Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02
نین تارا نے چھلانگ لگاٸی ہی تھی جب کسی نے اسکی کلاٸی تھام لی، اسکی کلاٸی میں پہنی کالی چوڑیاں ٹوٹ کر کلاٸی زخمی کر گٸیں۔
”آہ۔“
نین تارا کے منہ سے آہ نکلی اسنے اوپر کی جانب دیکھا تو فیضی نے اسکی کلاٸی پکڑی ہوٸی تھی۔
فیضی نے کھینچ کے باہر نکالا۔
” پاگل ہو تم۔“
فیضی غصے سے بولا۔
اسکی کشادہ پیشانی پر بل پڑ چکے تھے۔
نین تارا نے کلاٸی سہلاٸی اور ڈبڈباٸی آنکھوں سے ایک پر شکوہ نگاہ اسکے وجیہہ چہرے پر ڈالی اور آنچل سنبھالتی ساٸڈ سے نکل گٸ۔
نعمان حیرت سے جاتی نین تارا عرف بلی کو دیکھ رہا تھا۔
” تمہیں چوٹ تو نہیں آٸی۔“
نعمان متفکر لہجے میں بولا۔
” نہیں بس بازو پرہلکی سی خراش آٸی ہے۔“
فیضی بازو سہلاتے ہوۓ بولا۔
” یہ حویلی کی ملازمہ تھی نا۔۔۔۔بلی۔“
فیضی نے دور جاتی نین تارا کی پشت کودیکھا۔
” ہمممم۔۔۔۔۔وہی تھی۔“
نعمان خود پریشان ہو گیا تھا۔
حویلی پہنچ کر فیضی اپنے کمرے میں چلا گیا اور نعمان لاٶنج میں جھولے پر بیٹھ گیا۔
اسکی سوچوں کا محور نین تارا تھی۔
”بلی نے ایسی حرکت کیوں کی۔۔۔۔۔؟؟“
وہ فکر مند لگ رہا تھا۔
پورا گاٶں اسے خاندان کی طرح پیارا تھا، کسی کو ہلکی سی پریشانی ہوتی وہ چوہدری نعمان کے پاس دوڑے چلے آتے۔
” کیا ہوا چوہدری صاحب آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔
ارم ان کے چہرے پر فکر کا بکھر اجال محسوس کر چکی تھی۔
” نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔“
نعمان نے بات کو ٹال دیا۔
” کھا نا تیار ہے ۔۔۔۔کھا لیجیے۔“
ارم مسکرا کر بولی۔
نعمان بھی اسکے پیچھے ہو لیا۔
” بلی ۔۔۔۔۔“
ارم نے صفاٸی کرتی نین تارا کو آواز دی۔
” جی بی بی صاحب۔“
بلی جھاڑو چھوڑ کر ان کے پاس چلی آٸی۔
” فیضی کو جوس بنا کر دے آٶ۔“
ارم رعب سے بولی۔
” تو صفاٸی کر۔۔۔۔۔میں دے آتی ہوں۔“
فضیلہ نے کہا تو ارم نےاسے گھورکر دیکھا۔
” تم رہنے ہی دو۔۔۔۔۔اور کچن کے کام تمہیں کس نے سونپے۔۔۔تم صفاٸی کرو۔۔۔۔۔نین تارا کچن کا کام تمہارے زمے تھا۔۔۔“
ارم نے فضیلہ کی کلاس لے ڈالی ساتھ نین تارا کو بھی جھڑکا۔
” بی بی جی فضیلہ نے مجھے کچن سے نکال دیا۔“
نین تارا نے اپنی صفاٸی دی۔
” تمہارے ہاتھوں کی صفاٸی میں اچھے سے جانتی ہوں فضیلہ ۔۔۔۔آج کے بعد کچن میں نظر ناآٶ۔“
ارم نے جھڑکا اور صفاٸی پہ لگا دیا۔
” مارننگ بھابھی۔“
ادا ان کے پاس آ بیٹھی۔
” مارننگ۔۔۔۔۔“
ارم مسکراٸی۔
” ان کی کلاس کیوں لگ گٸ۔“
ادا نین فضیلہ کا لٹکا چہرہ دیکھ کر بولی۔
”فضیلہ کو صفاٸی پہ لگایا ہے۔۔۔۔۔۔نین تارا کو کچن میں۔۔۔نین تارا پڑھی لکھی ہے صفاٸی ستھراٸی سے کام کرتی ہے ۔۔۔فضیلہ کو ڈھنگ سے برتن بھی دھونے نہیں آتے۔“
ارم نے سر جھٹکا۔
” یہ تو ہے نین تارا میں سلیقہ بہت ہے۔“
ادا نے تعریف کی۔
نین تارا نے فریش جوس کا جگ ٹرے میں سجاۓ ادا کے آگے ٹیبل پرلا رکھا۔
” فیضی کو دے دیا جوس۔۔۔۔؟“
ارم نے پوچھا۔
” نہیں۔۔۔بی بی جی جا رہی ہوں۔“
نین تارا ادب سے بولتی کچن میں چلی گٸ۔
فیضی کے لیے جوس بنایا اور اس کمرے میں لے گٸ۔
دروازہ بجا بجا کر واپس آگٸ۔
” بی بی جی فیضی صاحب دروازہ نہیں کھول رہے۔“
نین تارا واپس آگٸ۔
” دراز سے دوسری چابیاں لے کے دروازہ کھول لو۔“
ارم نے کہا اور ادا سے باتوں میں مگن ہو گٸ۔
نین تارا نے حویلی کی دواری چابیاں لیں اور دروازہ کھول کے کمرے میں چلی گٸ۔
جوس ساٸڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
” فیضی صاحب۔۔۔۔“
نین تارا نے آواز دی۔
” صاحب جی۔“
وہ تھوڑا آگے کو جھکی۔
” کان سے روٸی نکال دیتی ہوں۔“
اس نے ہاتھ بڑھاکےکان سے روٸی نکال دی۔
” فیضی صاحب۔۔۔۔۔“
نین تارا نے زرا زور سے آواز دی۔
” ہوں۔۔۔۔۔“
وہ نیند میں بولا۔
” صاحب جوس پی لیں۔“
نین تارا نے ہاتھ مسلتے ہوۓ کہا۔
فیضی کسمساتے ہوۓ اٹھ بیٹھا۔
” لاٶ۔“
مندی مندی آنکھوں سے بولا۔
” نین تارا نے گلاس میں جوس ڈال کے تھمایا۔
جوس پیتے اس کی نیند اڑن چھو ہو گٸ۔
فیضی کی نظر نین تارا کے سانولے ہاتھوں پر گٸ۔
مخروطی انگلیوں کے حامل پتلے پتلے خوبصورت ہاتھ۔۔۔۔۔
” زرا پیچھے ہٹو۔“
فیضی نے گلاس میں دوبارہ جوس انڈیلا۔
اسکے سانولے پیر بھی خوبصورت تھے بس رنگ زرا زیادہ ہی سانولا تھا۔ چہرے کے نین نقش بھی تیکھے تیکھے اور خوبصورت تھے۔
” تمہاری اماں نے تمہارے پیداٸش سے پہلے بینگن کھاۓ تھے۔؟“
فیضی نے سوال کیا۔
” پتہ نہیں صاحب۔۔۔۔“
نین تارا نا سمجھی سے بولی۔
” کھاۓ ہونگے ۔۔۔۔۔تب ہی بینگن جیسی ہو۔“
ہنستے ہوۓ گلاس است تھمایا اور بیڈ سے اتر کے واش روم میں گھس گیا۔
نین تارا بجھے دل کے ساتھ واپس آگٸ، نوری کے ساتھ مل کے ناشتہ تیار کیا اور ٹیبل پر لگا دیا۔
” نین تارا۔۔۔۔۔۔۔“
نعمان نے ناشتہ کرتے وقت اسے پکارا۔
” جی صاحب جی۔“
نین تارا فوراً حاضر ہوٸی۔
” کل تم ٹیوب ویل پر کیا کر رہی تھی۔۔۔۔۔؟“
گلاس میں پانی انڈیلتے ہوۓ پوچھا۔
” وہ صاحب۔۔۔۔۔۔۔“
نین تارا گڑ بڑا گٸ۔
”السلام وعلیکم۔۔۔۔مارننگ ایوری ون۔“
فیضی خوشگوار لہجے میں بولا اور کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا۔
” وعلیکم السلام۔“
نعمان نے جواب دیا۔
” تم سے کچھ پوچھا ہے۔۔۔۔۔؟؟“
نعمان نے نین تارا کی طرف دیکھا۔
نین تارا نظریں جھکاگٸ۔
” جانتی ہو نا خود کشی حرام ہے۔۔۔۔۔“
نعمان نے اسکے جھکے چہرے کی طرف دیکھا۔
نین تارا کی آنکھیں بھرنے لگیں۔
” کیا وجہ تھی جو تم نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا۔“
نعمان کا لہجہ تھوڑا سخت ہوا۔
” وہ صاحب جی۔۔۔۔۔کل فیضی صاحب نے اسے کالی بلی کہا تھا۔“
فضیلہ ہاتھ مسلتے ہوۓ بولی۔
” نین تارا۔۔۔۔۔۔“
نعمان نے خفگی سے اسکی بھراٸی آنکھوں کی طرف دیکھا۔
” سارے میرا مزاق اڑاتے ہیں صاحب۔۔۔۔۔یہ بھی نہیں سوچتے یہ اللہ نے بنایا ہے۔۔۔۔۔فیضی صاحب کی بات نہیں ہے۔۔۔۔گاٶں والے بھی میرا مزاق اڑاتے ہیں طنز کرتے ہیں۔“
بھراۓ لہجے میں بولی۔
نعمان ناراض نظر فیضی پر ڈالی جو شرمندہ نظر آرہا تھا۔
” نومی آٸی سوییر مجھے نہیں پتہ تھا یہ ہرٹ ہوگی۔“
فیضی نے صفاٸی دی۔
” اگر وہ مرجاتی تو اسکی وجہ تم ہوتے فیضی۔“
نعمان غصے سے بولا۔
” آپ ایک کام والی کے لیے میرے بھاٸی پر غصہ کر رہے ہیں نعمان۔“
ارم کو نعمان کی باتیں بری لگیں۔
” وہ بھی ایک انسان ہے۔“
نعمان نے زور دیتے ہوۓ کہا۔
” آپی میں شرمندہ ہوں۔۔۔۔۔نومی ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔۔نین تارا بے شک ملازمہ ہے پر ہے تو انسان ہی ۔۔۔۔۔۔جو قوانین، قواٸد ان کے لیے ہمیں انصاف کی رو سے ہمارے لیے بھی ہیں۔“
فیضی نرمی سے بولا۔
” نین تارا۔۔۔۔میں معافی چاہتا ہوں۔“
فیضی شرمندہ لہجے میں بولا۔
” بس کرو فیضی۔۔۔۔“
ارم کو اپنی بے عزتی محسوس ہوٸی۔
” ہم سب برابر نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہم میں اور ان میں بہت فرق ہے۔“
ارم اپنی بات پہ اڑ گٸ۔
” افسوس ہے تمہاری گریجویشن تمہیں انسانیت نا سکھا سکی۔“
نعمان نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔
” میرے باپ دادا نے بھی کبھی ملازموں کو ملازم نہیں سمجھا تھا، نا میں سمجھتا ہوں۔“
نعمان نے یاد دہانی کرواٸی۔
” پر میں سمجھتی ہوں۔“
ارم کرختگی سے بولی۔
” تمہارے سمجھنے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔آج کے بعد کوٸی نین تاراکو بلی نہیں بولے گا۔۔۔۔یہ میرا حکم ہے۔“
نعمان ٹیبل چھوڑ کے اٹھ گیا۔
ارم نے شعلہ بار نظروں سے نین تارا کو دیکھا۔
” تم جاٶ ۔۔۔۔“
فیضی نے نین تارا سے کہا۔
” کم آن آپی غصہ تھوکیں۔۔۔۔۔۔میں ملازموں کو ملاز م ہی سمجھتا ہوں۔۔۔۔وہ تو بس نومی کی وجہ سے ایسا کہہ دیا۔“
فیضی نے ارم کو منایا۔
” شکر ہے ۔۔۔۔۔ورنہ مجھے فکر ہونے لگی تھی۔۔۔کہیں تم پہ بھی نومی کا اثر نا ہوجاۓ۔“
ارم نے ٹھنڈا سانس خارج کیا۔
” میں فیضان سکندر ہوں۔۔۔۔نعمان نہیں۔“
فیضی نے کالر جھاڑا۔
ارم اور ادا دونوں ہنس دیں۔
” تجھے شرم نا آٸی فیضی صاحب سے معافی منگواتے۔“
شکیلہ نین تارا پر برس رہیں تھیں۔
” تو کیا ہو گیا اماں۔۔۔۔۔ اپنی غلطی کی معافی مانگی ہے۔“
نین تارا کو فضول کی عزت افزاٸی بری لگی۔
” وہ حویلی کے صاحب ہیں۔۔۔۔نین تارا کیا ہو گیا ہے تجھے ۔۔۔کیوں بی بی صاحب کے آگے میرے ناک کٹوانے پر تلی ہو۔“
شکیلہ سر پیٹنے لگیں۔
” مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔میں سب کو بری لگتی ہوں کیونکہ میں تم لوگوں کی طرح چاپلوسی نہیں کرتی۔“
نین تارا تنک کے بولی۔
” اسے چاپلوسی نہیں وفاداری کہتے ہیں۔“
شکیلہ غصے سے بولیں۔
” ہونہہ ۔۔۔۔وفاداری۔“
نین تارا نے سر جھٹکا۔
” میری مت ماری گٸ تھی نین تارا جو تجھے پڑھا لیا۔۔۔۔۔بچپن سے حویلی میں پھینکا ہوتا تو عقل آتی تجھے۔۔۔۔۔لوگوں کو پڑھ لکھ کے عقل آتی ہے تیری اگلی بھی ماری گٸ۔“
شکیلہ بیگم اسے کوسنے لگیں۔
” میں جا رہی ہوں حویلی۔۔۔۔“
اطلاع دیتی وہ نکل گٸ۔
شکیلہ سر پکڑ کے بیٹھ گٸ۔
” ادھر آٶ نین تارا۔۔۔۔۔“
فیضی نے لاٶنج سے گزرتی نین تارا کو آواز دی۔
” ادا جاٶ اپنی فل ہاٸی ہیل لے کے آٶ۔۔۔۔۔“
فیضی نے ادا سے کہا۔
” کیوں۔“
وہ ناسمجھی سے بولی۔
” لے کر تو آٶ۔“
فیضی نے کہا تو وہ کمرے کی طرف بڑھ گٸ اور اپنی چھ انچ لمبی ہیل اٹھالاٸی۔
” ادھر آٶ۔۔۔۔یہ پہنو۔۔۔“
فیضی نے حکم دیا۔
” صاحب۔۔۔۔یہ ادا بی بی کے ہیں۔۔۔۔میں نہیں پہن سکتی۔“
نین تارا ہکلاٸی۔
”فیضی میرے سب سے ایکسپینسیو سینڈل ہیں۔“
ادا نے دہاٸی دی۔
” رو مت۔۔۔۔نیےدلا دوں گااس سے بھی مہنگے۔“
فیضی نے کہا۔
” تم پہن رہی ہو یا میں اٹھوں۔“
فیضی سخت لہجے میں بولا۔
” ادا بی بی۔۔۔۔“
نین تارا نے ادا کی طرف دیکھا۔
” فیضی وہ نہیں چل سکے گی۔۔۔۔۔ایسے سینڈلز تو کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھے ہونگے اس نے۔“
ادا فیضی کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
” تمہیں فیضی نے حکم دیا۔“
ارم کرخت لہجے میں بولی۔
نین تارا جھک کے ہیل پہننے لگی۔ گولڈن سینڈلز اسکے گہرے سیاہ پیروں میں عجیب لگ رہے تھے۔
” گڈ۔۔۔۔۔“
فیضی ہنسا۔
” تم جاٶ ۔۔۔۔سب ملازموں کو بلا لاٶ۔“
فیضی نوری سے مخاطب ہوا۔
تھوڑی دیر میں حویلی کے ملازمین لاٶنج میں جمع تھے۔
” اب تم دس چکر نکالو لاٶنج کے۔“
فیضی نے حکم دیا۔
نین تارا چلنے لگی۔۔۔۔
اسکے چلنے کے انداز دیکھ ادا اور ارم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہیں تھیں۔
جبکہ فیضی کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔
” ٹھیک سے چلو۔“
فیضی اٹھ کھڑا ہوا۔
” ایسے ۔۔۔پیر کے آگے پیر رکھو۔“
فیضی نے اسے چل کے دکھایا۔
” واہ کیا انٹر ٹیننگ شو ہے۔“
فیضی ارم کی طرف دیکھ کے ہنسا۔
” تم کبھی نہیں سدھر سکتے۔“
ارم ہنستے ہوۓ بولی۔
چھ چکر ہو چکے تھے، نین تارا کے چلنے میں کافی بہتری آ گٸ تھی۔
” تمہارے انٹرٹیننگ شو نے نین تارا کو ہیل میں چلنا سکھا دیا۔“
ادا ہنسی سے بے حال ہو چکی تھی۔
” یہی تو میں دیکھنا چاہتا تھا۔“
فیضی نے ہنستے ہوۓ سوچا۔
” اب سیڑھیاں چڑھو۔۔۔۔“
فیضی نے کہا تو وہ روہانسی ہوتی سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔
آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ گٸ، واپس آتے اسکا پیر پھسلااور وہ سیڑھیوں سے گرتی نیچے آٸی۔
” اوہ نو۔۔۔۔۔نین تارا۔“
فیضی سیڑھیوں کی طرف بھاگا۔
سب کے ہنسی کو بریک لگی۔
” پانی لاٶ۔۔۔۔“
فیضی نے نین تارا کو اٹھایااور صوفے پر لٹا دیا۔
” سیڑھیاں چڑھنے کا نہیں کہنا چاہیے تھا۔“
ارم پریشان ہوٸی، اگر نعمان کو پتہ چلتا تو وہ پھر سے خفا ہو جاتا۔
” نین تارا صفاٸی کرتے سیڑھیوں سے پھسلی ہے۔۔۔۔۔سمجھے سب۔“
ارم نے تحکم سے کہا۔
تمام ملازمین نے سر اثبات میں ہلایا اور لاٶنج سے چلے گیے۔
” سیریس چوٹ تو نہیں آٸی۔“
ارم پریشانی سے بولی۔
” آپ ڈاکٹر کو کال کریں۔۔۔۔“
فیضی کا رنگ اڑ چکا تھا۔
مزاق الٹا پڑ گیا تھا۔
وہ ایک دفعہ پھر نین تارا کو چوٹ دے گیا۔
” ادھر آٶ اس کے سینڈل اتارو۔۔۔۔“
فیضی نے فضیلہ کوبلایا۔
جاری ہے
