Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17

فیضی فریش ہو کہ لان میں آگیا۔
شام کے اداسی بھرے لالگی سے مزین ساۓ ہر شے کو سنہری روپ دے رہے تھے۔
تروتازہ ہوا روح کو تازگی بخش رہی تھی۔
وہ نارمل ٹراٶزر شرٹ میں ملبوس تھا۔
شازیہ چاۓ کے ساتھ دیگر لوازمات لیے آگٸ۔
” شکریہ شازیہ باجی۔“
نین تارا کھلے دل سے مسکراٸی۔
”مجھےچاۓ کی شدید طلب ہو رہی تھی۔“
وہ چاۓ کا کپ لیتے ہوۓ بولی۔
” سریہ پوسٹ مین دے کر گیا ہے۔“
گیٹ کیپر نے ایک لفافہ تھمایا۔
فیضی چاۓ کا کپ رکھتے لفافہ کھولنے لگا۔
” کیا ہوا۔؟“
نین تارا متفکر سی بولی۔
” نین تارا کو اپنے گھر سے نکالو اور ادا سے شادی کر لوورنہ جاٸداد سے عاق کر دوں گا۔“
فیضی دکھ سے بولا۔
نین تارا پریشان ہو گٸ۔
” اب کیا کریں گے۔۔۔؟“
نین تارا کے چہرے پر پریشانی ہلکورے لے رہی تھی۔
فیضی چپ چاپ اٹھ گیا۔
” چاۓ۔“
نین تارا نے کہا۔
وہ بنا مڑے بنا جواب دیے اندر چلا گیا۔
” بابا مجھے عاق کریں گے تو کیا حیثیت رہ جاۓ گی۔“
وہ پریشانی سے ٹہل رہا تھا۔
” نین تارا تمہارے چکر میں میرا کرٸیر تباہ ہو جاۓ گا۔“
فیضی صوفے پر بیٹھے آنکھیں مندے بڑبڑایا۔
” میری ساکھ۔۔۔۔لوگ چوہدری سکندر کا سپوت مان کر بچھتے چلے جاتے ہیں۔“
وہ دونوں ہاتھ ٹھوڑی لے ٹکاۓ پریشان دکھ رہا تھا۔
” اگر یہ بات میڈیا کے ہاتھ لگ گٸ تو کتنی انسلٹ ہو جاۓ گی۔“
وہ پریشانی سے ٹہلنے لگا تھا۔
” اندر آجاٶں۔؟“
نین تارا نے اجازت چاہی۔
ہاتھ میں چاۓ تھامے وہ اسکی طرف بڑھی۔
فیضی نے چاۓ تھام لی۔
” اب کیا کریں گے آپ۔۔۔؟“
نین تارا نے دھڑکتے دل کے ساتھ فیضی کے پریشان چہرے کو دیکھا۔
” تم ہی بتاٶ۔۔۔؟“
فیضی نے اسکی سبز آنکھوں میں جھانکا۔
نین تارا نے آسان سا حل اسکے سامنے رکھ دیا۔
فیضی آسودگی سے مسکرایا۔
” ییس۔۔۔یہ ٹھیک ہے۔“
وہ ٹینشن فری ہوگیا تھا۔
نین تارا اسے خوش دیکھ مسکراٸی اور اسکے کمرے سے نکل گٸ۔
” فیضی نے بابا جان کو کال کی۔
” مجھے آپ کا فیصلہ منظور ہے بابا، میں ادا سے شادی کرنے کے لیےتیار ہوں۔“
فیضی متانت سے بولا۔
” لیکن مجھے کچھ وقت چاہیے بابا جان۔“
فیضی کچھ سوچتے ہوۓ بولا۔
”اوکے اللہ حافظ۔“
فیضی مسحور کن انداز میں مسکرایا۔
” تم پیکنگ کرلو ۔۔۔۔میں آتا ہوں کچھ دیر میں۔“
فیضی نے نین تارا سے کہا۔
نین تارا نم آنکھوں سے مسکراٸی اور پیکنگ کرنے لگی۔
❤❤❤
” فیضی شادی کے لیےمان گیا ہے۔“
ارم نے پرجوش انداز میں کہا۔
” کیسے۔۔۔؟“
نعمان نے اچنبھے سے پوچھا۔
” بابا جان نے عاق کرنے کی دھمکی دی تھی۔“
ارم اپنی جیت پر مسکراٸی، اسنے ایک نوکرانی سے فیضی چھین لیا تھا۔
” لیکن اب میں ادا کی شادی اس سے نہیں کروں گا۔“
نعمان نےقطعیت سے کہا۔
” لیکن کیوں۔۔۔۔؟“
ارم حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
” اس نے میری بہن کو ٹھکرایا ہے انسلٹ کی ہے۔“
نعمان دانت پیس کے بولا۔
” اب مان تو گیا ہے۔“
ارم نےکہا۔
” دھمکی پر مانا ہے، اسے دل سے کوٸی ندامت نہیں ہے۔“
نعمان دھاڑا۔
” چوہدری احرام نے اپنے بیٹے احسن کا پرپوزل دیا تھا، میں نے سوچنے کا وقت مانگا تھا۔“
چوہدری نعمان کچھ مدھم ہوا۔
” ادا تمہیں میرے فیصلے سے کوٸی انحراف تو نہیں۔؟“
چوہدری نعمان نے سنجدگی سے پوچھا۔
” نہیں بھاٸی۔“
ادا نے کہا اور وہاں سے چلی گٸ۔
” یہ آپ ٹھیک نہیں کر رہے۔“
ارم تلملاٸی۔
” ٹھیک تو تمہارے بھاٸی نے نہیں کیا۔“
نعمان غیض وغضب کی آنچ لیے بولا۔
” آپ کا دوست بھی ہے وہ۔۔۔“
ارم ترنت بولی۔
” اسی بات کاتو افسوس ہے، مجھے پچھتاوا ہے اسکی بات ماننے پر، نین تارا کو نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔“
چوہدی نعمان سوچ سکا۔
❤❤❤
ادا کچھ سوچتے ہوۓ بیڈ پر بیٹھ گٸ۔
” احسن ۔۔۔ناٹ بیڈ۔“
ادا مسکراٸی۔
” اب فیضی کو پتہ چلے گا، ادا مری نہیں جا رہی اسکے پیچھے۔“
منہ مروڑتی وہ موبائل لیے کھڑکی میں آگٸ۔
فیس بک پر احسن کو سرچ کیا اور دونوں کا موازنہ کرنے لگی۔
” کم از کم نوکروں کا انکی اوقات میں تو رکھتا ہے، فیضی نے پہلے ہی نوکرانی سر پر بٹھا رکھی ہے۔“
ادا مسکراٸی۔
” تو چوہدری احسن تم میری قسمت ہو۔“
مسکراتے ہوۓ بولی اور بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔
❤❤❤
لاٶنج میں بڑی اور چھوٹی حویلی کے افراد اور چوہدری سکندر کے چھوٹے بھاٸی چوہدری احرام کی فیملی بیٹھی تھی۔
گہری خاموشی کے بعد نعمان نے لب کشاٸی کی۔
” ماموں جان۔۔!!!“
نعمان نے چوہدری سکندر کی طرف دیکھا۔
” میں نے ادا کا رشتہ احسن کے ساتھ طے کرنے کا فیصلہ کیا، فیضی کے رویے نے میری بہن کو بری طرح ڈسٹرب کیا ہے، اور یہ میں قطعاً برداشت نہیں کرسکتا۔“
چوہدری نعمان لہجے میں سختی کا عنصر لیے گویا ہوۓ۔
” یہ تمہارا والدین کا جوڑا گیا رشتہ تھا۔“
جہاں آرا بیگم ناگوار لہجے میں بولیں۔
” میں نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے فیصلہ لیا ہے۔“
چوہدری نعمان بنا دیکھے بولا۔
” اگر آپ کو میرے فیصلے پر اعتراز نہیں تو آج منگنی کی رسم ادا کردی جاۓ، اگلے ہفتے شادی کردی جاۓ گی۔“
چوہدری نعمان، چوہدری سکندر کی طرف دیکھ کر بولے۔
” فیضی نے اقرار کر لیا ہے شادی کے لیےاور ۔۔۔“
چوہدری سکندر پہلی بار بولے۔
” مجبوراً کی ہے ماموں جان، مجبوری میں باندھے گۓ رشتے احساس و محبت سے بےبہرا ہوتے ہیں۔“
چوہدری نعمان نے قطعیت سے انکی بات کاٹی۔
” جیسے تمہاری مرضی۔۔۔ہمیں کوٸی اعتراض نہیں۔“
چوہدری سکندر نے کہا تو چوہدری احرام کی بیوی نے ملازمہ کو مٹھاٸی کھلانے کا کہا۔
” اداکو بلاٶ۔“
چوہدری نعمان کی طرف دیکھتے ہوۓ بولے۔
ادا لاٸٹ پنک سوٹ میں ملبوس نظریں جھکاۓ چوہدری نعمان کے ساتھ بیٹھ گٸ۔
سامنے صوفے پر براجمان چوہدری احسن کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گٸ۔
سکاۓ بلیو شلوارسوٹ میں ملبوس، خاندانی چادر کندھے پر ٹکاۓ مونچھوں کا جاگیردار کے انداز میں بل دیے، وہ فیضی سے کم نہیں تھا۔
” کتنا چاہتا تھا میں تمہیں ادا، پر ہر بار فیضی بیچ میں آجاتا۔“
مونچھوں کو بل دیتا وہ سوچ رہا تھا۔
” فیضی نامی دیوار بھی گر ہی گٸ۔“
وہ استہزایہ مسکرایا۔
احسن کی والدہ آمنہ بیگم نے منگنی کی انگوٹھی اسکی انگلی میں پہناٸی اور شگن کی چیزیں دیں۔
”اگلے جمعے کو بارات لےآٸیے گا۔“
چوہدری نعمان چوہدری احرام سے مخاطب تھا۔
” ٹھیک ہے برخودار۔“
چوہدری احرام مسکراۓ۔
جہاں آرا بیگم نے کھانا لگوایا اور سب مل کے کھانے لگے۔
❤❤❤
فیضی گاڑی میں بیٹھا ہی تھا، جب علی کی گاڑی اندر آتی دکھاٸی دی۔
فیضی گاڑی سے نکل آیا۔
”کہیں جا رہے تھے۔؟“
علی اسکی طرف بڑھا۔
” تمہاری طرف ہی جا رہا تھا،آٶ کچھ بات کرنی ہے۔“
فیضی اسےلیے لان میں رکھی چیرز کی طرف بڑھ گیا۔
”کیا بات ہے یار ۔۔۔۔پریشان لگ رہے ہو۔“
علی متفکر سا بولا۔
فیضی نے پیشانی مسلی۔
” بابا جان کا حکم ہے ادا سے شادی کروں اور نین تارا کو گھر سے نکال دوں۔“
فیضی پریشانی سے گویا ہوا۔
” پھر۔۔۔“
علی نے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
” اپبے اپارٹمنٹ کی کیز دو، نین وہاں رہ لے گی، ادا یہاں۔“
فیضی نے کہا۔
” ادا سے مل کے آرہا ہوں۔“
علی نے سرسری سا کہا۔
” کیوں۔؟“
فیضی نے پلکیں سکیڑیں۔
” اسی نے بلایا تھا۔“
علی نے اپنی صفاٸی دی۔
” کہہ رہی تھی، مجھ سے شادی کر لو۔“
علی نے گویا فیضی پر بمب پھوڑا۔
” واٹ۔“
فیضی کو ادا پر غصہ آنے لگا۔
” تم نے کیا کہا۔“
فیضی نے ٹٹولتی نگاہوں سے علی کو دیکھا۔
” میں نے کہہ دیا میں کسی اور میں انٹرسٹڈ ہوں۔“
علی نے کندھے اچکاۓ۔
فیضی نے گہرا سانس خارج کیا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
” صبح جا کے خبر لوں گا اسکی۔“
فیضی نے غصہ ضبط کیا۔
” نین تارا کو میں ڈراپ کردوں اپارٹمنٹ۔“
علی نے اجازت چاہی۔
” نہیں۔۔۔میں چھوڑ دوں گا۔“
فیضی نے قطعیت سے کہا وہ علی کی فلرٹی فطرت سے خوب واقف تھا۔
” میری پیکنگ ہو گٸ ہے فیضی۔“
نین تارا چلتے ہوۓ لان میں آگٸ۔
فیضی نے سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
علی کی نظریں اس پر جم سی گٸیں۔
سی گرین نیٹ کے ایمبراٸڈڈ سوٹ میں ملبوس،سلکی مہرون بال کھلے تھے جو آوارگی سے ادھر ادھرجھولتے پھر رہے تھے، ہاتھوں کی مخروطی انگلیوں میں باریک سی رنگ پہنے ، گہری سبز آنکھوں پر پلکوں کی گھنی جھالر اٹھاتی کبھی گراتی وہ سادگی میں بھی غضب ڈھا رہی تھی۔
نین تارا علی کی والہانہ نظروں سے کنفیوزڈ ہو کر واپس اندر چلی گٸ۔
علی نے خود کو گھرکا اور فیضی سے اجازت لیتا نکل گیا۔
❤❤❤
فیضی نیچے آیا تو نین تارا ناشتہ لگوا رہی تھی۔
” نین تارا میں گاٶں جا رہا ہوں، تم ڈراٸیور کے ساتھ چلی جانا آفس۔“
فیضی نے نین تارا کی طرف دیکھا۔
گہری سبز آنکھوں میں کاجل کی گہری دھار نے آنکھوں کو مزید اجاگر کر دیا تھا۔
” اوکے۔۔۔کب تک واپس آٸیں گے۔“
نین تارا نے سرسری سا پوچھا۔
” شام تک۔۔۔“
فیضی مختصر بولا۔
” علی سے زرا فاصلہ رکھنا۔“
فیضی نے تنبیہہ کی۔
نین تارا نے سر ہلا دیا۔
” یہ اپارٹمنٹ کی کیز ہیں، مجھے اچھا نہیں لگ رہا تمہیں بھیجتے ہوۓ، لیکن بابا کا حکم ہے تو۔۔۔۔“
فیضی نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
” اٹس اوکے فیضی۔“
نین تارا مسکراٸی۔
” تھینکس آلوٹ نین تارا۔“
فیضی نے آخری نوالہ منہ میں ڈالا اور پلیٹ کھسکاۓ اٹھ گیا۔
نین تارا دروازے تک اسکے ساتھ چلی آٸی۔
فیضی کے چلے جانے کے بعد نین تارا نے سامان گاڑی میں رکھوایا اور فیضی سے ایڈریس پوچھا۔
اپارٹمنٹ بہت خوبصورت تھا۔
نین تارا بیگ سیدھا بیڈ روم میں لے گٸ۔
کمرے سے ملحقہ بالکونی دوسری جانب پارک میں کھلتی تھی، جہاں انواع و اقسام کے پھول آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔
نین تارا مسکراٸی اور موبائل سے پکچرزکلک کرنے لگی۔
دس بجے کے قریب وہ اپارٹمنٹ سے نکلی اور ڈراٸیور کے ساتھ آفس چلی آٸی۔
مس عالیہ اور علی پہلے ہی موجود تھے۔
نین تارا نے افسردگی سے فیضی کی خالی کرسی کو دیکھا اور عالیہ کے ساتھ چلی گٸ۔
❤❤❤
فیضی حویلی پہنچا تو تین چار گاڑیاں دیکھ حیران ہوا۔
اندر آیا تو حیرانی دو چند ہوٸی جب سب کو ساتھ بیٹھے کھانا کھاتے دیکھا۔
” آٶ فیضی۔“
احسن جتاتے لہجے میں بولا۔
” آج تو بڑی رونقیں لگی ہیں حویلی میں۔“
وہ چچا جان اور چچی سے مل کے احسن کی طرف بڑھا۔
” تمہارے الجھاۓ رشتوں کو سلجھایا جا رہا ہے۔“
ارم تنک کے بولی۔
فیضی نے حیرت سے ارم کو دیکھا۔
”مل گٸ تمہیں فرصت اس دو ٹکے کی لڑکی سے۔“
جہاں آرا بیگم کاٹ دار لہجے میں بولی۔
” جی۔۔۔“
فیضی کو انکا انداز برا لگا۔
” اماں جان۔۔۔۔وہ اپنے گھر چلی گٸ ہے۔“
فیضی نے گویا انہیں بتایا۔
” اور ادا بھی اپنے گھر کی ہونے جا رہی ہے۔“
جہاں آرا بیگم نے ناگواریت بھرے لہجے میں کہا اور ادا کی طرف دیکھا۔
” کیا مطلب۔“
فیضی ناسمجھی سے بولا۔
” ادا کی شادی طے ہو گٸ ہے احسن سے اگلے جمعے کو بارات ہے، تم بھی آنا مسٹر فیضان سکندر۔“
نعمان تلخی سے بولا۔
” لیکن۔۔۔۔“
فیضی کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
احسن نے جتاتی نظروں سے دیکھا۔
” اچھا بھٸ۔۔۔پھرتو ڈھیروں مبارکباد۔“
فیضی نے مسکرا کر کہا گویا اسے کوٸی فرق نہیں پڑا۔
احسن کی مسکراہٹ معدوم پڑ گٸ۔
ادا نے حیرانگی سے فیضی کودیکھا۔
” اسے میرے کھو دینے کا دکھ نہیں ہوا۔“
ادا اسکے مسکراتے چہرے کو دیکھ سوچ سکی۔
چوہدری احرام کی فیملی اجازت طلب کرتی چلی گٸ۔
” تمہیں شرم آنی چاہیے فیضی۔“
چوہدری سکندر گرجے۔
” اب کیا کیا میں نے۔“
فیضی روہانسا ہوا۔
” اپنی منگیتر کے کسی اور کے ساتھ منسوب ہونے پر خوشیاں منا رہے ہو، تمہیں مبارکباد دیتے زرا شرم نا آٸی۔“
چوہدری سکندر دھاڑے، ماعے غیض کے انکا چہرہ سرخ پڑ رہا تھا۔
” تو اس میں کیا پرابلم ہے بابا جان، جہاں انکی مرضی انہوں نے کر لیا رشتہ۔“
فیضی نے لاپرواہی سے کندھے اچکاۓ۔
” تم حد سے زیادہ بے غیرت ہو۔“
وہ بیٹھتے ہوۓ بولے۔
”تمہاری جگہ کوٸی غیرت مند مرد ہوتا تو کبھی اپنی منگیتر کو کسی کی ڈولی چڑھنے نا دیتا۔“
وہ سخت خفا لگ رہے تھے۔
” بابا پلیز۔۔۔۔میں ان فضولیات سے پرے ہی بہتر ہوں، ادا کی شادی مجھ سے نہیں ہو رہی تو کیا ہو گیا، احسن بھی آپکا بھتیجا ہے۔“
فیضی اطمینان سے بولا۔
” وہ مجھے نیچا دکھا کر گیے ہیں، میری ہونے والی بہو کو اپنی بہو بنا کر۔“
چوہدری سکندر غضب ناک ہوۓ۔
فیضی انکی بات پر افسوس سے سر ہلا کر رہ گیا۔
” ویل میرا مسٸلہ بھی حل ہوا، آۓ دن نیا ڈرامہ رچایا ہوتا تھا۔“
فیضی کوٹ کے بٹن بند کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
” یہ سب تمہارے لاڈ کا نتیجہ ہے، ہر جگہ اس نے میرا سر جھکایا ہے۔“
وہ جہاں آرا پر برسے۔
وہ خاموش رہیں۔
آہستہ آہستہ لاٶنج خالی ہونے لگا، سب دھیرے دھیرے نکل گیے۔
” فیضی کو بلکل بھی فرق نہیں پڑا۔“
ادا کو دکھ ہو رہا تھا اس جلدبازی پر۔
” بھاڑ میں جاۓ، مجھے کیا۔“
ادا نے سر جھٹکا اور گاڑی کے شیشے سے نظر آتی بھاگتی فصلیں دیکھنے لگی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *