Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12
” فیضی رکیں۔۔۔۔۔۔“
نین تارا بھاگتی ہوٸی اسکے پیچھے آٸی۔
فیضی رکا اور اسکی طرف گھوم گیا۔
” آپ نے گیٹ ٹو گیدر کا کہا تھا، ارادہ بدلا ہے یا بھول گیے ہیں۔“
نین تارا نے پوچھا۔
” بھول گیا تھا لیکن اب ارادہ بدل رہا ہوں، پھر کبھی چلیں گے۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” آپ تھکے تھکے لگ رہے ہیں، چاۓ بنا دوں۔“
نین تارا فکرمندی سے بولی۔
فیضی نے ایک گہری نظر اس پہ ڈالی۔
” تم مجھے الجھا رہی ہو نین تارا، میں فیضان سکندر جس نے کبھی کسی کے لیے سٹینڈ نہیں لیا، آج تمہارے لیے یہ بھی کر آیا ہوں۔“
فیضی سینے پہ ہاتھ باندھے پر سوچ لہجے میں بولا۔
” آپ کی باتیں مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔“
نین تارا نے الجھن سے اسے دیکھا۔
” چاۓ بنا کے لے آٶ پھر بتاتا ہوں۔“
فیضی مسکراتے ہوۓ مڑ گیا۔
نین تارا چاۓ بنانے چل دی۔
چاۓ کے دو کپ ڈش میں رکھے وہ اسکے کمرےکی طرف بڑھی۔
دروازہ کھلا ہی تھا، نین تارا اندر داخل ہو گٸ۔
” چاۓ۔۔“
نین تارا اکپ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی۔
” شلوار قمیض میں بہت پیارے لگتے ہیں آپ۔“
نین تارا ایک کپ اٹھا کے پیچھے ہوگٸ اور صوفے سے ٹیک لگا لی۔
” اچھا۔۔۔۔واقعی۔“
فیضی محظوظ ہوا۔
” جی۔“
نین تارا اسے دیکھتے ہوۓ بولی۔
” تم بھی تو دن بدن پیاری ہوتی جا رہی ہو کالی بلی۔“
فیضی شرارتی لہجے میں بولا۔
شام کے واقعے کی ٹینشن ہوا میں زاٸل ہونے لگی تھی۔
” آپ کااحسان ہے ورنہ یہاں تلک کا سفر میں تا عمر بھی نہیں کرپاتی۔“
نین تارا احسان مندی سے بولی۔
” طبعیت کیسی ہے تمہاری اب۔“
فیضی نے چاۓ کا سپ لیا۔
” بڑی جلدی خیال نہیں آگیا۔“
نین تارا کے لہجے میں اپناٸیت بھرا شکوہ تھا۔
فیضی کے دل کو کچھ ہوا،
” سوری زہن سے نکل گیا تھا۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا ہنس دی۔
” میں تمہارے لیے کچھ لایا تھا دبٸ سے۔“
فیضی کپ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ اٹھا اور الماری کی طرف بڑھا۔
چھوٹا سا شاپنگ بیگ نکالا اور اسکی سامنے رکھ دیا۔
” کیا ہے۔“
نین تارا نے پوچھا۔
” دیکھ لو۔“
فیضی ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ ٹیک لگا کے بیٹھ گیا۔
” کسی کو کیا خبر تھی، سیاہی کے پیچھے ایک خوبصورت لڑکی چھپی ہے، بد صورت لگنے والی آنکھوں کی آج چھب ہی نرالی ہو گٸ ہے۔“
فیضی چاۓ کے سپ لیتا مسلسل اسے دیکھ رہا تھا۔
نین تارا بال کانوں کے ہیچھے اڑستی مگن انداز میں پیکنگ کھول رہی تھی اور فیضی اسکی بے نیازی پر اسے تکے جا رہا تھا۔
” واٶ۔۔۔۔موباٸل۔“
نین تارا ستاٸشی انداز میں بولی۔
فیضی اسکے چہرے پر کھلتے رنگوں کو دیکھ مسکرا دیا۔
” پسند آیا۔“
فیضی نے اسے نظروں میں رکھتے ہوۓ پوچھا۔
”بہت۔“
نین تارا چہکی۔
” تھینکس آلوٹ فیضی۔“
نین تارا ممنونیت سے بولی۔
” یو آر موسٹ ویلکم نین تارا۔“
فیضی اسی کےانداز میں بولا۔
” اوہ یاد آیا۔۔۔۔میں آپ سے کچھ پوچھنے آٸی تھی۔“
نین تارا کچھ یاد آنے پہ بولی۔
” میں اپنے گھر والوں سے مل لوں۔۔“
نین تارا نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔
” چلی جانا صبح ڈراٸیور کے ساتھ، لیکن شام تک واپس آجانا۔“
فیضی نے اجازت دے دی۔
” تھینکس۔“
نین تارا اٹھتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے سر ہلادیا۔
” فیضی بغاوت کی اجازت نہیں ہے، ادا جیسی بھی ہے مجھ سے منسوب ہے، مجھے نین تارا اور اس میں فرق رکھنا چاہیے۔“
فیضی نے دھڑکتے دل کو سرزنش کی۔
” نین تارا آسمان پر چمکتا ایک ستارہ ہے، جسے میں دیکھ تو سکتا ہوں لیکن پا نہیں سکتا۔“
فیضی ہاتھ سر کی پیچھے باندھے چھت کو گھورتے ہوۓ سوچ رہا تھا۔
” نین تارا۔“
فیضی بڑبڑایا۔
” ادا فیضان۔۔۔۔اونہہ کچھ جچا نہیں۔“
وہ خود سے ہمکلام تھا۔
” تارا فیضان۔۔۔“
ہنستےہوۓ بڑبڑایا، دل نے دھڑکنے میں شدت اختیار کی۔
” فیضان سکندر بابا جان تمہارا قتل کر دیں گے، نین تارا کو بہو نہیں بناٸیں گے۔“
فیضی اپنی بے خودی پر خود ہی بول اٹھا۔
نین تارا کمرے میں آٸی اور خوشی سے اچھلنے لگی۔
موبائل آن کیا تو سم رجسٹرڈ تھی۔
” ادا بی بی کے موبائل جیسا ہے۔“
وہ موبائل الٹ پلٹ کے دیکھنے لگی۔
فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر، سنیپ چیٹ واٹس ایپ سب انسٹال تھا۔
نین تارا فیسبک پر پکس دیکھنے لگی۔
رات گیے تک وہ موبائل میں مگن رہی۔
”چل سو جا نین تارا صبح گاٶں جانا ہے۔“
نین تارا نے موباٸل ساٸڈ پر رکھا اور لاٸٹ آف کر کے لیٹ گٸ۔
” اپنی حالت دیکھوادا۔۔۔۔بکھرے بال، سلوٹ زدہ کپڑے یہ ہماری ادا تو نہیں ہے۔“
ارم اسے دیکھتے ہوۓ دکھ سے بولی۔
” توکیا کروں بھابھی۔“
ادا روتے ہوۓ چلاٸی۔
” فیضی کے لیے نین تارا اتنی اہم ہو گٸ ہے۔“
وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔
” بابا جان ہیں نا، وہ کچھ کر لیں گے۔“
ارم نے دلاسا دینے کی کوشش کی۔
” آپ کو پتہ ہےنا ضد تو اس میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے،ہماری غلطی نے نین تارا کو اسکی ضد بنا دیا ہے، وہ نین تارا کو کبھی نہیں چھوڑے گا، میں یقین سے کہہ سکتی ہوں۔“
ادا سنجیدگی سے بولی۔
” فیضی واقعی بہت ضدی ہے پر تم ہی سوچو وہ اس سے شادی تو نہیں کرسکتا نا۔“
ارم نے ناکام سی کوشش کی۔
” وہ سب کر سکتا ہے۔“
ادا نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔
” کیا ہوا ادا۔۔؟“
نعمان کمرے میں داخل ہوا۔
” بھیا فیضی کا لہجہ دیکھا تھا آپ نے، ایسے تو کبھی آپ نے بھی بات نہیں کی۔“
ادا ہچکیاں لیتے ہوۓ بولی۔
” وہ غصے میں تھا اسلیے بول گیا، آپ دونوں نے بھی کم نہیں کیا اسکے ساتھ، ماموں جان نے بہت انسلٹ کی اسکی۔“
نعمان نے کہا تو ادا نے سر جھکا لیا۔
” اسنے اپنی انسلٹ خود کرواٸی ہے، چھوڑ جاۓ اس کم زات کو واپس۔“
ارم تنک کے بولی۔
” ارم وہ اسے کسی غلط ارادے سے نہیں لے گیا، اسے ماڈلنگ فیلڈ میں بھیجنا چاہتا ہے، اب واپس بھیجے گا تو جو پیسہ نین تارا کی گرومنگ پہ خرچ کیا ہے ڈوب جاۓ گا۔“
نعمان غصیلے سخت لہجےمیں بولا۔
” تو یہ بات ہمیں نہیں بتا سکتا تھا۔“
ارم کہاں خود پرالزام برداشت کرسکتی تھی۔
” تم لوگ سنو تو پھر نا۔“
نعمان درشتی سے بولا۔
” ادا فیضی تمہارے ساتھ منسوب ہے، وہ یہ بات کبھی نہیں بھولا، تمہیں بھی چاہیے اس پر اعتبار کرو، یوں بے وجہ واویلا مچا کر نا صرف تم اسکی نظروں میں گرو گی، وہ تم سے اکتا جاۓ گا۔“
نعمان سخت باتیں نرم لہجے میں کر کے کمرے سے نکل گیا۔
ادا نے بھابھی کی طرف دیکھا تو ارم نے کندھے اچکاۓ اور نعمان کے پیچھے نکل گٸ۔
اسکا کورس پورا ہو چکا تھا، اکیڈمی وہ لگا تار جاتی تھی۔
ڈارک ریڈ شرٹ اور بلیو جینز پہنے، برینڈڈ بیگ بازو میں ڈالے ہاتھ میں رسٹ واچ پہنے اور قیمتی موبائل تھامے، پیروں میں فل ہاٸی ہیلز پہنے وہ اپنے سلکی مہرون بال کانوں کے پیچھے اڑستی برینڈڈ گاگلز لگاۓ باہر نکلی۔
دوپٹہ کندھے پر جھول رہا تھا۔
” گاٶں جانا ہے۔“
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولی۔
اوپر ریلنگ پر جھکے فیضی کے ہونٹوں پر تبسم نے ڈیرے آن جماۓ۔
” بیوٹیفل۔“
فیضی کی نظریں اور دل اسکے سلکی مہرون بالوں میں اٹک کےرہ گیا تھا۔
گاڑی سڑک پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی جب نین تارا کا موبائل بج اٹھا۔
” ہیلو۔“
نین تارا نے کال ریسیو کی۔
” اتنی جلدی تھی گاٶں پہنچنے کی، میرا جوس بھی مس کروا دیا۔“
فیضی نے شکوہ کیا۔
” اوہ نو۔۔۔۔۔میں بھول گٸ۔“
نین تارا نے پیشانی پر ہاتھ مارا۔
” گاڑی واپس لو۔“
نین تارا نے ڈراٸیور سے کہا۔
موبائل کان سے لگاۓ فیضی کے ہونٹوں پر شرارتی مسکان بکھر گٸ۔
” ایم سو سوری فیضی۔۔۔۔ایکساٸٹمنٹ میں میں بھول گٸ۔“
نین تارا شرمندہ سی اسکی طرف بڑھی۔
” ناٹ ڈو اٹ اگین۔“
فیضی نے تنبیہہ کی۔
” اوکے سر۔
نین تارا نے سر تسلیم خم کیا تو دونوں ہنس دیے۔
فیضی اسکے پیچھے پیچھے کچن میں چلا آیا۔
” تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں تارا، کلر چینج مت کرنا، یہ بہت سوٹ کرتے ہیں تم پر۔“
فیضی تعریفی لہجے میں بولا۔
نین تارا نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا۔
” جتنی خوبصورت لگ رہی ہو، ضرور کسی کا دل چراٶ گی۔“
فیضی نے لو دیتے لہجے میں کہا۔
نین تارا نے اچنبھے سے مڑ کے دیکھا، فیضی کی نظروں میں عجب سا بدلاٶ دیکھ اسکا دل دہل گیا، ہونٹوں پر آٸی مسکان غائب ہونے لگی۔
” کیا ہوا۔۔۔۔۔مزاق اچھا نہیں لگا۔“
فیضی کو اپنی بے وقوفی کا احساس ہوا۔
” نہیں ۔۔۔ایسی بات نہیں ہے۔“
نین تارا کا لہجہ سرسرانے لگا۔
” لُک تارا۔۔۔۔واٹ ہیپنڈ۔۔۔“
فیضی نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔
” کک۔۔۔کچھ نہیں۔“
نین تارا گھبرا گٸ۔
” فیضی عزتیں پامال نہیں کرتا، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔“
فیضی جوس لیے کچن سے نکل گیا۔
نین تارا کا رکا سانس بحال ہوا۔
اس نے پانی پی کر خود کو کمپوز کیا اور لاٶنج میں فیضی سے اجازت لیتی نکل آٸی۔
” سنو تارا۔“
فیضی نے آواز لگاٸی۔
” جی۔“
نین تارا یک لخت مڑی۔
” رات گاٶں میں رکنا تمہارے لیے سیو نہیں ہے، ہر حال میں واپس آجانا۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا تو نین تارا سر ہلا گٸ۔
فیضی کی سنجیدگی دیکھ دل کو ڈھارس بندھاٸی کہ وہ سب وہم تھا۔
” اس گھر کے سامنے روک دیں۔“
نین تارا نے اشارہ کیا۔
گاڑی رکی تو وہ بیگ لیے گاڑی سے نکلی۔
اس وقت سب ملازمين حویلی سے آجاتیں تھیں، سواۓ ایک دو کے۔
” السلام وعلیکم اماں۔“
نین تارا گھر داخل ہوٸی تو سامنے بیٹھی ماں سے لپٹ گٸ۔
” نین تارا۔“
شکیلہ کا منہ کھل گیا۔
فضیلہ اسکے رنگ ڈھنگ دیکھ جم سی گٸ۔
” کیسی ہیں آپ اماں۔۔۔بہت یاد آٸی آپ کی۔“
نین تارا نے گاگلز بالوں پر لگا دیے۔
” تو تو کالی تھی، اتنی گوری کیسے ہو گٸ۔“
شکیلہ حیرت سے گنگ تھی۔
” فیضی نے ٹریٹمنٹ کروایا، مطلب دواٸی لے کے دی۔“
نین تارا مسکراٸی۔
” فضیلہ تم کیوں ایسے کھڑی ہو، ملو گی نہیں۔“
نین تارا خود ہی اٹھ کے اسکے گلے لگ گٸ۔
” یہ موبائل۔۔۔۔؟“
فضیلہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے بہن کے انداز دیکھ رہی تھی۔
” فیضی نے لے کر دیا۔“
نین تارا ہنسی۔
”اماں بابا کہاں ہیں۔“
نین تارا نے ارد گرددیکھا۔
” زمینوں پہ۔“
شکیلہ کی زبان تالو سے جا چپکی۔
” نی نین تارا یہ تو ہے۔“
اسکی پکی سہیلی صبا دوڑی آٸی۔
” اف اللہ۔۔۔۔۔کیا میرے سینگ نکل آۓ ہیں۔“
نین تاراپیشانی پہ ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔
” توں تو نری میم لگ رہی ہے نین تارا۔“
صبا کی حیرت ہی کم نہیں ہو رہی تھی۔
گاٶں کی عورتوں کا یہی حال تھا، نین تارا اکتا گٸ تھی۔
فضیلہ حسد کی آگ میں جھلسنے لگی تھی۔
” کیا فیضی فیضی لگا رکھا ہے، فیضی صاحب نہیں کہہ سکتی، شہر کیا چلی گٸ تیری عقل ہی گھاس چرنے نکل گٸ۔“
فضیلہ بھڑک کے بولی۔
” کیا ہوا فضیلہ تم ایسے کیوں بول رہی ہو۔۔۔۔شہر میں صاحب نہیں چلتا۔“
نین تارا نرمی سے بولی۔
”ہونہہ۔“
فضیلہ دھپ دھپ کرتی گھر سے نکل گٸ۔
” تو دفعہ کر اسے ادھر بیٹھ میرے پاس۔“
شکیلہ نے اسے اپنے پاس بٹھایا۔
” یہ سب تجھے فیضی صاحب نے لے کر دیا ہے۔۔؟“
وہ دھیمے لہجےمیں پوچھ رہیں تھیں۔
” ہاں اماں۔“
نین تارا نا سمجھی سے بولی۔
” تیرے ساتھ کچھ کیا تو نہیں۔؟“
تشویش سے پوچھا۔
” کیسی باتیں کر رہی ہے اماں، فیضی کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہے، وہ اتنے گرے پڑے نہیں ہیں، خاندانی مرد ہیں وہ۔“
نین تارا کو برا لگا۔
” تو اب مت جانا، کسی اور کو بھیج دیں گی ارم بی بی۔“
شکیلہ نے فیصلہ سنایا۔
” پر کیوں اماں۔“
نین تارا کو جھٹکا ہی لگ گیا۔
” زرا آٸینہ دیکھ کتنی سوہنی ہو گٸ ہے، اگر فیضی صاحب کی نیت خراب ہو گٸ تو ہم منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔“
شکیلہ نے اسکی کم عقلی پر ماتم کیا۔
” اماں یاد ہے جب میں جانے سے منع کر رہی تھی، تونے کیا کہا تھا۔“
نین تارا نے ابرو سکیڑے۔
” آپ نے کہا تھا عزتوں سے پیٹ نہیں بھرتے، اب کیوں تجھے عزتوں کا خیال آگیا۔“
نین تارا تنک کے بولی۔
” تب تو اتنی سوہنی نہیں تھی۔“
شکیلہ نے گویا وضاحت دی۔
” مجھے یہ روپ بھی فیضی نے ہی دیا ہے، لاکھوں روپے خرچ کیے اس نے مجھ پہ، مجھے دو لاکھ کے انجیکشن لگواۓ ہیں، یہ موبائل ستر ہزار کا ہے، یہ کپڑے اور جوتے پندرہ ہزار کے اور سب سے بڑی بات میرے لیے گاڑی ارینج کی ہے۔“
نین تارا بولی تو شکیلہ کا منہ کھل گیا۔
” تو باٶلی ہو گٸ ہے تارا، وہ ضرور تجھے خوبصورت بنا کے بیچ دے گا۔“
شکیلہ کو نیے وہم ستانے لگے۔
” اماں کیا ہو گیا ہے تجھے۔“
نین تارا کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔
” ادھر آ میرے ساتھ۔“
وہ اسے کمرے میں لے گٸیں۔
” ادھر بیٹھ جاچپ چاپ ۔۔۔۔۔باہر نکلی تو ٹانگیں توڑ دوں گی۔“
شکیلہ نے اسے دھکا دیا اور باہر سے کنڈی چڑھا دی۔
” اماں میری بات تو سن۔“
نین تارا دروازہ بجانے لگی۔
شکیلہ نے باہر سے بڑا سا تالا لگا دیا۔
جاری ہے
