Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05
” میں اند آسکتی ہوں۔“
علینہ نے دروازہ ناک کیا۔
نین تارا بیڈ پہ بیٹھی سوچوں میں محو سفر تھی، علینہ کی آواز پر چونکی۔
” جی۔“
نین تارا مختصر بولی۔
” تھینکس۔“
علینہ خوشگواریت سے مسکراٸی اور اسکے پاس بیٹھ گٸ۔
” نین تارا۔“
علینہ مسکرا کے بولی۔
” بہت پیارا نام ہے بلکل تمہاری آنکھوں کی طرح۔“
علینہ اسکی سبز آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی۔
نین تارا ورطہ حیرت میں غوطہ زن ہوٸی۔
میرا نام علینہ ہے۔“
علینہ نے بتایا۔
” یقین مانو۔۔۔۔۔نین تارا مجھے بلیو اور گرین آٸیز دیوانگی کی حد تک پسند ہیں، میں لینز یوز کر لیتی ہوں عموماً۔“
علینہ چہکتے ہوۓ بولی۔
نین تارا حیران تھی، کبھی کسی نے ڈھنگ سے بھی اسے مخاطب نہیں کیا تھا۔
” یار تم تو بولتی نہیں ہو۔۔۔۔۔“
علینہ اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔
” میں کیا بولوں۔۔۔؟“
نین تارا معصومت سے بولی۔
” اچھا چلو۔۔۔۔۔میں تمہارا انٹر ویو لیتی ہوں۔“
علینہ خود ہی بولی۔
” کتنے بہن بھاٸی ہو۔“
علینہ نے سوال کیا۔
” دو بہنیں۔۔۔۔۔میں اور فضیلہ۔“
نین تارا دھیرے سے بولی۔
” بس۔۔۔“
علینہ ہنستے ہوۓ بولی۔
” جی۔“
نین تارا نے اثبات میں سر ہلایا۔
” میں نے تو سنا تھا گاٶں والوں کے دس بارہ بچے ہوتے ہیں۔“
علینہ ہنستے ہوۓ بولی۔
نین تارا ہنس دی۔
” اور کیا کرتی تھی تم گاٶں میں۔“
علینہ نے پوچھا۔
” میں۔۔۔۔“
نین تارا بولنے لگی تھی۔
” گاٶں میں پراٸمری ٹیچر تھی۔“
فیضی نے کہا اور نین تارا کو گھوری سے نوازا۔
نین تارا منہ کھولے حیرت سے فیضی کو دیکھنے لگی۔
” سر آپ آ گیے۔۔۔۔میں بس یونہی آگٸ۔“
علینہ اٹھتے ہوۓ بولی۔
” نو اٹس گڈ۔“
فیضی مسکرایا۔
لاٸٹ بلیو شرٹ اور پلین پینٹ پہنے وہ نک سک سا تیار باہر سے آرہا تھا۔
” دو کپ چاۓ بنا کے لاٶنج میں لے آٶ۔“
فیضی نے علینہ سے کہا۔
” اوکے سر۔“
علینہ سر ہلاتی کمرے سے نکل گٸ۔
” ویسے تو بڑی باتیں بگھارتی ہو۔۔۔۔۔میں عقل سے کام لیتی ہوں یہ وہ۔۔۔۔۔“
فیضی اسکی نقل اتارتے ہوۓ بولا۔
نین تارا کو ناچاہتے ہوۓ ہنسی آگٸ۔
” دانت مت نکالو۔۔۔۔۔۔کسی کو کچھ مت بتانا تم گاٶں میں کیا تھی، کیا کرتی تھی۔“
فیضی خفگی سے بولا۔
” ٹھیک ہے صاحب۔“
نین تارا سر ہلاتے ہوۓ بولی۔
” فیضی۔“
فیضی نے زور دیا۔
نین تارا چپ ہو گٸ۔
” چلو آٶ۔۔۔۔باتیں کرتے ہیں۔“
فیضی بولا۔
” میں آپ سے کیا باتیں کروں گی صاحب۔“
نین تارا پریشانی سے بولی۔
” فیضی۔“
فیضی نے پھر کہا۔
” میں آپ سے کیا باتیں کروں گی فیضی۔“
فیضی بولا تو نین تارا نے سر جھکا لیا۔
” آپ نے کہا تھا مجھ میں جینے کی امنگ ہے۔“
نین تارا سنجیدگی سے بولی۔
” تو۔۔۔۔“
فیضی نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
” تو یہ کہ مجھ میں ایسی کوٸی امنگ نہیں ہے، میں زندگی سے کتنی خفا ہوں آپ نہیں جانتے، لوگ میرا مزاق اڑاتے ہیں۔“
بات کرتے کرتے اسکی آواز بھرا گٸ۔
” لوگوں کی فکر نہیں کرتے۔۔۔۔۔اور جو لوگ مزاق اڑاتے ہیں تم سے بات کرنے کو ترسیں گے۔۔۔۔۔وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔“
فیضی نرمی سے بولا۔
اسے یہ پہاڑ سر کرنا تھا ہر حال میں اور سب سے پہلا مرحلہ نین تارا کا کانفیڈینٹ کرنا تھا۔
” میرا دل نہیں مانتا کہ آپ مجھے یہاں کام کے لیے لاۓ ہیں۔“
نین تارا آنکھیں بے دردی سے رگڑتے ہوۓ بولی۔
” کیوں نہیں لگتا۔“
فیضی اسے جاننا چاہتا تھا، وہ اسکی سوچ سے بڑھ کے دلچسپ تھی۔
” ایک پچاس ہزار تنخواہ، دوسرا مجھے اس کمرے میں رکھنا، تیسرا اپنے ساتھ کھانا کھلانا اور۔۔۔۔۔“
وہ بات مکمل کرتی فیضی کھلکھلا کے ہنس دیا۔
” اف۔۔۔۔۔نین تارا۔۔۔۔۔اتنی گہرائی میں کیوں سوچتی ہو۔“
فیضی ہنستے ہوۓ بولا۔
“ کمرے میں بند رہو گی تو پاگل ہو جاٶ گی۔۔۔۔پر میری سوچ کا کوٸی سرا تمہارے ہاتھ نہیں آۓ گا۔“
فیضی اٹھتے ہوۓ بولا۔
” آ جاٶ۔۔۔۔“
فیضی سوالات نظر انداز کرتے باہر نکل گیا۔
“اسکی سکس سینس حد سے زیادہ تیز ہے۔“
فیضی لاٶنج میں بیٹھتے ہوۓ بڑبڑایا۔
نین تارا صبح والے گلابی سوٹ میں ملبوس تھی، سیاہ رنگت پہ گلابی دوپٹہ لپیٹا ہوا تھا، وہ اس ماحول میں بلکل ان فٹ تھی۔
نین تارا صوفے کے سرے پر ٹک گٸ۔
فیضی اسکے بیٹھنے کے انداز پر امڈ آنے والی ہنسی ضبط کر گیا۔
اتنے میں اسکا فون بجا اور وہ باہر نکل گیا۔
نین تارا ٹی وی دیکھنے میں مگن ہو گٸ۔
فیضی اندر آیا تو اسے مگن دیکھ کر کمرے میں چلا گیا۔
کسی کا نمبر ڈاٸل کیا اور موبائل کان سے لگاۓ بالکونی میں آگیا۔
شام کا منظر عجیب دل افروز تھا،ہلکی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اسکا استقبال کیا۔
” السلام وعلیکم ڈاکٹر سفینہ۔“
فیضی بولا۔
” وعلیکم السلام کیسے ہو فیضی۔“
ڈاکٹر اسے پہچانتے ہوۓ بولی۔
”میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔آپ سناٸیں۔“
فیضی ریلنگ پرکہنیاں جماۓ بولا۔
” اللہ کا کرم ہے۔۔۔۔تم بتاٶ کیا کام پڑ گیا۔“
سفینہ نے پوچھا۔
” وہ مجھے کل اپاٸنٹمنٹ چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔۔“
فیضی نے اسے اپنے آنے کی وجہ بتاٸی ۔
” ٹھیک ہے دس بجے آجانا۔“
ڈاکٹر سفینہ نے کہا تو فیضی شکریہ ادا کرتا فون بند کر گیا۔
کچھ سوچتے ہوۓ اس نے اپنی فرینڈ کا نمبر ڈاٸل کیا جو سیلف گرومنگ اکیڈمی چلا رہی تھی۔
” ہیلو۔۔۔۔۔افرا از ہیر۔“
دوسری جانب فون اٹینڈ کرتے بولی۔
” فیضان سکندر بات کر رہا ہوں۔“
فیضی نے تعارف کروایا۔
” اوہ۔۔۔۔فیضی تم۔۔۔۔کیسے ہو۔“
افرا چہکتے ہوۓ بولی۔
” ٹھیک ہوں۔۔۔۔کل گیارہ بجے فری رہنا مجھے تم سے ملنا ہے اوکے۔“
فیضی نے کہا۔
ّ” اوکے جو حکم۔“
افرا کھلکھلاٸی۔
فیضی نے الوداعی کلمات کہہ کے فون بند کر دیا۔
نین تارا کی آنکھ کھلی تو پانچ بج رہے تھے، منہ دھو کہ فریش ہوٸی اور کپڑے چینج کیے۔
سی گرین شرٹ واٸٹ شلوار اور واٸٹ دوپٹہ لیے وہ باہر آ گٸ۔
گھر میں ہر سو خاموشی کا راج تھا، نین تارا کچن میں گٸ۔
اسے زوروں کی بھوک رہی تھی۔
فریج میں رات کا کھانا پڑا تھا۔
نین تارا نے وہی گرم کیا اور ٹیبل پربیٹھ کے کھانے لگی۔
کھانا کھا کے وہ برتن دھوۓ اور سنک میں پڑے رات کے برتن دھونے لگی۔
برتن دھو کے کچن کی صفاٸی کی اور لاٶنج میں آگٸ۔
لاٶنج کی صفاٸی کی کاریڈور سے ہوتے وہ سیڑھیوں پر جھاڑو لگا رہی تھی جب بشریٰ دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوٸی۔
”گڈ۔۔۔۔۔اپنی اصلیت میں آ ہی گٸ تم۔“
تمسخرانہ نگاہ اس پہ ڈالتے وہ کچن کی طرف بڑھی۔
فیضی صبح صبح فریش جوس لیتا تھا۔
بشریٰ نے جوس بنایا اور سیڑھیاں چڑ ھ گٸ۔
دروازہ ناک کیا تو گہری نیند میں سوۓ فیضی نے ناگواری سے سر ہلایا۔
مسلسل دروازہ بجنے وہ اٹھا اور دروازہ کھول دیا۔
” سر جوس۔“
بشری نے کہا تو فیضی دروازہ چھوڑتے واش روم میں چلا گٕیا۔
فریش ہو کے واپس آیا تو بشریٰ کپڑے ہینگ کروا رہی تھی۔
”نین تارا اٹھ گٸ۔“
فیضی جوس پیتے ہوۓ بولا۔
”جی سر۔۔۔۔۔“
بشریٰ ناگواری سے بولی۔
”کیا کر رہی ہے۔“۔فیضی نے سرسری سا پوچھا۔
” صفاٸی کر رہی ہے۔“
بشریٰ دھیرے سے بولی۔
” واٹ۔“
فیضی حیرت سے بولا اور جوس کا گلاس ڈش میں رکھتےکمرے سے نکل گیا۔
بشریٰ بھی اسکے پیچھے ہی نکلی۔
” سر کچن کی صفاٸی کر چکی ہے،لاٶنج سے۔۔۔۔۔“
بشریٰ فیضی کے پیچھے سیڑھیاں اترتی بتا رہی تھی۔
” نین تارا۔۔۔۔۔“
فیضی شدید غصے سے دھاڑا۔
” جی صاحب۔“
نین تارا ڈر کے رگ گٸ،اس کا رنگ فق ہو گیا۔
فیضی نے اسکے ہاتھ سے جھاڑو پکڑ کے زمین پر پٹخا اور بازو سے پکڑ کھینچتا کمرے میں لے گیا، دروازہ بند کیا اور اسکابازو چھوڑ دیا۔
نین تارا بری طرح گھبرا گٸ۔
” منع کیا تھا میں نے تمہیں۔۔۔۔“
فیضی کا بس نہیں چل رہا تھا نین تارا کےایک لگا دے۔
” صاحب آپ مجھے کام کے لیے لاۓ ہیں۔“
نین تارا سہمی سی منمناٸی۔
” بھاڑ میں گیا کام۔۔۔۔۔۔۔کیا تمہاری زندگی صرف ملازمہ بننے کے گرد گھومتی ہے۔“
فیضی دھاڑا۔
” نکل آٶ اس خول سے۔۔۔۔۔دنیا میں بہت کام ہیں، لوگوں کی چاکری کے علاوہ بھی۔“
فیضی درشتی سے بولا۔
” اور اگر آٸیندہ کسی کےلیے صاحب کا ورڈ یوز کیا تو بہت بری طرح پیش آٶں گا۔“
فیضی درشتی سے بولا اور کمرے سے نکل گیا۔
نین تارا بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔
” یااللہ یہ شخص آخر کیا چاہتا ہے مجھ سے۔۔۔۔۔“
نین تارا پریشانی سے بولی۔
” مجھ جیسی کالی کلوٹی کالی بلی سے شادی تو کرے گا نہیں۔۔۔۔پھر کیوں میرا اتنا خیال رکھ رہا ہے جتنا میں خود نہیں رکھتی اپنا۔“
نین تارا اٹھ کے کھڑکی کے پاس آگٸ۔
” سر ناشتہ ریڈی ہے۔“
بشریٰ نے اطلاع دی۔
” اوکے۔“
فیضی خود پر پرفیوم سپرے کرتے ہوۓ بولا۔
” پرپل پلین شرٹ اور بلیک نیرو جینز میں بلیک ٹاٸی لگاۓ وہ دراز سے گھڑی نکال کے پہن رہا تھا۔
بال پہت سلیقے سے سیٹ کیے تھے اور ایس ایم 98 کی بھینی بھینی خوشبو سے مہک رہا تھا۔
بیڈسے کوٹ اٹھاۓ وہ کمرے سے نکل آیا۔
” نین تارا کو بلاٶ ناشتہ کر لے۔“
فیضی نے کوٹ چیر پر لٹکایااور بیٹھ گیا۔
بشریٰ منہ کے زاویے بگاڑتی نین تارا کے کمرے کی طرف بڑھی۔
”ناشتہ کر لو۔“
بشریٰ اکھڑے لہجے میں بولی۔
” میں نہیں کرنا۔۔۔۔۔“
نین تارا بنا مڑے بولی۔
” اوہ ہیلو بی بی ۔۔۔۔یہ تمہارا گھر نہیں ہے جہاں نخرے دکھاٶ گی۔“
بشریٰ بگڑتی ہوٸی بولی۔
نین تارا نے کچھ نہیں کہا۔
” سر وہ کہہ رہی ہے میں نے نہیں کرنا ناشتہ۔“
بشریٰ نے ناگواری سے کہا۔
فیضی کا اسکے انکار پر غصہ تو بہت آیا پر ضبط کرگیا۔
وہ کچھ سوچتے ہوۓ اٹھا۔
” ناشتہ نین تارا کے کمرے میں لے آٶ۔“
فیضی نے کہا تو بشریٰ کو پتنگےلگ گیے۔
فیضی نے دروازہ کھولا تو نین تارا کھڑکی کے پاس کھڑی لان میں نظریں ٹکاۓ ہوۓ تھی۔
” ناشتہ کیوں نہیں کرنا۔“
فیضی رعب سے بولا۔
” مجھے بھوک نہیں ہے صاحب۔“
نین تارا رخ اسکی طرف موڑتی نظریں جھکا کے بولی۔
” نین تارا۔“
فیضی غصے سے بولا۔
” تھوڑی دیر قبل کچھ سمجھایا تھا میں نے۔“
فیضی چبا چبا کر بولا۔
نین تارا کو یاد آ گیا وہ صاحب کہنے سے منع کر کےگیا تھا۔
” سوری فیضی۔“
نین تارا نظریں جھکاۓ بولی۔
ناشتے کی ڈش تھامے اندر آتی بشریٰ کے کانوں میں نین تارا کے الفاظ ٹکراۓ تو اسکے تن بدن میں آگ لگ گٸ۔
” سر ناشتہ۔“
ناگواری چھپاۓ بنا بولی۔
” رکھ دو اور جاٶ۔“
فیضی نے حکم دیا۔
” چلو کرو ناشتہ۔“
فیضی نے رعب سےکہا۔
” مجھے آپ کی طرح کھانا نہیں آتا۔۔۔۔۔“
نین تارا روہانسی ہوٸی۔
”سیکھ جاٶ گی۔“
فیضی نے کہا۔
” دس بجے تیار رہنا کہیں جانا ہے اوکے۔“
فیضی حکم دیتا نکل گیا۔
وہ چلا گیا تو نین تارا دوبارہ ناشتہ کرنے لگی۔
کھانا کھایا اور برتن اٹھا کے کچن میں رکھ دیے۔
” آگیے گاٶں سے۔“
علی اسے آفس میں دیکھ کر خوشی سے بولا۔
” ہاں کل دوپہر میں۔“
فیضی کرسی سنبھالتے ہوۓ بولا۔
” کیا پلین ہے۔۔۔۔دبٸ ڈیزائنرزکو ہماری ماڈلز پسند آٸیں۔“
فیضی لیپ ٹاپ آن کرتے ہوۓ بولا۔
” ہاں تینوں نے اوکے کر دی ہیں اور رانیہ کو دوبٸ فوڈ کمپنی نے کمرشل آفر کی ہے۔“
علی نے ڈیٹیلز اسکے سامنے رکھیں۔
” رانیہ کو اوکے کرو اور باقی کے انتظام کرو۔۔۔۔۔“
فیضی نے کہا۔
” اوری فلیم پراڈکٹ کے کمرشل کے لیے نیا چہرہ مانگ رہے ہیں، میں نے دعا کأ کہا تھا انہوں نے منع کر دیا۔“
علی نے کہا تو فیضی نے سر ہلا دیا۔
”پاکستانی ڈیزائنرزکب تک رکھیں گے شو۔“
فیضی دبٸ ڈیزائنرز کے پچھلے شوز دیکھتے ہوۓ بولے۔
” ابھی کچھ فاٸنل نہیں ۔۔۔۔۔“
علی نے نفی میں سر ہلایا۔
” ریڈکارپٹ شو کب ہے۔۔۔؟“
فیضی نے پوچھا۔
” تین چار ماہ پڑے ہیں۔“
علی سرسری سا بولا۔
” ایک منٹ۔۔۔۔“
علی چونکا۔
” کوٸی نٸ ماڈل لانچ کرنے والے ہو۔“
علی کام چھوڑ کے اسکی طرف متوجہ ہوا۔
فیضی ہنس دیا۔
” دیٹس گریٹ۔۔۔۔۔۔اوری فلیم والوں سے بھاری رقم اینٹھوں گا۔“
علی خوشی سے چہکا۔
” مجھے کچھ کام ہے۔۔۔۔۔۔تم میک اپ آرٹسٹ ریڈی رکھو۔۔۔۔اور ماڈلز سے ان ٹچ رہو۔۔۔۔۔عین ٹاٸم پر کوٸی مسٸلہ نہیں ہو نا چاہیے اوکے۔“
فیضی حکمیہ لہجے میں بولا۔
” میں علی یزدانی ہوں تمہارا پارٹنر۔۔۔۔۔تمہاری حویلی کا ملازم نہیں ہوں سمجھے۔“
علی اسکے رعب دار لہجے سے عموماً چڑ جاتا تھا۔
فیضی کھلکھلا کے ہنس دیا۔
” جو بھی ہو۔۔۔۔۔فیضی کے انڈر ہو۔“
فیضی اسے چڑاتا آفس سے نکل گیا۔
اسکا رخ شاپنگ مال کی طرف تھا۔
نین تارا کے لیے چند جوڑے اور جوتےلیے وہ گھر آ گیا۔
” ہاۓ فیضی۔“
لاٶنج میں داخل ہوا تو ادا چہکی۔
” ہاۓ۔۔۔۔ہاٶ آر یو۔“
فیضی بیٹھتے ہوۓ بولا۔
” آج جلدی آگیے آفس سے۔“
ادا بال پیچھے جھٹکتے ہوۓ ادا سے بولی۔
ریڈ ٹی شرٹ اور بلیو جینز پہنے دوپٹے سے بے نیاز ، بال سٹریٹ کر کے کھلے چھوڑے ہوۓ تھے، ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ اپنی اداٸیں دکھا رہی تھی۔
” شاپنگ کر کے آۓ ہو۔“
فیضی کو موبائل میں مصروف دیکھ بولی۔
” ہاں نین تارا کے پاس کپڑے نہیں تھے۔“
فیضی مصروف سا بولا۔
” نین تارا یہاں۔۔۔۔۔؟؟“
ادا حیران ہوٸی۔
”ہاں میں لایا ہوں اسے۔۔۔۔۔بشریٰ جاٶ نین تارا کو بلاٶ۔“
فیضی میسیج ٹاٸپ کرتے ہوۓ بولا اور موبائل رکھ دیا۔
” کیوں اسے کیوں لاۓ۔“
ادا کا موڈ بدل گیا۔
” وہ پھر کبھی بتاٶں گا۔“
فیضی نے ٹی وی آن کیا۔
” السلام وعلیکم۔“
نین تارا لاٶنج میں داخل ہوٸی۔
ادا نین تارا کو دیکھ کر ہنس دی۔
” نین تارا۔۔۔۔۔کم زکم واٸٹ تو مت پہنا کرو۔۔۔۔۔ڈراٶنی لگ رہی ہو۔“
ادا ہنستے ہوۓ بولی۔
بشریٰ نے بھی ادا کا بھرپور ساتھ دیا۔
” ادا۔۔۔۔۔۔یو نو ویری ویل ۔۔۔۔۔شی از سینسٹیو۔“
فیضی نے ادا کو گھرکا۔
” اوکے سوری۔“
ادا ہنسی ضبط کرتے ہوۓ بولی۔
” بیٹھو نین تارا۔“
فیضی نرمی سے بولا تو نین تارا ادا کے ساتھ صوفےپر بیٹھ گٸ۔
” بشریٰ تم جاٶ ۔۔۔۔۔“
فیضی نے بشریٰ کو بھیج دیا، وہ نہیں چاہتا تھا ادا کوٸی بات کرے اور بشریٰ کو پتہ چل جاۓ۔
ادا کو نین تارا کا برابر بیٹھنا برا لگا۔
” یہ لو تمہارے لیے کچھ چیزیں لایا ہوں۔“
فیضی نے شاپنگ بیگ نین تارا کی طرف بڑھاۓ۔
” شکریہ فیضی۔“
نین تارا خوشی سے بولی۔
” فیضی۔۔۔۔۔؟“
ادا کو جھٹکا لگا۔
” تم اتنی جلدی حویلی کے طور طریقے بھول گٸ۔“
ادا تیز لہجے میں رعب سے بولی۔
” ادا یہ حویلی نہیں ہے۔۔۔۔۔میں نے ہی منع کیا ہے۔۔۔۔۔“
فیضی رسانیت سے بولا۔
” کیوں۔“
ادا خفا ہوٸی۔
” مجھے پسند نہیں یہ چونچلے۔“
فیضی نے کہا۔
”ریٸلی۔“
ادا نے ابرواٹھاۓ۔
” نین تارا تم جاٶ۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا اٹھ کے چلی گٸ۔
” میں بحث کے موڈ میں نہیں۔“
فیضی کمرے میں چلا گیا۔
ادا تن فن کرتی گھر سے نکل گٸ۔
جاری ہے
