Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11

” السلام وعلیکم بابا جان۔“
ارم ادب سے بولی۔
دونوں لان کی روش پر چلتی جا رہیں تھیں۔
آف واٸٹ شلوار سوٹ میں ملبوس ہمیشہ کی طرح گردن اکڑاۓ ارم بابا جان سے بات کر رہی تھی۔
سی گرین شلوار قمیض میں ملبوس ادا اسکے ساتھ ساتھ چلتی اضطرابی کیفیت میں ہاتھ مسل رہی تھی۔
” بابا جان آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔“
ارم نے چلتے ہوۓ کلی توڑ لی۔
” بابا جان فیضی یہاں سے ایک ملازمہ کام کے لیے لے گیا تھا، اب اسے گھر کی مالکن بنا دیا ہے، ادا کے ساتھ اسکا رویہ انتہاٸی ناگوار ہے، آج میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے میری بہت انسلٹ کی۔“
ارم نے کمال اداکاری کی۔
” یہی تو بابا جان اس نے ہمارے خاندان کی رسم و رواج کو پامال کر دیا ہے، ایک ملازمہ کے لیے گھر کی عورتوں کی انسلٹ کر رہا ہے۔“
ارم انتہاٸی بے بسی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بولی۔
” آج مجھے کہہ رہا تھا، جس نے نین تارا کے ساتھ مس بی ہیو کیا اسکا مجھ سے کوٸی تعلق نہیں۔“
ارم نے رونے کی ایکٹنگ کی۔
ادا بھابھی کی اداکاری پہ مسکرا رہی تھی۔
” آپ کی شان مٹی میں ملا رہا ہے۔“
ارم نے آخری وار کیا اور الوداعی کلمات کہہ کے فون بند کر دیا۔
” واہ بھابھی۔“
ادا نے ستاٸشی انداز میں کہاتو ارم شان سےگردن مزید اکڑاٸی۔
”اب آخری وار تم کرو۔۔۔۔۔نین تارا اور فیضی کی پک بنا کے بابا جان کو واٹس ایپ کردو۔“
ارم نے کلی مسل کے روش پر پھینکی اور دھیرے دھیرے چلنے لگی۔
” فیضی اور نین تارا کی پکس ساتھ میں نہیں ہے،الگ الگ ہیں۔“
ادا نے منہ بناتے ہوۓ کہا۔
” ایڈیٹنگ کروا لو کسی ایکسپرٹ سے۔“
ارم نے کہا اوردونوں حویلی کے اندر آگٸیں۔
” ہیلو مِیرا۔۔۔۔میں تمہیں دو پکس سینڈ کر رہی ہوں ،یڈیٹنگ کروا کے بھیجو۔“
ادا نے فرینڈ کوکال کر کے کہا اور بشریٰ کی بھیجی گٸ پکس مِیرا کو فارورڈ کر دیں۔
” دس منٹ میں آجاٸیں گی۔“
ادا شان بےنیازی سے مسکراٸی اور صوفی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گٸ۔
” مردوں کو مٹھی میں رکھنے کے لیے ایسا کرنا پڑتا ہے، یہ پھسلنے لگیں تو کہیں بھی پھسل جاتے ہیں، تمہیں اسے خود میں انوالو رکھنا چاہیے، نام کی ہی ادا ہو تم، تمہارے نام کا استعمال تو وہ نین تارا کر گٸ۔“
ارم نخوت سے بولی۔
” مجھے کیا علم تھا، میرے ہی تلوے چاٹنے والی میرے سر پر آ بیٹھی گی۔“
ادا درشتی سےبولی۔
”غصہ کرنے کی بجاۓ دماغ سے کام لو ادا، تم میری نند ہی نہیں بہن بھی ہو۔“
ارم اسکے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولی اوراسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دھرا۔
” فیضی میری جگہ کسی کو دے گا بھابھی یہ میرے وہم گمان میں بھی نہیں تھا۔“
ادا افسردگی سے بولی۔
” کبھی کبھی محافظ بھی خنجر گھونپ دیتے ہیں، اسلیے اندھے اعتبار کی دیواریں کھڑی کرنے کی بجاۓ کھلی آنکھوں حالات پرنظر رکھنی چاہیے۔“
ارم نے کہا۔
ادا کے موبائل کی بپ بجی ۔
” پکچرز آگٸیں۔“
ادا طمانیت سے مسکراٸی گویا فیضی مٹھی میں آگیا ہو۔
” کالی جاہل گنوار کو سنوار کے اتنا خوبصورت بنا دیا کہ مجھے خود بھی اپنا آپ بے معنی لگنے لگا ہے بھابھی۔“
ادا نین تارا کی تصاویر غور سے دیکھتے ہوۓ بولی۔
” تم اسے خود اپنے آپ سے کمپٸر کر رہی ہو ادا۔۔۔۔“
ارم اکا چہرہ دیکھتے ہوٸی غصے بھرے لہجے میں بولی۔
” بال دیکھیں اسکے، اور یہ آنکھیں جو کسی بلی کی لگتیں تھیں اب کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں، ڈریسنگ دیکھیں اور کلر دیکھیں ۔“
ادا روہانسی ہوٸی۔
” تم خود کو خود ہرا رہی ہو ادا، جب تک انسان کے اندر جیتنے کا حوصلہ نہیں ہوتا، وہ کبھی جیت نہیں پاتا، چاہے اسکے ہاتھ میں تیز دھاری تلوارہو اور دشمن کمزور ہی کیوں نا ہو، اسکے اندر پنپتا ڈر اور ہار کا خوف اسے ہرا دیتا ہے۔“
ارم رکی تھی۔
” فیصلہ تمہارا ہے، تمہیں ایک ملازمہ سے ہارنا ہے یا اپنے فیضی کو جیتنا ہے۔“
ارم تھوڑا سخت لہجے میں بولی۔
” فیضی میرا ہے بس۔“
ادا نے مضبوط لہجے میں کہا۔
”گڈ۔۔۔۔پکچرز بابا جان کو فارورڈ کر دو۔“
ارم نے کہا
ادا نے پکچرز فارورڈ کیں۔
” بھابھی ہم نے خود انہیں ساتھ جوڑ دیا۔“۔
ادا پکچرز دیکھتے ہوۓ بولی۔
” آگے جانے کو دو قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے،“
ارم مسکراتے ہوۓ اٹھ گٸ اور ادا نین تارا اور فیضی کو ساتھ دیکھ الجھنوں اور حسد کے الاٶ میں سوکھی لکڑی کی مانند جلنے لگی۔
❤❤❤
” بھیا بابا جان کہاں ہے۔“
فیضی گاڑی سے اترتے ہی اریان کی طرف لپکا۔
” اندر ہیں۔“
اریان سنجیدگی سے بولا۔
فیضی لمبے لمبے ڈھگ بھرتا حویلی میں چلا آیا۔
” ”السلام وعلیکم ماما جان۔“
فیضی نے صحن میں ہی اماں کو سلام کیا۔
”خیریت بیٹا پریشان لگ رہے ہو۔“
ماما بابا جان کی طبعیت کیسی ہے۔“
فیضی پریشانی سے بولا۔
” کیا ہوا انہیں۔۔۔۔ابھی تو وہ بلکل ٹھیک تھے۔“
مما جان خود پریشان ہو گٸیں۔
فیضی ان کے کمرے کی طرف بڑھا۔
” بابا جان۔“
فیضی بے خود سا ان کی طرف بڑھا۔
” وہیں رک جاٶ۔“
غیظ و غضب سے گرجے۔
مما جان، اریان اور فاطمہ بھی چلے آۓ۔
” کیا ہوا بابا جان۔“
فیضی حیرت و دکھ کی ملی جلی کیفیت میں گنگ سا انہیں دیکھنے لگا۔
” ہم نے آج تک تمہاری ہر جاٸز نا جاٸز ضد پوری کر کے بہت بڑی غلطی کر دی فیضان۔“
چوہدری سکندر گرجے تھے۔
سفید سوٹ میں ملبوس سرخی میں گھلی سفیدرنگت لیے جو غصے کی شدت سے مزید سرخ ہو رہی تھی۔ چادر کندھوں پر رکھے وہ اس وقت اسکے بابا نہیں بلکہ گاٶں کے منصف جاگیردارلگ رہے تھے، جن کی عدالت میں گاٶں کا ہرکیس بھگتایا جاتا تھا۔
” میں نے کیا کیا ہےبابا جان۔“
فیضی منمنایا۔
” تم نے ہماری ناک کٹوانے میں کوٸی کسر چھوڑی ہے۔۔۔؟“
چوہدری سکندر درشتی سے بولے۔
” چوہدی صاحب کھل کے بتاٸیں، ایسا کیاکر دیا میرےبچے نے جوآپ یوں بگڑ رہے ہیں۔“
ممتا کی دیوار پل میں اسکی محافظ بن کے آٸی تھی۔
” آپکے لاڈ کا اثر ہے، میری یتیم بھانجی کے سامنے شرمندہ کر دیااس نے۔“
چوہدی سکندر کے شدید غصے کا رخ اپنی بیگم کی طرف ہو گیا۔
” آپ بے وجہ کی الزام تراشیاں چھوڑ کر زرا مسٸلے پر روشنی ڈالیں تا کہ ہمیں بھی علم کہاں کوتاہی کر دی میرے بچے نے جو آپ یوں گرج رہے ہیں۔“
جہاں آرا بیگم زرا سختی سے بولیں۔
چوہدری سکندر نے بیڈ سے موباٸل اٹھا کر انکی ہتھیلی پر پٹخنے کےانداز میں رکھا۔
” یہ کون ہے فیضی۔“
جہاں آرا کا رخ فیضی کی طرف ہو گیا۔
” یہ پکس آپ کو کس نے بھیجی۔۔؟“
فیضی پکس دیکھ گنگ رہ گیا۔
” میں نے جو پوچھا اسکا جواب دو۔“
جہاں آرا بیگم کرختگی سے بولیں۔
”مما یہ نین تارا ہے، چھوٹی حویلی کی ملازمہ تھی، شکیلہ کی بیٹی میں اسے شہر لے گیا تھا پچھلےمہینے۔“
فیضی نے نرمی سے سب صاف بتایا۔
” ملازمہ بناکرلے گیے تھے تو وہ اس گھر کی مالکن کیسے بن بیٹھی۔“
سکندر صاحب بولے۔
”باباجس نےبھی آپ سےکہاہے بلکل جھوٹ کہا ہے، میں اسے ماڈل بناٶں گا اور بس۔“
فیضینے حقيقت پسندی سےکام لیا۔
” فیضی تم نے اسے ادا پر فوقیت دی ہے، ارم کی انسلٹ کی ہے، ایک ملازمہ کی وجہ سے۔۔۔۔۔“
سکندر صاحب ہاتھ کمر پر ہاندھتے ہوۓ اس سے بولے۔
” بابا جان ادا اور بھابھی نے حرکت ہی ایسی کی تھی، نین تارا کو میرے گھرجاکر نا صرف زلیل کیا بلکہ اس پہ ہاتھ بٕھی اٹھایا اور اسکے کردار پر الزام تراشی بھی کی۔“
فیضی نرمی سے مدھم لہجے میں بولا۔
” وہ ایک نوکرانی ہے، ہم اسکے ساتھ جو بھی کریں، وہ اف کرنے کا حق بھی نہیں رکھتیں تم نے اسکی وکالت کے لیےخاندان کی عورتوں کے ساتھ زبان درازی کی۔“
سکندر صاحب کا غصہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔
” بابا جان ۔۔۔۔نوکرانی تھی اب نہیں ہے، میں اسے آزادی سے لے کر گیا تھا، بہت جلد وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاۓ گی۔“
فیضی کو غصہ آنے لگا تھا۔
” تم اسے کل ہی واپس حویلی بھجواٶ گے بس۔۔۔۔یہ میرا حکم ہے۔“
چوہدری سکندر نے بات ہی ختم کر ڈالی۔
” معذرت کے ساتھ بابا جان، میں ایسا ہر گزنہیں کروں گا، میں اس پہ بہت پیسہ لگا چکاہوں۔“
فیضی نے صاف انکار کر دیا۔
”فیضی۔“
جہاں آرا بیگم نے ڈپٹا۔
” میں کچھ غلط نہیں کر رہا، اسکےاندر ٹیلنٹ ہے میں اسے سپورٹ کر رہا ہوں بس۔“
فیضی جھلا گیا تھا۔
” فیضی ایک ملازمہ کے لیے بابا جان سے بحث کر رہے ہو۔“
اریان بولا۔
” ملازمہ، ملازمہ ، ملازمہ۔۔۔۔۔کیا ملازم انسان نہیں ہوتے، کیا انکی سیلف ریسپیکٹ نہیں ہوتی، کیا ان کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا۔۔۔۔۔چندسکوں کے عوض ہم ان سے اپنی خدمت تو کرواتے ہیں، انہی خریدنہیں لیتے کہ ان کی زندگی کی ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر انہیں کٹھ پتلی بنا کر نچاتے رہیں۔“
فیضی آخر بول ہی پڑا تھا۔
” آپ کے اس شوق کی تسکین کےلیے دونوں حویلیاں مازموں سے بھری پڑیں ہیں، جسے چاہے نچاٸیں کوٸی آپ سے نہیں پوچھے گا،نین تارا کو آپ سب نےانا کا مسٸلہ بنالیا ہے۔“
فیضی بول رہا تھا جب جہاں آرا کاہاتھ اسکے رخسار پرنشان چھوڑ گیا۔
”بکواس بندکرو۔۔۔۔تم حد سے بڑھتے جا رہے ہو۔“
جہاں آرا بیگم شعلہ بار لہجے میں بولیں۔
” تم ایک دو ٹکے کی لڑکی کے لیے اپنے گھر والوں سے بان درازی کرو گے،یہ تربیت کی تھی میں نے تمہاری۔“
جہاں آرا بیگم شدید اشتعال میں تھیں۔
” دو ٹکےکی ملازمہ کو اتنی اہمیت آپ سب ہی دے رہے ہیں کیونکہ آپ لوگوں کوڈرہے آپکے جوتے صاف کرنے والے کہیں آپ کے برابر ہی نا آجاٸیں۔“
فیضی رخسار پرہاتھ رکھے شدید غصے سےبولا۔
غصے کی شدت سے سرخ ہوتی آنکھوں میں پانی کےننھے قطرے جمع ہونے لگےتھے۔
” نین تارا ماڈل بنے گی، یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔“
فیضی آگ بگولہ ہوتا حویلی سے نکل آیا۔
🔴🔴🔴
گاڑی فل اسپیڈ میں حویلی سےنکالی اور چھوٹی حویلی کارخ کیا۔
شام کے ساۓ پھیل گیے تھے،اندھیرے کی چادر ہر شےکو ڈھانپنے لگی تھی، سڑک کے اطراف میں گاڑی کی ہیڈ لاٸٹس کی روشنی میں چمکتے پودے پیچھے کی جانب بھاگتے جا رہے تھے۔
اسکی آنکھوں سے موتی مسلسل گر رہے تھے۔
چوبیس سالہ زندگی میں آج پہلی بار ماں کا ہاتھ اٹھا تھا، دکھ حد سے سوا تھا یا اسے محسوس ہورہا تھا۔
” کیوں سب اس بیچاری کے پیچھے پڑ گیے ہیں۔“
” وہ معصوم اور بے ضرر سی لڑکی، جسے دنیا سے کوٸی سروکار ہی نہیں تھا، جسکی اولین ترجیح حویلی اور اسکے میکن تھے، وہی مکین جو آج اسکے خلاف ہو گیے۔“
فیضی کی سوچ کی لگامیں مسلسل نین تارا کی حمایت کر رہیں تھیں۔
” اگر اب نین تارا کو واپس بھیجا تو اسکی زندگی جہنم بنا دی جاۓ گی۔۔۔۔۔۔“
” نہیں ۔۔۔۔میں اسکی زندگی کا سکون اپنے فیصلے کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتا۔۔۔۔مجھے اسے اب ہر حال میں پروٹیکٹ کرنا ہوگا۔“
فیضی نے حویلی کے گیٹ پر ہارن دیا، گیٹ کھلا تو گاڑی گیراج میں روکتے وہ سیدھااندرچلا آیا۔
” آٶ فیضی۔“
نعمان اسے دیکھ خوشدلی سے مسکرایا۔
” مجھے آپ سے اتنی گری ہوٸی حرکت کی امید نہیں تھی۔“
فیضی کا رخ ارم کی طرف تھا۔
” یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا۔”
ارم کو برا لگا۔
”وہی طریقہ جسکے لیے آپ نےمجھےمجبورکیا ہے۔۔۔۔ایک بات یاد رکھیےگا نین تارا اب اس حویلی میں واپس نہیں آۓ گی۔“
فیضی نےانگلی اٹھا کے کہا۔
” کیا ہوا فیضی۔“
نعمان پریشانی سے بولا۔
” یہ اپنی بیگم اور بہن سے پوچھو کہ نین تارا کی میرے ساتھ پکس بابا جان تک کیسے پہنچی اور کس نے ایڈیٹ کی۔“۔
آخری شعلہ بار نظر ادا کے سہمے چہرے پر ڈالی۔
” نین تارا میرا ایک فیصلہ تھی لیکن اب میری ضد ہے، اور فیضی کی ضد کے سامنے قسمت بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔“
فیضی مشتعل لہجے میں چبا چبا کے کہتا وہاں سے نکل گیا۔
حویلی سے شہر تک تین گھنٹے کا سفر اسنےڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا۔
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ گھر داخل ہوا۔
نین تار چار کندھوں پر پھیلاۓ لان میں چکر کاٹ رہی تھی۔
” آپ آ گیے۔۔۔۔حویلی میں سب خیریت ہے۔“
نین تارا کی بے چینی اسکے لہجے اور اسکے چہرے سے عیاں تھی۔
فیضی کو حیرت کے ساتھ دکھ نےآ گھیرا ایک معصوم سی لڑکی جو ان کے لیے فکر مند ہو رہی تھی جو اسکے دشمن بن بیٹھے تھے۔
” ایک بات بتاٶزرا۔۔۔۔۔حویلی والے تمہارے کیا لگتے ہیں۔۔۔؟“
فیضی نے سوال کیا۔
”آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔۔۔وہ ہمارے کفیل ہیں۔“
نین تارا نے جواب دیا۔
” اتنی معصوم ہو یا بنتی ہو، اگر تم واقعی معصوم ہو تو یہ معصومیت تمہیں نقصان میں رکھے گی، اگربن رہی ہو تو پھر کمال کی اداکارہ ہو۔“
فیضی بول کےاندر چلا گیا اور وہیں کھڑی اسکی باتوں میں الجھ گٸ۔
” ایسا کیوں کہا۔“
نین تارا الجھتی فیضی کے پچھے چلدی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *