Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01

سکاۓ بلیو سلوٹ زدہ شلوار قمیض میں ملبوس، ہلکی بڑھی شیو ، رت جگوں کا عنصر لیے سرخی میں گھلی سیاہ آنکھیں، آستینیں فولڈکیے وہ ہاتھ میں فریم پکڑے لب سیے آنکھوں سے محو گفتگو تھا۔
نفاست پسند فیضی بکھرا بکھرا لگ رہا تھا، سلقے سے سجا رہنے والاکمرہ بے ترتیبی کی نظر ہوا پڑا تھا۔
” نین تارا۔۔۔۔۔۔کم بیک ایم الون ودآٶٹ یو۔۔۔۔۔۔“
ڈیڑھ گھنٹے کے بعد لبوں کا قفل ٹوٹا تھا۔
آنکھیں بند کیے فریم سینے سے لگاۓ وہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگاۓ سوچوں کی پرواز میں اڑتا قلابازیاں لگاتا بہت دور چلا گیا تھا، جہاں صرف وہ تھا اور اسکی نین تارا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
🔴🔴🔴
” فیضی۔۔۔۔۔۔۔۔فیضی۔۔۔۔۔۔“
نعمان کب سے کھڑا دروازہ بجا رہا تھا۔
” کیا ہوا فیضی اٹھا نہیں۔۔۔۔۔۔“
ارم چادر سنبھالتی سیڑھیاں چڑھتی نعمان کے مقابل آ کھڑی ہوٸی۔
” نہیں۔۔۔۔۔۔“
نعمان کوفت سے بولا۔
اسے ہمیشہ سے فیضی کی یہ عادت بہت بری لگتی تھی، وہ سوتے ہوۓ کانوں میں روٸی ٹھونس لیتا تھا۔
” آپ جاٸیں ۔۔۔۔۔میں دیکھتی ہوں۔“
ارم نرمی سے بولی اور نعمان کو نیچے بھیج دیا۔
” بلی ۔۔۔۔۔بات سنو۔“
ارم نے صفاٸی کرتی ملازمہ کوبلایا۔
” جی بی بی جی۔“
وہ سر جھکاۓ ادب سے بولی۔
” حویلی کی دوسری چابیاں لے کر آٶ۔۔۔۔“
حکم صادر کیا اور دوسری منزل کے لاٶنج میں رکھے جھولے پر جا بیٹھی۔
لاٸٹ اورنج قمیض شلوار پہنے سرپر دوپٹہ سلیقے سے سجاۓ ایک کندھے پر خاندانی چادر رکھے وہ چوہدری نعمان کی بیوی اور گاٶں کی اکلوتی جاگیردارنی تھی۔
” یہ لیں بی بی جی۔۔۔“
ملازمہ نے چابیاں لا دیں۔
” جاٶ فیضی کے لیے فریش جوس بنا کے لاٶ۔“
حکمیہ لہجے میں بولتی وہ فیضی کے کمرے کی طرف بڑھ گٸ۔
دروازہ کھولا تو ہمیشہ کی طرح کی طرح اوندھے منہ بیڈ پہ آڑھا ترچھا لیٹا ہوا تھا، اور کانوں میں روٸی دی ہوٸی تھی۔
ارم نے جا کے روٸی اسکے کانوں سے نکالی اور پانی کا گلاس اسکے منہ پر انڈیل دیا۔
” کون ہے۔۔کون ہے۔۔۔۔“
وہ ہڑبڑا کے اٹھا۔
” ٹاٸم دیکھا ہے دن کے گیارہ بج رہے ہیں۔“
ارم کمر پرہاتھ رکھے غصیلے لہجے میں بولی۔
” کم آن آپی۔۔۔۔۔۔سونے دیں مجھے۔۔۔۔۔گیارہ ہی بجے ہیں۔“
وہ بدمزہ ہوکے بولا اور دوبارہ اوندھے منہ لیٹ گیا۔
” فیضی اٹھ جاٶ شرافت سے۔۔۔۔۔۔۔۔“
ارم وارن کرتے ہوۓ بولی۔
” کیا ہوا بھابھی۔“
ادا کمرے میں آتے ہوۓ بولی۔
راٸل بلیو شارٹ شرٹ اور پٹیالہ شلوار میں ملبوس بال سٹریٹ کر کے کندھے پر ڈالے وہ فریش لگ رہی تھی۔
” اٹھ نہیں رہا یہ۔“
ارم فیضی کی طرف دیکھتے ہوۓ ناراضگی سے بولی۔
” یہ کون سا پہلی دفعہ ہوا ہے، جو آپ یوں خفا ہو رہی ہیں۔“
ادا بال جھٹکتے ہنستے ہوۓ بولی۔
” تنگ آگٸ ہوں میں اسکی بے وقت کی نیند سے۔“
ارم خفا ہوتے ہوۓ بولی۔
” فیضی ۔۔۔۔بھابھی خفا ہو گٸ ہیں۔“
ادا نے جھک کے فیضی کو کندھے سے پکڑ کے ہلایا۔
” اسے کیا پرواہ۔۔۔۔۔“
ارم خفگی سے بولی۔
” آپی بس بھی کریں اب۔۔۔۔۔۔یہاں کونسی شوٹنگ ہو رہی ہے۔۔۔۔“
فیضی منہ بسور کے بولا اوراٹھ بیٹھا۔
ادا ہنس دی جبکہ ارم نے ایک چپت اسکے سر پہ لگاٸی۔
” بی بی صاحبہ۔۔۔۔۔صاحب کے لیے جوس۔“
بلی ادب سے بولی۔
” تم جاٶ بلی۔“
ادا نے جوس پکڑا اور فیضی کی طرف بڑھایا۔
” بلی نہیں۔۔۔۔کالی بلی۔“
فیضی ہنستے ہوۓ بولا۔
دروازے کی دہلیز پار کرتی بلی کی آنکھیں بھر آٸیں۔
🔴🔴🔴
” کیا نحوست پھیلا رکھی ہے تم نےبلی۔“
شکیلہ نخوت سے بولیں۔
” کیا غلط کہہ دیا فیضی صاحب نے تمہیں۔۔۔۔سہی تو کہا ہے ۔۔۔۔تمہاری بلی جیسی آنکھیں ہیں اوپر سے کالا رنگ۔۔۔“
فضیلہ اسے ڈپٹتے ہوۓ تمسخر سے بولی۔
” ان کے اتنا پڑھےلکھے ہونے کا فاٸدہ اماں۔۔۔۔۔جب وہ بھی کسی کا مزاق اڑاٸیں گے۔“
بلی کا رو رو کے برا حال ہو چکا تھا، سانولی سی ناک لال ہو چکی تھی اور گہری سبز آنکھوں میں سرخی کے ڈورے دکھاٸی دینے لگے تھے۔
” یہاں انکی پڑھاٸی کا کیا تعلق اس بات سے۔۔۔۔“
فضیلہ نا سمجھی سے بولی۔
” تو اپنا منہ بند رکھ۔۔۔۔“
بلی اس پر چڑھ دوڑی۔
” پڑھاٸی کا انسان کی زندگی سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے فضیلہ۔۔۔۔۔انسان کو آگہی ملتی ہے شعور ملتا ہے، سہی غلط کا پتہ چلتا ہے۔۔۔۔۔یہ نا ہو تو بیس پچیس سال تک کتابیں چاٹنا بیکار ہوتا ہے۔“
بلی فضیلہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
” اب تجھے فیضی صاحب کی پڑھاٸی بیکار لگ رہی ہے۔“
فضیلہ حیرت سے بولی۔
” ہاں ۔۔۔۔۔لگ نہیں رہی ان کی پڑھاٸی بیکار ہی ہے۔۔۔۔جو انہیں اللہ کی بناٸی چیزوں کا تمسخر اڑانے سے نا روک سکی۔“
بلی روتے ہوۓ بولی۔
اسکی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔
” کسی کا دل دکھانابھی گناہ ہوتا ہے۔“
وہ سر گھٹنوں پہ رکھے پھر سے رونے کے شغل میں مصروف ہو گٸ۔
فریدنے گھرکی دہلیز عبور کی تو بلی کی ہچکیاں ان کی سماعت سے ٹکراٸیں۔
” کیا ہوا نین تارا۔۔۔۔“
فرید بیٹی کے پاس بیٹھتے ہوۓ پیار سے بولے۔
جانتے تھے آج پھر کسی نے اسکی گہری سانولی رنگت اور سبز آنکھوں کا مزاق اڑایا ہوگا۔
” ابا فیضی صاحب نے کہا میں بلی نہیں ہوں کالی بلی ہوں۔۔۔۔“
وہ ہچکیاں لیتی روتی ان کے گلےسے لگ گٸ۔
” کوٸی بات نہیں پتر مزاق میں کہہ دیا ہوگا۔۔۔۔تو کیوں دل پہ لے رہی ہے۔“
فرید نےبیٹی کو پیاراسے سمجھایا۔
” ابا میرا اوران کا مزاق کا کیا رشتہ۔۔۔۔۔۔“
نین تارا ہچکیاں لیتے ہوۓ بولی۔
” وہ بڑے لوگ ہیں۔۔۔۔۔کہہ دیا تو کیا ہوگیا پتر۔“
وہ اسے تسلی دے رہے تھے۔
” بڑے لوگ ہیں ابا۔۔۔۔خدا تونہں ہیں ناں جو کچھ بھی کہہ دیں۔“
نین تارا کےپاس ہر بات کاجواب تھا۔
” ایسے نہیں کہتےپتر۔۔۔۔ہمارے گھر کا چولہا انکی وجہ سے جل رہا ہے۔“
فرید اسےسمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
”احسان نہیں کرتے۔۔۔۔۔سارا دن کام کرتے ہیں ہم۔“
نین تارا تنک کے بولی۔
گو کہ وہ اب رونا بھول چکی تھی۔
” کیوں اس کےساتھ مغض ماری کرتے ہو۔۔۔یہ تو عقل سے فارغ ہے۔۔۔۔۔جب سےآٸی ہے ڈرامہ رچاکہ بیٹھی ہے۔۔۔۔۔۔کالی بلی نا کہہ دیا صاحب نے اسکے سر پہ بمب دے مارا۔“
شکیلہ سیخ پا ہو کے بولیں۔
” بمب مار دیتا تو اچھا ہوتا۔۔۔۔۔تمہیں بھی سکون مل جاتا۔“
نین تارا بھراۓ لہجے میں کہتی اٹھ کے گھر سے نکل گٸ۔
نین تارا اور فضیلہ دو ہی بیٹیاں تھیں فرید اور شکیلہ کی۔ شکیلہ اب گھٹنوں کے درد کی وجہ سے کام کاج نہیں کر پاتی تھی، حویلی میں اسکی جگہ فضیلہ اور نین تارا کام کرتیں تھیں۔
فضیلہ واجبی شکل کی گندمی رنگت کی مالک لڑکی تھی ، اسکے برعکس نین تارا انتہاٸی سانولی رنگت کی حامل تھی، لمبی ناک پتلے پتلے ہونٹ، بھرے بھرے رخسار، گھنی بھنویں، لمبی لمبی گھنی پلکوں کی جھالر اور پلکوں تلے موٹی موٹی گہری سبز چمکتی آنکھیں۔۔۔۔۔سب اسکا بہت مزاق اڑاتے تھے وہ ہر بار یونہی روتی تھی، حساس دل کی مالک نین تارا جب دکھی ہوتی تو کھری کھری سنا دیتی سب کو۔
وہ گاٶں کے ساتھ ٹیوب ویل پہ جا بیٹھی۔
شام کی لالی ہر سو پھیل رہی تھی، وہ گھٹنوں پہ سر رکھے روتے ہوۓ عمیق سوچوں میں گم دنیا مافیا سے بے خبر تھی۔
” مجھے کوٸی شہزادہ بھی لینے نہیں آۓ گا۔۔“
” مجھ سے تو کوٸی عام انسان بھی شادی نہیں کرے گا۔“
” میرے پاس ایک راستہ ہے جو موت کی طرف جاتا ہے۔“
وہ روتے ہوۓ اٹھی اور کنویں کے کنارے جا کھڑی ہوٸی۔
” جان چھوٹ جاۓ گی سب کی مجھ سے۔“
آنسو قطار در قطار گر رہے تھے، آنکھوں کے پپوٹے سوج چکے تھے، آنکھیں گہری لال ہو چکیں تھیں ناک اور رخساروں کا بھی یہی حال تھا۔
بے دردی سے آنکھیں رگڑتے اسنے چھلانگ لگا دی، جب کسی نے بھاگ کے اسکا بازو پکڑا اور اسکی کالی کلاٸی میں پہنی چوڑیاں ٹوٹ کے کلاٸی میں چبھ گٸیں۔
اس نے حیرت سے اوپر دیکھا تو گنگ رہ گٸ۔
🔴🔴🔴
فیضان ساتھ والے گاٶں کے جاگیر دار چوہدری سکندر کا چھوٹا بیٹا تھا، بڑا بیٹا اریان اور بیٹی ارم دونوں شادی شدہ تھے۔
فیضان نے ایم بی اے کیا اور ایک دوست کے ساتھ شوبز کی دنیا میں آگیا۔
چوہدری سکندر شوبز کے خلاف تھے پر فیضی کی ضدکے آگےکسی کی ایک نا چلی۔ کافی عرصہ ماڈلنگ کرنے کہ بعد اس نے شوبز کو بزنس بنایا اور نیو ماڈلز لانچ کرنے لگا۔
فیضی نے شہر میں اپنا گھر لیا اور وہیں رہنے لگا۔
نعمان اس کابہنوٸی اور جگری دوست بھی تھا، نعمان کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا۔ نعمان کی ایک بہن ادا تھی جس کی منگنی فیضی کے ساتھ ہوٸی تھی۔
وہ ایک ڈیڑھ ماہ بعد گاٶں آجاتا دو تین نعمان کے ساتھ گزارتا باقی دو تین اپنے گاٶں جا کے گزارتا۔
” فیضی۔۔۔۔۔کہیں گھومنے چلیں۔“
ادا اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
” میں تمہیں یہیں گھما دیتا ہوں۔“
فیضی شرارت سے بولا۔
” فیضی۔“
ادا چلاٸی۔
” بہرہ نہیں ہوں میں۔“
فیضی کانوں میں انگلیاں دیتے ہوۓ بولا۔
دونوں اس وقت لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
” تم ہر دفعہ ٹال دیتے ہو۔“
ادا خفا خفا چہرہ لیے بولی۔
” تم ہر دفعہ ایک ہی بات نا کیا کرو۔“
فیضی ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔
ادا نے نظر بھر کے اسے دیکھا۔
واٸٹ کاٹن کے کلف زدہ شلوار قمیض میں ملبوس، آستینیں فولڈ کیے، داٸیں ہاتھ میں خوبصورت مہنگی رسٹ واچ، عنابی ہونٹ ، سیاہ آنکھیں، شگاف رنگت اور وجیہہ چہرے پر چھاٸی بے نیازی۔۔۔۔۔وہ کسی کا بھی آٸیڈیل ہو سکتا تھا۔
” آپی۔۔۔۔۔۔“
فیضی نے ارم کو آواز دی۔
”کیوں چلا رہے ہو۔“
ارم وہیں سے بولی۔
” آپکی نند مجھے گھورگھور کے دیکھ رہی ہے۔“
فیضی نے کہا تو ادا نے منہ پھلا لیا۔
ارم ہنس دی۔
” دیکھنے دو۔۔۔۔تم اسکی پراپرٹی ہو۔“
ارم چلتے ہوۓ ان کے قریب آگٸ۔
” واٹ ۔۔۔۔۔“
وہ اچھلا۔
” میں جیتا جاگتا انسان آپ کو پراپرٹی نظر آتا ہوں۔“
فیضی کو گویا صدمہ ہی لگ گیا۔
ادا اسکے انداز پہ ہنس دی۔
” کیا ہو رہا ہے بھٸ۔“
نعمان وہیں چلا آیا۔
” تمہاری بیگم تمہاری چغلیاں کر رہی تھی۔“
فیضی معصومیت سے بولا۔
” ریٸلی ارم۔“
نعمان نے حیرت سے ارم کی طرف دیکھا۔
” فیضی شرم کرو۔۔۔۔“
ارم نے اسکےایک لگاٸی۔
” جھوٹ بول رہا ہے۔“
ارم نے اپنی صفاٸی دی۔
” کہیں جا رہے ہو۔“
فیضی اسکی تیاری یکھتےہوۓ بولا۔
” زمینوں پر جا رہا ہوں ۔۔۔۔تم بھی چلو۔“
نعمان مسکرا کر بولا۔
” ہاں ہاں جاٶ۔۔۔۔۔کھلی ہوا کھاٶتمہارا دماغ ٹھیک سے کام کرے۔“
ارم نے کہا تو سب ہنس دیے۔
وہ نعمان کے ساتھ زمینوں پر چلا گیا۔
سورج اپنے گھر کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا، دن کا چمکتا اجالا لالی میں گھلنے لگا تھا، عجب اداسی کا سا سماں بنا ہوا تھا۔
لالگی میں ڈوبی روشنی زمین پر سات رنگ دکھا رہی تھی، گاٶں کی کھلی فضا میں واقعی ایک سکون تھا، جو رگ وپہ میں موجود تھکن کی جگہ لے رہاتھا۔
زمینوں پر مزارے کام کر رہے تھے، ہر نظر میں ایک ادب اور عقیدت پنہاں تھی۔
فیضی بی شوبز کی دنیا پر راج کر رہا تھا، وہاں بھی لوگ عزت سے ملتے تھے پر فر صرف اتنا تھا یہاں کے لوگ ہر قسم کے دھوکے سے پاک سچی محبت و عزت دیتے تھے اور شوبز کے لوگ من میں میل، اور دوغلا پن رکھتے تھے۔
جو لطف سچاٸی میں ہے وہ اور کہیں نہیں ملتا۔
دور دور تک پھیلا ان کا وسیع رقبہ نٸ فصل کی ب
جاٸی کےلیے تیار ہو رہا تھا۔
گاٶں کے ارد گرد کی زمینوں پر چوہدری نعمان نے مختلف قسم کے باغ لگا رکھے تھے۔
وہ زمینوں سے واپس آرہے تھے جب فیضی کی نظر ٹیوب ویل پرپڑی وہ پھرتی سے اسکی طرف لپکا۔
چوہدری نعمان حیرت سے سارا منظر دیکھ رہے تھے، ان کے گاٶں میں آج تک ایسانہیں ہوا تھا۔ گاٶں کے کسی فرد کو مسٸلہ ہوتا تو وہ ان کے پاس چلے آتے تھے۔
یہ دوسری راہ تو آج تلک کسی نےنہیں اپناٸی تھی تو اب کیوں۔۔۔۔؟؟؟
کیا وجہ ہے سکتی ہے ۔۔۔۔؟؟
حویلی پہنچ کر چوہدری نعمان مسلسل سوچوں میں گم تھے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *