Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49

” اگر میں انکار کرتی تو واقع کود جاتے۔“
نین تارا رنگ دیکھتے ہوۓ بولی۔
” مجھے پتہ تھا، یہاں تک نعبت ہی نہیں آنے دو گی۔“
فیضی شرارت سے ہنسا۔
نین تارا نے محبت سے اسے دیکھا۔
” آپ میری محبت نہیں ہیں فیضی۔“
وہ سنجیدہ ہوگٸ تھی۔
انگوٹھی ہاتھ میں گھماتے وہ سنجیدہ لگ رہی تھی۔
فیضی کی دھڑکنیں مدھم پڑ گٸیں۔
دل ساکت رہ گیا تھا۔
” آپ میرا سکون ہیں فیضی۔“
وہ ہاتھ پہ نظریں مرکوز کیے ہوۓ تھی۔
فیضی کا رکا سانس بحال ہوا۔
وہ گہری سانس لیے سیٹ سےسر ٹکا گیا۔
کیسا قیامت خیز لمحہ تھا،محبوب کے منہ سے انکار، روح سلب کرنے والے جملے لگتے ہیں۔
” کیا ہوا۔۔۔۔؟“
نین تارا نے مڑ کے فیضی کو بند آنکھوں کو دیکھا اور تشویش ناک لہجے میں بولی۔
فیضی نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں اور خفگی سے اے گھورا۔
” جان نکال کے کتنی معصومیت سے پوچھ رہی ہو کیا ہوا۔۔۔؟“
وہ خاٸف ہوا۔
” پر میں نے کیا کیا ہے۔“
وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔
فیضی چپ چاپ اسکی گہری سبز آنکھوں میں تکے گیا۔
نین تارا نےگھبرا کے نظریں جھکا لیں۔
❤❤
نو ماہ کیسے گزرے پتہ ہی نا چلا۔
وہ مضطرب سا ہاسپٹل کے کاریڈور میں چکر کاٹ رہا تھا۔
پیشانی پر بال بکھرے ہوۓ تھے، چہرے پر تفکر کے گہرے جال تھے۔
” احسن پریشان مت ہو، سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔“۔
رابعہ بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ دھرا۔
” امی دعا کریں۔“۔
وہ پریشانی سے انکےہاتھ دباتے ہوۓ بولا۔
” ادھر بیٹھو۔“
ہ اسے کرسی پر بٹھاتے ہوۓ بولیں۔
وہ کہنیاں گھٹنوں پر رکھے آگے کو جھکا مضطرب لگ رہا تھا۔
نرس روم سے نکلی تو وہ بے اختیار اسکی طرف دوڑا۔
” مبارک ہو اللہ نے نعمت سے نوازا ہے۔“
وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
” میری بیوی کیسی ہیں۔“
احسن ہ بے چینی سے بولا۔
” وہ بھی ٹھیک ہیں۔“
نرس مسکراٸی اور کاریڈور میں چلتی ہوٸی مڑ گٸ۔
دوسری نرس کمبل میں لپیٹے سرخ و سپید رنگت کے حامل بچے کو لیے اسکے پاس چلی آٸی۔
بچے کو باہوں میں بھرتے بے اختیار اسکی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
پیشانی پر بوسہ ثبت کرتے اسے احساس ہوا تھا، وہ باپ بن گیا ہے۔
” مبارک ہو میرے بچے۔“
وہ احسن کی پیشانی چومتیں بچے کو گود لے کے بیٹھ گٸیں۔
چوہدری نعمان اور ارم آتے دکھاٸی دیے۔
” مبارک ہو ممانی جان۔“
نعمان نے ان کے آگے سر جھکایا۔
ارم نے اسکی تقلید کی۔
” میں ادا سےمل سکتا ہوں۔“
وہ ڈاکٹر سے مخاطب ہوا۔
” جی ضرور۔“
ڈاکٹر مسکراٸی۔
احسن روم کی طرف بڑھ گیا۔
وہ بازو آنکھوں پر رکھے لیٹی ہوٸی تھی۔
” احسن اسکے پاس بیٹھ گیا، ادا نے بازو ہٹایا اور مسکراتی نظر احسن پر ڈالی۔
احسن نے بنا کچھ کہے مہر محبت و تشکر اسکی پیشانی پر ثبت کی۔
” بہت مبارک اور بے حد مشکور ہوں، اس تحفے کےلے جو آپ نے ہمیں دیا۔“۔
احسن فرط جزبات سے بولا۔
ادا فقط دل سے مسکرا دی۔
❤❤❤
علی نین تارا کے اپارٹمنٹ کے سامنے اترا۔
” مجھے نین تارا سے ملنا ہے۔“
گاگلز ہٹاۓ بولا۔
گارڈ نے گیٹ کھول دیا وہ گاڑی اندر لے آیا۔
اپارٹمنٹ بہت خوبصورت تھا۔
وہ جھجھکتے ہوۓ اندر داخل ہوا۔
” مجھے نین تارا سے ملنا تھا۔“
ہال میں بیٹھی فضیلہ سے مخاطب ہوا۔
” نین تارا گھر نہیں ہے۔“
وہ رکھاٸی سے بولتی چینل بدلنے لگی۔
” کہاں گٸ ہیں۔۔۔؟“
علی نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔
” بھاڑ میں۔“
وہ تنک کر بولی۔
علی نے حیرت سے اسے گھورا۔
سی گرین شلوار قمیض میں ملبوس، چہرہ پھلاۓ بیٹھی وہ نین تارا سے ملتی جلتی لگ رہی تھی۔
علی شانے اچکاۓ مایوس سا واپس نکل آیا۔
💗💗
جہاز لنڈ ہوا اور وہ ایرپورٹ سے نکلے۔
حیرت سے ششدر و ساکت رہ گیے ، جب سامنے وہیل چٸیر پر چوہدری سکندر اور فرید کو منتظر پایا۔
نین تارا نے جیکٹ اتار کے بازوپہ ڈال لی۔
لاہورکا موسم کافی خوشگوار تھا۔
” السلام وعلیکم۔“
فیضی نے دونوں کے آگے سر جھکایا۔
نین تارا فریدکے گلے ملی اور چوہدری سکندر کے آگے عزت وتکریم سر سر خم کر گٸ۔
” آٶ۔“
چوہدری سکندر ڈرائيور کی مدد سےگاڑی میں بیٹھ گیے۔
گاڑی مں بیٹھےاور گاڑی سڑک پر فراٹے بھرتی نین تارا کے اپارٹمنٹ میں چلی آٸی۔
” بابا یہاں کیوں۔۔۔؟“
فیضی نے مڑ کے چوہدری سکندر کو دیکھا۔
” آٶ تو سہی۔“
وہ مدھم سے بولے اور وہیل چیر پر بیٹھ گیے۔
ڈرائيور انہیں اندر لے آیا۔
شکیلہ گرمجوشی سے ملی، فضیلہ کا موڈ خراب لگ رہا تھا۔
سب ہی ہال میں براجمان ہو گیے۔
فلک کے اس پار قدرت نے ایک جوڑی کا مقدر لکھ دیے تھے۔
جن کا برملا اظہار ہونے جا رہا تھا۔
” بچے آ ہی گیے ہیں تو رسم ادا کر لیتے ہیں۔“
چوہدری سکندر نے فرید کو مخاطب کیا۔
فیضی اور نین نے اچنبھے سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
چوہدری سکندر نے انگوٹھیاں نکال کے ٹیبل پر رکھیں۔
” پہناٶ فیضی۔“
حکمیہ لہجے میں بولے۔
” بابا۔۔۔۔“
وہ ساکت سا رہ گیا تھا۔
خوابوں کی تعبیر کا وقت تھا۔
” پہناٶ بھی۔“
وہ رنگ اسکے ہاتھ میں دیتے ہوۓ بولے۔
فیضی نے نین تارا کی سبز آنکھوں میں جھانکا، چہرے پر محبت کی فتح تبسم کے روپ میں بکھرتی چلی گٸ۔
وہ سرشار سا نین تارا کا ہاتھ تھامے رنگ پہنانے لگا۔
نین تارا فیضی کی دی گٸ رنگ درمیان والی انگلی میں پہن لی تھی۔
فرید نے دوسری انگوٹھی نین تارا کو تھماٸی۔
نین تارا نے نظریں جھکاۓ فیضی کو رنگ پہنا دی۔
شکیلہ اور فرید خوشی سے سرشار لگ رہےتھے۔
فیضی اٹھ کے چوہدری سکندر کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
” تھینکس بابا جان آپ نے۔۔۔۔۔“
وہ کچھ کہنے والا تھا چوہدری سکندر نے روک دیا۔
” یہ ازالہ ہے کچھ غلطیوں کا۔“
وہ نم لہجے میں بولے۔
فیضی نے سر ان کی گود میں رکھ لیا۔
زرینہ نے منہ میٹھا کروایا۔
وہ باتوں میں مگن ہو گیے۔
” فضیلہ کہاں ہے۔۔۔؟“
نین تارا زرینہ سے مخاطب ہوٸی۔
” لان میں ہیں شاید۔“
زرینہ مسکراٸٕی۔
نین تارا جواباً مسکراٸی اور لان میں چلی آٸی۔
وہ جھولے پر بیٹھی ہوٸی تھی۔
”فضیلہ۔“
نین تارا اسکے پاس جا کھڑی ہوٸی۔
” مبارک ہو تمہیں جس کے لیے روتی پھر رہی تھی، تمہیں مل گیا۔“
فضیلہ زہر خند لہجے میں بولی۔
” تو تمہیں کس بات کا حسد ہو رہا ہے۔“
نین تارا جواباً بولی۔
” ہونہہ۔“
فضیلہ نے سر جھٹکا۔
” تم بہن کم اور دشمن زیادہ بنتی آٸی فضیلہ، لیکن ایسا کیوں ہےمجھے آج تک سمجھ نہیں آٸی۔“
نین تارا سنجیدگی سے بولی۔
” تم نے فیضی سے کیا کہا تھا، جہاں آرا بیگم کے انتقال پر۔“
نین تارا سخت لہجے میں پوچھنے لگی۔
” وہی جو سچ تھا۔“
فضیلہ کندھے اچکا کر لا پرواہی سے بولی۔
” تمہاری وجہ سے وہ اتنی تکلیف میں رہے۔“
نین تارا لے لچک لہجے میں بولی۔
فیضی اسکے پیچھے آکھڑا ہوا۔
” اور جو تکلف تم نے سہی۔“
اسکے شانے پر ہاتھ رکھتا اسکے سامنے آگیا۔
نین تارا چپ ہو گٸ۔
” تم نے ایسا کیوں کیا فضیلہ۔“
فیضی اسکی طرف متوجہ ہوا۔
فضیلہ رخ موڑ گٸ۔
” اب دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔“
فیضی نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کی اورنین تارا کاگال تھپتھپا کے مسکراتا ہوا چلا گیا۔
” میں تمہیں اس غلطی کے لیے شاید کبھی معاف نا کروں۔“
نین تارا کہہ کر مڑنے لگی۔
” مجھے پرواہ نہیں۔“
وہ جل کر بولی۔
” میری نفرتوں کا شکار رہو گی کیونکہ امی ابو کی توجہ ہمیشہ تم پر رہی ہے، شہر بھی تمہیں ہی بھیجا، مجھے بھیجا ہوتا تو آج میں بھی اتنی پیاری ہوتی، فیضی مجھ پر بھی مرتا، میں بٕی چوہدریوں کی بہو بنتی۔“
وہ پھٹ پڑی بولی تو پھر بولتی چلی گٸ۔
فیضی جو نین تارا سے کچھ کہنے کو پلٹ رہا تھا سن کر حیران ہوا۔
نین تارا ساکت رہ گٸ۔
” تم کبھی نین کی جگہ نہیں لے سکتی، تمہاری گز بھر لمبی زبان کا فرق ہے تم میں اور اس میں۔“
فیضی کرختگی سے بولا اور نین تارا کی طرف مڑا۔
” آج کے بعد تم کسی ماڈلنگ ساٸٹ یا پروجیکٹ کو ایکسیپٹ نہیں کرو گی، کل پریس کانفرنس ارینج کروا دیتا ہوں ، صاف اعلان کر دیں گے اوکے۔“
سنجیدگی سے حکم دیتا نکل گیا۔
فضیلہ شرم سے سر جھکاۓ کھڑی رہی۔
” تم اگر خوش ہو کر سوچتی تو شاید حسد کی بجاۓ اپنے پیر جما لیتی۔“
نین تارا افسردگی سے بولی اور پلٹ گٸ۔
فضیلہ جوں کی توں رہ گٸ۔
💕💕
فیضی نے پریس کانفرنس ارینج کی اور دونوں نے ماڈلنگ فیلڈ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔
فیضی نے یوکے والا بزنس نیلام کر دیا۔
نیلامی میں ایک اچھے بزنس مین کو سیل کیا اور کافی زیادہ لاس ہوا۔
” نین تارا تم جب سے میری زندگی میں آٸی، میں بزنس نہیں کر سکا۔“
فیضی منہ بنا کے افسردگی سے بولا۔
”اچھا۔“
نین تارا اسکی شکل دیکھ مزے سے ہنس دی۔
” اسلیے اب میں نے بزنس کرنا ہی نہیں پے۔“۔وہ فیصلہ کن لہجے میں بولا۔
” پھرکیا کرنا ہے۔؟“
نین تارا نے چاۓ کا سپ لیا۔
” سبزی کی ریڑھی لگا لوں گا۔“
وہ شریر لہجے میں بولا۔
نین تارا کی ہنسی چھوٹ گٸ۔
” واہ !!!کیا نظارہ ہو گا، چوہدری فیضان سکندر سر پر رومال باندھے گدھا گاڑی پر سبزی پیچ رہے ہونگے۔“
وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتی ہوٸی بولی۔
” تم نے تو نقشہ ہی کھینچ دیا۔“
وہ خفگی سے چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ بولا۔
فیضی اسے ہنستے ہوۓ دیکھ رہا تھا، ہنسی کی شدت سے سفید چہرے پر سرخی چھا گٸ تھی، گہری سبز آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گٸیں تھیں۔
” اوہ میں تھک گٸ ہنس ہنس کے۔“
وہ پیٹ پہ ہاتھ رکھے دوہری ہو گٸ۔
ٗفیضی اسکےپاگل پن کودیکھ مسکرا کے سر جھٹک گیا۔
” اچھا سیرسلی بتاٸیں کیا کریں گےپھر۔“
وہ ہنسی ضبط کرتی بولی۔
” تمہارا سر۔“
فیضی اسے ہنسی ضبط کرتا دیکھ خفگی سے بولا۔
نین تارا پھر سے ہنسنے لگی۔
فیضی کپ ٹیبل پر چھوڑے اٹھ کے چلا گیا۔
نین تارا نے عجلت میں موبائل اور پرس اٹھایا، ہیمنٹ ٹیبل پر رکھی اور بھاگتی ہوٸی اسکے پیچھے چلی آٸی۔
” اچھا ناسوری۔“
وہ کان پکڑتے ہوۓ بولی۔
فیضی بنا دیکھے چلتا رہا۔
خفا خفا چہرہ لیے وہ بہت خوبرو لگ رہا تھا۔
” ویسے خفا ہو کے بہت کیوٹ لگ رہے ہیں۔“
وہ فیضی کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
کیلے کے چھلکے پر پیر آیا اور وہ منہ کے بل گرتی کہ فیضی نےتھام لیا۔
” دھیان کہاں ہے تمہارا۔“
فیضی جھڑک کے بولا۔
” آپ پر۔“
وہ گہری سانس خارج کرتی معصومیت سے بولی۔
فیضی کا غصہ ہوا ہو گیا۔
” سامنے رکھو دھیان ورنہ پھینی سی ناک اور پھینی ہو جاۓ گی۔“
وہ ہنستے ہوۓ بولا۔
” آپ کی لے لوں گی۔“
وہ بھی شریر ہوٸی۔
💗💗
چوہدری سکندر آج پھر انکی طرف آۓ ہوۓ تھے۔
ہال میں سب ہی افراد جمع تھے۔
” میں شادی کی ڈیٹ فاٸنل کرنے آیا ہوں۔“
وہ فرید کی طرف دیکھتے ہوۓ بولے۔
” پر اتنی جلدی۔۔۔۔“
فرید حیرت زدہ سے بولے۔
” میں اب دیر نہیں کرنا چاہتا(کوٸی ہور نوا کٹّا نا کھل جاۓ😂😂
چوہدری سکندر سنجیدگی سے بولے۔
” وہ تو ٹھیک ہے پر اتنی جلدی تیاری کیسے ممکن ہے۔“
وہ ہراساں ہو گیے۔
” کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہے۔“
چوہدری سکندر مسکراۓ۔
” بس آپ لوگ فنکشن میں ریڈی ہو کے آجاٸیں، باقی میں جانوں اور میرا کام۔“
چوہدری سکندر فراخ دلی سے بولے۔
” ایسے اچھا نہیں لگتا۔“
فرید سنجیدگی سے بولا۔
” ہمارے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں، کمی ہے تو نین تارا کی ہے، ہمارے لیے وہی کافی ہے جو آپ نے بھروسہ کیا اور اپنی بیٹی ہمیں سونپ دی۔“
چوہدری سکندر سر جھکا گیے۔
” جیسے آپ کی مرضی چوہدری صاحب۔“
فرید آہستھی سے بولے۔
” تیاری کر لینا، جس چیز کی ضرورت ہو، بلا جھجک بولنا، شاید میرے دل پر پڑا بوجھ کم ہو جاۓ۔“
وہ آہستگی سے بولے۔
” ایک ہفتے بعد ہم بارات لے کر آٸیں گے، سارے فنکشن میرج ہالز میں ہونگے۔“
وہ بتا رہے تھے۔
فرید نے ان کے ساتھ مل کے باقی انتظامات پر بات کی اور شادی ایک ہفتے بعد فاٸنل ہو گٸ۔
.
.
.جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *