Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16
نین تارا جوس لیے فیضی کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب راستے میں علی آگیا۔
”گڈ مارننگ۔“
علی خوشگواریت سے بولا۔
” مارننگ۔“
نین تارا نے سنجیدگی سے جواب دیا اور ایک طرف سے نکل گٸ، علی بھی اسکے پیچھے پیچھے چلا آیا۔
فیضی منہ بناتے اٹھ بیٹھا۔
مندی مندی آنکھوں سے جماٸی روکتا وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
نین تارا نے گلاس میں جوس انڈیل کر علی کی طرف بڑھایا۔
علی نے مسکراتے ہوۓ تھام لیا، نظریں اب بھی اسکے سنجیدہ چہرے پر تھیں۔
نین تارا ہاتھ مسلتے صوفے پر بیٹھ گٸ۔
” کیا ہوا پریشان لگ رہی ہو۔“
فیضی تولیے سے منہ تھپتھپاتا واش روم سے نکلتا اسے ہاتھ مسلتے دیکھ چکا تھا۔
” گاٶں واپس جانا ہے۔“
نین تارا سر جھکاۓ بولی۔
” اور کچھ۔۔۔“
فیضی گلاس میں جوس انڈیلتے بولا۔
علی خاموش رہا۔
” بس۔“
نین تارا نے سر ہلایا۔
” شام میں چھوڑ آٶں گا، اس سے پہلے کہیں جانا ہے۔“
فیضی نے کہا تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگٸ۔
” ریڈی ہو جاٶ تم۔“
فیضی نے حکم دیا۔
نین تارا سر ہلاتے کمرے سے نکل گٸ۔
” پلین کیا ہے۔۔۔؟“
علی نے فیضی کے وجیہہ چہرے کو نظروں میں رکھا۔
” وہی جو تم سوچ رہے ہو۔“
فیضی بیڈ سے اٹھتے ہوۓ بولا۔
علی نے الجھ کے دیکھا، فیضی مسکراہٹ اسکی طرف اچھالتا واش روم میں گھس گیا۔
گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتا وہ آٸینے کے سامنے آگیا۔
” نظر لگاٶ گے کیا۔؟“
فیضی نے علی کو گھورتا پا کر کہا۔
” بلی کو چھیچھڑوں کے خواب۔“
علی نے منہ مروڑا اور کمرے سے نکل گیا۔
فیضی تیار ہو کر ٹیبل پر آگیا، علی پہلے ہی موجود تھا۔
علینہ اور شازیہ ناشتہ لگا رہیں تھیں۔
” نین تارا کو بلاٶ۔“
فیضی نے شازیہ کو مخاطب کیا۔
سی گرین شرٹ اور کیپری میں ملبوس نین تارا دوپٹہ کندھے پر ٹکاۓ ہلکے پھلکے میک کے ساتھ ٹیبل پر آبیٹھی۔
” جانا کہاں ہے۔؟“
فیضی کی پلیٹ میں لوازمات نکالتے ہوۓ بولی۔
فیضی موبائل میں مصروف تھا۔
” ناشتہ کرو پھر بتاتا ہوں۔“
فیضی موبائل رکھتے ہوۓ بولا۔
نین تارا ناشتہ کرنے لگی۔
ناشتے سے فارغ ہو کر فیضی نین تارا کو لیے آفس کے لیے نکل گیا، جبکہ علی گھر چلا گیا۔
” یہ میرا آفس ہے۔“
فیضی اندر داخل ہوا۔
” مطلب ہمارا۔۔۔۔یہ میرا ٹیبل ہے اور یہ علی کا۔“
فیضی تصیح کرتے ہوۓ بولا۔
نین تارا ستاٸش سے دیکھنے لگی۔
” مارننگ سر۔“
میک اپ آرٹسٹ نے کہا۔
” مارننگ ٹو۔“
فیضی مسکرایا۔
” یہ میک اپ روم ہے، یہاں ہم ماڈلز تیار کرتے ہیں۔“
جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اسکے ساتھ چلتا اسے بتا رہا تھا۔
یہ ماڈلنگ پریکٹس ایریا ہے۔“
وہ ایک بڑے ہال نما کمرے میں آگیے جہاں بلیک ماربل ریمپ بنے ہوۓ تھے۔
” یہ کپ بورڈز ہیں،ماڈلز کے لیے ڈیزائنر ڈریسز ارینج کیے گیے ہیں۔“
وہ ریمپ پر اسکے ساتھ چلتا کمرے کے آخر میں چلا آیا۔
” ماڈلز یہیں آکر پریکٹس کرتیں ہیں۔“
فیضی ایل ای ڈی پر ماڈلز کی تصاویر دکھانے لگا۔
” یہ سب ہماری ماڈلز ہیں۔“
فیضی نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
” آپ کو کیا فاٸدہ ہوتا ہے۔۔۔؟“
نین تارا نے سنجیدگی سے سوال داغا۔
فیضی مسکرا دیا اور اسکے مقابل آکھڑا ہوا۔
” ہم ہر ماڈل کو لانچ کرتے وقت کنٹریکٹ کرتے ہیں، دو سال تک ماڈل کو ہمارے ساتھ کام کرنا ہوگا، وہ جو بھی شو یا کمرشل کرے گی اس میں ففٹی پرسنٹ ہمارا ہوگا، اس سے ہمارا ماڈل کی گرومنگ پر کیا گیا خرچ بھی نکل آتا ہے اور پرافٹ بھی۔“
فیضی مسکرااتے ہوۓ اسے بتانےلگا۔
” زندگی بنانے کا ایک آسان موقع فراہم کرتا ہوں۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
” جب میں نے تمہیں حویلی میں غور سے دیکھا تھا، میں جان گیا تھا، تمہاری سانولی رنگت کےپیچھے ایک حسین روپ ہے، تمہارے نین نقش بہت خوبصورت تھے، اور سب سے بڑھ کر تمہاری آنکھیں۔۔۔۔“
وہ ایک لمحے کا رکا۔
” تمہاری آنکھیں جو باعث مزاق تھیں، اب تمہارے لیے بأعث تعریف ہونگیں۔“
وہ سنجیدگی سے مسکرایا تھا۔
” آپ مجھے ماڈل بنانے کے لیے لاۓ تھے۔“
نین تارا متحیر سی بولی۔
فیضی اسے آٸینے کے سامنے لے آیا۔
” میں نے تم پر پیسہ فضول میں نہیں خرچا۔“
وہ اسے کے پیچھے کھڑا تھا۔
” اپنے اس روپ کو کیش کرو گی یا واپس گاٶں جا کر ملازمہ کی زندگی بسر کرو گی۔۔۔؟“
فیضی نے فیصلہ اس پر چھوڑ دیا۔
” یاد رکھنا اب تمہیں کم از کم حویلی میں جگہ نہیں ملے گی، ادا تمہاری دشمن ہو گٸ ہے۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
نین تارا نظریں جھکاگٸ۔
” تمہارے پاس موقع ہے، نام بنانے کا، دولت کمانے کا۔“
فیضی معدوم سا بولا۔
نین تارا خاموش رہی۔
” فیصلہ تمہارا ہے، میں نے جوجنگ اپنے خاندان سے چھیڑی ہے اسکی وجہ صرف تم ہو، اگر یوں واپس چلی جاٶ گی تو میرا تمہارے لیے سٹینڈ لینا، لڑنا سب بیکار چلا جاۓ گا۔“
فیضی کو دکھ ہو رہا تھا اسکے واپس جانے کی ضد پر۔
” میری منگیتر تمہارے مستقبل کی بھینٹ چڑھ گٸ۔“
فیضی جیبوں میں ہاتھ گھساۓ افسردگی سے وہاں سے نکل گیا۔
” میری منگیتر تمہارے مستقبل کی بھینٹ چڑھ گٸ۔۔۔“
فیضی کا جملہ اسکے دل پر لگا۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گٸیں۔
” نیچ زات، بدزات، جاہل۔۔۔۔“
جہاں آرا کے الفاظ من و عن یاد آۓ۔
” دو ٹکے کی نوکرانی۔“
ارم کے الفاظ ہتھوڑے بن کے برسے۔
آنسو سبز آنکھوں کی حد سے نکل رخساروں کی دہلیز چومتے چلےگیے۔
وہ ہتھیلی کی پشت سے آنکھیں صاف کرتی وہاں سے نکل کو فیضی کے آفس میں چلی آٸی۔
علی اپنا ٹیبل سنبھالے لیپ ٹاپ کھولے فیضی کو بریفنگ دے رہا تھا۔
فیضی نے ایک نظر نین تارا کو دیکھا اور علی کی طرف متوجہ ہوا۔
علی نین تارا کو دیکھ رک گیا۔
“ مجھے پریکٹس کون کرواۓ گا۔“
وہ فیضی سے مخاطب تھی۔
” گڈ چواٸس۔“
فیضی کھل کے مسکرایا۔
وہ مسکراتی ہوٸی کرسی سنبھال گٸ۔
”آٸی ایم آلویز دیر۔“
علی نے گلا کھنکارا۔
فیضی نے اثبات میں سر ہلایا۔
” اووری فلیم سویڈن کو اوکے کردوں۔۔۔؟“
علی نے فیضی کی طرف دیکھا۔
”پہلے اسے ریڈی تو کر لو۔۔۔۔“
فیضی نے کہا اور لیپ ٹاپ کھول لیا۔
” ریڈ کارپٹ میں ایک مہینہ باقی ہے۔“
علی نے اسکے سوال کرنے سے قبل جواب دے دیا۔
” ریڈ کارپٹ کے بعد ہی کسی کمرشل کو اوکے کرنا۔“
فیضی نے کہا۔
” اوکے باس۔“
علی نے سر تسلیم خم کیا۔
” ہاۓ ینگ مینز۔“
پینتیس سالہ خاتون آفس میں داخل ہوٸی۔
” ہاۓ مس عالیہ۔“
فیضی مسکرایا۔
” ہو از شی کیوٹ کیٹ۔“
وہ اسکی آنکھوں کودیکھتی بولی۔
” شی از آور نیو ماڈل ۔۔۔۔مس نین تارا۔“
فیضی نے انٹروڈکشن کروایا۔
” ہاۓ نین تارا۔“
عالیہ بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتی بولی۔
” ہاۓ مس عالیہ۔“
نین تارا نے اسی کے انداز میں کہا۔
فیضی اور علی نے ہنسی ضبط کی، جبکہ عالیہ خفیف سی ہو گٸ۔
” نین تارا مس عالیہ ہماری ماڈل میکر ہیں۔“
فیضی نے مزید بتایا۔
نین تارا نے نا سمجھی سے دیکھا۔
” مطلب۔۔۔۔۔۔لڑکی سے ماڈل بننے کا سفر یہی طے کرواتیں ہیں۔“
فیضی نے سمجھایا تو نین تارا سر ہلا گٸ۔
” چلیں نین تارا۔“
مس عالیہ اٹھتے ہوۓ بولی۔
نین تارا اسکے ساتھ چل دی۔
” کیسے کیا یہ۔۔۔۔“
علی کا اشارہ نین تارا کے ماڈلنگ کی طرف آنے پر تھا۔
” کر لیا بس۔“
فیضی آسودگی سے مسکرایا۔
” ماننا پڑے گا۔“
علی ابرو اٹھاتا متحیر سا بولا۔
فیضی اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
کریم کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس دوپٹہ کچھ کندھے پر جھول رہا تھا اور کچھ نیچے کارپٹ پر اسکے پیچھے پیچھے آرہا تھا،بال ہمیشہ کی طرح سٹریٹ اور کھلے تھے، موبائل ہاتھ میں پکڑے وہ ٹہل رہی تھی۔
” فیضی تمہیں مجھے ٹھکرانے کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔“
وہ چبا چبا کے بولی گویا سامنے براجمان ہو۔
” میں تمہیں آسمان یوں نیچے زمین پر پٹخوں گی، میرے ادا افضل ہونے کا یقین آجاۓ گا۔“
ادا ٹہلتے ہوۓ بڑبڑا رہی تھی۔
چہرے پر الجھن، غصے اور نفرت ایک گہرا جال بکھرا نظرآرہا تھا۔
” بہت مان ہے نا تمہیں خود پر اور اپنی ضد پر۔۔۔۔۔“
ادا بیڈ کے کنارے پر ٹک گٸ۔
” تمہیں برباد تو ہونا ہوگا۔“
وہ استہزایہ مسکراٸی۔
” تمہاری بربادی شروع ہوتی ہے اب۔۔۔۔۔“
ادا نے دایاں ابرو اٹھایا اور کھل کے مسکراتی بیڈ پر پیچھے کو لیٹ گٸ۔
” ادا افضل کی ایگو ہرٹ کی میری جان۔“
فیضی کی تصویر سے محو گفتگو تھی۔
” مجھے تم سے ملنا ہے علی، شام پانچ بجے، ” دا ایوننگ لاٸٹ“ ہوٹل کے ٹیبل نمبر 12پر تمہاری منتظر رہوں گی“
علی کو میسیج سینڈ کیے وہ کھل کے مسکراٸی، اس بات سے انجان کے انا کی اس جنگ میں نقصان اسی کا ہوگا۔
نین تارا ہیل پہنے ریمپ پر چلنے کی کوشش کر رہی تھی، بیچ بیچ میں لڑکھڑا کر گر جاتی۔
” ہیل بہت لمبی ہے۔“
وہ منہ بنا کے اٹھی۔
” اس سے بھی لمبی ہیلز ہوتیں ہیں۔۔۔“
مس عالیہ نے اسے اٹھایا۔
“practice makes the man perfect ”
مس عالیہ مسکراٸیں۔
” ماڈلنگ فیلڈ کا اہم پوائنٹ ہے ہیلز۔“
مس عالیہ کافی نرم شخصیت کی حامل تھیں۔
نین تارا نے پھر سے ہمت باندھی اور چلنے لگی۔
” میں تھک گٸ ہوں۔“
نین تارا نے برا سا منہ بنایا۔
” اوکے آ جاٶ، آج کے لیے اتنا کافی ہے۔“
مس عالیہ اسے دوسری چیزوں کے بارے میں سمجھانے لگیں۔
” کیسا رہا پہلا دن۔“
فیضی نے اسکے چہرے کو بغور دیکھا۔
” اچھا رہا۔“
نین تارا بیٹھ گٸ۔
” یہ فیلڈ کافی دلچسپ ہے، یو نو نٸے زرق برق لباس، جیولری، جوتے اور میک اپ۔۔۔۔“
نین تارا ماڈلز کے ڈریسز، جیولری اور میک اپ دیکھ کے آرہی تھی۔
فیضی اسکی سادگی پر مسکرا دیا۔
” ہو آر ٹو مچ انو سینٹ نین تارا۔“
علی کھل کے ہنسا تھا۔
نین تارا نے ایک نظر دیکھا۔
فیضی نے ٹاٸم دیکھا تو چار بج رہے تھے۔
”ہم نکلتے ہیں، تم کام ختم کر کے ہلنا۔“
فیضی نے تنبیہہ کی۔
علی نے منہ بسورا اور کام کرنے لگا۔
” تارا ڈراٸیونگ سیکھو گی۔“
فیضی نے موبائل میں مصروف بیٹھی تارا کو پکارا۔
” آں۔۔۔۔فلحال نہیں۔“
تارا نے منہ بنایا۔
” اوکے یور وش۔“
فیضی ہنسا۔
”آٸس کریم تو کھاٶ گی نا۔۔۔؟“
فیضی نے گاڑی ساٸڈ پر روکی۔
” کیوں نہیں۔۔۔“
وہ ہنسی۔
فیضی اسکی مسکراتی سبز آنکھوں کے سحر میں جکڑا گیا۔
” چلو پھر۔۔۔“
وہ کہتا ہوا گاڑی سے نکل آیا۔
”کونسا فلیور۔۔۔۔؟“
کرسی سنبھالتے ہوۓ بولا۔
” امممم۔۔۔۔پستہ۔“
وہ سو چتے ہوۓ بولی۔
” سوچ تو ایسے رہی تھی، کوٸی نیا فلیور ایجاد کرنے والی ہو۔“
فیضی ہنسا۔
آٸس کریم سے لطف اندوز ہو کر وہ گھر آگیے۔
نین تارا لان میں کرسی پر بیٹھ گٸ، جبکہ فیضی اپنے کمرے میں چلا گیا۔
علی کام میں مصروف تھا، جب اسکا موباٸل رنگ کرنے لگا۔
” ہاں ادا میں بس نکل رہا ہوں۔“
علی نے کہا اور کال ڈسکنکٹ کرکے کام واٸنڈ اپ کیا۔
ٹیبل سے موبائل، لیپ ٹاپاور ایک فاٸل اٹھاۓ وہ آفس سے نکل گیا۔
ہوٹل پہنچا تو ادا مطلوبہ ٹیبل پر شان سے بیٹھی تھی، گوکہ چہرے پر ناخوش ہونے کے آثار واضح تھے۔
” سوری فار لیٹ، میں بزی تھا۔“
علی معزرت خواہ لہجے میں بولا اور کرسی سنبھالی۔
” کیا کھاٶ گے۔“
ادا سنجیدگی سے مینیو کارڈ دیکھتے ہوۓ بولی۔
” کچھ بھی آرڈر کر لو۔۔۔بھوک تو زوروں کی لگی ہے۔“
علی کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھ گیا۔
” مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔“
ادا آرڈر پلیس کروانے کے بعد اسکی طرف متوجہ ہوٸی۔
” بولو۔“
علی ٹیک چھوڑے سیدھا ہوگیا، کہنیاں میز پر ٹکاۓ وہ ادا کے بولنے کا منتظر تھا۔
” میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔“
ادا نے بمب پھوڑا۔
” وہاٹ ۔۔۔آر یو کریزی۔“
علی کو جھٹکا لگا۔
” فیضی میرا حشر کر دے گا۔“
علی ناخوش لگ رہا تھا۔
” اس نے مجھے خود ٹھکرایا ہے۔“
ادا زور دیتے ہوۓ بولی۔
” یہ دشمنی نبھانے کااچھا طریقہ ہے۔“
علی ٹیک لگاتے استہزایہ ہنسا۔
” ایسا کچھ نہیں ہے، مجھے تمہاری پرسنیلٹی اٹریکٹ کرتی ہے، تم فیضی سے کم تو نہیں ہو۔“
ادا اداٸیں دکھانے لگی تھی۔
” میں کسی اور میں انٹرسٹڈ ہوں ادا۔“
علی دھیرے سے بولا۔
ادا کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا۔
” باۓ۔“
وہ درشتی سے کہتی بیگ اٹھاۓ نکل گٸ۔
علی نے ایک نظر ٹیبل سجاتے ویٹر پر ڈالی اور کندھے اچکاۓ کھانے لگا۔
کھانا کھا کے بل پے کیا اور فیضی کی طرف نکل گیا۔
جاری ہے
