Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39

” السلام وعلیکم۔“
سر جھکاۓ شرمندہ سا ان کے سامنے جا بیٹھا۔
” مجھے معاف کر دیں بابا جان۔“
سر جھکاۓ آبدیدہ ہوا۔
گھر کے چاروں نفوس حیرت سے اسے دیکھےگۓ، جس کی گردن ہمہ وقت تنی رہتی تھی، آج جھک گٸ تھی۔
” وعلیکم السلام۔“
چوہدری احرام نے اسکہ سر پر دست شفقت رکھا اور اسے مسکرا کے سینے سے لگا لیا۔
رابعہ بیگم خوشی سے مسکراٸیں، دیر آۓ درست آۓ۔
وہ اٹھ کے رابعہ کے گلے لگ گیا۔
” جاٶ بھاٸی کا کمرہ کھلواٶ۔“
رابعہ رعنا سے مخاطب ہوٸی۔
” پہلے ادا کو لے آٸیں۔۔؟“
وہ جھجھکتے ہوۓسوالیہ انداز میں بولا۔
” کچھ آرام کر لو، شام میں چلتے ہیں۔“
چوہدری احرام نے کہا تو وہ سر ہلاتا اٹھ گیا۔
”نقوشہ بھاٸی کا کھانا کمرے میں بھجوا دو۔“
رابعہ نے کہا تو نقوشہ کچن کی طرف بڑھ گٸ۔
احسن زینے چڑھتا کمرے میں آیا تو آنکھیں نمیکن پانیوں سے بھر گٸیں۔
” بے شک غرور کا سر نیچا ہے۔“
وہ بیڈ پربیٹھتے نم آنکھوں سے بولا۔
نقوشہ کھانے کی ڈش تھامے کمرے میں داخل ہوٸی۔
” بھاٸی کھانا۔“
نقوشہ ڈش تھامے کھڑی تھی۔
” رکھ دو گڑیا۔“
وہ مسکرا کے بولا اور کپڑے نکالے واش روم میں چلا گیا۔
فریش ہو کے نکلا اور بیڈ پر پڑی ڈش کے قریب جا بیٹھا۔
” کتناترس گیا تھا چند نوالوں کے لیے۔۔۔۔“
وہ سوچ سکا اور کھانا کھانے لگا۔
ڈش ساٸڈ پر رکھے وہ لیٹ گیا، بستر کی نرمی نے سکون بخشا اور وہ نیند میں گم ہو گیا۔
❤❤❤
نین تارا ہاسپٹل آٸی تو اریان اسکے پاس موجود تھا۔
” السلام وعلیکم۔“
کمرے میں داخل ہوتے اس نےمشترکہ سلام کیا۔
فیضی کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا۔
اریان اسکے لیے ناشتہ نکال رہا تھا۔
” لاٸیں میں کروا دوں ناشتہ۔“
نین تارا مسکراتے ہوۓ بولی تو اریان نے برتن اسکی طرف بڑھا دیے۔
” آپ ناشتہ کروا دیں، میں زرا ڈاکٹر سے مل لوں۔“
اریان نرمی سے بولا، نین تاارا نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ کمرے سے نکل گیا۔
نین تارا اسے ناشتہ کروانے لگی۔
“ نین۔“
نین تارا برتن لے کر پلٹی تھی جب فیضی نے پکارا۔
” جی۔“
نین تارا نے پلٹ کر دیکھا۔
” آج ڈسچارج ہو جاٶ ں گا میں۔“
فیضی بات کرنے کی تمہید باندھ رہا تھا۔
” جی جانتی ہوں، بہت اچھی بات ہے۔“
وہ برتن پیک کرتی مسکراٸی۔
” اب تو تم مجھے انکار نہیں کرو گی نا۔؟“
فیضی کی نظریں اس پر ہی ٹکیں تھیں۔
” آپ کو کیا لگتا ہے؟“۔
وہ الٹا سوال کر گٸ۔
” مجھے تو تب بھی یہی لگتا تھا، تم انکار نہیں کرو گی لیکن۔۔۔“
فیضی نے لب بھینچے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
” ایم سوتی فار دیٹ۔“
نین تارا سنجیدگی سےبولی۔
” میں بابا سے بات کروں گا۔“
فیضی نےہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ تھاما۔
” جیسے آپکی مرضی۔“
نین تارا مسکراٸی اورہاتھ چھڑواتی بیٹھ گٸ۔
”تم خوشی سے کہہ رہی ہو یا احسان مند ہو کر۔“
فیضی نے اسکی گہری سبز آنکھوں میں دیکھا۔
” میں خوش ہوں، لیکن لبھی چوہدری خاندان مجھے قبول نہیں کرے گا۔“
وہ سر جھکاۓ بولی۔
” مجھے پرواہ نہیں کسی کی۔“
فیضی نے رخ موڑ لیا۔
” آدھے گھنٹے میں تمہیں ڈسچارج کر دیا جاۓ گا، پیپر ورک کمپلیٹ کر دیا ہے میں نے۔“
اریان اندر آتے ہوۓ بولا۔
دونوں خاموش رہے۔
❤❤❤❤
نین تارا فیضی اور اریان کے ساتھ فیضی کے گھر چلی آٸی۔
چوہدری سکندر ارم اور جہاں آرا ناشتے میں مصروف تھیں۔
نین تارا نے سلام کیا۔
” مجھے کمرے میں جانا ہے۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا اسے تھامے اسکے کمرے کی طرف بڑھی۔
” مجھ سے ابھی تک خفا ہے۔“
چوہدری سکندر نے گہرا سانس لے کر چمچ پلیٹ میں رکھا۔
” خفا ہے کیوں۔؟“
ارم نے ابرو اچکاۓ۔
” پتہ نہیں۔“
چوہدری سکندر نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
” حیرت ہے۔“
ارم شانے اچکاۓ دوبارہ ناشتے میں مصروف ہو گٸ۔
” تھینکس تارا۔“
فیضی مشکور سا بولا۔
” ضرورت نہیں۔۔۔۔“
نین تارا نرمی سےمسکراٸی۔
” یہ فیضی سر کے لیے جوس۔“
شازیہ نے جگ ساٸڈ ٹیبل پر رکھا۔
” ٹھیک ہے، نین تارا میڈیسن چیک کر رہی تھی۔
” جوس دوں۔؟“
نین تارا میڈیسن نکالے ایک ساٸڈ پر رکھیں اور جوس ڈال کے اسکی طرف بڑھایا۔
” میرے پاس رک جاٶ۔“
فیضی نے اسکی طرف دیکھا۔
” اچھا نہیں لگتا، آپکے والدین رکے ہوۓ ہیں یہاں۔“
نین تارا میڈیسن اور پانی دیتے ہوۓ بولی۔
فیضی چپ ہو گیا۔
نین تارا دروازہ بند کیے کمرے سے نکل آٸی۔
” جا رہی ہو نین تارا۔“
ارم نے اسے روکتے ہوۓ پوچھا۔
” جی۔“
نین تارا نے مسکرا کے جواب دیا اور ساٸڈ سے ہوتی نکل گٸ۔
ارم نے مڑ کے اسے دیکھا۔
” خود کو برباد کر لیا ہے اسے آباد کر دیا فیضی نے۔“
ارم سوچ رہی تھی۔
” مجھ سے کیوں خفا ہو فیضیان۔“
چوہدری سکندر اسکے پاس بیڈ پر جا بیٹھے۔
” آپ نے نین تارا کی شادی کروانا چاہی، سب جانتے ہوۓ بھی۔“
وہ رخ موڑے نروٹھے پن سے بولا۔
” وہ تمہارے قابل کہاں ہے فیضی۔“
وہ اسکا چہرہ اپنی طرف موڑتے ہوۓ بولے۔
” بابا پلیز، وہ بہت اچھی ہے۔“
فیضی نے زور دیا۔
” ہمارے خاندان میں اسکی اجازت نہیں۔“
وہ اسے سمجھانے لگے۔
” مجھے خاندان کی پرواہ نہیں۔“
وہ انکا ہاتھ ہٹاتے پھر سے چہرہ موڑ گیا۔
” رعنا اتنی پیاری ہے، احرام نے خود کہا ہے۔“
وہ اسے منا رہے تھے، بیٹے کی ناراضگی نے تھوڑا موم کر دیا تھا۔
” مجھے نین تارا چاہیے بس۔“
وہ ضدی لہجے میں بولا۔
” یہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا، سمجھے تم۔“
جہاں آرا اندر آتے ہوۓ بولیں۔
” بیگم آپ تو خاموش رہیے۔“
چوہدری سکندر خفگی سے بولے۔
” بیٹا انکے اور ہمارے معیار میں بہت فرق ہے، وہ ہمارے بیچ اٹھ بیٹھ نہیں سکے گی۔“
چوہدری سکندر نرمی سے سمجھانے لگے۔
” اب اسکا اور ہمارا معیار ایک ہو تو گیا ہے بابا۔“
فیضی نے انکی طرف دیکھا۔
” ہم خاندانی لوگ ہیں۔“
جہاں آرا اسکے پاس بیٹھ گٸیں۔
” مجھے نیند آرہی ہے۔“
وہ خاٸف ہوتا کمبل منہ پر لیتا لیٹ گیا۔
چوہدری سکندر نے تاسف سے دیکھا۔
” وہ اب ضد میں آگیا ہے۔“
چوہدری سکندر لاٶنج میں صوفے پر آبیٹھے۔
” نین تارا کو روک دیتے ہیں، دوبارہ یہاں نا آۓ۔“
جہاں آرا نے مشورہ دیا۔
” اونہہ۔۔۔۔وہ مزید بھڑک جاۓ گا، پہلے ہی ضد میں اپنا ایکسیڈینٹ کروا چکا ہے۔“
چوہدری سکندر پریشان دکھ رہے تھے۔
” نین تارا سے بولو، جتنے پیسے لینے ہے لو، فیضی کو انکار کردو۔“
جہاں آرا بیگم بولیں۔
” اونہہ۔۔۔۔وہ لالچی نہیں ہے۔“
چوہدری سکندر بولے۔
” مروا دو پھراس مصیبت کو۔“
جہاں پرا تلخ ہوٸیں۔
” بات تو ٹھیک ہے۔“
وہ چونکے۔
جہاں آرا بیگم نے سر اٹھایا تو چوہدری سکندر مسکرا رہے تھے۔
❤❤❤
بکھرےبال ملگجے کپڑے ، آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے، بڑجی ہوٸی شیو۔۔۔۔۔۔وہ لڑکھڑاتا ہوا چلتا کہیں سے بھی علی یزدانی نہیں لگ رہا تھا۔
سڑکوں پر گشت کر رہا تھا جب ہاشم نے اسکےقریب گاڑی روکی۔
” علی۔۔۔۔“
وہ اسے پکڑ کے گاڑی میں بٹھاتے ہوۓ بولے۔
” مجھے چھوڑو۔“
وہ لڑکھڑاتے لیجے میں بولا۔
نشے کی زیادتی سے ہمت مفقود ہو رہی تھی۔
❤❤❤
” اس لڑکی کو اڑانا ہے، یہ اسکی گاڑی کا نمبر ہے۔“
چوہدری سکندر اس آدمی سے بولے۔
” ہو جاۓ گا۔“
وہ دانتوں کی نماٸش کرتے ہوۓ بولا۔
” کام ہوجانا چاہیے، پیسے تمہیں مل جاٸیں گے۔“
چوہدری سکندر گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولے اور چلے گیے۔
اس نے غور سے تصویر دیکھی اور گاڑی اس ایڈریس کی طرف موڑ لی
❤❤❤
” نین تارا کمرشل آفر ہے ، کیا خیال ہے۔“
مس عالیہ نے اسے کہا۔
”اوکے کردو۔“
نین تارا مسکراٸی۔
” ٹھیک ہے صبح چلیں گے۔“
مس عالیہ اٹھتے ہوۓ بولی۔
”میں ڈرائيور سے کہتی ہوں آپ کو چھوڑ آتا ہے۔“
نین تارا اسکے ساتھ ہولی۔
” مس عالیہ کو انکے گھر ڈراپ کردیں شاداب۔“
ڈراٸیور کو کہہ کے وہ ان سے مصافحہ کرتی اندر آگٸ۔
عجیب بے کلی سے محسوس ہونے لگی تھی۔
” فیضی کو کال کر لیتی ہوں۔“
وہ نمبر ڈاٸل کرتی کمرے میں آگٸ۔
” کیسی طبعیت ہے۔“
نین تارا کھڑکی میں آگٸ۔
” مریض عشق کی دوا محبوب ہوا کرتے ہیں، جب جب تم پاس ہو گی میں ٹھیک رہوں گا۔“
فیضی وارفتگی سے بولا۔
نین تارا ہنس دی۔
” اڑا لو مزاق۔“
فیضی خفا ہوا۔
”نہیں ۔۔۔۔ہنسی اس لیے کے آپ کے منہ سے ایسی باتیں عجیب لگ رہی ہیں۔“
نین تارا ہنستے ہوۓ بولی۔
” کیوں۔“
فیضی احیرت سے بولا۔
” مجھے لگرا ہے یہ فلرٹی لوگوں کے کام ہیں۔“
وہ بیڈ پہ آبیٹھی۔
فیضی ہنس دیا۔
” تمہیں فلرٹی لگ رہا ہوں۔“
ہنستے ہوۓ پوچھا۔
” آپ تو نہیں لگ رہے، آپکی باتیں لگ رہی ہیں۔“
نین تارا نیل پینٹ لگاتے ہوۓ بولی۔
کافی دیر باتیں کرنے کے بعد نین تارا نے فون بند کیا اور سونے کے لیے لیٹ گٸ۔
❤❤❤
” گاڑی گھر سے نکل رہی ہے۔“
کسی نے اطلاع دی۔
” اگلے چوک پر ٹرک لے کے پہنچ، ٹکر اتنی زور کی ہو کے بچنے کے چانس نا ہوں۔“
گاڑی میں بیٹھے آدمی نے کہا۔
” ٹھیک ہے۔“
دوسری جانب ٹرک سٹارٹ کرنے کی آواز آٸی۔
گاڑی دور جا چکی تھی اسنے اپنی گاڑی سٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی۔
❤❤❤
” ناظرین مشہور و معروف ماڈل اور ایکٹر نین تارا کی گاڑی کا زبردست ایکسیڈینٹ، ڈراٸیور اور گاڑی میں موجود ماڈل ک اسسٹنٹ مس عالیہ زبیری موقع پر دم توڑگیے۔“
اینکر بول رہی تھی۔
نین تارا دوڑ کے کمرے سے نکلی۔
” اوہ ماٸی گاڈ۔“
وہ سر تھامے گر سی گٸ۔
”اطلاعات کے مطابق گاڑی کو ایک ٹرک سے ٹکراتے دیکھا گیا ہے۔“
اینکر بول رہا تھا۔
” جلد ہی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آجاۓ گی۔“
اینکر بول کر کمرشل پر چلا گیا۔
نین تارا منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی۔
” اماں مس عالیہ۔۔۔۔۔“
وہ روتے ہوۓ چلاٸی۔
”مجھے پتہ ہوتا تو جانے ہی نادیتی۔“
وہ بلک بلک کے رو رہی تھی۔
” باجی باہر میڈیا والے آۓ ہیں۔“
زرینہ کھڑکی سے نیچے دیکھتے ہوۓ بولی۔
نین تارا رو رہی تھی۔
” سنبھالو خود کو نین تارا۔“
شکیلہ نے اسکا سر تھپکا۔
” پانی۔“زرینہ نے ادے پانی دیا۔
کچھ سنبھل کر نین تارا باہر نکلی۔
” مس نین تارا آپ کی اسسٹنٹ کی موت ہو گٸ آپ کی گاڑی میں اس میں کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔“
جرنلسٹ نے سوالوأ کی بوچھاڑ کردی۔
” میری یا مس عالیہ کی کسی کے کوٸی دشمنی نہیں ہے۔“
نین تارا بھیگی آنکھوں سے بولی۔
” آپ کو کسی پر کوٸی شک ہے۔“
اگلا سوال۔
” نہیں۔“
نین تارا نے نفی میں سر ہلایا۔
وہ ایک ایک کر کے سوالوں کے جواب دے رہے تھی۔
” جی ناظرین ہم اس وقت مشہور و معروف ماڈل نین تارا کے گھر ہیں، ان کا کہنا ہے انکی یا انکی اسسٹنٹ کی کسی سے کوٸی دشمنی نہیں ہے، ناہی انہیں کسی پر کوٸی شک ہے۔“
رپورٹر کیمرے کے سامنے بول رہا تھا۔
” لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ گاڑی کو ٹکر ماری گٸ ہے یا گاڑی خود ٹکراٸی ہے جلد ہی آپ کواس سے آگاہ کیا جاۓ گا۔“
رپورٹر بول رہا تھا۔
” پہلےماڈل اور بزنس مین فیضان سکندر کا ایکسڈینٹ اور اب انکی ماڈل کا۔۔۔۔۔۔کون ہے اس سب کے پیچھے ۔۔۔۔؟
جاننے کے لیے رہیے ہمارے ساتھ۔“
ہرچینل پر ایک ہی خبر نشر ہو رہی تھی۔
نین تارا مس عالیہ کے گھر چلی گٸ۔
ان کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔
نین تارا کا ضبط ٹوٹ گیا۔
مس عالیہ کی بیٹی اسکے گلے لگ کے بلک بلک کے روٸی۔
” ایم سوری بیٹا۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہوتا آپ کی مما کو روک لیتی۔“
نین تارا اسے خود میں بینچے ہوۓ تھی۔
جنازے کے بعد وہ وہاں سے نکلی اور شاداب کے گھر چلی گٸ۔
وہاں بھی قیامت خیز منظر روح فنا کر رہا تھا۔
میڈیا نین تارا کے ہر خبر کو نشر کر رہا تھا۔
❤❤❤
” یہ تو بچ گٸ پر دو جانیں چلی گٸیں۔“
جہاں آراکو افسوس ہوا۔
چوہدری سکندر سر جھکاۓ عمیق سوچ میں گم تھے۔
” اب اس آدمی کا منہ بند کریں ، اس نےمنہ کھول دیا تو بہت برا پھنسیں گے۔“
جہاں آرا نے مشورہ دیا۔
” ہممم۔۔۔کچھ کرنا پڑے گا اسکا بھی۔“
چوہدری سکندر نے ہنکارا بھرا۔
❤❤❤

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *