Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45

گھر پہنچتے اسکی حالت غیر ہو چکی تھی۔
وہ جیسے تیسےگھر پہنچی۔
کمرے میں جاتے ایک بار پھر سے ضبط ٹوٹ گیا۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ لے رودی۔
فیضی کو کھو دینے کا دکھ وہ تداشت ہی نہیں کر پارہی تھی۔
” مجھے میری غلطی تو بتائيں فیضی۔“
روتے روتے کرب سے بولی تھی۔
گہری سبز آنکھیں سے کرب اور کھو دینے کا غم جھلک رہا تھا۔
” نین تارا۔“
فضیلہ اسے ناشتے کے لیے بلانے آٸی تھی۔
نین تارا سر گھٹنوں پر رکھے سسک رہی تھی۔
” کیا ہوا۔؟“
فضیلہ اسکے پاس بیٹھی۔
” کچھ نہیں۔“
نین تارا نے آنسو صاف کیے اور اٹھ کے واش روم میں چلی گٸ۔
نقاہت کے باعث چکر آرہے تھے۔
وہ منہ پر پانی کے چھینٹے مارتی باہر آٸی، تولیے سے خشک کیا۔
” ناشتہ کر لو آ کے۔“
فضیلہ کہتے ہوۓ نکل گٸ۔
نین تارا نے دوپٹہ کندھے پر رکھا اور مرے مرے قدم اٹھاتیباہر نکل آٸی۔
آنکھیں رونے کی چغلی کھا رہیں تھیں۔
” طبعیت تو ٹھیک ہے نا نین تارا۔“
فرید نے اسکا اترا چہرہ دیکھا۔
نین تارا کا سر نفی میں ہل گیا، آنکھیں بھر آٸیں۔
” رو کیوں رہی ہے، جاکے دواٸی لے لے۔“
وہ اسے ساتھ لگاتے ہوۓ سادگی سے بولے۔
نین تارا لب بھینچے آنسو ضبط کرتی سیدھی ہوٸی۔
” کہاں گٸ تھی۔؟“
شکیلہ نے نارمل لہجٕے میں پوچھا۔
” حویلی۔“
مختصر سا جواب دیے ناشتہ کرنے لگی۔
چند نوالے لیتے ہی فیضی کی یادوں نے آڈسا۔
دل بے اختیار کھانے سے اچاٹ ہو گیا۔
وہ پلیٹ پرے کھسکاتی کمرے میں آگٸ۔
” مجھے صبر نہیں آۓ گا فیضی، میرے غلطی تو بتاتے آپ۔“
آنکھوں میں پھر سے ساون کی جھڑی لگ گٸ تھی۔
کھڑکی میں کھڑے وہ کھڑکی کے پٹ سے سر ٹکاۓ آزردہ اور تھکی تھکی لگ رہی تھی۔
” تمہیں اپنے دل میں بسایا ہے میں نے
خطا ہے یہ میری یہی جرم میرا۔
خطا ہے یہ میری یہی جرم میرا۔
جو چاہو محبت میں اب تم سزا دو۔
بہت مجھ کو اس میں بھی راحت ملے گی۔
فضیلہ نے ٹی وی آن کیا ہوا تھا۔
ہر لفظ نین تارا کے دل پر لگتا جا رہا تھا۔
ضبط سے آنکھیں میچے لبوں سے سرد آہ نکلی تھی۔
” میں کبھی سنبھل نہیں پاٶں گی فیضی، بہت کمزور ہوں آپ کے بنا۔“
وہ وہیں بیٹھتی چلی گٸ۔
غم تھا کہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا۔
دل تھا کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہا تھا۔
بے بسی کی انتہا پر تھی۔
بے گناہ کی سزا کاٹے نہیں کٹتی۔
لاعلمی کی سزا کاٹنےوالے تل تل مرتے ہیں۔
وہ بھی مر رہی تھی جداٸی میں، جھلس رہی تھی ہجر کی ان دیکھی آگ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مٹ رہی تھی طویل انتظار میں۔
❤❤❤
فیضی یو کے میں بزنس شروع کر چکا تھا۔
پاکستان کی نسبت یوکے میں بزنس بہت جلد اسٹیبلش ہوا تھا۔
نین تارا کی یادوں سے چھٹکارا پانے کو وہ سارا دن خود کو مصروف رکھتا اور رات میں نیند کی گولی کھا لیتا تھا۔
یہی اسکی روٹین بن گٸ تھی۔
پر یادیں کب مانتی ہیں مصروفیت کو، وہ بس چلی آتیں ہیں بن بلاۓ بن سوچے۔۔۔۔۔۔۔
اکثر میٹنگز میں وہ بات کرتے کرتے نین تارا کا خیال آ جاتا اور وہ بات بھول جاتا تھا۔
کام کرتے کرتے نین تارا کی شبیہہ جو زہن پرلہراتی وہ کیا سوچ رہا تھا بلکل بھول جاتا۔
نین تارا کی یادیں اسے ڈسنے لگیں تھیں، جب بھی یادیں ستاتی وہ بے قرار ہو جاتا تھا۔
اب بھی وہ پیشانی مسلتا سوچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
” آپ کتنے اچھے ہیں فیضی۔“
نین تارا کا معصوم سا لہجہ۔۔۔۔۔
دل اسکی معصومیت کی گواہی کو یادیوں کی پٹاری سے چن چن کے اسکی معصوم باتیں اسکا بے رہا لہجہ یاد دلا رہا تھا۔
اس نے پانی کا گلاس منہ کو لگایا اور ایک ہی سانس میں پی لیا۔
عجیب سی گھٹن نے آگھیرا تھا۔
دل شاید خفا ہو گیا تھا۔
ٹاٸی کی ناٹ ڈھیلی کی اور کام کرنےکی کوشش کی پر وہ اچھے سے جانتا تھا، وہ اب کچھ بھی نہیں کر سکےگا۔
لیپ ٹاپ بند کیے وہ اٹھ کے گلاس ونڈو کے سامنے آگیا۔
” یوکے کی یخ بستگی بھی نین تارا کی محبت کو سرد نا کر سکی۔“
سر جھٹکتا بے بسی سے گویا ہوا۔
” کب تک اس ازیت سے دوچار رہوں گا، کیوں مجھے صبر نہیں آرہا۔“
لب بھینچے وہ خود سے مخاطب تھا شاید۔
ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں گھساۓ وہ یک ٹک ایک ہی نقطے کو تک رہا تھا۔
” ہیلو فیضی۔“
ریچل آفس میں داخل ہوٸی تھی۔
فیضی سنجیدگی سے مڑا۔
” ہاٶ آر یوسویٹ ہارٹ۔“
وہ بے باکی سے اسکے قریب چلی آٸی۔
فیضی نے گہری نظروں سے اسکا جاٸزہ لیا۔
بلیو ٹاٸٹ جینز کے اوپر گھٹنوں تک آتا وول کا کوٹ پہنے بھورے بال شانوں پر بکھرے ہوۓ تھے۔
”نا اسکے جیسے مہرون سلکی بال، نا اسکے جیسے گہری سبز آنکھیں نا اسکے جیسی معصومیت نا اسکےجیسے انداز۔“
وہ بے اختیار اسے نین تارا سے کمپٸر کر گیا۔
سر نفی میں ہلاتے وہ پھر سے رخ موڑے گلاس ونڈو سے پاہر تکنے لگا۔
” واٹ ہیپن فیضی۔؟“
وہ اسکے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔
پچھلے دو ماہ سے وہ فیضی کو پٹانے کی ہر ممکن کوشش کر چکی تھی۔
” اف یو وانٹ آٸی ویر شلواز اینڈ قامیض فیضی۔“
ریچل اہنے انداز میں بولتی اسکے بازو پر ہاتھ رکھ گٸ۔
فیضی کو اسکے انداز میں ہنسی آٸی جسے بروقت مسکراہٹ میں بدل لیا۔
” تم کچھ بھی کر لو کبھی میری نظر التفات کے لاٸق نہیں بن سکو گی۔“
فیضی نے اسکا ہاتھ جھٹکتے ہوۓ بولی۔
” واٹ ڈو یو سے ٹو می، کین یو پلیز سے ان انگلش۔“
وہ اسکے پیچھے چلتی آٸی۔
” گو ناٶ۔“
فیضی رکھاٸی سے بولتا بیٹھ گیا۔
”فیضی آٸی ہیو نو بواۓ فرینڈ ناٶ اینڈ نو ان ایکس۔“
وہ بلاوجہ صفاٸی دینے لگی۔
” کین یو پلیز لیو می الون۔“
فیضی تیوری چڑھاۓ بولا۔
” اوکے ایم گوٸنگ پلیز کول۔“
وہ ہاتھ اٹھاتی باہر نکل گٸ۔
” تم نے پھر ریچل کو ناراض کیا۔“
محسم اندر داخل ہوتے خفگی سے بولا۔
” میری زندگی میں اسکے لیے کوٸی جگہ نہیں ہے محسم۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” کیوں روگ لگاۓ بیٹھے ہو خود کا عشق کا، موو آن یار، ریچل بری لڑکی نہیں ہے۔“
محسم نے فورس کیا۔
” سوری بٹ آٸی کانٹ۔“
فیضی رکھاٸی سے بولا۔
بتاٶ پھر کیسی لڑکی چاہیے، وہسی ڈھونڈ دیتا ہوں، بٹ پلیز نکلو اس مجنوں والے فیز سے۔“
محسم منہ بناۓ بولا۔
” سلکی مہرون بالوں والی، گہری سبز آنکھوں والی، معصومیت جس کے چہرے سے عیاں ہو، انداز جس کے بچوں جیسے ہوں۔“
وہ بے خودی سے بول رہا تھا۔
” فیضی دیکھیں نا سب کتنا خوبصورت ہے۔“
مری کی برف کو دیکھتے اسکے چہرے پر بچوں جیسی خوشی فیضی کو آج بھی یاد تھی۔
” وہ جو چھوٹی چھوٹی بات پر خوش ہو جاۓ۔“
فیضی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاۓ یادوں کی گہراٸی میں چلا گیا۔
محسم بغور اسے دیکھ رہا رہا تھا، جس کے چہرے پر سکون سا بکھر گیا تھا۔
” چھوڑ کر کیوں آۓ ہو پھر اسے۔“
محسم اس سے اگلوانا چاہتا تھا۔
فیضی کا اطمینان یکدم غاٸب ہو گیا، چہرے پر کرب دکھاٸی دینے لگا۔
” وہ بہت خود غرض ہو گٸ تھی۔“
فیضی زخمی مسکراہٹ لیے بولا۔
” محبوب تو ہوتے ہی خود غرض ہیں۔“
محسم نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
” وہ اماں جان کے انتقال پر نہیں آٸی۔“
فیضی نے اپنی صفائی میں کہا۔
” کسی پرابلم میں ہو گی۔“
محسم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
” جان بوجھ کر نہیں آٸی، چوہدریوں سے عدوات نکالی۔“
فیضی نے ٹوٹے ہوۓ لہجے میں کہا۔
” تو جو اسے پسند نہیں اسکے لیے اسے فورس مت کرو، بلکہ اسکا دل صاف کرنے کی کوشش کرو۔“
محسم نے سمجھایا۔
فیضی نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔
محسم کے دلائل کے سامنے نین تارا جیت رہی تھی۔
” میری اماں جان سے زیادہ مجھے کچھ نہیں پیارا۔“
وہ سخت لہجے میں بولتا، لیپ ٹاپ کھولنے لگا۔
” وہ اب نہیں رہیں دنیا میں۔“
محسم نے یاد دلایا۔
” تو ان کے لیے اسکو سزا مت دو ،جو زندہ ہیں انہیں تو مت مارو۔“
محسم نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا۔
” تو تم کہنا چاہتے ہو بھول جاٶں اسکی خود غرضی کو جس کا میں نے ہر مشکل لمحےمیں ساتھ دیا ، مہرے مشکل لمحوں میں جب مجھے اسکی اشد ضرورت تھی، اہنی عداوتیں نکال کر بیٹھ گٸ۔“
وہ بلند آواز میں بولا۔۔
” محبوب سے برابری نہیں کی جاتی۔“
محسم نے جتایا۔
” اسکے مشکل لمحوں میں سنبھال کر گویا تم نے اس پر احسان کیا تھا کیا۔۔۔۔؟“
محسم نے سوالیہ انداز میں اسکی جانب دیکھا۔
” یا اس نے کہا تھا تمہیں مجھ پر احسان کرو۔“
محسم نے ابرو اٹھاۓ۔
” مجھے واپس گاٶں جانا ہے فیضی۔“
اسے بے اختیار وہ لمحے یاد آۓ جب وہ احسانات سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔
” آپ مجھ پر اتنے احسان کیوں کر رہے ہیں۔“
وہ اکثر سوال کیا کرتی تھی۔۔
فیضی کاسر نفی میں ہل گیا۔
” ایک بار اس سے بھی پوچھ لیتے، خود سے سب فرض کر کے چلے آۓ۔“
محسم نے افسوس سےدیکھا۔
فیضی سر ہاتھوں میں گراۓ آنکھیں بند کیے بیٹھ گیا۔
” دل سے پوچھو ، غلطی کس کی ہے۔“۔
محسم نے اسکے شانے پر تھپکی دی اور آفس سے نکل گیا۔
❤❤❤❤
اساں زخمی جدا ہو گیے کسے دی لگ نظر گٸ اے۔
وے سارے گھر آباد ہو گیے میری دنیا اجڑ گٸ اے۔
گاڑی میں بجتے گانے پر نین تارا کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
ہر گانا دل کی عکاسی کرتا معلوم ہو رہا تھا۔
وہ پروڈیوسر سے ملی ڈرامہ ساٸن کیا اور واپس چلی آٸی۔
دو مہینے ہو گیے تھے، صبر آتے آتے آ ہی گیا تھا، پر دل میں جو خلش تھی، کسک تھی وہ نا مٹی تھی۔
” بڑی حویلی چلو۔۔۔“
نین تارا مدھم سی بولی۔
ڈرائيور نے گاڑی بڑی حویلی موڑ لی۔
بڑی حویلی کے سامنے اتری اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر چلی آٸی۔
” چوہدری سکندر گھر پر ہیں۔“
ہال میں صفائی کرتی ملازمہ سے پوچھا۔
” جی۔”
وہ صفاٸی کرتی بولی۔
نین تارا کمرے کی طرف بڑھ گٸ۔
دروازہ بجاۓ وہ اجازت کی منتظر تھی۔
” آ جاٶ۔“
چوہدری سکندر آنکھوں سے بازو ہٹاتےہوۓ بولے۔
” السلام وعلیکم۔“
نین تارا بیڈ کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گٸ۔
چوہدری سکندراٹھ کے بیٹھ گیے۔
” کیسی طبعیت ہے آپکی۔“
نین تارا نے انکے بیمار لگتے چہرے کو دیکھا۔
” ٹھیک ہوں۔“
وہ سادگی سے بولے۔
نین تارا چپ ہو گٸ، لفظ تلاش کرنے لگی۔
” فیضی کہاں ہے۔“
وہ سر جھکاۓ مدھم سی بولی۔
” وہ نہیں آۓ گا، بھول جاٶ اسے۔“
چوہدری سکندر نرمی سے بولے۔
” نہیں بھول سکتی۔“
ڈبڈباتی آنکھوں سے بھراۓ لہجے میں بولی۔
” وہ تو مجھ سے بھی خفا ہو بیٹھا ہے۔“
وہ آزردہ سے بولے۔
” پھر تو میری تکلیف سمجھ سکتے ہیں آپ۔“
آنسو سبز آنکھوں سے گرنے لگے تھے۔
” تم کیوں بے وجہ ضدکر رہی ہو، جاٶ چلی جاٶ وہ پلٹنے والا نہیں، اسکی ضد کے آگے کچھ بھی ممکن نہیں۔“
وہ تھکے تھکے سے بولے۔
” میں ممکن کر لوں گی۔“
وہ ایک امید سے بولی۔
” وہ نہت ضدی ہے۔“
وہ سر نفی میں ہلاتے ہوۓ بولے۔
” مجھ پہ رحم کریں پلیز۔“
وہ ہاتھ جوڑتی سر جھکا گٸ۔
چوہدری سکندر نے رخ موڑ لیا۔
” پلیز۔“
وہ منت بھرے لہجے میں بولی۔
وہ وہیل چٸیر گھسیٹتے اس پہ بیٹھے اور کمتے سے نکل گیے۔
نین تارا کتنی ہی دیر بکھرے وجود کو سنبھالتی رہی پھر اٹھ کے ہارے ہوۓ جواہری کی طرح چلی آٸی۔
گہری سبز آنکھوں کی چمک آنسوٶں میں بہہ گٸ تھی۔
گاڑی میں بیٹھتے بند آنکجوں سے موتی گرتے جا رہے تھے۔
” فیضی کم بیک پلیز۔“
دل سے پکارا تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *