فون کرنے کا طے کیا اور اٹھ کر موبائل لینے کمرے میں چلا گیا
چونکہ اس نے نمبر save نہیں کیا تھا اسی لیے نمبر ڈھونڈتے ہوئے زینے اترنے لگا۔
تب اجمل پھوپھا نے کہا
“بیٹا فون مت لگانا بی بی آگئی ہیں “
“کب آئیں؟”
“ابھی کمرے میں گئی ہیں”
شانزل غصے سے صوفے پر بیٹھ گیا
تبھی حورعین کمرے سے نکلی اور چھوٹے چھوٹے قدم لیتی باہر جانے لگی۔شانزل کو تو مانو پتنگے لگا گئے
مطلب اگر میں نے کہہ دیا کہ جہاں چاہے آؤ جاؤ تو کہیں بھی کبھی بھی چلے جانا چاہیے
“شریف گھر کی عورتیں گھر سے منہ اٹھا کر اندھیرے میں کہیں بھی نہیں نکل جاتیں اور یہ ایک شریف گھرانہ ہے اسی لیے جب تک یہاں ہو اندھیرا ہونے سے پہلے گھر واپس آجاؤ”
شانزل کا سرد لہجہ حورعین کو دروازے کے پاس ساکت کر گیا اس نے بنا کچھ کہے اپنے قدم واپس کمرے کے طرف موڑ لیے۔
“بیٹا وہ شاید Medical جا رہی تھیں، انھوں نے مجھ سے آنے کے بعد پتا پوچھا تھا شاید انھیں دوائی وغیرہ کی ضرورت ہو”
اجمل پھوپھا شانزل کے غصے سے بخوبی واقف تھے اسی لیے صفائی دینا ضروری سمجھا
“تو آتے وقت لے کر آنا چاہیے، یا آپ سے منگا لینا چاہیے ، پھر سے اس وقت باہر جانے کی کیا تک بنتی ہے”
شانزل کی بات اجمل پھوپھا خاموش ہو گئے اور چوکیداری کرنے چلے گئے۔
“بوا ذرا ایک کپ کافی پلا دیں “
شانزل غصہ شانت کرنے لگا
شانزل کافی پی ہی رہا تھا کہ اجمل پھوپھا آئے
“بیٹا باہر رکشے والا آیا ہے۔۔۔۔۔۔بی بی سے ملنے”
بات سنتے ہی شانزل کی پیشانی پر بل پڑے۔
“بلائیں اسے اندر”
رکشے والا ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لیڈیز پرس لیے اندر آیا۔
” کہو” شانزل کا وہی ازلی رعب دار لہجہ۔
“کیا تم اس لڑکی کے بھائی ہو؟”رکشے والا بڑی ہی معصومیت سے پوچھ رہا تھا اور شانزل کی پیشانی پر بلوں میں اضافہ ہوا۔
“کیوں؟کیا ہوا؟” شانزل کا انداز پھاڑ کھانے والا تھا
پتہ نہیں کیوں اسکا غصہ آخری حدوں کو چھونے لگا۔
“وہ لڑکی جو صبح یہاں سے رکشےمیں بیٹھی تھی وہ اپنا پرس رکشے میں بھول گئی مجھے لگا وہ پریشان ہوگی اس میں پیسے تھے میں نے ابھی دیکھا تو دینے چلا آیا۔” رکشے والے نے پوری روداد سنا دی۔
“ٹھیک ہی اسے مجھے دے دو”
“نہیں یہ امانت میں اسی لڑکی کے کو دوں گا “
رکشے والے کی بات سن کر شانزل نے خود پر ضبط کیا اور سعیدہ بوا سے کہا
“بلائیں “
سعیدہ بوا چلی گئیں
“بچی بیچاری دوپہر ۱۲ بجے پرس بھولی مگر میں نے ابھی دیکھا تو سوچا دے آؤں ” رکشے والا شاید زیادہ ہی باتونی تھا۔
حورعین ایک پیر سے لڑکھڑا ہوئے رکشے والے کے پاس آئی۔ شانزل نے ایک نظر اسے دیکھ کر اپنی توجہ کافی پر مبذول کر دی لیکناسکے پیروں کی لڑکھڑاہٹ محسوس کر لی تھی۔
حورعین نے تشکرانہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک نوٹ رکشےوالےکو دیا اور وہ رکشے والا لوٹ گیا۔اور حورعین اپنے کمرے میں ۔
شانزل نے نظر اٹھا کر اسکی پشت دیکھی سر پر سلیقے سے اوڑھا ہوا دوپٹہ، وہ کل والے ہی لباس میں تھی ۔
حورعین کے جانے کے بعد اجمل پھوپھا شانزل سے مخاطب ہوئے
“شاید اسی وجہ سے بی بی لیٹ آئی ہوں، وہ پیدل آئی ہوں گی، پتہ نہیں کتنی پریشانی ہوئی ہوگی بی بی کو”
شانزل استہزائیہ ہنسا ۔
آپکی بی بی کے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ سواری کیا سواری کی دکان بھی خرید سکتی تھی”
کہہ کر شانزل اٹھ کھڑا ہوا۔
“بیٹا شایر تمہارا کوئی پرچہ گرا ہے”
اجمل پھوپھا نے کہتے ہوئے ایک کاغذ بڑھایا جسے شانزل نےکھول کر پڑھا
وہ کوئی مسجد کی رسید تھی جہاں صدقہ یا خیرات دی ہو۔صدقے کی رقم 10 کروڑ تھی۔
شانزل کے چہرے پر حیرانی کے تاثےرات ابھر ے۔
صدقہ شانزل ابراہیم کے نام پر دیا گیا تھا۔
وقت صبح کے 10 بجے کا تھا۔
یعنی وہ پہلے مسجد گئی تھی پھر بارہ بجے کے قریب انٹرویو دینے جب رکشے سے اتری طور پرس وہیں رہ گیا۔
شانزل نے اسے آفس بلایا وہ پیدل آئی تھی اسی لیے اسے ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔
وہ وہاں سے نکل گئی شاید پیدل ہی گھر آئی تھی۔
اس کا لڑکھڑا کر چلنا، میڈیکل جانا، اور اپنی بات یاد آئی۔
وہ پرچہ شاید رکشے والے کو پیسے دیتے وقت گرا ہو گا۔شانزل پرچہ ہاتھ میں لیے کھڑا رہ گیا۔س نے اپنی سوچوں کو لگام ڈالی۔اور اجمل پھوپھا سے کہا
“آپ جا کر اپنی بی بی سے پوچھ لیں انھیں کیا منگوانا تھا”
وہ اپنے کمرے میں آکر ایسے ہی لیٹ گیا اور پھر نیند کی وادی میں اتر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر حورعین کروٹ بدل بدل کر درد سے بے حال ہو رہی تھی اتنا پیدل چلنے کے بعد اس کے پیروں میں چھالے آ گئے تھے۔ اجمل پھوپھا پوچھ کر گئے تھے لیکن اس نے انکار کر دیا تھا۔وہ بار بار فون کو دیکھ کر دعا کر رہی تھی کہ وہ بس ایک بار بجے۔
اور کچھ دیر بعد فون بجا لیکن نام دیکھتے ہی حورعین کے مسکان غائب نہیں ہوئی لیکن پھیکی ضرور پڑی۔
اور اس نے فون اٹھا لیا
“السلام وعلیکم حیا”
“وعلیکم السلام حور! نالائق ،کہاں مری ہو؟ تین دن سے فون نہیں کیامیں نے بھی سوچ لیا تھا کہ اب کی بار جب تک تم خود فون نہیں کروں گی میں بھی نہیں کروں گی لیکن حد ہوتی ہے تمہارا تو کوئی فون ہی نہیں آیا بہت صبر کیا پھر رہا نہیں گیا تو بے شرم بن خود ہی فون کیا لیکن تم بہت بے وفا ہو بتایا ہی نہیں ہوسٹل آ رہی ہو میں یونی نہیں جاتی اب بک بھی چکو کیا ہوا تھا سب کچھ میں ہی بول رہی ہوں اب پھوٹو بھی!”
حیا بولنے پر آئی تو بولتی ہیں چلی گئی نہ درمیان میں قوم تھا نہ فل سٹاپ۔
حور نے خاموشی سے اس کی پوری روداد سنی اور کہا
“آپ مجھے فون کرنا چاہیے تھا”
“اف ،تو کیا کیوں نہیں ویسے تم ہوسٹل کیوں آئی تھی”
“اپنی سرٹیفیکٹ اور ڈگری لینے انٹرویو دینا تھا”
“اوہ تو کیا بنا انٹرویو کا “حیا نے تجسس سے پوچھا۔
“مل گئی ہے جاب لیکن سنو میں یونی صرف ہاف ڈے ہی اٹینڈ کرو گی”
“کوئی نہیں، باقی لیکچر کے نوٹس میں دے دوں گی”
حیا ایسی ہی تھی اس کا بس چلتا تو وہ حور کے لیے سب کچھ کر ڈالتی۔
“لیکن تم ہو کہاں؟ حویلی میں ؟” حیا کو اب خیال آگیا۔
“نہیں شہر میں ہی ہوں “
“ہیں؟ لیکن ہوسٹل میں تو نہیں ہو؟ اللہ اللہ کہیں تمہارے چچا invisible نے تمہیں تو نہیں کر دیا
حیا کی بات سن کر حورین کا دل کیا حیا کو فون میں سے ہیں دو تھپڑ لگائے جا خود کا ہی سر پیٹ لے۔
پہلا آپشن تو عمل نہیں کیا جا سکتا تھا اسی لیے حورعین نے دوسرا آپشن عمل کیا اور اپنا سر پیٹ لیا۔
“ارے بکو بھی کیا تھا جس سے ہی ماروں گی؟”
حیا نے جھنجھلا کر کہا۔
” تمہارا ریڈیو بند ہو تو میں کچھ کہوں نا”
حورعین نے تیز لہجے میں کہا۔
“اب اتنا بھی نہیں بولتی میں اچھا اب بتاؤ کچھ نہیں بولوں گی”
حورعین ورین کا تیز لہجہ سن کر ہی حیا لائن پر آگئی۔
“دیکھو تم میری بات تحمل سے سننا بعد میں مجھے ڈانٹنا مت”
حورین نے تمہید باندھی۔
“ہمم” حیا سے زیادہ شریف اس وقت کوئی نہیں تھا۔
“دیکھو حیا میرے چچا مجھے حویلی کر گئے تو وہاں کچھ ایسے حالات ہوئے کہ…….” ادھر حورین کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے بتائے اور ادھر ہی حیا صبر کا دامن تھامے بیٹھی سن رہی تھی
بالآخر حورعین نےکہہ ہی دیا
“حالات ایسے ہوئے کہا نہیں میرا نکاح کرنا پڑا”
اور پھر کیا تھا صبر کا دامن چھوٹ گیا۔
“نالائق، بے وفا ! اتنی بڑی بات تم مجھے بتا نہیں سکتی تھی؟ اف اللہ مجھے تو تمہارے نکاح کے چھوارے تک نصیب نہیں ہوئے”
حیا ایک بار پھر شروع ہو چکی تھی۔
“بریک لگاؤ لڑکی، حد ہے چپ کرو میں بہت پریشان ہوں”
حورین کی بات سن کر حیا خاموش ہو گئی۔
” حور تم ٹھیک ہو نا؟”
“پتا نہیں، میرا نکاح عام لوگوں کی طرح نہیں ہوا ہے” حورعین روہانسی ہو گئی۔
“حور تم کہاں ہو؟ میں ابھی آ رہی ہو تم ایڈریس بتاؤ”
حیا ایک دم پریشان ہوگی۔
“نہیں، تم ابھی پریشان مت ہو، تم صبح انا ہم ساتھ یونی جائیں گے اور ذرا میرا سامان لے آنا”
حورین نے اسے ٹھنڈا کیا نہیں تو حیا ابھی اڑ کر پہنچ جاتی۔
“وہ سب تو میں لے آؤں گی، لیکن تم مجھے بتاؤ یہ سب ہوا کیسے؟”
“میں تمہیں صبح سب بتا دوں گی اور ایڈریس بھی صبح ہی میسج کروں گی نہیں تو تم ابھی نازل ہو جاؤں گی”
“مجھے اتنا جانتی ہوں تو تم یہ بھی جانتی ہوگی کہ نئے ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں تم سب کچھ شئیر کر سکتی ہو”
“ہاں جانتی ہوں، اب تم سو جاؤ اب تمہیں اٹھانے کے لیے میں وہاں نہیں ہوں”
“تمہیں کیا لگتا ہے اب میں سو پاؤں گی پتا نہیں صبح کب ہوگی؟”
حیا کی بات سن کر حورین کی ہنسی چھوٹ گئی۔
” تم کبھی نہیں سدھر سکتی”
فون رکھنے کے بعد نورین پھر اداس ہو گئی۔
فون رکھ کر کمرے سے نکلی رات کے ایک بجنے والے تھے زینے عبور کرکے شانزل کے کمرے کے پاس آئی کچھ سوچ کر دل دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے میں داخل ہوگی۔
شانزل آج بھی کل کی طرح ہی سویا تھا اور حورعین نے آج بھی اس کے ہاتھ سے گھڑی نکالی شانزل کو بلینکیٹ اڑایا سائیڈ لیمپ بند کیا اور پردے برابر کیے آج شانزل جوتے اتار چکا تھا ۔
اپنے کمرے میں آکر ایک کونے میں بیٹھ گئی وہ ایک خود دار لڑکی تھی اس کا ضمیر گوارا نہیں کر رہا تھا کہ وہ کمرے کا بیڈ بھی استعمال کرے ویسے بھی اسے اس کی حیثیت پتا تھی۔
سوچوں میں گم اسے بھوک لگنے لگی کل سے پانی کے سوا اس کے حلق سے کچھ بھی نہیں اتر تھا صبح کا ناشتہ اور کھانا اسی نے پکایا تھا لیکن بغیر کچھ کھائے ہی نکل گئی تھی۔
وہ جب اس گھر کا بیڈ استعمال نہیں کر رہی تھی تو کھانا بہت دور کی بات ہے صبح وہ پہلے مسجد گئی پھر ہاسٹل اور پھر انٹرویو دینے اور تب یی پرس چھوٹ گیا۔
پھر آفس تک، پھر آفس سے شانزل وِلا پیدل آنا گھر آئے تک تو اسے چکر آنے لگے تھے۔
لیکن شانزل کی بات سن کر اس نے طے کرلیا تھا کہ کل سے اندھیرا ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے گی انہی سوچوں میں فجر ہوگئی۔
حورعین نماز پڑھ کر باہر آئی کل کی طرح ناشتہ اور کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگی حالانکہ اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ کام کر سکے بار بار آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے لیکن اس نے ہمت کی۔
جیسے ہی روشنی ہوئی وہ میڈیکل گی اوردوائی لے آئیں پیروں پر لگائیں اور کھانا ناشتہ پکانے لگی فارغ ہوئی تو اسے حیا کا خیال آیا اور اسنے ایڈریس میسج کیا۔
