Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10
فیضی نے کمرے کادروازہ کھولا تو نین تارا کارپٹ پر ہوش و خرد سے بیگانہ بے ہوش پڑی تھی، اسکے داٸیں بازو سے خون نکل کر ہاتھ تک جما ہوا تھا۔
فیضی کا رنگ فق ہو گیا۔
” نین تارا۔۔۔۔۔“
فیضی بوکھلا کے اسکی طرف بڑھا۔
” پانی لاٶ۔“
فیضی شازیہ سے مخاطب ہوا اور نین تارا کا چہرہ تھپتھپانے لگا۔
” نین تارا۔۔۔۔“
فیضی نے اسکی نبض چیک کی جو بہت دھیمی چل رہی تھی، موبائل نکال کے ڈاکٹر کو کال کی اور شازیہ سے پانی لے کے اسکے منہ پر چھینٹے مارنےلگا۔
” اسے بیڈ پر لیٹا دو۔“
فیضی نے شازیہ سے کہا۔
شازیہ نے ایک جانب سے اٹھایا اور فیضی کی مدد سے اسے بیڈ پر لٹا دیا۔
اسکے مہرون سلکی بال تکیے پر بکھر گیے، گہری سبزآنکھیں بند تھیں، جبکہ سوجے پپوٹے گہرے دکھ کے بے درد ماتم کی عکاسی کر رہے تھے۔ چہرے کی رنگت میں سفیدی گھل گٸ تھی، دھبے ابھی نمایاں تھے پر اسکے خوبصورت نقوش انہیں مات دے گیے تھے۔
فیضی کے عنابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔
بے شک اس نے ایک ہیرا تراش لیا تھا۔
” یہ کانچ اٹھاٶ یہاں سے۔“
شازیہ کو حکم دیا اور خود کمرے میں ٹہلنے لگا۔
کبھی ایک نظر ہوش و خرد سے بیگانہ نین تارا پر ڈال لیتا، اسے پریشانی ہونے لگی تھی۔
آدھ گھنٹے کے انتظار کے بعد ڈاکٹر باسط کا چہرہ نظر آیا۔
” ایوری تھنگ از اوکے فیضی۔“
ڈاکٹر باسط مصافحے کے بعد بولا۔
” یہ بے ہوش ہو گٸیں ہیں، بخار بھی بہت ہے۔“
فیضی پریشانی سے بولا۔
” بخار بہت تیز ہے اور بی پی بہت لو ہو گیا ہے جس کی وجہ دے یہ بے ہوش ہیں۔“
ڈاکٹر باسط نے کہا۔
” انہیں پٹیاں کرو۔۔۔۔بخار کچھ کم ہو گا تو یہ میڈیسن دے دینا۔“
ڈاکٹر باسط نے ہدایت دی۔
”بازو پہ بھی چوٹ آٸی ہے شاید۔“
فیضی نے بازو سے ہاتھ پر جمے خون کی طرف اشارہ کیا۔
” ہاں میں بینڈیج کر دیتا ہوں۔“
ڈاکٹر باسط بینڈیج کرنے لگا۔
” شازیہ پٹیاں کرو۔۔۔۔بخار ہلکا ہوا تو مجھے انفارم کرنا۔“
فیضی ہدایت دیتا باسط کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔
”چپکےسے شادی کر لی اور بتایا بھی نہیں۔“
باسط نے گلہ کیا جبکہ فیضی کا منہ کھل گیا۔
” کس نے۔“
فیضی نے حیرت سے پوچھا۔
” تم نے۔۔۔“
باسط نے اسکے پیٹ میں مکا رسید کیا۔
فیضی کا بے ساختہ قہقہہ لاٶنج کی دیواروں سے ٹکرایا۔
” مرو تم۔۔۔۔۔میں جا رہا ہوں۔“
باسط اسے ہنستا دیکھ اٹھنے لگا۔
” اوکے اوکے سوری۔۔۔۔پر تم نے بات ہی ایسی کر دی یار۔“
