Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18
” کیسا گزرا آج کا دن۔۔۔۔؟“
وہ ریمپ سے اتر کر دم لینے کو بیٹھی تھی، جب علی اسکے پاس چلا آیا۔
” اچھا رہا۔“
وہ مختصر بولی۔
” کیسا لگا یہ سب کچھ۔۔۔آٸی مین یہ فیلڈ۔“
علی نے بات بڑھاٸی۔
” اچھی ہے۔“
نین تارا پانی پی کہ بولی۔
” کسی قسم کی ہیلپ چاہیے ہو، مجھےیاد کر لیجیے گا۔“
علی نے گویا آفر دی۔
نین تارا نے ایک سرسری سی نگاہ اس پہ ڈالی اور اٹھ گٸ۔
”علی سے فاصلہ رکھنا۔“
فیضی کے الفاظ یاد آگیے۔
” آپ بہت خوبصورت ہیں۔“
علی نے کہا تو وہ یکلخت مڑی۔
” تھینکس۔“
وہ سنجیدگی سے کہہ کر مس عالیہ کی طرف بڑھ گٸ۔
” نزاکت ناز نینوں کو سکھانے سے نہیں آتی۔
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے۔“
وہ اسے دور سے دیکھتے بڑبڑایا۔
” بہت مشکل ہے اسے ہاتھ میں کرنا، نا اسے دولت کا لالچ ہے نا میری اٹریکٹیوپرسنیلٹی کا۔“
علی نے منہ بنا کے سوچا۔
” ایسی لڑکیاں ہی اچھی ہمسفر کہلاتیں ہیں، جو ہرلالچ سے پاک ہوں۔“
علی مسکراتا ہوا آفس میں چلا آیا۔
” نین تارا۔“
وہ کرسی پر جھولتے ہوۓ مسکرایا۔
سوچوں کی پرواز نین تارا کو ہمسفر بناۓ اسے محبت کی وادیوں میں لے گٸ جہاں صرف عاشق ہوتا ہے اور محبوب۔۔۔۔۔۔!!!!
فیضی نے علی الصبح رخت سفر باندھا اور بنا ناشتہ کیے حویلی سے نکل آیا۔
” اب بابا کو مجھ سے بھی پرابلم نہیں ہوگی۔“
فیضی نے سر جھٹکا۔
” نین تارا کو پک کر لوں گا اپارٹمنٹ سے۔“
وہ گاڑی مین روڈ پر چڑھاتے ہوۓ ہمکلام ہوا۔
نین تارا کی سوچ نے ہونٹوں پر آسودگی بھری مسکراہٹ بکھیر دی۔
نین تارا خواب خرگوش کے مزوں میں گم تھی، جب ڈور بیل کی چنگھاڑتی آواز سے دہل کے اٹھی۔
” اللہ جی۔“
وہ دل پہ ہاتھ رکھتے بولی۔
”اتنی صبح کون آگیا۔“
وہ ناگواری سے کمبل پرے دھکیلتی بیڈ سے اتری، دوپٹہ کندھے پر رکھا، پیروں میں چپل اڑسی اور بال فولڈ کرتی باہر نکلی۔
بیل دوبارہ بجنے لگی تھی۔
نین تارا نے کوفت سے بیل کی طرف دیکھا اور دوازہ کھولنے لگی۔
” سوٸی ہوٸی تھی کیا۔۔۔؟“
فیضی اندر آتے ہوۓ بولا۔
” جی۔“
نین تارا دروازہ بند کرتے ہوۓ اسکے پیچھے چلی آٸی۔
”جوس بنا دو۔“
فیضی ہال میں رکھے صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا۔
” کچن خالی ہے۔“
نین تارا نے اوپن کچن کی طرف اشارہ کیا۔
فیضی نے برا سا منہ بنایا۔
” چلو پھر پیکنگ کر لو، گھر جا رہی ہو واپس۔“
فیضی نے موبائل نکالتے حکم صادر کیا۔
” کیوں۔۔۔۔اور ادا بی بی۔۔؟“
نین تارا نے حیرت سے اسکی وجیہہ چہرےکو دیکھا۔
” اسکی شادی احرام چچا کےبیٹے سے ہو رہی ہے۔“
فیضی نے سرسری سا جواب دیا۔
” وہ تو آپ کی منگیتر تھی۔“
نین تارا حیرت سے بولی۔
” تھی اب نہیں ہے۔“
فیضی نے موبائل جیب میں ڈالا۔
” میرا آپ کے گھر رہنا ضروری ہے، میں یہیں ٹھیک ہوں۔“
نین تارا نے ڈرتے ڈرتےکہا۔
” یہاں تم محفوظ نہیں ہو سکتی، علی کے پاس ایکسٹرا کیز ہونگی اسکی۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا سمجھ گٸ۔
” پہلے مجبوری تھی، اب نہیں ہے۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” جاٶ ریڈی ہو جاٶ، میں ویٹ کر رہا ہوں۔“
فیضی نے کہااور سر صوفے پر رکھے آنکھیں موند لیں۔
نین تارا اسے دیکھتے ہوۓ اٹھ گٸ، کپڑے جو کل ہینگ کیےتھے، نکال کے بیگ میں رکھنے لگی۔
پیکنگ مکمل کی اور بلیک فراک لیے واش روم میں گھس گٸ۔
بلیک فراک زیب تن کیے وہ واش روم سےنکلی، مہرون بال سٹریٹ کر کے کندھے پر ڈالے بیگ سے ریڈلپسٹک نکال کو ہونٹوں کو دلکشی کو ابھارا۔
گہری سبز آنکھوں میں کاجل کی گہری دھار لگاۓ اس نے آنکھیں جھپکی اور مسکرا دی، بالوں میں انگلیاں چلاٸیں اور پف بناۓ داٸیں جانب چھوڑ دیے، کانوں میں دلکش بندے پہنے گردن کو نازک چین سے سجایا اور سینڈل پہنے وہ ہینڈ بیگ اور موبائل پکڑے دوسرے ہاتھ سے بیگ گھسیٹتی باہر آگٸ۔
” چلیں۔“
نین تارا بولی تو فیضی نے مسکراتی نظر اس کے حسین مکھڑے پر ڈالی۔
اسکے ہاتھ سے بیگ لیتے وہ باپر کی طرف بڑھ گیا۔
نین تارا اسکے ساتھ چلتی باہر آگٸ۔
فرنٹ سیٹ سنبھالی اور دونوں گھر کےلیے نکل آۓ۔
” نین تارا۔۔۔آج فوٹو شوٹ کروا لو۔“
فیضی کچھ سوچتے ہوۓ بولا۔
” ٹھیک ہے۔“
نین تارا مسکراٸی۔
گاڑی پورچ میں روکتے وہ گاڑی سے نکلا۔
” یہ سامان نین تارا کےکمرے میں پہنچا دو۔“
ملازم کو حکم دیتاوہ سنجیدگی سے اندر چلا گیا۔
” نین تارا ناشتہ لگواٶ۔“
وہ لاٶنج میں صوفے پر ڈھیر ہوتا انگلیوں کے پوروں سے سر دبانے لگا۔
” السلام وعلیکم۔“
نین تارا کچن میں داخل ہوٸی۔
”وعلیکم السلام۔۔۔“
علینہ اور شازیہ خوشگوار لہجے میں بولیں۔
” ناشتہ ریڈی ہے۔۔۔؟“
وہ سوالیہ لہجے میں بولی۔
” جی ریڈی ہے۔“
علینہ مسکراٸی۔
شازیہ ٹیبل پر ناشتہ لگانے لگی۔
” ناشتہ ریڈی ہے فیضی۔“
نین تارا نے کہا تو وہ ناچاہتے ہوۓ اٹھ کے اس کے ساتھ چلا آیا۔
ناشتہ کرنے کے بعد فیضی کمرے میں چلا گیا۔
نین تارا نے چاۓ بنواٸی اور پین کلر لیے اسکے کمرے میں چلی گٸ۔
” فیضی چاۓ۔“
وہ بیڈ پر آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا۔
” رکھ دو۔“
فیضی مدھم سابولا۔
” طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی آپکی۔“
نین تارامتفکر ہوٸی۔
” ہاں سر درد ہےبہت۔“
فیضی بند آنکھوں سے بولا۔
” دبا دوں۔“
نین تارا بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا۔
نین تارا نے ہاتھ بڑھا کہ اسکی پیشانی پر رکھا اور ہلکےہلکے دبانے لگی۔
درد کی شدت میں کچھ کمی آنے لگی تو فیضی نے سکون سے آنکھیں موند لیں۔
” چاۓ پی لیں ٹھنڈی ہو جاۓ گی۔“
نین تارا نے پانی کاگلاس ڈش میں رکھا اور چاۓ اور پین کلر اسکی طرف بڑھایا۔
فیضی اٹھ کے بیٹھ گیا۔
پین کلر لی اور چاۓ پینے لگا۔
” آج آفس مت جاٸیں۔“
نین تارا اسکی اتری شکل دیکھ گویا ہوٸی۔
فیضی کو وہ فلوقت متفکر بیوی کی مانند لگ رہی تھی۔
” تمہارا فوٹو شوٹ ہے۔“
فیضی اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
” آپ کی طبعیت سے زیادہ ضروری تو نہیں۔“
نین تارا قطعیت سے بولی۔
” ہرچیز سے زیادہ ضروری ہے۔“
فیضی کپ ڈش میں رکھتے ہوۓ بولا۔
” میں اب کچھ بہتر ہوں۔“
فیضی نے اسکی طرف دیکھا۔
” اتنی جلدی۔؟“
نین تارا نے پلکیں سکیڑیں۔
” تم نے دبایا تو ٹھیک ہو گیا۔“
فیضی شرارت سے بولا۔
نین تارا نے خفگی سے گھورا۔
” چلو اب کالی بلی۔“
فیضی بے خودی میں اس کاناک دباتے ہوۓ بولا۔
نین تاراکالی بلی کہنے پر مسکرا کے رہ گٸ۔
علی پہلے سے آفس میں موجود تھا۔
فیضی سلام دعا کرتا اپنی چیر پربیٹھ گیا۔
” مس عالیہ بات سنیں آکر۔“
انٹرکام سےمس عالیہ کوبلایا اور لیپ ٹاپ آن کرنے لگا۔
”علی۔۔۔۔!!!“
فیضی لیپ ٹاپ پرانگلیاں چلاتے ہوۓ بولا۔
” ہاں۔“
علی کچھ فاٸلزو سٹیپلر کر رہا تھا۔
” فوٹو شوٹ کی تیاری کرو۔“
فیضی نے حکم دیا۔
” کس کا۔۔۔؟“
علی کے کام کرتے ہاتھ رک گیے۔
”نین تارا۔“
فیضی نےمختصر جواب دیا۔
” اتنی جلدی۔“
علی کو حیرت ہوٸی۔
” کم ان فیضی۔“
مس عالیہ نےاجازت طلب کی۔
” ییس۔“
فیضی نے بنا دیکھے جواب دیا۔
” نین تارا کا فوٹو شوٹ ہو گا، انہیں دو گھنٹے میں مکمل گاٸڈینس دیں۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
” اتنی جلدی۔“
مس عالیہ کےتاثرات علی سے مختلف نا تھے۔
”ییس۔“
فیضی نےوضاحت دینی ضروری نا سمجھی۔
مس عالیہ نے علی کی طرف دیکھ کر اشاروں میں پوچھا۔
نین تارا موبائل میں مگن تھی۔
علی نے کندھے اچکا دیے، گویا خود بے خبر ہے۔
” کم نین تارا۔“
مس عالیہ نین تاراکو لیے آفس سے نکل گٸ۔
فیضی کچھ سوچتے ہوۓ اٹھا اور ماڈلز کے کپڑے چیک کرنے لگا۔
” نین تارا کوٸی انڈین ڈریس، ہالف ڈریس نہیں پہنے گی۔“
فیضی مس عالیہ کوہدایت دے رہا تھا۔
”میں نے کچھ نیو کلیکشن آرڈر کی ہے، جو سمپل بھی ہے اور ایلیگینٹ بھی۔“
فیضی نے کہا۔
”یہ ساٸڈ والی کپ بورڈنین تارا کےلیے سیٹ کروا دیں،اسکے جوتے کپڑے کوٸی اور یوزنہیں کرے گا۔“
فیضی نے کہا۔
اتنےمیں اسکا موبائل بجنے لگا۔
” ییس ماریہ۔۔۔۔“
موبائل کان سے لگاۓ ایک طرف ہو گیا۔
” مجھے نٸو اور فل پاکستانی کلیکشن چاہیے۔“
وہ جواباً بولا۔
” ٹھیک ہے دو گھنٹے کے اندر پہنچ جاۓ۔“
فیضی نے کال کاٹی اور شوز ڈیزائنر کو کال کر کے لیٹیسٹ شوز بھیجنے کا کہا۔
علی فوٹو سیشن کے لیے روم سیٹ کروا رہاتھا۔
” نین تارا بی کانفیڈینٹ۔“
فیضی اسکے چہرے پرگھبراہٹ کے تاثرات دیکھتے ہوۓ بولا۔
” یہ اس فیلڈ کا پہلہ مرحلہ ہے۔“
فیضی نرمی سے بولا۔
دوسری ماڈلز بھی آ رہیں تھیں۔
مس عالیہ اسے مختلف پوزز کروا رہیں تھیں۔
فیضی آفس میں چلا آیا۔
شوز اور ڈریسز ارینج ہو گیے تھے،اب جیولری باقی رہ گٸ تھی۔
اس نے برینڈڈ ایلگنٹ ڈیزائنز سلیکٹ کیے اور فاسٹ ڈیلوری آرڈر کر کے اوکے کردیا۔
” کلر تھیم کونسی رکھنی ہے۔“
علی آفس میں داخل ہوا۔
” چلو میں دیکھتا ہوں۔“
فیضی اسکے ساتھ ہو لیا۔
” کیمرہ مین جاسم ہونا چاہیے۔“
فیضی نے چلتے ہوۓ علی کو ہدایت دی۔
” وہ اتنی جلدی نہیں آۓ گا۔“
علی نے اسکی طرف دیکھا۔
” جیسے بھی کر کے ارینج کرو، نین تارا کا فوٹو شوٹ وہی کرے گا۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
علی جاسم کا نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔
فیضی نے سب اپنی پسند کاکروایا۔
” وہ ڈبل پیمنٹ مانگ رہا ہے۔“
علی نے فیضی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
” اوکے کر دو۔“
فیضی نے کہا تو علی نے اسکی طرف حیرت سے دیکھا۔
فیضی نین تارا کو دیکھنے کےلیے چلا گیا۔
علی نے افسوس سے سرہلایا اورجاسمے ساتھ پیمنٹ فاٸنل کر دی۔
” تم مجھے کھو کر پچھتاٶ گے فیضی۔“
ادا بالکونی میں کھڑی لان میں لگیں کھلتی کلیوں کو دیکھتے بڑبڑاٸی۔
” ادا افضل کے جیسی کوٸی دوسری نہیں ہے اس دنیا میں۔“
دانت پیستے ہوۓ بولی۔
کریم اور ریڈ کمبینیشن کی فراک زیب تن کیے دوپٹہ کندھوں پر پھیلاۓ، بال ہمیشہ کی طرح کھلے ہوۓ تھے۔
وہ فیضی کے نارمل رویے پر کڑھ رہی تھی۔
” بچپن سے تمہیں اپنے ساتھ دیکھتی سنتی آٸی ہوں، میرے فل نے تمہیں چن لیا،کیا تمہارے دل میںمیرےلیے کبھی خواہش نہیں جاگی فیضی۔“
وہ خیالوں میں فیضی سے محو گفتگو تھی۔
” تمہیں جلانے کو احسن کاہاتھ تھام لیا۔۔۔۔پر تم۔“
ادا جل رہی تھی، ان دیکھی آگ میں۔
“ پتہ نہیں کس مٹی کے بنے ہو، میری کس بات کا تمہیں فرق نہیں پڑتا، پرنین تارا پر ہلکی کھروچ پربھی بلبلا اٹھتے ہو۔“
ادابڑبڑا رہی تھی۔
” تم مانو یا نا مانو فیضی، تم نین تارا سے محبت کرنے لگے ہو، تب ہی اسکا دکھ تمہیں پہاڑ کی مانند لگتا ہے۔“
ادا بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔
” نین تارا۔۔۔۔کالی بلی ۔۔۔۔تمہاری قسمت پر رشک آتا ہے کبھی کبھی۔۔۔جو مجھ سے منسوب تھا، باٸیس سال سے میرا تھا، تم نے ایک ماہ میں جیت لیا۔“
ادا کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے۔
” میں ادا ہوں، سکون سے تمہیں بھی رہنے نہیں دوں گی۔“
ادا تلملا کے اٹھ بیٹھی۔
حسد ونفرت کا اژدھا پھنکارتا ہوا اٹھا تھا۔
” جس بلندی کے خواب دیکھ رہی ہو۔۔۔۔تمہاری آنکھوں سے نوچ نا لوں تو کہنا۔“
ادا پھنکاری۔
” جس آنکھوں نے تمہیں حسین بنا دیا، چھین نا لوں تو کہنا۔“
وہ بے دردی سے آنکھیں رگڑتی اٹھ گٸ۔
” تمہارے حسین چہرے کو جلا کر کالی بلی سے بدتر نا بنا دیا تو کہنا۔“
ادا کے انداز میں نفرت تھی، بے پناہ، بے تحاشا۔۔۔۔۔
” تمہیں تمہاری اوقات نا دکھا دی تومیں بھی ادا افضل نہیں۔“
ڈریسنگ پر ہاتھ مار کے ساری چیزیں نیچے گرا دیں۔
” تم ایک دو ٹکے کی ملازمہ مجھے مات نہیں دے سکتی، مجھے ادا افضل کو۔“
وہ سینے پر انگلی رکھتے ہوۓ بلند آواز میں بولی۔
” میں جو چوہدری خاندان کی بیٹی ہوں، وہ ایک ملازمہ سے ہار جاۓ۔۔۔۔ممکن ہی نہیں۔۔۔۔“
ادا نے پرفیوم کی بوتل اٹھا کے دیوار پہ دے ماری۔
” جومیرانہیں اسے تمہارا بھی نہیں ہونے دوں گی نین تارا۔۔۔۔۔“
ادا نے دیوار پر لگے پرفیوم کے داغ پر ہاتھ رکھا۔
محبت کا وجود جیسے ہی جنم لیتا ہے، کٸ دشمن خود بخود بن کے نوچنے چلے آتے ہیں۔
جاری ہے
