Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30
” تارا پیکنگ کر لو ہم اپنی گاڑی سے مری جاٸیں گے۔“
فیضی نے فون میں مصروف تارا کو مخاطب کیا۔
” ٹھیک ہے، پر یہاں کیا ایک ہی سین بنانا تھا۔۔۔؟“
نین تارا بنا دیکھے بولی۔
” نہیں فلم کے دو ڈاریکٹرز ہیں، وہ یہاں رہ کر باوی کاسٹ کے سینز بنا لیں گے، ہم فلم کا سانگ بنا لیں گے۔“
فیضی نے بتایا۔
” ایک سین بار بار کرنے سے کوفت ہوتی ہے۔“
نین تارا ٹچ پرانگلیاں چلاتے ہوۓ بولی۔
” جب تھوڑی ایکسپرٹ ہو گٸ تو پھر بار بار نہیں کرنا پڑے گا۔“
فیضی نے ٹی وی آن کیا۔
” سانگ میں ڈانس بھی ہو گا نا۔“
نین تارا نے موبائل سے نظریں ہٹا کے اسے دیکھا۔
” ہاں۔“
فیضی نے اسکی طرف مسکرا کر دیکھا۔
” مجھے تو ڈانس نہیں آتا۔“
وہ فیضی کی طرف مڑی۔
” آ جاۓ گا سب کچھ، جب تک فیضی تمہارے ساتھ ہے تمہیں پرٕیشان ہونے کی ضرورت نہیں۔“
فیضی نے ٹی وی بند کیا اور اسکی طرف مڑ کے بیٹھ گیا۔
” آپ ہمیشہ نہیں رہ سکتے میرے ساتھ۔“
نین تارا کی زبان پھسلی۔
وہ شرم سےسر جھکا گٸ۔
فیضی کھل کے مسکرا دیا اور جواب دے بنا ہی موبائل نکال کے مصروف دکھنے لگا۔
نین تارا سیدھی ہو کر بیٹھ گٸ۔
کچھ دیر بعد وہ پیکنگ کرنے چل دی۔
فیضی اسکی پشت دیکھ کر مسکرایا اور بازوسر کے نیچے رکھے اسکی یادوں میں کھو گیا۔
” دعا کا کانٹریکٹ پورا نہیں ہوا، وہ ایسے کیسے جا سکتی ہے۔“
علی ماجد پر برس رہا تھا۔
” سر مجھے نہیں پتہ، وہ صبح آٸیں تھیں اور کہہ گٸیں ہیں مجھے مزید یہاں کام نہیں کرنا۔“
ماجد نے کہا۔
” واٹ دا ہیل۔“
کانٹریکٹ پیپر مزید پر پھینکے علی کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔
” ہمارے پاس اب صرف چار ماڈلز ہیں۔“
ماجد دھیرے سے بولا۔
علی سوچ میں گم تھا۔
” سر میک اپ آرٹسٹ بھی یہاں بہت کم ٹاٸم دیتے ہیں۔“
ماجد بتا رہا تھا۔
” کین یو پلیز شٹ ہور ماٶتھ۔“
علی سیخ پا ہوا۔
ماجد ضبط کیے بیٹھ گیا۔
” نیو ماڈلز کہاں سے لاٶں۔؟“
سر ہاتھوں میں گراۓ وہ شدید پریشان لگ رہا تھا۔
” اس منتھ کی سیلریز دے دی تو اکاؤنٹ بلکل خالی ہو جاۓ گا، مطلب بزنس کہاں سے چلے گا۔“
وہ شدید پریشان لگ رہا تھا۔
” ماڈلز مل بھی گٸیں تو خرچ کہاں سے کروں گا۔؟“
سوچوں کے حصار میں ڈوبا ہوا تھا۔
ڈرائيور اسے شہر اپارٹمنٹ میں چھوڑ گیا۔
اندر آیا اور بیڈ پہ نیم دراز ہوتے کسی کا نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔
” صاٸم چوہدری احسن بات کر رہا ہوں۔“
احسن نےکہا۔
” زرا اپارٹمنٹ آٶ، کچھ بات کرنی ہے تم سے۔“
کہہ کے فون بند کر دیا۔
” شکر ہے اپارٹمنٹ میرے نام ہے۔۔۔“
احسن ہنسا۔
” چوہدری فراز تم مجھے جانتے کہاں ہو۔۔۔۔“
ڈبی میں سے سگریٹ نکال کے سلگاٸی اور ہونٹوں سے لگاۓ دھواں اڑانے لگا۔
” کیا ہوا۔۔۔؟“
” سب ٹھیک تو ہے نا، اتنا ارجنٹ کیوں بلایا۔؟“
صاٸم سیدھا بیڈ روم میں چلا آیا۔
” بابا نے جاٸداد سے عاق کر دیا ہے، میرے پاس کچھ رقم ہے، میں بزنس سیٹ کرنا چاہتا ہوں۔“
احسن نے تفصيل بتاٸی۔
” بزنس ۔۔۔؟“
صاٸم بیڈ پہ نیم دراز ہوتا ہوا بولا۔
” چلا لو گے بزنس۔۔۔؟“
صاٸم نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
” تم کس کھیت کی مولی ہو۔۔۔۔تمہارے مشکل وقت میں تمہارے کام آتا تھا، اب تمہاری باری ہے۔“
چوہدری احسن دھویں کے مرغولے اڑاتا ہوا بولا۔
” دفع کر نیےبزنس کو، ابروڈ چلتے ہیں، ڈیڈ کا بزنس ہے وہاں وہ چلا لیں گے۔“
صاٸم نے مشورہ دیا۔
” میں کسی کا بزنس نہیں چلاٶں گا۔“
چوہدری احسن ازلی اکڑ سے بولا۔
” کسی کا کہاں ہوگا، تم شیرز ڈال لینا اپنے۔“
صاٸم نے پرجوش لہجے میں کہا اور اٹھ کر بیٹھ گیا، چہرے سے لگتا تھا شکار پھنسانے کی کوشش میں ہے۔
” ” ہممم ٹھیک ہے، پھر جلدی انتظام کرو۔“
احسن نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
صاٸم کے لبوں پر شاطرانہ مسکراہٹ رینگ گٸ۔
” بڑی اکڑ ہےتم میں، خاک میں نا ملا دیا تو کہنا، جس دولت پر اکڑتے ہو اسکی پاٸی پاٸی کا محتاج کر دوں گا۔“
صاٸم نکلتے ہوۓ بولا۔
” جس طرح تم میری انسلٹ کرتے تھے، ایک ایک چیز کا بدلہ لوں گام“
صاٸم نے دانت پیسے۔
” رانیہ کو مجھ سے دور کرنے میں تمہارا ہاتھ تھا، نا تم میری انسلٹ کرتے نا وہ مجھ سے بدگمان ہو کے جاتی۔“
نمی سی اسکی آنکھوں میں تیرنے لگی تھی۔
دونوں دس بجے کے قریب مری کے لیے نکلے۔
نین تارا ریڈ شرٹ اور بلیک کیپری میں ملبوس تھی۔
بال ہمیشہ کی طرح اڑتے پھر رہے تھے۔
فیضی انہماک سے ڈراٸیو کر رہا تھا۔
” ہم رہیں گے کہاں فیضی۔“
نین تارا نیل پینٹ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔
” کاٹیج میں۔“
فیضی نے ایک نظر اسکے سراپے پر ڈالی۔
” مجھے بہت شوق تھا، برف باری دیکھنے کا۔“
مین تارا پرجوش لگ رہی تھی۔
فیضی مسکرا دیا۔
وہ آنکھیں میچے بولتی جا رہی تھی۔
فیضی مسکراتے ہوۓ سن رہا تھا۔
” یہ ہماری پہلی اور آخری فلم ہو گی، اسکے بعد نہیں، تمہیں نام مل جاۓ گااور مجھے ۔۔۔۔۔“
وہ جملہ خود ہی ادھورا چھوڑ گیا۔
” میرا کام ختم ۔۔۔۔پھر تم اپر کلاس میں آفیشلی داخل ہو جاٶ گی۔“
وہ سوچ رہا تھا۔
” پھر کلاسز کا فرق ختم ہو جاۓ گا، میں تمہیں اپنا لوں گا۔“
اپنی سوچ پہ خود ہی مسکرا دیا۔
” میں جانتا ہوں، تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے۔“
تبسم لبوں کا احاطہ کر گٸ۔
” تم چھپاۓ رکھنے میں کمال رکھتی ہو۔“
سامنے ہونے کے باوجود وہ تصور میں اس سے محو گفتگو تھا۔
نین تارا حیرت سے اسے خود ہی مسکراتا دیکھ رہی تھی۔
” آپ واقعی مشکوک ہیں فیضی۔“
نین تارا بولی تو وہ چونک گیا۔
” کیسے۔۔۔؟“
وہ حیران ہوا۔
” خود ہی مسکراۓ جا رہے ہیں۔“۔
وہ ناخن دیکھتے ہوۓ بولی۔
” کچھ یاد آگیا تھا۔“
فیضی نے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
” اگر تمہاری آنکھیں گہری سبزنا ہوتی، تو یویناً تم اتنی خوبصورت نیں ہوتی۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا ہنس دی۔
” پھر کوٸی مجھے کالی بلی نا کہتا۔“۔
نین تارا اسکی طرف دیکھ کر بولی۔
”میرے لیے تم ہمیشہ سبز آنکھوں والی بلی ہی رہو گی۔“
فیضی نے محبت و اپناٸیت سے کہا۔
” آپ کو اتنا یقین ہے ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی، آپ کی بیوی نے دوسرے دن ہی نکال دینا مجھے۔“
نین تارا سنجیدگی سے کہتی ہنس دی۔
”نہیں نکالتی، وہ بھی تم سے بہت محبت کرے گی۔“
فیضی پر یقین لہجے میں بولا۔
” اونہوں۔“
نین تارا نے سر نفی میں ہلایا، سلکی مہرون بال اٹھکیلاںکرتے ادھر ادھر پھسلنے لگے ، کانوں میں جھومتے بندے ادھر ادھر جھمنے لگے تھے۔
” وعدہ رہا تم سے۔“
فیضی نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
” اگر ایسا نا ہوا تو۔۔۔۔؟“
نین تارا نے پلکیں اٹھاٸیں۔
” ایسا ہی ہوگا۔“
فیضی کے لہجے میں یقین تھا۔
” میں نے شادی نہیں کرنی، ساری عمر آپکے گھر پڑی رہوں گی کیا۔“
نین تارا خفگی سے بولی۔
فیضی کے فل کو دھکا سا لگا۔
وہ چپ ہو گیا۔
” شادی کے بعد آیا کروں گی کبھی کبھی۔“۔
وہ کن اکھیوں سے دیکھتی بولی۔
فیضی کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔
نین تارا اسے سنجیدہ پا کر خاموش ہو گٸ۔
” تم نے کیا کچھ۔“
چوہدری سکندر کی کال تھی۔
” میں پھنس کے رہ گیا ہوں باپ بیٹے میں۔“
علی نے کوفت سے سوچا۔
”کال کی تھی، نین تارا نے ریسیو ہی نہیں کی، آج نٸ سم لایا ہوں، دوبارہ کرتا ہوں۔“
علی نے جھوٹ بولا۔
” جلدی مجھے اطلاع کرو۔“
حکمیہ لہجے میں بول کے کال کاٹ دی۔
” جلدی اطلاع کرو مجھے۔۔۔۔ہونہہ۔“
علی نے انکی نقل اتاری۔
” اتنے چوہدری ہے تو خود سمجھاۓ اپنے بیٹے کو۔“
علی تپا ہوا لگ رہاتھا۔
” یہاں میرا بزنس ڈوب رہا ہے، اس بڈھے کو لڑکی کی پڑی ہے۔“
سگریٹ سلگھاتے ہو طیش میں بولا۔
” نین تارا تمہیں تو نہیں چھوڑوں گا، زلیل کر کے رکھ دیا ہے مجھے، دو ٹکے کے چودهری مجھ پہ حکم جھاڑ رہے ہیں۔“
علی نے طیش میں آ کر ویز دیوار میں مارا۔
” بزنس کیسے بچاٶں۔۔۔؟“
سگریٹ لبوں سے لگاتے وہ سوچ رہا تھا۔
”بینک سے لان لے لوں، یا ڈیڈ سے پیسے مانگ لوں۔“
کہنیاں گھٹنوں پر رکھے وہ آۓے کو جھکا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔
” ڈیڈ سےمانگے تو سو باتیں سناٸیں گے۔“
وہ بدمزہ سا ہوا۔
” بینک والے گھر کے کاغذات مانگیں گے۔“
وہ سوچ رہا تھا۔
” اپارٹمنٹ میرے نام پر ہے، وہ گروی رکھ دیتا ہوں۔“
وہ نتیجے پر پہنچا اور ماجد کو کال کر کے بینک لان کے لیے اپلاۓ کیا۔
” اب رہا ماڈلز کا قصہ تو سوشل میڈیا پر بہت مل جاٸیں گی۔“
وہ ہنسا۔
” بزنس تومیں چلا کے رہوں گا۔“
کرسی کی پشتسے ٹیک لگاۓ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا لی۔
” فیضی کے ہوتے کسی چیز کی پریشانی نہیں ہوتی تھی، پتہ نہیں کرتا کیا تھا، پتہ تب چلتا تھا جب کام کے پیسے ملتے تھے۔“
سگریٹ ایش ٹرے میں پھینکے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیے بولا۔
” واٶ کتنا پیارا کاٹیج ہے۔“
نین تارا ستاٸش سے بولی۔
لکڑی کا بنا دو منزلہ کاٹیج نہاہت خوبصورت اور گھروں سے الگ کچھ فاصلے پر تھا۔
فیضی سامان لیے اندر چلا آیا۔
” نین تارا کچھ کھانے کو بنا سکتی ہو۔۔۔بہت بھوک لگ رہی ہے۔“فیضی جیکٹ پہنتے ہوۓ بولا۔
” جی بنا لیتی ہوں، آپ سامان لے آٸیں۔“
نین تارا ہاتھ مسلتے ہوۓ بولی۔
فیضی باہر نکل گیا، نین تارا نے بیگ سے کپڑے نکال کے ہینگ کیے اور کوٹ نکال کے پہن لیا۔
اوپن کچن نہایت خوبصورت تھا، کچن میں ہی چھوٹا سا ٹیبل اور چار کرسیاں پڑی تھیں۔
نین تارا نے فریج کھولی جو خالی پڑی تھی۔
بدبو کا مرغولہ اسکے نتھنوں سے ٹکرایا تو اس نے منہ پہ ہاتھ رکھتے فریج بند کر دی۔
کوٹ کے بازو فولڈ کیے اور فریج صاف کرکے سویچ لگا دیا۔
سویچ لگا کے سیدھی ہوٸی تو فیضی نے شاپر شیلف پر رکھے۔
” جلدی کرنا بہت بھوک لگ رہی ہے۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” آپ ہیلپ کر دیں پھر۔“
نین تارا نے شاپر سے سبزیاں نکال کے دھویں اور اسکے آگے رکھیں۔
” انہیں کاٹیں، میں گوشت دھو لوں۔“
وہ مسکراتی ہوٸی گوشت لیے سنک کی طرف پلٹی۔
” فیضان سکندر سے کام کروا رہی ہو۔“
وہ مصنوعی خفگی سے بولا۔
نین تارا کھلکھلا کے ہنس دی۔
چکن دھویا اور چھری لیے ٹیبل پر آ بیٹھی۔
فیضی کے ساتھ مل کے سبزیاں کاٹیں اور پاستہ بنانے لگی۔
” دس منٹ میں پاستہ ریڈی کیے ڈش میں نکالا اور ٹیبل صاف کیے فیضی کے آگے رکھا۔
” تم بھی آ جاٶ۔“
فیضی پیلٹ میں نکالنے لگا۔
نین تارا نے پانی کا جگ رکھا اور بیٹھ گٸ۔
” شکریہ۔“۔
فیضی مسکرایا۔
نین تارا جواباً مسکرا دی۔
” ہاں چوہدری احسن کا آسٹریلیا لے جانے کا انتظام کرو۔“۔
وہ اپنے پارٹنرز سے بولا۔
” اسے وہاں صفاٸی والا نا رکھا تو کہنا۔“۔
صاٸم نخوت سے بولا۔
” ہأں یہ رہا اسکا ہاسپورٹ ٹکٹ کنفرم کرواٶ۔۔۔۔تین چار دن میں نکلتے ہیں۔“
اہنے دوست کو پاسپورٹ دیے وہ وہاں سے نکل آیا۔
” چوہدتی احسن جب ہوٹل میں ویٹر بنے گا تب احساس ہو گا، دولت نہیں انسان کام آتے ہیں۔“
وہ غصے سے بولا۔
نین تارا برتن سمیٹے کاٹیج سے نکل کر لان میں آگٸ، برف نے گھاس پر اچھا خاصا ستم کیا تھا، گھاس سوکھ چکی تھی، ہر طرف روٸی جیسی برف بکھرے پڑی تھی۔
نین تارا کاٹیج کی سیڑھیوں پر بیٹھ گٸ۔
برف کو ہاتھوں میں تھامے وہ مسحور کن انداز میں اسے اوپر پھینک رہی تھی۔
” کبھی سوچا بھی نہیں تھا، زندگی اس قدر خوبصورت ہو جاۓ گی۔“
وہ برف پر چلنے لگی۔
” ٹی وی پر جنہیں حسرت سے دیکھتی تھی، آج خود وہاں ہوں۔“
اس نے بے یقینی سے بادلوں سے ڈھکے آسمان کو دیکھا۔
قد آور درختوں کی چوٹیاں بھی سفیدی میں ڈوبی ہوٸی تھیں۔
نین تارا اس خوبصورتی کو موبائل میں قید کرنے لگی۔
فیضی کب دروازے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اسے خبر ہی نا ہوٸی۔
اسکی بچوں جیسی خوشی دیکھ فیضی مسکرا دیا۔
” لوگوں کی نظر میں پیسہ ہاتھوں کی میل ہے، لیکن شاید یہی پیسہ حسرتوں کے ڈھیر بننے سے روک سکتا ہے، کسی کسی کے لیے پیسہ حیات ہوتا ہے۔“
وہ سوچ سکا۔
جاری ہے
