Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14

نین تارا فریش نے چینج کیا اور بال کنگھی کر کے پونی ٹیل بنا لی۔
خود کو آٸینے میں دیکھ مسکراتی وہ موبائل لیے باہر آگٸ۔
” باہر کھانے چلتے ہیں۔“
فیضی نے پوچھا۔
“ایز یو وش۔“
نین تارا مسکراٸی۔
” چلو پھر۔“
فیضی اٹھتے ہوۓ بولا۔
دونوں باتوں میں باہر کی طرف بڑھ گیے۔
فیضی نے ایک ریسٹورینٹ کے پارکنگ میں گاڑی پارک کی اور دونوں نکل آۓ۔
”یہ یہاں کا سب سے اچھا ریسٹورینٹ ہے ”پوائنٹ آف ٹیسٹ“۔“
فیضی اسے بتا رہا تھا اور وہ پر اعتماد سی اسکے ساتھ چلتی جا رہی تھی۔
” ہاۓ فیضی۔“
کسی کی پکار پر دونوں کے قدم تھمے۔
پیچھے مڑے تو افرا مسکراتی ہوٸی انکی طرف بڑھ رہی تھی۔
”ہاۓ۔۔۔۔ہاٶ آر یو۔“
فیضی جواباً مسکرایا۔
افرا نے نین تارا سے مصافحہ کیا۔
” کھانا کھانے آۓ ہو۔؟“
افرا نے سن گلاسسز ہٹاتے ہوۓ فیضی کی طرف دیکھا۔
” جی۔“
فیضی کو خاموش پاکر نین تارا بولی۔
” ۔انجواۓ۔“
افرا سن گلاسسز لگاتی مڑ گٸ۔
” انہیں کیا ہوا۔؟“
نین تارا چلتے ہوۓ بولی۔
” آٸی ڈونٹ نو۔“
فیضی نے کندھے اچکاۓ۔
” رٸیلی۔“
نین تارا نے شرارت سے پوچھا۔
فیضی ہنس دیا۔
کھانا آرڈر کرنے کے بعد وہ باتوں میں مگن تھے، جب فیضی کا موبائل بج اٹھا۔
” ہیلو۔۔۔ییس برو۔“
فیضی کی نظریں نین تارا پر تھیں۔
” اوکے۔۔۔۔پر کہاں۔۔؟“
فیضی بولا۔
ویٹر کھانا رکھنے لگا۔
” اوکے آٸی ول بی دیر۔“
فیضی نے مسکرا کر کہا اور فون رکھ دیا۔
” کل زونیشہ کی برتھ ڈے پارٹی ہے ”مون ریزارٹ “ میں۔“
فیضی نے بتایا۔
نین تارا نے سر ہلادیا۔
باتوں میں مگن کھانا کھا کر وہ اٹھے، فیضی نے بل پے کیا اور دونوں باہر آگیے۔
گاڑی میں بیٹھتے فیضی نے شاپنگ مال کا رخ کیا۔
” اب کہاں جا رہے ہیں فیضی۔؟“
نین تارا نے پوچھا۔
” شاپنگ کرنے۔“
فیضی سرسری سا بولا۔
گاڑی پارک کی گیضی اسکا ہاتھ تھامے چلنے لگا، حیرت سے نین تارا کی کبھی فیضی کے ہاتھ میں دبے اپنے ہاتھ کو دیکھتی تو کبھی فیضی کے چہرے پر نگاہیں رکھتی، جو بنا کسی پرواہ کے چلتا جا رہا تھا۔
فیضی نے ایک مسکراتی نظر نین تارا کی پریشان صورت پر ڈالی جو بار بار اپنے ہاتھ کو تکے جا رہی تھی، فیضی کے لیے ساری دنیا اوجھل ہو گٸ تھی۔
کپڑوں کی طرف آتے فیضی نے نین تارا کے لیے ڈارک مہرون نیٹ کی ساڑھی پسند کی۔
” یہ کیسی ہے بتاٶ۔“
فیضی نے نین تارا کی توجہ کرواٸی۔
” بہت پیاری ہے۔“
نین تارا مسکراٸی۔
” تم سے زیادہ نہیں۔“
فیضی شرارت سے مسکرایا۔
فیضی نے اپنے لیے بھی ڈارک مہرون شرٹ والا فور پیس پسند کیا، نین تارا کے لیے جوتےاور جیولری خریدی۔
” زونیشہ کے لیے گفٹ تم پسند کرو گی۔“
وہ اسے ٹواٸز والی شاپ پہ لے آیا۔
نین تارا نے ایک کیوٹ سی باربی ڈول پسند کی اور ایک ہاٶس پسند کیا۔
فیضی نے دونوں پیک کرواۓ اور مال سے نکل آۓ۔
” کل رات گیارہ بجے پارٹی ہے،تم پارلر چلی جاٶ۔“
فیضی نے کہا۔
” میں نہیں جا رہی پارٹی میں۔“
نین تارا گھبرا کے بولی۔
” کیوں۔“
فیضی نے آنکھیں دکھاٸیں۔
” آپ کی پوری فیملی ہو گی وہاں۔“
نین تارا نے کہا۔
” کوٸی تمہیں کھا نہیں جاٸیگا۔“
فیضی نے ڈپٹا۔
نین تارا نے منہ بنایا۔
فیضی نے گاڑی سیلون کے سامنے پارک کی اور نکل آۓ۔
” آٶ۔“
فیضی اسے کھینچتے ہوۓ بولا۔
سیلون کافی ہاٸی کلاس تھا۔
فیضی نے ارجنٹ اپاٸنٹمنٹ لیا اور نین تارا کو بٹھا دیا۔
” فری ہو کے کال کر دینا، میں تمہیں پک کر لوں گا۔“
فیضی سنجیدگی سے کہتا سیلون سے نکل گیا۔
بیوٹیشن نے اسکی سکن ریفریشنگ کے لیے کلینزنگ کی مینی پیڈی اور پھر اسکا ہیر کلر فریش کر دیا۔
آٸی بروز نیٹ کیے اور ماسک لگا دیا۔
دو گھنٹے میں نین تارا دمکنے لگی تھی۔
نین تارا کال کر رہی تھی لیکن فیضی کا نمبر نہیں لگ رہا تھا۔
نین تارا نے بیوٹیشن کے موبائل سے فیضی کو کال کی اور آنے کا کہا۔
فیضی دس منٹ میں پہنچ گیا۔
پیمنٹ کی اور دونوں سیلون سے نکل آۓ۔
” حسین پری لگ رہی ہو۔“
نین تارا کے کھلے بال اور دمکتی رنگت دیکھ کر بولا۔
”آپ کا نمبر نہیں لگتا فیضی۔“
نین تارا نے بات بدلی۔
فیضی نے اس کا موبائل پکڑ کے ٹراۓ کیا اور پھر اپنا موبائل دیکھا تو نین تارا بلاک تھی۔
” کب سے نہیں لگ رہا۔“
اسکا موبائل اسے تھماتے ہوۓ پوچھا۔
”آج صبح ادا سے بات ہوٸی تھی آپ کے نمبر سے، اس کے بعد سے نہیں لگ رہا۔“
نین تارا نے یاد کرتے ہوۓ کہا۔
فیضی نے لب بھینچے اور گاڑی سٹارٹ کی۔
وہ جان گیا تھا یہ حرکت کس کی ہے۔
❤❤❤
” تیری تارا کو لت لگ گٸ ہے پیسوں کی اماں، دیکھا نہیں کیسے دندناتی ہوٸی چلی گٸ۔“
فضیلہ شکیلہ کو سنا رہی تھی۔
” اب تو عزت سے ہاتھ دھو بیٹھو شکیلہ بی بی، اتنا پیسہ مفت میں نہیں لگ رہا اس پہ۔“
فضیلہ طنز سے بولی۔
” اے تیرے منہ میں خاک۔“
شکیلہ نے چولہے میں دی لکڑی نکال کے اسکے سر پر ماری۔
” وہ تیرے جیسی نہیں ہے، پڑھی لکھی ہے، اچھی طرح جانتی ہے عزت کیا ہوتی ہے۔“
شکیلہ تیز لہجے میں بولی۔
” د فع ہو جا اب۔“
شکیلہ نے بظاہر اسے لتاڑ دیا پر دل میں ہول اٹھ رہےتھے۔
روٹیاں پکا کر دستر خوان میں لپیٹیں اور کچھ سوچتے ہوۓ گھر سے نکل گٸ۔
تو قع کے عین مطابق نعمان حویلی کے ساتھ بنے ڈیرے پر بیٹھے تھے۔
” سلام صاحب۔“
شکیلہ ان کے قدموں میں بیٹھتے ہوۓ بولی۔
نعمان سے سر کے اشارےسے جواب دیا۔
” صاحب تارا سے بات کرنی تھی۔“
شکیلہ نے عرض کی جسے قبول کر لیا گیا۔
نعمان نے فیضی کا نمبر ڈاٸل کیا۔
فیضی سو رہا تھا جب موبائل بجنے پر اسکی آنکھ کھلی۔
” ہیلو۔“
نیند کےخمار میں ڈوبی آواز میں بولا۔
” نین تارا کی ماں اس سے بات کرنا چاہتیں ہیں۔“
نعمان نے کہا تو فیضی جماٸی لیتا اٹھ بیٹھا۔
” اتنی صبح ۔“
فیضی کو حیرت ہوٸی۔
” مارننگ فیضی۔“
نین تارا فریش سی جوس لیے حاضر ہوٸی۔
” مارننگ۔۔۔۔یہ لو اپنی ماں سے بات کرلو۔“
فیضی نے موبائل اسے تھمایا اور واش روم میں گھس گیا۔
” ہیلو ماں۔“
نین تارا نے کہا۔
” کیسی ہے نین تارا۔“
شکیلہ سنجیدگی سے بولی۔
” میں ٹھیک ہوں ماں، آپ کیسی ہیں۔؟“
نین تارا بولی اور اٹھ کےبالکونی میں آگٸ۔
شکیلہ نعمان سے زرا ہٹ کے بیٹھ گٸ۔
” نین تارا تو بھاگ کے آجا واپس۔“
شکیلہ مدھم آواز میں بولی۔
”کیوں؟“
نین تارا حیران ہوٸی۔
” فیضی صاحب نے تجھے بیچ دیا تو۔“
شکیلہ اہنے وہم اس پر وا کرتے ہوۓ بولی۔
”کیا ہوگیا اماں۔۔۔۔کس نے کہہ دیا تجھے یہ سب۔۔۔مجھ پر بھروسہ رکھ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔فیضی بہت اچھے انسان ہیں، یہاں میری عزت بھی محفوظ ہے اور میں بھی۔“
نین تارا تفصيل سے بولی۔
” پر یہ پیسہ کیوں لگا رہا ہے تجھ پر۔“
شکیلہ نے پوچھا۔
” وہ پھر بتاٶں گی ماں۔۔۔اب اللہ حافظ۔“
نین تارا نے کال کاٹ کے موبائل فیضی کو تھما دیا۔
❤❤❤
فیضی نے بیوٹیشن بلوا لی۔
نین تارا ساڑھی زیب تن کیے نکلی تو بیوٹیشن اسکی خوبصورتی پر ورطہ حیرت میں گم ہوٸی۔
” مجھ سے تو چلا نہیں جا رہا یہ پہن کر۔“
نین تارا روہانسی ہوٸی۔
” میم میں ٹھیک کر دیتی ہوں۔“
بیوٹیشن نے آگے بڑھ کے اسکے ساڑھی سیٹ کی اور پنز لگا دیں۔
” آپ تو بنا میک اپ کے اتنی حسین لگ رہی ہیں۔“
وہ اسے ڈریسنگ کے سامنے بٹھاتے ہوۓ بولی۔
نین تارا مسکرا دی۔
بیوٹیشن نے ناٸٹ میک اپ کیا اور اسکے بال سٹریٹ کے کے آگے ڈال دیے۔
” میم آپ سینڈل پہن لیں۔“
بیوٹیشن نے میک اپ فاٸنل کر کے کہا۔
نین تارا نے سینڈل پہنے پرفیوم سپرے کیا۔
فیضی کمرے میں داخل ہوا تو نین تارا کو دیکھ مبہوت رہ گیا۔
گولڈن آٸی میک اپ کے ساتھ ڈارک مہرون لپ اسٹک بے داغ شفاف رنگت، لانبی پلکیں جھپکتی گہری سبز آنکھیں اور مسکراہٹ میں ڈھلے پتلے لب وہ بلاشبہ مجسمہ حسن لگ رہی تھی۔
” لک لاٸک آ ڈریم پرنسس۔“
فیضی مبہوت سا بولا۔
نین تارا نے مسکرا کے سر جھکایا۔
فیضی کادل اسکی شرمیلی مسکراہٹ میں اٹک کے رہ گیا۔
بیوٹیشن کو فارغ کیا اور ساڑھے گیارہ بجے وہ لوگ ریزارٹ کے لیے نکلے۔
” فیضی اگر کسی نے کچھ کہا تو۔۔۔۔؟“
نین تارا رخ اسکی طرف موڑے بولی۔
” کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ڈونٹ یو وری یار۔“
فیضی نے اسکی گہری سبز آنکھوں میں والہانہ انداز میں دیکھا۔
نین تارا پریشانی و اضطراب سے ہاتھ مسلتی تو کبھی انگلیاں مروڑتی۔
” ریلیکس یار۔۔۔۔۔اتنی پیاری لگ رہی ہو منہ بنا کے تو نا بیٹھو۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا نے پریشانی سے اسکی طرف دیکھا۔
نین تارا کا دل سوکھے پتی کی مانند لرز رہا تھا۔
فیضی نے گاڑی ریزارٹ کی پارکنگ ایریا میں پارک کی اور اسکی طرف مڑا۔
” میں ہوں نا تمہارےساتھ۔“
فیضی نے اسکے سرد پڑتے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا۔
نین تارا نے گھبرا کر فیضی کی طرف دیکھا۔
” ریلیکس ہو جاٶ۔۔۔کوٸی کچھ نہیں کہے گا۔“
فیضی نے اسکا رخسار تھپتھپایا اور گاڑی سے نکل آیا۔
نین تارا کانپتی ٹانگوں کے سارھ گاڑی سے نکلی اور فیضی کے ہمقدم ہوٸی۔
ریزارٹ کا لان بہت عمدگی اور نفاست سے سجایا گیا تھا۔
پنک اور واٸٹ کمبینیشن ہر طرف نظر آرہا تھا۔
” چلو اس طرف زونی کو گفٹ دیتے ہیں۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا ساڑھی سنبھالتی اسکے پیچھے چلی آٸی۔
” ہیپی برتھ ڈے پرنسس۔“
بارہ بج چکے تھے۔
زونیشہ کے پاس گفٹ کا انبار لگ چکا تھا۔
” دس باربی ہاٶں اینڈ باربی ڈال از فار ماٸی لٹل باربی ڈول۔“
فیضی اور نین تارا نے اسے گفٹ تھماۓ۔
وہ فیضی کے گلے لگ گٸ۔
” اچو۔“
وہ فیضی کا منہ چومتے ہوۓ بولی۔
فیضی جہاں آرا کی طرف بڑھا۔
” السلام وعلیکم امی جان۔“
فیضی زبردستی ان کے گلے لگ گیا۔
سکندر صاحب نے اسے گلے لگالیا، سب کی موجودگی میں کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔
” یہ لڑکی کون ہے فیضی۔۔۔؟“
فاطمہ نے پوچھا۔
” یہ نین تارا ہے بھابھی۔“
فیضی نے مسکرا کر کہا۔
” نین تارا۔۔۔۔کم ہیر۔“
فیضی نے مضطرب سی کھڑہی نین تارا کو بلایا۔
” ان سے ملو یہ اریان بھاٸی کی واٸف ہیں۔“
فیضی نے تعارف کروایا۔
” اور ان کی شخصیت عنقریب کسی تفصيلی تعارف کی محتاج نہیں ہو گی۔“
فیضی نین تارا کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔
نین تارا کی نظر نعمان پر پڑی تو وہ ان سے معزرت کرتی چوہدری نعمان کی طرف بڑھ گٸ۔
السلام وعلیکم۔“
نین تار عزت و تکریم سے مخاطب ہوٸی۔
نعمان حیرت مں گم نین تارا کے حسین سراپے کو تکے گیا۔
” وعلیکم السلام۔“
نظروں کو حد میں کیے وہ سر کے جواب دے کر آگے بڑھ گیا۔
نین تارا مڑی تو سامنے شعلے برساتی نظروں سے گھورتی ارم اور ادا کو دیکھ اسکی رہی سہی جان نکل گٸ۔
فیضی نے ارم اور ادا کے ارادے کو بھانپ لیا تھا، گو کہ اسکی نظریں ان پر ہی تھیں۔
فیضی سرعت سے نین تارا کے سامنے آگیا۔
” ڈرنے کی بجاۓ کانفیڈینٹلی فیس کرو سب کو۔“
فیضی نے کہا اور ہنستا ہوا چلا گیا۔
ادا کو آگ ہی لگ گٸ۔
نین تارا نے مسکراتی نظر فیضی پر ڈالی ار ساڑھی کا پلو سنبھالتی ادا کی طرف دیکھتی وہاں سے چلی گٸ۔
” دیکھا بھابھی آپ نے فیضی نے مجھے بلایا تک نہیں۔“
ادا رونے لگی۔
” تمہیں فیضی کو مٹھی میں کرنا ہوگا، میں کچھ نہیں کر سکتی۔“
ارم وہاں سے چلی گٸ۔
ادا گنگ سے بھابھی کے بدلتے روپ کو دیکھنے لگی۔
” ہاۓ باس۔“
علی نے مخاطب کیا تو فیضی مڑا۔
” واٹ آ سرپراٸز۔“
فیضی خوشی سے بغلگیر ہوا۔
” ہیلو۔“
علی نین تارا کی طرف دیکھ مسکرایا۔
نین تارا نے مسکرا کے سر ہلایا۔
” نین تارا یہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے علی۔“
فیضی علی کے کندھے پر بازو رکھتے ہوۓ بولا۔
” ہو از دس بیوٹی کوٸین۔“
علی نے فیضی کی طرف دیکھا۔
” شی از نین تارا۔“
فیضی نے مختصر کہا اور نین تارا کو جانے کا اشارہ دیا۔
علی کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا۔
” گرین آٸیز لک اوسم۔“
علی ٹرانس میں بولا۔
فیضی کو برا لگا۔
” سٹاپ اٹ یار۔۔۔ہر لڑکی پر ٹلی مت ہو جایا کرو۔“
فیضی خفگی سے بولا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *