Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03
” ادا جاٶ۔۔۔۔ڈاکٹر کو بلواٶ۔“
ارم نے کہا تو ادا لاٶنج سے نکل گٸ۔
” بیٹھے بٹھاۓ نٸ مصیبت تیار کر لی۔“
ارم کو کوفت ہونے لگی تھی۔
فیضی مسلسل پریشانی سے لاٶنج کے چکر کاٹ رہا تھا۔
” جی بی بی صاحب ۔۔۔۔آپ نے بلایا۔“
ایک ڈاکٹر لاٶنج میں داخل ہوا۔
” یہ سیڑھیوں سے گر کر بے ہوش ہو گٸ ہے۔“
ارم نے کہا اور جا کر صوفے پر بیٹھ گٸ۔
ڈاکٹر نین تارا کو چیک کرنے میں مصروف ہو گیا۔
” بی بی جی بظاہر تو کوٸی چوٹ نظر نہیں آ رہی۔۔۔۔۔بی پی لو ہے بس۔“
ڈاکٹر سیدھا یو گیا۔
” تو یہ بے ہوش کیوں ہے۔“۔
فیضی نے سوال کیا۔
” شاید ڈر کی وجہ سے بے ہوش ہے۔۔۔۔۔میں نے انجیکشن دے دیا ہے، جیسے ہی بی پی نارمل ہو گااسے ہوش آجاۓ گا۔“
ڈاکٹر نے تفصيل سے کہا۔
” ٹھیک ہے۔۔۔۔آپ جاٸیں۔۔۔“
ارم نے حکم دیا تو ڈاکٹر سامان سمیٹتا چلا گیا۔
آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد نین تارا کو ہوش آگیا۔
وہ اٹھ کے چلنے لگی تو لڑکھڑاکے گری۔
” آہ۔۔۔۔۔“
وہ پیر تھامے نیچے بیٹھ گٸ۔
لاٶنج میں کوٸی بھی نہیں تھا۔
نین تارا کے پیر پر سوجن ہو گٸ تھی۔
وہ ہمت کر کے اٹھی اور دیوار صوفوں کا سہارا لیتی لاٶنج سے نکلی۔
” نوری۔۔۔۔۔“
نین تارا نے آواز دی۔
” تو زندہ ہو گٸ۔۔۔؟“
نوری حیرت سے بولی۔
” میں کونسا مر گٸ تھی نوری۔“
نین تارا نے سر جھٹکا۔
” فیضی صاحب بہت پریشان تھے تیرے لیے۔“
نوری نے سرگوشی کی۔
” مجھے گھر تک چھوڑ آ۔“
نین تارا اسکا سہارا لے کے چلنے لگی۔
وہ حویلی سے نکلیں تو داٸیں طرف بنے لان میں فیضی ادا اور ارم محو گفتگو تھے۔
” بی بی صاحب۔۔۔میں گھر چلی جاٶں۔“
نین تارا نے اجازت چاہی۔
” پیر پہ کیاہوا۔۔۔۔“
ارم نے پوچھا گویا جانتی نا ہو جیسے۔
” جاٶ۔۔۔۔“
کوفت سے بولتی اجازت دے دی۔
نین تارا مڑی اور گھر کی طرف چلنے لگی۔
” بیچاری کو چوٹ لگ گٸ۔“
ادا نے افسوس سے کہا۔
” مر نہیں گٸ۔۔۔۔“
ارم نخوت سے بولی۔
فیضی ندامت سے نین تارا کی پشت کو گھوررہا تھا۔
”میں چلتی ہوں۔۔۔۔صبح کلاسز لینی ہے۔“
ادا کالج جانے کے لیے اٹھ گٸ۔
” تم کب جاٶ گے حویلی۔۔۔۔؟“
ارم نے پوچھا۔
” نومی سے کچھ کام ہے۔۔۔۔پھر جاٶں گا۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
” تماس واقعہ کو دل پہ مت لو فیضی۔۔۔۔۔۔وہ ملازمہ ہے۔۔۔۔ہم تنخواہ دیتے ہیں جو مرضی کرواٸیں ان سے۔“
ارم نے اسے ندامت سے نکالنا چاہا۔
فیضی نے سر ہلا دیا وہ بحث کے موڈ میں نہیں تھا۔
” کیا ہوا نین تارا۔“
شکیلہ اسے نوری کے سہارے چلتا دیکھ گھبراہٹ سے بولیں۔
” وفاداری کا انعام ملا ہے۔“
طنزاً بولی۔
”بکواس کرنا تو تیری عادت بن گیا ہے۔“
وہ اسکے الٹے جواب پر تپ گٸیں۔
”سیدھی بات سے زیادہ بکواس کو اہمیت ملتی ہے نا اسلیے۔“
وہ چارپاٸ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
” اب پھوٹو گی کیا ہوا ہے۔“
وہ غصے سے بولیں۔
” خالہ فیضی صاحب نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
نوری نے ساری کہانی من وعن سنا ڈالی۔
” اچھا۔۔۔۔۔۔چلو کوٸی نہیں۔“
شکیلہ نے بات ہوا میں اڑا دی۔
نین تارا چڑ گٸ۔
” اماں خدا کے چپ ہو جا۔۔۔۔۔۔تجھے بہانا چاہیے ان کی تعریفوں کے پل باندھنے کا۔“
نین تارا چڑ کے بولی۔
” اور تجھے بہانا چاہیے ان کے خلاف زہر اگلنے کا۔“
شکیلہ نے بھی منہ پہ جواب مارا۔
” وہ میرے جدی پشتی دشمن نہیں ہیں اماں جو زہر اگلتی پھروں۔۔۔۔۔ان کی حرکتیں اگلواتیں زہر۔۔۔“
نین تارا تلخی سے بولی اور منہ پہ کپڑا ڈالے لیٹ گٸ۔ گویا بات ختم سمجھو۔
” اللہ تجھے ہداہت دے۔“
شکیلہ گھٹنے پہ ہاتھ رکھے جانے لگیں۔
” تھوڑی عقل و ہدایت حویلی والوں کے لیے بھی مانگ لے۔۔۔۔“
آنکھوں پر بازو رکھتے ہوۓ بولی۔
شکیلہ اسکاپیر دیکھنے لگیں جو سوج کے ڈبل ہو چکاتھا۔
موچ کی وجہ سے پیر سوج چکا تھا۔
شکیلہ نے انگلیاں پکڑیں اور ٹخنے سےپکڑ پیر پیچھے کی جانب مروڑا۔
نین تارا کی چیخیں نکل گٸیں۔
” اماں چھوڑ میرا پیر۔۔۔۔۔۔“
نین تارا روتے ہوۓ چلاٸی۔
” موچ کا بل نکال رہی ہوں۔۔۔۔تھوڑا حوصلہ رکھ۔“
شکیلہ نے پیر زور سے پکڑ لیا اور دوبارہ سے پیرکو گھمایا۔
” آہ۔۔۔۔اماں میرا پیر۔۔۔۔۔“
نین تارا زور زور سے رو رہی تھی۔
” اماں بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔۔چھوڑ دے۔“
نین تارا سسکٕاں لیتے ہوۓ بولی۔
گہری سبز آنکھوں سے پانی کی لڑیاں سیاہ ہوتےرخساروں پربہہ رہیں تھیں۔
شکیلہ نے اپنی تسلی کر کے پیر چھوڑ دیا۔
نین تارا دھواں دارطریقے سے رو رہی تھی۔
آہستہ آہستہ درد ختم ہوا اور اسے سکون محسوس ہونے لگا۔
سبز آنکھیں پھر سے سرخی میں گھل گٸیں تھیں، زرا جو رنگت صاف ہوتی تو وہ غضب ڈھاتی ہیروٶین لگتی۔
” تمہیں تو آج حویلی جانا تھا، سکندر ماموں تمہارا پوچھ رہے تھے۔“
نومی نے فیضی ک طرف دیکھا۔
” ہاں جانا ہے۔۔۔۔پر تم سے ایک کام تھا۔“
فیضی نے کہا۔
” ہاں بولو۔“
نومی متوجہ ہوا۔
” میں نین تارا کو اپنے ساتھ شہرلے جانا چاہتا ہوں۔“
فیضی نے نعمان کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
” کیوں۔“
نعمان نا سمجھی سے بولا۔
” میں نین تارا کو۔۔۔۔۔۔۔۔“
فیضی نے ساری بات نعمان کے گوش گزار دی۔
” کیا وہ مان جاۓ گی۔۔۔؟“
نعمان ٹیک لگاتے ہوۓ بولا۔
” مان جاۓ گی۔۔۔۔۔جب ہم حکم کریں گے اور میں اسے خقیقت سے ناآشنا رکھتے ہوۓ کام کروں گا۔“
فیضی نے رسانیت سے کہا۔
“ اسکی رنگت دیکھی ہے۔۔۔۔۔سانولی بھی نہیں ہے۔۔۔۔سانولے رنگ پر سیاہ دھبے ہیں۔“
نعمان کو نین تارا کا انتخاب سمجھ نہیں آرہاتھا۔
”وہ میرا مسٸلہ ہے۔“
فیضی نے مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاٸی۔
” ہممممم۔۔۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔ہم اس کے ساتھ زبردستہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔پہلے فریداور شکیلہ سے بات کرنی پڑے گی۔“
نعمان نے کہا تو فیضی مسکرایا۔
” ابھی کرلیتے ہیں۔“
فیضی نے فضیلہ لو آنے کا اشارہ کیا۔
” جی صاحب۔“
فضیلہ ادب سے بولی۔
” جاٶ۔۔۔۔اپنے امی ابو کو بلاکر لاٶ۔“
فیضی نے کہا تو وہ سر ہلاتی چلی گٸ۔
”اگر تمہیں ناکامی ہوٸی تو۔۔۔۔۔۔؟“
نعمان نے خدشہ ظاہر کیا۔
ملازمہ چاٶ رکھ کے چلی گٸ۔
” اونہہ۔۔۔۔۔میں کور کر لوں۔۔۔۔۔میں نے یہ فیصلہ کچھ سوچ کر دیکھ کر ہی کیا ہے نومی۔“
فیضی چاۓ کا کپ اٹھاتے ہوۓ بولا۔
” بہت بڑا رسک لے رہے ہو نین تارا کو لے کر۔۔۔۔“
نعمان نے چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ کہا۔
” رسک تو لینے پڑتےہیں کامیابی کے لیے۔“
فیضی ہنسا۔
” الٹی کھوپڑی ہے تمہاری۔“
نعمان نےہنس کےکہا۔
فیضی کا قہقہہ لان کی فضا میں گونج گیا۔
چھ فٹ سے نکلتا قد، چوڑا سینہ ، کسرتی باڈی پر ریڈ ٹی شرٹ اور آف واٸٹ نیرو جینز پہنے، بال کا سٹاٸلش سٹائل بناۓ،آستینیں ہمیشہ کی طرح فولڈ کیے اور پیروں میں سنیکرز پہنےبلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔
” سلام صاحب۔۔۔۔۔“
شکیلہ اور فرید حاضر ہوۓ۔
” وعلیکم السلام۔۔۔۔“
سب نے سلام کاجواب دیا۔
” صاحب آپ نے یاد فرمایا۔“
فرید ادب سے بولا۔
” ہاں بیٹھو۔۔۔۔“
نعمان نے کہا تو دونوں نیچے بیٹھ گیے۔
” ارے۔۔۔۔ادھر اوپر بیٹھو۔“
نعمان نے کہا تو شکیلہ نے ہاتھ جوڑ دیے۔
” نا صاحب جی ۔۔۔۔ہم آپ کی برابری کے لاٸق نہیں۔۔۔۔آپ بس حکم کیجیے۔“
شکیلہ نے کہا تو نعمان نے اصرار کا ارادہ ترک کیا۔
” فیضی نین تارا کو کام کاج کے لیے شہر لے جانا چاہتا ہے۔“
نعمان نے مدعا بیان کیا۔
” کیوں۔۔۔۔تم کسی اچھی میڈ کو ہاٸیر کر لو۔“
ارم کو نین تارا کو لے جانے والی بات ناگوار گزری۔
” غریبوں کا بھلا ہو جاۓ گا آپی۔“
فیضی نے کہا تو ارم کی پیشانی کے بلوں میں اضافہ ہوا۔
” فضیلہ کو لے جاٸیں صاحب۔۔۔۔نین تارا کو تو گز بھر لمبی زبان ہے۔“
شکیلہ نے کہا۔
” نہیں ۔۔۔۔۔نین تارا کے کام سلیقہ ہے۔“
فیضی نے فضیلہ کے لیے انکار کر دیا۔
”تم نے کب نین تارا کے سلیقے کو دیکھ لیا۔“
ارم نین تارا کے خلاف ہو گٸ تھی۔
” آپی پلیز۔“
فیضی نے خفگی سےدیکھا۔
” وہ کالی کلوٹی تمہاری ہر جگہ پر انسلٹ کرواۓ گی فیضی۔“
ارم نے تیز لہجے میں کہا۔
نین تارا کو کالی کلوٹی کہنے پر شکیلہ کے دل پر گھونسا لگا۔
” آپ نین تارا کو تیار کرلیں۔۔۔۔۔پچاس ہزار تنخواہ دوں گا۔“فیضی نے کہا۔
شکیلہ اور فرید کا منہ کھلا رہ گیا۔
” پچاس ہزار ۔۔۔۔۔فیضی دماغ تو درست ہے۔۔۔۔ہم انہیں پانچ ہزار دیتے ہیں۔“
ارم کو پتنگے لگ گیے۔
” اٹس فاٸنل۔“
فیضی اٹل لہجے میں بولا۔
ارم تن فن کرتی چلی گٸ۔
” صاحب نین تارا کو چوٹ آٸی ہے۔“
شکیلہ منمناٸی۔
” میں بڑی حویلی جا رہاہوں۔۔۔۔واپسی پر لیتا جاٶں گا۔“
فیضی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
” بہت شکریہ صاحب۔“
فرید نعمان کی طرف شکر گزار نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا۔
” اللہ کا شکر ادا کرو۔۔۔۔۔تمہارے دن پھرنے والے ہیں۔“
نعمان مسکرایا۔
وہ دونوں اٹھ کے چلے گیے۔
” میں تیرے صدقے نین تارا۔“
شکیلہ والہانہ انداز میں نین تارا کی طرف بڑھی۔
” کیا ہو گیا اماں۔۔۔بی بی نے تنخواہ بڑھا دی ہوگی۔۔۔۔پرموشن جو ملا تھا مجھے صفاٸی سے کچن تک کا۔۔۔ تنخواہ تو بڑھنی تھی“
نین تارا جلے کٹے انداز میں بولی۔
”ہر وقت وقت بک بک نا کیا کر۔“
شکیلہ کو اس کی بات ناگوار گزری۔
” فیضی صاحب تجھے شہر لے جانا چاہتے ہیں کام کےلیے۔۔۔۔۔“
شکیلہ خوشی سے چہکی۔
” کیا۔۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔“
نین تارا کو جھٹکا لگا۔
” ہاں تجھے۔۔۔۔تیرا کام پسند آیا انہیں۔“
شکیلہ نے آناً فاناً اسکی پیشانی چوم لی۔
” میرا کام۔۔۔۔۔۔۔وہ تو اٹھتے ہی گیارہ بجے ہیں۔۔۔۔تب تو کام ختم ہو جاتا تھا۔“
نین تارا سوچتے ہوۓ بولی۔
” دیکھ اماں تین دن حویلی آتا ہے تو مت مار کے رکھ دیتا ہے۔۔۔۔۔ساتھ لے جا کہ تو پاگل ہی کر دے گا۔“
نین تارا صاف گوٸی سے بولی۔
” پچاس ہزار تنخواہ دے گا۔“
شکیلہ نے خوشی سے کہا۔
” تب دے گاجب میں جاٶں گی۔۔۔۔۔“
نین تارا نے کہا اور لیٹ گٸ۔
” تیرا تو ابا بھی جاۓ گا۔“
شکیلہ تڑخ کر بولی۔
” بھیج دے پھر ابا کو۔“
نین تارا نے جواب دیا۔
” تیری عقل تو گھاس چرنے گٸ ہے۔۔۔۔۔لکشمی خود چل کے آرہی ہے اور تو کہہ رہی ہے جاۓ گی نہیں۔“
شکیلہ کمر پہ ہاتھ رکھے بولی۔
” اماں وہ بندہ کھسکا ہوا ہے دماغ سے۔“
نین تارا چلاٸی۔
”خبر دار جو بکواس کی تو۔“
شکیلہ غصے سے بولی۔
” مجھے تو تیری عقل پہ رشک آرہا ہے اماں۔۔۔۔۔اپنی جوان بیٹی کو بھیج رہی ہے ایک جوان لڑکے کے ساتھ۔“
نین تارا نرمی سے بولی۔
” مجھے یقین ہے تیری اس رنگت پر کوٸی تجھ جیسی کالی کو منہ بھی نہیں لگاۓ گا۔“
شکیلہ صاف گوٸی سے بولی۔
” عزت تو عزت ہوتی ہے اماں۔۔۔۔۔شیطانوں، بھیڑیوں کو رنگت سےکیا۔“
نین تارا مدھم لہجے میں بولی، ایک دفعہ پھر کالی ہونے کا طعنہ مل گیا تھا۔
” بھیڑیے بھی خوبصورت شے کی طرف جاتے ہیں۔“
شکیلہ تیز لہجے میں بولی۔
نین تارا کے اندر ٹوٹ ٹوٹ کے جڑا دل ایک بار پھر ٹوٹ گیا تھا۔
” میری عزت سے زیادہ تجھے پیسے عزیز ہیں۔“
نین تارا نے ایک آس سے ماں کی طرف دیکھا۔
” تیری عزت ہمارے پیٹ نہیں بھرے گی۔“
شکیلہ گھٹنے پہ ہاتھ رکھتی اٹھ گٸ۔
نین تارا دھک سی چارپاٸی پر گرنے کے انداز میں لیٹی۔
نینوں کا ساگر بہنے لگا تھا، دکھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اللہ یہ تیرے بندے کیسے ہیں، اپنے پیٹ کی خاطر عزت بھی وار دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔میری ماں ایسی تو نا تھی۔۔۔۔۔اتنا لالچ پہلے تو نا تھا۔۔۔۔۔“
وہ کرب سے سوچنےلگی۔
دل سسک رہا تھا اور آنکھیں دل کا ساتھ دے رہیں تھیں۔
اسنے لانبی پلکوںکی جھالرگراٸی اور گہری سبز آنکھیں چھپا ڈالیں۔
” السلام وعلیکم۔“
فیضی حویلی مں داخل ہوا تو بیرون حویلی میں بنے لاونج میں چوہدری سکندر چند سیاسی لوگوں کے ہمراہ بیٹھے تھے۔
” کیسے ہو چوہدری فیضان۔“
چوہدری فہد اسکے گلے لگ گیا۔
” اللہ کا کرم ہے۔“
فیضی مسکرایا اور ان کے ہمراہ بیٹھ گیا۔
کافی دیر باتیں کرنے کے بعد وہ چلے گیے تو فیضی سکندر کے ساتھ اندرون حویلی چلا آیا۔
” میرا لخت جگر۔“
ماں والہانہ انداز میں اسکی طرف بڑھیں۔
” اور آپ ہماری ملکہ عالیہ۔“
فیضی ان سے لہٹتے محبت سے بولا۔
” اچو جان۔“
زورینہ دوڑتی ہوٸی اس سے لپٹ گٸ۔
دو سالہ زورینہ اریان اور فاطمہ کی بیٹی تھی۔
” کیسی ہیں آپ بھابھی۔“
فیضی فاطمہ سے مخاطب ہوا۔
” ٹھیک ہوں۔“
فاطمہ مسکراٸی۔
” اریان نظرنہیں آ رہا۔“
فیضی نے اردگردنظر دوڑاٸی۔
” وہ کام سے گیاہے۔“
فاطمہ نے کہا۔
وہ سب کے ساتھ بیٹھے گپیں ہانکنے لگا۔
کبھی زورینہ کے ساتھ کھیلتا تو کبھی ماں کے ساتھ لاڈ کرنے لگتا۔
جاری ہے
