Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32
” آفر۔۔۔۔“
زیمل نے آنسو صاف کیے۔
” تم ماڈلنگ فیلڈ میں آ جاٶ۔“
علی سیدھا ہوا۔
زیمل نے سر جھٹکا۔
” مزاق نہیں ہے، میں تمہیں اپرووچ کروں گا۔“
علی سنجیدگی سے پرجوش سا بولا۔
” کیا واقعی۔؟“
زیمل نے سوالیہ انداز میں اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
” تمہیں شافع کو بتلانا ہوگا تم اس کی محتاج نہیں ہو۔“
علی اسکے چہرے پر نظریں گاڑھیں۔
” نا تمہیں اس کے شادی کرنے سے فرق پڑتا ہے۔“
علی اسکے پرابلم کو اپنی فیور میں یوز کر رہا تھا۔
” مجھے فرق پڑتا ہے علی۔“
زیمل ناراضگی سے بولی۔
” اوہ زیمل۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہے، تمہیں فرق پڑتا ہے، بس تمہیں شو کرنا ہے تمہیں فرق نہیں پڑتا۔“
علی نے سمجھایا۔
” ٹھیک ہے سوچ کے بتاٶں گی۔“
زیمل نے ناچار ہامی بھری۔
” یہی تمہارے لیے بہتر ہوگا۔“
علی نے کہا۔
” دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں۔“
زیمل اٹھتے ہوۓ بولی۔
” لنچ۔۔۔۔؟“
علی اسکے ساتھ کھڑا ہوا۔
” بھوک نہیں ہے۔۔۔“
زیمل آہستگی سے کہتی نکل گٸ۔
”چلو اچھا ہے پیسے بچ گیے۔“
علی سافٹ ڈرنکس کے پیسے دیتا نکل آیا ۔
” میں اس آدمی کو لے آیا ہوں، دودن تک ہوٹل کا مینجر رکھنا پھر دکھا دینا اسکی اوقات۔“
صاٸم کا لہجہ احساس سے عاری ہوا۔
” ٹھیک ہے۔“
مینجر نے بتیسی نکالی۔
صاٸم وہاں سے نکل کر سیدھا اپارٹمنٹ چلا آیا۔
” یہ میرے دوست کا اپارٹمنٹ ہے، ہم پیٸنگ گیسٹ کے طور پر رہیں گے۔“
صاٸم نے حقيقت بتاٸی اور صوفے پر ڈھیر ہوا۔
” چوہدری احسن پہ یہ دن آگیے ہیں، اب پیٸنگ گیسٹ کے طور پر رہے گا۔“
احسن کوفت سے جھنجھلا کے بولا۔
صاٸم نے اشتعال کا اٹھتا ابال ضبط کیا۔
” تمہیں اتنا پیسہ دیا، کم از کم ایک تو اپنا فلیٹ خرید لیتے۔“
بے زاریت سے بولتا احسن نیم درازہوا۔
” احسان نہیں کرتے تھے، کام بھی تو لیتے تھے مجھ سے۔“
صاٸم تنک کے بولا۔
” میرا ہاتھ کیا تنگ ہوا، تم نے گرگٹ کی طرح رنگ بھی بدل لیا۔“
احسن مشتعل ہوا۔
” زبان سنبھال کے بات کرو۔“
صاٸم غصے سے اٹھ کے کمرے میں چلا گیا۔
” تھوڑا سیٹ پو جاٶں تو دکھاٶں گا تمہاری اوقات۔“
احسن ناگواری سے بولا اور ہاتھ میں پکڑا سیب ٹیبل پر پٹخا۔
” طبعیت ٹھیک ہے تو چلیں یہاں سے۔“
فیضی نے نرمی و محبت سے نین تارا کو دیکھا۔
” جی میں ٹھیک ہوں اب۔“
وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
” چلو پھر۔۔۔۔“
فیضی اسے ساتھ لیے ہوٹل سے نکلا۔
گلگت کا موسم کافی ابر آلود تھا، نیلگوں آسمان بادلوں سے سرمٸ ہورہا تھا۔
سورج کا نام ونشان بھی نہیں تھا، مانو گلگت میں سورج آتا ہی نہیں تھا۔
” لگتا ہے بارش ہو گی۔“
فیضی نے ابر آلود آسمان کو دیکھا۔
نین تارا نے آسمان کو دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ گٸ۔
فیضی نے گاڑی فل سپیڈ میں ڈال لی،موسم خرابی سے پہلے وہ گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔
” یہ تمہارا آفس سے کام تمیں منیب سمجھا دے گا۔“
صاٸم نے اسے بتایا۔
چوہدری احسن نے سر ہلایا۔
صاٸم اسے گہری نظروں سے گھورتا نکل گیا۔
منیب نے احسن کا تھوڑا بہت کام بتایا اورمصروف کر دیا۔
احسن ڈیوٹی آف ہونے پر آفس سے نکل آیا۔
” چوہدری احسن کو یہ دن بھی دیکھنے تھے۔“
بےزاری سے بولتا ہوٹل سے نکل آیا۔
پیدل چلتے وہ اپارٹمنٹ تک آیا۔
صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔
صاٸم عجلت میں اندر داخل ہوا۔
” آپ فکر مت کریں میں نکل رہا ہوں۔“
وہ عجلت میں کہتا کمرے میں چلا گیا۔
” کہاں جا رہے ہو۔۔۔؟“
احسن اسکے پیچھے چلا آیا۔
” امی کی طبعیت بہت خراب ہو گٸ، پاکستان جا رہا ہوں، پرسوں تک آجاٶں گا۔“
صاٸم نے بیگ پیک کیا۔
” ٹھیک ہے۔“
احسن اسکے کمرے سے نکل کر کچن میں چلا آیا۔
پانی پیا اور کوفت سے گلاس شیلف پر پٹخا۔
بھوک سے بے حال ہو رہا تھا۔
صاٸم جا چکا تھا۔
احسن اپارٹمنٹ سے نکل کر قریبی ہوٹل تک گیا، کھانا کھایا اور واپس چلا آیا۔
دس ماہ لگے انہیں فلم شوٹ کرتے ہوۓ۔
اس دوران بہت جگہ پر انٹرویو دیے۔
نین تارا فیضی کی سوچ سے زیادہ ہٹ ہوچکی تھی۔
” دو ماہ میں فلم سینیما گھر کی زینت بنے گی۔“
فیضی جوس کا گلاس تھامے اسکی طرف متوجہ ہوا۔
” بہت شکریہ فیضی، مجھےمایوسیوں کی پاتال سے نکال کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔“
نین تارا سر جھکاۓ بول رہی تھی۔
” نین۔۔۔۔۔مجھے شرمندہ مت کیا کریں۔“
فیضی خفگی سے بولا اور جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھا۔
” شرمندہ نہیں کر رہی، لیکن آپ کااحسان کبھی چکا نہیں سکوں گی۔“
نین تارا نے انگوٹھی انگلی میں گھماٸی۔
فیضی نے بغور اسے دیکھا، گہری سبز آنکھیں جھکی ہوٸیں تھیں۔
فیضی مسکرا کے نظریں پھیر گیا۔
” میں ریڈی ہو ماڈلنگ کے لیے۔“
زیمل نے کہا۔
علی کھل کے مسکرایا۔
” فیضی تم بھی ماڈل لے کے آۓ تھے، اب میری ماڈل دیکھنا۔“
وہ سوچ سکا ۔
علی زیمل کو آفس لے آیا۔
زیمل پر نین تارا کی طرح پیسہ خرچ کرنے لگا۔
دو ماہ بعد۔
”زیمل ڈارلنگ۔۔۔۔۔یہ تمہارے لیے کمرشل آفر ہے۔“
علی چہکا۔
زیمل کھل اٹھی۔
” علی تم کتنے اچھے ہو۔“
زیمل ہنسی۔
علی آفس میں چلا آیا۔
” فیضان سکندر میں بھی ماڈلز لے آیا۔“
علی ہنستے ہوۓ بیٹھا اور جھولنے لگا۔
” فیضی میں چاہتی ہوں گھر لے لوں، امی ابو کو یہیں شفٹ کرلوں“۔
نین تارا سوچتے ہوۓ بولی۔
” ٹھیک ہے، کل تک ہو جاۓ گا۔“
فیضی مسکرایا۔
فلم کی پیمنٹ ملتے ہی نین تارا نے اپارٹمنٹ لے لیا۔
نین تارا اپارٹمنٹ دیکھنے آٸی تھیٗ جب اسکا موبائل بجنے لگا۔
”ہیلو۔“
نین تارا نے موبائل کان سے لگایا۔
” جی۔۔۔ٹھیک ہے۔“
نین تارا نے سنجیدگی سے کہا۔
فیضی وہاں نہیں تھا، نین تارا ڈرائيور کے ساتھ آٸی تھی۔
” ہوٹل نیو ہیون چلو۔“
ڈرائيور کو حکم دیے وہ تمکنت سے بیٹھ گٸ۔
ڈرائيور نے گاڑی روکی رو وہ سرعت سے نکلی۔
فینز کا جم غفیر اسکے ارد گرد اکٹھا ہوگیا۔
وہ بمشکل چند ایک کو آٹو گراف دیتی اس ہجوم سے نکلی اور اندر آٸی۔
سامنے ہی اسکی نظر چوہدری سکندر پر پڑی۔
” جی فرمائے۔“
نین تارا بیٹھتے ہوۓ سنجیدگی سے بولی۔
” تمہارے باپ دادا نے ہماری ملازمت کی اور تم انے انکی محنت پر پانی پھیر دیا۔“
چوہدری سکندر ہنکارا بھرتے بولے۔
” وقت بدل گیا ہے چوہدری سکندر۔“
وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتی سکون سے گویا ہوٸی۔
” فیضان نے تمہیں سر پہ چڑھا لیا ہے۔“
وہ ناگواری سے بولے۔
” تمہارے باپ دادا کی محنت کا بھرم رکھتے ہوۓ تمہیں کچھ بتانے آیا ہوں۔“
چوہدری سکندر بے زاری سے بولے۔
” فیضان سکندر میرا بیٹا ہے، عورتوں کو ٹشو کی طرح استعمال کرکے پھینکنا اسکا مشغلہ ہے۔“
نین تارا کے ابرو تنے۔
” تم اب اس قابل ہو کہ فیضان کے لیے ٹشو کا کام کر جاٶ۔“
چوہدری سکندر سنجیدگی سے بولے۔
” اپنی زبان پر قابو رکھیے، چوہدری سکندر۔”
نین تارا بلند آواز میں مشتعل ہوکے بولی۔
” اگر اپنی عزت چاہتی ہوتو ہٹ جاٶ، اب بھی وقت ہے، پھر روتی ہوٸی ہمارے پاس مت آنا انصاف کا ڈھونڈورا پیٹنے۔“
چوہدری سکندر بنا اسکی بات کا اثر لیے بولے۔
” مجھے فیضی پر پورا بھروسہ ہے۔“
نین تارا پریقین لہجے میں بولی۔
” یہ سن لو۔۔۔۔۔“
چوہدری سکندر نے موبائل ریکارڈنگ لگاٸی۔
” تم نین تارا کے ساتھ محبت کرتے ہو۔“
علی کی آواز تھی۔
” محبت اور ملازمہ سے ، فیضان سکندر کی مت نہیں ماری۔“
فیضی کی آواز تھی، نین تارا کا دل دھک سے رہ گیا۔
گہری سبز آنکھیں بے یقینی سے پھٹی رہ گٸیں۔
” پھر اس پہ اتنا پیسہ کیوں لگا رہے ہو۔“
علی نے پوچھا تھا۔
” اسکی قیمت ہے یہ پیسہ۔“
فیضی کا انداز انتہائی گھٹیا معلوم پڑ رہا تھا۔
نین تارا نے موبائل اٹھا کے دیوار میں مارا۔
” بکواس ہے یہ سب۔“
وہ دھاڑی تھی۔
دکھ، کرب اور بے یقینی نے گہری سبز آنکھوں کو آنسوٶں سے بھر دیاھو لڑھک لڑھک کے دامن کو بھگو رہے تھے۔
” تمہیں سمجھانا ہمارا فرض تھا۔“۔چوہدری سکندر نکل گیے۔
نین تارا روتی ہوٸی ہوٹل سے بھاگی اور گاڑی میں بیٹھ گٸ۔
” اسکی قیمت ہے یہ۔“
فیضی کے الفاظ کی بازگشت اسکی سماعت میں پگھلتے سیسے کی مانند تکلیف دے رہی تھی۔
” نہیں، فیضی ایسے نہیں ہو سکتے۔“
وہ منہ پہ ہاتھ رکھے رو رہی تھی۔
ڈرائيور نے گاڑی پورچ میں روکی تو وہ بھاگتی ہوٸی نکلی۔
لاٶنج میں فیضی کی آواز آ رہی تھی۔
”نین تارا۔۔۔۔کہاں تھی تم۔“
فیضی اپنی رو میں بولا ، جب اسکا آنسوٶں سے تر چہرہ دیکھا تو دھک سے رہ گیا۔
” کیا ہوا۔۔۔۔؟“
فیضی گھنرایا ہوا سا اسکی طرف بڑھا۔
نین تارا نے زور دار تھپڑ اسکے منہ پر جڑا۔
” آپ اتنے گرے ہونگے مجھے پتہ نہیں تھا۔“
وہ حلق کے بل چلاٸی۔
فیضی ششدر رہ گیا۔
” مجھے آپ فرشتہ صفت انسان لگے تھے۔“
وہ روتے ہوۓ چلاٸی۔
سبز آنکھوں میں ساون کی جھڑی لگی تھی۔
” مجھ پر لگاۓ پیسے کو میری قیمت گنتے رہے آپ فیضی ، خود سے زیادہ بھروسہ کیا آپ پہ۔“
وہ کرب سے چیخی۔
فیضی ششدر سا اسکا یہ روپ دیکھ رہا تھا۔
” جا رہی ہوں میں، آپ کے پیسے بہت جلد لوٹا دوں گی، میرے پیچھے آنے کی کوشش بھی مت کرنا، ورنہ جان سے جاٶ گے۔“
وہ انگلی اٹھاتی چبا چبا کے بولی۔
” نین تارا۔۔۔“
فیضی کو جیسے اسکے جانے کاسن کے ہوش آیا تھا۔
” خبردار جو میرا نام بھی لیا تو۔“
وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے غراٸی۔
” ہوا کیا ہے۔؟“
فیضی بے عزتی بھول کر اسکے مقابل آگیا۔نین تارا اسے دھکا دیتی کمرے میں چلیگٸ اور لاک لگا لیا۔
” مجگے بتاٶ پلیز ہوا کیا ہے۔؟“
فیضی دروازہ بجا رہا تھا۔
نین تارا بہتے آنسوٶں سے پیکنگ کرنے لگی۔
پیکنگ کیے وہ کمرے سے نکلی اور سوٹ کیس گھسیٹتی باہر جانے لگی۔
”تارا پلیز بتاٶ ۔۔۔۔میرا قصور کیا ہے۔؟“
فیضی اسکے پیچھے پیچھے آتا ہوا بولا۔
” آپ کا قصور نہیں ہے میرا ہے، جو آپ کے ساتھ چلی آٸی۔“
نین تارا تیز لہجے میں بولی اور گھر سے نکل گٸ۔
ٹیکسی روکے وہ اس میں بیٹھ گٸ۔
” ایسے مت جاٶ پلیز۔“
فیضی بے بسی سے ٹیکسی کا شیشہ بجانے لگا۔
نین تارا بنا دیکھے ڈرائيور کو چلنے کا کہا۔
” نین تارا پلیز۔“
فیضی چلاہا۔
نین تارا سر ہاتھوں میں گراۓ پھوٹ پھوٹ کے رودی۔
” آپ نے اچھا نہیں کیا فیضی، آپ نے میرے یقین کا بت پاش پاش کر دیا۔“
وہ منہ پر ہاتھ رکھے رودی۔
” باجی پہنچ گیے۔“
ڈراٸیور بولا تو وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی۔
اسے پیسے دیے اور بیگ گھسیٹتی اپنے اپارٹمنٹ میں چلی آٸی۔
دروازہ بند کرتے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی اور بلک بلک کے روٸی۔
” آپ کی اچھاٸی نے مجھے آپ کا گرویددہ بنا دیا تھا۔“
وہ سسکی۔
” میں کیسے بھول گٸ کہ آپ کی رگوں میں بجی چودهریوں کا خون ہے۔“
وہ کھولتی ہوٸی اٹھی اور کمرے میں چلی آٸی۔
کمرے کی بالکونی پیچھے کی جانب کھلتی تھی، جہاں خوبصورت چھوٹا سا پارک تھا۔
” مجھے تو آپ سے محبت ہونے لگی تھی۔“
وہ کھڑکی کے ساتھ بیٹھتی چلی گٸ۔
گہری سبز آنکھیں بہہ بہہ کے تھکنے لگیں تھیں، چہرے پر خشک آنسوٶں کے نشان واضح تھے۔
فیضی تھکے تھکے قدموں سے اندر چلا آیا۔
” مجھے پتہ تھا تم چلی جاٶ گی ، پر ایسے جاٶ گی مجھے نہیں پتہ تھا۔“
فیضی بیڈ کے ساتھ بیٹھتا ہوا بولا۔
بے بسی سی بے بسی تھی۔
” کس نے تمہیں مجھ سے بدگمان کردیا۔“
وہ سنجیدگی سے سوچنے لگا۔
” کسی نے بدگمان کیا نین اور تم ہو گٸ۔“
فیضی کی آنکھیں بھیگنے لگیں تھیں۔
” مجھ سے بات تو کرتی یار۔“۔
وہ تصویر بیڈ پر پٹختے ہوۓ بولا۔
” پتہ تو میں لگاکے رہوں گا، یوں اپنی محبت نہیں چھننے دوں گا۔“
وہ اٹھ کے بالکونی میں آ گیا۔
” علی یزدانی اگر اس سب کے پیچھے تم ہوۓ تو چھوڑوں گا نہیں۔“
فیضی کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔
” تم اتناگرے ہوگے مجھے پتہ نہیں تھا۔“
نین تارا کی باتیں اسکے دل میں کھب گٸیں۔
انگلی سے آنکھ کا گوشہ صاف کیا اعر ٹھنڈی سانس ہوا کے سپرد کی۔
جاری ہے