فیضی ہنسی ضبط کرتے ہوۓ بولا۔
” نومی کیسا ہے۔۔۔؟“
باسط نے کوک کا سپ لیتے ہوۓ پوچھا۔
“ٹھیک ہے وہ۔۔۔۔“
فیضی نارمل لہجے میں بولا۔
” تم لوگوں کےتو مزے ہیں، راج کرتے ہو لوگوں پہ۔“
باسط حسرت سے بولا۔
” مزے والی کونسی بات اس میں، الٹا ٹینشن ہوتی ہے گاٶں میں کسی کو مسٸلہ ہو جاۓ تو۔“
فیضی بے زار سا بولا۔
” پھر بھی یار۔۔۔۔میں جب گیا تھا تم دونوں کے ساتھ، کیسے گاٶں کےلوگ صاحب جی صاحب جی کرتے پھر رہے تھے۔“
باسط نے کہا تو فیضی منہ بسورا۔
” تم سناٶ کیسی جا رہی ہے لاٸف۔“
فیضی نے پوچھا۔
” بلکل سیدھی جا رہی ہے۔“
باسط سنجیدگی سے بولا۔
” تم ہمیشہ مراثی ہی رہو گے۔“
فیضی نے کشن مارتے ہوۓ کہا۔
” جیسا تم نے سوال کیا ویسا میں نے جواب دے دیا۔“
باسط ڈھٹاٸی سے بولا۔
” اچھا میں چلتا ہوں، میری ڈیوٹی ہے سول میں۔“
باسط اٹھتے ہوۓ بولا۔
” اوکے۔“
فیضی اسکے ساتھ دروازے تک چلا آیا۔
باسط چلا گیا تو فیضی کچھ سوچتے ہوۓ واپس آیا۔
” بخار کم ہو تو یہ میڈیسن دے دینا، میں اپنے کمرے میں ہوں، ہوش میں آۓ تو مجھے انفارم کر دینا۔“
فیضی نے کہا اور گہری نظر چت لیٹی نین تارا پر ڈالتا کمتے سے نکل گیا۔
فیضی کمرے میں آیا چینج کیا اور سونے کےلیے لیٹ گیا۔
شدید سر درد کے ساتھ نمی سی محسوس ہوٸی تو اس نے ہاتھ بڑھا کے پیشانی کو چھوا، آنکھیں کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہیں تھیں۔
” اماں۔۔۔“
وہ کنپٹی مسلنے لگی۔
دھیرے دھیرے آنکھیں کھولنے میں کامیاب ہوٸی تو شازیہ کو دیکھ حیرت ہوٸی۔
” آپ کو ہوش آگیا بی بی۔“
شازیہ نے اسے بیٹھنے میں مدد دی۔
” دروازہ کیسے کھولا آپ نے شازیہ باجی۔“
نین تارا سر پکڑتے ہوۓ بولی۔
سلکی بال کندھوں سے پھسل کر کمر پر گر رہے تھے۔
” فیضی سر نےکھولا تھا دروازہ۔“
شازیہ اسے گولیاں اور پانی دیتے ہوۓ بولی۔
” فیضی کب آۓ۔“
نین تارا کو کل کا واقعہ پھر سے ستانے لگا۔
” میں بلاتی ہوں۔“
شازیہ کمرے سے نکل گٸ۔
نین تارا نے گولیاں کھاٸی اور پانی پی کےگلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔
بیڈ سے ٹیک لگاتے اسکی نظر ہاتھ پر کی گٸ بینڈیج پر پڑی۔
” فیضی۔۔۔۔آپ کے اتنے احسان میں کس طرح چکاٶں گی۔”
پٹی کو دیکھتے سبز آنکھوں سے ننھے موتی پھسلنے لگےتھے۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر نین تارا نے سر اٹھایا تو فیضی کو سامنے پا کر آنسو پونچھ ڈالے۔
” اس ماتم کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔؟“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” نہیں۔“
نین تارا بھیگے لہجے میں بولی۔
” کیوں۔“
فیضی نے اسکےجھکے سر کی طرف دیکھا۔
” آپ کو وجہ بتانا، شکایت لگانے کے مترادف ہو جاۓ گا۔“
نین تارا اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
” آپی نے کیا کہا تھا تم سے۔“
فیضی مدعے پر آیا۔
” کچھ نہیں۔“
نین تارا آنسوٶں پر بند باندھتے ہوۓ بولی۔
” ادھر دیکھو۔۔۔“
فیضی نے کہا۔
نین تارا نے اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھا۔
” ہم دوست ہیں، اور دوستوں میں شکایات نہیں لگتیں بس پریشانیاں شٸیر کی جاتی ہیں۔“
فیضی نرمی سے بولا۔
” آپ مجھے واپس چھوڑ آٸیں۔“
نین تارا ضدی لہجے میں بولی۔
” ایسا ممکن نہیں ہے۔“
فیضی نے تردید کی۔
”کیوں۔“
نین تارا رو دی۔
”پہلے میری بات کا جواب دو۔“
فیضی بضد ہوا۔
” ارم بی بی نے کہا پہلے میں نے آپ کو مٹھی میں کیا پھر نعمان صاحب کو۔“
نین تارا ہچکیوں کے بیچ بولی۔
” واللہ فیضی میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں ہے، آپ نے مجھے جتنی عزت دی ہے آپ کی عزت بھی میری نظروں میں دوگنا ہو گٸ ہے۔“
نین تارا کی ہچکیاں بندھ گٸ۔
فیضی نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
”سانولا رنگ ہی میرا واحد دکھ تھا، لیکن کل پتہ چلا بے قصور پر بہتان باندھ دینے کا دکھ اس سے بھی سوا ہوتا ہے۔“
نین تارا کی سبز آنکھوں میں جھڑی لگ گٸ۔
” دیکھو نین تارا۔۔۔۔دنیا ایسی ہے ہنستے کو دیکھ نہیں سکتے اور روتے کو ہنسا نہیں سکتے، تمہیں خود کو مضبوط کرنا ہو گا۔“
فیضی لہجے کو نرم رکھتے ہوۓ بولا۔
” آپی نے جو بھی کہا بہت غلط کہا، باقی میں یا نومی تمہیں بہت اچھے سے جانتے ہیں، تمہیں فکر کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“
فیضی اسے سمجھاتے ہوۓ بولا۔
نین تارا سر جھکاۓ روتی رہی۔
” قسمت کی دستک زندگی کے دروازے پر مقدر سے ہی ہوتی ہے، جو دستک پر دروازہ کھول لے، زندگی اس پر مہربان ہو جاتی ہے۔“
فیضی اسکے جھکے سر کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
” میں نے تمہیں حویلی سے نکال کر جو موقع دیا ہے اسے پرکھو، کل تمہیں کوٸی فیضی زندگی سنوارنے کا موقع نہیں دے گا۔“
فیضی رکا تھا، نین تارا نے اسکی طرف دیکھا۔
” اپنی زندگی بناٶ، میں تمہیں ہر طرح سے سپورٹ کروں گا، غلامی کی زندگی سے نکل کر آزادی کا مزہ چکھو۔“
فیضی بول رہا تھا۔
” دیکھو زرا کتنا چینج آگیا ہے تم میں، اپنی خوبیاں کیش کرو اور کھل کے جیو۔“
نین تارا کے آنسو تھم گیے۔
” زندگی کیسے بناٶں۔؟“
نین تارا معصومیت سے بولی۔
فیضی کو اس لمحے وہ سب سے معصوم لگی، مہرون بال جو بکھرے بکھرے بھی اچھے لگ رہے تھے، سرخی لیے سبز آنکھیں پتلے ہونٹ لمبی سی ناک جو سرخ ہو رہی تھی، بے شک وہ بہت نکھر گٸ تھی۔
فیضی کو یک ٹک دیکھتےنین تارا نظریں جھکا گٸ۔
فیضی کو اسکا نظریں جھکانا بہت اچھا لگا، خود پہ قابو پاتا وہ اسکے کمرے سے نکل آیا۔
نین تارا آٸینے کے سامنے کھڑی ہو گٸ۔
اسکے دھبے بہت ہلکے ہو چکے تھے۔
” میں تمہیں ہر طرح سے سپورٹ کروں گا۔“
فیضی کا جملہ اسکے کانوں میں گونجا وہ مسکرا دی۔
کُرتے کی آستین پر خون کے دھبے بنے ہوۓ تھے، نین تارا نے دوسرا ڈریس نکالا اور باتھ لینے چلی گٸ۔
” مجھے اسے ایسے نہیں گھورنا چاہیے تھا۔“
فیضی خود کوسرزنش کررہا تھا۔
” ادا نے آج تک یوں میرے دیکھنے پر نظریں نہیں جھکاٸی۔“
فیضی ادا کا مقابلہ اس سے کرنے لگا۔
” آپی نے بہت غلط باتیں کی ہیں۔“
وہ موبائل نکالتے ہوۓ بڑبڑایا۔
” ہیلو۔“
فیضی نے موباٸل کان سے لگایا۔
” آ گٸ یاد آپی کی۔“
ارم کی طنز بھری آواز ابھری۔
” آپ نے نین تارا سے اتنی غلط باتیں کیں، مجھے کم از کم آپ سے یہ امید نہیں تھی۔“
فیضی اسکا طنز نظر انداز کرتے ہوۓ بولا۔
” اوہ تو اس کم زات نے اب شکایتیں لگانی بھی شروع کر دیں، اسکے لگامیں بہت ڈھیلی کر رہے ہو تم فیضی۔“
ارم دانت پیستے ہوۓ بولی۔
” آپی آپ کی سوچ اتنی چھوٹی اور نیچ تو نہیں تھی۔“
فیضی کو غصہ آنے لگا تھا۔
”فیضی ۔۔۔۔چاۓ۔“
نین تارا نے کپ اسکی طرف بڑھایا۔
ییلو شرٹ اور بلیک جینز میں فریش سی اچھی لگ رہی تھی۔
” نیچے لے جاٶ۔۔۔۔میں آتا ہوں۔“
فیضی نرمی سے مسکرا کر بولا۔
”اوکے۔“
نین تارا کندھے اچکاتی واپس آگٸ۔
” نین تارا آپ کی ملازمہ تھی، یہ بات جتنی جلدی بھول جاٸیں آپ کے لیے اچھا ہو گا، اور جس نے بھی اسکے ساتھ مس بی ہیو کیا بہت برے طریقے سے پیش آٶں گا۔“
فیضی سنجیدگی لیے سختی سے بولا اور کال ڈسکنکٹ کردی۔
خود کو نارمل کرتے وہ نیچے آگیا۔
نین تارا ٹی وی دیکھ رہی تھی، گلے میں دوپٹہ ڈالے بال ایک ساٸڈ پر ڈالے وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ بیٹھی کہیں سے بھی گاٶں کی اجڈ گنوار نہیں لگ رہی تھی۔
” اتنی جلدی سمجھ جاٶ گی، مجھے امید نہیں تھی۔“
فیضی بیٹھتے ہوۓ بولا۔
” اگر آپ میرے بارے سوچ سکتے ہیں تو مجھے اپنا دشمن بننے کی بجاۓ سوچنا چاہیے زندگی کے بارے میں۔“
نین تارا ٹی وی کا والیوم کم کرتے ہوۓ بولی۔
” ہمممم۔۔۔گڈ۔“
فیضی مسکرایا۔
” رات ایک فلم کا پریمیر گیٹ ٹو گیدر ہے، ریڈی رہنا اوکے۔“
فیضی نے سوچ لیا تھا، اسے کانفیڈینٹ کرنے کے لیے باہر لے جانا پڑے گا۔
” اوکے۔“
نین تارا مسکراٸی۔
” تمہاری آنکھیں واقعی بہت پیاری ہیں نین تارا۔“
فیضی بے ساختہ بول گیا۔
نین تارا ہنس دی۔
” اچھا۔۔۔۔شکریہ۔“
مسکراتے ہوۓ بولی۔
” تمہیں پتہ ہے روتے ہوۓ بلکل بندریا لگتی ہو۔“
فیضی نے مزاقاً کہا۔
” آپ کو کبھی میں بلی لگتی ہوں ، کبھی بندریا۔“
نین تارا چاۓکا سپ لیتے ہوۓ بولی۔
” تم ہو ہی ایسی۔“
فیضی ہنسا۔
فیضی نےریموٹ پکڑ کر دبٸ ایوینٹ شو لگا دیا۔
” میں نے دیکھا تھا۔“
نین تارا بولی۔
” رٸیلی۔“
فیضی حیران ہوا۔
” ییس۔“
نین تارا مسکراٸی۔
فیضی کا موبائل بجنے لگا۔
” ہیلو ۔۔۔کیسے ہیں بھاٸی۔“
فیضی خوشگوار لہجے میں بولا۔
” واٹ۔“
فیضی ریموڈ پھینکتے ہوۓ اٹھا۔
” کب ہوا۔۔۔۔کیسے۔“
فیضی کا رنگ اڑ گیا تھا۔
” اوکے میں آتا ہوں۔“
فیضی ہڑبڑی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔
” کیا ہوا۔“
نین تارا پریشانی سے بولی۔
” مجھے حویلی جانا ہے پیکنگ کردو۔“
فیضی کپڑے لیے واش روم میں گھس گیا۔
نین تارا نے پیکنگ کر دی۔
” سب خیریت ہے۔“
نین تارا نے پوچھا۔
فیضی بنا کچھ بولے کمرے سے نکل گیا۔
نین تارا بالکونی سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔
” حویلی میں کیا ہوا ہوگا۔“
نین تارا پریشان ہو گٸ۔
” اس کی اتنی جرأت۔“
ارم سیخ پا ہو رہی تھی۔
”کیا ہوا بھابھی۔“
ادا اسکے کمرے میں آٸی۔
” فیضی نے آج اس نیچ زات کم زات، جاہل کی وجہ سے مجھ سے بدکلامی کی، مجھے دھمکی دی۔“
ارم کا بس نہیں چل رہا تھا آگ لگا دے ہر طرف۔
” وہ فیضی کے کمرے میں تھی۔“
ارم نے نین تارا کی آواز سن لی تھی۔
” میں نے تو پہلے ہی کہا تھا، فیضی کے دل میں بس گٸ ہےنین تارا،تب ہی اتنے مہنگے کپڑے جوتے لے کر دے رہا ہے۔“
ادا صوفےپر گرنے کےانداز میں بیٹھی۔
” یونی کی ایک سے ایک لڑکی فدا تھی اس پہ، کسی کو نظر اٹھا کے بھی نہیں دیکھتا تھا، اور اب۔۔۔۔۔۔“
ارم بیٹھتے ہوۓ بولی۔
” ضرور جادو کیا ہو گا نین تارا نے۔۔۔۔ورنہ فیضی کیوں ایسے بدلتا۔“
ادا ارم کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
” فیضی کو بابا ہی قابو کر سکتے ہیں اب۔“
ارم ادا کی بات نظر انداز کرتے ہوۓ بولی۔
جاری ہے
