Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27
” تمہیں لے جانے کے لیے علی مجھے واش روم میں بند کر گیا تھا۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
” ایم سوری۔“
وہ سوں سوں کرتی بولی۔
” بات علی کی نہیں ہے، کسی پر بھی یوں اندھا اعتبار نہیں کیا جاتا، یہ گاٶں نہیں ہے، یہاں شکاری شکار کی تاک میں رہتے ہیں۔“
فیضی نرمی سے سمجھانے لگا۔
” کاش میں تمہیں بتا سکتا تارا، مجھ پہ کیا گزری تھی۔“
فیضی سوچ سکا۔
” ڈرتا ہوں اظہار محبت سے کہیں تمہارے قرب کی خواہش مجھے تم سے دور نا لے جاۓ۔“
فیضی نے گہری سانس خارج کی۔
” سو جاٶ۔“
سنجیدگی سے کہتا اسکے کمرے سے نکل گیا۔
نین تارا اپنی کم عقلی پرخود کو کوسنے لگی۔
چوہدری سکندر کی نگاہیں فیضی پر تھیں، جو نین تارا کو گاڑی میں دھکیلے گاڑی بھگا لے گیا۔
” چلو اب۔“
چوہدری سکندر نے حکم دیا تو ڈراٸیور نے گاڑی چلاٸی۔
گاڑی سے نکل کر تیز قدموں سے اپارٹمنٹ میں داخل ہوۓ۔
” وہ لے گیا اسے۔“
چوہدری سکندر صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولے۔
” ہاں لے گیا، اور مجھے مار کر بھی گیا۔“
علی پھٹ پڑا۔
چوہدری سکندر مسکرا دیے۔
” مجھے فیضان چاہیے، تم مار کھاٶ یا کچھ بھی کرو۔“
وہ سنجیدہ ہوۓ۔
علی نے سر ہلایا اور مزید سوچنے لگا۔
” اب میں سامنے سے وار نہیں کر سکتا۔“
علی کچھ سوچتے ہوۓ بولا۔
” پیچھے سے وار کرنا ہوگا، وہ بھی کڑا وار۔“
علی کے چہرے پر سوچوں کا جال تھا۔
” نین تارا اور فیضی کو الگ کر کے رہوں گا۔“
علی نے مضبوط لہجے میں کہا۔
” جس دن وہ دونوں الگ ہو گیے میں تمہیں بنگلے کے کاغذات بھجوا دوں گا۔“
چوہدری سکندر اٹھتے ہوۓ بولے۔
” ٹھیک ہے۔“
علی بھی کھڑا ہو گیا۔
چوہدری سکندر نے تھپکی دی اور اپارٹمنٹ سے نکل گیا۔
اس کی شادی کو ایک ماہ ہونے والا تھا، پر احسن کے رویے میں زرہ برابر بھی فرق نا آیا۔
ادا اسکے شکی مزاج سے تنگ آنے لگی تھی۔
” بی بی کمرےسے نکل آٶ۔۔۔۔۔“
رعنا طنزیا لہجے میں بولی۔
ادا نے نظر انداز کر دیا۔
” اکڑ اب بھی نہیں ٹوٹی محترمہ کی۔“
رعنا استہزایہ ہنسی اور کمرے سے نکل گٸ۔
” اس گھر کا ہر فرد پاگل ہے۔“
ادا چڑ کے بڑبڑاٸی۔
بالکونی میں آتے اسے احسن کی تنبیہہ یادآ گٸ۔
” تم عورت کو پیر کی جوتی سمجھتے ہو اور ہم عورتیں تمہیں سر کا تاج۔۔۔۔کتنا فرق ہے دونوں کی سوچ میں۔“
ادا بالکونی میں چلی آٸی۔
” میں کیوں برداشت کررہی ہوں اس ساٸیکو کو۔“
ادا خود سے سوال کرنے لگی۔
” میں بھاٸی کو بتاٶں گی اسکی اصلیت۔“
ادا نے فیصلہ کیا۔
سڑک پر دوڑتی احسن کی گاڑی دیکھ دل لرزا ضرور تھا، پر وہ سنبھل گٸ۔
احسن اسے دیکھ چکا تھا۔
وہ تن فن کرتا اوپر آیا۔
” ادا۔۔۔۔۔“
وہ دھاڑا۔
”بہری نہیں ہوں میں۔“
دل نے بغاوت کا فیصلہ کیا۔
” تمہاری اتنی اوقات کے زبان درازی کرو۔“
احسن اسے بالوں سے پکڑے اندر لے آیا۔
” اوقات تو تم اپنی دکھاتے ہو احسن احرام۔“
ادا پھنکاری تھی۔
احسن نے الٹے ہاتھ کا تھپڑ جڑا۔
ادا بیڈ پہ اوندھے منہ جا گری۔
ادا کا پارہ چڑھ گیا۔
” تم خود کو مرد سمجھتے ہو، لیکن میں تمہیں جاہل سمجھتی ہوں۔“
ادا چیخ کے بولی۔
احسن نے تھپڑوں کی بارش کردی۔
” تم ایک نفسیاتی انسان ہو، جسےاپنی پوجا کروانے کا شوق ہے۔“
ادا مسلسل اسکی مردانگی پر وار کر رہی تھی۔
” اپنی بکواس بند کرو، بے حیا عورت۔“
احسن دھاڑا تھا۔
” کیا ہوا۔۔۔؟“
رعنا ، نقوشہ اور احرام دوڑے آۓ۔
” اپنی اوقات دکھا رہا ہے آپکابیٹا۔“
ادا چلاٸی۔
احسن اس پر جھپٹا اور گلے دبانے لگا۔
” نومی بھاٸی۔۔۔۔۔“
ادا کا سانس رکنے لگا۔
” تم۔۔۔تمہیں ۔۔۔۔۔چھوڑیں گے۔۔۔۔نہیں۔“
اٹکتی سانسوں کے بیچ وہ بے ربطگی سے بولی۔
”احسن چھوڑو۔۔۔۔۔“
چوہدری احرام اسے کھینچ رہے تھے۔
ادا کی آنکھیں ابل آٸیں۔
چوہدری احرام نے پانی کا جگ اسکے منہ پر پھینک دیا۔
احسن ہڑبڑا کے پیچھے ہٹا۔
چوہدری احرام نے دو تھپڑ احسن کے منہ پر مارے۔
رعنا فاتحانہ انداز میں مسکراٸی اور کمرے سے نکل گٸ۔
” بھابھی۔“
نقوشہ نے ادا کو اٹھایا۔
” تم ہوش میں تو ہو۔۔۔۔۔“
چوہدری احرام غیض و غضب سے بولے۔
” ہوش میں تو اسے لا رہا ہوں۔“
احسن شعلہ بار لہجے میں بولا۔
ادا کھانس رہی تھی۔
” بھابھی پانی۔“
نقوشہ نے پانی پلایا۔
ادا کا سانس بحال ہوا تو اس نے احسن کی سمت دیکھا۔
” جس ہوش کی تم بات کرتے ہو، وہ تمہیں نومی بھاٸی دلاٸیں گے، میں لاوارث نہیں ہوں ۔۔۔“
ادا چبا چبا کے بولی۔
” ادا بیٹا گھر کے معاملات میکے میں نہیں بتاتے۔“
چوہدری احرام اسکے پاس بیٹھے۔
” معاملات۔۔۔۔۔؟؟“
ادا نے ابرو اٹھاۓ۔
” کونسے معاملات ۔۔۔۔۔ایک ماہ سے یہ سب برداشت کر رہی ہوں۔“
ادا روتے ہوۓ بولی۔
” عورت کو پیر کی جوتی سمجھتا ہے نا آپ کا بیٹا، اسے میں بتاٶں گی جب یہی جوتی سر پرلگتی ہے تو کیا بیتتی ہے۔“
ادا شعلہ بار لہجے میں بولی۔
” کیا ۔۔۔۔؟؟“
چوہدری احرام ششدر رہ گیے۔
احسن سر جھٹکتا کمرے سے نکل گیا۔
” مجھے نہیں پتا تھا، انسان کے روپ میں درندہ ہے، انتہاٸی پست سوچ، شکی مزاج، اور بے حد بری صحبت کا حامل ہو گا۔“
ادا نفرت سے بولی۔
” میں نے من پسند شادی نہیں کی ماموں جان، جو سب برداشت کرتی پھروں، اپنے ہاتھوں سے بیاہا ہے بھاٸی نے مجھے ،ایک ماہ میں نے اسکے ہر قدم کو نظر انداز کیا ہے اب نہیں۔“
ادا مشتعل لگ رہی تھی۔
وہ بیڈ سے اتری اور کمرے سے نکل گٸ۔
لینڈ لاٸن سے نعمان کا نمبر ڈاٸل کیا۔
” بھاٸی۔۔۔۔جلدی آجاٸیں۔“
ادا روتے ہوۓ بولی۔
” کیا ہوا ہے؟“
نعمان کی پریشان آواز ابھری۔
ادا وہیں زمین پر بیٹھ گٸ اور منہ پر ہاتھ رکھےپھوٹ پھوٹ کے رودی۔
” ارم۔۔۔۔۔۔“
نعمان عجلت میں حویلی آیا۔
” کیا ہوا۔۔۔۔؟“
ارم گھبرا کے کمرے سے نکلی۔
” جلدی چلو۔۔۔۔۔ادا کی کال آٸی تھی، بہت رو رہی تھی۔“
نعمان بے حد پریشان لگ رہا تھا۔
” اللہ خیر۔۔۔۔ہواکیا ہے۔؟“
ارم بولی۔
” میری چادر لاٶ جلدی۔“
ملازمہ کو حکم دیااور نعمان کے ساتھ باہر آگٸ۔
” بی بی چادر۔“
ملازمہ نے چادر تھماٸی۔
گاڑی حویلی سے نکلی اور فراٹے بھرتی دوسرے گاٶں کیطرف بڑھنے لگی۔
دس منٹ میں وہ چوہدری احرام کی حویلی میں تھے۔
دونوں عجلت میں نکلے اور اندر آۓ۔
” ادا کہاں ہے۔؟“
چوہدری نعمان نے ملازمہ سےپوچھا۔
” بی بی ہال میں گٸیں تھیں۔“
ملازمہ نے بتایا۔
” ادا۔“
ارم نے ہال میں آواز لگاٸی۔
” بھاٸی۔“ ادا روتی ہوٸی دوڑی اور اسکے سینے سے لگ کے بلک بلک کے رودی۔
نعمان دل اچھل کے حلق میں آگیا۔
” بھاٸی احسن نے۔۔۔۔“
وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔
نعمان کی زبان گنگ ہو گٸ تھی۔
بکھرےبال، روٸی روٸی سرخ آنکھیں، چہرے پر تھپڑوں کے نشان اور گلے پر تشدد کے واضح نشان تھے۔
نعمان نے اسے خود میں بھینچ لیا۔
” ارم آپی آپ۔۔۔۔۔“
نقوشہ ہال میں آٸی تو اسکا رنگ فق ہو گیا۔
” کہاں ہے احسن۔۔۔۔؟“
نعمان گرجدار آواز میں بولا۔
” ارم نے ادا کوصوفے پر بٹھایااور گلے سے لگا لیا۔
” بھاٸی تو چلےگیے۔“
نقوشہ منمناٸی۔
” رابعہ چچی کہاں ہے۔“
ارم نے بے لچک لہجے میں پوچھا۔
” وہ نانو کی عیادت کے لیے گٸیں ہیں۔“
نقوشہ آہستگی سے بولی۔
” مجھےیہاں نہیں رہنا بھاٸی۔“
ادا نعمان کے پیروں میں جا بیٹھی۔
” ادا اٹھو۔۔۔۔“
نعمان نے اسے اٹھایا۔
” بہت برا ہے احسن روز مارتا ہے۔“
ادا یچکیوں سے رو رہی تھی۔
” احرام ماموں سے کہنا، میں ادا کو لے جا رہا ہوں، جو بات ہوگی چھوٹی حویلی ہو گی۔“
نعمان سختی سے بولا اور ادا کو لیے نکل آیا۔
” تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔“
ارم ادا کی حالت دیکھ پریشان ہو گٸ تھی۔
” مجھے لگا تھا، شاید سدھر جاۓ وہ۔“
ادا رو رہی تھی۔
” بس چپ۔۔۔۔اس سے تمہارے بھاٸی نبٹ لیں گے۔“
ارم نے اسے چپ کروایا۔
ادا کی ہچکیاں نعمان کے دل میں کھب رہیں تھیں۔
” گلے پر کیسے نشان ہیں۔“
ارم نے استفسار کیا۔
” گلا دبایا تھا۔“
ادا مختصر بولی۔
ارم نے افسوس سے سر جھٹکا اور ادا کو سینے سے لگاۓ تھپکنے لگی۔
” مجھ سے خفا ہیں۔“
نین تارا جوس گلاس میں انڈیلتے بولی۔
” میں تم سے کبھی خفا نہیں ہو سکتا تارا۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” پھر بات کیوں نہیں کر رہے۔“
نین تارا منہ بناۓ بولی۔
” تم نےمجھے ہرٹ کیا ہے نین تارا۔“
فیضی صاف گوٸی سے بولا۔
” سوری کہا تو تھا۔“
نین تارا مضطرب لگ رہی تھی۔
”لاٸٹ آف کر جانا، میں سونا چاہتا ہوں۔“
فیضی اسکی بات نظر انداز کیے بولا۔
”فیضی۔“
نین تارا کی گہری سبز آنکھیں بھر گٸیں۔
فیضی نے اسکے چہرے کو دیکھا۔
دل ڈوب کے ابھرا تھا۔
” ایسے کیوں کر رہے ہیں،کیا میری غلطی ناقابل معافی ہے۔“
گہری بز آنکھوں سے ننھے قطرے گرنے لگے تھے۔
فیضی کا دل نرم پڑ گیا، ناراضگی دھواں بن کے ہوا ہو گٸ۔
” ارے۔۔۔رو کیوں رہی ہو۔“
فیضی نے اسکے آنسو صاف کیے۔
” آپ رُلا رہے ہیں۔“
وہ معصومیت سے بولی۔
” میں ایسا کر سکتا ہوں کیا۔“
فیضی نے الٹا سوال داغا۔
” آپ ایسا کر رہے ہیں۔“
نین تارانے جتایا۔
” نہیں کر رہا، نا کر سکتا ہوں۔“
فیضی نے یقین دلایا۔
” روتی ہوٸی بلکل بھی اچھی نہیں لگتی۔“
فیضی نے منہ بنا کے کہا۔
نین تارا اسکے انداز پہ ہنس دی۔
” گڈ گرل۔۔۔۔جاٶ اب مجھے سونے دو۔“
فیضی نے جماٸی لی اور چادر کھینچ لی۔
نین تارا مطمئن سی کمرے سے نکل گٸ۔
ارم اسے اسکے کمرے میں لے آٸی۔
” تم فریش ہو جاٶ، میں کچھ کھانے کو بھجواتی ہوں۔“
ارم مسکرا کے بولی۔
” مجھے بھوک نہیں۔۔۔۔“
ادا مدھم سا بولی۔
” کیوں۔۔۔؟“
ارم نے ابرو اچکاۓ۔
ادا نے گہری نظروں سے بھابھی کو دیکھا، جیسے کہہ رہی ہو آپ کو کچھ پتہ نہیں۔
” ٹھیک ہے پھر تم سو جاٶ، میں نیند کی گولی بھجوا دیتی ہوں۔“
ارم نے کہا تو ادا نے سر ہلایا۔
ملازمہ گولی اور دودھ کا گلاس لیے آگٸ۔
ادا نےگولی نگلی اور پردے برابر کرنے کا حکم دیے لیٹ گٸ۔
گولی نے جلد ہی اپنا اثر دکھایا اور وہ دنیا سے بیگانہ ہو گٸ۔
” ادا کہاں ہے۔۔۔؟“
نعمان نے پوچھا۔
” گولی دے کر سلا دیا ہے، بہت ڈسٹرب لگ رہی تھی۔“
ارم نے سنجیدگی سے کہا۔
”آپ بڑی حویلی میں خاندانی پنچاٸت رکھوا لیں، احسن کو سبق سکھانا چاہیے۔“
ارم نے مشورہ دیا۔
” ہوں۔”
نعمان پرسوچ لہجے میں وبولا۔
” فیضی کا شک صحیح تھا اس دن۔“
نعمان آہستگی سے بولا۔
” کیسا شک۔۔۔۔؟“
ارم نے پوچھا۔
” احسن کے بارے میں کہہ رہا تھا، نفسیاتی ٹاٸپ انسان ہے۔“
نعمان نے گہری سانس لی۔
”میں نے فیضی کی ضد میں جلدبازی کر دی۔“
نعمان کو سخت افسوس ہوا۔
ارم خاموش رہی۔
” ادا کی زندگی برباد کردی۔“
نعمان سر ہاتھوں میں گراۓ افسردہ لگ رہا تھا۔
” پریشان نہ ہوں، جو قسمت میں لکھا ہے وہی ہونا ہے۔“
ارم نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا۔
” قسمت کو دوش بزدل لوگ دیتے ہیں، جن میں اپنی غلطی، اپنا قصور ماننے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔“
نعمان سنجیدگی سے بولا۔
” اب ادا واپس جاۓ گی یا طلاق لے گیں۔؟“
ارم نے سوالیہ انداز میں اسکے پریشان چہرے کو دیکھے۔
” پتہ نہیں۔۔۔۔۔طلاق لینا ہمارے خاندانی رسم و رواج کے خلاف ہے۔“۔
نعمان پریشان لگ رہا تھا۔
” مجھے نہیں لگتا، ادا واپس جانے کے لیے راضی ہوگی، دیکھا نہیں کتنا تششد کیا ہے اس پہ۔“
ارم کو احسن پہ سخت غصہ آرہا تھا۔
” ادا میری بہنوں کی طرح ہے، میں نے اسے کبھی نند نہیں سمجھا، میرا دل نہیں چاہتا اسے بھیجنے کو، باقی جو آپ کا فیصلہ۔“
ارم وہاں سے چلی گٸ۔
نعمان سر صوفے کی پشت سے لگاۓ عمیق سوچ میں گم ہو گیا۔
جاری ہے
