Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21

” میرے اتنے دشمن پہلے تو نا تھے۔“
فیضی ڈراٸیو کرتےہوۓ سوچ رہا تھا۔
” ابھی تو اس محبت کا اعتراف بھی زبان پر نہیں لایا، میرے ہی دوست رقیب بن بیٹھے۔“
اسکی آنکھوں میں نم بڑھنے لگی تھی۔
” علی اتنی جلدی بدل جاۓ گا۔۔۔۔۔!!!“
فیضی کو علی کے بدلتے تیوروں نے گھاٸل ہی کر ڈالا تھا۔
” ادا، آپی، اماں جان، بابا جان پھر نومی اور اب۔۔۔۔۔اب علی۔“
وہ گاڑی سڑک کنارے روکے نکل آیا تھا، ہاتھ بڑھا کے ٹاٸی کی ناٹ ڈھیلی کی اور گہرے سانس لینے لگا جیسے دم گھٹ رہا ہو۔
” سب میرے خلاف ہو گیے ہیں کیوں۔۔۔۔۔؟“
وہ سنسان سڑک پر سورج کی طرف پیٹھ کیے گاڑی کےبونٹ پر بیٹھ گیا۔
سورج کی زرد روشنی نے ہر شے کو زرد کر چھوڑا تھا، دور سے دیکھنے پر جلتی آتش کا عکس دکھاٸی دیتا۔۔۔۔۔۔۔
زرد موسم کی اداسی رگ و پہ میں سراٸیت کرتی عجب اداسی سے گھاٸل کر رہی تھی۔
فیضی نے بھیگی آنکھوں سے موبائل کی جگمگاتی سکرین کو دیکھا۔
” آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے فیضی۔۔۔؟“
نین تارا کا فکر مندی سے بھرپور میسیج دیکھ فیضی کا دل سکڑ کے رہ گیا۔
” میں کیا کروں۔۔۔ علی کا جنون بڑھتا جا رہا ہے۔“
فیضی سر تھام کے رہ گیا۔
” نین تارا کو کھونے کا حوصلہ مجھ میں نہیں ہے ۔۔۔۔ہاں شاید۔“
وہ بے یقین سا لگ رہا تھا۔
” نین تارا مجھے چھوڑ گٸ تو۔۔۔۔۔۔؟“
سراسیمگی کی ایک لہر اسکے وجود میں سراٸیت کر گٸ، دل خوف کے سمندر میں ڈوب کے رہ گیا، سماعت پر مہیب سناٹے چھا گیے اور بصارت دھندلا کے رہ گٸ۔
” نہیں۔۔۔۔“
دھندلی ہوتی اکھیوں سے ساون بہہ نکلا تھا۔
محبت بے بس کر دیتی ہے، اور جب بے بسی حد سے سوا ہنے لگے تو بس اکھیاں اشک موتیوں کی طرح پرونے لگتی ہیں اور محبت کا مارا انس سجدے میں گر کر اس رب کاٸنات سے محبوب کے لے جھولی پھیلا دیتا ہے، کیونکہ اسےکامل یقین ہے جہاں اس دنیا کے در بند ہوتے ہیں وہاں اسکی کن فیکون کام کرتی ہے اور سب ہوتا چلا جاتا ہے۔
فیضی گاڑی کے ساتھ لگتا نیچے بیٹھتا چلا گیا۔
” میں اسے جیت لوں گا۔“
علی کے الفاظ کی بازگشت نے سینے پر کسی سنگ کی طرح وار کیا تھا۔
“ نین تارا۔“
فیضی بے بسی سے رو دیا تھا۔
” میں اعتراف کرتاہوں تم سے بے انتہا محبت کا۔“
وہ آنسوٶں کے بیچ بولا تھا۔
” میں شاید کبھی اعتراف نا کر پاتا اگر علی مجھے محبت میں کھو دینے کے ڈر سے آشناٸی نا دیتا۔“
وہ اعتراف کر رہا تھا۔
” میں فیضان سکندر آج ایک لڑکی کے کھو جانے کے خوف سے رودیا۔“
وہ پھٹتے سر کو تھامتے ہوۓ بڑبڑایا۔
” شاید اسے ہی محبت کہتے ہیں۔“
وہ بمشکل ڈراٸیونگ سیٹ تک پہنچا اور بیٹھ کے آنکھیں موند لیں۔
تکلیف ہی تکلیف کا جال بن گیا تھا ہر سو۔۔۔۔۔
فیضی نے کنپٹی سہلاٸی اور کچھ توقف کے بعد چابی اگنیشن میں گھماٸی۔
آنکھوں کے آگے مسلسل اندھیرا چھا رہا تھا، سر درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔
فیضی نے گاڑی روکی اور سر سٹیرنگ پر رکھے آنکھیں بند کر لیں۔
جیب میں موبائل تھرتھرایا تو فیضی سیدھا ہوا اور موبائل نکالا۔
نین تارا کی کال تھی، دل نے شدت سے خواہش کی تھی اظہار محبت کی پر وہ بے بسی سے دیکھ کر رہ گیا۔
” کیا میں علی کے لیے نین تارا کو چھوڑ پاٶں گا۔؟؟“
وہ خود ے سوال کرنے لگا۔
بڑھتے سر درد نے اسے پھر سے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر دیا۔
پانی کا گھونٹ لیتے اس نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی اور جیسے تیسے گھر پہنچ آیا۔
بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹا، بے بسی سی بے بسی محسوس ہو رہی تھی ہر طرف۔۔۔۔۔۔
” کیا محبت اتنا بے بس کر دیتی ہے کہ محبوب کی عزت کے لیے جداٸی کی راہ اختیار کرنی پڑ جاۓ۔۔۔۔۔۔“
بند آنکھوں سے وہ مسلسل سوچ رہا تھا۔
” مجھے تو علی نے بے بس بنا ڈالا، کیا کروں ۔۔۔۔؟ کہاں جاٶں۔۔۔؟تاعمر کے لیے محبت کو بھول کر خود ازیتی کی زندگی گزاروں یا دوست سے بغاوت کرکے اسکی آنکھوں میں ٹوٹتے اعتبار کی کرچیاں دیکھوں، اسے ازیت میں جیتا دیکھوں۔“
وہ اٹھ کے بیٹھ گیا تھا۔
ایک ان دیکھی آگ تھی، جو اسے جلا رہی تھی، جھلسا رہی تھی۔
❤❤❤
”نین تارا تم نے بلکل اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔؟“
علی آفس میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔
اسکی سوچوں کا محور نین تارا تھی، اسے پانے کا جنون اور حاصل کرلینے کی سوچ تھی۔
محبت ایسی تو نہیں ہوتی جو حاصل کرلینے کے لیے جنونیت اختیار کرلے چاہے محبوب کی زات اور عزت ہی مسخ ہو کر رہ جاۓ۔
ایسے منہ زور جزبے حوس ووقتی غبار کے تو ہوسکتے ہیں محبت کے نہیں، محبت میں دیوانگی تو سکتی ہے لیکن طوفانی جنونیت نہیں۔۔۔۔۔۔محبت تو سہج سہج کے دھیرے دھیرے وقت اور حالات کو ساتھ لیے چلتی ہے، کہیں قربان ہوتی ہے تو کہیں قربانی مانگ لیتی ہے، کہیں دل کی سلطنت پر نقرٸی قہقہوں کی گونج سلطنت دل کی فضا میں شوت برپا کرتی ہے تو کہیں جداٸی کے مہیب سناٹوں میں ہچکیوں کو گلا گھونٹتی خاموشی سے آنسو پی جانے کے گُر سکھاتی ہے۔
محبت آسمانی بجلی کی مانند چپکے سے آتی ہے اور چنگھاڑتی ہوٸی اجاڑتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ بجلی کی چنگھاڑ کی گونج بہت دور تک جاتی ہے جب کہ محبت کی چنگھاڑ بس دل میں دب کر رہ جاتی ہے، جلا کر دونوں ہی خاکستر کر دہتی ہیں۔
❤❤❤
” دلہے والے آگیے۔“
شور بلند ہوا تو پیلے جوڑے میں آزردہ حال مایوں کی دلہن کا دل اچھل کے حلق میں آگیا۔
مٹھاٸی اور میوہ جات کے بڑے بڑے تھال سٹیج کے داٸیں اطراف بنے چبوترے پر رکھ دیے گیے۔
شگن کی چیزیں کے تھال بھی ساتھ میں سجاۓ گیے۔
دلہن نے ایک نظر غلطاں بھی ڈالنی مناسب نا سمجھی۔
رسم شروع ہوٸی اور ادا آنسوٶں کے منہ زار ریلے اندر دباۓ چپ سادھے بیٹھی تھی۔
” لو جی آج تو پیا نام کی مہندی بھی لگ گٸ۔“
ادا کی کزن نقوشہ نے شرارت سے کہا۔
اداکے لب مسکرا بھی نا سکے۔
” احسن بھاٸی تو بچپن سے پسندکرتے تھے تمہیں۔“
