Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36

” یہ سب کیا ہو رہا ہے۔؟“
وہ شدید پریشان لگ رہی تھی۔
” بابا کی بات مانوں یا فیضی کی۔۔۔۔۔؟“
وہ اٹھ کے کھڑکی میں آگٸ۔
” فیضی کےمجھ پر بہت احسانات ہیں۔“
دل نے فیضی کے حق میں دلیل دی۔
” اس نے مجھے دنیاکے سامنے کھڑا ہونا سکھایا، مجھے جینا سکھایا۔“
وہ سوچتے ہوۓ ہال میں آگٸ، جہاں تینوں بیٹھے “ بلبلے“ دیکھ دیکھ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔
نین تارا نے ٹی وی کا والیم کم کیا اور انکی طرف متوجہ ہوٸی۔
” بابا مجھے کچھ بات کرنی ہے۔“
وہ فرید سے مخاطب تھی۔
” بولو۔“
وہ ہمہ تن گوش ہوۓ۔
” آپ اس رشتے سے انکار کر دیں، وہ اچھے لوگ نہیں ہیں۔“
نین تارا نے ہمت کر کے بول ہی دیا۔
” میں نے توہاں کر دی ہے، اگلے ہفتے منگنی ہے، تمہیں بتانا تھا، تم بنا سنے اندر چلی گٸ۔“
وہ سادگی سے اسکا چہرہ دیکھتے ہوۓ بولے۔
” تم کچھ زیادہ ہی ماڈرن نہیں ہو گٸ، اب ابا تمہاری وجہ سے اپنی زبان سے پھریں گے۔“
فضیلہ نے نخوت سے کہا۔
” میرے معاملے میں مت بولو۔“
نین تارا نے ڈپٹا۔
” میں اب زبان دے چکا ہوں، ویسے بھی چوہدری سکندر صاحب۔۔۔۔“
وہ بتا رہے تھے۔
”چوہدری سکندر کون ہوتا ہے، ہمارے معاملات میں بولنے والا، اس نے کہا اور آپ نے مان لیا۔“
نین تارا بھڑک اٹھی۔
” منگنی کے سارے انتظام وہی کریں گے۔“
فضیلہ نے لقمہ دیا۔
” آپ نے مجھ سے پوچھا تک نہیں۔۔۔۔“
نین تارا بلند آواز میں بولی۔
” تمہارا باپ ہوں، تمہاری زندگی کا فیصلہ لے سکتا ہوں۔“
فرید سادگی سے سنجیدہ لہجے میں بولا۔
” چوہدری سکندر آپ کو استعمال کر رہا ہے، اپنٕے مقصد کے لیے۔۔“
نین تارا نرمی سے انہیں سمجھانے کے لیے بیٹھی۔
” سکندر صاحب کا نام عزت سے لو۔“
شکیلہ نے لتاڑا۔
” بھاڑ میں جاۓ چوہدری سکندر، ہمارے گھر راشن نہیں بھجواتا اب۔“
وہ بھڑک اٹھی۔
” اس جیسا کمینہ انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔“
وہ مشتعل ہو کہ بولی۔
” بکواس بند کرو نین تارا۔“
شکیلہ گرج کے بولیں۔
” میں اس نمیر سے شادی نہیں کروں گی، ہر گز نہیں۔“
وہ شعلہ بار لہجے میں کہتی مڑنے لگی تھی۔
” رکو نین تارا۔“
فرید نے سنجیدگی سے کہا۔
” اس پر پیر رکھ کے گزر جاٶ، اگر میری زبان کی تمہاری نظر میں کوٸی وقعت نہیں۔“
فرید نے اپنے سر کی پگڑی نین تارا کے قدموں میں رکھ دی۔
” بابا۔“
نین تارا کی آنکھیں پھٹی رہ گٸیں۔
” وہ اس معاملے کو سدھارنے آٸی تھی، پر حد سے زیادہ بگڑ چکا تھا۔
”آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔“
وہ ششدر سی بولی۔
” آپ کے لیے زبان میری زندگی، میری خوشی سے زیادہ اہم ہے۔“
وہ پھٹ پڑی تھی۔
” چوہدری سکندر نے آپ کو اپنے جال میں پھنسایا ہے بابا۔“
وہ روتے ہوۓ چلاٸی۔
” میں اسلیے آپ کو یہاں نہیں لاٸی تھی، میری زندگی برباد کر کے رکھ دیں۔“
وہ روتے ہوۓ بولی اور سر ہاتھوں میں گراۓ صوفے پر گری۔
” چوہدری سکندر تمہارا بیڑا غرق ہو۔“
وہ بد عاٸیں دیتی کمرے میں چلی آٸی۔
موبائل لیا اور گھر سے نکل آٸی۔
” مجھے آپ سے ملنا ہے۔“
فیضی کو ٹیکسٹ کیااور سڑک پر دھیرے دھیرے چلنے لگی۔
کچھ دیر میں فیضی کی گاڑی اسکے برابر آرکی۔
وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گٸ۔
” تم روٸی ہو۔۔۔؟“
فیضی سڑک پر دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔
” بابا نے پرپوزل ایکسیپٹ کر لیا ہے۔“
وہ بھیگے لہجے میں بولی۔
فیضی نے یکدم بریک لگاٸی۔
” تم نے انکار نہیں کیا۔؟“
فیضی نے سختی سے سٹیرنگ پر ہاتھ جماۓ۔
” کیا تھا، بابا نے میرے پیروں میں اپنی پگڑی رکھ دی، میں کیا کرتی فیضی۔“
وہ سر ہاتھوں میں گراۓ رونے لگی۔
” اتنی جلدی بنا دیکھے ، اقرار کردیا۔“
فیضی شاک سا بولا۔
” یہ سب آپ کے بابا کا کارنامہ ہے۔“
نین تارا پھٹ پڑی۔
” اسنے ہاں کرواٸی ہے بابا سے ، منگنی کے انتظام ڈیٹ تک سب فاٸنل کروایا ہے۔“
وہ روتے ہوۓ چیخی۔
” تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے تو کیوں اتنا دکھ ہو رہا ہے۔“فیضی نے اسکی گہری سبز رنگ آنکھوں میں گھورا۔
نین تارا نے رخ موڑ لیا۔
”نین تارا میں کچھ پوچھ رہا ہوں“
فیضی نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔
” مجھے آپ کے سامنے بھی الفاظ کا سہارا لینا پڑے گا۔“
وہ الٹا سوال کر گٸ۔
فیضی لاجواب ہو گیا۔
نین تارا گاڑی سے اتر گٸ۔
” بابا جان آپ نے اچھا نہیں کیا۔“
وہ گاڑی آگے بڑھاتا ہوا بولا۔
” پہلے اس صاٸم کا کچھ کر لوں، پھر دیکھتا ہوں اس نمیر کو بھی۔“
وہ ہلکاپھلکا سا ہوگیا تھا۔
❤❤❤
احسن کا بخار جوں کا توں تھا۔
فیضی سے اسکی بات کبھی کبھار ہو رہی تھی۔
” ایک دفع یہاں سے نکل جاٶں، سب سے معافی مانگ لوں گا۔“
وہ ندامت سے سوچ رہا تھا۔
❤❤❤❤
” مسٹر علی یزدانی تین دن کے اندر آپ نے لان سبمٹ نہیں کروایا تو آپ کا اپارٹمنٹ آپ کا نہیں رہے گا۔“
بینک سے کال تھی۔
علی کو جھٹکا لگا۔
” اوہ نو۔۔۔۔۔تین دن رہ گیے۔“
وہ سر پکڑے رہ گیا۔
”مجھے پیسے چاہیے۔“
باپ کے سامنے کھڑا ہوا۔
” کتنے۔“
ہاشم یزدانی نے اسے دیکھا۔
” اتنے۔“
اماٶنٹ کاغذ پر لکھی تھی۔
” اتنے پیسے کیا کرنے ہیں۔“
وہ تحیر سے اسے دیکھ رہے تھے۔
” چاہیے ہیں۔“
علی رکھاٸی سے بولا۔
” میں نے پراجیکٹ میں لگا دیے ہیں، اب اتنی بڑی رقم نہیں ہے اس سے کم لے لو۔“
ہاشم یزدانی نے رسانیت سے کہا۔
” بھیک مانگنے نہیں آیا ہاشم یزدانی، اس بزنس میں میرے باپ کا بھی حصہ تھا۔“
چبا چبا کے کہا۔
” میں بھی تمہارا باپ ہوں علی۔“
ہاشم نرمی سے بولا۔
” میرا باپ صرف عاصم یزدانی تھا۔“
نخوت سے کہتا آفس سے نکل گیا۔
” اور کون ہو سکتا ہے جو اتنی رقم دے دے۔“
علی سوچنے لگا۔
مایوس سا وہ سڑک کنارے چلنے لگا۔
ہاشم یزدانی اسکا چچا تھا، عاصم یزدانی کی موت کے بعد المیرا کا نکاح ہاشم سے ہو گیا۔
ان کے دو ہی بچےتھے، رافع اور معیز۔
تین دن کے بعد اسکا اپارٹمنٹ بینک کے قبضے میں چلا گیا۔
وہ سخت پریشان تھا۔
سڑک پر آوارہ گردی کرتے اسکی نظر پب پر پڑی۔
وہ اندر داخل ہو گیا۔
پب میں نوجوان جوڑے رقص کر رہےتھے، میوزک اتنا ہاٸی تھا کہ کان پڑتی آواز سناٸی نہیں دےرہی تھی۔
علی ٹیبل پر جا بیٹھا اور گلاس بھر جام اندر اتارنے لگا۔
کچھ ہی لمحوں میں ٹن ہو گیا تھا۔
پریشانی بھولے وہ دیوانوں کی طرح جھومنے لگا۔
❤❤❤
” بتاٶ احسن کے ڈاکومنٹس کہاں ہیں۔“
فیضی سیدھا صاٸم کے آفس جا پہنچا۔
” مجھے کیا پتہ۔؟“صاٸم یکسر انجان بنا۔
” بھولے ہوۓ کو یادکروانا آتا ہے مجھے صاٸم۔“
ٹیبل پر ہاتھ ٹکاۓ اسکی آنکھوں میں دیکھتے سختی سے گویا ہوا۔
”دیکھو فیضان سکندر۔۔۔۔“
صاٸ نے بات شروع ہی کی تھی۔
” دیکھنے کاوقت نہیں ہے، جلدی ڈاکومنٹس نکالو۔“
فیضی نے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔
” تم میرے آفس میں کھڑے ہو۔“
صاٸم نے یاد دلایا۔
” تو تم شرافت سے نہیں مانو گے۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
فیضی نے اسے کالر سے جا پکڑا۔
”بتاتے ہو یا کروں عزت افزاٸی۔“
فیضی نے کالر کو جھٹکا دیا۔
” چھوڑو مجھے۔“
صاٸم نے چھڑوانے کی سعی کی۔
فیضی نے ہاتھ گھما کے اسکے منہ پر مکہ رسیدکیا۔
وہ کرسی سمیت پیچھے جا گرا۔
کالر سے پکڑ کے اٹھایا۔
” میں پولیس کو بلاتا ہوں۔“صاٸم نے دھمکی دی۔
” ہاں بلاٶ۔۔۔۔۔پھر تمہارے ہوٹلزکے پول میں کھولوں گا۔“
فیضی شانے اچکا کے بولا۔
اسکا فون کی طرف بڑھتا ہاتھ رک گیا۔
” مطلب۔۔۔۔؟“
صاٸم نے اسے دیکھا۔
” مطلب کہ ہوٹل کا بچا کھانا کیسے پھر سے نیے کھانے میں ڈال دیتے ہو، کھانا خراب ہونے سے بچانے کے لیے کونسا پاٶڈر استعمال کرتےہو وہ پاٶڈر کتنا نقصان دہ ہے اور۔۔۔۔۔۔۔شراب نوشی بھی کرواٸی جاتی ہے۔“
فیضی سینے پر ہاتھ باندھی مزے سے بولا۔
صاٸم کارنگ فق ہو گیا۔
” میں مکمل تیاری سے آیاہوں، ہر بات کا پروف بھی ہے میرے پاس۔“
فیضی ہنسا۔
صاٸم ٹیبل کے نیچے جھکا اور دراز کا لاک کھولے فاٸل نکالی۔
” یہ لو۔“
فاٸل ٹیبل پر پھینکنے کے انداز میں رکھی۔
” گڈ چواٸس۔۔۔۔۔پر چوہدریوں سے پنگا لینا ٹھیک نہیں۔“
فیضی نے افسردگی سے اسے دیکھا اور نکل گیا۔
فیضی نے حویلی سے ملاز م منگوایا اور اسے احسن کا پتہ دے کر آسٹریلیا بھیجا۔
❤❤❤
” کہاں گٸ تھی۔“
شکیلہ کا تفتیشی شک بھرا انداز۔
فضیلہ مزے سے بیٹھی لیز کھا رہی تھی۔
” کیامطلب۔۔۔۔؟“
نین تارا تحیر اور غصےسے انکے پاس آٸی۔
” کس کے ساتھ گٸ تھی گاڑی میں۔“
وہ رکھاٸی سے بولیں۔
” فیضی تھا۔“
مختصر مگر غصے میں چبا کے کہتی کمرے میں چلی گٸ۔
” دکھا دی نا اپنی اوقات۔۔۔۔پتہ نہیں کس کس کے ساتھ مبہ کالا کرتی پھر رہی ہے۔“
فضیلہ نے بھڑکایا۔
نین تارا کھڑکی میں آگٸ۔
” مجھے اس نمیر نامی گدھے سے شادی کرنی ہو گی۔“
وہ مطمئن نہیں تھی۔
دل بغاوت کا ارادہ رلھتا تھا۔
” فیضی میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی، پلیز کچھ کریں۔“
فیضی کو ٹیکسٹ کدیا۔
” پریشان مت ہو، جب تک فیضی زندہ ہے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔“
فیضی کا میسیج فوراً ملا۔
”تھینکس۔“
لب مسکراہٹ میں ڈھل گیے، دل میں قطرہ قطرہ کون اترنے لگا۔
” مجھے یقین ہے آپ کچھ نا کچھ کر لیں گے۔“
کھڑکی پر ہاتھ رکھے یقین سے مسکراٸی۔
” چوہدری سکندر اس بڑھاپے میں بھی تجھے سکون نہیں۔“
وہ نفرت سے پھنکاری۔
چوہدری سکندر کا نمبر ڈاٸل کیا۔
”ہیلو۔۔۔۔۔نین تارا بات کر رہی ہو۔“
پورے اعتماد سے بولی۔
” تمہیں کیا لگا تھا چوہدری میرے باپ کو فورس کر کے میری شادی کروا دو گے۔“
وہ استہزایہ ہنسی۔
” تم بھول رہے ہو چوہدری تمہارا بیٹا بھی تمہاری طرح ضدی ہے۔“
وہ پھر سے ہنسی تھی۔
چودری سکندر نے لب بھینچ لیے۔
” وہ مجھے کسی کا ہونے نہیں دے گا، یہ میرا یقین ہے اس پہ۔“
وہ مزے سے بولی تھی۔
” میں تم دونوں کا ایک ہونے نہیں دوں گا۔“
چوہدری سکندر چبا چبا کے بولا۔
” اوہ اچھا۔۔۔۔کیا واقعی۔“
نین تارا نے ایکٹنگ کی۔
” پر سن چوہدری۔۔۔۔۔“
نین تارا سنجیدہ ہوٸی۔
چہرے پر بلا کی سنجیدگی اور سختی در آٸی۔
گہری سبز آنھوں میں اشتعال کی لہریں تھیں۔
” میں تمہیں چیلنج کرتی ہوں، یہ رشتہ ٹوٹ کر رہے گا۔“
ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی۔
چوہدری سکندر ہنسا۔
” ہنس لو، پھر شاید رونا پڑے۔“
نین تارا نے کال کاٹ دی۔
چوہدری سکندر نے موبائل اٹھا کے زمین پر مارا۔
” بالشت بھر چھوکری کی اتنی جرأت۔“۔
کندھے سے چادر اتار کر بیڈ پر اچھالی۔
ہاتھ پیچھے باندھے چکر کاٹنے لگے۔
” ایک دفعہ منگنی ہو جاۓ، تین دن میں بیاہ نا کروایا تو کہنا۔“
چوہدری سکندر مشتعل لگ رہے تھے۔
” باجی کھانا ریڈی ہے۔“
ملازمہ نے کہا، اسے احساس ہوا صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔
وہ ٹیبل پر آگٸ۔
” مجھے کچھ پیسے چاہیے باجی۔“
زرینہ نےکہا۔
” کتنے۔“
نین تارا نے سرسری سا پوچھا۔
” دس ہزار۔“
زرینہ اس سے مخاطب تھی۔
” تنخوہ سے اوپر ایک ٹکانہیں ملے گا۔“
شکیلہ تڑخ کر بولی۔
” اماں۔“
نین تارا نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
” مل جاٸیں گے زرینہ باجی،آپ جاٸیں۔“
نین تارا مسکرا کے بولی۔
” دو مہینے کی تنخواہ پہلے ہی دے دو گی۔“
وہ نین تارا پر برسیں۔
” اماں وہ ہماری طرح جدی پشتی ملازم نہیں ہیں، جو پانچ ہزار مہینے کالیتے ہوں۔“
نین تارا کھانا چھوڑ سنجیدگی سے بولی۔
” بیس ہزار تنخواہ ہے اسکی۔“
نین تارا نے کہا اور چپ چاپ کھانے لگی۔
” بیس ہزار۔۔۔۔؟“
انکا منہ کھل گیا۔
” ہمیں تو کبھی ایک پیسہ نہیں دیا تم نے۔“
فضیلہ منہ بنا کے بولی۔
” تم لوگوں کی ضرورت کی ہر چیز گھر میں مہیا ہے۔“
نین تارا سنجیدگی سے بولی۔
” ہونہہ۔“
فضیلہ نے سر جھٹکا۔
” بہتہی نا شکرا ہے انسان۔“
نوالہ میں رکھتے نین تارا سوچ سکی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *