Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37
” جلدی تیاری کر لو، لڑکے والے آجاٸیں گے۔“
شکیلہ نے اسے سست بیٹھے دیکھ کہا۔
مس عالیہ نے بیوٹیشن بلوا لی۔
سی گرین کامدار میسکی بیڈ پر پڑی تھی۔
” آپ ٹھیک نہیں کر رہے میرے ساتھ امی۔“
نین تارا یاسیت سے بولی۔
”تیرا اسی میں فاٸدہ ہے، فیضی کے ساتھ شادی کر بھی لے گی تو ساری زندگی نوکرانی بنا کے رکھے گا، تو نہیں جانتی ان چودہریوں کو۔“
شکیلہ نے نرمی سے سمجھایا۔
” کاش میں جان ہی نا سکتی امی۔“
وہ آنسو ضبط کرتے افسردہ سی بولی۔
” جان تو آپ نہیں پا رہے، کس ہیرے کو ٹھکرا رہے ہیں۔“
ضبط کے باوجود آنکھیں چھلک پڑیں۔
بیوٹیشن پہنچ چکی تھی۔
نین تارا نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
” فیضی میری امید آخری دم تک نہیں ٹوٹے گی۔“
وہ کرب سے سوچ سکی۔
بیوٹیشن اپنا کام کر کے جا چکی تھی۔
وہ اٹھ کے کھڑکی میں آگٸ۔
پارک کی رونق پر جیسےاوس سی پڑ گٸ تھی، وہ اداسی سے دیکھنے لگی۔
” آ جاٶ، مہمان آگیے ہیں۔“
فضیلہ نے کہا اور چلی گٸ۔
مس عالیہ کمرے میں داخل ہوٸی۔
” مہمان آگیے ہیں۔“
مس عالیہ جھجھکتے ہوۓ بولیں۔
نین تارا لب سیے اس کے ہمراہ چل دی۔
” میرا موبائل اپنے پاس رکھیں، فیضی کی کال آۓ تو ضرور بتاٸیۓ گا۔“
وہ التجاٸیہ ہوٸی۔
” ضرور۔“
مس عالیہ نے سرگوشی کی اور اسے صوفے پر نمیر کے ہمراہ بٹھا دیا۔
” اب اتنے ہی ماڈرن ہو گیے ہیں ابو، سیدھا نمیر کے سنگ لا بٹھایا۔“
وہ پرے ہٹتی کوفت سے بڑبڑاٸی۔
نمیر نے اسے کھسکتے دیکھا تو اچنبھے سے اسکا سجا سجایا روپ دیکھا۔
گہری سبز آنکھوں میں بےزاری صاف جھلک رہی تھی۔
” براۓ مہربانی اپنی نظروں کو حد میں رکھیے۔“
وہ جھنجھلا کے کوفت و ناگواری سے بولی۔
نمیر نے نظریں ہٹا لیں، گو کہ نین تارا کا رویہ اسے کھٹکنے لگا۔
” منگنی کا فنکشن ہے، مہمان تو ایسے اکھٹے کیے ہیں شادی ہو رہی ہو جیسے۔“
وہ شکیلہ سے مخاطب ہوٸی۔
شکیلہ چپ کر کے رہ گٸ۔
” ماشااللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے جوڑی۔“
نمیر کی والدہ بلاٸیں لینے لگی۔
” استغفراللہ۔“
نین تارا کی زبان پھسلی۔
نمیر نے حیرت سے رخ پھیرا۔
” کوٸی پرابلم ہے۔؟“
وہ رازدانہ انداز میں بولا۔
” تم ہی پرابلم ہو۔“
نین تارا دھیمے لہجے میں ناگواری سے بولی۔
نمیر نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔
” رس شروع کریں بہن۔“
نمیر کی والدہ نے شکیلہ سے اجازت چاہی۔
شکیلہ اور فضیلہ کو مس عالیہ نے تیار کروایا تھا۔
” جی جی بہن۔“
وہ جلدی سے بولیں۔
نین تارا کی جان مٹھی میں آگٸ۔
مس عالیہ نے دونوں رنگز خوبصورتی سے سجے تھال میں رکھیں ہوٸیں تھیں۔
یکا یک کمیرہ مینز اندر آگیے۔
سٹیج کےگرد فلیشز اور کیمروں کے کلکز گونجنے لگے۔
” مس عالیہ۔۔۔۔انہیں باہر نکالیں۔“
وہ اشتعال سے بولی۔
مس عالیہ نے گارڈز سے کہہ کر انہیں باہر نکلوایا۔
” چلو نمیر پہناٶ رنگ۔“
نمیر کی والدہ بولیں تو نمیر نے رنگ اٹھا لی۔
” نین تارا فیضی کافون ہے۔“
مس عالیہ نے اسے موبائل تھمایا۔
نمیر نے کوفت سے موبائل دیکھا اور رنگ ہٹا لی۔
” واٹ۔۔۔۔کب۔“
نین تارا ششدر سی چلاٸی۔
” میں ابھی پہنچ رہی ہوں۔“
وہ اٹھتے ہوۓ بولی۔
سب نے حیرت سے نین تارا کو دیکھا۔
نمیر اٹھ گیا۔
” کہاں جا رہی ہو۔؟“
شکیلہ بولی۔
” فیضی کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے۔“
وہ بھاگتے ہوۓ بولی۔
” ڈراٸیور گاڑی نکالو۔“
وہ تقریباً چلاٸی۔
” لیکن آپ کی منگنی۔۔۔۔“
مہمانوں میں سے کوٸی بولا تھا۔
” میرے لیے فیضی سب سے اہم ہیں۔“
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولی۔
گاڑی گیٹ سے نکل گٸ۔
سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گیے۔
نمیر نے رنگ ٹیبل پر پھینکی اور انتہائی غصے میں ٹہلنے لگا۔
” اب یہاں بیٹھ کر ویٹ کرنا ہے یا گھر چلیں۔“
نمیر کا والد سبکی محسوس کرتے ہوۓ بولا۔
لوگ باتیں بناتے ہوۓ چلے گیے۔
” اور دیں اسے آزادی، کروا دی نا بدنامی۔“
فضیلہ نے جلتی پر تیل ڈالا اور اپنا شرارہ سنبھالتی ہوٸی کمرے میں چلی گٸ۔
” کہیں کا نہیں چھوڑا ہمیں نین تارا نے۔“
فرید سر تھامے بولا۔
دونوں شدید غصے میں تھے۔
ہاسپٹل کی پارکنگ میں جیسے ہی گاڑی رکی وہ دونوں ہاتھوں سے میکسی تھامے تیز تیز قدموں سے چلتی ہوٸی ریسیپشن تک آٸی۔
” فیضان سکندر۔“
ہانپتی ہوٸی بولی تھی
” ریسیپشنسٹ نے حیرت سے اسکا سجا سجایا روپ دیکھا۔
” سیکنڈ فلور،آٸی سی یو وارڈ۔“
ریسیپشنسٹ نے کہا تو وہ لفٹ کی طرف لپکی۔
دل تھا کہ جیسے پھٹ رہا تھا۔
سیکنڈ فلور پر سامبے آٸی سی یو تھا۔
ہاسپٹل کے سیکنڈ فلور پر انتہاٸی سکوت تھا، اسکی ہیل کی ٹک ٹک ماحول میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔
آٸی سی یوکے گلاس ڈور سے فیضی کا پٹیوں میں جکڑا سر اسکی قوت سلب کر لے گیا۔
نین تارا کی آنکھیں بہنے لگیں۔
” میں نے اس طرح کرنے کو نہیں بولا تھا فیضی۔“
وہ روتے ہوۓ چلاٸی۔
کرسیوں پر خاموشی بیٹھے لوگوں نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
وہ گلاس ڈور پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی۔
” اللہ جی فیضی کو ٹھیک کر دیں۔“
بے اختیار دل نے اس رب کو پکارا تھا۔
کچھ ہی دیر میں چوہدری سکندر، جہاں آرا، فاطمہ اور اریان ہاسپٹل داخل ہوۓ۔
” یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے، میرا بچہ امیرجنسی میں پہنچ گیا۔“
جہاں آرا آتے ہی اس پر برسیں۔
نین تارا کی سماعت جیسے بند ہو گٸ تھی۔
وہ خاموش آنسوٶں کی روانگی میں بس اسے یک ٹک دیکھتی جا رہی تھی۔
فیضی کی اسکی زندگی میں کیا اہمیت تھی؟ وہ آج سمجھی تھی۔
” میم یہ ہاسپٹل ہے، باہر جا کر واویلا مچاٸیں۔“
نرس نے جہاں آرا کو سختی سے ڈپٹا۔
چوہدری سکندر نے افسوس سے سر جھٹکا۔
وہ ہار گیے تھے، فیضی جیت گیا تھا۔
” ڈاکٹر۔۔۔۔“
وہ دروازے سے ہٹی تھی۔
” میرا بیٹا کیسا ہے ڈاکٹر۔“
جہاں آرا بے چینی سے بولی۔
” وہ ابھی بھی خطرے میں ہیں، دعا کیجیے ہوش آجاۓ ورنہ انکی جان کو خطرہ ہے۔“
ڈاکٹر نے پیشہ وارانہ انداز میں کہا۔
نین تارا دھک سے رہ گٸ۔
” نہیں۔“
وہ کرسی پر گر سی گٸ۔
” ایسا نہیں ہو سکتا۔“
وہ سر ہاتھوں میں گراۓ سسکی۔
” مجھے کسی کا ہونے نہیں دیا، لیکن اپنایا بھی تو نہیں فیضی۔“
وہ کرب سے سسکی۔
ہر سو اندھیرا ہی اندھرا چھانے لگا تھا۔
” میرٕے بیٹے کو کچھ ہواتو تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی۔“
جہاں آرا اس پر برسیں۔
” اس سب کی وجہ آپ لوگ ہیں۔“
وہ پھٹ پڑی۔
” آپ کے شوہر ہیں۔“
وی چیخی تھی۔سیکنڈ فلور پر موجود لوگ وہاں جمع ہونے لگے۔
” یہ سب کیا دھرا چوہدری سکندر کا ہے۔“
روٸی آنکھوں سے وہ بھڑک کے بولی۔
” کیا لگا تھا آپکو صرف آپکو کھیلنا آتا ہے۔“
وہ چوہدری سکندر کو دیکھ کے دھاڑی تھی۔
” وہ بھی آپ کا بیٹا تھا، کیسے ہار مان لیتا۔“
ہاسپٹل کے کاریڈور میں اسکی آواز گونج رہی تھی۔
” اگر فیضی کو کچھ ہوا، تواس کے زمہ دار آپ ہیں۔“
وہ انگلی سے چوہدری سکندر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔
گہری سبز آنکھیں اشتعال سے پھٹ رہیں تھیں۔
شدید غصے میں اسکے لب کپکپا رہے تھے۔
” آپ ہیں اپنے بیٹے کی اس حالت کے زمے دار، بڑے چوہدری بنے پھرتے ہو نا، بچاٶ اپنے بیٹے کو۔“
وہ چیخی تھی۔
” بکواس بند کرو۔“
جہاں آرا نے ہاتھ اٹھایا۔
” بس۔۔۔۔۔وہ وقت نکل گیا، جب نین تارا کمزور تھی۔“
جہاں آرا کا ہاتھ روکے وہ غراٸی۔
”اپنی حد میں رہیے اب۔“
چبا چبا کے بولتی اس نے جہاں آرا کا ہاتھ جھٹکا۔
” کیا تماشہ لگایا ہوا ہے۔“
نرسز وہاں چلی آٸیں۔
مس عالیہ جو ابھی ابھی پنچی تھی نین تارا کی حالت دیکھ دنگ رہ گٸ۔
” منہ بند رکھو اپنا اور دفعہ ہو جاٶ یہاں سے۔“
وہ نرسز پر چلاٸی۔
” نین تارا۔۔۔۔“
مس عالیہ نےاسے کھینچا۔
” لے جاٸیں انہیں پاگل ہو گٸیں ہیں، اپنے ہوش میں نہیں ہیں۔۔“
نرس نے غصے سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔
” ہوش تو تمہارے ٹھکانے لگاٶں گی اگرفیضی کو جلدی ہوش نا آیا۔“
وہ مس عالیہ کے ساتھ کھینچتی ہوٸی چلاٸی۔
”نین تاراسٹاپ اٹ۔“
مس عالیہ اسے لفٹ کے اندر دھکیلتے ہوۓ بولیں۔
” کیوں۔“
وہ دہاڑی تھی۔
” میں سب کا قتل کر دوں گی۔“
وہ دیوانہ وار چلاٸی۔
میک اپ واٹر پروف نا ہوتا تو اب تک نین تارا چڑیل بن چکی ہوتی۔
مس عالیہ اسے جیسے تیسے گھر لے آٸیں۔
” آگٸ واپس۔؟“
شکیلہ نے غصیلے لہجے میں پوچھا۔
اسکی بگڑی حالت دیکھ فرید چپ رہ گیا۔
”کٹوادی نا ہماری ناک۔“
شکیلہ نےاسے جھنجھوڑا۔
” کونسی ناک، کونسی عزت۔“
وہ ہاتھ چھڑاتے ہوۓ پھنکاری۔
آنکھیں بھل بھل بہنے لگیں تھیں۔
” کس عزت کی بات کر رہی ہیں۔“
وہ حلق کے بل چلاٸی۔
” دو کوڑی کی عزت تھی ہماری، دو کوڑی کی۔“
وہ انگلیوں سے دو کانشان بناتے ہوۓ چلاٸی۔
شکیلہ ششدر رہ گٸ۔
مس عالیہ نے نین تارا کوروکنا چاہا۔
” چھوڑو مجھے۔“
وہ مس عالیہ پر برسی۔
مس عالیہ پیچھے ہٹ گٸیں۔
ملازمہ کچن سے نکل آٸی، فضیلہ بھی کمرے سے دوڑی آٸی۔
” ملازم تھے ہم، یہ گھر ، یہ شان وشوکت، یہ دولت اور یہ عزت۔۔۔۔۔“
وہ بازو ہوا میں بلند کرتی گھومی۔
” یہ سب فیضی کی عنایت ہے۔“
وہ انکی طرف بڑھتی ہوٸی بولی۔
” جس پر اتنا ترا رہے ہیں آپ لوگ، یہ میری نہیں فیضی کی محنت ہے۔“
وہ ہچکیاں لیتی ہوٸی مدھم ہوٸی۔
” یہ سب اسکا ہے ، جس نے مجھ پرپیسہ پانی کی طرح بہایا۔“
وہ اپنے سینے پر انگلی رکھتی ہوٸی بولی۔
” سب کچھ لٹا کر بھی اس نے صرف مجھے چاہا۔“
وہ سرد آہ بھرتے ہوۓ بولی۔
” آپ لوگوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلا، میں نے کیا نہیں دیا آپکو، آپ نے الٹا مجھ پر ہی وار شروع کر دیے۔“
وہ مدھم ہوتے ہوۓ کرب سے بولی۔
گہری سبز آنکھیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہیں تھیں۔
” مجھے اب سمجھ آیا ، بیٹاں بیٹیاں ہی ہوتی ہیں، جتنا بھی کما لیں، گھر کی کفیل بھی بن جاٸیں تب بھی وہ صرف بوجھ ہی رہتی ہیں۔“
وہ فرید کی طرف بڑھی۔
” اور بیٹے دس روپے بھی کما کر لے آٸیں، سر آنکھوں پر بٹھاۓ جاتے ہیں۔“
وہ بہتی آنکھوں سے شدت غم سے بول رہی تھی۔
” ہےنا بابا۔۔۔۔۔۔“
وہ انکا رخ اپنی طرف کرتی ہوٸی چلاٸی۔
” میں آج جو بھی ہوں فیضی کے دم سے ہوں، جو آج زندگی موت کے بیچ ہے۔“
وہ دیوانہ وار بولی۔
” ہم ان کے ایک احسان کا بدلہ بھی نہیں چکا سکتے۔“
وہ صوفے پر گر گٸ۔
” نہیں چکا سکتے۔“
وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
” آپ لوگ چند دن میں ہوا میں اڑنے لگے ہیں، پیسہ اور عزت ظرف والے ہضم کرتے ہیں، خدارا اپنا ظرف بڑا کیجیے۔“
وہ دونوں کے آگے ہاتھ جوڑتی خود کو گھسیٹتی کمرے میں بند ہو گٸ۔
سب کو چپ لگ گٸ، کوٸی ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔
” فیضی پلیز کم بیک۔۔۔۔۔۔“
وہ دروازے کے ساتھ بیٹھتے ہوۓ سر گھٹنوں پر رکھ کے رودی۔
درد تھا کہ کم ہی نہں رہا تھا، تکلیف تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔
اس نے کھینچ کے پیشانی پر جومتی بندیا اتاری اور دور پھینکی۔
ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں اتار کے دور پھینک دیں۔
گلے سے نوچ کر نیکلس اتار ، پیروں سےسینڈلز اتار کر پھینکے۔
اسے ہر چیز بے حد بری لگ رہی تھی۔
دوپٹہ کھینچتے سمے کتنے ہی بال جڑوں سے اکھڑ گیے، لیکن یہاں پرواہ کسے تھے، وہ تو پہلے ہی ازیت سے دوچار تھی۔
واش روم میں گٸ، کپڑے چینج کیے منہ دھویا اور باہر نکل آٸی۔
موبائل لیااور واپس ہاسپٹل چلی گٸ۔
ہال میں صوفے پر ندامت سے سر جھکاۓ بیٹھے فرید اور شکیلہ نے اسے جاتے دیکھا، لیکن پوچھنے کی ہمت نا کر سکے۔
نین تارا کو دنیا داٶ پہ لگی محسوس ہو رہی تھی۔
ہاسپٹل کے کاریڈور میں خاندان کے کٸ افراد موجود تھے۔
” یہ لڑکی کون ہے۔؟“
چوہدری فراز نے پوچھا۔
” پتہ نہیں۔“
چوہدری سکندرمدھم سے بولے، مبادا نین تارا پھر نا شروع ہو جاۓ۔
جاری ہے