ناز نے شرارتی لہجہ اپنایا۔
” فیضی کے ساتھ بھی تو بچپن سے منگنی ہوٸی تھی، ایک ملازمہ کے پیچھے لگ گیا۔“
نقوشہ نے منہ بنایا۔
ادا کے دل پہ لگی۔
” مجھے رشک آتا ہے نین تارا، فیضی نے تم سے محبت کی۔“
ادا کی پلکوں سے دو موتی ٹوٹے تھے۔
❤❤❤
” فیضی۔“
نین تارا پریشانی سے اسکے کمرے میں داخل ہوٸی۔
فیضی نے آنکھیں کھول کے اسکی طرف دیکھا، جو اسکے پاس ہوتے ہوۓ بھی اس سے دور ہونے کو تھی یا وہم ہورہے تھے اسکے۔
” آپ کی طبعیت تو بہت خراب لگ ہی ہے۔“
نین تارا اسکی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھ گھبرا گٸ۔
فیضی خاموشی سے اسکے چہرے پر چھاۓ فکر کے رنگوں کو دیکھتا رہا یا شاید محبت کی کوٸی رمق ٹٹول رہا تھا۔
نین تارا اسکے قریب بیٹھی اور اسکے پیشانی پر ہاتھ رکھ کے دیکھا۔
” اتنا تیز بخار ہے، کہا بھی تھا مت جاٸیں آفس۔“
نین تارا خفا ہو رہی تھی، فیضی کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔
دل جانے کیوں بچہ بن گیا تھا، بات بات پہ رونے کو آرہا تھا، شاید اسلیے کہ وہ سچی محبت کر بیٹھا تھا، بلکل بچوں کی مانند ہر ریا اور مفاد سے پاک محبت۔۔۔
” میرا سر دبادو۔“
فیضی نے اپناٸیت سے کہا اور آنکھیں بند کر لیں مبادا وہ آنکھوں میں امڈتے محبت کے جزبات کو غلط رنگ نا دے جاۓ۔
آہ۔۔۔۔!! کتنا بزدل، کمزور بنا دیتی ہے محبت، ہر معمولی بات کا خوف دل میں کھب کے رہ جاتا ہے۔
نین تارا دھیرے دھیرے اسکا سر دبانے لگی۔
فیضی کے دل میں طمانیت نے اپنے پنکھ پھیلاۓ کے بے بسی اور مایوسی غاٸب ہونے لگی۔
” تارا تم بہت اچھی ہو۔“
فیضی نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور مسکرایا، محبوب من کی زرا سی قربت نے دل کو زرد موسم کے دکھ سے نکال مسکراہٹ سے بھر دیا تھا۔
” آپ سے کم۔“
نین تارا جواباً مسکراٸی اور سر دبانے لگی۔
” تمہیں برا تو نہیں لگا، میں نے سر دبانے کا بولا۔“
فیضی بات کرنا چاہتا تھا اس سے، اعتراف محبت نے دل کو تشنہ کردیا تھا۔
” نہیں تو۔۔۔۔جب آپ کو ایک کالی بلی کے ساتھ چلتے، ساتھ کھاتے برا نہیں لگا فیضی تو مجھے کیوں لگے گا۔“
نین تارا سنجیدگی سے احسان مند لہجے میں بولی۔
” تم اس قابل تھی کہ تمہیں عزت دی جاۓ۔“
فیضی نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔
نین تارا کی آنکھیں بھرا گٸیں۔
” آج علی نے ۔۔۔۔۔“
وہ بھراٸی آنکھوں سے بتانے لگی۔
فیضی نے ضبط سے سنا اور اٹھ بیٹھا۔
” بہادر بنو۔۔۔۔دنیا بھری پڑی ہے ایسے لوگوں سے جو تنہا عورت پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔“
فیضی اسے سمجھانا چاہ رہا تھا۔
” جس سے تمہارا دل خوف کھاۓ اسکے کنارہ کر لو، شاید اسکے دل میں غلط ارادے ہوں جو تمہارا دل بھانپ جاۓ۔“
فیضی نے آسان سا حل بتایا۔
” ہاں فیضی ۔۔۔علی کو دیکھ کر میرے دل میں خوف آتا ہے۔“
نین تارا یکدم سے بولی۔
” مجھے دیکھ کر بھی آتا ہے۔۔۔؟“
جانے فیضی نے کیا سوچ کے پوچھا۔
” نہیں۔۔۔۔۔“
نین تارا نے نفی میں سر ہلایا۔
طمانیت کی ایک لہر فیضی کے دل میں اتر کر مطمئن کر گٸ۔
” میں کھانا کمرے میں بھجواتی ہوں۔“
نین تارا اٹھ گٸ۔
فیضی کافی حد تک سنبھل گیا۔
” محبوب مثل دوا ہے۔“
وہ بیڈ سے اٹھتے ہوۓ زیر لب مسکرایا۔
” سنو تارا۔“
فیضی نے پکارا تو وہ الٹے قدموں واپس آٸی۔
” یہیں لگوا لو، مل کے کھاتے ہیں، اکیلے کھایا نہیں جاۓ گا۔“
فیضی نے دل کی چندہ خواہش کو تسلیم کرلیا۔
”اوکے۔“
نین تارا سر ہلاتی چلی گٸ۔
فیضی واش روم میں گھس گیا۔
فریش ہو کہ نکلاتو تارا کھانا لگوا رہی تھی۔
“ ایسا کرو تم سوپ بناٶ۔“
تارا نے حکم دیا۔
فیضی مسکراتے ہوۓ اسکے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔
” میں سوپ نہیں پیوٶں گا۔“
فیضی نے منہ بنایا۔
” پینا پڑے گا۔“
نین تارا تحکم سے بولی تو فیضی زیر لب مسکرا دیا۔
”وہ بے بسی کے، ڈر کے لمحے بہت تکلیف دہ تھے۔“
فیضی نے سوچا۔
نین تارا بے نیازی سے کھانے میں مگن تھی اور فیضی اسکی بے نیازی پر تکنے میں مگن تھا۔
❤❤
” کہیں کوٸی کمی نہیں رہنی چاہیے۔“
نعمان کیٹرنگ والے سے مخاطب تھا۔
” آپ فکر نا کریں صاحب جی۔“
کیٹرنگ والا عزت سے بولا اور کام میں لگ گیا۔
حویلی کے ساتھ خالی ہوٸی زمین پر گاٶں والوں کے لیے ٹینٹ لگاۓ گیے تھے، باقی ماندہ مہمانوں کا انتظام حویلی کے اندر تھا۔
” چوہدری نعمان۔“
چوہدری سکندر نے پکارا۔
” جی ماموں جان۔“
چوہدری نعمان پلٹے۔
” فیضی کو مدعو نہیں کیا۔۔۔؟“
وہ پوچھ رہے تھے۔
” نہیں ماموں جان۔“
معمان نے صاف گوٸی سے کام لیا۔
” خاندان میں باتیں ہونگی، ابھی بھی بلا لو۔“
چوہدری سکندر نے کہا تو نعمان نے سر ہلایا اور فیضی کا نمبر ڈاٸل کر کے موبائل کان سے لگایا۔
” ہیلو۔“
فیضی کی نیند سے ڈوبی آواز میں بولا۔
” آج تمہارے چچا زاد اور پھوپھی زاد کی شادی ہے، ماموں جان کو لگتا ہے تمہیں یہاں ہونا چاہیے۔“
نعمان سرد لہجے میں بولا اور کال کاٹ دی۔
فیضی نے سر پر ہاتھ مارا، پچھلے ہفتے احسن نے اسے انواٸیٹ کیا تھا۔
” اوہ نو۔۔۔“
فیضی عجلت میں بستر سے نکلا۔
” نین تارا۔۔۔۔۔نہیں اسے رہنے دیتا ہوں، نیا تماشہ لگا دیں گے۔“
فیضی کچھ سوچتے ہوۓ کپڑےلیے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
تیاری کی اور احسن کی طتف جانے کے لیے نکلا۔
” کہیں جا رہے ہیں۔“
نین تارا جو لان میں چہل قدمی کر رہی تھی اے عجلت میں دیکھ کر بولی۔
” احسن اور ادا کی شادی ہے، میں بھول گیا تھا۔“
فیضی مسکرا کر بولا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
گاڑی فل سپیڈ سے سڑک پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی، دس بج رہے تھے گیارہ بجے روانگی بارات تھی، ایک گھنٹہ تھا اسکے پاس۔
فیضی نے ایکسلیٹر پر دباٶ بڑھایا اور گاڑی پانچویں گٸیر میں لے گیا، سڑک پر اکا دکا گاڑیاں تھیں اسے کنٹرول کرنے میں مسٸلہ نہیں ہورہا تھا۔
پینتالیس منٹ کے اندر وہ احرام چچا کے گاٶں میں داخل ہو گیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *