Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 39
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
وہ کائنات کی واحد لڑکی تھی جس کے آگے شاہ زر جہانزیب کی ثابت قدمی گھٹنے ٹیک دیتی تھی
وہ واحد لڑکی تھی جس کے آگے شاہ زر جہانزیب بے اختیار ہو جاتا تھا آج بھی ہونے لگا تھا
یا شاید وہی لڑکی تھی جو شاہ زر جہانزیب کو بے اختیار کر سکتی تھی
کچھ ساعتیں تو ایک دوسرے کو محسوس کرتے گزری
اس کا یہ انداز برسوں سے جلتے شاہ زر جہانزیب کے دل میں موجود طوفانوں کو متاثر کر رہا تھا پھر بھی وہ بھرپور کوشش کر رہا تھا کہ کسی طرح حیا کو ٹال دے
“ایک عرصے سے آپ مہر بہ لب ہیں اب بس کردیں کب تک خود کو نظر انداز کریں گے۔۔۔۔۔ آپ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتے مگر اپنی ذات پر ظلم کر جاتے ہیں۔۔۔۔۔ شاہ زر کب تک اپنی تکلیف کو خود سے چھپاتے رہیں گے”
شاہ زر جہانزیب ان لوگوں میں سے تھا جو دوسروں کے زخموں پر مرہم تو رکھتے ہیں مگر اپنے زخموں کو کچھ سے بھی چھپا لیتے ہیں
“حیا پلیز میرے زخم نہ ادھیڑو”
شاہ زر کے لہجے میں ایک زمانے کا کرب تھا
حیا زمان نے آج ارادہ کر لیا تھا
شاہ زر جہانزیب کے زخموں اور اس کے درمیان موجود بے نیازی کی دیوار کو گرا کر ہی رہے گی
“نہیں شاہ زر میں تو آپ کے زخموں کی مسیحائی کرنا چاہتی ہوں، آج حیا زمان، شاہ زر جہانزیب سے پہلی اور آخری بار کچھ مانگتی ہے، آج حیا زمان، شاہ زر جہانزیب سے مسیحائی کا حق مانگتی ہے، شاہ زر میں آپ کی دیوانی ہوں اس دیوانگی کے صدقے اپنے غموں کے چند سکے میرے کشکول میں ڈال دیں”
شاہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا نیلی آنکھیں اپنے اندر کا حال چھپانے کی پوری کوشش کر رہی تھی
” اس دیوانگی کے صدقے شاہ زر جہانزیب قربان میری جان۔۔۔۔”
اس کے لفظوں پر تڑپ ہی تو اٹھا تھا وہ اپنے رخسار پر رکھے ہاتھ کو چوما
” اس دیوانگی کے صدقے شاہ جہانزیب کی خوشیاں قربان، اس دیوانگی کے صدقے شاہ زر جہانزیب کی زندگی قربان۔۔۔۔۔۔۔۔ تم خود کے لیے ایسے لفظوں کا استعمال نہ کیا کرو”
“تو بس مجھے شاہ زر جہانزیب ہی چاہیے، مجھے کسی چیز کی چاہ نہیں رہی، مجھے شاہ زر جہانزیب چاہیے، اس کی ذات کا حصہ بننا ہے کیونکہ شاہ زر جہانزیب ہی میری دنیا ہے “
شاہ زر کی نظر اپنے ہاتھ میں موجود حیا کے ہاتھ پر جا ٹکی یا شاید وہ حیا کی آنکھوں میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا
” ایک عرصے سے میں نے خود کو محسوس نہیں کیا پتا نہیں شاہ زر جہانزیب کا وجود کس حال میں ہے”
” آج محسوس کر لین شاہ زر”
حیا نے ایک مرتبہ پھر اس کا دل سہلا کر تسلی دی
“خوف آتا ہے”
” کس سے؟”
” بکھرنے سے”
شاہ زر کے خول کے ساتھ حیا کہ دل میں کہیں بہت اندر کچھ ٹوٹا تھا
اس طرح شاہ زر جہانزیب کو دیکھنا بہت مشکل کام تھا
” میں سمیٹ لوں گی “
اور آخر کار شاہ جہانزیب کی بے نیازی نے گھٹنے ٹیک دیئے اس نے تھکن زدہ انداز میں اپنی پیشانی حیا کے کندھے پر رکھ دی اور اپنے ہاتھوں کو اس کے گرد باندھ لیا
“حیا”
اس کا کرب آلود پکار پر ہی حیا کی آنکھیں نم ہو گئیں
شاہ زر کی سانسین کچھ تیز ہو گئی تھی شاید وہ ضبط کر رہا تھا
“میں آپ کے پاس ہوں اور آپ کے ساتھی بھی”
حیا نے اپنے ہاتھ اس کے چوڑے شانوں کے گرد باندھے کر اپنے ہونے کا یقین دلایا اپنی انگلیاں اس کے گھنے ملائم بالوں میں پھیری
کئی عرصے پہلے کی خواہش پوری ہوئی تھی
” بس یہی تو شاہ زر جہانزیب کے جینے کی وجہ ہے ورنہ زندگی کے راستے تو شاہ زر جہانزیب گیارہ سال پہلے خود پر بند کر چکا ہے۔۔۔۔۔ میں ایک جدی پشتی رعیس جہانزیب سکندر کی پہلی اولاد تھا مجھے ویسے ہی آسائیشیں ملی جیسی ملنی چاہئے تھی مگر ایک جھٹکے سے زندگی نے مجھے عرش سے فرش پر لا پٹخا۔۔۔۔۔ میں یتیم ہوگیا۔۔۔۔۔اس دنیا میں یتیمی سب سے بڑی محرومی ہے۔۔۔۔۔وہ صنم جو میرے جگر کا ٹکڑا تھی خون آلود کپڑوں میں دوڑتی ہوئی آکر میرے گلے لگ کر رو پڑی ۔۔۔۔۔اس بری طرح کانپ رہی تھی کہ میں سن رہ گیا۔۔۔۔۔میں 17 سال کا تھا، نہ مجھے دنیا کی سمجھ تھی نہ دنیا داری کی، میں نے دنیا کا بہت بھیانک روپ دیکھا اس وقت نہ میرے پاس سر رکھ کر رونے کے لئے کندھا تھا نہ چھپ جانے کے لیے آغوش، حیات سکندر کی شرط قبول کرنے کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا میں سب چھوڑ بھی دیتا مگر ماں باپ کے بعد صنم کو اس درندے کے حوالے کرنا۔۔۔۔۔۔۔ بے بسی کیا ہوتی ہے کوئی مجھ سے پوچھتا۔۔۔۔۔۔ حیا مجھ سے بڑا بدنصیب کون ہوگا۔۔۔۔۔ مجھے تو میرے باپ کی قبر کے نشان تک کا نہیں پتا۔۔۔۔۔۔ حیات سکندر نے انہیں مٹی تک نصیب نہیں ہونے دی، میں بھی تو انسان ہوں جب میرا دل ماں باپ کی جدائی سے کرلائے تو میں کہاں جا کر فاتحہ پڑھوں؟ حیات سکندر نے میرے پیروں کے نیچے سے زمین ہی نہیں سر سے آسمان بھی کھینچ لیا۔۔۔۔۔۔”
اس نے بولنا شروع کیا تو بولتا ہی چلا گیا آواز اتنی بھاری تھی اس میں برسوں کے غموں کا بوجھ تھا
“حیات سکندر مجھ سے چمٹی ہوئی صنم کے لئے شرائط سامنے رکھ رہا تھا جن کے مطلب تو اسے سمجھ ہی نہیں آتے تھے۔۔۔۔۔ اس وقت جو میں نے فیصلہ کیا اس سے کرنے کے لیے بہت بڑا جگر چاہیے جو شاید ہی دنیا میں کسی کے پاس ہے، آناٌ فاناً حیات سکندر نے پیپر سائن کروائے ، دبے لفظوں میں مجھے اشارہ دیا کہ اپنی جان بچ جانے پر شکر کروں اور لوٹ کر نہ آؤ، دوسری طرف صنم۔۔۔۔۔۔۔ وہ بچی تھی۔۔۔۔۔ دس سال کی بچی، جو اس حادثے کو قبول نہیں کر پا رہی تھی وہ خون آلود کپڑوں، ماں باپ کے خون سے سنے ہاتھ اور چہرہ لئے اس قہر سے بکھر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ میں اس سے کہہ رہا تھا میں واپس آؤں گا وہ مان ہی نہیں رہی تھی،،،،، مجھے کھو دینے کے خوف سے وہ مر جانے کو ہوئی حیا۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔ اس نے کہا بھی اگر میں اسے چھوڑ کر گیا تو وہ مر جائے گی۔۔۔۔۔ لیکن میں بے بس تھا، میں اسے ہمت دے رہا تھا صبر کرنے کی تلقین کر رہا تھا، وہ دس سال کی بچی تھی بہت سی باتیں تھیں جو میں اس سے سمجھا نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔”
اس کی آواز نم ہو رہی تھی یہ نمی برسوں کے غموں کے سمندر کی تھی
یہ نمی اپنے آپ میں طغیانیاں لیے ہوئے تھی اس نے کہا تھا کہ تم ان طغیانیوں کی زد میں آ جاؤں گی
اور حیا زمان ان طغیانیوں کی زد میں آ گئی تھی
“میں ایک انتظار کی آس تھما اسے چھوڑ آیا۔۔۔۔ انتظار بھی گیارہ سال کا۔۔۔۔۔۔ یہ گیارہ سال میں نے کیسے کاٹے ہیں یہ صرف میرا رب جانتا ہے حیا۔۔۔۔۔۔۔ جب میں وہاں سے نکلا تو بالکل خالی ہاتھ تھا دنیا کی ٹھوکروں نے مجھے اتنا کمزور کردیا کہ موت میں اور مجھ میں صرف ایک قدم کا فاصلہ تھا۔۔۔۔ سترہ سال کا لڑکا کتنی ہمت کا مظاہرہ کر سکتا ہے مگر سرکاری ہسپتال کے بیڈ پر پڑے میرے بے یارومددگار وجود کو اچانک احساس ہوا کہ اگر میں اپنے زخموں اور غموں پر ہی روتا رہوں گا تو جلد ہی مر جاؤں گا۔۔۔۔۔ اگر میں مر گیا تو میرے جگر کا ٹکڑا جو میرے انتظار میں ہے، اس کے ساتھ وہ لوگ نہ جانے کیا کریں گے، اسی دن شاہ زر جہانزیب نے اپنے غم، تکلیف، درد، زخم سب خود ہی سے چھپا لیے۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے آپ کو خود میں دفن کر لیا۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی زندہ رہنے کے لیے خود کو اپنے ہی وجود میں دفن کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔ یہ بڑا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ “
شاہ زر جہانزیب کی ایک آہ ہی حیا زمان کے دل کے ہزار ٹکڑے کر گئی اس نے کہا تھا کہ بہت سے طوفان ابل رہے ہیں ان میں زخمی ہو جاؤ گی
شاہ زر جہانزیب کی ایک آہ نے حیا زمان کو طوفانوں میں دھکیل دیا تھا
“اس دن سے میں نے اپنے زخم خود سے بھی چھپانے لگا کیونکہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا، دن بھر کی محنت کے بعد جب ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا، پہلا نوالہ منہ میں ڈالتے ہی صنم کا خیال آتا نہ جانے اس نے کچھ کھایا ہوگا یا نہیں اور میری بھوک مر جاتی، پانی پیتے وقت خیال آتا کہیں وہ پیاسی تو نہیں ہوگی، کبھی کبھی تو میں بے چین ہو کر گہری نیند سے اٹھ جاتا کہ کہیں وہ کسی تکلیف پر رو تو نہیں رہی ہوگی، خود کو بغیر کسی سہارے کے کھڑا کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے کوئی مجھ سے پوچھے۔۔۔۔۔ میرے سامنے کئی مرتبہ دو راستے تھے صحیح اور غلط، غلط راستہ تو ہمیشہ آسان ہوتا ہے اور صحیح راستہ مشکل مگر اس سے بھی مشکل صحیح راستے کا چناؤ کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔بہت محنت کے بعد میرے پاس پیسہ آگیا، نام آگیا، رتبہ آگیا، شہرت آ گئی، پھر ایک دن میرے پاس صنم بھی آ گئی، صنم کے ساتھ زندگی میں ٹھہراؤ بھی آ گیا۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔ مگر حیا۔۔۔۔ مجھے چین نہیں آیا “
ساتھ ہی ایک آنسو ڈھلک کر حیا کے کندھے پر گرا
شاہ زر نے کہا تھا جھلس جاؤں گی اور وہ آنسو حیا زمان کی روح جھلسا گیا
ایک عورت دنیا کی سب سے بڑی تکلیف، محرومی، غم، درد سب سہہ لیتی ہے مگر اپنے مرد کی آنکھ سے گرے ایک آنسو کا بوجھ اس کی برداشت سے باہر ہوتا ہے
ایک عورت کے لیے دنیا کا سب سے بڑا بوجھ اس کے مرد کی آنکھ کا ڈھلکا ہوا آنسو ہوتا ہے
اولاد کے آنسو دل پر گرتے ہیں مگر اس مرد کے آنسو روح پر۔
شاہ زر کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا ورنہ یقینا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا
“جب صنم اور شانزل کے درمیان سب ٹھیک ہونے لگا تھا میرے پاس جینے کی کوئی وجہ ہی نہیں بچی تھی۔۔۔۔ میں اپنے کھوکھلے وجود کا کیا کروں گا؟ میں یہی سوچ رہا تھا کہ صنم نے میرے ہاتھوں میں زندگی کی کرن تھما دی، اس نے تمہیں مجھے سونپ دیا، برسوں سے ویرانیوں نے میرے وجود میں بسیرا کر رکھا تھا مجھے لگا تم آؤ گی تو بہار لے آؤں گی،
میں نے سوچ رکھا تھا تمہیں ہر خوشی دوں گا مگر۔۔۔۔۔۔ وہ ویڈیو۔۔۔۔۔۔ تمہیں کھو دینے کا خوف۔۔۔۔۔۔ مجھے لگا میں پھر خالی ہاتھ رہ جاؤں گا،،،،،، تم واحد ہو جس کی وجہ سے میں نے جینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی میں نے قریب ترین رشتوں کا بھیانک چہرہ دیکھا تھا، قسمت نے میرے ساتھ اتنے کھیل کھیلے ہیں کہ ہر حادثہ ممکن لگنے لگا ہے۔۔۔۔ ہر جھٹکے کے لیے میں نے خود کو تیار کر رکھا ہے۔۔۔۔۔ مگر تمہاری جدائی میری ہستی ہلا گئی۔۔۔ پہلی بار میرے مردہ وجود نے کسی کی تمنا کی وہ بھی لا حاصل رہے گئی تو؟۔۔۔۔۔ اس لئے میں اس دن بغیر رکے چلا گیا۔۔ ۔۔۔ میں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی مجھے معاف کر دو حیا۔۔۔”
” شاہ زر یوں معافی مانگ کر مجھے شرمندہ مت کیجئے، جو ہوگیا ہم اسے بدل نہیں سکتے نہ میرے بس میں ہے کہ میں آپ کے گیارہ سال واپس لا سکوں مگر محبت کا مرہم ضرور ہے جو میں آپ کے زخموں پر رکھ سکتی ہوں”
شاہ زر نے چہرہ اٹھا کر اپنی پیشانی اس کی پیشانی پر ٹکائی اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھاما آنکھیں بند تھیں اور پلکیں نم۔
“تمہارا وجود ہی شاہ زر جہانزیب کے ہر غم کی دوا ہے “
حیا نم آنکھوں سے مسکرائی
” مسیحائی کا حق دے کر آج آپ نے حیا کی محبت کو معتبر کر دیا ہے”
” مگر میں ایسا ہی ہوں مشکل پسند، ہر بات کہہ کر سمجھانے کی عادت نہیں ہے مجھے “
“قبول ہے”
“شانزل کی طرح علی الاعلان اپنی محبت کا اظہار نہیں کر سکتا”
” قبول ہے “
حیا نے مسکرا کر سر اٹھایا آپ نے ساڑھی کے پلو سے شاہ زر کی نم آنکھیں پونچھیں شاہ زر نے آنکھیں کھول کر اپنی مسکراتی زندگی کو دیکھا
“نا میں تمہارے آئیڈیل جیسا ہوں”
قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔۔۔۔۔ شاہ زر جہانزیب مجھے اپنی تمام تر بے نیازی کے ساتھ کو قبول ہے “
” اور حیا شاہ زر مجھے اپنی تمام تر دیوانگی کے ساتھ کو قبول ہے”
“اچھا اب چلیں، اتنی رات ہو گئی ہے”
“محترمہ رات نہیں صبح ہو گئی ہے” شاہ زر نے اسکا چہرہ سمندر کی طرف کیا جہاں سورج کی پہلی کرن پھوٹ رہ تھی۔
پھر حیا اور شاہ زر نے اسی چبوترے پر نماز ادا کی اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی کا سفر حیا کے لیے دنیا کا سب سے حسین سفر تھا۔ وہ خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی جیسے ہی وہ فردوس بریں میں داخل ہوئی۔ ڈائننگ روم سے آوازیں آ رہی تھیں حیا نے اندر جاکر چہکتے ہوئے لہجے میں سب کو سلام کیا۔
اور سلام کا جواب اس سے بھی بھرپور انداز میں آیا تھا۔ سب سے زیادہ پرجوش تو عانیہ تھی جو پٗھتّو کا نعرہ لگا کر اس کی طرف لپک رہی تھی۔ حیا نے فورا اسے اٹھا لیا۔ اشعر چپ کیسے رہ سکتا تھا۔
“محترمہ حیا صاحبہ آپ صبح صبح کہاں کی سیر کو نکلی ہوئی تھیں۔ آپ کے پیچھے میری بیٹی پھتو پھتو کا رونا رو رو کر نڈھال ہوگئی تھی۔”
“ارے میرا بچہ پھتو کو یاد کر رہا تھا۔” حیا کی بات پر عانیہ مزید اس کی طرف لپکی۔ اسی طرح ہلکی پھلکی باتوں میں ناشتہ ہوا۔ شاہ زر سونے چلا گیا، اشعر کسی کام سے، شانزل آفس اور ہانیہ محترمہ عانیہ کو نہلانے لے کر چلی گئی وہ الگ بات ہے کہ عانیہ حیا کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھی۔ سب سے فراغت ملتے ہی حورعین حیا کو کمرے میں لے آئی۔
“چلو حیا جلدی سے مجھے تمہارے چہرے پر یہ کھلتی کلیوں سی مسکان کی وجہ بتاو۔ کہیں میں پھوپھو تو نہیں بننے والی؟”
حیا ایک جھینپ گئی۔
“دھت پاگل ہو کیا ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟”
حور ٹھٹکی۔
“کیوں نہیں ہو سکتا؟”
حور کی بات پر حیا گڑبڑا گئی۔ انجانے میں وہ کافی کچھ عیاں کر گئی تھی۔ وہ جواب نہ دے پائی۔
“وہ۔۔۔ وہ۔۔۔”
“کیا وہ۔۔۔ وہ لگا رکھی ہے؟ کیوں نہیں ہو سکتا ایسا؟ چلو شروع کے دو مہینے میں تمہارے ساتھ تھی لیکن اس کے بعد تو تم لوگ ایک ہی کمرے میں۔۔۔۔”
حور نے حیا کو کھوجتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔ حیا جزبز ہوگئی۔
“حور مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہی ہو؟”
“حیا سچ سچ بتاؤ مجھے تم کیا پاگل پنا کرتی رہی ہو اب تک؟”
“تم کیوں مجھ پر برس رہی ہو میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔” حور نے ایک دھپ حیا کی پیٹھ پر لگائی۔
“ہائے ظالم!”
“کیوں نہیں کیا تم نے؟ تم کس قدر پاگل ہو۔ کل شاہ جو ذرا ہنس کر اینجلینا سے بات کر رہے تھے تو تمہارا خون خشک ہو رہا تھا۔ اور اب۔۔۔ یا اللہ۔۔۔ اف حیا! کچھ دنوں میں تمہاری شادی کو ایک سال ہونے والا ہے۔ اور۔۔۔ اور اف حیا میں تمہارا کیا کروں!”
“میں کیا کروں؟ کب سے ڈانٹ رہی ہو۔”
حیا نے سارے جہاں کی مظلومیت خود پر طاری کی۔
“تھپڑ کھاؤ گی مجھ سے کیوں اپنا گھر خراب کر رہی ہو؟ اور اب تم ہی پہل کرو۔”
حیا بدک گئی۔
“تمہارا دماغ جگہ پر ہے میں کیوں اپنا گھر خراب کرنے لگی؟ اور۔۔۔۔ اور میں کیسے پہل کر سکتی ہوں؟ میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی”
“تمہارے تو اچھے بھی کریں گے۔ سب سے پہلے تو میں تمہارے سڑے ہوئے کپڑے اٹھا کر پھینکوں۔ اتنے اچھے اچھے سوٹ تمہاری بری کے لیے خریدے تھے میں نے، مگر نہیں تم وہی تین جوڑی پہنتی ہو۔”
حورین نے سچ میں اٹھ کر وارڈروب سےتینوں جوڑی کپڑے نکال کر پھینک دیے۔
“آج سے جو ڈریس میں سلیکٹ کرونگی تم وہی پہنو گی ویسے تم مجھے یہ بتاؤ تم لوگ کل رات گئے کہاں تھے؟ مجھے تو لگا تھا کہ شاہ نے کسی ہوٹل میں کمرہ بک کیا ہوگا مگر اب مجھے ایسا نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہوا ہوگا۔” حیا خوامخواہ ہی سرخ پڑ گئی۔
“حور تم کس قدر بے شرم ہو گئی ہو۔”
“مجھے تو لگتا ہے سارے جہاں کی شرم تم پر آکر ختم ہو گئی ہے۔”
حور نے بھی فورا جواب دیا۔
“ہم لوگ کل ساحل سمندر گئے تھے۔”
کہہ کر حیا نے گردن جھکائی۔
“کل۔۔۔ کل میں نے شاہ زر سے کہہ دیا کہ میں ان سے محبت کرتی ہوں۔ اور۔۔۔ اور پتا ہے شاہ زر بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔”
اپنی طرف سے تو حیا نے زور دار دھماکہ کیا تھا مگر اس کا حورعین پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ الٹا حورین نے اپنا سر پیٹ لیا۔
“تم لوگ دنیا کے پہلے میاں بیوی ہوگے جنہوں نے شادی کے ایک سال بعد اظہار محبت کیا ہوگا۔ مجھے تو پہلے سے پتہ ہے بلکہ پہلے دن سے اب اٹھو جاکر شاور لو اور سو جاؤ۔ شام تک اٹھنا پھر میں ڈریس اور جیولری بتاؤں گی وہ پہن کر انسانوں والے حلیے میں آجانا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں حیا سو کر اٹھی تو حور نے اس کو سترنگی ریشم کے دھاگوں والا سوٹ پہننے کو کہا۔ سترنگی دوپٹے، کاجل، گلابی لپ اسٹک، سات رنگ کے نگوں سے مزین ٹاپس اور دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کر سات رنگ کی چوڑیاں پہنائیں۔
“اف حور تم کیوں یہ سب کر رہی ہو؟”
“چپ کر کے بیٹھو”
حور نے اس کی ایک نہ سنی۔
جب حیا تیار ہو کر ہال میں آئی تو اشعر واپس آ چکا تھا۔ عانیہ تو حیا کو ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔ اور اس ہی کی گود میں چڑھی بیٹھی تھی۔ اس کے لیے یہ سجی سنوری پھتو بڑی نئی تھی۔ وہ اس کی چوڑیوں سے کھیل رہی تھی اور خوش ہو رہی تھی تبھی اس کی نظر میں حیا کے کانوں کے ٹوپس پر گئی۔ شاید اسے کچھ زیادہ ہی پسند آ گئے تھے تبھی وہ انہیں کھینچ کر نکالنے لگی۔
“نہیں کرو عانیہ پھتو کو درد ہو رہا ہے۔”
مگر شاید عانیہ کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی اس نے غصے میں چیخ ماری اور وہی گود میں مچلنے لگی۔ مگر وہ بھی حیا تھی۔ اس نے عانیہ کو گود سے اٹھا کر اپنے بازو میں بٹھایا۔ اور انگلی دکھا کر کہا۔
“میں تم سے ناراض ہوں بالکل میرے پاس مت آنا” کہہ کر چہرہ دوسری طرف گھما لیا۔
اشعر ہانیہ حورعین سب دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ہانیہ 2 سیکنڈ حیا کو دیکھتی رہی پھر پکارا۔
“پھتو”
مگر حیا نے مڑ کر نہ دیکھا تو پھر پکارا مگر حیا نہ مڑی۔ تو وہ الٹی پلٹی ہوتی ہوئی اس کے پاس آئی اور صوفے کی پشت کے سہارے کھڑے ہوتے ہوئے اسے پھر پکارا
“پھتو”
اور اپنی گردن ٹیڑھی کر کے اسے دیکھا اور اپنے چار دانت نکال کر مسکرائی۔ مگر اپنے پھتو پر کوئی اثر نہ ہوتے دیکھ کر وہ مزید حیا کے قریب آئی۔ اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اپنے گال پر رکھ کر اور اپنے ہونٹ چونچ کی شکل میں بنائے اور اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں کے قریب کرنے لگی۔ حیا فورا پیچھے ہوئی۔ ہانیہ تو وہاں سے اٹھ کر کمرے میں گئی۔ اشعر کا چہرہ دیکھ کر حیا کو معاملہ سمجھ میں آیا دراصل اشعر صاحب ہانیہ محترمہ کو اسی طریقے سے مناتے تھے۔ ایسی چیز کو ہانیہ کاپی کر رہی تھی۔ حیا کو جیسے ہی معاملہ سمجھ میں آیا وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
“اشعر خوش ہو جاؤ یہ اب تمہاری بھی کاپی کرنے لگی ہے۔”
حیا مسلسل ہنس رہی تھی۔
“عانیہ کی بچی شرم نہیں آتی باپ کی پول کھولتے ہوئے۔”
کہہ کر اشعر عانیہ کو اٹھاتا ہوا جھینپ کر باہر چلا گیا۔
حیا تو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگی حور کا بھی یہی حال تھا۔
تبھی شاہ زر نے گھر میں قدم رکھا وہ حیا کو دیکھ مبہوت ہوا۔ وہ بہار کا کھلکھلاتا چمن لگ رہی تھی۔ قلقل کرتی ہنسی اس نے ایک سال بعد سنی تھی۔ آخری بار کھلکھلاتے ہوئے اس نے حور کی رخصتی کی رات دیکھا تھا ایک سال بعد بھی یہ منظر ہر دل باندھ لینے کی حد تک خوبصورت تھا۔
اس کی ست رنگی چوڑیاں کھنک کر اس کی قلقل کرتی ہنسی کا ساتھ دے رہی تھیں۔ اس کے شنگرفی گلابی ہونٹوں میں شاہ زر کی جان اٹک سی گئی۔ اچانک اس کے جزبات میں ایک طوفان سا اٹھا تھا جسے اس نے دبانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ چلتا ہوا ان لوگوں کے پاس آیا اور حورعین سے مخاطب ہوا۔
“صنم تمہارے پیچھے جو پینٹنگ لگی ہے اس میں کتنے پھول ہیں؟”
لہجہ کافی سنجیدہ تھا۔ حورعین پہلے چونکی پھر کھڑی ہوئی اور مڑ کر پھول کرنے لگی۔
“ایک۔۔۔ دو۔۔۔۔ تین۔۔۔”
تبھی شاہ زر اطمینان سے حیا کے بازو میں بیٹھا۔ ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر اسے اپنے قریب کیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام کر اپنے ہونٹ نرمی اور حلاوت کے ساتھ حیا کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔
کچھ سیکنڈ بعد اس نے حیا کے ہونٹ آزاد کئے اور حیا کے ہونق بنے چہرے کو دیکھ کر مسکرا دیا۔ حور ہنوز پھول گننے میں مصروف تھی۔ شاہ زر نے اپنے کمرے کا رخ کیا۔ حیا کو اپنے گال دہکتے ہوئے محسوس ہوئے۔
“اف خدا!”
تبھی حور پیچھے مڑی۔
“اٹھائیس پھول۔۔۔۔”
مگر یہ کیا شاہ زر تو غائب تھا۔ تبھی اس کی نظر سرخ چہرہ لیے بیٹھی حیا پر پڑی۔
“تمہیں کیا ہوا؟”
“ک۔۔۔ک۔۔۔کچھ ن۔۔۔نہیں”
حیا نے بمشکل کہا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر تاثرات مٹانے چاہے۔ اسے ابھی بھی شاہ زر کے پر حدت لبوں کا لمس اپنے لبوں پر محسوس ہو رہا تھا جو اس کے دل کی دنیا میں طوفان مچا رہے تھے اور حورعین اس سے بے نیاز تھی۔
“چلو اپنے کمرے میں جاؤ اور دیکھو شاہ کو کچھ چاہیے کیا؟”
“م۔۔۔ م۔۔۔۔ میں ک۔۔۔ کیوں جاؤں؟”
حیا نے ابھی تک کر بمشکل جملہ مکمل کیا۔ حور نے اسے گھورا۔
“یہ تمہیں اتنا تیار میں نے خود دیکھنے کے لئے کیا ہے، شاہ کے لئے کیا ہے، جاؤ کمرے میں، نہیں تو ابھی میرا میٹر گھوم جائے گا۔”
حور نے اسے کمرے کی طرف دھکا دیا۔
“تم دنیا کی سب سے ظالم نند ہو۔”
حیا تو چٹخ گئی۔
“اور تم دنیا کی احمق ترین بھابھی ہو!”
حور نے دوبدو جواب دیا
حیا منہ بناتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔ مگر اس کا دل ٹرین کی رفتار سے دھڑک رہا تھا۔
“اف ابھی باہر حور کی موجودگی اس قدر بولڈ اسٹیپ لیا تھا۔ اب تو وہ کمرے میں تنہا۔۔۔”
اچھا تھا کہ وہ واشروم میں تھا کچھ دیر تک تو وہ جی کڑا کر کے کھڑی رہی لیکن جیسے ہی واشروم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اس کی ہمت جواب دے گئی۔
حیا نے پوری رفتار سے باہر کی طرف دوڑ لگائی۔ مگر شاہ زر اس سے زیادہ تیز تھا اس میں کمرے کے دروازے سے باہر نکلنے سے پہلے ہی اس کی کلائی تھام کر اسے روکنا چاہا۔ اسی افتاد میں ٹک کی آواز کے ساتھ حیا کی ناک سیدھا شاہ زر کے سینے سے ٹکرا گئی۔ حیا کو تارے نظر آگئے۔
“ہائے۔۔۔۔ ناک توڑ دی میری۔”
حیا اپنی ناک پکڑے بول رہی تھی۔
“دکھاؤ۔۔۔۔ یار کہاں لگی ہے؟”
“اف اللہ شہید کر دی میری ناک۔”
“تو تم سے کس نے کہا تھا اس طرح بھاگنے کو، کیوں بھاگ کر جا رہی تھی تم؟”
اس کی بات پر حیا اپنا درد بھول گئی۔ پھر اسے احساس ہوا کہ وہ شاہ زر کے حصار میں کھڑی ہے اور شاہ زر اس کے کافی قریب کھڑا ہے۔ وہ فورا اس سے دور ہوئی۔
“وہ۔۔۔ وہ۔۔۔”
حیا کو جواب سمجھ نہ آیا۔
“ہاں چائے۔۔۔ہاں چائے ہی تو لینے جا رہی تھی میں آپ کے لیے۔”
شاہ زر اس کی گھبراہٹ سے محظوظ ہوا۔ اس نے نرمی سے حیا کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قریب کیا۔ پھر سے اپنے حصار میں لیا۔
“میں مم۔۔۔ میں چائے چ۔۔۔ چائے لے لے آؤں؟”
شاہ زر مسکرایا۔ حیا کی نروس نیس اسے مزہ دے رہی تھی۔ اس نے حیا کے کان میں سرگوشی کی۔
“سویٹ ڈش کے بعد چائے کون پیتا ہے؟” وہ جس سویٹ ڈش کی بات کر رہا تھا حیا اسے سوچ کر تو گلابی ہوگئی۔ شاہ زر انہماک سے اس کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
“ہاں تم اگر مزید سویٹ ڈش آفر کرو تو میں منع نہیں کروں گا”
حیا نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔ شاہ زر کچھ بدمزہ ہوا مگر دروازہ کھولا تو سامنے حورعین تھی۔
“شاہ دیکھیں شان کا فون ہے۔ انہیں کچھ ضروری بات کرنی ہے۔”
وہ موبائل لیے کھڑی تھی۔ شاہ زر نے موبائل تھام کر کان سے لگایا۔
“ہاں یار وہ سائلنٹ پر ہے۔”
“ہاں بھائی تم پہنچو تو، ہاں۔۔۔ ہاں دس منٹ میں ہیلی کاپٹر آرہا ہے۔”
حیا ٹھٹکی۔ شاہ زر نے فون حورعین کو تھمایا۔
“تم ذرا شانزل کے کچھ کپڑے پیک کر دو”
“آپ لوگ کہیں جا رہے ہیں؟”
حورعین کے سوال پر حیا کا دل اندیشوں سے گھرنے لگا۔
