125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

مولوی صاحب سامنے بیٹھے پوچھ رہے تھے کہ
“حورعین جہانزیب ولد جہانزیب سکندر کیا آپ کو شانزل ابراہیم ولد ابراہیم یوسف سے بعوض دس کروڑ سکہ رائج الوقت نکاح قبول ہے؟”
حورعین نے آنسو بھری نگاہوں سے ایک نظر اپنے چچا کو دیکھا پھر ہاتھ میں پکڑے موبائل کو جو ایکدم خاموش تھا اسکی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا۔
“قبول ہے” حورعین کو اپنی آواز کھائی سے آتی سنائی دی پھر اس نے اپنے دستخط نکاح نامے پر گھسیٹ دیے۔
مولوی چچا گواہان چلے گۓ تو اس نے نظر اٹھا کر گھمائ سب کچھ ویسا ہی تھا یہ حویلی، یہ کمرہ وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی باہر لان، اوپر چمکتا ہوا چاند سب ویسا ہی تھا۔ وہ چلتی ہوئی آئینے کے سامنے آئی اس احساس ہوا کہ وہ بدل گئی ہے وہ “حورعین جہانزیب” سے “حورعین شانزل ابراہیم ” ہو گئی ہے۔
وہ ڈھے جانے کے انداز میں صوفے پر بیٹھی اس نے بے یقینی کی کیفیت میں اپنے ہاتھوں کو دیکھا اسے لگا اسکے ہاتھ ایکدم خالی ہیں ایسا لگتا بھی کیوں نہ اسکے ہاتھوں میں نہ مہندی تھی نہ چوڑیاں۔ پھر آئینے میں دیکھا پرنٹڈ لان کے سبز رنگ سوٹ میں کھڑی تھی ۔
وہ خود کو دیکھتے ہوئے صورتحال قبول کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ دھڑا کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا آنے والے وجود کو دیکھ کر اسے لگا اب وہ ہل نہیں سکے گی وہ اسکی وجاہت نہیں تھی وجہ اسکی آنکھوں اور صبیحہ چہرے پر موجود ناگوار تاثرات تھے جسے دیکھ کر حورعین کو لگا اب وہ سانس نہیں لے پائے گی لیکن شانزل ابراہیم کو حورعین کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا وہ ابھی اس حویلی کو آگ لگا دے وہ شرابور نگاہوں سے حورعین کو دیکھتےہوئے آگے بڑھا حورعین کی کلائ ٹھانی اور باہر نکل گیا۔ اب وہ اسے لیے زینے اتر رہا تھا مگر حورعین کی نظریں اسکے ہاتھ پر تھیں ۔ وہ تیز قدم اٹھاتا چل رہا تھا اور حورعین تقریبا بھاگتے ہوئے چل رہی تھی ۔
شانزل نےاپنی مرسڈیز کا دروازہ کھولا اور اسے بٹھایا اور حورعین کے چچا کو گھورتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور جارحانہ انداز میں گاڑی حویلی کے پورے سے باہر نکالی۔ اب گاڑی اپنی راہ پر رواں دواں تھی۔
حورعین کی تو ہمّت ہی نہیں ہوئی شانزل کی طرف دیکھنے کی وہ خاک اپنی صفائی دیتی۔
شانزل نے کوٹ کی جیب سے موبائل نکالا اور کال ملائ۔
فوننریسیو ہوتے ہی علیک سلیک کا تکلف کیے بغیر حکم صادر کیا
“رفیق، میں ایک گھنٹے میں گھر پہنچنے والا ہوں اس سے پہلے میرے کمرے میں دس کروڑ کیش ہونے چاہیے”
اور پھر فون کانٹے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ شانزل نے فون ڈش بورڈ پر پھینک دیا اور بیچارہ فون اتنا تشدد برداشت نہ کر سکا اور کومہ میں چلا گیا ۔
اب شانزل کے پاس صرف ایک ہی کام تھا خود پر لعنت بھیجنے کا۔ اس نے خود کو ایک سو ایک دفع لعنت بھیجی کہ پارٹی میں گیا ہی کیوں؟ نہ پارٹی میں جاتا نہ نکاح ہوتا۔ وہ یہ معاملہ اپنے طریقے سے حل کر سکتا تھا۔
سارا واقعہ شانزل کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔
حیات سکندر(حورعین کے چچا) کے گھر پارٹی تھی۔
بزنس کی دنیا کی سبھی بڑی ہستیاں موجود تھیں ۔ سبھی کے ساتھ بزنس کی دنیا کا بے تاج بادشاہ شانزل ابراہیم بھی۔
پارٹی اپنے عروج پر تھی رنگ و نور کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ شانزل ابراہیم نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی پوری حویلی جگر جگر کر رہی تھی۔
“خالو آپ کیسے ہیں؟” شانزل نے اپنے خالو عثمان سفیرکو عقیدت سے دیکھتےہوئے پوچھا ۔
“وعلیکم السلام برخوردار، میں ایکدم ٹھیک، تمہارے کیا حال ہے؟” عثمان سفیر نے شانزل کے سلام نہ کرنےپر چوٹ کی۔ وہ شانزل کی غلطیوں کا احساس اسی طرح دلاتے تھے۔
ان کی بات سن کر شانزل مسکرایا وہی قاتل مسکراہٹ “آپ کی دعا ہے، آپ پاکستان کب آئے؟”
“میں آج شام ہی آیا ہوں، اور رات کی فلائٹ سے واپس چلا جاؤں گا، تم آسٹریلیا کا چکر کب لگا رہے ہو؟ تمہاری خالہ نے سر کھایا ہوا ہے”
“انشا اللہ جلد ہی آنے کی کوشش کروں گا “
“بھئى میں تو صرف تمہارے دشمن کی پارٹی اٹینڈ کرنے آیا تھا” انھوں نے جاندار مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔
“چلیں اچھا ہے اسی بہانے ملاقات ہو گئی” عثمان صاحب کو کسی نے آواز دی تو وہ دوسری طرف چلے گئے ۔
شانزل کے والدین ایک حادثے میں جاں بحہوگئے تو آٹھ سالہ شانزل ابراہیم کو عثمان صاحب اور انکی بیوی نے اپنی سرپرستی میں لیا۔ کوئی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے انکی ساری توجہ کا مرکز شانزل ہی تھا لیکن ماں باپ کے بعد شانزل جیسا شرارتی بچہ سنجیدہ ہوگیا۔ عثمان صاحب اسے اِس بھنور سے نکالنے کے لیے آسٹریلیا شفٹ ہوگۓ۔ وہاں جانے کے بعد شانزل آگے تو بڑھ گیا لیکنسنجیدگی اسکی شخصیت کا خاصہ بن گئی ۔اس نے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد صرف اتنا کہا میں پاکستان جاکر بزنس کرناچاہتاہوں اور اسکی مخالفت کسی نے نہیں کی۔ پاکستان آنے کے بعد شانزل نے کمپنی اسٹارٹ کی اور کامیابی کی منزلیں طے کرنے لگا۔ آج وہ بزنس کی دنیا کا سب سے کامیاب بزنس مین تھا جس نے 27 سال کی عمر میں اپنے قدم جما لیے تھے۔ چھ فٹ سے نکلتا قد، کسرتی جسم گہری بھوری آنکھیں کتنی ہی نظریں اسے سراہتیں اور کتنی ہی نظریں حسد کرتیں جیسے حیات سکندر کی نظریں ۔
حیات سکندر چلتے ہوئے قریب آنے اور مسکراہٹ کے ساتشانزل سے مخاطب ہوئے
” خوش آمدید شانزل ابراہیم “
انکی بات سن کر شانزل اسطرح مسکرایا جیسے کہہ رہا ہو مجھے پتا ہے کہ آپ کو کتنی خوشیہوئی ہے ۔
“ویسے مجھے یقین تھا کہ تم ضرور آؤگے”
“چلیں اچھا ہے مجھے خوشی ہے کہ میں آپ کی امیدوں پر پورا اترا”اتنا کہہ کر وہ فون پر مصروف ہو گیا صاف مطلب تھا کہ وہ بات نہیں کرنا چاہتا ۔
انکے چہرے پر ناگوار تاثرات ابھرے جسے انھوں نے بڑی مشکل سے قابو کیااور صرف اتنا کہا “انسان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے”
شانزل سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا ۔
شانزل کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا جب اسکی نظر حویلی سے نکلتے نسوانی وجود پر پڑی۔ وہ کسی بھی زیبائش سے پاک سادے سے سبز سوٹ میں سر پر دوپٹہ جمائے نظریں نیچے کیے حیات سکندر تک آئی اور کہا
“چچا آپکی سی۔ڈی” نظریں ہنوز نیچے تھیں۔
حیات سکندر نے سی۔ڈی لے لی اب وہ خاموشی سے مڑ کر حویلی میں چلی گئی۔
کچھ دیر بعد تمام لائٹس بند ہوگئی سب ہی پریشان ہوئے کچھ موبائل ٹارچ آن ہوئی پھر حیات سکندر کی آواز آئی
“آپ لوگ پریشان نہ ہو میں ابھی یہ مسئلہ حل کرتا ہوں “
پھر وہ ہوا جس کی توقع شانزل مر کر بھی نہیں کر سکتا تھا ۔
ایک پروجیکٹر روشن ہوا اور پردے پر کچھ تصاویر چلنے لگی شانزل کو لگا چھت اسکے سر پر آگری ہو۔ یہ شانزل اور کسی لڑکی کی قابلِ اعتراض تصاویر تھیں۔
شانزل کبھی کسی لڑکی کے ساتھ انوالو نہیں ہوا تھا اور یہ تصاویر دیکھنےکے بھی قابل نہیں تھی۔
شانزل کے دماغ میں ایک جھماکہ ہوا یہ لڑکی وہی تھی حیات سکندر کی بھتیجی۔ تیسری کے بعد چوتھی چلتی اس سے پہلے کسی نے پروجیکٹر بند کروایا اور لائٹ آن ہو گئی۔
شانزل کا دماغ ماؤف ہوچکا تھا لیکن عثمان صاحب کا دماغ کام کر رہا تھا انھوں نے ہی پروجیکٹر بند کروایا تھا۔ لائٹ آن ہوتے ہی سب ہوش میں آئے اور چہ مگوئیاں ہونے لگی۔
شانزل تو بت بنا کھڑا تھا ۔
تبھی عثمان صاحب کی آواز آئی
“حیات سکندر معلوم کرواؤ کسی نے یہ حرکت کی میرے بھتیجے اور اسکی بیوی کے خلاف اس قدر شازش میں برداشت نہیں کروں گا”
“فکر مت کریں میں دیکھتا ہوں یہ حرکت کس کی ہے”
شانزل کے سر پر اب چھت نہیں آسمان آ گِرات تھا۔
جس لڑکی کو اس نے آج سے پہلے دیکھا نہیں تھا وہ اسکی بیوی کب ہوئی۔
شانزل غصے سے آگے بڑھااس سے پہلے وہ کچھ کہتا عثمان صاحب نے اشارے سے اسے خاموش کرادیا۔
اور حیات سکندر سے کہا
” میرا خیال ہے کہ پارٹی ختم کی جائے “
حیات سکندر نے مہمانوں سے معذرت کے ساتھ پارٹی ختم کی۔
جاری ہے۔