Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34

ُ” دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔“
وہ بھوک سے بے حال اپارٹمنٹ سے نکلا۔
پولیس کا ساٸرن سناٸی دیا۔
اسکا دل اچھل کے حلق میں آگیا۔
” پاسپورٹ پلیز۔“
پولیس آفیسرنے اسکی طرف دیکھا۔
اس نے سر پٹ دوڑ لگادی۔
پولیس کیگاڑیاں ساٸرن بجاتی، ماحول کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کرتیں اسکےتعاقب میں تھیں۔
احسن پھولےہوۓ سانس سے ہوٹل میں داخل ہو گیا۔
سیدھا مینجر کے روم میں چلا آیا۔
” پلیز ہیلپ می۔“
پھولے ہوۓ سانس سے وہ پسینے میں بھیگا، بال منتشر ہوۓ پڑے تھے۔
” کیا ہوا۔“
منیب کی پیشانی پر بل پڑے۔
” پولیس۔“
وہ سانس لیتا ہوا بولا۔
” تم سے کہا تھا، یہیں کام کر لو، باہر مت نکلنا۔“
منیب تیز لہجے میں ناگواری سے بولا۔
” میں سویپر نہیں بن سکتا۔“
احسن مدھم لہجے میں بولا۔
” کوٸی شوق سے نہیں بنتا۔“
منیب پہشانی پر بل لیے بولا۔
” پیٹ کی آگ بجھانے کو بنتے ہیں سب، ورنہ کون چاہا ہے عزت نفس کو کچل کر جھاڑ پونجھ کرنا۔“
منیب نہاہیت سنجیدگی سے بولا۔
” کوٸی اور کام دے دو۔“
احسن کو اہنی ہی آواز کسی کھاٸی سے آتی ہوٸی معلوم ہوٸی۔
” ویٹر بنو گے تو پکڑے جا سکتے ہو، اب ک تمہارے وانٹڈ ہونے کے اشتہار چھپ بھی گیے ہونگے۔“
منیب سوچتے ہوۓ بولا۔
” ککنگ کر لیتے ہو۔؟“
منیب نے اسکی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا۔
احسن نے نفی میں سر ہلایا۔
” برتن دھو لینا پھر۔“
منیب نے کہا۔
احسن نم آنکھوںسے اٹھ کے یوٹل کے کچن میں آگیا۔
گندے برتنوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا۔
وہ کوفت سے برتن دھونے لگا۔
اسے خود پہ ترس آنے لگا۔
” اس کے بعد یہ ساری جگہ بھی صاف کرنی ہے۔“
کک کا حکم تھا۔
احسن نے برتنوں کا ڈھیر دھویا اور سارا کچن صاف کرنے لگا۔
فرش پرموپ لگاتے اسے بے اختیار حویلی یاد آٸی۔
کام کرتے کرتے اسکی کمر ٹوٹنے لگی تھی۔
دو گھنٹے بعد برتنوں کا وہی ڈھیر اسکا منتظر تھا۔
احسن جھنجھلا گیا۔
” پیٹ بھرنا ہے تو کام کرنا ہی ہوگا۔“
کک اسے جھنجھلاتا دیکھ بولا۔
دن میں دس بار برتن دھونے کے بعدشام میں ہوٹل کا بچا کھانا اسکے آگے رکھ دیا گیا۔
” تمہاری دم بھر کی مزدوری۔“
منیب ہنسا۔
”مجھے پیسے دو۔“
احسن تلملایا۔
” اپنی حد میں رہو، جو مل رہا ہے اسی پر گزارا کرو، چوہدری احسن۔“
منیب چبا چبا کے بولا۔
احسن نے بے بسی سے کھانے کو دیکھا۔
پیٹ میں بھڑکتی آگ ایک طرف اور انا اور خوداداری ایک طرف تھی۔
وہ چپ چاپ کھانے لگا۔
اسے بے اختیار حویلی کا ڈاٸننگ ٹیبل یاد آیا۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گٸیں۔
وہ رات گیارہ بجے ہوٹل سے نکلا۔
چہرہ لپیٹے سرجھکاۓ وہ عجلت میں چلتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپارٹمنٹ تک آیا۔
اندر سےلاک کرتے اس نے گہرا سانس خارج کیا۔
” اپارٹمنٹ خالی کرو۔“
صوفے سے وہی آسٹریلن نمودار ہوا۔
” پرمیں نے تو رینٹ دے دیا ہے۔“
احسن حیرت سے بولا۔
” تم ایک دہشتگرد ہو، میں تمہیں اپارٹمنٹ نہیں دے سکتا۔“
وہ سنجیدگی سے بولا۔
” میرے پیسے واپس کرو پھر۔“
احسن مشتعل ہوا۔
” نکلو یہاں سے ورنہ پولیس بلا لوں گا۔“
وہ سیخ پا ہوا۔
احسن ناچار کمرے کی طرف بڑھا۔
سوٹ کیس پیک کیا اور اپارٹمنٹ سے نکل آیا۔
اسکا رخ ہوٹل کی جانب تھا۔
اس نے ایک نگاہ آسمان پر ڈالی۔
” چلو۔۔۔۔۔“
کسی نے اسے گردن سے دبوچا اور گاڑی میں ڈال لیا۔
” چھوڑو مجھے۔“
وہ چلایا۔
” ہے چپ۔“
پسٹل اسکی کنپٹی پر مارا، درد کی لہر اسکے وجود میں سراٸیت کر گٸ۔
کنپٹی سے خون رسنے لگا۔
” نکالو سب کچھ۔“
وہ اسکی جیبیں ٹٹولتے سب کچھ نکالنے لگے۔
” چھوڑو۔“
احسن نے موبائل جھپٹا۔
تینوں نے اسے گھور کے دیکھا اور ایک ساتھ اس پہ پل پڑے۔
مار مار کے ادھ موا کیا اور گاڑی سے نیچے پھینک دیا۔
احسن نے نیم وا آنکھوں سے نیلگوں آسمان کو دیکھا۔
پولیس کاساٸرن اسکی سماعت سے ٹکرایا تو وہ خود کو گھسیٹتا ساٸڈ پہ لے آیا۔
اسے اتنی چوٹیں لگ چکیں تھیں وہ لنگڑاتا ہوا واپس ہولیا۔
درد کی شدت نے رونے پر مجبور کر دیاتھا۔
وہ دیوار کے ساتھ گرگیا اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔
زخموں سے اٹھتی ٹیسیں پراۓ دیس کی سردمہری سے آگاہ کر رہیں تھیں، اسے احساس دلا رہیں تھیں اپنوس سے کٹ کر جیا نہیں جا سکتا۔
انا اور خودداری ایک حد میں ہی اچھی لگتی ہیں جب وہ بے حد ہو جاٸیں تو پھر سزا بٕھی بے حد ہو جاتی ہے۔
❤❤❤
” فیضی کہاں ہے شازیہ باجی۔“
نین تارا نے ادھر ادھر دیکھا۔
” اپنے کمرے میں ہیں۔“
شازیہ ناشتہ لگا رہی تھی۔
” آپ ہمارا ناشتہ ان کے کمرے میں لے آٸیں۔“
نین تارا اس سے کہتی سیڑھیاں چڑھ گٸ۔
” میں اندر آجاٶں۔؟“
نین تارا دروازے پر رک گٸ۔
فیضی اوندھے منہ لیٹا تھا، گردن اٹھا کے اسے دیکھا۔
” اگر میں کہوں نہیں۔۔۔۔“
فیضی سیدھا ہوا۔
” میں پھر بھی آجاٶں گی۔“
نین تارا مسکراتے ہوۓ بولی۔
سکاۓ بلیو شرٹ اور بلیک جینز پہنے دوپٹہ گلے میں ڈالے مفرل کے انداز میں ڈالے، بال پونی ٹیل میں قید کیے وہ ہمیشہ کی طرح خوبصورت لگ رہی تھی، گہری سبز آنکھوں میں شرارت تھی۔
فیضی ہنس دیا۔
” گڈ مارننگ۔“
وہ اس کے مقابل صوفے پر براجمان ہوٸی۔
” جلدی سے فریش ہو کے آجاٸیں، میں ناشتے کا بول کے آٸی ہوں۔“
نین تارا بولی۔
فیضی کمبل ہٹاتا بیڈ سے اترا۔
” ہری اپ۔۔۔۔بہت بھوک لگی ہے۔“
وہ اٹھ کے فیضی کو واش روم میں دھکیل کے آٸی۔
فیضی بلیک جینز اور ویسٹ میں ملبوس تولیہ کندھوں پر رکھے گیلے بالوں سے چلا آیا۔
صوفے پر رکھے شرٹ پہنی اور بٹن بند کرتا ناشتے کے لیے آبیٹھا۔
” ایم سوری فیضی۔“
نین تارا نظریں جھکاۓ سنجیدگی سے بولی۔
” فار واٹ۔“
فیضی نے سوالیہ اندازمیں ابرو اٹھاۓ۔
” فار ایری تھنگ۔“
نین تارا کی گہری سبز آنکھیں اسکی سیاہ آنکھوں سے جا ٹکراٸیں۔
” اٹس اوکے۔۔۔۔پر تمہارا ہاتھ بہت بھاری ہے۔“
فیضی نے گال پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
نین تارا شرمندہ ہو گٸ۔
” سوری نا۔“
وہ جھنجھلا کے بولی۔
” اٹس اوکے نا۔“
فیضی اسی کے انداز میں بولا اور ہنس دیا۔
شازیہ نے ناشتے کی ٹرے ٹیبل پر رکھی۔
” بہت دن بعد فیضی سر کو ہنستے دیکھا ہے۔“
شازیہ بول پڑی۔
فیضی ہلکا سا مسکرا دیا۔
جبکہ نین تارا کی مسکراہٹ سمٹ گٸ۔
” کرو بھی ناشتہ۔“
فیضی نے کہا تو وہ ناشتے کی طرف متوجہ ہوٸی۔
” مجھے اے آر واۓ ڈیجیٹل پر ڈرامے میں ایکٹنگ کی آفر ہوٸی ہے کیا کروں۔۔۔؟“
نین تارا ناشتے سے فارغ ہوتےہوۓ بولی۔
” منع کردو۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا نے سر ہلا دیا۔
” میں گاٶں جا رہی ہوں، امی ابو کو لینے۔“
نین تارا نے اطلاع دی۔
” اوکے ۔۔۔“
فیضی مسکرا دیا۔
” میری گاڑی لے جاٶ۔“
فیضی نے اسکی طرف دیکھا۔
” میں نے اس لیے نہیں بتایا۔“
وہ خفگی سے بولی۔
” میں نے ویسے ہی کہا ہے بے وقوف لڑکی۔“
فیضی نے اسے افسوس سے دیکھا۔
” ٹھیک ہے اور مس عالیہ کو اسسٹنٹ ہاٸر کیا ہے۔“
نین تارا نے بتایا۔
” بہت اچھا کیا، میں کہنے ہی والا تھا۔“
فیضی موبائل اٹھاتے ہوۓ بولا۔
” اچھا اب میں نکلتی ہوں، شام میں آجانا اپارٹمنٹ اوکے۔“
نین تارا اٹھتے ہوۓ بولی۔
” میں ڈرائيور سے کہہ دیتا ہوں، وہ تمہیں لے جاۓ گا۔“
فیضی اسکے ساتھ چلا آیا۔
نین تارا اسکے انداز پر مسکرا دی۔
” آپ سچ میں سب سے الگ ہیں۔“
وہ سوچ سکی۔
” ایک انمول ہیرے سے بھی قیمتی۔“
وہ گاڑی میں بیٹھ گٸ۔
فیضی نے ہاتھ ہلایا۔
وہ جواباً مسکرا دی۔
❤❤❤
” مجھے پارٹی ارینج کروانی ہے کل رات۔“
وہ ہال کے مینیجر سے ملا۔
” اٹس برتھ ڈے پارٹی ہر چیز پرفیکٹ ہونی چاہیے۔“
فیضی مسکرایا۔
کلر سکیم اور باقی چیزیں سلیکٹ کیے عہ مس عالیہ کی طرف آیا۔
” آپکو میری ہیلپ کرنی ہوگی۔“
مس عالیہ سے مخاطب ہوا۔
” کیسی ہیلپ۔؟“
مس عالیہ نے اچنبھے سے دیکھا۔
فیضی نے تفصيل بتاٸی۔
مس عالیہ مسکرا دیں۔
” ہو جاۓ گا۔۔۔۔ڈونٹ یو وری۔“
ہمیشہ کی طرح مشفقانہ لہجہ۔
فیضی اجازت لیتا نکل آیا۔
اسکے لیے شاپنگ کی اور کچھ چیزیں اہنے لیے خردیں۔
❤ ❤❤
گاڑی بیچے علی نے بینک کی پہلی قسط دے دی۔
” سر ملازمین اپنی تنخواہیں مانگ رہے ہیں۔“
ماجد اس سے مخاطب تھا۔
” دے دیتا ہوں، بھاگا جا رہا ہوں کیا۔“
علی پھٹ پڑا۔
آفس کے خرچے، بجلی کے بلز سب دے دلا کے وہ کنگلا ہو گیا تھا۔
” بینک کی اگی قسط دو ماہ بعد آجاۓ گی۔“
وہ شدید پریشان لگ رہا تھا۔
” سر میرا ریزینیشن لیٹر۔۔۔۔۔مجھے تنخواہ کی ضرورت ہے میں کہیں اور جاب کر لیتا ہوں۔“
ماجد آہستگی سے کہتا ہٹ گیا۔
علی نے سر ہاتھوں میں گرا لیا۔
ملازمین ایک ایک کر کے چھوڑ گیےتھے۔
اسے آفس سیٹ کرنے سے لے کر ای ایک لمحہ یاد آیا، کس طرح محنت سے بزنس سیٹ کیا تھا۔
چہل پہل رکھنے والا آفس بند ہونے پر آگیا تھا۔
❤❤❤
نین تارا اپنی فیملی کو لیے اپارٹمنٹ میں پہنچی۔
انکی آنکھیں تحیر سے پھیل گٸ۔
” نین تارا یہ تیرا گھر ہے۔“
شکیلہ کا منہ کھلا رہ گیا۔
” ہاں اماں ۔۔۔۔یہ میرا گھر ہے۔“
نین تارا مسکراٸی۔
”زرینہ امی ابو کو انکا کمرہ دکھاٶ۔“
ملازمہ کو حکم دیتی وہ اپنے کمرے میں چلی آٸی۔فضیلہ کی زبان تالو سے جا چپکی۔
چینج کر کے وہ انکے کمرے مں چلی آٸی۔
” الماری میں آپ کرے کپڑے لگوا دیے ہیں، چینج کر کے آجاٸیں، کھانا کھاتے ہیں۔“
نین تارا بشاشت سے بولی۔
وہ باہر نکلی تو فضیلہ ہال میں بیٹھی تھی۔
” فضیلہ وہ تمہارا کمرہ ہے۔“
نین تارا موبائل میں مصروف سی بولی۔
” کہاں ہیں آپ۔؟“
موبائل کان سے لگاتے پوچھا۔
” آ جاٸیں ڈنر ساتھ میں کرتے ہیں۔“
وہ اپناٸیت سے بولی۔
” ایم ویٹنگ۔“
مسکرا کے بولتی کال بند کر گٸ۔
” زرینہ کھانا لگاٶ۔“
وہ صوفے پر ٹک گٸ۔
تھوڑی دیر میں فیضی چلا آیا تو سب نے مل کر کھانا کھایا۔
❤❤❤
” نین تارا یہ ڈریس پہن لو ایک پارٹی میں جانا ہے۔“
مس عالیہ نے بیگ تھمایا۔
”کس کی پارٹی ہے۔“
وہ ڈریس تھامے بولی۔
” چل کے بتا دوں گی نا۔“
مس عالیہ نے اسے دھکیلا۔
وہ راٸل بلیو ساڑھی میں ملبوس ریڈی ہو کر نکلی تو سب کے منہ کھلے رہ گیے۔
” میں پارٹی میں جا رہی ہوں، لیٹ آٶں گی آپ سو جاٸیے گا۔“
نین تارا رک کے اپنے والدین سے مخاطب ہوٸی۔
فضیلہ کی نظر اسکے چہرے سے ہٹنا ہی بھول گٸ تھی۔
دس بجے وہ مس عالیہ کے ساتھ پارٹی میں پہنچی۔
مس عالیہ اسے سٹیج تک لے آٸیں۔
پورے ہال کی لاٸٹس آف ہو گٸیں۔
ایک بلیو لاٸٹ نے نین تارا کو فوکس کیا اور ساری لاٸیٹس کے آن ہورے ہی نین تارا پر گلابوں کی برسات ہو گٸ۔
وہ تحیر سے اپنے اوپر گرتے پھولوں کی کومل پتیوں کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
” ہیپی برتھ ڈے ڈٸیر نین تارا۔“
فیضی گنگناتا ہوا اسکے قریب چلا آیا۔
پورے ہال میں ایک ہی د بج رہی تھی۔
نین تارا نے حیرت اور خوشی سے فیضی کو دیکھا۔
ویٹر انتہاٸی خوبصورت ریڈ ویلوٹ کیک کی ٹرالی گھسیٹے لے آیا۔
نین تارا نے کیک کاٹا۔
کیمرے کے فلیشز اور لاٸیور ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔
سب سے پہلے فیضی کی طرف بڑھایا۔
اسکے بعد ویٹر نے کیک سب میں تقسیم کیا۔
” بہت خوبصورت ارینجمنٹ ہے فیضی۔“
نین تارا ستاٸش سے بولی۔
” تم سے کم۔۔۔۔سبز آنلھوں والی کالی بلی۔“
فیضی شرارت سے بولا، گو کہ اسکا روپ بجلیاں گرا رہا تھا۔
نین تارا نے نظریں جھکا لیں۔
” یہ تمہارا گفٹ۔۔۔“
فیضی نے چھوٹی سی ڈبیا اسکی طرف بڑھاٸی۔
”کیا ہےاس میں۔“
نین تارا نے ابرو اچکا اسے دیکھا۔
” دیکھ لو۔“
فیضی نے اسکے روپ کو نظروں میں سمویا۔
نین تارا نے ڈبیا کھولی تو دو چابیاں برآمدہوٸیں۔
” یہ کس چیز کی چابیاں ہیں۔“
نین تارا نے چابیاں نکالتے ہوۓ پوچھا۔
” آٶ دکھاتا ہوں۔“
فیضی اسے لیے ہال سے نکلا۔
” اسکی ہیں۔“
فیضی سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا۔
” فیضی۔“
نین تارا کا منہ کھل گیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *