Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19

” نین تارا کو ریڈی کرواٶ۔“
فیضی نے عالیہ سے کہا۔
گرے کلر کا نہایت ہی نفیس سوٹ فیضی نے نین کے لے سلیکٹ کیا، جسپر پرل کاکام انتہاٸی نفاست سے کیا گیا تھا، شارٹ شرٹ اور کیپری کے ساتھ نیٹ کا ہم رنگ دوپٹہ تھا۔
نین تارا جلدی سے چینج کرآٸی۔
”مس عالیہ نوٹو مچ میک اپ پلیز۔“
فیضی نے تنبیہہ کی۔
عالیہ سر ہلاکے رہ گٸ۔
”یہ سینڈلز نکال لیں۔“
فیضی نے باریک سے ڈیزاٸن کے فل ہیل سینڈل سلیکٹ کیے۔
” اور جیولری۔۔؟“
مس عالیہ نے اسکی طرف دیکھا، آج تک کسی ماڈل کے لیے فیضی نے اس طرح کچھ سلیکٹ نہیں کیا تھا۔
” یہ والے نکال لو۔۔۔۔۔“
ایررنگز اور نفیس سے سیٹ کو سلیکٹ کیےوہ وہاں سے نکل گیا۔
”تم اتنا خرچ کیوں کررہے ہو۔۔۔؟“
علی آخر بول ہی پڑا۔
” میں نے ساری پیمنٹ اپنے اکاٶنٹ سے کی ہے۔“
فیضی سنجیدگی سےبولا۔
” بات میرے تمہارے اکاؤنٹ کی نہیں ہے، ایسے ہر ماڈل پر خرچ کیا تو چل گیا بزنس۔“
علی کرسی پربیٹھتے ہوۓ بولا۔
” ہر ماڈل نین تارا نہیں ہوگی۔“
فیضی چیر جھولتے ہوۓ بولا۔
”مطلب۔۔۔؟“
علی نے ابرو اچکاۓ۔
” وہ ساری پیمنٹ کا ڈبل پرافٹ دے گی، شی از گورجیس، انو سینٹ ، سمپل اینڈ ریسپکٹ فل۔“
فیضی نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
” وہ دوسری ماڈلز سے قدرے مختلف ہے، اس میں ایگو نہیں ہے، میں جو کہوں گا وہ کرتی جاۓ گی۔“
فیضی نے مسکرا کرکہا۔
” اسکی سادگی کا فاٸدہ اٹھاٶ گے۔“
علی کو برا لگا۔
” نہیں۔۔۔۔۔وہ کبھی ہمیں چھوڑ کے نہیں جاۓ گی دوسری ماڈلز کی طرح۔“
فیضی نے اپنا پوائنٹ سمجھایا۔
” میں چاہتا ہوں، وہ جلد از جلد کامیاب ہو جاۓ۔“
فیضی نے بے خودی میں کہا۔
علی نے ٹٹولتی نظروں سے اسے دیکھا۔
” نین تارا از ریڈی۔“
عالیہ نے اطلاع دی۔
فیضی اورعلی دونوں فوٹو سیشن روم کی طرف آگیے۔
کیمرہ مین کیمرے اور لاٸٹس چیک کر رہا تھا۔
نین تارا ہلکے میک اپ میں بہت حسین لگ رہی تھی، میک اپ سے اسکی گرین آٸیز واضح ہونے لگیں تھیں۔
کیمرہ مین کی نگاہیں اسکی گہری سبز آنکھوں پر رک سی گٸیں۔
” جاسم کلکس بہترین ہونے چاہیے۔“
فیضی نے کہا اور کرسی سنبھال لی۔
مس عالیہ اور علی نین تارا کے پوزز سیٹ کروا رہے تھے۔
دو گھنٹے میں تقریباً پانچ مختلف ڈریسیز اور میک اپ میں فوٹو شوٹ ہوا۔
” ماڈل از سپر ٹیلینٹڈ۔“
جاسم فوٹوز لیپ ٹاپ میں دکھا رہا تھا۔
” مجھے کل صبح تک چاہیے۔“
فیضی نے کہا اور کرسی پر بیٹھ گیا، سر سیٹ سےلگاۓ آنکھیں موند گیا۔
نین تارا چینج کیے آفس میں داخل ہوٸی، دھلا دھلایا چہرہ میک اپسے پاک تھا۔
وہ اچنبھے سے فیضی کی طرف بڑھی اور اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
فیضی نے آنکھیں کھول دیں۔
” آپکو بخار ہو گیا ہے۔“
نین تارا سنجیدگی سے بولی۔
” ہاں تھکاوٹ سے ہو گیا شاید۔“
فیضی نے آنکھیں مسلیں۔
” میں نے منع کیا تھا آپ کو۔“
نین تارا خفگی سے بڑبڑاٸی۔
فیضی نے سنجیدہ نظر اسکے خفا خفا چہرے پر ڈالی اور مسکرا دیا۔
” میں ڈراٸیور کوکال کرتی ہوں۔“
نین تارا موبائل لیے آفس سے نکل گٸ۔
” طبعیت ٹھیک نہیں تھی، یار تومت آتے آفس۔“
علی متفکرسا اسکے پاس آیا۔
” ٹھیک ہوں میں۔“
فیضی نے مسکرانے کی کوشش کی۔
” ڈراٸیور دس منٹ میں پہنچ جاۓ گا۔“
نین تارا اندر آٸی۔
” نین تارا اپارٹمنٹ کی کیز کہاں ہیں۔؟“
فیضی نے کچھ یاد آنے پر پوچھا۔
” میرے پاس ہیں۔“
نین تارا ہینڈ بیگ کی طرف بڑھی اورکیزنکال کے ٹیبل پر رکھ دیں۔
” یہ تمہارے اپارٹمنٹ کی کیز۔۔۔“
فیضی سیدھا ہوا۔
” نین تارا کہاں رہے گی۔؟“
علی نے چابیاں لیتے ہوۓ پوچھا۔
” جہاں پہلے رہتی تھی۔“
فیضی نےکہا۔
” اورادا۔۔۔۔۔“
علی نے اسکےچہرے کی طرف دیکھا۔
” وہ اپنے گھر۔۔۔۔۔۔“
فیضی نےلیپ ٹاپ شٹ ڈاٶن کیا۔
” مطلب۔۔۔۔“
علی سمجھانہیں۔
” جمعےکواسکی شادی ہے احسن کے ساتھ۔“
فیضی نے ٹیبل سے چیزیں اٹھا کے لاک کیں۔
” واٹ۔۔۔لیکن کیوں۔؟“
علی کو دھچکا لگا۔
” نومی کی مرضی، اسکی بہن ہے جہاں مرضی بیاہے۔“
فیضی سرسری سا بولا۔
نین تارا خاموش رہی۔
” سر ڈراٸیور آگیا ہے۔“
گیٹ کیپرنے اطلاع دی۔
”چلو۔۔۔ہم آتے ہیں۔“
فیضی نے کہا تو گیٹ کیپر سر ہلاتا چلا گیا۔
نین تارا فیضی کے ہمراہ آفس سے نکلی۔
دونوس پچھلی سیٹ پر براجمان تھے، فیضی آنکھیں بند کیے ہوۓ تھا۔
” نمبر دیں ڈاکٹر کو کال کروں۔“
نین تارا نے کہا۔
” میں نے مسیج کر دیاہے باسط کو۔“
فیضی دھیرے سے بولا۔
نین تارا خاموش ہو گٸ۔
فیضی سیدھا کمرے میں چلا گیا۔
نین تارا نے چینج کیا اور فیضی کے لیے فریش جوس بنا کے لے گٸ۔
وہ چینج کر کے لیٹا ہوا تھا۔
” جوس پی لیں۔“
نین تارا ساٸڈ ٹیبل پر ڈش رکھتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے آنکھیں کھولیں، جو سرخ ہو رہیں تھیں۔
وہ نا چاہتے ہوۓ اٹھ بیٹھا۔
دو چار گھونٹ لے کے گلاس رکھ دیا اور بیڈ سے ٹیک لگا لی۔
” آج تم نے بہت اچھا فوٹو شوٹ دیا۔“
فیضی مسکرایا تھا۔
” اچھا لیٹ جاٸیں آپ، میں پٹیاں رکھتی ہوں جب تک ڈاکٹر نہیں آتا۔“
نین تارا اسکی بات نظر انداز کیے بولی اور گلاس لے کمرے سے نکل گٸ۔
فیضی مسکرا کے لیٹ گیا۔
نین تارا ایک باٶل میں پانی لے آٸی اور کاٹن کا نرم سا کپڑا لیے اسکے ماتھے پر رکھنے لگی۔
” میری اماں جان بھی ایسے ہی میرے لیے فکر مند ہوتیں ہیں۔“
فیضی اسکا ہاتھ تھامے بولا۔
نین تارا نے ہاتھ چھڑوایا اور دوبارہ پٹیاں کرنے لگی۔
” میں چاہتا ہوں نین تارا تم بہت کامیاب ہو جاٶ۔“
وہ مسلسل بول رہا تھا۔
” باجی۔۔۔ڈاکٹر آیا ہے۔“
شازیہ نے کہا۔
” بھیج دو۔“
نین تارا نے پٹی اٹھاٸی اور اٹھ کے ساٸڈ پر ہو گٸ۔
ڈاکٹر باسط مسکراتے ہوۓ کمرے میں داخل ہوا۔
” السلام وعلیکم بھابھی۔“
باسط مسکرایا اور فیضی کی طرف بڑھا۔
” بھابھی۔“
نین تارانے ناسمجھی سے فیضی کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
نین تارا کمرے سے نکل گٸ۔
باسط کے لیے چاۓ بنواٸی اور دوسرے لوازات رکھواۓ وہ شازیہ کے ہمراہ فیضی کے کمرے میں داخل ہوٸی۔
” میں نے میڈیسن دے دی ہے، انہیں ریسٹ کی سخت ضروت ہے انہیں دو دن تک بیڈ سے اترنے نہیں دینا۔“
باسط نین تارا سے مخاطب ہوا۔
” اوکے۔“
نین تارا نے سر ہلا دیا۔
شازیہ چاۓ رکھ کے جا چکی تھی۔
نین تارا صوفے پر براجمان ہو گٸ۔
❤❤❤
” چلو ادا باقی شاپنگ میں نے فاطمہ کے ساتھ کر لی ہے، اپنا لہنگا اور زیور خود پسند کر لو۔۔۔۔تین دن رہ گیے ہیں۔“
ارم اسکے کمرے میں داخل ہوٸی۔
” آپ خود ہی کر لیں۔“
ادا بے زاری سے بولی۔
” شادی تمہاری ہے۔“
ارم نے یاد دلایا۔
” ہونہہ۔۔۔“
ادا نے سر جھٹکا۔
” آپ خود ہی چلی جاٸیں، مجھے آپکی پسند پر بھروسہ ہے۔“
ادا نے میٹھے لہجے میں جان چھڑواٸی۔
” ٹھیک ہے، آج وہ مایوں کی رسم کرنےآٸیں گے۔“
ارم نے اطلاع دی اورچلی گٸ۔
ادا نے بیڈ سے تکیے اٹھا کے زمین پر پٹخ دیے۔
” فیضی نکل جاٶمیرے دماغ سے۔“
وہ چیخی۔
حویلی کو رنگا رنگ لاٸٹوں سے سجایا جا رہا تھا۔
ادا بالکونی میں آگٸ۔
باریک لاٸٹوں کی لڑیاں بالاٸی منزل سے ہوتی نیچے جا رہیں تھیں۔
لان میں عورتیں اسکے جہیز کے بستر تیار کر رہیں تھیں، فرنیچر نعمان اپنی پسند کا بنوا آیا تھا۔
” شام تک اسے مکمل کرو اور سامان سمیٹو، آج سامان بھیجنا ہے۔“
نوری عورتوں پر رعب جھاڑ رہی تھی۔
ادا نے بے دلی سے یہ منظر دیکھا ار واپس بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔
❤❤❤
علی آفس سےنکل کر اپارٹمنٹ میں چلا آیا۔
دروازہ کھولتے وہ لاٸٹیں جلاتا اندر چلا آیا، بیڈ روم کھولا تو نین تارا کے پرفیوم کی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکراٸی۔
کمرہ بلکل صاف تھا، وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔
تکیے پر نین تارا کے بال لگے ہوۓ تھے۔
علی نے مسکرا کے اسکے بال اٹھاۓ۔
” اپنی نشانیاں چھوڑ گٸ ہو۔“
وہ بال سے مخاطب تھا۔
” میں خوش تھا، فیضی ادا کا ہو جاۓ گا، میرا راستہ صاف ہو جاۓ گا۔“
علی یاسیت سے بولا۔
” پر شاید فیضی کو کباب میں ہڈی بننے کا شوق ہے۔“
علی نے منہ بگاڑا۔
” تمہیں میں حاصل کر ہی لوں گا نین تارا ڈارلنگ۔“
علی تکیے پر سر رکھے لیٹ گیا۔
” فیضی شاید تمہیں کبھی نا چھوڑے۔۔۔۔اسے تم پہ بہت یقین ہے نین تارا، وہ تم سے کبھی بدظن نہیں ہوگا پر تم تو ہو سکتی ہو نا۔۔۔۔۔۔۔“
علی اپنی شیطانی سوچ پر مسکرایا۔
” فیضی کو ریکارڈ کرنا ہوگا، جب وہ تمہیں کیش کرنے کی بات کرے۔“
علی نے پلین بنایا۔
” نین تارا صرف علی یزدانی کی ہوگی۔“
علی نے بال کوانگلی پرلپیٹا اور ہونٹوں سے لگالیا۔
محبت نے ایک اور دشمن بنا ڈالا تھا۔
❤❤❤
” کیسے ہو۔“
علی فیضی کےکمرے میں داخل ہوا۔
”بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔“
فیضی نے دہاٸی دی۔
نین تارا نے گھور کے دیکھا۔
” کیا ہو گیا۔؟“
علی نین تارا کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
ریڈ شرٹ اور واٸٹ کیپری میں ملبوس نین تارا کھلتا ہوا گلاب لگ رہی تھی۔
” یہ سوپ نہیں پی رہے۔“
نین تارا نے علی سے کہا جبکہ دیکھ فیضی کو رہی تھی۔
” اتنے پیار سے تو کوٸی زہر بھی دے وہ بھی پی لینا چاہیے۔“
علی نین تارا کو دیکھتے فیضی سے بولا۔
” آج بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا۔“
فیضی نے سوپ کو دیکھ کہ منہ بگاڑا۔
” آنکھیں بندکر کے پی لیں۔“
نین تارا نے مشورہ دیا۔
” اونہہ۔“
فیضی نے نفی میں ہلایا۔
” ایسا کریں صرف دو سپون پی لیں۔“
نین تارا نے باٶل اٹھا کے چمچ بھرا اور اسکے منہ کے پاس کیا۔
فیضی نے اسکی طرف دیکھتے ایک چمچ لی لیا۔
” اتنا بڑا چمچ کہاں سے ڈھونڈ لاٸی ہو۔“
فیضی نے چمچ کو ناگواری سے دیکھا، نین تارا ہنس دی، علی جو اس منظر کو ناگواری سے دیکھ رہا تھا نین تارا کے ہنسنے پر مسکرا اٹھا۔
” بس ایک اور ۔۔۔“
نین تارا نے دوسرا چمچ اسکے منہ کے پاس کیا۔
” بس آخری۔۔۔۔۔“
فیضی نے یقین دہانی چاہی۔
” ہاں آخری۔“
نین تارا نے سر ہلایا۔
”وہ خود پی سکتا ہے۔“
علی کو ناگوار گزر رہا تھا۔
فیضی نے اچنبھے سے علی کو دیکھا۔
دوسرا چمچ پیتے ہوۓ فیضی نے علی کو دیکھا جسے شاید اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
” مزے کا ہے سوپ۔۔۔“
فیضی نے جان بوجھ کر کہا۔
” اور دوں۔۔۔؟“
نین تارا نے پوچھا۔
”ہاں۔۔۔“
فیضی نے اثبات میں سر ہلایا۔
نین تارا کے ہاتھ سے سوپ پیتے فیضی کی نظر مسلسل علی کے بگڑتے تاثرات پر تھی۔
اسے یقین ہو چلا تھا، علی نین تارا میں انٹرسٹڈ ہے۔
” میں چلتا ہوں۔“
ضبط سے بولتا علی بنا جواب سنے کمرے سےنکل گیا۔
فیضی نے نین تارا کا منہ کی طرف جاتا ہاتھ روک دیا۔
“ بس۔۔۔۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
نین تارا سر ہلاتی اٹھ گٸ۔
” نین تارا کو علی سے بچانا ہوگا۔“
فیضی پریشانی میں گھر گیا۔
نین تارا کمرے سے نکلی تو علی لاٶنج میں بیٹھا تھا۔
” ایک کپ چاۓ بنا دو تارا۔“
علی نے سر دباتے ہوۓ کہا۔
” شازیہ انہیں چاۓ بنا دیں۔“
نین تارا شازیہ کو حکم دیتی کچن سے نکل کر اپنے کمرے میں چلی گٸ۔
علی کڑھ کے رہ گیا اور بنا چاۓ پٸے چلا آیا۔
نین تارا اور فیضی کی بے تکلفی علی کو بری طرح گھاٸل کر رہی تھی۔
” فیضان سکندر۔۔۔۔۔۔۔“
علی چبا چبا کے بولا۔
” کچھ تو کرنا پڑے گا فیضی کا۔“
علی ریش ڈراٸیونگ کر رہا تھا۔
” مگر کروں تو کیا کروں کہ نین تارا خود اس سے دور ہو جاۓ۔“
وہ گاڑی سڑک کنارے روک کر اتر آیا۔
” نین تارا تمہیں فیضی کو سوپ نہیں پلانا چاہیے تھا۔“
وہ دل ہی دل میں نین تارا پر برس رہا تھا۔
” تم پر صرف میرا حق ہوگا۔“
علی ہاتھ بالوں میں چلاتے ہوۓ سوچنے لگا۔
” نین تارا یزدانی۔“
خود سے بڑبڑایا اور سڑک کنارے چلتے کپل کو دیکھنے لگا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *