Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26
” کتنا ٹاٸم لگے گا یار۔“
فیضی رسٹ واچ دیکھتے ہوۓ بولا۔
” بس پانچ منٹ۔“
نین تارا نے جلدی جلدی ہاتھ چلاۓ اور سینڈل پہننے لگی۔
ٹی پنک لاٸٹ ورک میکسی میں ملبوس دوپٹہ کندھے پر ٹکاۓ بال جوڑے میں مقید کیے، کانوں میں دلکش بندے پہنے، گردن میں نفیس سا لاکٹ جو بہت خوبصورت لگ رہا تھا، لاٸٹ میک اپ کیے وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔
فیضی گریش بلیک تھری پیس میں ملبوس ریڈ ٹاٸٕی پہنے ہاتھ میں قیمتی رسٹ واچ پہنے پیروں میں چمچماتے جوتے پہنے وہ ہاتھ سینے پر باندھے دروازے سے ٹیک لگاۓ نین تارا کے حسین مکھڑے پر نظریں جماۓ ہوۓ تھے۔
” تم دن بدن خوبصورت ہوتی جا رہی ہو۔“
فیضی شرارتی لہجے میں بولا۔
” آپ سے کم ہوں پھر بھی۔“
نین تارا اسی کے انداز میں بولی۔
” اوہ ریٸلی۔“
فیضی نے ابرو اٹھاۓ۔
” ییس۔“
نین تارا تیاری مکمل کیے اسکے سامنے آگٸ۔
” چلیں دیر ہو رہی ہے۔“
نین تار اسے یک ٹک دیکھتے ہوۓ بولی۔
فیضی دھڑکتے دل کے ساتھ اسے ہمراہی میں لیے چلنے لگا۔
فیضی نے آگے بڑھ کے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
نین تارا مسکراٸی، فیضی وارفتگی سے اسے مسکراتا ہوا دیکھتے ڈراٸیونگ سیٹ کی طرف آیا۔
”بہت حسین لگ رہی ہو۔۔۔۔۔ٹرسٹ می۔“
فیضی مدھم آواز سے لو دیتے لہجے میں بولا۔
” شکریہ۔“
نین تارا کی نظریں جھک گٸیں۔
” تمہاری حیا ہی تمہاری خوبی ہے تارا۔“
فیضی کا دل بے اختیار ہونے لگا تھا۔
دل محبت کا غلام بن جاتا ہے۔
” دل چاہتا ہے وقت یہیں رک جاۓ۔“
فیضی اسے نظروں کے حصار میں لیے بولا۔
نین تارا نے اسکی آنکھوں میں امڈتے محبت کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کودیکھا تو دل نے بے اختیار وقت کا ایک بھی لمحہ ضاٸع کیا بنا اسے سلطنت دل کا سلطان بنا ڈالا۔
” فیضی ۔۔۔۔!!!!“
نین تارا نے اسے پکارا۔
” جی نین تارا۔“
فیضی محبت سے چور لہجے میں بولا۔
” ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔“
نین تارا نےموباٸل پر ٹائم دکھایا۔
فیضی نے اگنیشن میں چابی گھماٸی اور گاڑی گھر سے نکال لی۔
” نین تارا ۔۔۔۔کیا تمہیں مجھ پہ ٹرسٹ ہے۔؟“
فیضی نے نگاہیں سڑک پرٹکاۓ پوچھا۔
” جی۔“
نین تارا مختصر بولی۔
دل تھا کہ دھک دھک کتے جا رہا تھا، اس نے کپکپاتے ہاتھوں کو مسلا۔
فیضی کی موجودگی میں وہ پہلی بار اتنی نروس ہوٸی تھی۔
محبت کا آکٹوپس اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔
دل انجمن کی پتھریلی زمین پر محبت کی بارش ہونے لگی تھی، ننھی محبت کی کونپلیں دیدار محبوب سے پھلنے لگیں تھیں۔
باقی کا سفر خاموشی سے کٹا، دونوں ایک دوسرے میں کھوۓ پارٹی میں پہنچے۔
مس عالیہ کا چھوٹا سا اپارٹمنٹ بے حد خوبصورت تھا۔
چھوٹے سے لان میں پارٹی کا انتظام کی گیا تھا، لان کی نفاست دیکھ وہ مس عالیہ کے سلیقے کی قاٸل ہو گٸ تھی۔
” ویلکم سویٹ ہارٹ۔“
مس عالیہ بغلگیر ہوٸی۔
” لیٹس گو نین میں تمہیں اپنی فرینڈز سےملواتی ہوں۔“
مس عالیہ اے کھنچتے ہوۓ اپنے ساتھ لے آٸی۔
” ہیلو نادیہ۔۔۔میٹ ہر مس نین تارا نیو ماڈل ان انڈسٹری۔“
مس عالیہبے متعار کروایا۔
” ہاۓ نین تارا۔۔۔۔لکنگ بیوٹی فل۔“
نادیہ جو بلیک ساڑھی میں ملبوس میک اپ سے اٹا چہرہ لیے ہوۓ تھی۔
”تھنکس۔“
نین تارا مسکراٸی۔
باری باری پورے گروپ سے متعارف کروایا۔
نین تاراکینظریں بے اختیارفیضی کی طرف اٹھیں۔
جو کسی بات پر مسکرا رہا تھا، نین تارا بے اختیار مسکرا دی۔
” آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔“
ان میں سےایک خاتون بولیں۔
نین تارا وہاں سے ہٹی اور مس عالیہ کی بیٹی کی طرف بڑھی اسے گفٹ تھمایا اور فیضی کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگی جب سامنے سے علی آتا دکھاٸی دیا۔
نین تارا کے منہ کے زاویے بگڑ گیے۔
” ہاۓ نین تارا آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔“
علی اسکے پاس آ کے بولا۔
” میں ادھر پارٹی میں آرہا تھا، بس سٹاپ پہ آپکے ماما پاپا ملے، انہیں فیضی کا گھر نہیں مل رہا تھا، وہ تم سے ملنے آۓ ہیں۔“
علی نے اسے بتایا۔
نین تارا پریشان ہو گٸ۔
” پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، میں انہیں اپارٹمنٹ میں چھوڑ آیا ہوں۔، آجاٶ وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔“
علی نے جال بچھایا۔
” میں فیضی کو بتا دوں۔“
نین تارا نے ادھر ادھر دیکھا۔
”فیضی کچھ سپانسرز کے ساتھ ہوٹل تک گیا ہے، میں نے اسے بتا دیا ہے۔“
علی نے کور کیا۔
نین تارانے سر ہلایا اور علی کے ساتھ چل دی۔
علی نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ گھر کے دروازے کو دیکھا، جہاں وہ فیضی کے واش روم جانے کے بعد باہر سے کنڈی چڑھا آیا تھا۔
علی نے نین تارا کی جانب کا دروازہ کھولا اوراسے بٹھاۓ جلدی سے اپنی طرف آیا۔
چوہدری سکندر کو کال کر کے انفارم کیا اور گاڑی فل سپیڈ سے بھگا لی۔
فیضی کچھ مہمانوں سے محو گفتگو تھا، جب ایک ویٹر اس سے ٹکرایا، سافٹ ڈرنک فیضی کی ویس کوٹ پر جا گری۔
” اوہ شٹ۔“
فیضی نے بازو جھٹکا۔
” سوری سر۔“
ویٹر بوکھلا گیا۔
” اٹس اوکے۔“
فیضی نے غصہ ضبط کیا۔
” ایکسکیوزمی۔“
فیضی وہاں سے ہٹ کے سیدھا اندر چلا آیا۔
” واش روم کہاں ہے۔“
ایک ملازمہ سے پوچھا۔
” آپ گیسٹ روم میں چلے جاٸیں سر۔“
ملازمہ نے اشارہ کیا۔
فیضی سامنے گیسٹ روم میں گیا۔
وہ کوٹ صاف کر رہا تھا، جب کنڈی چڑھنے کی آواز آٸی۔
فیضی نے مڑ کے دروازہ کھینچا تو دروازہ باہر سے بند تھا۔
” کون ہے، دروازہ کھولو۔“
فیضی نے دروازہ بجایا۔
کوٹ صاف کیے وہ مسلسل دروازہ بجا رہا تھا۔
” ہیلو مس عالیہ۔۔۔۔آپ کے گیسٹ روم کے واش روم میں بند ہوں، دروازہ کھلواٸیں۔“
فیضی نے عالیہ کو کال کی۔
عالیہ ہڑبڑاٸی سے بھاگی ہوٸی آٸی اور کنڈی کھلواٸی۔
” کس نے بند کیا مجھے۔؟“
فیضی ملازمہ پر دھاڑا۔
” سر ہم نے نہیں کیا۔“
ملازم منمناۓ۔
” پھر کون آیا ادھر۔؟“
فیضی غضب ناک ہوا۔
” سر ایک سر ادھر آۓ تھے، پھر جلدی ہی نکل گیے۔“
ملازمہ منمناٸی۔
” فیضی سر ۔۔۔میں معذرت خواہ ہوں۔“
مس عالیہ شرمندہ نظر آرہی تھی۔
” اٹس اوکے۔“
فیضی وہاں سے نکل کر لان میں آگیا۔
نین تارا کا خیال آیا تو ادھر ادھر نگاہیں دوڑاٸیں۔
” مس عالیہ ۔۔۔نین تارا کہاں ہے۔؟“
فیضی مس عالیہ کی طرف بڑھا۔
”ابھی تو یہیں بیٹھی تھیں۔“
مس عالیہ پریشان ہوٸی۔
سب جگہ دیکھا پر نین تارا کہیں نہیں تھی۔
فیضی نے نین تارا کو کال کی جو کاٹ دی گٸ۔
فیضی پریشانی سے کنپٹیاں مسلنے لگا۔
نین تارا کا جی پی ایس اون تھا، فیضی نے لوکیشن ٹریک کی تو حیرت کا شدیدجھٹکا لگا۔
”اتنی جلدی علی کےاپارٹمنٹ کیسے پہنچ گٸ۔“
فیضی بھاگتا ہوا باہر نکلا۔
چوہدری سکندر علی کے کہنے پر شہر والے بنگلے میں ٹھہر گٸے۔
” ہیلو انکل آپ میرے اپارٹمنٹ پہنچ جاٸیں، میں اسے لیے نکل رہا ہوں۔“
علی کی عجلت بھری کال پر وہ مسکراۓ اور شان سے چلتے ہوۓ بنگلے سے نکلے۔
” جاوید گاڑی نکالو۔“
حکمیہ لہجے میں بولے۔
جاوید نے گاڑی نکالی اور اسے اپارٹمنٹ کا ایڈریس دے دیا۔
اپارٹمنٹ کے کچھ فاصلے پر گاڑی بند ہو گٸ۔
” کیا ہوا۔۔۔۔؟“
چوہدری سکندر ناگواری سے بولے۔
” میں دیکھتا ہوں صاحب۔“
جاوید گھبراکے نیچے اترا۔
گاذی کا بونٹ اٹھایا اور چیک کرنے لگا۔
بیٹری کے ٹرمینیٹ سے تار ٹوٹ گٸ تھی۔
” صاحب بس پانچ منٹ لگیں گے۔“
جاوید نے کہا اور جلدی جلدی تار جوڑنے لگا۔
دس منٹ میں تار جوڑی اور گاڑی سٹارٹ کی تو ہو گٸ۔
” جلدی کرو اب۔“
چوہدی سکندر مشتعل ہوۓ۔
گاڑی اپارٹمنٹ کی گلی مڑی تو چوہدری سکندر ایک دم بولے۔
” رک جاٶ۔“
جاوید نے بریک پر پیر رکھااور گاڑی رک گٸ۔
” ریورس لو۔“
چوہدری سکندر بولے تو جاویدنے گاڑی پیچھے کر کے گلی میں روک لی۔
” بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔“
علی بے باک لہجے میں بولا۔
نین تارا نے منہ پھیرلیا۔
” تمہاری سبز آنکھوں میں ڈوبنے کا دل چاہتا ہے کبھی کبھی۔“
علی نے گہری نظروں سے نین تارا کو دیکھا۔
نین تارا کا موبائل بجنے لگا۔
” کس کا ہے۔۔؟“
علی نے دیکھتے ہی نین تارا کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا۔
نین تارا ششدررہ گٸ۔
” اسے کسی پل چین نہیں ہے، لڑکیوں سے چپکے رہنے کی عادت ہو گٸ ہے۔“
علی نے کالکاٹ کے موبائل اپنی گود میں رکھ لیا۔
” میرا موبائل دیں، اور آپ کون ہوتے ہیں فیضی کو جج کرنے والے۔“
نین تارا بگڑ کے بولی۔
”ایک میں تم پہ احسان کروں تمہیں تمہارے گھر والوں سے ملواٶں اوپر سے انسلٹ بھی کرواٶں۔“
علی غصے سے بولا اور گاڑی اندر لے آیا۔
وہ گاڑی سےنکل کر اندرکی جانب بڑھ رہے تھے جب گاڑی رکنے کی آواز آٸی۔
” نین تارا۔“
فیضی دھاڑا۔
” آٶ نین تارا۔۔۔۔یہ خود ہی آجاۓ گا۔“
علی نے نین تارا کا ہاتھ تھاما اور کھینچ کر اندر لے جاے لگا۔
” چھوڑیں میرا ہاتھ۔“
نین تارا اسکی گرفت سے ہاتھ چھڑوانے لگی۔
” علی رک جاٶ۔“
فیضی گرجدار آوز میں بولا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ان کے قریب آگیا۔
ایک زور دار تھپڑ علی کے منہ پر رسید کیا اور نین تارا کا ہاتھ چھڑوایا۔
” دونوں بری طرح گھتم گتھا ہو چکے تھے۔
”تم اےنا گر جاٶ گے مجھے پتہ نہیں تھا۔“
فیضی نے علی کو دور دھکیلا۔
” اس نے خود آفر کی مجھے۔“
علی چیخا۔
نین تارا ششدر سی منہ پر ہاتھ رکھے دیکھے گٸ۔
” بکواس بند کرو۔۔۔۔تم نے ایک لفظ بھی نین تارا کے خلاف بولا تو زبان گدی سے کھٕنچ لوں گا۔“
فیضی اشتعال انگز لہجے میں دھاڑا۔
غصے کی شدت نے آنکھوں میں سرخی بھردی۔
” علی نین تارا سے دور رہنا، ورنہ فیضان سکندرکو بہت اچھے سے جانتے ہو۔۔۔۔۔“
فیضی وارننگ دی۔
” نین تارا میری ہو کررہے گی سمجھے تم۔“
علی نے انگلی اٹھا کے کہا۔
نین تارا نے زور دارطمانچہ علی کے منہ پر مارا۔
” خبردار۔۔۔۔جو اپنی گندی زبان سے میرا نام بھی لیا۔“
نین تارا روتے ہوۓ چیخی۔
نین تارا نے نیچے گرا اپنا موبائل اٹھایا اور بھاگتی ہوٸی باہر نکلی۔
” تارا۔“
فیضی اسکے پیچھے لپکا۔
” نین تارا گاڑی میں بیٹھو۔“
فیضی نے نین تارا کو بازو سے پکڑ کے اندر پٹخا۔
نین تارا فیضی کے غصے سے حیران رہ گٸ۔
” میرا کیا قصور اس میں۔“
نین تار روتے ہوۓ چیخی۔
” نین تارا چپ ہو جاٶ ورنہ میں گاڑی مار دوں گا کہیں۔“۔
فیضی انتہاٸی غضب ناک لہجے میں بولا۔
فیضی کا موبائل بجنے لگا۔
مس عالیہ کی کال تھی۔
” ہیلو۔۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” ہاں نین تارا مل گٸ، اچانک طبعیت خراب ہو گٸ تھی، ڈراٸیور کے ساتھ گھر آگٸ۔“
فیضی نے کہا اور الوداعی کلمات کہہ کے فون بند کر دیا۔
گاڑی پورچ میں روکے وہ باہر نکلا۔
نین تارا جلدی سے نکلی اور اسکے پیچھے لپکی۔
فیضی سیدھا اسکے کمرے میں چلا آیا۔
” مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی نین تارا۔“
فیضی کی آنکھوں میں نمی اتر آٸی۔
” میں نے کیا کٕیا ہے فیضی۔۔۔؟“
نین تارا روتے ہوۓبولی۔
” تم علی کے ساتھ اپارٹمنٹ کیوں گٸ۔“
فیضی اسکے سوال کو نظر انداز کیے بولا۔
” اپنے امی ابو سے ملنے گٸ تھی۔“
نین تارا روتے ہوۓ بولی۔
” تمہارے امی ابو علیکے اپارٹمنٹ میں کہاں سے آگیے نین تارا۔۔۔۔“
فیضی اسکی ناسمجھی پر ماتم کناں ہوا۔
” علی نے کہا کہ وہ بس سٹاپ پہ کھڑے تھے، آپ کاگھرنہیں مل رہا تھا۔“
نین تارا بولی۔
” تمہاری عقل گھاس چرنے گٸ ہے کیا۔“
فیضی نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
” نین تارا کیاہو گیا ہے تمہیں۔۔۔۔۔تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہے، علی نے تمہارے پیرٹنس کو کہاں دیکھ لیا، اور تمہارے پیرنٹس نے علی کو کیسے جان لیا۔“
فیضی دل چاہا سر پیٹ لے۔
نین تارا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
” توکیا امی ابو نہیں آۓ۔۔۔“
نین تارا دکھ سے بولی۔
فیضی کا غصہ مدھم ہوا۔
” ادھر بیٹھو۔۔۔۔“
فیضی نے اسے بیڈ پہ بٹھایااور اسکے پاس بیٹھ گیا۔
” علی کی ایک نہیں ہزار لڑکیوں سے دوستی ہے، وہ محبت کے ڈرامے رچاتا ہے اور عزت پہ ختم کر دیتا ہے، تمہیں وہ بے وقوف بنا کے لے گیا۔“
فیضی سنجیدگی سے اسکے پھیلے کاجل ک دیکھتے ہوۓ بولا۔
” مجھےبہت دکھ ہوا۔۔۔تم نے مجھے بھی نہیں بتایا۔“
فیضی واقعی ہرٹ لگ رہا تھا۔
” زرا سوچو اگر میں نہیں پہنچ پاتا تو وہ کیا کرتا تمہارے ساتھ۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” آپ نے ہی علی کوکہا تھا لے جاٶ۔“
نین تارا بولی۔
فیضی دکھ اور شدید غصے کو ضبط کرتے نین تارا کو دیکھا۔
” اور کیا
جاری ہے
